মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮২৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٨٩) حضرت ربعی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت حذیفہ سے پوچھاجب نمازی آپس میں جھگڑا کریں تو میں کیا کروں حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ اپنے گھر میں پناہ پکڑنا اس صاحب نے کہا کہ اگر وہ میرے گھر میں بھی داخل ہوجائیں تو میں کیا صورت اختیار کروں تو حضرت حذیفہ نے فرمایا کہہ دینا تمہیں ہرگز نہیں قتل کرونگا کیونکہ میں تمام جہانوں کے پروردگار سے ڈرتا ہوں۔
(۳۸۲۸۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِحُذَیْفَۃَ : کَیْفَ أَصْنَعُ إِذَا اقْتَتَلَ الْمُصَلُّونَ ؟ قَالَ : تَدْخُلْ بَیْتَکَ ، قَالَ : قُلْتُ : کَیْفَ أَصْنَعُ إِنْ دُخِلَ بَیْتِی ؟ قَالَ : قُلْ : إِنِّی لَنْ أَقْتُلَک {إنِّی أَخَافُ اللَّہَ رَبَّ الْعَالَمِینَ}۔ (نعیم بن حماد ۳۵۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٩٠) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں فتنہ تین آدمیوں کی وجہ سے قائم ہوگا ایک تو محنتی صاحب بصیرت آدمی جب بھی اس کے سامنے کوئی چیز بلند ہوتی ہے تو وہ اسے تلوار سے ختم کردیتا ہے اور وہ خطیب جس کی طرف تمام امور دعوت دیتے ہیں اور مذکورہ شریف باقی وہ محنتی صاحب بصر ت اس فتنے کو پچھاڑ دیتا ہے اور باقی یہ دو فتنہ ان کو تلاش کرتا ہے اور جو ان کے پاس ہوتا ہے اسے پرانا کردیتا ہے۔
(۳۸۲۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : وُکِّلَتِ الْفِتْنَۃُ بِثَلاَثَۃٍ : بِالْجَادِّ النِّحْرِیرِ الَّذِی لاَ یُرِیدُ أَنْ یَرْتَفِعَ لَہُ شیء إِلاَّ قَمَعَہُ بِالسَّیْفِ ، وَبِالْخَطِیبِ الَّذِی یَدْعُو إلَیْہِ الأُمُورَ ، وَبِالشَّرِیفِ الْمَذْکُورِ ، فَأَمَّا الْجَادُّ النِّحْرِیرُ فَتَصْرَعُہُ ، وَأَمَّا ہَذَانِ فَتَبْحَثُہُمَا فَتَبْلُو مَا عِنْدَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٩١) حضرت خرشہ بن حرر فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ نے فرمایا کیا حالت ہوگی تمہاری اس وقت جب وہ (فتنہ) تمہاری طرف آئے گا اپنی لگام کو کھینچتے ہوئے پس وہ تمہارے پاس اس طرف سے بھی آئے گا اور اس طرف سے بھی آئے گا۔ لوگوں نے عرض کیا بخدا ہم تو نہیں جانتے، تو حضرت حذیفہ نے فرمایا لیکن اللہ کی قسم میں جانتا ہوں تم اس دن غلام اور آقا کی طرح ہوگے اگر آقا اسے برا بھلا کہے تو غلام اس کو برا بھلا نہیں کہہ سکتا اور اگر وہ اسے مارے تو غلام اس کو نہیں مار سکتا۔
(۳۸۲۹۱) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَہْرَامُ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ ہَوْذَۃَ ، عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحُرِّ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا بَرَکَتْ تَجُرُّ خِطَامَہَا فَأَتَتْکُمْ مِنْ ہَاہُنَا وَمِنْ ہَاہُنَا ، قَالُوا : لاَ نَدْرِی وَاللہِ ، قَالَ: لَکِنِّی وَاللہِ أَدْرِی ، أَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ کَالْعَبْدِ وَسَیِّدِہِ إِنْ سَبَّہُ السَّیِّدُ لَمْ یَسْتَطِعِ الْعَبْدُ أَنْ یَسُبَّہُ ، وَإِنْ ضَرَبَہُ لَمْ یَسْتَطِعِ الْعَبْدُ أَنْ یَضْرِبَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٩٢) حضرت خرشہ حضرت حذیفہ سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا کیا حال ہوگا تمہارا اس وقت جب تم اپنے دین کو ارزاں کردو گے جیسے ارزاں کردیتی ہے وہ عورت اپنی شرم گاہ کو جو اپنے پاس آنے سے کسی کو نہیں روکتی ، پھر لوگوں نے عرض کیا ہم نہیں جانتے حضرت حذیفہ نے فرمایا لیکن اللہ کی قسم میں جانتا ہوں تم اس دن عاجز اور فاجر کے درمیان ہوگے۔ لوگوں میں سے ایک صاحب نے کہا یہ عاجز اس فاجر کے مقابلے میں بھلائی سے دور کیا جائے، راوی فرماتے ہیں حضرت حذیفہ نے اس کی پشت پر کئی مرتبہ ماراتو بھلائی سے دور کیا جائے تو بھلائی سے دور کیا جائے۔
(۳۸۲۹۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ بَہْرَامُ ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ ہَوْذَۃَ ، عَنْ خَرَشَۃَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا انْفَرَجْتُمْ ، عَنْ دِینِکُمْ کَمَا تَنْفَرِجُ الْمَرْأَۃُ ، عَنْ قُبُلِہَا لاَ تَمْنَعُ مَنْ یَأْتِیہَا ، قَالُوا: لاَ نَدْرِی ، قَالَ : لَکِنِّی وَاللہِ أَدْرِی ، أَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ بَیْنَ عَاجِزٍ وَفَاجِرٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : قَبُحَ الْعَاجِزُ عَنْ ذَاکَ ، قَالَ : فَضَرَبَ ظَہْرَہُ حُذَیْفَۃُ مِرَارًا ، ثُمَّ قَالَ : قُبِّحْت أَنْتَ ، قُبِّحْت أَنْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٩٣) حضرت خرشہ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ مسجد میں تشریف لائے کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جن میں سے کچھ دوسروں کو قرآن پڑھا رہے تھے تو حضرت حذیفہ نے فرمایا اگر تم درست طریقے پر قائم ہو تو تم بہت سبقت لے گئے ہو اور اگر تم اسے چھوڑ چکے ہو تو تم گمراہ ہوچکے ہو راوی فرماتے ہیں پھر ایک حلقہ میں تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا بلاشبہ ہم لوگ قرآن پڑھنے سے پہلے ایمان لائے اور آئندہ کچھ لوگ ایمان لانے سے پہلے قرآن پڑھیں گے لوگوں مں ئ سے ایک صاحب نے عرض کیا یہ فتنہ ہوگا ارشاد فرمایا ہاں وہ تمہارے سامنے سے جہاں سے تم رنجیدہ ہو وہاں سے آئے گا پھر رش کی طرح (آہستہ آہستہ ہمیشگی کے ساتھ) آتا رہے گا۔ بلاشبہ کوئی آدمی اس سے لوٹے گا اور دو کاموں کا حکم دے گا ایک ان میں سے عجز اور دوسرا فسق و فجور ہے۔ حضرت خرشہ فرماتے ہیں (اس بات کے) تھوڑی ہی مدت کے بعد میں نے دیکھا ایک آدمی کو کہ وہ اپنی تلوار لے کر نکلا لوگوں کا پیچھا کرتا تھا۔
(۳۸۲۹۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ بَہْرَامُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ ہَوْذَۃَ ، عَنْ خَرَشَۃَ ، أَنَّ حُذَیْفَۃَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَمَرَّ عَلَی قَوْمٍ یُقْرِئُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا ، فَقَالَ : إِنْ تَکُونُوا علَی الطَّرِیقَۃِ ، لَقَدْ سَبَقْتُمْ سَبْقًا بَعِیدًا ، وَإِنْ تَدَعُوہُ فَقَدْ ضَلَلْتُمْ ، قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ إِلَی حَلْقَۃٍ ، فَقَالَ : إنَّا کُنَّا قَوْمًا آمَنَّا قَبْلَ أَنْ نَقْرَأَ وَإِنَّ قَوْمًا سَیَقْرَؤُونَ قَبْلَ أَنْ یُؤْمِنُوا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : تِلْکَ الْفِتْنَۃُ ، قَالَ : أَجَلْ ، قَدْ أَتَتْکُمْ مِنْ أَمَامِکُمْ حَیْثُ تَسُوئُ وُجُوہَکُمْ ، ثُمَّ لِتَأْتِیَکُمْ دِیَمًا دِیَمًا ، إِنَّ الرَّجُلَ لَیَرْجِعُ فَیَأْتَمِرُ الأَمْرَیْنِ : أَحَدُہُمَا عَجْزٌ وَالآخَرُ فُجُورٌ ، قَالَ خَرَشَۃُ : فَمَا بَرِحْت إِلاَّ قَلِیلاً حَتَّی رَأَیْت الرَّجُلَ یَخْرُجُ بِسَیْفِہِ یَسْتَعْرِضُ النَّاسَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٩٤) حضرت زید بن وہب سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں حضرت حذیفہ سے سوال کیا گیا فتنے کے وقفات اور بعثات سے کیا مراد ہے حضرت حذیفہ نے فرمایا فتنے کے بعثات سے مراد تلواروں کا سونتنا ہے کا اور اس کے وقفات سے مراد تلواروں کا نیاموں میں ڈالنا ہے۔
(۳۸۲۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِیرَۃَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : قِیلَ لِحُذَیْفَۃَ : مَا وَقَفَاتُ الْفِتْنَۃِ ، وَمَا بَعَثَاتُہَا ، قَالَ : بَعَثَاتُہَا سَلُّ السَّیْفِ ، وَوَقَفَاتُہَا إغْمَادُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٩٥) حضرت ابو الطفیل عامر بن واثلہ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ نے ان سے فرمایا کیا حالت ہوگی تمہاری جبکہ ایک فتنہ ہوگا اس میں لوگوں میں سے سب سے بہتر پوشیدہ غنی آدمی ہوگا۔ حضرت عامر بن واثلہ نے فرمایا میں نے کہا یہ کیسے ہوگا انھوں نے فرمایا بلاشبہ وہ ہم میں سے کسی کی عطاء ہے جسے وہ ڈالنے والی جگہ ڈال دیتا ہے اور پھینکنے والی جگہ میں پھینک دیتا ہے (اور) فرمایا اس وقت اونٹنی کے ایک سال کے بچے کی طرح ہوجانا جو نہ سواری بن سکتا ہے کہ اسے سواری بنایا جائے اور نہ دودھ دینے والا ہوتا ہے کہ اس سے دودھ دھویا جائے۔
(۳۸۲۹۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ ، أَنَّ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ لَہُ : کَیْفَ أَنْتَ وَفِتْنَۃٌ خَیْرُ النَّاسِ فِیہَا غَنِیٌّ خَفِیٌّ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَکَیْفَ ؟ وَإِنَّمَا ہُوَ عَطَائٌ أَحَدُنَا یَطْرَحُ بِہِ کُلَّ مُطْرَحٍ ، وَیَرْمِی بِہِ کُلَّ مَرْمًی ، قَالَ : کُنْ إذًا کَابْنِ الْمَخَاضِ لاَ رَکُوبَۃَ فَتُرْکَبُ وَلاَ حَلُوبَۃَ فَتُحْلَبُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٩٦) حضرت عبداللہ بن الرواع حضرت حذیفہ سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا ایک فتنہ ہوگا جو آئے گا شبہات ڈالتے ہوئے اور واپس ہوگا تعفن پھیلائے ہوئے پس اگر یہ ہوجائے تو تم چرواہے کے اپنی بکریوں کے پیچھے لاٹھی پر چمٹنے کی طرح زمین کی طرف چمٹ جانا تاکہ سیلاب بہا کر نہ لے جائے۔
(۳۸۲۹۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الرُّوَّاعِ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : تَکُونُ فِتْنَۃٌ تُقْبِلُ مُشَبَّہَۃً وَتُدْبِرُ منتنۃ ، فَإِنْ کَانَ ذَلِکَ فَالْبُدو لبود الرَّاعِی عَلَی عَصَاہُ خَلْفَ غَنَمِہِ ، لاَ یَذْہَبُ بِکُمُ السَّیْلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٩٧) حضرت میمون بن ابوشبیب سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ سے پوچھا گیا، بنی اسرائیل نے ایک دن میں کفر کیا تو انھوں نے ارشاد فرمایا نہیں لیکن ان پر فتنہ پیش کیا جاتا تھا اور وہ اسے اختیار کرنے سے انکار کرتے تھے پس انھیں اس پر مجبور کیا جاتا تھا پھر فتنہ ان پر پیش کیا گیا انھوں نے اسے اختیار کرنے سے انکار کیا، یہاں تک کہ انھیں اس کے اختیار کرنے پر کوڑوں اور تلواروں کے ذریعے مارا گیا یہاں تک کہ وہ اس فتنے میں گھس گئے پانی میں گھس جانے کی طرح (نوبت بایں جارسید) یہاں تک کہ وہ کسی نیکی کو نہ جانتے پہچانتے تھے اور نہ کسی منکر پر انکار کرتے تھے۔
(۳۸۲۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ أَبِی شَبِیبٍ ، قَالَ : قِیلَ لِحُذَیْفَۃَ : أَکَفَرَتْ بَنُو إسْرَائِیلَ فِی یَوْمٍ وَاحِدٍ ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنْ کَانَتْ تُعْرَضُ عَلَیْہِمُ الْفِتْنَۃُ فَیَأْبَوْنَہَا فَیُکْرَہُونَ عَلَیْہَا ، ثُمَّ تُعْرَضُ عَلَیْہِمْ فَیَأْبَوْنَہَا حَتَّی ضُرِبُوا عَلَیْہَا بِالسِّیَاطِ وَالسُّیُوفِ حَتَّی خَاضُوا إِخَاضَۃ الْمَائِ حَتَّی لَمْ یَعْرِفُوا مَعْرُوفًا وَلَمْ یُنْکِرُوا مُنْکَرًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٩٨) حضرت ربعی بن حراش سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے ایک صاحب کو حضرت حذیفہ کے جنازے میں کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اس چارپائی والے کو فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے کوئی پروا نہیں جب سے میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد سنا ہے کہ اگر تم آپس میں لڑائی کرو گے تو میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں گا اور اگر کوئی میرے گھر میں داخل ہوگا تو میں کہوں گا لے میرا اور اپنے گناہ کا وبال لے کر لوٹ۔
(۳۸۲۹۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلاً فِی جِنَازَۃِ حُذَیْفَۃَ یَقُولُ : سَمِعْت صَاحِبَ ہَذَا السَّرِیرِ یَقُولُ : مَا بِی بَأْسٌ مُذْ سَمِعْت مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَلَئِنِ اقْتَتَلْتُمْ لأدْخُلَنَّ بَیْتِی ، فَلَئِنْ دُخِلَ عَلَیَّ لأَقُولَنَّ : ہَا بُؤْ بِإِثْمِی وَإِثْمِک۔ (احمد ۳۸۹۔ طیالسی ۴۱۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٩٩) حضرت سعد سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ نے ارشاد فرمایا جو آدمی ایک بالشت بھی جماعت (المسلمین) سے ہٹا تو وہ اسلام سے جدا ہوگیا۔
(۳۸۲۹۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا فقد فَارَقَ الإِسْلاَمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٠٠) حضرت ہمام سے روایت ہے حضرت حذیفہ نے ارشاد فرمایا ضرور بالضرور لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں نہیں نجات پائے گا مگر وہ شخص جو ڈوبنے والے آدمی کی طرح دعامانگے گا۔
(۳۸۳۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن ہَمَّامٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : لَیَأْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لاَ یَنْجُو فِیہِ إِلاَّ الَّذِی یَدْعُو بِدُعَائٍ کَدُعَائِ الْغَرِیقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٠١) حضرت ابو عمار سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ نے فرمایا ضرور بالضرور لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں نجات نہیں پائے گا مگر وہ شخص جو ڈوبنے والے کی طرح دعا مانگے گا۔
(۳۸۳۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ ، عَنْ أَبِی عَمَّارٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : لَیَأْتِیَنَّ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لاَ یَنْجُو فِیہِ إِلاَّ مَنْ دَعَا بِدُعَائٍ کَدُعَائِ الْغَرِیقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٠٢) حضرت ابو عمار حضرت حذیفہ سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا اللہ کی قسم کوئی آدمی صبح کے وقت دیکھنے والا ہوگا پھر شام کرے گا اور کسی چیز کے کنارے کو بھی دیکھنے کی قدرت نہ رکھتا ہوگا۔
(۳۸۳۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ ، عَنْ أَبِی عَمَّارٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : وَاللہِ إِنَّ الرَّجُلَ لَیُصْبِحُ بَصِیرًا ، ثُمَّ یُمْسِی ، وَمَا یَنْظُرُ بِشُفْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٠٣) حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ نے یہ آیت { فَقَاتِلُوا أَئِمَّۃَ الْکُفْرِ } تلاوت کی (یعنی کفر کے رہنماؤں کو قتل کرو) پھر ارشاد فرمایا اس آیت کے مصداق لوگوں سے اس کے بعد قتال نہیں کیا گیا۔
(۳۸۳۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زید ، قَالَ : قَرَأَ حُذَیْفَۃُ ہَذِہِ الآیَۃَ {فَقَاتِلُوا أَئِمَّۃَ الْکُفْرِ} ، قَالَ: مَا قُوتِلَ أَہْلُ ہَذِہِ الآیَۃِ بَعْدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٠٤) حضرت حسن حضرت محمد بن مسلمہ سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک تلوار عطاء فرمائی اور فرمایا اس سے مشرکین کے ساتھ قتال کرنا جب تک ان سے قتال کیا جائے اور جب تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ ایک دوسرے کو مارنا شروع ہوگئے (راوی فرماتے ہیں) یا اسی کے مثل کوئی بات فرمائی تو پھر تلوار لے کر کسی چٹان کا قصد کرنا اور تلوار کو اس چٹان پر مار دینا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے پھر اپنے گھر میں بیٹھ جانا یہاں تک کہ تیرے پاس کوئی غلطی کرنے والا ہاتھ یا فیصلہ کرنے والی موت آجائے۔
(۳۸۳۰۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ : أَعْطَانِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَیْفًا ، فَقَالَ : قَاتِلْ بِہِ الْمُشْرِکِینَ مَا قُوتِلُوا ، فَإِذَا رَأَیْت النَّاسَ یَضْرِبُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا ، أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا فَاعْمِدْ بِہِ إِلَی صَخْرَۃٍ فَاضْرِبْہُ بِہَا حَتَّی یَنْکَسِرَ ، ثُمَّ اُقْعُدْ فِی بَیْتِکَ حَتَّی تَأْتِیَک یَدٌ خَاطِئَۃٌ ، أَوْ مَنِیَّۃٌ قَاضِیَۃٌ۔ (احمد ۲۲۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٠٥) حضرت ابو المتوکل الناجی حضرت ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا بچو تم اندھی لڑائی اور جاہلیت کی موت سے راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اندھی لڑائی کیا ہے ارشاد فرمایا جب یہ پکار ہو اے فلاں اے فلاں کے بیٹے راوی کہتے ہیں میں نے عرض کی جاہلیت کی موت سے کیا مراد ہے ارشاد فرمایا تجھے موت اس حالت میں آئے کہ تم پر کوئی امام مقرر نہ ہو۔
(۳۸۳۰۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِی ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : إیَّاکُمْ وَقِتَالَ عِمِّیَّۃٍ وَمِیتَۃَ جَاہِلِیَّۃٍ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا قِتَالُ عِمِّیَّۃٍ ، قَالَ : إِذَا قِیلَ : یَا لَفُلاَنُ ، یَا بَنِی فَُلاَنٍ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا مِیتَۃُ جَاہِلِیَّۃٍ ، قَالَ : أَنْ تَمُوتَ وَلاَ إمَامَ عَلَیْک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٠٦) حضرت حسن سے روایت ہے کہ جو آدمی اندھے قتال کے اندر مارا گیا اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔
(۳۸۳۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : مَنْ قُتِلَ فِی قِتَالِ عِمِّیَّۃٍ فَمِیتَتُہُ مِیتَۃُ جَاہِلِیَّۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٠٧) حضرت عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ جب لوگ حضرت عثمان پر طعن کے بارے میں گروہوں میں بٹ گئے تو میرے والد کھڑے ہوئے صلوۃ اللیل ادا کی اور پھر سو گئے فرماتے ہیں ان سے کہا گیا آپ کھڑے ہوجائیں اور اللہ سے سوال کریں کہ وہ آپ کو اس فتنے سے پناہ دے جس سے اس نے نیک لوگوں کو پناہ بخشی ہے راوی فرماتے ہیں پھر وہ کھڑے ہوئے اور بیمار ہوگئے پھر انھیں گھر سے باہر نہیں دیکھا گیا حتیٰ کہ ان کی وفات ہوگئی۔
(۳۸۳۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : لَمَّا تَشَعَّبَ النَّاسُ فِی الطَّعْنِ عَلَی عُثْمَانَ قَامَ أَبِی فَصَلَّی مِنَ اللَّیْلِ ، ثُمَّ نَامَ ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : قُمْ فَاسْأَلِ اللَّہَ أَنْ یُعِیذَک مِنَ الْفِتْنَۃِ الَّتِی أَعَاذَ مِنْہَا عِبَادَہُ الصَّالِحِینَ ، قَالَ : فَقَامَ فَمَرِضَ فَمَا رُئِیَ خَارِجًا حَتَّی مَاتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৩০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٣٠٨) حضرت سوید بن الحارث حضرت علی سے نقل کرتے ہیں ارشاد فرمایا اسلام (پر عمل) میں کمی واقع ہوجائے گی یہاں تک کہ اللہ اللہ نہیں کہا جائے گا جب ایسا ہوجائے گا تو دین کے سردار اپنی دم سے ماریں گے (مراد یہ ہے کہ لوگ فتنے میں اپنے سرداروں کی بات لیں گے) یہ بات ہوجائے گی تو کچھ لوگ اٹھیں گے جو خزاں کی بدلیوں کی طرح جمع ہوں گے اور اللہ کی قسم میں ان کے امیر کا نام اور ان کی سواریاں بٹھانے کی جگہوں کو بھی جانتا ہوں۔
(۳۸۳۰۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْد ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : یَنْقُصُ الإِسْلاَم حَتَّی لاَ یُقَالُ : اللَّہُ اللَّہُ ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِکَ ضَرَبَ یَعْسُوبُ الدِّینَ بِذَنَبِہِ ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِکَ بُعِثَ قَوْمٌ یَجْتَمِعُونَ کَمَا یَجْتَمِعُ قَزَعُ الْخَرِیفِ ، وَاللہِ إنِّی لأعْرِفُ اسْمَ أَمِیرِہِمْ وَمُنَاخَ رِکَابِہِمْ۔
তাহকীক: