মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮২২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢٢٩) حضرت یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اور دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے شہادت سے پہلے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغے نے ان کی ناف اور سینے کے درمیان چونچ ماری ہے۔ حضرت اسماء بنت عمیس تعبیر کی ماہر تھیں، انھوں نے یہ خواب سنا تو فرمایا کہ ان سے کہو کہ وصیت کردیں۔ میں نہیں جانتا کہ یہ تعبیر ان تک پہنچی یا نہیں۔ کچھ دنوں بعد مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابو لؤلؤ ، حضرت عمر کے پاس آیا اور حضرت عمر نے پوچھا کہ تم کیا کرتے ہو ؟ اس نے کہا میں چکیاں بناتا ہوں۔ حضرت عمر نے کہا کہ پھر تو بہت زیادہ نہیں کیونکہ یہاں تمہارے علاوہ کوئی یہ کام نہیں کرتا، کیا تم مجھے ایک چکی بنا کردو گے ؟ اس نے کہا میں آپ کو ایسی چکی بنا کر دوں گا کہ اس کی شہرت سارے عالم میں ہوگی۔

٢۔ پھر حضرت عمر حج کے لیے چل پڑے پس جب آپ پہنچے تو آپ رمی جمار کی جگہ لیٹ گئے اور اپنی چادر کو اپنے سر کے نیچے رکھ لیا۔ آپ نے چاند کی طرف دیکھا تو آپ کو اس کی خوبصورتی اور برابری بہت پیاری لگی اس پر آپ نے فرمایا۔ یہ ابتداء میں کمزور ساظاہر ہوتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس میں اضافہ کرتے رہتے ہیں اور اس کو بڑھاتے رہتے ہیں یہاں تک کہ یہ برابر ہوجاتا ہے۔ اور پھر یہ کمال حسن تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر یہ کم ہونا شروع ہوتا ہے یہاں تک دوبارہ ویسا ہی (پہلے جیسا) ہوجاتا ہے۔ ساری مخلوق کی حالت ایسی ہی ہے۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا۔ اے اللہ ! میری رعایا بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ اور بہت پھیل گئی ہے پس تو مجھے اپنی طرف واپس بلا لے عاجز اور ضائع کیے بغیر۔

٣۔ پھر حضرت عمر مدینہ واپس آئے تو ان کے سامنے ذکر کیا گیا کہ مسلمانوں کی ایک عورت مقام بیداء میں مرگئی تھی، وہ زمین پر پڑی ہوئی تھی اور لوگ اس کے پاس سے گزرتے جا رہے تھے۔ کسی نے بھی اس کو کفن نہ دیا اور نہ ہی اس کو دفنایا یہاں تک کہ حضرت کلیب بن بکیر لیثی اس عورت کے پاس سے گزرے تو وہ اس کے پاس ٹھہرے رہے یہاں تک کہ انھوں نے اس کو کفنایا اور دفنایا۔ یہ بات حضرت عمر کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ نے پوچھا۔ مسلمانوں میں سے کون لوگ اس کے پاس سے گزرے تھے ؟ لوگوں نے جواب دیا۔ اس کے پاس سے گزرنے والے لوگوں میں حضرت عبداللہ بن عمر بھی تھے۔ چنانچہ آپ نے ابن عمر کو بلایا اور فرمایا۔ تو ہلاک ہوجائے۔ تو ایک مسلمان عورت پر سے جو راستہ میں زمین پر گری پڑی تھی گزرا اور تو نے اس کو کفنایا، دفنایا کیوں نہیں ؟ انھوں نے جواب دیا۔ مجھے تو اس کا پتہ ہی نہیں چلا اور نہ ہی مجھ سے کسی نے اس کے بارے میں ذکر کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تو خیر سے خالی نہ ہو۔ پھر حضرت عمر نے پوچھا۔ اس عورت کو کس نے کفنایا اور دفنایا ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ کلیب بن بکیر لیثی نے۔ آپ نے فرمایا : خدا کی قسم ! کلیب اس بات کا حق دار ہے کہ اس کو خیر پہنچے۔

٤۔ پھر حضرت عمر لوگوں کو صبح کی نماز کے لیے بیدار کرنے کے لیے نکلے تھے کہ آپ کو ابو لؤلؤ کافر ملا اور اس نے آپ کی ناف اور سینے کے درمیان تین وار کئے۔ اور حضرت کلیب بن بکیر کو مارا اور ان کا کام تمام کردیا۔ لوگوں نے آوازیں بلند کیں تو ایک آدمی نے اس پر بڑی چادر پھینک دی۔ اور حضرت عمر کو اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اور حضرت عمر سے کہا گیا۔ نماز ! تو آپ نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ آپ کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا ۔ اور آپ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی کی نماز نہیں، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔ پس آپ نے اس حالت میں نماز ادا فرمائی کہ آپ کا خون ٹپک رہا تھا۔ پھر لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ اے امیر المؤمنین ! آپ کو کوئی زخم نہیں ہیں۔ اور یقیناً ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے فیض کو مزید باقی رکھے گا اور آپ کو مزید ایک وقت تک یا ایک خیر (کے کام) تک مہلت دے گا۔

٥۔ پھر حضرت عمر کی خدمت میں حضرت ابن عباس حاضر ہوئے ۔۔۔ حضرت عمر کو ابن عباس سے محبت تھی ۔۔۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ تم دیکھو کہ مجھے قتل کرنے والا کون ہے ؟ چنانچہ ابن عباس باہر چلے گئے پھر واپس آئے تو فرمایا۔ اے امیر المؤمنین ! آپ کو خوشخبری ہو کہ آپ کا قاتل حضرت مغیرہ بن شعبہ کا غلام ابو لؤلؤ مجوسی ہے۔ اس پر حضرت عمر نے اللہ اکبر کہا۔ یہاں تک (بلند آواز میں کہا کہ) آپ کی آواز دروازے سے باہر نکل گئی پھر حضرت عمر نے فرمایا۔ تمام تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جس نے قاتل کو مسلمان آدمی نہیں بنایا کہ بروز قیامت وہ میرے ساتھ کسی ایسے سجدہ کی وجہ سے مخاصمت کرتا جو اس سے صرف خدا کے لیے کیا ہوتا۔ پھر حضرت عمر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ کیا یہ آدمی تمہارے قوم میں سے ہے ؟ لوگوں نے کہا۔ اللہ کی پناہ ! ہم تو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ہم آپ پر اپنے آباء کو فداء کردیں اور آپ کی عمر میں اپنی عمروں سے اضافہ کردیں۔ آپ کو کوئی زیادہ زخم نہیں ہیں۔

٦۔ حضرت عمر نے کہا۔ اے یرفائ ! تو مرجائے ! مجھے کچھ پلاؤ۔ چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں ایک پیالہ لے کر حاضر ہوا جس میں بیٹھی نبیذ تھی پس آپ نے اس کو پیا۔ اور آپ نے اپنی چادر کو اپنے پیٹ کے ساتھ چمٹا لیا۔ راوی کہتے ہیں : پس جب یہ مشروب آپ پیٹ میں پہنچا تو یہ زخموں سے باہر نکل آیا۔ لوگوں نے کہا۔ الحمد للہ۔ یہ خون آپ کے پیٹ میں ٹھہرا ہوا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو آپ کے پیٹ سے باہر نکال دیا ہے۔ حضرت عمر نے کہا۔ اے یرفائ ! تو مرجائے۔ مجھے دودھ پلاؤ۔ چنانچہ وہ دودھ لے کر حاضر ہوا ۔ آپ نے اس کو نوش فرمایا۔ پس جب وہ بھی آپ کے پیٹ میں پہنچا تو زخموں سے باہر آگیا۔ چنانچہ لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو انھیں معلوم ہوگیا کہ حضرت عمر (اب) فوت ہوجائیں گے۔

٧۔ لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ عطا کرے۔ یقیناً آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب پر عمل کرتے تھے اور اپنے دو پیشواؤں کی سُنَّت کی پیروی کرتے تھے۔ اس کے سوا آپ کسی چیز کی طرف نہیں جھکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ عطا کرے۔ حضرت عمر نے پوچھا۔ کیا تم لوگ امارت کی وجہ سے مجھ پر رشک کر رہے ہو ؟ خدا کی قسم ! مجھے تو یہ بات محبوب ہے کہ میں امارت (کے حساب) سے برابر برابر نکل جاؤں۔ نہ مجھے کوئی نفع ہو نہ کوئی نقصان ہو۔ تم اٹھ جاؤ اور اپنے معاملہ میں مشاورت کرو۔ تم اپنے میں سے ایک آدمی کو خود پر امیر بنا لو۔ پھر جو کوئی اس کی مخالفت کرے تو تم اس کی گردن مار دو ۔ راوی کہتے ہیں : پس لوگ اٹھ گئے اور حضرت عبداللہ بن عمر کے سینہ کی طرف آپ نے تکیہ لگایا ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ نے کہا۔ کیا تم امیر مقرر کر رہے ہو جبکہ امیر المؤمنین زندہ ہیں ؟ حضرت عمر نے کہا : نہیں ! اور صہیب کو چاہیے کہ تین دن لوگوں کو نماز پڑھائے۔ اور حضرت طلحہ کا انتظار کرو اور (پھر) تم اپنے معاملہ میں باہم مشاورت کرو۔ اور تم خود پر اپنے میں سے ایک آدمی کو امیر مقر کرلو پھر اگر (کوئی) تمہارے مخالفت کرے تو اس کے سر کو اڑا دو ۔

٨۔ حضرت عمر نے کہا۔ تم جاؤ امی عائشہ کی طرف اور انھیں میری طرف سے سلام کہو اور کہو کہ عمر کہہ رہا ہے اگر آپ کو تکلیف اور تنگی نہ ہو تو میں اس بات کو پسند کرتا ہوں۔ کہ میں اپنے دو ساتھیوں (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابو بکر ) کے ساتھ دفن کیا جاؤں ۔ اور اگر آپ کو تکلیف اور تنگی ہو تو میری عمر کی قسم ! بقیع میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ اور امہات المؤمنین میں سے ایسے لوگ دفن ہوئے ہیں جو عمر سے بہتر تھے۔ پس قاصد حضرت عائشہ کی خدمت میں پہنچاتو حضرت عائشہ نے کہا۔ مجھے اس بات میں قطعاً کوئی تکلیف اور تنگی نہیں ہے۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا۔ تم لوگ مجھے ان دونوں کے ہمراہ دفن کردینا۔

٩۔ حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں۔ پھر موت نے ان کو آ ڈھانپا اور میں نے ان کو اپنے سینہ کی طرف اٹھایا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے کہا۔ تو مرجائے۔ میرا سر زمین پر رکھ دے۔ ابن عمر کہتے ہیں۔ پھر حضرت عمر کو غشی طاری ہوگئی تو میں اسی طرح رہا۔ پھر آپ کو افاقہ ہوا ۔ تو آپ نے فرمایا۔ تو مرجائے۔ میرا سر زمین پر رکھ دے۔ پس میں نے آپ کا سر زمین پر رکھ دیا اور آپ نے سر کو خاک آلود کرلیا۔ اور فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے عمر کو معاف نہ کیا تو عمر ہلاک ہوجائے گا اور اس کے ماں ہلاک ہوجائے گی۔

١٠۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں : اہل شوریٰ یہ تھے۔ حضرت علی ، حضرت عثمان ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر ، حضرت سعد ، حضرت عبد الرحمن بن عوف ۔
(۳۸۲۲۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ ، وَیَحْیَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، وَأَشْیَاخٌ ، قَالَوا: رَأَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِی الْمَنَامِ ، فَقَالَ: رَأَیْتُ دِیکًا أَحْمَرَ نَقَرَنِی ثَلاَثَ نَقَرَاتٍ، بَیْنَ الثَّنِیَّۃِ وَالسُّرَّۃِ ، قَالَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَیْسٍ ، أُمُّ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ : قُولُوا لَہُ فَلِیُوصِ ، وَکَانَتْ تَعْبُرُ الرُّؤْیَا ، فَلاَ أَدْرِی أَبَلَغَہُ ذَلِکَ ، أَمْ لاَ ، فَجَائَہُ أَبُو لُؤْلُؤَۃَ الْکَافِرُ الْمَجُوسِیُّ ، عَبْدُ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ، فَقَالَ : إِنَّ الْمُغِیرَۃَ قَدْ جَعَلَ عَلَیَّ مِنَ الْخَرَاجِ مَا لاَ أُطِیقُ ، قَالَ : کَمْ جَعَلَ عَلَیْک ؟ قَالَ ، کَذَا وَکَذَا ، قَالَ : وَمَا عَمَلُک ؟ قَالَ : أَجُوبُ الأَرْحَائَ ، قَالَ : وَمَا ذَاکَ عَلَیْک بِکَثِیرٍ ، لَیْسَ بِأَرْضِنَا أَحَدٌ یَعْمَلُہَا غَیْرُک ، أَلاَ تَصْنَعُ لِی رَحًی ؟ قَالَ : بَلَی ، وَاللہِ لأَجْعَلَنَّ لَک رَحًی یَسْمَعُ بِہَا أَہْلُ الآفَاقِ۔

فَخَرَجَ عُمَرُ إِلَی الْحَجِّ ، فَلَمَّا صَدَرَ اضْطَجَعَ بِالْمُحَصَّبِ ، وَجَعَلَ رِدَائَہُ تَحْتَ رَأْسِہِ ، فَنَظَرَ إِلَی الْقَمَرِ فَأَعْجَبَہُ اسْتِوَاؤُہُ وَحُسْنُہُ ، فَقَالَ : بَدَأَ ضَعِیفًا ، ثُمَّ لَمْ یَزَلِ اللَّہُ یَزِیدُہُ وَیُنْمِیہِ حَتَّی اسْتَوَی ، فَکَانَ أَحْسَنَ مَا کَانَ ، ثُمَّ ہُوَ یَنْقُصُ حَتَّی یَرْجِعَ کَمَا کَانَ ، وَکَذَلِکَ الْخَلْقُ کُلُّہُ ، ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنَّ رَعِیَّتِی قَدْ کَثُرَتْ وَانْتَشَرَتْ ، فَاقْبِضْنِی إِلَیْک غَیْرَ عَاجِزٍ ، وَلاَ مُضَیِّعٍ۔

فَصَدَرَ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، فَذُکِرَ لَہُ أَنَّ امْرَأَۃً مِنَ الْمُسْلِمِینَ مَاتَتْ بِالْبَیْدَائِ ، مَطْرُوحَۃً عَلَی الأَرْضِ ، یَمُرُّ بِہَا النَّاسُ لاَ یُکَفِّنُہَا أَحَد ، وَلاَ یُوَارِیہَا أَحَدٌ ، حَتَّی مَرَّ بِہَا کُلَیْبُ بْنُ الْبُکَیْرِ اللَّیْثِی ، فَأَقَامَ عَلَیْہَا ، حَتَّی کَفَّنَہَا وَوَارَاہَا ، فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ ، فَقَالَ : مَنْ مَرَّ عَلَیْہَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ؟ فَقَالُوا : لَقَدْ مَرَّ عَلَیْہَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، فِیمَنْ مَرَّ عَلَیْہَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، فَدَعَاہُ ، وَقَالَ : وَیْحَکَ ، مَرَرْتَ عَلَی امْرَأَۃٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مَطْرُوحَۃً عَلَی ظَہْرِ الطَّرِیقِ ، فَلَمْ تُوَارِہَا وَلَمْ تُکَفِّنْہَا ؟ قَالَ : مَا شَعَرْتُ بِہَا ، وَلاَ ذَکَرَہَا لِی أَحَدٌ ، فَقَالَ : لَقَدْ خَشِیتُ أَنْ لاَ یَکُونَ فِیک خَیْرٌ ، فَقَالَ : مَنْ وَارَاہَا وَمَنْ کَفَّنَہَا ؟ قَالَوا : کُلَیْبُ بْنُ بُکَیْر اللَّیْثِیُّ ، قَالَ : وَاللہِ لَحَرِیٌّ أَنْ یُصِیبَ کُلَیْبٌ خَیْرًا۔

فَخَرَجَ عُمَرُ یُوقِظُ النَّاسَ بِدِرَّتِہِ لِصَلاَۃِ الصُّبْحِ ، فَلَقِیَہُ الْکَافِرُ أَبُو لُؤْلُؤَۃَ ، فَطَعَنْہُ ثَلاَثَ طَعَنْاتٍ بَیْنَ الثَّنِیَّۃِ وَالسُّرَّۃِ ، وَطَعَنْ کُلَیْبَ بْنَ بُکَیْر فَأَجْہَزَ عَلَیْہِ ، وَتَصَایَحَ النَّاسُ ، فَرَمَی رَجُلٌ عَلَی رَأْسِہِ بِبُرْنُسٍ ، ثُمَّ اضْطَبَعَہُ إِلَیْہِ ، وَحُمِلَ عُمَرُ إِلَی الدَّارِ ، فَصَلَّی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بِالنَّاسِ ، وَقِیلَ لِعُمَرَ : الصَّلاَۃُ ، فَصَلَّی وَجُرْحُہُ یَثْعَبُ ، وَقَالَ : لاَ حَظَّ فِی الإِسْلاَمِ لِمَنْ لاَ صَلاَۃَ لَہُ ، فَصَلَّی وَدَمُہُ یَثْعَبُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ النَّاسُ عَلَیْہِ ، فَقَالُوا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنَّہُ لَیْسَ بِکَ بَأْسٌ ، وَإِنَّا لَنَرْجُو أَنْ یُنْسِئَ اللَّہُ فِی أَثَرِکَ ، وَیُؤَخِّرَک إِلَی حِینٍ ، أَوْ إِلَی خَیْرٍ۔

فَدَخَلَ عَلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَکَانَ یُعْجَبُ بِہِ ، فَقَالَ : اُخْرُجْ ، فَانْظُرْ مَنْ صَاحِبِی ؟ ثُمَّ خَرَجَ فَجَائَ ، فَقَالَ : أَبْشِرْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، صَاحِبُک أَبُو لُؤْلُؤَۃَ الْمَجُوسِیُّ ، غُلاَمُ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ، فَکَبَّرَ حَتَّی خَرَجَ صَوْتُہُ مِنَ الْبَابِ ، ثُمَّ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَجْعَلْہُ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، یُحَاجُّنِی بِسَجْدَۃٍ سَجَدَہَا لِلَّہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی الْقَوْمِ ، فَقَالَ : أَکَانَ ہَذَا عَنْ مَلأٍ مِنْکُمْ ؟ فَقَالُوا : مَعَاذَ اللہِ ، وَاللہِ لَوَدِدْنَا أَنَّا فَدَیْنَاک بِآبَائِنَا ، وَزِدْنَا فِی عُمْرِکَ مِنْ أَعْمَارِنَا ، إِنَّہُ لَیْسَ بِکَ بَأْسٌ۔

قَالَ : أَیْ یَرْفَأُ وَیْحَک ، اسْقِنِی ، فَجَائَہُ بِقَدَحٍ فِیہِ نَبِیذٌ حُلْوٌ فَشَرِبَہُ ، فَأَلْصَقَ رِدَائَہُ بِبَطْنِہِ ، قَالَ : فَلَمَّا وَقَعَ الشَّرَابُ فِی بَطْنِہِ خَرَجَ مِنَ الطَّعَنْاتِ ، قَالَوا : الْحَمْدُ لِلَّہِ ، ہَذَا دَمٌ اسْتَکَنَ فِی جَوْفِکَ ، فَأَخْرَجَہُ اللَّہُ مِنْ جَوْفِکَ ، قَالَ : أَیْ یَرْفَأُ ، وَیْحَک اسْقِنِی لَبَنًا ، فَجَائَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَہُ ، فَلَمَّا وَقَعَ فِی جَوْفِہِ خَرَجَ مِنَ الطَّعَنَاتِ ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِکَ عَلِمُوا أَنَّہُ ہَالِکٌ۔

قَالَوا: جَزَاک اللَّہُ خَیْرًا ، قَدْ کُنْتَ تَعْمَلُ فِینَا بِکِتَابِ اللہِ ، وَتَتَّبِعُ سُنَّۃَ صَاحِبَیْک ، لاَ تَعْدِلُ عَنْہَا إِلَی غَیْرِہَا، جَزَاک اللَّہُ أَحْسَنَ الْجَزَائِ ، قَالَ : بِالإِمَارَۃِ تَغْبِطُونَنِی ، فَوَاللہِ لَوَدِدْتُ أَنِّی أَنْجُو مِنْہَا کَفَافًا لاَ عَلَیَّ ، وَلاَ لِی، قُومُوا فَتَشَاوَرُوا فِی أَمْرِکُمْ ، أَمِّرُوا عَلَیْکُمْ رَجُلاً مِنْکُمْ ، فَمَنْ خَالَفَہُ فَاضْرِبُوا رَأْسَہُ ، قَالَ : فَقَامُوا، وَعَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدُہُ إِلَی صَدْرِہِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : أَتُؤَمِّرُونَ وَأَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ حَیٌّ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : لاَ ، وَلِیُصَلِّ صُہَیْبٌ ثَلاَثًا ، وَانْتَظِرُوا طَلْحَۃَ ، وَتَشَاوَرُوا فِی أَمْرِکُمْ ، فَأَمِّرُوا عَلَیْکُمْ رَجُلاً مِنْکُمْ ، فَإِنْ خَالَفَکُمْ فَاضْرِبُوا رَأْسَہُ ، قَالَ : اذْہَبْ إِلَی عَائِشَۃَ ، فَاقْرَأْ عَلَیْہَا مِنِّی السَّلاَمَ ، وَقُلْ : إِنَّ عُمَرَ یَقُولُ : إِنْ کَانَ ذَلِکَ لاَ یَضُرُّ بِکِ ، وَلاَ یَضِیقُ عَلَیْکِ ، فَإِنِّی أُحِبُّ أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَی ، وَإِنْ کَانَ یَضُرُّ بِکِ وَیَضِیقُ عَلَیْکِ ، فَلَعَمْرِی لَقَدْ دُفِنَ فِی ہَذَا الْبَقِیعِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْ عُمَرَ ، فَجَائَہَا الرَّسُولُ ، فَقَالَتْ : إِنَّ ذَلِکَ لاَ یَضُرُّ ، وَلاَ یَضِیقُ عَلَیَّ ، قَالَ : فَادْفِنُونِی مَعَہُمَا ، قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ : فَجَعَلَ الْمَوْتُ یَغْشَاہُ ، وَأَنَا أُمْسِکُہُ إِلَی صَدْرِی ، قَالَ : وَیْحَک ضَعْ رَأْسِی بِالأَرْضِ ، قَالَ : فَأَخَذَتْہُ غَشْیَۃٌ ، فَوَجَدْتُ مِنْ ذَلِکَ ، فَأَفَاقَ ، فَقَالَ : وَیْحَک ، ضَعْ رَأْسِی بِالأَرْضِ ، فَوَضَعْتُ رَأْسَہُ بِالأَرْضِ ، فَعَفَّرَہُ بِالتُّرَابِ ، فَقَالَ : وَیْلُ عُمَرَ ، وَوَیْلُ أُمِّہِ إِنْ لَمْ یَغْفِرَ اللَّہُ لَہُ۔

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: وَأَہْلُ الشُّورَی: عَلِیٌّ، وَعُثْمَان، وَطَلْحَۃُ، وَالزُّبَیْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُالرَّحْمَن بْنُ عَوْفٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٣٠) حضرت حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر کے عہد امارت میں حج کیا تھا تو لوگوں کو اس بات میں شک نہیں تھا کہ حضرت عمر کے بعد خلافت حضرت عثمان کے پاس ہوگی۔ (یعنی یقین تھا) ۔
(۳۸۲۳۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، قَالَ : حجَجْتُ فِی إِمَارَۃِ عُمَرَ ، فَلَمْ یَکُونُوا یَشْکُونَ أَنَّ الْخِلاَفَۃَ مِنْ بَعْدِہِ لِعُثْمَانَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٣١) حضرت عبداللہ بن سنان سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کو خلیفہ مقرر کیا گیا تو عبداللہ نے کہا۔ مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلاَہَا ذَا فُوْقٍ ۔
(۳۸۲۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ حِین اُسْتُخْلِفَ عُثْمَان : مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلاَہَا ذَا فُوْقٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٣٢) حضرت حکیم بن جابر سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کی بیعت کی گئی تو ابن مسعود نے کہا۔ ہم نے مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلاَہَا ذَا فُوْقٍ ۔
(۳۸۲۳۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ یَقُولُ حِینَ بُویِعَ عُثْمَان : مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلاَہَا ذَا فُوْقٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٣٣) حضرت مرہ خریم سے روایت ہے کہ ہم ایک دن مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” تم اس فتنہ میں کیا کرو گے جو زمین کے اطراف میں یوں پھیل جائے گا جیسے گائے کے سینگ ہوتے ہیں۔ “ صحابہ نے پوچھا ۔ اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پھر ہم کیا کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم اس کو اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑنا۔ “ راوی کہتے ہیں : پس میں (یہ سن کر) اس آدمی پر جلدی سے لپٹا اور میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ آدمی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہی “ اور یہ شخص حضرت عثمان تھے۔
(۳۸۲۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ کَہْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی ہَرِمُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَأُسَامَۃُ بْنُ خُرَیْمٍ ، قَالَ : وَکَانَا یُغَازِیَانِ ، فَحَدَّثَانِی جَمِیعًا ، وَلاَ یَشْعُرُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا أَنَّ صَاحِبَہُ حَدَّثَنِیہِ ، عَنْ مُرَّۃَ الْبَہْزِیِّ ، قَالَ : بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ فِی طَرِیقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ ، فَقَالَ : کَیْفَ تَصْنَعُونَ فِی فِتْنَۃٍ تَثُورُ فِی أَقْطَارِ الأَرْضِ کَأَنَّہَا صَیَاصِی بَقَرٍ ؟ قَالَوا : فَنَصْنَعُ مَاذَا یَا نَبِیَّ اللہِ ؟ قَالَ : عَلَیْکُمْ بِہَذَا وَأَصْحَابِہِ ، قَالَ : فَأَسْرَعْت حَتَّی عَطَفْتُ عَلَی الرَّجُلِ ، فَقُلْتُ : ہَذَا یَا نَبِیَّ اللہِ ؟ قَالَ : ہَذَا ، فَإِذَا ہُوَ عُثْمَان۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٣٤) حضرت حسن سے روایت ہے کہ مجھے وثَّاب نے بیان کیا ۔ اور یہ وثاب راوی کہتے ہیں۔ میں نے اس کے حلق میں تیر کے دو نشانات تھے۔ حضرت عثمان کے گھر میں محاصر ہ کے دن یہ نیزے انھیں مارے گئے تھے۔ یہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے امیر المؤمنین حضرت عثمان نے بھیجا اور فرمایا : اشتر کو میرے پاس لاؤ ۔ ابن عون کہتے ہیں : میرا گمان یہ ہے کہ انھوں نے یہ بھی کہا تھا۔ کہ اس نے امیر المؤمنین کے پاس تکیہ چھوڑ دیا۔ اور اس کے پاس تکیہ تھا۔ پس حضرت عثمان نے فرمایا۔ اے اشتر ! (باغی) لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ اشتر نے کہا ۔ تین باتیں ہیں جن میں سے کسی ایک کا کرنا ضروری ہے۔ وہ لوگ آپ کو اس بات کا اختیار دیتے ہیں کہ یا تو آپ ان کی حکمرانی ان کے حوالہ کردیں اور یہ کہہ دیں کہ یہ تمہاری حکمرانی ہے تم جس کو چاہو یہ حکمرانی سونپ دو ۔ اور یا یہ ہے کہ آپ اپنے سے بدلہ لینے کا موقع دیں۔ پس اگر آپ ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہیں تو پھر لوگ آپ سے لڑیں گے۔ حضرت عثمان نے پوچھا۔ کیا ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ضروری ہے ؟ اشتر نے کہا (جی) ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ضروری ہے۔

٢۔ حضرت عثمان نے فرمایا۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ میں ان کی حکمرانی کی ذمہ داری چھوڑ دوں۔ تو (سنو) میں وہ کبھی کرتا نہیں اتاروں گا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنایا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں۔ حسن کے علاوہ دوسرا راوی بیان کرتا ہے کہ : اگر مجھے یوں پیش کیا جائے کہ میری گردن اڑا دی جائے تو بھی مجھے یہ بات اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معاملہ لوگوں کے درمیان چھوڑ دوں۔ ابن عون کہتے ہیں : یہ بات آپ کے کلام سے ملتی جلتی ہے۔ اور رہی یہ بات کہ میں لوگوں کو خود سے بدلہ لینے کا موقع دوں تو خدا کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ مجھ سے پہلے میرے دو ساتھی (لوگوں کو) اپنے آپ سے بدلہ لینے کا موقع دیتے تھے۔ لیکن میرا جسم قصاص کے لیے کھڑا نہیں ہوگا۔ اور یہ بات کہ لوگ مجھے قتل کریں گے تو خدا کی قسم (یاد رکھو) اگر وہ لوگ مجھے قتل کردیں تو پھر میرے بعد کبھی آپس میں محبت نہیں کرسکیں گے۔ اور نہ ہی میرے بعد دشمن کے خلاف کبھی سارے اکٹھے ہو کر جہاد کرسکیں گے۔

٣۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اشتر اٹھ کر چل پڑا۔ ہم وہیں ٹھہرے اور ہم کہنے لگے۔ ہوسکتا ہے کہ لوگ واپس پیچھے چلے جائیں۔ پھر رویجل آیا ۔ یوں لگتا تھا کہ وہ بھیڑیا ہے۔ اور اس نے دروازے سے جھانکا اور واپس ہوگیا۔ پھر محمد بن ابی بکر تیرہ افراد کے ہمراہ کھڑا ہوا اور حضرت عثمان کے پاس پہنچا اور آپ کی داڑھی کو پکڑ لیا اور وہ کہہ رہا تھا۔ تمہیں معاویہ نے کوئی فائدہ نہیں دیا ! تمہیں ابن عامر نے کوئی فائدہ نہیں دیا ! تمہیں تمہارے لشکروں نے کوئی فائدہ نہیں دیا۔ حضرت عثمان نے کہا۔ اے بھتیجے ! میری داڑھی تو چھوڑ دے۔ اے بھتیجے ! میری داڑھی تو چھوڑ دے۔

٤۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اس کو دیکھا کہ اس نے (اپنی) قوم میں سے ایک آدمی سے مدد مانگی تو اس کے پاس ایک آدمی چوڑے پھل والا نیزہ لے کر آیا اور اس کے ذریعہ سے حضرت عثمان کے سر پر زور لگا کر اس کو آپ کے سر میں اتار دیا۔ راوی (سے) پوچھا۔ پھر کیا ہوا ؟ راوی نے جواب دیا۔ پھر یہ باغی حضرت عثمان پر داخل ہوئے اور ا نہیں قتل کردیا۔
(۳۸۲۳۴) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَنْبَأَنِی وَثَّابٌ ، وَکَانَ مِمَّنْ أَدْرَکَہُ عِتْقُ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ ، وَکَانَ یَکُونُ بَعْدُ بَیْنَ یَدَیْ عُثْمَانَ ، قَالَ : فَرَأَیْتُ فِی حَلْقِہِ طَعْنَتَیْنِ ، کَأَنَّہُمَا کَیَّتَانِ طُعِنَہُمَا یَوْمَ الدَّارِ ، دَارِ عُثْمَانَ ، قَالَ : بَعَثَنِی أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَان ، قَالَ : اُدْعُ لِی الأَشْتَرَ ، فَجَائَ ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: أَظُنُّہُ قَالَ : فَطَرَحْتُ لأَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وِسَادَۃً ، وَلَہُ وِسَادَۃً ، فَقَالَ : یَا أَشْتَرُ ، مَا یُرِیدُ النَّاسُ مِنِّی؟ قَالَ: ثَلاَثًا ، لَیْسَ مِنْ إِحْدَاہُنَّ بُدٌّ ، یُخَیِّرُونَک بَیْنَ أَنْ تَخْلَعَ لَہُمْ أَمْرَہُمْ ، وَتَقُولُ : ہَذَا أَمْرُکُمْ ، اخْتَارُوا لَہُ مَنْ شِئْتُمْ ، وَبَیْنَ أَنْ تُقِصَّ مِنْ نَفْسِکَ ، فَإِنْ أَبَیْتَ ہَاتَیْنِ ، فَإِنَّ الْقَوْمَ قَاتِلُوک ، قَالَ : مَا مِنْ إحْدَاہُنَّ بُدٌّ ؟ قَالَ مَا مِنْ إِحْدَاہُنَّ بُدٌّ۔

قَالَ : أَمَّا أَنْ أَخْلَعَ لَہُمْ أَمْرَہُمْ ، فَمَا کُنْتُ أَخْلَعُ سِرْبَالاً سَرْبَلَنِیہِ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَبَدًا ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَقَالَ غَیْرُ الْحَسَنِ : لأَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِی أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَخْلَعَ أَمْرَ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ، بَعْضُہَا عَلَی بَعْضٍ ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَہَذَا أَشْبَہُ بِکَلاَمِہِ ، وَأَمَّا أَنْ أُقِصَّ لَہُمْ مِنْ نَفْسِی ، فَوَاللہِ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ صَاحِبَیَّ بَیْنَ یَدَیَّ کَانَا یُقِصَّانِ مِنْ أَنْفُسِہِمَا ، وَمَا یَقُومُ بَدَنِی بِالْقِصَاصِ ، وَأَمَّا أَنْ یَقْتُلُونِی ، فَوَاللہِ لَوْ قَتَلُونِی لاَ یَتَحَابُّونَ بَعْدِی أَبَدًا ، وَلاَ یُقَاتِلُونَ بَعْدِی عَدُوًّا جَمِیعًا أَبَدًا۔

قَالَ : فَقَامَ الأَشْتَرُ وَانْطَلَقَ ، فَمَکَثْنَا ، فَقُلْنَا : لَعَلَّ النَّاسَ ، ثُمَّ جَائَ رُوَیْجِلٌ کَأَنَّہُ ذِئْبٌ ، فَاطَّلَعَ مِنَ الْبَابِ ، ثُمَّ رَجَعَ ، وَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ فِی ثَلاَثَۃَ عَشَرَ حَتَّی انْتَہَی إِلَی عُثْمَانَ ، فَأَخَذَ بِلِحْیَتِہِ ، فَقَالَ بِہَا ، حَتَّی سَمِعْتَ وَقَعَ أَضْرَاسَہُ ، وَقَالَ : مَا أَغْنَی عَنْک مُعَاوِیَۃُ ، مَا أَغْنَی عَنْک ابْنُ عَامِرٍ ، مَا أَغْنَتْ عَنْک کُتُبُک ، فَقَالَ : أَرْسِلْ لِی لِحْیَتِی ابْنَ أَخِی ، أَرْسِلْ لِی لِحْیَتِی ابْنَ أَخِی۔

قَالَ : فَأَنَا رَأَیْتُہُ اسْتَعْدَی رَجُلاً مِنَ الْقَوْمِ یُعِینُہُ ، فَقَامَ إِلَیْہِ بِمِشْقَصٍ ، حَتَّی وَجَأَ بِہِ فِی رَأْسِہِ فَأَثْبَتَہُ ، قَالَ : ثُمَّ مَہْ ؟ قَالَ : ثُمَّ دَخَلُوا عَلَیْہِ حَتَّی قَتَلُوہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٣٥) حضرت ابو لیلی کندی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عثمان کو دیکھا کہ انھوں نے لوگوں کی طرف جھانکا ۔۔۔ جبکہ وہ محصور تھے۔۔۔ اور فرمایا ۔۔۔ اے لوگو ! مجھے قتل نہ کرو بلکہ تم مجھ سے رضا مندی اور خوشنودی چاہو۔ خدا کی قسم ! اگر تم نے مجھے قتل کردیا تو پھر کبھی تم لوگ اکٹھے ہو کر جہاد نہیں کرو گے۔ اور کبھی دشمن کے خلاف اکٹھے ہو کر لڑ نہیں سکو گے۔ اور تم اس حالت میں پیچھے رہ جاؤ گے کہ تم یوں ہو جاؤ گے۔ حضرت عثمان نے اپنی انگلیاں، انگلیوں میں داخل کیں۔ اور آیت پڑھی { وَیَا قَوْم لاَ یَجْرِ مَنَّکُمْ شِقَاقِی أَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ ، أَوْ قَوْمَ ہُودٍ ، أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ، وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ }

راوی کہتے ہیں : حضرت عثمان نے حضرت عبداللہ بن سلام کی طرف قاصد بھیج کر ان سے (اس معاملہ) میں پوچھا۔ انھوں نے فرمایا۔ رُکے رہو۔ رُکے رہو۔ کیونکہ یہ رویہ تمہارے حق میں خوب حجت ہوگا۔ چنانچہ یہ باغی لوگ حضرت عثمان کے پاس داخل ہوئے اور انھیں قتل کردیا۔
(۳۸۲۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا لَیْلَی الْکِنْدِیَّ ، قَالَ : رَأَیْتُ عُثْمَانَ اطَّلَعَ إِلَی النَّاسِ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، لاَ تَقْتُلُونِی وَاسْتَعْتِبُونِی ، فَوَاللہِ لَئِنْ قَتَلْتُمُونِی لاَ تُقَاتِلُونَ جَمِیعًا أَبَدًا ، وَلاَ تُجَاہِدُونَ عَدُوًّا أَبَدًا ، وَلَتَخْتَلِفُنَّ حَتَّی تَصِیرُوا ہَکَذَا ، وَشَبَّکَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ، {وَیَا قَوْم لاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِی أَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ ، أَوْ قَوْمَ ہُودٍ ، أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ، وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ}۔ قَالَ : وَأَرْسَلَ إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلاَمٍ فَسَأَلَہُ ، فَقَالَ : الْکَفَّ الْکَفَّ ، فَإِنَّہُ أَبْلَغُ لَک فِی الْحُجَّۃِ ، فَدَخَلُوا عَلَیْہِ فَقَتَلُوہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٣٦) حضرت عبداللہ بن عامر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کو کہتے سُنا۔ بیشک میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ فائدہ والا شخص وہ ا ہے جو اپنے اسلحہ اور اپنے ہاتھ کو روک لے۔
(۳۸۲۳۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، یَقُولُ : إِنَّ أَعْظَمَکُمْ عِنْدِی غِنَائً مَنْ کَفَّ سِلاَحَہُ وَیَدَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٣٧) حضرت ابن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت، حضرت عثمان کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے۔ یہ دروازے پر انصار (صحابہ ) موجود ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ چاہیں تو ہم دوسری مرتبہ اللہ کے (دین کے) مدد گار بنیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا۔ اگر لڑنے کے بارے میں کہتے ہیں تو بالکل نہیں۔
(۳۸۲۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : جَائَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَی عُثْمَانَ ، فَقَالَ : ہَذِہِ الأَنْصَارُ بِالْبَابِ ، قَالُوا : إِنْ شِئْتَ أَنْ نَکُونَ أَنْصَارَ اللہِ مَرَّتَیْنِ ؟ فَقَالَ : أَمَّا قِتَالٌ فَلاَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٣٨) حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں۔ میں نے محاصرہ کے دن حضرت عثمان سے کہا۔ آپ باہر آئیں اور ان لوگوں سے لڑائی کریں۔ کیونکہ آپ کے ہمراہ (آج اتنے) لوگ ہیں کہ جن سے کم تعداد کی اللہ پاک نے مدد کی تھی۔ اور خدا کی قسم ! ان لوگوں سے لڑنا حلال ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عثمان نے انکار فرمایا اور حکم دیا ۔ جو آدمی خود میری سمع وطاعت کو واجب سمجھتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ عبداللہ بن زبیر کی اطاعت کرے ۔ حضرت عثمان نے اس (محاصرے کے) دن ان کو گھر میں امیر مقرر فرمایا تھا اور حضرت عثمان اس (محاصرہ کے) دن روزہ کی حالت میں تھے۔
(۳۸۲۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ یَوْمَ الدَّارِ: اُخْرُجْ فَقَاتِلْہُمْ ، فَإِنَّ مَعَک مَنْ قَدْ نَصَرَ اللَّہُ بِأَقَلَّ مِنْہُ ، وَاللہِ ، إِنَّ قِتَالَہُمْ لَحَلاَلٌ، قَالَ: فَأَبَی ، وَقَالَ: مَنْ کَانَ لِی عَلَیْہِ سَمْعٌ وَطَاعَۃٌ ، فَلِیُطِعْ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ ، وَکَانَ أَمَّرَہُ یَوْمَئِذٍ عَلَی الدَّارِ ، وَکَانَ یَوْمَئِذٍ صَائِمًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٣٩) حضرت نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی جس کو جہجاہ کہا جاتا تھا۔ اس نے حضرت عثمان کے ہاتھ میں موجود عصا لیا اور اس کو اپنے گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا۔ پس (آخر میں) اس آدمی کے اس مقام پر نہ ختم ہونے والی خارش شروع ہوگئی تھی۔
(۳۸۲۳۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ : جَہْجَاہٌ تَنَاوَلَ عَصًا کَانَتْ فِی یَدِ عُثْمَانَ ، فَکَسَرَہَا بِرُکْبَتِہِ ، فَرُمِیَ فِی ذَلِکَ الْمَوْضِعِ بِأکِلَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٤٠) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ حضرت عثمان نے ایک صبح لوگوں سے بیان کیا۔ فرمایا۔ میں نے آج رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں دیکھا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اے عثمان ! تم روزہ ہمارے پاس افطار کرو۔ حضرت عثمان نے روزہ کی حالت میں صبح کی اور پھر اسی دن شہید ہوگئے۔
(۳۸۲۴۰) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الرَّازِیُّ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّ عُثْمَانَ أَصْبَحَ یُحَدِّثُ النَّاسَ ، قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ ، فَقَالَ : یَا عُثْمَان ، أَفْطِرْ عِنْدَنَا ، فَأَصْبَحَ صَائِمًا وَقُتِلَ مِنْ یَوْمِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٤١) حضرت سعید بن زید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر اور ان کی ہمشیرہ کو اسلام پر مضبوط کیا۔ حضرت عثمان کے ساتھ تم نے جو کچھ کیا اگر اس کے بعد تمہارے ساتھ جو بھی سلوک کیا جائے وہ صحیح ہوگا۔
(۳۸۲۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُنِی مُوثِقِی عُمَرَ وَأُخْتَہُ عَلَی الإِسْلاَمِ ، وَلَوِ ارْفَضَّ أُحُدٌ مِمَّا صَنَعْتُمْ بِعُثْمَانَ کَانَ حَقِیقًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٤٢) حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کا گھر میں محاصرہ کیا گیا تو ابن سلام نے فرمایا۔ تم انھیں قتل نہ کرو۔ کیونکہ ان کی (ویسے ہی) تھوڑی سی زندگی باقی ہے۔ خدا کی قسم ! اگر تم نے انھیں قتل کردیا تو پھر تم کبھی بھی اکٹھے نماز نہیں پڑھو گے۔
(۳۸۲۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَلاَمٍ : لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ فِی الدَّارِ ، قَالَ : لاَ تَقْتُلُوہُ ، فَإِنَّہُ لَمْ یَبْقَ مِنْ أَجَلِہِ إِلاَّ قَلِیلٌ ، وَاللہِ لَئِنْ قَتَلْتُمُوہُ لاَ تُصَلُّونَ جَمِیعًا أَبَدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٤٣) حضرت عبداللہ بن مسعود کے آزاد کردہ غلام ابو سعید سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا تھا۔ خدا کی قسم ! اگر تم نے عثمان کو قتل کردیا تو ان کے بعد کسی صحیح جانشین کو نہیں پہنچ پاؤ گے۔
(۳۸۲۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ أَبِی عِمْرَانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو الْیَعْفُورِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ : وَاللہِ لَئِنْ قَتَلْتُمْ عُثْمَانَ لاَ تُصِیبُونَ مِنْہُ خَلَفًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٤٤) حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے کہ قریش کا ایک آدمی تھا جس کو ثمامہ کہا جاتا تھا وہ مقام صنعاء میں تھا۔ جب اس کو حضرت عثمان کے قتل کی خبر پہنچی تو وہ رو پڑا اور خوب دیر تک روتا رہا۔ پھر جب اسے افاقہ ہوا تو اس نے کہا۔ آج کے دن امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نبوت واپس لے لی گئی ہے۔ خلافت واپس لے لی گئی ہے۔ اور (اب) بادشاہی اور سختی ہوگی۔ پس جو جس چیز پر غالب ہوگا اس کو کھاجائے گا۔
(۳۸۲۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ؛ أَنَّ رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ یُقَالُ لَہُ : ثُمَّامَۃُ کَانَ عَلَی صَنْعَائَ ، فَلَمَّا جَائَہُ قَتْلُ عُثْمَانَ بَکَی ، فَأَطَالَ الْبُکَائَ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : الْیَوْمَ اُنْتُزِعَتِ النُّبُوَّۃُ ، أَوَ قَالَ : الْخِلاَفَۃُ مِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَصَارَتْ مِلْکًا وَجَبْرِیَّۃً ، فَمَنْ غَلَبَ عَلَی شَیْئٍ أَکَلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٤٥) حضرت ابو قلابہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان کو قتل کیا گیا تو مقام ایلیاء کے خطباء کھڑے ہوئے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے (ان کا) آخری خطیب کھڑا ہوا جس کو مرہ بن کعب کہا جاتا تھا۔ اس نے کہا۔ اگر ایسی حدیث نہ ہوتی جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سُنی ہے تو میں کھڑا نہ ہوتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک فتنہ کا ذکر کیا ۔۔۔ میرے خیال کے مطابق راوی کہتے ہیں ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا قریب الوقوع ہونا بیان کیا ۔۔۔کہ اس دوران ایک آدمی اپنی چادر ڈالے ہوئے گزرا ۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اس (فتنہ کے) دن یہ اور اس کے ساتھی حق پر ہوں گے۔ (راوی کہتے ہیں) پس میں چل پڑا اور میں نے ان صاحب کا رُخ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پھیر کر عرض کیا۔ یہ آدمی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ۔ ” ہاں “ یہ آدمی حضرت عثمان تھے۔
(۳۸۲۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُثْمَان، قَامَ خُطَبَائُ إیلِیَائَ، فَقَامَ مِنْ آخِرِہِمْ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَالُ لَہُ : مُرَّۃُ بْنُ کَعْبٍ ، فَقَالَ : لَوْلاَ حَدِیثٌ سَمِعْتہ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ ، إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ فِتْنَۃً أَحْسَبُہُ ، قَالَ : فَقَرَّبَہَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بِرِدَائِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَذَا یَوْمَئِذٍ وَأَصْحَابُہُ عَلَی الْحَقِ، فَانْطَلَقْتُ، فَأَخَذْتُ بِوَجْہِہِ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: ہَذَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَإِذَا ہُوَ عُثْمَان۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٤٦) حضرت ابن عباس سے روایت ہے فرماتے ہیں۔ اگر تمام لوگ بھی حضرت عثمان کے قتل پر اکٹھے ہوجاتے تو تمام لوگوں کو ہی سنگسار کردیا جاتا جیسا کہ قوم لوط کو سنگسار کیا گیا تھا۔
(۳۸۲۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ أَبِی الْمَلِیحِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَوْ أَنَّ النَّاسَ اجْتَمَعُوا عَلَی قَتْلِ عُثْمَانَ ، لَرُجِمُوا بِالْحِجَارَۃِ کَمَا رُجِمَ قَوْمُ لُوطٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
(٣٨٢٤٧) حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت عثمان نے اپنے گھر سے باغیوں کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا ۔ تم میرے پاس کوئی آدمی لاؤ جس سے میں اللہ کی کتاب پڑھواؤں۔ پس باغی صعصعہ بن صوحان کو لے آئے۔ یہ ایک جوان آدمی تھا۔ حضرت عثمان نے کہا۔ کیا تم نے اس نوجوان کے علاوہ کوئی آدمی نہیں پایا جس کو تم میرے پاس لائے ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر صعصعہ نے کوئی گفتگو کی۔ تو حضرت عثمان نے اس سے کہا۔ قرآن پڑھ۔ اس نے پڑھا۔ { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حضرت عثمان نے فرمایا۔ تو جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ آیت تیرے اور تیرے ساتھیوں کے حق میں نہیں ہے بلکہ یہ آیت تو میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے ہے۔ پھر حضرت عثمان نے تلاوت کی۔ { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حضرت عثمان نے یہاں تک پڑھا۔ { وَإِلَی اللہِ عَاقِبَۃُ الأُمُورِ }۔
(۳۸۲۴۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، قَالَ : أَشْرَفَ عَلَیْہِمْ عُثْمَانُ مِنَ الْقَصْرِ، فَقَالَ : ائْتُونِی بِرَجُلٍ أُتَالِیہِ کِتَابَ اللہِ ، فَأَتَوْہُ بِصَعْصَعَۃَ بْنِ صُوحَانَ ، وَکَانَ شَابًّا ، فَقَالَ : أَمَا وَجَدْتُمْ أَحَدًا تَأْتُونِی بِہِ غَیْرَ ہَذَا الشَّابِّ ، قَالَ : فَتَکَلَّمَ صَعْصَعَۃُ بِکَلاَمٍ ، فَقَالَ لَہُ عُثْمَان : اُتْلُ ، فَقَالَ : {أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} فَقَالَ : کَذَبْتَ ، لَیْسَتْ لَک ، وَلاَ لأَصْحَابِکَ ، وَلَکِنَّہَا لِی وَلأَصْحَابِی ، ثُمَّ تَلاَ عُثْمَان : {أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حَتَّی بَلَغَ : {وَإِلَی اللہِ عَاقِبَۃُ الأُمُورِ}۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی بن ابی طالب کی خلافت کے بارے میں
(٣٨٢٤٨) حضرت ابو صالح سے روایت ہے کہ ایک حدی خوان حضرت عثمان کے لیے حدی پڑھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔

” یقیناً عثمان کے بعد حضرت علی امیر ہیں اور زبیر میں پسندیدہ خلافت ہے۔ “

راوی کہتے ہیں۔ حضرت کعب نے کہا۔ لیکن وہ جو بھورے رنگ کے خچر والے معاویہ ہیں۔ پس حضرت معاویہ سے کہا گیا کہ حضرت کعب آپ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ آپ اس امر خلافت کے ولی بنیں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر یہ حضرت معاویہ کے پاس آئے تو معاویہ نے کہا۔ اے ابو اسحاق ! یہ بات تم نے کیسے کہی جبکہ حضرت علی اور زبیر اور دیگر اصحابِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں۔ کعب نے کہا۔ آپ ہی اس خلافت کے حق دار ہیں۔
(۳۸۲۴۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، قَالَ : کَانَ الْحَادِی یَحْدُو بِعُثْمَانَ وَہُوَ یَقُولُ :

إِنَّ الأَمِیرَ بَعْدَہُ عَلِیٌّ وَفِی الزُّبَیْرِ خَلَفٌ رَضِیٌّ

قالَ : فَقَالَ کَعْبٌ : وَلَکِنَّہُ صَاحِبُ الْبَغْلَۃِ الشَّہْبَائِ ، یَعَنْی مُعَاوِیَۃَ ، فَقِیلَ لِمُعَاوِیَۃَ : إِنَّ کَعْبًا یَسْخَرُ بِکَ ، وَیَزْعُمُ أَنَّک تَلِی ہَذَا الأَمْرَ ، قَالَ : فَأَتَاہُ ، فَقَالَ : یَا أَبَا إِسْحَاقَ ، کَیْفَ وَہَا ہُنَا عَلِیٌّ ، وَالزُّبَیْرُ ، وَأَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَنْتَ صَاحِبُہَا۔
tahqiq

তাহকীক: