মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮২৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٦٩) حضرت یشکری فرماتے ہیں میں نے حضرت حذیفہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھلائی کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں آپ سے برائی کے بارے میں پوچھتا تھا اور میں پہچان چکا تھا کہ خیر مجھ سے ہرگز نہیں بڑھے گی راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اس خیر کے بعد برائی ہوگی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حذیفہ اللہ کی کتاب سیکھو اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرو تین مرتبہ (فرمایا) راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اس برائی کے بعد بھلائی ہوگی ارشاد فرمایا اے حذیفہ اللہ کی کتاب سیکھو اور جو اس میں ہے اس کی پیروی کرو تین مرتبہ فرمایا میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول کیا اس خیر کے بعد برائی ہوگی ارشاد فرمایا : اندھا اور بہرا فتنہ ہوگا اس پر قائم ہوں گے جہنم کے دروازوں کی طرف دعوت دینے والے اے حذیفہ اگر تمہیں موت آئے اس حال میں کہ تم درخت کے تنے کو کھانے والے ہو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔
(۳۸۲۶۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، قَالَ : قَالَ حُمَیْدٌ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّیْثِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الیشکری ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ یَقُولُ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْأَلُہُ النَّاسُ عَنِ الْخَیْرِ ، وَکُنْت أَسْأَلُہُ عَنِ الشَّرِ ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْخَیْرَ لَنْ یَسْبِقَنِی ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ بَعْدَ ہَذَا الْخَیْرِ مِنْ شَرٍّ ؟ قَالَ : یَا حُذَیْفَۃُ ، تَعَلَّمْ کِتَابَ اللہِ وَاتَّبِعْ مَا فِیہِ ، ثَلاَثًا ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ بَعْدَ ہَذَا الْخَیْرِ شَرُّ ؟ قَالَ : فِتْنَۃٌ وَشَرٌّ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ بَعْدَ ہَذَا الشَّرِّ خَیْرٌ ؟ قَالَ : یَا حُذَیْفَۃُ ، تَعَلَّمْ کِتَابَ اللہِ وَاتَّبِعْ مَا فِیہِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ بَعْدَ ہَذَا الْخَیْرِ شَرُّ ؟ قَالَ : فِتْنَۃٌ عَمْیَائُ صَمَّائُ عَلَیْہَا دُعَاۃٌ عَلَی أَبْوَابِ النَّارِ ، فَأَنْ تَمُوتَ یَا حُذَیْفَۃُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَی جَِذْلٍ ، خَیْرٌ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْہُمْ۔ (ابوداؤد ۴۲۴۳۔ احمد ۳۸۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٧٠) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد تھے جب آپ نے فتنے کا تذکرہ کیا یا آپ کے پاس اس کا تذکرہ کیا گیا۔ فرماتے ہیں آپ نے فرمایا : جب تو لوگوں کو دیکھے کہ ان کے وعدے خراب ہوجائیں اور امانتیں ہلکی ہوجائیں اور وہ ہوجائیں اس طرح اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا، راوی فرماتے ہیں میں آپ کی طرف کھڑا ہوا میں نے عرض کیا اس وقت میں کیسے کروں اللہ مجھے آپ پر قربان کرے فرماتے ہیں مجھ سے آپ نے ارشاد فرمایا : اپنے گھر کو لازم پکڑنا اور اپنی زبان کو روک کر رکھنا جو جانتے ہو وہ لے لینا اور جو نہیں جانتے وہ چھوڑ دینا اور تم پر لازم ہے خاص طور پر تمہاری ذات اور عامۃ الناس کے معاملے کو چھوڑ دینا۔
(۳۸۲۷۰) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عِکْرِمَۃُ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذْ ذَکَرَ الْفِتْنَۃَ ، أَوْ ذُکِرَتْ عِنْدَہُ ، قَالَ : فَقَالَ : إِذَا رَأَیْت النَّاسَ مَرَجَتْ عُہُودُہُمْ وَخَفَّتْ أَمَانَاتُہُمْ ، وَکَانُوا ہَکَذَا وَشَبَّکَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ ، قَالَ : فَقُمْت إلَیْہِ ، فَقُلْتُ : کَیْفَ أَفْعَلُ عِنْدَ ذَلِکَ جَعَلَنِی اللَّہُ فِدَائَک ، قَالَ : فَقَالَ لِی : الْزَمْ بَیْتَکَ ، وَأَمْسِکْ عَلَیْک لِسَانَک ، وَخُذْ بِمَا تَعْرِفُ ، وَذَرْ مَا تُنْکِرُ ، وَعَلَیْک بِخَاصَّۃِ نَفْسِکَ ، وَذَرْ عَنْک أَمْرَ الْعَامَّۃِ۔ (ابوداؤد ۴۲۴۵۔ احمد ۲۱۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٧١) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں پر چلا جائے گا وہ فتنوں سے اپنے دین کو بچانے کے لیے وہاں سے بھاگ جائے گا۔
(۳۸۲۷۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَعِیدٍ یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یُوشِکُ أَنْ یَکُونَ خَیْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ یَتْبَعُ بِہَا شَعَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ ، یَفِرُّ بِدِینِہِ مِنَ الْفِتَنِ۔ (بخاری ۱۹۔ احمد ۳۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٧٢) حضرت حجیربن الربعو فرماتے ہیں مجھ سے حضرت عمر ان بن حصین نے فرمایا اپنی قوم کے پاس جاؤ اور ان کو اس معاملے میں جلدی کرنے سے روکو میں نے عرض کیا میں ان میں مامور ہوں اور میں ان میں امیر نہیں ہوں حضرت عمران بن حصین نے فرمایا انھیں میری جانب سے یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر میں ایک حبشی غلام ہوں عیب دار ہوں بھیڑوں کو چراؤں ایک پہاڑ کی چوٹی میں یہاں تک کہ مجھے موت آجائے یہ بات مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں دونوں صفوں میں سے کسی ایک میں تیر ماروں چاہے درستگی تک پہنچ جاؤں یا غلطی پر ہوں۔
(۳۸۲۷۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ حُجَیْرِ بْنِ الرَّبِیعِ ، قَالَ : قَالَ لِی عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ : ائْتِ قَوْمَک فَانْہَہُمْ أَنْ یَخِفُّوا فِی ہَذَا الأَمْرِ ، فَقُلْتُ : إنِّی فِیہِمْ لَمَغْمُورٌ ، وَمَا أَنَا فِیہِمْ بِالْمُطَاعِ ، قَالَ : فَأَبْلِغْہُمْ عَنِّی لأَنْ أَکُونَ عَبْدًا حَبَشِیًّا فِی أَعْنُزٍ حَضَنِیَّاتٍ أَرْعَاہَا فِی رَأْسِ جَبَلٍ حَتَّی یُدْرِکَنِی الْمَوْتُ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَرْمِیَ فِی أَحَدٍ مِنَ الصَّفَّیْنِ بِسَہْمٍ أَخْطَأْتُ ، أَوْ أَصَبْتُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٧٣) حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں حضرت حذیفہ نے فرمایا یقیناً فتنے میں تلواریں سونتی بھی جاتی ہیں اور نیام میں بھی ڈال لی جاتی ہیں۔ یا یقیناً فتنہ رکتا بھی ہے اور اٹھتا بھی ہے پس اگر تم سے ہوسکے کہ تمہیں موت آئے اس کے رکنے کے وقت تو ایسا ہی کرنا۔
(۳۸۲۷۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : إِنَّ لِلْفِتْنَۃِ وَقَفَاتٍ وَبَعَثَاتٍ ، فَإِنَ اسْتَطَعْت أَنْ تَمُوتَ فِی وَقَفَاتِہَا فَافْعَلْ۔ (حاکم ۴۳۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٧٤) حضرت زیاد بن سمین کوش الیمانی حضرت عبداللہ بن عمرو سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا فتنہ ہوگا یا فتنے ہوں گے جو سارے عرب کو ہلاک کردیں گے ان فتنوں کے مقتول آگ میں ہوں گے ان میں زبان (سے بات کرنا) تلوار مارنے سے سخت ہوگی۔
(۳۸۲۷۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنْ زِیَاد بن سِمِیْنْ کُوشْ الْیَمَانِیَّ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: تَکُونُ فِتْنَۃٌ، أَوْ فِتَنٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ، قَتْلاَہَا فِی النَّارِ، اللِّسَانُ فِیہَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّیْفِ۔

(ابوداؤد ۴۲۶۴۔ احمد ۲۱۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٧٥) حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے فرمایا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا پس فرمایا خبردار ہو یقیناً تمہارے سامنے فتنے ہیں اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام کو کافر اور صبح کو کافر ہوگا اور شام کو مومن ہوگا، ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور پیدل چلنے والا سوار سے بہتر ہوگا، صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہوجانا گھروں کے ٹاٹ۔
(۳۸۲۷۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ السَّدُوسِیِّ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : خَطَبَنَا ، فَقَالَ : أَلاَ وَإِنَّ مِنْ وَرَائِکُمْ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیہَا مُؤْمِنًا وَیُمْسِی کَافِرًا ، وَیُصْبِحُ کَافِرًا وَیُمْسِی مُؤْمِنًا ، الْقَاعِدُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِی ، وَالْمَاشِی خَیْرٌ مِنَ الرَّاکِبِ ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : کُونُوا أَحْلاَسَ الْبُیُوتِ۔ (ابوداؤد ۴۲۶۱۔ احمد ۴۰۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٧٦) حضرت مجاہد فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت سے پہلے فتنے ہوں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا اور لوگ اپنے دین کو بیچیں گے دنیاوی سامان کے بدلے میں۔
(۳۸۲۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: بَیْنَ یَدَیَ السَّاعَۃِ فِتَنٌ کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیہَا مُؤْمِنًا وَیُمْسِی کَافِرًا وَیُمْسِی مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا ، وَیَبِیعُ أَقْوَامٌ دِینَہُمْ بِعَرَضِ الدُّنْیَا۔ (ابو نعیم ۱۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٧٧) حضرت ابو موسیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : اپنی کمانیں توڑ دو فتنے کے بارے میں فرما رہے تھے اور کمان کی تانتیں کاٹ دو اور اپنے گھروں کے اندرونی حصوں کو لازم پکڑو اور ہوجاؤ ان میں آدم کے دو بیٹوں میں سے بہتر بیٹے کی طرح۔
(۳۸۲۷۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَنِ ہُذَیْلٍ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اکْسِرُوا قِسِیَّکُمْ ، یَعْنِی فِی الْفِتْنَۃِ ، وَقَطِّعُوا الأَوْتَارَ وَالْزَمُوا أَجْوَافَ الْبُیُوتِ ، وَکُونُوا فِیہَا کَالْخَیرِ مِنِ ابْنَیْ آدَمَ۔ (احمد ۴۰۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٧٨) حضرت عبداللہ بن صامت حضرت ابو ذر سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو ذر مجھے بتاؤ تو سہی اگر لوگ لڑائی کریں یہاں تک کہ (مقام) حجارۃ الزیت خون سے ڈوب جائے تو تو کیا کرنے والا ہوگا حضرت ابو ذر کہتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اپنے گھر میں داخل ہوجانا حضرت ابو ذر فرماتے ہیں میں نے عرض کیا، کہ کیا میں اسلحہ اٹھاؤں آپ نے ارشاد فرمایا : اس وقت تم بھی شریک ہوجاؤ گے، حضرت ابو ذرکہتے ہیں میں نے عرض کیا میں کیا کروں، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تمہیں خوف ہو کہ سورج کی شعاعیں تم پر غالب آجائیں گی تو اپنے چہرے پر اپنی چادر ڈال لینا وہ لوٹے گا تمہارے گناہ اور اپنے گناہ کو لے کر۔ (مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی گھر میں آکر بھی حملہ کرے تو جواب نہ دینا وہ حملہ آور ہی وبال کے ساتھ لوٹے گا)
(۳۸۲۷۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّیُّ ، عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا أَبَا ذَرٍّ ، أَرَأَیْت إنِ اقْتَتَلَ النَّاسُ حَتَّی تَغْرَقَ حِجَارَۃُ الزَّیْتِ مِنَ الدِّمَائِ کَیْفَ أَنْتَ صَانِعٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ ، قَالَ : تَدْخُلُ بَیْتَکَ ، قَالَ : قُلْتُ : أَفَأَحْمِلُ السِّلاَحَ ؟ قَالَ : إذًا تشارک ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا أَصْنَعُ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : إِنْ خِفْت أَنْ یَغْلِبَ شُعَاعُ الشَّمْسِ فَأَلْقِ مِنْ رِدَائِکَ عَلَی وَجْہِکَ یَبُوئُ بِإِثْمِکَ وَإِثْمِہِ۔ (احمد ۱۴۹۔ حاکم ۱۵۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٧٩) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یقیناً تمہارے سامنے ایسے ایام آئیں گے جن میں جہالت اترے گی اور علم اٹھا لیا جائے گا اور ہرج کثرت سے ہوجائے گا صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہرج سے کیا مراد ہے ارشاد فرمایا قتل۔
(۳۸۲۷۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ وَرَائِکُمْ أَیَّامًا یَنْزِلُ فِیہَا الْجَہْلُ ، وَیُرْفَعُ فِیہَا الْعِلْمُ ، وَیَکْثُرُ فِیہَا الْہَرْجُ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَمَا الْہَرْجُ ؟ قَالَ : الْقَتْلُ۔ (مسلم ۲۰۵۷۔ احمد ۳۸۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٨٠) حضرت یزید بن الاصم فرماتے ہیں حضرت حذیفہ نے فرمایا تم پر فتنے آئیں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ہلاک ہوگا ان میں ہر دلیر اور بہادر اور ہر تیز رفتار سوار اور ہر بلیغ و بلند آواز خطیب۔
(۳۸۲۸۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : أَتَتْکُمُ الْفِتَنُ مِثْلَ قِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ ، یَہْلِکُ فِیہَا کُلُّ شُجَاعٍ بَطَلٍ ، وَکُلُّ رَاکِبٍ موْضِعٍ ، وَکُلُّ خَطِیبٍ مِصْقَعٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٨١) حضرت کرزبن علقمہ الخزاعی فرماتے ہیں ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا اسلام کے لیے انتہاء ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں کوئی بھی عرب یا عجم میں سے گھر والے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرمائیں گے ان پر اسلام کو داخل کردیں گے، انھوں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا ارشاد فرمایا : پھر فتنے ہوں گے جو بادلوں کی طرح وقوع پذیر ہوں گے تم ان میں ڈسنے والے ناگ بن کر لوٹو گے ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے، کالا سانپ سر اٹھاتا ہے پھر ڈسنے کے لیے (شکار) پر گرتا ہے۔
(۳۸۲۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ کُرْزِ بْنِ عَلْقَمَۃَ الْخُزَاعِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَلْ لِلإِسْلاَمِ مُنْتَہًی ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَیُّمَا أَہْلِ بَیْتٍ مِنَ الْعَرَبِ ، أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللَّہُ بِہِمْ خَیْرًا أَدْخَلَ عَلَیْہِمُ الإِسْلاَمَ ، قَالَ : ثُمَّ مَہْ ؟ قَالَ : ثُمَّ الْفِتَنُ تَقَعُ کَالظُّلَلِ تَعُودُونَ فِیہَا أَسَاوِدَ صُبًّا ، یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، وَالأَسْوَدُ : الْحَیَّۃُ تَرْتَفِعُ ، ثُمَّ تَنْصَبُّ۔ (احمد ۴۷۷۔ طبرانی ۴۴۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٨٢) حضرت عروہ حضرت اسامہ سے نقل کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے ٹیلوں میں سے کچھ ٹیلوں کی طرف جھانکا پھر ارشاد فرمایا کیا تم دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں، میں تمہارے گھروں میں فتنوں کو بارش کے قطروں کی طرح اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
(۳۸۲۸۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ أُسَامَۃَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ عَلَی أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِینَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : ہَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَی إنِّی لأَرَی مَوَاقِعَ الْفِتَنِ خِلاَلَ بُیُوتِکُمْ کَمَوَاقِعِ الْقَطْرِ۔

(بخاری ۷۰۶۰۔ مسلم ۲۲۱۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٨٣) حضرت ابو المنہال سیار بن سلامہ روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا کہ جس زمانے میں ابن زیاد کو نکالا گیا تو مروان نے شام پر اور حضرت عبداللہ بن زبیر نے مکہ اور قراء نے بصرہ پر حملہ کیا اوف کہتے ہیں، ابو المنہال نے فرمایا میرے والد بہت زیادہ غم گین ہوئے اور راوی کہتے ہیں حضرت ابو المنہال اپنے والد کی اچھی تعریف کرتے تھے۔ ابو المنہال نے فرمایا مجھ سے میرے والد نے کہا کہ اے بیٹے ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے اس آدمی کی طرف ہمیں لے چلو پس ہم نکلے حضرت ابو برزہ اسلمی کی طرف ایسے دن میں جو سخت گرمی والا تھا پس وہ بیٹھے ہوئے تھے بلند سایے میں جو ان کے لیے بانس سے بنایا گیا تھا۔ پس شروع ہوئے میرے والد کہ ان سے گفتگو چاہتے تھے پس میرے والد نے کہا اے ابا برزہ ! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے ؟ پس پہلی بات جو انھوں نے کہی فرمایا میں قریش کے قبائل پر ناراض ہوں۔ یقیناً اے عرب کے قبائل تم تھے اس قلت اور جاہلیت کی حالت پر جو تم جانتے ہو۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے بلند کیا یہاں تک کہ تم اس حالت پر پہنچ گئے جو تم دیکھ رہے ہو، اور یہ دنیا ہی ہے جس نے تمہارے درمیان فسادبرپا کردیا ہے۔ بیشک یہ جو شام میں ہیں ان کی مراد تھی مروان۔ بخدا نہیں وہ لڑائی کررہا مگر دنیا کے لیے اور بیشک یہ جو تمہارے گرد ہیں جنہیں تم اپنے قراء کہتے ہو بخدا یہ بھی نہیں لڑ رہے مگر دنیا کے لیے۔

ابو المنہال راوی فرماتے ہیں کہ جب انھوں نے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا تو ان سے میرے والد نے کہا کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا میں تو آج اس جماعت سے بہتر کسی کو نہیں سمجھتا جو زمین سے چپکی ہوئی ہو ان کے پیٹ لوگوں کے مالوں سے خالی ہوں ان کی کمریں لوگوں کے خونوں کی ذمہ داری سے فارغ ہوں۔
(۳۸۲۸۳) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ سَیَّارِ بْنِ سَلاَمَۃَ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ زَمَنُ أُخْرِجَ ابْنُ زِیَادٍ وَثَبَ مَرْوَانُ بِالشَّامِ حِینَ وَثَبَ ، وَوَثَبَ ابْنُ الزُّبَیْرِ بِمَکَّۃَ ، وَوَثَبَت الْقُرَّائُ بِالْبَصْرَۃِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْمِنْہَالِ : غُمَّ أَبِی غَمًّا شَدِیدًا ، قَالَ : وَکَانَ یُثْنِی عَلَی أَبِیہِ خَیْرًا ، قَالَ : قَالَ لِی أَبِی : أَیْ بُنَی ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَی ہَذَا الرَّجُلِ مِنْ صَحَابَۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْنَا إِلَی أَبِی بَرْزَۃَ الأَسْلَمِیِّ فِی یَوْمٍ حَارٍّ شَدِیدِ الْحَرِّ ، وَإِذَا ہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ عُلْوٍ مِنْ قَصَبٍ ، فَأَنْشَأَ أَبِی یَسْتَطْعِمُہُ الْحَدِیثَ ، فَقَالَ : یَا أَبَا بَرْزَۃَ ، أَلاَ تَرَی ؟ أَلاَ تَرَی ؟ فَکَانَ أَوَّلَ شَیْئٍ تَکَلَّمَ بِہِ ، قَالَ : أَمَا إنِّی أَصْبَحْت سَاخِطًا عَلَی أَحْیَائِ قُرَیْشٍ ، إنَّکُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ کُنْتُمْ عَلَی الْحَالِ الَّتِی قَدْ عَلِمْتُمْ مِنْ قِلَّتِکُمْ وَجَاہِلِیَّتِکُمْ ، وَإِنَّ اللَّہَ نَعَشَکُمْ بِالإِسْلاَمِ وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَلَغَ بِکُمْ مَا تَرَوْنَ ، وَإِنَّ ہَذِہِ الدُّنْیَا ہِیَ الَّتِی قَدْ أَفْسَدَتْ بَیْنَکُمْ ، إِنَّ ذَاکَ الَّذِی بِالشَّامِ ، یَعْنِی مَرْوَانَ وَاللہِ إِنْ یُقَاتِلُ إِلاَّ عَلَی الدُّنْیَا ، وَإِنَّ ذَاکَ الَّذِی بِمَکَّۃَ یَعْنِی ابْنَ الزُّبَیْرِ ، وَاللہِ إِنْ یُقَاتِلَ إِلاَّ عَلَی الدُّنْیَا ، وَإِنَّ ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ حَوْلَکُمْ تَدْعُونَہُمْ قُرَّائَکُمْ وَاللہِ إِنْ یُقَاتِلُونَ إِلاَّ عَلَی الدُّنْیَا، قَالَ : فَلَمَّا لَمْ یَدَعْ أَحَدًا ، قَالَ لَہُ أَبِی : أَبَا بَرْزَۃَ ، مَا تَرَی ؟ قَالَ : لاَ أَرَی الْیَوْمَ خَیْرًا مِنْ عِصَابَۃٍ مُلَبَّدَۃٍ، خِمَاصُ بُطُونِہِمْ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ ، خِفَافُ ظُہُورِہِمْ مِنْ دِمَائِہِمْ۔ (حاکم ۴۷۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٨٤) حضرت شقیق حضرت حذیفہ سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم حضرت عمر کے پاس بیٹھے تھے انھوں نے فرمایا تم میں کون ہے جسے فتنے کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث ایسے ہی یاد ہے جیسے آپ نے ارشاد فرمائی میں نے عرض کیا کہ میں ہوں، حضرت حذیفہ فرماتے ہیں حضرت عمر نے فرمایا یقیناً تو جری ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیسے ارشاد فرمایا میں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے آدمی کے گھر اور مال اور اپنی ذات اور پڑوسی میں فتنہ اس کا کفارہ ہوجائے گا روزہ اور صدقہ اور اچھائی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا، حضرت عمر نے فرمایا میری یہ مراد نہیں ہے میری مراد تو وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح زور پر ہوگا راوی کہتے ہیں میں نے کہا آپ کو اس سے کیا غرض امیر المؤمنین بلاشبہ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے، حضرت عمر نے فرمایا کیا دروازہ توڑا جائے یا کھولا جائے گا راوی حضرت حذیفہ فرماتے ہیں میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جائے گا انھوں نے فرمایا یہ (دروازہ) زیادہ لائق ہے اس بات کے کہ اسے کبھی بند نہ کیا جائے۔ شقیق راوی کہتے ہیں ہم نے حضرت حذیفہ سے پوچھا کیا حضرت عمر جانتے تھے دروازہ کون ہے انھوں نے فرمایا ہاں جیسے میں جانتا ہوں کہ صبح رات سے پہلے ہے میں نے ان سے حدیث بیان کی ہے نہ کہ مغالطہ آمیز باتیں راوی حضرت شقیق کہتے ہیں ہم حضرت حذیفہ سے یہ بات کہ دروازہ کون ہے پوچھنے سے ڈر گئے ہم نے حضرت مسروق سے کہا آپ ان سے پوچھیں انھوں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا حضرت عمر ۔
(۳۸۲۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، وَابْنُ نُمَیْرٍ وَحُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ: کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ ، فَقَالَ : أَیُّکُمْ یَحْفَظُ حَدِیثَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْفِتْنَۃِ کَمَا قَالَ ؟ فَقُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : فَقَالَ : إنَّک لَجَرِیئٌ ، وَکَیْفَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : فِتْنَۃُ الرَّجُلِ فِی أَہْلِہِ وَمَالِہِ وَنَفْسِہِ وَجَارِہِ یُکَفِّرُہَا الصِّیَامُ وَالصَّدَقَۃُ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیُ ، عَنِ الْمُنْکَرِ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَیْسَ ہَذَا أُرِیدُ ، إنَّمَا أُرِیدُ الَّتِی تَمُوجُ کَمَوْجِ الْبَحْرِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَالَک وَلَہَا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ بَیْنَکَ وَبَیْنَہَا بَابًا مُغْلَقًا ، قَالَ : فَیُکْسَرُ الْبَابُ ، أَمْ یُفْتَحُ ، قَالَ : قُلْتُ : لاَ ، بَلْ یُکْسَرُ ، قَالَ : ذَاکَ أَحْرَی أَنْ لاَ یُغْلَقَ أَبَدًا ، قَالَ : قُلْنَا لِحُذَیْفَۃَ : ہَلْ کَانَ عُمَرُ یَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ ، قَالَ : نَعَمْ ، کَمَا أَعْلَمُ ، أَنَّ غَدًا دُونَ اللَّیْلَۃِ، إنِّی حَدَّثْتہ حَدِیثًا لَیْسَ بِالأَغَالِیطِ، قَالَ: فَہِبْنَا حُذَیْفَۃَ أَنْ نَسْأَلَہُ مَنِ الْبَابُ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْہُ ، فَسَأَلَہُ ، فَقَالَ : عُمَرُ۔ (مسلم ۲۲۱۸۔ ابن ماجہ ۳۹۵۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٨٥) حضرت شقیق حضرت حذیفہ سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا کوڑے کا فتنہ تلوار کے فتنے سے زیادہ سخت ہے تو ان کے اصحاب نے عرض کیا یہ کیسے ہوسکتا ہے انھوں نے فرمایا بیشک آدمی کو کوڑا مارا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ لکڑی پر سوار ہوجاتا ہے۔
(۳۸۲۸۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : لَفِتْنَۃُ السَّوْطِ أَشَدُّ مِنْ فِتْنَۃِ السَّیْفِ ، قَالُوا : وَکَیْفَ ذَاکَ ، قَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ لَیُضْرَبُ بِالسَّوْطِ حَتَّی یَرْکَبَ الْخَشَبَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٨٦) حضرت سعید بن زید فرماتے ہیں ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے آپ نے ایک فتنے کا تذکرہ فرمایا اس کے معاملے کو بڑا جانا راوی فرماتے ہیں ہم نے یا انھوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر ہم نے اسے پا لیا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے ارشاد ہرگز نہیں تمہیں کافی ہوگا قتل حضرت سعید فرماتے ہیں میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھا کہ سب قتل کیے گئے۔
(۳۸۲۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَِسَافٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ فِتْنَۃً فَعَظَّمَ أَمْرَہَا ، قَالَ : فَقُلْنَا ، أَوْ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَئِنْ أَدْرَکْنَا ہَذَا لَنَہْلِکَنَّ ، قَالَ : کَلاَّ ، إِنَّ بِحَسْبِکُمُ الْقَتْلُ۔

قَالَ سَعِیدٌ : فَرَأَیْتُ إخْوَانِی قُتِلُوا۔ (احمد ۱۸۹۔ طبرانی ۳۴۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٨٧) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ تین فتنے واقع ہوں گے اور چوتھا فتنہ لوگوں کو دجال کی طرف لے جائے گا ان کے لیے پہلا فتنہ پانی خشک کرنے والے پتھر مارے گا اور دوسرا گرم پتھر پھینکے گا اور تیسرا وہ اندھیرا پھیلائے گا جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا۔
(۳۸۲۸۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ ، قَالَ : قَالَ حُذَیْفَۃُ : تَکُونُ ثَلاَثُ فِتَنٍ ، الرَّابِعَۃُ تَسُوقُہُمْ إِلَی الدَّجَّالِ ، الَّتِی تَرْمِی بِالنَّشَفِ وَالَّتِی تَرْمِی بِالرَّضْفِ ، وَالْمُظْلِمَۃُ الَّتِی تَمُوجُ کَمَوْجِ الْبَحْرِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٨٨) حضرت یشکری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک اندھا بہرہ فتنہ ہوگا جس کی طرف بلانے والے جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے ۔ اے حذیفہ ! تمہیں اس حال میں موت آئے کہ تم درخت کی جڑ کو کھانے والے ہو یہ بات بہتر ہے اس سے کہ تم ان میں سے کسی ایک کی پیروی کرو۔
(۳۸۲۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، قَالَ : قَالَ حُمَیْدٌ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْیَشْکُرِیُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُذَیْفَۃَ یَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فِتْنَۃٌ عَمْیَائُ صَمَّائُ عَلَیْہَا دُعَاۃٌ عَلَی أَبْوَابِ النَّارِ ، فَأَنْ تَمُتْ یَا حُذَیْفَۃُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَی جِذْلٍ خَیْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক: