মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮২৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب کی خلافت کے بارے میں
(٣٨٢٤٩) حضرت ابراہیم تیمی سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر کی بیعت کی گئی تو راوی کہتے ہیں۔ حضرت سلمان نے کہا۔ تم نے غلطی کی ہے اور درست (بھی) کیا ہے۔ اگر تم لوگ خلافت کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل بیت کے حوالہ کرتے تو البتہ تم لوگ اس خلافت کو خوب آسودہ حالی کے ساتھ کھاتے۔
(۳۸۲۴۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، قَالَ : لَمَّا بُویِعَ أَبُو بَکْرٍ ، قَالَ : قَالَ سَلْمَانُ : أَخْطَأْتُمْ وَأَصَبْتُمْ ، أَمَّا لَوْ جَعَلْتُمُوہَا فِی أَہْلِ بَیْتِ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لأَکَلْتُمُوہَا رَغَدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب کی خلافت کے بارے میں
(٣٨٢٥٠) حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ سے روایت ہے کہ حضرت علی نے ہم سے جدا ہونے تک بیت المال سے صرف ایک روئی بھرا چوغہ اور ایک کرتا جس میں سرخ دھاریاں تھیں، لیا تھا۔
(۳۸۲۵۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ عُیَیْنَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَوْشَنٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، قَالَ : مَا رَزَأَ عَلِیٌّ مِنْ بَیْتِ مَالِنَا ، حَتَّی فَارَقَنَا إِلاَّ جُبَّۃً مَحْشُوَّۃً ، وَخَمِیصَۃً دَرَابَجَرْدِیَّۃً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب کی خلافت کے بارے میں
(٣٨٢٥١) حضرت سعد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ میں نے عبید اللہ بن ابی رافع کو کہتے سناکہ جب لوگوں نے حضرت علی پر ازدحام (رش) کیا اور انھوں نے آپ کے پاؤں کو خون آلود کردیا تو میں ان کو دیکھ رہا تھا، حضرت علی نے کہا۔ اے اللہ ! تحقیق میں ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہوں اور یہ لوگ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔ پس تو مجھے ان سے اور ان کو مجھ سے راحت دے دے۔
(۳۸۲۵۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَیْدَ اللہِ بْنَ أَبِی رَافِعٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَلِیًّا حِینَ ازْدَحَمُوا عَلَیْہِ حَتَّی أَدْمَوْا رِجْلَہُ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی قَدْ کَرِہْتُہُمْ ، وَکَرِہُونِی ، فَأَرِحْنِی مِنْہُمْ ، وَأَرِحْہُمْ مِنِّی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب کی خلافت کے بارے میں
(٣٨٢٥٢) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب حضرت علی فجر کے لیے نکلے تو عبد الرحمن بن ملجم نے اور شبیب اشجعی نے آپ کو گھیر لیا۔ پس شبیب نے آپ پر وار کیا لیکن وہ خطا ہوگیا اور اس کی تلوار دیوار میں جا لگی پھر اس کو کندہ کے دروازوں کی طرف محصور کردیا گیا اور لوگ کہنے لگے۔ تلوار والے کو پکڑو پس جب شبیب نے پکڑے جانے کا خوف محسوس کیا تو اس نے تلوار پھینک دی اور عام لوگوں میں داخل ہوگیا۔ اور جو عبد الرحمن تھا اس نے حضرت علی کے سر مبارک پر تلوار ماری پھر اس کو بھی باب الفیل کی جانب محصور کرلیا گیا اور اس کو عریض یا عویض حضرمی نے پکڑ لیا۔ پس اس کو پکڑ کر حضرت علی کے پاس لائے۔ تو حضرت علی نے فرمایا۔ اگر میں مر جاؤں تو تم چاہو تو اس کو قتل کردینا۔ یا اس کو چھوڑ دینا اور اگر میں بچ گیا تو پھر قصاص ہوگا۔
(۳۸۲۵۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : اکْتَنَفَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلْجَمٍ ، وَشَبِیبٌ الأَشْجَعِیُّ عَلِیًّا حِینَ خَرَجَ إِلَی الْفَجْرِ ، فَأَمَّا شَبِیبٌ فَضَرَبَہُ فَأَخْطَأَہُ ، وَثَبَتَ سَیْفُہُ فِی الْحَائِطِ ، ثُمَّ أُحْصِرَ نَحْوَ أَبْوَابِ کِنْدَۃَ ، وَقَالَ النَّاسُ : عَلَیْکُمْ صَاحِبَ السَّیْفِ ، فَلَمَّا خَشِیَ أَنْ یُؤْخَذَ رَمَی بِالسَّیْفِ ، وَدَخَلَ فِی عُرْضِ النَّاسِ ، وَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَضَرَبَہُ بِالسَّیْفِ عَلَی قَرْنِہِ ، ثُمَّ أُحْصِرَ نَحْوَ بَابِ الْفِیلِ ، فَأَدْرَکَہُ عَرَیْضٌ ، أَوْ عُوَیْضٌ الْحَضْرَمِیُّ فَأَخَذَہُ ، فَأَدْخَلَہُ عَلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : إِنْ أَنَا مِتُّ فَاقْتُلُوہُ إِنْ شِئْتُمْ ، أَوْ دَعُوہُ ، وَإِنْ أَنَا نَجَوْتُ کَانَ الْقِصَاصُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب کی خلافت کے بارے میں
(٣٨٢٥٣) حضرت عبداللہ بن سبیع سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی کو کہتے سُنا۔ ضرور بالضرور یہ (داڑھی) اس سے رنگ جائے گی۔ لوگوں نے کہا۔ آپ ہمیں اس کے (قاتل کے) بارے میں بتائیں ہم اس کے خاندان کو ہلاک کردیں گے۔ حضرت علی نے کہا۔ خدا کی قسم ! تب تو تم میرے قاتل کے علاوہ کو قتل کرو گے۔ لوگوں نے پوچھا۔ آپ خلیفہ مقرر کیوں نہیں کرتے ؟ حضرت علی نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں تمہیں اسی طرح چھوڑ جاؤں گا جس طرح تمہیں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھوڑ گئے تھے۔ لوگوں نے پوچھا۔ تو پھر جب آپ اپنے پروردگار سے ملیں گے تو ان سے کیا کہیں گے ؟ حضرت علی نے فرمایا : میں کہوں گا۔ اے اللہ ! تو نے مجھے ان میں (ایک مدت) چھوڑے رکھا پھر تو نے مجھے اپنی طرف بلا لیا جبکہ تو خود ان میں موجود تھا۔ پس اگر تو چاہتا ان کو درست کردیتا اور اگر تو چاہتا تو ان کو خراب کردیتا۔
(۳۸۲۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سُبَیْعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقُولُ : لَتُخْضَبَنَّ ہَذِہِ مِنْ ہَذَا ، فَمَا یُنْتَظَرُ بِالأَشْقَی ، قَالَوا : فَأَخْبِرْنَا بِہِ نُبِیرُ عِتْرَتَہُ ، قَالَ : إِذًا تَاللہِ تَقْتُلُوا غَیْرَ قَاتِلِی ، قَالَوا : أَفَلاَ تَسْتَخْلِفْ ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَکِنِّی أَتْرُکُکُمْ إِلَی مَا تَرَکَکُمْ إِلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَوا : فَمَا تَقُولُ لِرَبِّکَ إِذَا لَقِیتَہُ ؟ قَالَ : أَقُولُ : اللَّہُمَّ تَرَکْتَنِی فِیہِمْ ، ثُمَّ قَبَضْتَنِی إِلَیْک وَأَنْتَ فِیہِمْ ، فَإِنْ شِئْتَ أَصْلَحْتَہُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْسَدْتَہُمْ۔ (احمد ۱۳۰۔ ابن سعد ۳۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب کی خلافت کے بارے میں
(٣٨٢٥٤) حضرت ابو حمزہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو کہتے سُنا۔ اے خون ضرور بالضرور یہ اس سے رنگین ہوجائے گی یعنی آپ کی داڑھی آپ کے سر کے خون سے۔
(۳۸۲۵۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَبِی حَمْزَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِیًّا ، یَقُولُ : یَا لِلدِّمَائِ ، لَتُخْضَبَنَّ ہَذِہِ مِنْ ہَذَا ، یَعْنی لِحْیَتَہُ مِنْ دَمِ رَأْسِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب کی خلافت کے بارے میں
(٣٨٢٥٥) حضرت عبیدہ سے روایت ہے کہ حضرت علی کہتے تھے۔ امت کے بدبخت کو اس بات سے کس چیز نے روکا ہوا ہے کہ وہ آئے اور مجھے قتل کر دے ؟ اے اللہ ! تحقیق میں ان لوگوں سے اکتا گیا ہوں اور یہ لوگ مجھ سے اکتا گئے ہیں۔ پس تو مجھے ان سے اور ان کو مجھ سے راحت نصیب فرما دے۔
(۳۸۲۵۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِیْدَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : مَا یُحْبَسُ أَشْقَاہَا أَنْ یَجِیئَ فَیَقْتُلُنِی ، اللَّہُمَّ إِنِّی قَدْ سَئِمْتُہُمْ وَسَئِمُونِی ، فَأَرِحْنِی مِنْہُمْ وَأَرِحْہُمْ مِنِّی۔ (ابن سعد ۳۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لیلۃ العقبہ کے بارے میں روایات
(٣٨٢٥٦) حضرت عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لیلۃ العقبہ کو فرمایا۔ ” تم لوگ اپنے میں سے بارہ لوگوں کو میری طرف نکال دو جو اپنی اپنی قوم کے کفیل ہوں جیسا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے حواریوں کے کفیل تھے “۔ پس بنو نجار کے کفیل ۔۔۔ ابن ادریس کہتے ہیں۔ بنو نجار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ماموں لگتے تھے۔۔۔ اسعد بن زرار اور ابو امامہ تھے اور بنو الحارث بن خزرج کے دو نقیب (کفیل) حضرت عبداللہ بن رواحہ اور سعد بن ربیع تھے اور بنو سلمہ کے دو نقیب حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام اور حضرت براء بن معرور تھے اور بنو ساعدہ کے دو نقیب حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت منذر بن عمرو تھے۔ اور بنوزریق کے نقیب رافع بن مالک تھے اور بنو عوف بن خزرج کے نقیب ۔۔۔ یہ لوگ قواقل کے لقب سے ملقب تھے ۔۔۔ عبادہ بن صامت تھے اور بنو عبدالاشہل کے دو نقیب حضرت اسید بن حضیر اور حضرت ابو الہیثم بن تیہان تھے اور بنو عمرو بن عوف کے نقیب حضرت سعد بن خیثمہ تھے۔
(۳۸۲۵۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃَ الْعَقَبَۃِ : أَخْرِجُوا إِلَیَّ اثْنَیْ عَشَرَ مِنْکُمْ ، یَکُونُوا کُفَلاَئَ عَلَی قَوْمِہِمْ ، کَکَفَالَۃِ الْحَوَارِیِّینَ لِعِیسَی بْنِ مَرْیَمَ ، فَکَانَ نَقِیبَ بَنِی النَّجَّارِ ، قَالَ ابْنُ إِدْرِیسَ : وَہُمْ أَخْوَالُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَۃَ أَبُو أُمَامَۃَ ، وَکَانَ نَقِیبَیْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ عَبْدُ اللہِ بْنُ رَوَاحَۃَ ، وَسَعْدُ بْنُ رَبِیعٍ ، وَکَانَ نَقِیبَیْ بَنِی سَلِمَۃَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ وَالْبَرَائُ بْنُ مَعْرُورٍ ، وَکَانَ نَقِیبَیْ بَنِی سَاعِدَۃَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ وَالْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو ، وَکَانَ نَقِیبَ بَنِی زُرَیْقٍ رَافِعُ بْنُ مَالِکَ ، وَکَانَ نَقِیبَ بَنِی عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، وَہُمَ الْقَوَاقِلُ ، عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ ، وَکَانَ نَقِیبَیْ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ أُسَیْدُ بْنُ الْحُضَیْرِ ، وَأَبُو الْہَیْثَم بْنُ التِّیہَانِ ، وَکَانَ نَقِیبَ بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ : سَعْدُ بْنُ خَیْثَمَۃ۔ (ابن سعد ۶۰۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لیلۃ العقبہ کے بارے میں روایات
(٣٨٢٥٧) حضرت عقبہ بن عمرو انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم الاضحی کو گھاٹی کی جڑ میں ہم لوگوں سے وعدہ لیا اور ہم لوگ ستر کی تعداد میں تھے ۔۔۔ حضرت عقبہ کہتے ہیں۔ میں ان میں سب سے چھوٹا تھا ۔۔۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔ ” گفتگو مختصر کرو کیونکہ مجھے تم پر قریش کے کفار کا ڈر ہے۔ “ راوی کہتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ہم سے اپنے رب کے بارے میں سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے بارے میں کوئی سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں کچھ سوال کریں اور ہمں ب بھی بتادیں کہ اللہ پر اور آپ پر (ہمارے لئے) کیا ثواب دینا لازم ہوگا۔

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں اپنے رب کے بارے میں تم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور میں تم سے اپنے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم میری بات مانو میں تمہیں راہ ہدایت کی جانب راہ نمائی کروں گا۔ اور میں تم سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ اپنے مال میں ہمدردی کرو اور یہ کہ تم ہم سے ان چیزوں کو روکو جن کو تم خود سے روکتے ہو۔ پس جب تم لوگ یہ کچھ کرو گے تو پھر تمہارے لیے اللہ پر اور مجھ پر جنت واجب ہے۔ “ راوی کہتے ہیں پس ہم نے اپنے ہاتھ دراز کیے اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی۔
(۳۸۲۵۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِیِّ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو الأَنْصَارِیِّ، قَالَ: وَعَدَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَصْلَ الْعَقَبَۃِ یَوْمَ الأَضْحَی ، وَنَحْنُ سَبْعُونَ رَجُلاً، قَالَ عُقْبَۃُ: إِنِّی مِنْ أَصْغَرِہِمْ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَوْجِزُوا فِی الْخُطْبَۃِ ، فَإِنِّی أَخَافُ عَلَیْکُمْ کُفَّارَ قُرَیْشٍ، قَالَ: قُلْنَا: یَا رَسُولَ اللہِ ، سَلْنَا لِرَبِّکَ ، وَسَلْنَا لِنَفْسِکَ ، وَسَلْنَا لأَصْحَابِکَ ، وَأَخْبِرْنَا مَا الثَّوَابُ عَلَی اللہِ وَعَلَیْک۔

فَقَالَ : أَسْأَلُکُمْ لِرَبِّی أَنْ تُؤْمِنُوا بِہِ ، وَلاَ تُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا ، وَأَسْأَلُکُمْ لِنَفْسِی أَنْ تُطِیعُونِی ، أَہْدِیَکُمْ سَبِیلَ الرَّشَاد ، وَأَسْأَلُکُمْ لِی وَلأَصْحَابِی أَنْ تُوَاسُونَا فِی ذَاتِ أَیْدِیکُمْ ، وَأَنْ تَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ ، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِکَ فَلَکُمْ عَلَی اللہِ الْجَنَّۃُ وَعَلَیَّ ، قَالَ : فَمَدَدْنَا أَیْدِیَنَا فَبَایَعْنَاہُ۔ (احمد ۱۲۰۔ حمید ۲۳۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لیلۃ العقبہ کے بارے میں روایات
(٣٨٢٥٨) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ حضرت عباس ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ انصار کی طرف چل کر آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” بات کرو لیکن گفتگو لمبی نہ کرنا۔ تم پر جاسوس متعین ہیں اور مجھے تمہارے بارے میں قریش کے کفار سے خوف ہے “ پس ان میں سے ایک آدمی ۔۔۔ جس کی کنیت ابو امامہ تھی ۔۔۔ اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔ آپ ہم سے اپنے رب کے لیے سوال کریں، آپ ہم سے اپنے لیے سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے ساتھیوں کے لیے سوال کریں۔ اور (یہ بتائیں کہ) اس پر کیا ثواب ملے گا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” میں تم سے اپنے رب کے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور اپنے لیے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور مجھ سے ان چیزوں کو روکو جن چیزوں کو تم اپنے اور اپنے بیٹوں سے روکتے ہو۔ اور اپنے ساتھیوں کے لیے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ اپنے اموال میں ہمدردی کرو “ انصار نے پوچھا۔ جب ہم یہ سب کچھ کریں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ۔ تمہارے لیے اللہ پر جنت واجب ہے۔
(۳۸۲۵۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : انْطَلَقَ الْعَبَّاسُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : تَکَلَّمُوا وَلاَ تُطِیلُوا الْخُطْبَۃَ ، إِنَّ عَلَیْکُمْ عُیُونًا ، وَإِنِّی أَخْشَی عَلَیْکُمْ کُفَّارَ قُرَیْشٍ ، فَتَکَلَّمَ رَجُلٌ مِنْہُمْ یُکَنَّی : أَبَا أُمَامَۃَ ، وَکَانَ خَطِیبَہُمْ یَوْمَئِذٍ ، وَہُوَ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَۃَ ، فَقَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : سَلْنَا لِرَبِّکَ ، وَسَلْنَا لِنَفْسِکَ ، وَسَلْنَا لأَصْحَابِکَ ، وَمَا الثَّوَابُ عَلَی ذَلِکَ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَسْأَلُکُمْ لِرَبِّی أَنْ تَعْبُدُوہُ ، وَلاَ تُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا ، وَلِنَفْسِی أَنْ تُؤْمِنُوا بِی وَتَمْنَعُونِی مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ وَأَبْنَائَکُمْ ، وَلأَصْحَابِی الْمُوَاسَاۃَ فِی ذَاتِ أَیْدِیکُمْ ، قَالَوا : فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِکَ ؟ قَالَ : لَکُمْ عَلَی اللہِ الْجَنَّۃُ۔ (احمد ۱۱۹۔ ابن سعد ۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لیلۃ العقبہ کے بارے میں روایات
(٣٨٢٥٩) حضرت ابوا لطفیل سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ اور اہل عقبہ میں سے ایک اور آدمی کے درمیان کچھ تکرار سی تھی تو انھوں نے پوچھا۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں (بتاؤ) اصحاب العقبہ کی تعداد کیا تھی ؟ اس پر لوگوں نے بھی کہا۔ تم اس کو بتاؤ کیونکہ اس نے تم سے سوال کیا ہے۔ پس حضرت ابو موسیٰ اشعری نے کہا۔ تحقیق ہمیں تو یہ خبر ملی تھی کہ وہ چودہ تھے۔ حضرت حذیفہ نے کہا۔ اور اگر آپ ان میں ہوتے تو وہ پندرہ ہوتے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان میں سے بارہ تو دنیا و آخرت میں اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار تھے۔ اور تین نے معذرت کی تھی اور انھوں نے کہا تھا۔ ہم نے اللہ کے رسول کے منادی کو نہیں سنا اور ہمیں پتا نہیں کہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔
(۳۸۲۵۹) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ ، قَالَ : کَانَ بَیْنَ حُذَیْفَۃَ وَبَیْنَ رَجُلٍ مِنْہُمْ مِنْ أَہْلِ الْعَقَبَۃِ بَعْضُ مَا یَکُونُ بَیْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ : أُنْشِدُک بِاللہِ ، کَمْ کَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَۃِ ؟ فَقَالَ الْقَوْمُ : فَأَخْبِرْہُ ، فَقَدْ سَأَلَک ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی الأَشْعَرِیُّ : قَدْ کُنَّا نُخْبَرُ أَنَّہُمْ أَرْبَعَۃَ عَشَرَ ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : وَإِنْ کُنْتُ فِیہِمْ ، فَقَدْ کَانُوا خَمْسَۃَ عَشَرَ ، أَشْہَدُ بِاللہِ أَنَّ اثْنَیْ عَشَرَ مِنْہُمْ حَرْبٌ للہِ وَرَسُولِہِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُومُ الأَشْہَادُ ، وَعُذِرَ ثَلاَثَۃٌ ، قَالُوا : مَا سَمِعْنَا مُنَادِیَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ عَلِمْنَا مَا یُرِیدُ الْقَوْمُ۔ (مسلم ۲۱۴۴۔ احمد ۳۹۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لیلۃ العقبہ کے بارے میں روایات
(٣٨٢٦٠) حضرت اسماعیل بن خالد سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن ابی اوفیٰ ۔۔۔ یہ ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔۔۔کو کہتے سُنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لشکروں کے خلاف بددعا کی اور فرمایا۔ ” اے اللہ ! کتاب کو اتارنے والے ، جلد حساب لینے والے، لشکروں کو شکست دینے والے، اے اللہ ! تو ان کو شکست دے دے اور ان کو ہلا دے۔ “
(۳۸۲۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ أَبِی أَوْفَی ، وَکَانَ مِمَّنْ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ ، یَقُولُ : دَعَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الأَحْزَابِ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ ، سَرِیعَ الْحِسَابِ ، ہَازِمَ الأَحْزَابِ ، اللَّہُمَّ اہْزِمْہُمْ وَزَلْزِلْہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لیلۃ العقبہ کے بارے میں روایات
(٣٨٢٦١) حضرت عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیٰ کو کہتے سُنا کہ جن صحابہ نے درخت کے نیچے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی تھی وہ چودہ سو یا تیرہ سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا ایک ثمن تھے۔
(۳۸۲۶۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِی أَوْفَی یَقُولُ : کَانَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، الَّذِینَ بَایَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَۃِ ، أَلْفًا وَأَرْبَعَمِئَۃٍ ، أَوْ أَلْفًا وَثَلاَثَمِئَۃٍ ، وَکَانَتْ أَسْلَمُ ثُمُْنَ الْمُہَاجِرِینَ۔ (مسلم ۱۴۸۵۔ طیالسی ۸۲۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لیلۃ العقبہ کے بارے میں روایات
(٣٨٢٦٢) حضرت عامر سے روایت ہے کہ درخت کے نیچے سب سے پہلے ابو سنان اسدی وھب نے بیعت کی تھی۔ یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ میں آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ” تم کس بات پر میری بیعت کرتے ہو ؟ “ ابو سنان نے کہا۔ اس بات پر جو آپ کے دل میں ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بیعت کیا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ایک اور آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا ۔ جس بات پر ابو سنان نے بیعت کی ہے میں بھی اس پر آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ پس اس نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی ۔ پھر باقی لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی۔
(۳۸۲۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ أَبُو سِنَانٍ الأَسَدِیُّ وَہْبٌ ، أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أُبَایِعُک ، قَالَ : عَلاَمَ تُبَایِعُنِی ؟ قَالَ : عَلَی مَا فِی نَفْسِکَ ، قَالَ : فَبَایَعَہُ ، قَالَ : وَأَتَاہُ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : أُبَایِعُک عَلَی مَا بَایَعَک عَلَیْہِ أَبُو سِنَانٍ ، فَبَایَعَہُ ، ثُمَّ بَایَعَہُ النَّاسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لیلۃ العقبہ کے بارے میں روایات
(٣٨٢٦٣) حضرت عامر سے روایت ہے کہ السَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بیعۃ الرضوان کی تھی۔
(۳۸۲۶۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: السَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مَنْ أَدْرَکَ بَیْعَۃَ الرِّضْوَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٦٤) حضرت عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس گیا وہ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے گرد جمع تھے۔ میں نے انھیں فرماتے ہوئے سنا کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے جب ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا پس کچھ ہم میں سے وہ تھے جو خیمے نصب کرنے لگے اور کچھ وہ تھے جو تیر اندازی میں مقابلہ کرنے لگے اور کچھ وہ جو اپنے مویشیوں (کی دیکھ بھال) میں (لگ گئے) تھے۔

ناگاہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مناوی نے ندادی الصلوٰۃ جامعۃ پس ہم جمع ہوگئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا یقیناً مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں گزرا مگر اللہ کیلئے اس پر حق تھا کہ اپنی امت کی رہنمائی کرے اس بات کی طرف جو ان کے لیے بہتر ہو اور ڈرائے ان کو اس بات سے جس کے بارے میں جانتا ہو یہ ان کے لیے بری ہے۔ بیشک یہ تمہاری امت اس کی عافیت اس کے اول حصے میں ہے اور اس کے آخری حصے کو عنقریب پہنچیں گی، مصیبتیں اور ایسے امور جنہیں تم ناپسند سمجھتے ہو اس موقعے پر ایک فتنہ آئے گا مومن کہے گا، یہ مجھے ہلاک کرنے والا ہے پھر وہ دور ہوجائے گا۔ پھر فتنہ آئے گا پس مومن کہے گا یہ مجھے ہلاک کرنے والا ہے پھر وہ دور ہوجائے گا پس وہ شخص جسے پسند ہے تم میں سے کہ اسے آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے تو اسے موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرے جیسا وہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ کریں اور وہ شخص جس نے کسی امام کی بیعت کی اور اس کو ہاتھ کا معاملہ اور دل کا پھل دے دے تو جہاں تک ہو سکے وہ اس کی اطاعت کرے پس اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے تو اس دوسرے کی گردن ماردو۔

راوی فرماتے ہیں میں نے داخل کیا اپنا سر لوگوں کے درمیان پس میں نے عرض کیا میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا آپ نے یہ حدیث حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے راوی فرماتے ہیں انھوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اپنے کانوں کی طرف کہ میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد کیا راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یہ آپ کے چچا کے بیٹے ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم اپنے مالوں کو ناحق طریقے سے کھائیں اور یہ کہ اپنے آپ کو قتل کریں۔

حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نہ کھاؤ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے پر اور ان (کے جھوٹے مقدمے) حکام کے یہاں اس غرض سے نہ لے جاؤ۔ آیت کے اخیر تک، راوی فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرو نے اپنے دونوں ہاتھ جمع کیے اور ان دونوں کو اپنی پیشانی پر رکھا پھر کچھ دیر سر جھکایا پھر فرمایا : اس کی اطاعت کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور اس کی نافرمانی کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ، قَالَ :

(۳۸۲۶۴) حَدَّثَنَا أَبُومُعَاوِیَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَۃِ، قَالَ: انْتَہَیْت إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو وَہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ وَالنَّاسُ عَلَیْہِ مُجْتَمِعُونَ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ إذْ نَزَلْنَا مَنْزِلاً ، فَمِنَّا مَنْ یَضْرِبُ خِبَائَہُ، وَمِنَّا مَنْ یَنْتَضِلُ، وَمِنَّا مَنْ ہُوَ فِی جَشَرِہِ إذْ نَادَی مُنَادِیہِ : الصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ ، فَاجْتَمَعْنَا ، فَقَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنَا ، فَقَالَ : إِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ قَبْلِی إِلاَّ کَانَ حَقَّ اللہِ عَلَیْہِ أَنْ یَدُلَّ أُمَّتَہُ عَلَی مَا ہُوَ خَیْرٌ لَہُمْ ، وَیُنْذِرَہُمْ مَا یَعْلَمُہُ شَرًّا لَہُمْ ، وَإِنَّ أُمَّتَکُمْ ہَذِہِ جُعِلَتْ عَافِیَتُہَا فِی أَوَّلِہَا ، وَإِنَّ آخِرَہَا سَیُصِیبُہُمْ بَلاَئٌ وَأُمُورٌ تُنْکِرُونَہَا فَمِنْ ثَمَّ تَجِیئُ الْفِتْنَۃُ ، فَیَقُولُ الْمُؤْمِنُ : ہَذِہِ مُہْلِکَتِی ، ثُمَّ تَنْکَشِفُ ، ثُمَّ تَجِیئُ الْفِتْنَۃُ ، فَیَقُولُ الْمُؤْمِنُ : ہَذِہِ ، ثُمَّ تَنْکَشِفُ ، فَمَنْ سَرَّہُ مِنْکُمْ أَنْ یُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَیَدْخُلَ الْجَنَّۃَ ، فَلتُدْرِکْہُ مَنِیَّتُہُ وَہُوَ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ ، وَلْیَأْتِ النَّاسَ الَّذِی یُحِبُّ أَنْ یَأْتُوا إلَیْہِ ، وَمَنْ بَایَعَ إمَامًا فَأَعْطَاہُ صَفْقَۃَ یَدِہِ وَثَمَرَۃَ قَلْبِہِ فَلْیُطِعْہُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ جَائَ أَحَدٌ یُنَازِعُہُ فَاضْرِبُوا، عُنُقَ الآخَرَ، قَالَ: فَأَدْخَلْت رَأْسِی مِنْ بَیْنِ النَّاسِ، فَقُلْتُ: أُنْشِدُک بِاللہِ ، أَسَمِعْتَ ہَذَا مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَأَشَارَ بِیَدَیْہِ إِلَی أُذُنَیْہِ ، سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی ، قَالَ : قُلْتُ : ہَذَا ابْنُ عَمِّکَ ، یَأْمُرُنَا أَنْ نَأْکُلَ أَمْوَالَنَا بَیْنَنَا بِالْبَاطِلِ ، وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا ، وَقَدْ قَالَ اللَّہُ : {لاَ تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِہَا إِلَی الْحُکَّامِ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ، قَالَ : فَجَمَعَ یَدَیْہِ فَوَضَعَہُمَا عَلَی جَبْہَتِہِ ، ثُمَّ نَکسَ ہُنَیْہَۃً ، ثُمَّ قَالَ أَطِعْہُ فِی طَاعَۃِ اللہِ ، وَاعْصِہِ فِی مَعْصِیَۃِ اللہِ۔

(مسلم ۴۶۔ ابوداؤد ۴۲۴۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٦٥) عبداللہ بن عمرو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی (مذکورہ روایت) کی مثل نقل کرتے ہیں لیکن وکیع نے یوں نقل کیا، اور عنقریب اس امت کے آخری حصے کو مصیبتیں اور فتن پہنچیں گے ان میں سے ایک دوسرے کو کمزور کر دے گا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آدمی پسند کرے اس بات کو کہ اسے آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے پس اسے موت آئے پھر وکیع نے اوپر والی روایت کے مثل بقیہ روایت نقل کی۔
(۳۸۲۶۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَۃِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّ وَکِیعًا ، قَالَ : وَسَیُصِیبُ آخِرَہَا بَلاَئٌ وَفِتَنٌ یُرَقِّقُ بَعْضُہَا بَعْضًا ، وَقَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ یُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَیَدْخُلَ الْجَنَّۃَ فَلْتُدْرِکْہُ مَنِیَّتُہُ ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہُ۔ (ابن ماجہ ۳۹۵۶۔ احمد ۱۹۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٦٦) ابو بکرہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک عنقریب ایک فتنہ ہوگا اس میں لیٹنے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہوگا اور بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں چلنے والا اس میں کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا۔ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس آدمی کے اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلا جائے اور جس آدمی کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جائے اور جس آدمی کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے اور جس آدمی کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہ ہو تو وہ اپنی تلوار کا قصد کرے اور اس کی دھار پتھر کی چٹان پر مارے پھر نجات پاسکتا ہے۔
(۳۸۲۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِی بَکرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہَا سَتَکُونُ فِتْنَۃٌ ، الْمُضْطَجِعُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْجَالِسِ ، وَالْجَالِسُ خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِی ، وَالْمَاشِی خَیْرٌ مِنَ السَّاعِی ، فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا تَأْمُرُنِی ، قَالَ : مَنْ کَانَتْ لَہُ إبِلٌ فَلْیَلْحَقْ بِإِبِلِہِ ، وَمَنْ کَانَتْ لَہُ غَنَمٌ فَلْیَلْحَقْ بِغَنَمِہِ ، وَمَنْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ فَلْیَلْحَقْ بِأَرْضِہِ ، وَمَنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ فَلْیَعْمَدْ إِلَی سَیْفِہِ فَلْیَضْرِبْ بِحَدِّہِ عَلَی صَخْرَۃٍ ، ثُمَّ لِیَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَائَ۔ (مسلم ۱۳۔ احمد ۴۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٦٧) حضرت سعد سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک فتنہ ہوگا اس میں بیٹھے والا کھڑے ہونے ولے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا اس میں کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا اور کوشش کرنے والا بہتر ہوگا اس میں جلدی چلنے والے سے۔
(۳۸۲۶۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی وَعَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ سَعْدٍ رَفَعَہُ عَبِیدَۃُ وَلَمْ یَرْفَعْہُ عَبْدُ الأَعْلَی ، قَالَ : تَکُونُ فِتْنَۃٌ ، الْقَاعِدُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ خَیْرٌ مِنَ السَّاعِی ، وَالسَّاعِی خَیْرٌ مِنَ الْمُوضِعِ۔ (حاکم ۴۴۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انھوں نے س سے پناہ مانگی ہے
(٣٨٢٦٨) حضرت خالد بن سبیع یا سبیع بن خالد فرماتے ہیں میں کوفہ آیا اور وہاں سے چوپائے ہانکے اور میں اس کی مسجد میں تھا اچانک ایک صاحب آئے لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے میں نے کہا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ حذیفہ بن یمان ہیں، راوی فرماتے ہیں میں ان کے پاس بیٹھ گیا پس انھوں نے فرمایا : لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھلائی کے بارے میں پوچھتے تھے۔ اور میں ان سے برائی کے بارے میں پوچھتا تھا۔ حضرت حذیفہ بن یمان نے فرمایا میں نے عرض کیا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس برائی سے بچنے کا طریقہ کیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تلوار۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے بتلائیے یہ بھلائی جس میں ہم ہیں کیا اس سے پہلے برائی تھی اور کیا اس کے بعد برائی ہوگی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا تلوار کے بعد کچھ باقی ہوگا ارشاد فرمایا : کہ ہاں صلح میں نے کہا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح کے بعد کیا ہوگا ارشاد فرمایا : گمراہی کی دعوت دینے والے پس تو اگر دیکھے کوئی خلیفہ تو اس کے ساتھ ہوجانا اگرچہ وہ تیری پشت پر مار کر سخت سزا دے اور تیرا مال لے لے اور اگر کوئی خلیفہ نہ ہو تو بھاگ جانا یہاں تک کہ تمہیں موت آئے اس حال میں کہ تم درخت کھانے والے ہو۔

راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بعد کیا ہوگا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دجال کا نکلنا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دجال کیا لائے گا، ارشاد فرمایا : آگ اور قہر لائے گا جو اس کی آگ میں پڑگیا اس کا اجر ضائع ہوجائے گا اور گناہ لازم ہوجائے گا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دجال کے بعد کیا ہوگا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم میں سے کسی ایک کے گھوڑے کا بچہ ہو تو وہ اس کے پچھیرے پر سوار نہیں ہوگا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
(۳۸۲۶۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ نَجِیحٍ ، عَنْ أَبِی التَّیَّاحِ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُبَیْعٍ ، أَوْ سُبَیْعِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : أَتَیْتُ الْکُوفَۃَ فَجَلَبْت مِنْہَا دَوَابَّ ، فَإِنِّی لَفِی مَسْجِدِہَا ، إذْ جَائَ رَجُلٌ قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَیْہِ ، فَقُلْتُ: مَنْ ہَذَا؟ قَالُوا: حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ، قَالَ: فَجَلَسْت إلَیْہِ، فَقَالَ: کَانَ النَّاسُ یَسْأَلُونَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَیْرِ ، وَکُنْت أَسْأَلُہُ ، عَنِ الشَّرِّ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَرَأَیْت ہَذَا الْخَیْرَ الَّذِی کُنَّا فِیہِ ہَلْ کَانَ قَبْلَہُ شَرٌّ ؟ وَہَلْ کَائِنٌ بَعْدَہُ شَرٌّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : فَمَا الْعِصْمَۃُ مِنْہُ ؟ قَالَ : السَّیْفُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَہَلْ بَعْدَ السَّیْفِ مِنْ بَقِیَّۃٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ہُدْنَۃٌ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَمَا بَعْدَ الْہُدْنَۃِ ؟ قَالَ : دُعَاۃُ الضَّلاَلَۃِ ، فَإِنْ رَأَیْت خَلِیفَۃً فَالْزَمْہُ وَإِنْ نَہَکَ ظَہْرَک ضَرْبًا وَأَخَذَ مَالَک ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ خَلِیفَۃٌ فَالْہَرَبُ حَتَّی یَأْتِیَکَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَی شَجَرَۃٍ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَمَا بَعْدَ ذَلِکَ ؟ قَالَ : خُرُوجُ الدَّجَّالِ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَمَا یَجِیئُ بِہِ الدَّجَّالُ ؟ قَالَ : یَجِیئُ بِنَارٍ وَنَہْرٍ ، فَمَنْ وَقَعَ فِی نَارِہِ وَجَبَ أَجْرُہُ ، وَحُطَّ وِزْرُہُ ، وَمَنْ وَقَعَ فِی نَہْرِہِ حبط أَجْرُہُ ، وَوَجَبَ وِزْرُہُ ، قَالَ: قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَمَا بَعْدَ الدَّجَّالِ ؟ قَالَ : لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْتَجَ فَرَسَہُ مَا رَکِبَ مُہْرَہَا حَتَّی تَقُومَ السَّاعَۃُ۔

(ابوداؤد ۴۲۴۶۔ احمد ۳۸۷)
tahqiq

তাহকীক: