মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮২০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨٢٠٩) حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں مرتد ہونے والے لوگ مرتد ہوئے تو حضرت ابوبکر نے ان سے قتال کرنے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا ۔ کیا آپ ان سے قتال کریں گے حالانکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہتے ہوئے سُنا ہے کہ : ” جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں تو اس کا مال اور اس کا خون حرمت حاصل کرلیتا ہے مگر حق کے بدلے میں (حرمت ختم ہوسکتی ہے) اور اس کا (باطنی) حساب اللہ کے ذمہ ہے “ ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا۔ میں کیسے اس آدمی سے قتال نہ کروں جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرتا ہے ؟ خدا کی قسم ! میں تو ضرور بالضرور اس آدمی سے قتال کروں گا جو ان دونوں میں فرق کرے گا یہاں تک کہ وہ ان دونوں کو جمع کرلے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پھر ہم نے حضرت ابوبکر کے ہمراہ قتال کیا۔ پس خدا کی قسم ! حضرت ابوبکر راہ حق پر سختی سے قائم رہنے والے تھے۔ پھر جب حضرت ابوبکر نے مرتدین میں سے کچھ لوگوں کو قابو کرلیا تو آپ نے فرمایا : تم دو لائحہ عمل میں سے کسی کو اختیار کرلو۔ یا تو ننگی جنگ ہے۔ اور یا رسوا کن لائحہ عمل ہے۔ انھوں نے کہا۔ یہ ننگی جنگ تم ہم جانتے ہیں لیکن رسواکن لائحہ عمل کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم ہمارے مقتولین کے بارے میں یہ گواہی دو کہ وہ جنت میں ہیں اور اپنے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ جہنم میں ہیں۔ چنانچہ انھوں نے یہی کام کیا۔
(۳۸۲۰۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، قَالَ : لَمَّا ارْتَدَّ مَنِ ارْتَدَّ عَلَی عَہْدِ أَبِی بَکْرٍ ، أَرَادَ أَبُو بَکْرٍ أَنْ یُجَاہِدَہُمْ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : أَتُقَاتِلُہُمْ وَقَدْ سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ شَہِدَ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ حَرُمَ مَالُہُ وَدَمُہُ إِلاَّ بِحَقِّہِ ، وَحِسَابُہُ عَلَی اللہِ ؟ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : أَنَّی لاَ أُقَاتِلُ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلاَۃِ وَالزَّکَاۃِ ؟ وَاللہِ، لأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا حَتَّی أَجْمَعَہُمَا ، قَالَ عُمَرُ : فَقَاتَلْنَا مَعَہُ ، فَکَانَ وَاللہِ رَشَدًا ، فَلَمَّا ظَفِرَ بِمَنْ ظَفِرَ بِہِ مِنْہُمْ ، قَالَ : اخْتَارُوا بَیْنَ خِطَّتَیْنِ : إِمَّا حَرْبٌ مُجَلِّیَۃٌ ، وَإِمَّا الْخُطَّۃُ الْمُخْزِیَۃُ ، قَالَوا : ہَذِہِ الْحَرْبُ الْمُجَلِّیَۃُ قَدْ عَرَفْنَاہَا ، فَمَا الْخُطَّۃُ الْمُخْزِیَۃُ ؟ قَالَ : تَشْہَدُونَ عَلَی قَتْلاَنَا أَنَّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ ، وَعَلَی قَتْلاَکُمْ أَنَّہُمْ فِی النَّارِ ۔ فَفَعَلُوا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨٢١٠) حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ کہا کرتی تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفات پائی تو حضرت ابوبکر پر ایسے مصائب اترے کہ اگر وہ مصائب کسی پہاڑ پر اترتے تو اس پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردیتے۔ مدینہ میں نفاق پھیل گیا اور عرب کے (بہت) لوگ مرتد ہوگئے۔ پس خدا کی قسم ! لوگوں نے اسلام کے کسی حکم میں اختلاف نہیں کیا مگر یہ کہ حضرت ابوبکر اس کے تحفظ اور دفاع کے لیے دوڑ پڑے۔ اور حضرت عائشہ اس کے ساتھ یہ بھی کہتی تھیں۔ اور جو شخص عمر بن خطاب کو دیکھتا تو جان لیتا کہ اس کو اسلام سے نقصان دور کرنے کے لیے پیدا کا و گیا ہے۔ اور خدا کی قسم ! حضرت عمر تمام معاملات میں نہایت چاق و چوبند تھے بےمثال تھے ۔ اور انھوں نے معاملات کے لیے ان کے مناسب لوگوں کو تیار کیا۔
(۳۸۲۱۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِی عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّہَا کَانَتْ تَقُولُ : تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَ بِأَبِی بَکْرٍ مَا لَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ لَہَاضَہَا ، اشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِینَۃِ ، وَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ ، فَوَاللہِ مَا اخْتَلَفُوا فِی نُقْطَۃٍ إِلاَّ طَارَ أَبِی بِحَظِّہَا وعَنَائِہَا فِی الإِسْلاَمِ ، وَکَانَتْ تَقُولُ مَعَ ہَذَا : وَمَنْ رَأَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَرَفَ أَنَّہُ خُلِقَ غِنَائً لِلإِسْلاَمِ ، کَانَ وَاللہِ أَحْوَذِیًّا ، نَسِیجَ وَحْدِہِ ، قَدْ أَعَدَّ لِلأُمُورِ أَقْرَانَہَا۔ (احمد ۶۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢١١) حضرت زبید بن الحارث سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر کی موت کا وقت آیا تو انھوں نے حضرت عمر کی طرف قاصد بھیجا ۔ اور حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کو خلیفہ بنایا۔ اس پر لوگوں نے کہا۔ آپ ہم پر ایک ترش مزاج اور سخت آدمی کو خلیفہ بنا رہے ہیں۔ اور اگر وہ ہمارے والی بن گئے تو وہ مزید ترش مزاج اور سخت آدمی ہوجائیں گے۔ پس جب آپ حضرت عمر کو ہم پر خلیفہ بنائیں گے تو آپ اپنے رب سے ملاقات کے وقت اپنے پروردگار کو کیا جواب دیں گے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : کیا تم لوگ میرے پروردگار سے مجھے ڈرا رہے ہو ؟ میں (اللہ تعالیٰ کو) یہ جواب دوں گا۔ اے اللہ ! میں نے لوگوں پر آپ کی مخلوق میں بہترین شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔
٢۔ پھر حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی طرف قاصد بھیجا (اور بلا کر) فرمایا۔ اگر تم یاد رکھو تو میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں۔ یقیناً دن کے وقت اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا حق ہے جس کو وہ رات کے وقت قبول نہیں کرتا اور (اسی طرح) اللہ تعالیٰ کا رات کے وقت کوئی ایسا حق ہے جس کو وہ دن کے وقت قبول نہیں کرتا۔ اور بلاشبہ جب تک فرائض کو ادا نہ کیا جائے نوافل کو قبول نہیں کیا جاتا۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن میزان میں بھاری ہوں گے ان کے اعمال صرف اس وجہ سے بھاری ہوں گے کہ دناا میں ان لوگوں نے حق کی اتباع کی ہوگی اور حق ان پر وزنی رہا ہوگا۔ اور میزان کے لیے بھی یہ بات حق ہے کہ (جب) اس میں صرف حق ہی کو رکھا جائے تو وہ وزنی ہوجائے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن میزان میں ہلکے ہوں گے تو اس کی وجہ صرف یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے باطل کی پیروی کی اور باطل ان لوگوں پر ہلکا رہا ہوگا۔ اور میزان کے لیے بھی یہ بات حق ہے کہ جب اس میں صرف باطل ہی کو رکھا جائے تو وہ ہلکا ہوجائے۔
٣۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا ذکر ان کے بہترین اعمال کی وجہ سے کیا ہے اور ان کی غلطیوں سے درگزر فرمایا ہے۔ پس کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میں تو ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور (اسی طرح) اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کا ذکر ان کے بد اعمال کے ساتھ کیا ہے۔ اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم پر ان کے اعمال صالحہ کو رد فرما دیا ہے۔ پس کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میں تو ان سے بہتر ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رحمت والی آیت اور عذاب والی آیت (دونوں) کو ذکر فرمایا تاکہ مؤمن رغبت بھی کرے اور خوف بھی۔ اللہ تعالیٰ پر ناحق امیدیں نہ کرے اور اپنے ہاتھ سے ہلاکت کی طرف نہ پڑے۔
٤۔ پس اگر تم نے میری وصیت کی حفاظت کی تو تمہیں کوئی غائب چیز موت سے زیادہ محبوب نہیں ہوگی۔ اور اگر تم نے میری وصیت کو ضائع کیا تو کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ مبغوض نہیں ہوگی۔ اور تم ہرگز موت کو عاجز نہیں کرسکتے۔
٢۔ پھر حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی طرف قاصد بھیجا (اور بلا کر) فرمایا۔ اگر تم یاد رکھو تو میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں۔ یقیناً دن کے وقت اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا حق ہے جس کو وہ رات کے وقت قبول نہیں کرتا اور (اسی طرح) اللہ تعالیٰ کا رات کے وقت کوئی ایسا حق ہے جس کو وہ دن کے وقت قبول نہیں کرتا۔ اور بلاشبہ جب تک فرائض کو ادا نہ کیا جائے نوافل کو قبول نہیں کیا جاتا۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن میزان میں بھاری ہوں گے ان کے اعمال صرف اس وجہ سے بھاری ہوں گے کہ دناا میں ان لوگوں نے حق کی اتباع کی ہوگی اور حق ان پر وزنی رہا ہوگا۔ اور میزان کے لیے بھی یہ بات حق ہے کہ (جب) اس میں صرف حق ہی کو رکھا جائے تو وہ وزنی ہوجائے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن میزان میں ہلکے ہوں گے تو اس کی وجہ صرف یہ ہوگی کہ ان لوگوں نے باطل کی پیروی کی اور باطل ان لوگوں پر ہلکا رہا ہوگا۔ اور میزان کے لیے بھی یہ بات حق ہے کہ جب اس میں صرف باطل ہی کو رکھا جائے تو وہ ہلکا ہوجائے۔
٣۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا ذکر ان کے بہترین اعمال کی وجہ سے کیا ہے اور ان کی غلطیوں سے درگزر فرمایا ہے۔ پس کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میں تو ان تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور (اسی طرح) اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کا ذکر ان کے بد اعمال کے ساتھ کیا ہے۔ اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم پر ان کے اعمال صالحہ کو رد فرما دیا ہے۔ پس کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ میں تو ان سے بہتر ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رحمت والی آیت اور عذاب والی آیت (دونوں) کو ذکر فرمایا تاکہ مؤمن رغبت بھی کرے اور خوف بھی۔ اللہ تعالیٰ پر ناحق امیدیں نہ کرے اور اپنے ہاتھ سے ہلاکت کی طرف نہ پڑے۔
٤۔ پس اگر تم نے میری وصیت کی حفاظت کی تو تمہیں کوئی غائب چیز موت سے زیادہ محبوب نہیں ہوگی۔ اور اگر تم نے میری وصیت کو ضائع کیا تو کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ مبغوض نہیں ہوگی۔ اور تم ہرگز موت کو عاجز نہیں کرسکتے۔
(۳۸۲۱۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، وَابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ زُبَیْدِ بْنِ الْحَارِثِ ؛ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ حِینَ حَضَرَہُ الْمَوْتُ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ یَسْتَخْلِفُہُ ، فَقَالَ النَّاسُ : تَسْتَخْلِفُ عَلَیْنَا فَظًّا غَلِیظًا ، وَلَوْ قَدْ وَلِیَنَا کَانَ أَفَظَّ وَأَغْلَظَ ، فَمَا تَقُولُ لِرَبِّکَ إِذَا لَقِیتَہُ ، وَقَدِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَیْنَا عُمَرَ ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ : أَبِرَبِّی تُخَوِّفُونَنِی ؟ أَقُولُ : اللَّہُمَّ اسْتَخْلَفْتُ عَلَیْہِمْ خَیْرَ خَلْقِک۔
ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّی مُوصِیکَ بِوَصِیَّۃٍ إِنْ أَنْتَ حَفِظْتَہَا : إِنَّ لِلَّہِ حَقًّا بِالنَّہَارِ لاَ یَقْبَلُہُ بِاللَّیْلِ، وَإِنَّ لِلَّہِ حَقًّا بِاللَّیْلِ لاَ یَقْبَلُہُ بِالنَّہَارِ ، وَأَنَّہُ لاَ یَقْبَلُ نَافِلَۃً حَتَّی تُؤَدِّیَ الْفَرِیضَۃَ ، وَإِنَّمَا ثَقُلَتْ مَوَازِینُ مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِاتِّبَاعِہِمْ فِی الدُّنْیَا الْحَقَّ وَثِقَلُہُ عَلَیْہِمْ ، وَحَقٌّ لِمِیزَانٍ لاَ یُوضَعُ فِیہِ إِلاَّ الْحَقُّ أَنْ یَکُونَ ثَقِیلاً ، وَإِنَّمَا خَفَّتْ مَوَازِینُ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِاتِّبَاعِہِمَ الْبَاطِلَ وَخِفَّتُہُ عَلَیْہِمْ ، وَحَقٌّ لِمِیزَانٍ لاَ یُوضَعُ فِیہِ إِلاَّ الْبَاطِلُ أَنْ یَکُونَ خَفِیفًا ، وَإِنَّ اللَّہَ ذَکَرَ أَہْلَ الْجَنَّۃِ بِصَالِحِ مَا عَمِلُوا ، وَأَنَّہُ تَجَاوَزَ عَنْ سَیِّئَاتِہِمْ ، فَیَقُولُ الْقَائِلُ : لاَ أَبْلُغُ ہَؤُلاَئِ ، وَذَکَرَ أَہْلَ النَّارِ بِأَسْوَإِ مَا عَمِلُوا ، وَأَنَّہُ رَدَّ عَلَیْہِمْ صَالِحَ مَا عَمِلُوا ، فَیَقُولُ قَائِلٌ : أَنَا خَیْرٌ مِنْ ہَؤُلاَئِ ، وَذَکَرَ آیَۃَ الرَّحْمَۃِ وَآیَۃَ الْعَذَابِ ، لِیَکُونَ الْمُؤْمِنُ رَاغِبًا وَرَاہِبًا ، لاَ یَتَمَنَّی عَلَی اللہِ غَیْرَ الْحَقِّ ، وَلاَ یُلْقِی بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ۔
فَإِنْ أَنْتَ حَفِظْت وَصِیَّتِی ، لَمْ یَکُنْ غَائِبٌ أَحَبَّ إِلَیْک مِنَ الْمَوْتِ ، وَإِنْ أَنْتَ ضَیَّعْت وَصِیَّتِی لَمْ یَکُنْ غَائِبٌ أَبْغَضَ إِلَیْک مِنَ الْمَوْتِ ، وَلَنْ تَعْجِزَہُ۔
ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّی مُوصِیکَ بِوَصِیَّۃٍ إِنْ أَنْتَ حَفِظْتَہَا : إِنَّ لِلَّہِ حَقًّا بِالنَّہَارِ لاَ یَقْبَلُہُ بِاللَّیْلِ، وَإِنَّ لِلَّہِ حَقًّا بِاللَّیْلِ لاَ یَقْبَلُہُ بِالنَّہَارِ ، وَأَنَّہُ لاَ یَقْبَلُ نَافِلَۃً حَتَّی تُؤَدِّیَ الْفَرِیضَۃَ ، وَإِنَّمَا ثَقُلَتْ مَوَازِینُ مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِینُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِاتِّبَاعِہِمْ فِی الدُّنْیَا الْحَقَّ وَثِقَلُہُ عَلَیْہِمْ ، وَحَقٌّ لِمِیزَانٍ لاَ یُوضَعُ فِیہِ إِلاَّ الْحَقُّ أَنْ یَکُونَ ثَقِیلاً ، وَإِنَّمَا خَفَّتْ مَوَازِینُ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِاتِّبَاعِہِمَ الْبَاطِلَ وَخِفَّتُہُ عَلَیْہِمْ ، وَحَقٌّ لِمِیزَانٍ لاَ یُوضَعُ فِیہِ إِلاَّ الْبَاطِلُ أَنْ یَکُونَ خَفِیفًا ، وَإِنَّ اللَّہَ ذَکَرَ أَہْلَ الْجَنَّۃِ بِصَالِحِ مَا عَمِلُوا ، وَأَنَّہُ تَجَاوَزَ عَنْ سَیِّئَاتِہِمْ ، فَیَقُولُ الْقَائِلُ : لاَ أَبْلُغُ ہَؤُلاَئِ ، وَذَکَرَ أَہْلَ النَّارِ بِأَسْوَإِ مَا عَمِلُوا ، وَأَنَّہُ رَدَّ عَلَیْہِمْ صَالِحَ مَا عَمِلُوا ، فَیَقُولُ قَائِلٌ : أَنَا خَیْرٌ مِنْ ہَؤُلاَئِ ، وَذَکَرَ آیَۃَ الرَّحْمَۃِ وَآیَۃَ الْعَذَابِ ، لِیَکُونَ الْمُؤْمِنُ رَاغِبًا وَرَاہِبًا ، لاَ یَتَمَنَّی عَلَی اللہِ غَیْرَ الْحَقِّ ، وَلاَ یُلْقِی بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ۔
فَإِنْ أَنْتَ حَفِظْت وَصِیَّتِی ، لَمْ یَکُنْ غَائِبٌ أَحَبَّ إِلَیْک مِنَ الْمَوْتِ ، وَإِنْ أَنْتَ ضَیَّعْت وَصِیَّتِی لَمْ یَکُنْ غَائِبٌ أَبْغَضَ إِلَیْک مِنَ الْمَوْتِ ، وَلَنْ تَعْجِزَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢١٢) حضرت قیس بن حازم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کھجور کی صاف شاخ تھی اور وہ لوگوں کو بٹھا رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ کی بات سُنو۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت ابوبکر کا غلام ۔۔۔ جس کو شدید کہا جاتا تھا ۔۔۔ ایک رقعہ لے کر آیا۔ اور وہ لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ اس نے کہا۔ حضرت ابوبکر کہتے ہیں : اس آدمی کی بات سنو اور اطاعت کرو جس کا اس صحیفہ میں نام ہے۔ خدا کی قسم ! میں نے تمہیں خیر تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ قیس راوی کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد مں ا نے حضرت عمر بن خطاب کو منبر پر دیکھا۔
(۳۸۲۱۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَبِیَدِہِ عَسِیبُ نَخْلٍ ، وَہُوَ یُجْلِسُ النَّاسَ ، وَیَقُولُ : اسْمَعُوا لِقَوْلِ خَلِیفَۃِ رَسُولِ اللہِ ، قَالَ : فَجَائَ مَوْلًی لأَبِی بَکْرٍ یُقَالُ لَہُ: شَدِیدٌ بِصَحِیفَۃٍ ، فَقَرَأَہَا عَلَی النَّاسِ ، فَقَالَ : یَقُولُ أَبُو بَکْرٍ : اسْمَعُوا وَأَطِیعُوا لِمَنْ فِی ہَذِہِ الصَّحِیفَۃِ ، فَوَاللہِ مَا أَلَوْتُکُمْ ، قَالَ قَیْسٌ : فَرَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعْدَ ذَلِکَ عَلَی الْمِنْبَرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢١٣) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ فراست والے تین لوگ ہوئے ہیں۔ حضرت ابوبکر جب انھوں نے حضرت عمر کے بارے میں فراست کا اظہار کیا اور انھیں خلیفہ بنایا ۔ اور (دوسری) وہ عورت جس نے کہا تھا۔ { اسْتَأْجِرْہُ ، إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الأَمِینُ } اور (تیسرا) عزیز مصر جب اس نے اپنی بیوی سے کہا۔ { أَکْرِمِی مَثْوَاہُ }۔
(۳۸۲۱۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : أَفْرَسُ النَّاسِ ثَلاَثَۃٌ : أَبُو بَکْرٍ حِین تَفَرَّسَ فِی عُمَرَ فَاسْتَخْلَفَہُ ، وَالَّتِی قَالَتْ : {اسْتَأْجِرْہُ ، إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الأَمِینُ} وَالْعَزِیزُ حِینَ قَالَ لامْرَأَتِہِ : {أَکْرِمِی مَثْوَاہُ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢١٤) حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں آیا تو میں نے دیکھا کہ حضرت عمر ، حضرت حذیفہ اور عثمان بن حنیف کے پاس کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں۔ تم خوف کرو کہ تم نے زمین کو اس قدر عوض پر دیا ہے جو وسعت سے زیادہ ہے۔ حضرت حذیفہ نے کہا۔ اگر میں چاہوں تو اپنی زمین کو دو چند (عوض پر) کر دوں اور حضرت عثمان نے کہا۔ میں نے اپنی زمین کو ایسے معاملہ کے عوض میں رکھا جو اس کے مطابق ہے اور اس میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا تو میں اہل عراق کے محتاجوں کو ایسی حالت میں چھوڑوں گا کہ میرے بعد وہ کسی اور کے محتاج نہیں ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر چار دن ہی گزرے تھے کہ انھیں شہید کردیا گیا۔
٢۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر جب مسجد میں داخل ہوتے تو آپ صفوں کے درمیان کھڑے ہوجاتے اور فرماتے۔ (صفوں میں) سیدھے ہو جاؤ۔ پس جب لوگ سیدھے ہوجاتے تو آپ تکبیر کہتے ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر (جب ایک صبح) آپ نے نماز شروع کی تو آپ کی جگہ وار کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں : پس میں نے آپ کو کہتے سُنا۔ مجھے کتے نے قتل کر ڈالا۔۔۔ یا ۔۔۔مجھے کُتّے نے کھالیا۔ راوی عمروکہتے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ کیا کہا ؟ میرے اور ان کے درمیان حضرت ابن عباس کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ پھر حضرت عمر نے عبد الرحمن بن عوف کو ہاتھ سے پکڑا اور آگے کر دیا۔۔۔وہ قاتل دوڑنے لگا جبکہ اس کے ہاتھ میں دو دھاری چھری تھی وہ دائیں بائیں جس آدمی کے پاس سے گزرتا اس کو مارتا جاتا یہاں تک کہ اس نے تیرہ لوگوں کو زخمی کردیا۔ پھر ان زخمیوں میں سے نو افراد وفات بھی پا گئے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب یہ منظر ایک مسلمان نے دیکھا تو اس نے اس کو پکڑنے کے لیے اس پر ایک بڑی چادر ڈال دی۔ پھر جب اس قاتل کو یہ یقین ہوگیا کہ وہ پکڑا جائے گا تو اس نے خود کو ذبح کرلیا۔
٣۔ راوی کہتے ہیں : پس ہم نے فجر کی ہلکی سی نماز ادا کی۔ راوی کہتے ہیں : مسجد کے کناروں والے لوگوں کو پتہ ہی نہیں لگا کہ کیا معاملہ ہوا ہے۔ ہاں جب انھوں نے حضرت عمر (کی آواز) کو نہ پایا تو یہ کہنا شروع کیا۔ سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! پھر جب لوگ چلے گئے تو پہلا شخص جو حضرت عمر کے پاس آیا وہ حضرت ابن عباس تھے۔ حضرت عمر نے (ان سے) کہا۔ دیکھو (معلوم کرو) مجھے کس نے قتل کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن عباس تھوڑا سا گھوم کر واپس آئے اور بتایا۔ حضرت مغیرۃ کے کاریگر غلام نے ۔ اور یہ غلام بڑھئی تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے میری موت کسی ایسے آدمی کے ہاتھ سے واقع نہیں کی جو اسلام کا دعویدار ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کرے۔ یقیناً میں نے اس کو بھلائی کا حکم دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر نے ابن عباس سے کہا۔ تحقیق تم اور تمہارے والد اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مدینہ منورہ میں علوج زیادہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ ابن عباس نے کہا۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم یہ کرتے۔” انھوں نے کہا کہ بعد اس کے کہ تم اپنی بات کرچکے، اپنی نماز پڑھ چکے اور اپنے نسک ادا کرچکے۔ “
٤۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے حضرت عمر سے کہا۔ آپ کو کوئی (بڑا) مسئلہ نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر نے نبیذ منگوائی اور اس کو پیا لیکن وہ آپ کے زخموں سے باہر نکل گئی۔ پھر حضرت عمر نے دودھ منگوایا اور اس کو پیا لیکن وہ بھی آپ کے زخموں سے باہر نکل گیا۔ چنانچہ آپ کو موت کا یقین ہوگیا ۔ تو آپ نے عبداللہ بن عمر سے کہا۔ مجھ پر جو قرض ہے اس کو دیکھو اور اس کا حساب کرو۔ ابن عمر نے کہا۔ چھیاسی ہزار ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ اگر یہ قرض آلِ عمر کے مال سے پورا ہوجائے تو میری طرف سے ان کے اموال میں سے اس قرض کو ادا کردو۔ وگرنہ بنو عدی بن کعب سے مانگ لینا۔ پھر اگر یہ قرض ان کے اموال سے پورا ہوجائے تو ٹھیک وگرنہ قریش سے مانگ لینا اور ان کے سوا اور کسی سے نہ مانگنا۔ اور یہ میری طرف سے قرضہ ادا کردینا۔
٥۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ کی طرف جاؤ اور (انہیں) سلام کرو اور کہو۔ عمر بن خطاب ۔۔۔ امیر المؤمنین کا لفظ نہ کہنا کیونکہ میں اس وقت لوگوں کا امیر نہیں ہوں ۔۔۔اپنے دونوں ساتھیوں (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر ) کے ساتھ دفن کئے جانے کی اجازت مانگتا ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت عائشہ کے پاس عبداللہ بن عمر آئے تو انھوں نے حضرت عائشہ کو بیٹھے روتے پایا۔ ابن عمر نے سلام کیا پھر کہا۔ عمر بن خطاب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فن کئے جانے کی اجازت مانگتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا۔ خدا کی قسم ! میں تو اس بات کو اپنے لیے چاہتی تھی (یعنی حجرہ میں دفن ہونا) لیکن میں آج اس رات (حجر ہ میں دفن ہونا) میں عمر فاروق کو اپنے اوپر ترجحب دیتی ہوں۔ پھر جب حضرت عبداللہ بن عمر واپس آئے تو کہا گیا۔ یہ عبداللہ بن عمر (واپس آگئے) ہیں۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر نے فرمایا : مجھے اٹھا دو پس ایک آدمی نے انھیں اپنی جانب ٹیک لگا کر اٹھایا تو انھوں نے پوچھا۔ تمہارے پاس کیا (خبر) ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمر نے جواب دیا۔ انھوں نے آپ کے لیے اجازت دے دی ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر نے کہا۔ میرے نزدیک اس سے زیادہ اہم چیز کوئی نہیں تھی۔ پھر آپ نے فرمایا : جب مں گ مر جاؤں تو تم مجھے میری چارپائی پر سوار کر کے پھر اجازت طلب کرنا اور کہنا۔ عمر بن خطاب اجازت مانگ رہا ہے۔ پس اگر وہ مجھے اجازت دے دیں تو تم مجھے اندر داخل کرنا اور اگر وہ مجھے اجازت نہ دیں تو تم مجھے مسلمانوں کے قبرستان کی طرف لوٹا دینا۔ راوی کہتے ہیں : پس جب آپ (کی میت کو) اٹھایا گیا تو (حالت یہ تھی) گویا مسلمانوں اس دن کے سوا کبھی کوئی مصیبت پہنچی ہی نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : چنانچہ (میت لے جا کر) حضرت عبداللہ بن عمر نے سلام کیا اور پوچھا۔ عمر بن خطاب اجازت طلب کر رہے ہیں۔ حضرت عائشہ نے آپ کے لیے اجازت دے دی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر کی معیت کا اعزاز بخشا تھا۔
٦۔ جب حضرت عمر کی موت کا وقت قریب آیا تو لوگوں نے آپ سے کہا۔ آپ کسی کو خلیفہ مقرر کردیں۔ حضرت عمر نے جواب دیا، میں اس منصب کا حق دار ان لوگوں سے زیادہ کسی کو نہیں پاتا کہ جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات کے وقت راضی تھے۔ پس ان میں سے جو بھی خلیفہ بن جائے تو وہی میرے بعد خلیفہ ہوگا۔ پھر حضرت عمر نے حضرت علی ، حضرت عثمان ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر ، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت سعد کا نام لیا۔ پس اگر یہ منصب حضرت سعد کو مل جائے تو ٹھیک ہے وگرنہ ان تمام میں سے جو بھی خلیفہ بنے وہ حضرت سعد سے معاونت حاصل کرے ۔ کیونکہ میں نے ان سے یہ چیز کسی عجز یا خیانت کی وجہ سے نہیں چھینی تھی اور مزید فرمایا۔ عبداللہ بن عمر کو ان سے مشاورت کرنے کا حق ہے لیکن ان کو امر خلافت میں کوئی اختیار نہیں ہوگا۔
٧۔ راوی کہتے ہیں : پھر جب یہ حضرات باہم اکٹھے ہوئے تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے فرمایا۔ تم لوگ اپنا اختیار تین افراد کو دے دو ۔ چنانچہ ۔۔۔راوی کہتے ہیں ۔۔۔حضرت زبیر نے اپنا اختیار حضرت علی کے سپرد کردیا اور حضرت طلحہ نے اپنا اختیار حضرت عثمان کے سپرد کردیا اور حضرت سعد نے اپنا اختیار حضرت عبد الرحمن ابن عوف کے حوالہ کردیا۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ تین لوگ ۔۔۔ جب اختیار ان کے حوالہ ہوگیا تو ۔۔۔ بااختیار ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عبد الرحمن نے فرمایا۔ تم میں سے کون (اپنے) اختیار سے دست بردار ہوتا ہے اور اختیار میرے سپرد کرتا ہے۔ اور میں تمہیں خدا کو گواہ بنا کر یقین دلاتا ہوں کہ میں مسلمانوں کے لیے تم میں بہتر اور افضل کو نظر انداز کر کے یہ (خلافت) نہیں دوں گا ؟ اس پر شیخین ۔۔۔ علی ، عثمان ۔۔۔ خاموش کردیئے گئے تو حضرت عبد الرحمن نے پوچھا۔ تم دونوں اس (امر) کو میرے حوالہ کرتے ہو تاکہ میں اس سے نکلنے کی راہ پیدا کروں۔ خدا کی قسم ! میں مسلمانوں کے لیے تم میں سے بہتر اور افضل شخص کو نظر انداز کر کے یہ (خلافت) حوالہ نہیں کروں گا ؟ ان دونوں نے کہا۔ ٹھیک ہے پھر حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت علی کو خلوت میں لے کر کہا۔ یقیناً تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بنائے قرابت اور فضیلت حاصل ہے تم مجھ سے خدا کو گواہ بنا کر کہو کہ اگر تمہیں خلیفہ بنایا جائے تو تم ضرور بالضرور انصاف کرو گے۔ اور اگر حضرت عثمان کو خلیفہ بنایا جائے تو تم ضرور بالضرور سمع وطاعت کرو گے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت علی نے جواب دیا۔ ہاں ! راوی کہتے ہیں : حضرت عبد الرحمن نے حضرت عثمان کے ساتھ تنہائی میں ایسی بات کہی ۔ تو حضرت عثمان نے بھی عبد الرحمن کو جواب دیا۔ ہاں ! پھر حضرت عبد الرحمن نے کہا۔ اے عثمان ! ہاتھ پھیلاؤ۔ چنانچہ حضرت عثمان نے ہاتھ پھیلایا اور حضرت عبد الرحمن نے ان کی بیعت کرلی پھر حضرت علی اور دیگر لوگوں نے بھی حضرت عثمان کی بیعت کی۔
٨۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا۔ میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور مہاجرین اولین کے بارے میں یہ وصیت کرتا ہوں کہ خلیفہ ان کے حق کو پہچانے اور ان کے احترام کو جانے اور میں خلیفہ کو شہروں والوں کے بارے میں بہتر رویہ کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ اسلام کے پشت پناہ ہوتے ہیں اور دشمن کا غصہ ہوتے ہیں۔ اور اموال کے وصول کنندہ ہوتے ہیں اور یہ کہ ان کے رضا مندی کے بغیر ان سے ان کے فئی نہ لی جائے۔ اور میں خلیفہ کو انصار کے ساتھ اچھائی کی وصیت کرتا ہوں۔ وہ انصار جنہوں نے کہ ان کی اچھائیوں کو قبول کرلے اور ان کی غلطیوں سے درگزر کرے اور میں اس خلیفہ کو دیہاتوں کے ساتھ بہتری کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ عرب کی اصل اور اسلام کا مادہ ہیں۔ (اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ) ان کے اموال سے لے کر ان کے فقراء کی طرف رد کیا جائے۔ اور میں اس خلیفہ کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ذمیوں کے ساتھ ان کے عہد کو نبھایا جائے اور انھیں ان کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہ بنایا جائے اور خلیفہ ان کے اہل خانہ کے (دفاع میں) لڑے۔
٢۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر جب مسجد میں داخل ہوتے تو آپ صفوں کے درمیان کھڑے ہوجاتے اور فرماتے۔ (صفوں میں) سیدھے ہو جاؤ۔ پس جب لوگ سیدھے ہوجاتے تو آپ تکبیر کہتے ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر (جب ایک صبح) آپ نے نماز شروع کی تو آپ کی جگہ وار کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں : پس میں نے آپ کو کہتے سُنا۔ مجھے کتے نے قتل کر ڈالا۔۔۔ یا ۔۔۔مجھے کُتّے نے کھالیا۔ راوی عمروکہتے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ کیا کہا ؟ میرے اور ان کے درمیان حضرت ابن عباس کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ پھر حضرت عمر نے عبد الرحمن بن عوف کو ہاتھ سے پکڑا اور آگے کر دیا۔۔۔وہ قاتل دوڑنے لگا جبکہ اس کے ہاتھ میں دو دھاری چھری تھی وہ دائیں بائیں جس آدمی کے پاس سے گزرتا اس کو مارتا جاتا یہاں تک کہ اس نے تیرہ لوگوں کو زخمی کردیا۔ پھر ان زخمیوں میں سے نو افراد وفات بھی پا گئے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب یہ منظر ایک مسلمان نے دیکھا تو اس نے اس کو پکڑنے کے لیے اس پر ایک بڑی چادر ڈال دی۔ پھر جب اس قاتل کو یہ یقین ہوگیا کہ وہ پکڑا جائے گا تو اس نے خود کو ذبح کرلیا۔
٣۔ راوی کہتے ہیں : پس ہم نے فجر کی ہلکی سی نماز ادا کی۔ راوی کہتے ہیں : مسجد کے کناروں والے لوگوں کو پتہ ہی نہیں لگا کہ کیا معاملہ ہوا ہے۔ ہاں جب انھوں نے حضرت عمر (کی آواز) کو نہ پایا تو یہ کہنا شروع کیا۔ سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! پھر جب لوگ چلے گئے تو پہلا شخص جو حضرت عمر کے پاس آیا وہ حضرت ابن عباس تھے۔ حضرت عمر نے (ان سے) کہا۔ دیکھو (معلوم کرو) مجھے کس نے قتل کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن عباس تھوڑا سا گھوم کر واپس آئے اور بتایا۔ حضرت مغیرۃ کے کاریگر غلام نے ۔ اور یہ غلام بڑھئی تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے میری موت کسی ایسے آدمی کے ہاتھ سے واقع نہیں کی جو اسلام کا دعویدار ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کرے۔ یقیناً میں نے اس کو بھلائی کا حکم دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر نے ابن عباس سے کہا۔ تحقیق تم اور تمہارے والد اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مدینہ منورہ میں علوج زیادہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ ابن عباس نے کہا۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم یہ کرتے۔” انھوں نے کہا کہ بعد اس کے کہ تم اپنی بات کرچکے، اپنی نماز پڑھ چکے اور اپنے نسک ادا کرچکے۔ “
٤۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے حضرت عمر سے کہا۔ آپ کو کوئی (بڑا) مسئلہ نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر نے نبیذ منگوائی اور اس کو پیا لیکن وہ آپ کے زخموں سے باہر نکل گئی۔ پھر حضرت عمر نے دودھ منگوایا اور اس کو پیا لیکن وہ بھی آپ کے زخموں سے باہر نکل گیا۔ چنانچہ آپ کو موت کا یقین ہوگیا ۔ تو آپ نے عبداللہ بن عمر سے کہا۔ مجھ پر جو قرض ہے اس کو دیکھو اور اس کا حساب کرو۔ ابن عمر نے کہا۔ چھیاسی ہزار ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ اگر یہ قرض آلِ عمر کے مال سے پورا ہوجائے تو میری طرف سے ان کے اموال میں سے اس قرض کو ادا کردو۔ وگرنہ بنو عدی بن کعب سے مانگ لینا۔ پھر اگر یہ قرض ان کے اموال سے پورا ہوجائے تو ٹھیک وگرنہ قریش سے مانگ لینا اور ان کے سوا اور کسی سے نہ مانگنا۔ اور یہ میری طرف سے قرضہ ادا کردینا۔
٥۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ کی طرف جاؤ اور (انہیں) سلام کرو اور کہو۔ عمر بن خطاب ۔۔۔ امیر المؤمنین کا لفظ نہ کہنا کیونکہ میں اس وقت لوگوں کا امیر نہیں ہوں ۔۔۔اپنے دونوں ساتھیوں (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر ) کے ساتھ دفن کئے جانے کی اجازت مانگتا ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت عائشہ کے پاس عبداللہ بن عمر آئے تو انھوں نے حضرت عائشہ کو بیٹھے روتے پایا۔ ابن عمر نے سلام کیا پھر کہا۔ عمر بن خطاب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فن کئے جانے کی اجازت مانگتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا۔ خدا کی قسم ! میں تو اس بات کو اپنے لیے چاہتی تھی (یعنی حجرہ میں دفن ہونا) لیکن میں آج اس رات (حجر ہ میں دفن ہونا) میں عمر فاروق کو اپنے اوپر ترجحب دیتی ہوں۔ پھر جب حضرت عبداللہ بن عمر واپس آئے تو کہا گیا۔ یہ عبداللہ بن عمر (واپس آگئے) ہیں۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر نے فرمایا : مجھے اٹھا دو پس ایک آدمی نے انھیں اپنی جانب ٹیک لگا کر اٹھایا تو انھوں نے پوچھا۔ تمہارے پاس کیا (خبر) ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمر نے جواب دیا۔ انھوں نے آپ کے لیے اجازت دے دی ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر نے کہا۔ میرے نزدیک اس سے زیادہ اہم چیز کوئی نہیں تھی۔ پھر آپ نے فرمایا : جب مں گ مر جاؤں تو تم مجھے میری چارپائی پر سوار کر کے پھر اجازت طلب کرنا اور کہنا۔ عمر بن خطاب اجازت مانگ رہا ہے۔ پس اگر وہ مجھے اجازت دے دیں تو تم مجھے اندر داخل کرنا اور اگر وہ مجھے اجازت نہ دیں تو تم مجھے مسلمانوں کے قبرستان کی طرف لوٹا دینا۔ راوی کہتے ہیں : پس جب آپ (کی میت کو) اٹھایا گیا تو (حالت یہ تھی) گویا مسلمانوں اس دن کے سوا کبھی کوئی مصیبت پہنچی ہی نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : چنانچہ (میت لے جا کر) حضرت عبداللہ بن عمر نے سلام کیا اور پوچھا۔ عمر بن خطاب اجازت طلب کر رہے ہیں۔ حضرت عائشہ نے آپ کے لیے اجازت دے دی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر کی معیت کا اعزاز بخشا تھا۔
٦۔ جب حضرت عمر کی موت کا وقت قریب آیا تو لوگوں نے آپ سے کہا۔ آپ کسی کو خلیفہ مقرر کردیں۔ حضرت عمر نے جواب دیا، میں اس منصب کا حق دار ان لوگوں سے زیادہ کسی کو نہیں پاتا کہ جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات کے وقت راضی تھے۔ پس ان میں سے جو بھی خلیفہ بن جائے تو وہی میرے بعد خلیفہ ہوگا۔ پھر حضرت عمر نے حضرت علی ، حضرت عثمان ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر ، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت سعد کا نام لیا۔ پس اگر یہ منصب حضرت سعد کو مل جائے تو ٹھیک ہے وگرنہ ان تمام میں سے جو بھی خلیفہ بنے وہ حضرت سعد سے معاونت حاصل کرے ۔ کیونکہ میں نے ان سے یہ چیز کسی عجز یا خیانت کی وجہ سے نہیں چھینی تھی اور مزید فرمایا۔ عبداللہ بن عمر کو ان سے مشاورت کرنے کا حق ہے لیکن ان کو امر خلافت میں کوئی اختیار نہیں ہوگا۔
٧۔ راوی کہتے ہیں : پھر جب یہ حضرات باہم اکٹھے ہوئے تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے فرمایا۔ تم لوگ اپنا اختیار تین افراد کو دے دو ۔ چنانچہ ۔۔۔راوی کہتے ہیں ۔۔۔حضرت زبیر نے اپنا اختیار حضرت علی کے سپرد کردیا اور حضرت طلحہ نے اپنا اختیار حضرت عثمان کے سپرد کردیا اور حضرت سعد نے اپنا اختیار حضرت عبد الرحمن ابن عوف کے حوالہ کردیا۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ تین لوگ ۔۔۔ جب اختیار ان کے حوالہ ہوگیا تو ۔۔۔ بااختیار ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عبد الرحمن نے فرمایا۔ تم میں سے کون (اپنے) اختیار سے دست بردار ہوتا ہے اور اختیار میرے سپرد کرتا ہے۔ اور میں تمہیں خدا کو گواہ بنا کر یقین دلاتا ہوں کہ میں مسلمانوں کے لیے تم میں بہتر اور افضل کو نظر انداز کر کے یہ (خلافت) نہیں دوں گا ؟ اس پر شیخین ۔۔۔ علی ، عثمان ۔۔۔ خاموش کردیئے گئے تو حضرت عبد الرحمن نے پوچھا۔ تم دونوں اس (امر) کو میرے حوالہ کرتے ہو تاکہ میں اس سے نکلنے کی راہ پیدا کروں۔ خدا کی قسم ! میں مسلمانوں کے لیے تم میں سے بہتر اور افضل شخص کو نظر انداز کر کے یہ (خلافت) حوالہ نہیں کروں گا ؟ ان دونوں نے کہا۔ ٹھیک ہے پھر حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت علی کو خلوت میں لے کر کہا۔ یقیناً تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بنائے قرابت اور فضیلت حاصل ہے تم مجھ سے خدا کو گواہ بنا کر کہو کہ اگر تمہیں خلیفہ بنایا جائے تو تم ضرور بالضرور انصاف کرو گے۔ اور اگر حضرت عثمان کو خلیفہ بنایا جائے تو تم ضرور بالضرور سمع وطاعت کرو گے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت علی نے جواب دیا۔ ہاں ! راوی کہتے ہیں : حضرت عبد الرحمن نے حضرت عثمان کے ساتھ تنہائی میں ایسی بات کہی ۔ تو حضرت عثمان نے بھی عبد الرحمن کو جواب دیا۔ ہاں ! پھر حضرت عبد الرحمن نے کہا۔ اے عثمان ! ہاتھ پھیلاؤ۔ چنانچہ حضرت عثمان نے ہاتھ پھیلایا اور حضرت عبد الرحمن نے ان کی بیعت کرلی پھر حضرت علی اور دیگر لوگوں نے بھی حضرت عثمان کی بیعت کی۔
٨۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا۔ میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور مہاجرین اولین کے بارے میں یہ وصیت کرتا ہوں کہ خلیفہ ان کے حق کو پہچانے اور ان کے احترام کو جانے اور میں خلیفہ کو شہروں والوں کے بارے میں بہتر رویہ کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ اسلام کے پشت پناہ ہوتے ہیں اور دشمن کا غصہ ہوتے ہیں۔ اور اموال کے وصول کنندہ ہوتے ہیں اور یہ کہ ان کے رضا مندی کے بغیر ان سے ان کے فئی نہ لی جائے۔ اور میں خلیفہ کو انصار کے ساتھ اچھائی کی وصیت کرتا ہوں۔ وہ انصار جنہوں نے کہ ان کی اچھائیوں کو قبول کرلے اور ان کی غلطیوں سے درگزر کرے اور میں اس خلیفہ کو دیہاتوں کے ساتھ بہتری کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ عرب کی اصل اور اسلام کا مادہ ہیں۔ (اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ) ان کے اموال سے لے کر ان کے فقراء کی طرف رد کیا جائے۔ اور میں اس خلیفہ کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ذمیوں کے ساتھ ان کے عہد کو نبھایا جائے اور انھیں ان کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہ بنایا جائے اور خلیفہ ان کے اہل خانہ کے (دفاع میں) لڑے۔
(۳۸۲۱۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، قَالَ : جِئْتُ وَإِذَا عُمَرُ وَاقِفٌ عَلَی حُذَیْفَۃَ ، وَعُثْمَانَ بْنِ حُنَیْفٍ ، فَقَالَ : تَخَافَانِ أَنْ تَکُونَا حَمَّلْتُمَا الأَرْضَ مَا لاَ تُطِیقُ ، فَقَالَ : حُذَیْفَۃُ : لَوْ شِئْتُ لأَضْعَفْتُ أَرْضِی ، وَقَالَ عُثْمَان : لَقَدْ حَمَّلْتُ أَرْضِی أَمْرًا ہِیَ لَہُ مُطِیقَۃٌ، وَمَا فِیہَا کَثِیرُ فَضْلٍ ، فَقَالَ : اُنْظُرَا مَا لَدَیْکُمَا ، أَنْ تَکُونَا حَمَّلْتُمَا الأَرْضَ مَا لاَ تُطِیقُ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللہِ لَئِنْ سَلَّمَنِی اللَّہُ ، لأَدَعَنْ أَرَامِلَ أَہْلِ الْعِرَاقِ لاَ یَحْتَجْنَ بَعْدِی إِلَی أَحَدٍ أَبَدًا ، قَالَ : فَمَا أَتَتْ عَلَیْہِ إِلاَّ أَرْبَعَۃٌ حَتَّی أُصِیبَ۔
قَالَ: وَکَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَامَ بَیْنَ الصُّفُوفِ ، فَقَالَ : اسْتَوُوا ، فَإِذَا اسْتَوَوْا تَقَدَّمَ فَکَبَّرَ ، قَالَ: فَلَمَّا کَبَّرَ طُعِنَ مَکَانَہُ، قَالَ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: قَتَلَنِی الْکَلْبُ، أَوْ أَکَلَنِی الْکَلْبُ، قَالَ عَمْرٌو: مَا أَدْرِی أَیُّہُمَا قَالَ؟ وَمَا بَیْنِی وَبَیْنَہُ غَیْرَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَأَخَذَ عُمَرُ بِیَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَدَّمَہُ ، وَطَارَ الْعِلْجُ وَبِیَدِہِ سِکِّینٌ ذَاتُ طَرَفَیْنِ، مَا یَمُرُّ بِرَجُلٍ یَمِینًا، وَلاَ شِمَالاً إِلاَّ طَعَنَہُ حَتَّی أَصَابَ مِنْہُمْ ثَلاَثَۃَ عَشَرَ رَجُلا ، فَمَاتَ مِنْہُمْ تِسْعَۃٌ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ طَرَحَ عَلَیْہِ بُرْنُسًا لِیَأْخُذَہُ ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّہُ مَأْخُوذٌ نَحَرَ نَفْسَہُ۔
قَالَ : فَصَلَّیْنَا الْفَجْرَ صَلاَۃً خَفِیفَۃً ، قَالَ : فَأَمَّا نَوَاحِی الْمَسْجِدِ فَلاَ یَدْرُونَ مَا الأَمْرُ إِلاَّ أَنَّہُمْ حَیْثُ فَقَدُوا صَوْتَ عُمَرَ ، جَعَلُوا یَقُولُونَ : سُبْحَانَ اللہِ ، مَرَّتَیْنِ ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا کَانَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ عَلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : اُنْظُرْ مَنْ قَتَلَنِی ؟ قَالَ : فَجَالَ سَاعَۃً ، ثُمَّ جَائَ ، فَقَالَ : غُلاَمُ الْمُغِیرَۃِ الصَّنَّاعُ ، وَکَانَ نَجَّارًا ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَجْعَلْ مُنْیَتِی بِیَدِ رَجُلٍ یَدَّعِی الإِسْلاَمَ ، قَاتَلَہُ اللَّہُ ، لَقَدْ أَمَرْتُ بِہِ مَعْرُوفًا ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ لابْنِ عَبَّاسٍ : لَقَدْ کُنْتَ أَنْتَ وَأَبُوک تُحِبَّانِ أَنْ تَکْثُرَ الْعُلُوج بِالْمَدِینَۃِ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنْ شِئْتَ فَعَلْنَا ، فَقَالَ : بَعْدَ مَا تَکَلَّمُوا بِکَلاَمِکُمْ وَصَلَّوْا صَلاَتَکُمْ وَنَسَکُوا نُسُکَکُمْ ؟۔
قَالَ: فَقَالَ لَہُ النَّاسُ: لَیْسَ عَلَیْک بَأْسٌ ، قَالَ: فَدَعَا بِنَبِیذٍ فَشَرِبَ ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ ، ثُمَّ دَعَا بِلَبَنٍ فَشَرِبَہُ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ ، فَظَنَّ أَنَّہُ الْمَوْتُ ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ : اُنْظُرْ مَا عَلَیَّ مِنَ الدَّیْنِ فَاحْسِبْہُ ، فَقَالَ : سِتَّۃً وَثَمَانِینَ أَلْفًا ، فَقَالَ : إِنْ وَفَی بِہَا مَالُ آلِ عُمَرَ فَأَدِّہَا عَنِّی مِنْ أَمْوَالِہِمْ ، وَإِلاَّ فَسَلْ بَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ، فَإِنْ تَفِی مِنْ أَمْوَالِہِمْ وَإِلاَّ فَسَلْ قُرَیْشًا ، وَلاَ تَعْدُہُمْ إِلَی غَیْرِہِمْ ، فَأَدِّہَا عَنِّی۔
اذْہَبْ إِلَی عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ ، فَسَلِّمْ وَقُلْ : یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَلاَ تَقُلْ : أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ ، فَإِنِّی لَسْتُ لَہُمُ الْیَوْمَ بِأَمِیرٍ ، أَنْ یُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَیْہِ ، قَالَ : فَأَتَاہَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ فَوَجَدَہَا قَاعِدَۃً تَبْکِی ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ : یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ یُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَیْہِ ، قَالَتْ : قَدْ وَاللہِ کُنْتُ أُرِیدُہُ لِنَفْسِی ، وَلأُوثِرَنَّہُ الْیَوْمَ عَلَی نَفْسِی ، فَلَمَّا جَائَ ، قِیلَ : ہَذَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : فَقَالَ : ارْفَعَانِی ، فَأَسْنَدَہُ رَجُلٌ إِلَیْہِ ، فَقَالَ: مَا لَدَیْک ؟ قَالَ : أَذِنَتْ لَک ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : مَا کَانَ شَیْئٌ أَہَمَّ عِنْدِی مِنْ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا أَنَا مِتُّ فَاحْمِلُونِی عَلَی سَرِیرِی ، ثُمَّ اسْتَأْذِنْ ، فَقُلْ : یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَإِنْ أَذِنَتْ لَک ؛ فَأَدْخِلْنِی ، وَإِنْ لَمْ تَأْذَنْ فَرُدَّنِی إِلَی مَقَابِرِ الْمُسْلِمِینَ ، قَالَ : فَلَمَّا حُمِلَ کَأَنَّ النَّاسَ لَمْ تُصِبْہُمْ مُصِیبَۃٌ إِلاَّ یَوْمَئِذٍ ، قَالَ : فَسَلَّمَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، وَقَالَ : یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَأَذِنَتْ لَہُ ، حَیْثُ أَکْرَمَہُ اللَّہُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ۔
فَقَالُوا لَہُ حِینَ حَضَرَہُ الْمَوْتُ : اسْتَخْلِفْ ، فَقَالَ : لاَ أَجِدُ أَحَدًا أَحَقُّ بِہَذَا الأَمْرِ مِنْ ہَؤُلاَئِ النَّفَرِ ، الَّذِینَ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَنْہُمْ رَاضٍ ، فَأَیَّہُمُ اسْتَخْلَفُوا فَہُوَ الْخَلِیفَۃُ بَعْدِی ، فَسَمَّی عَلِیًّا ، وَعُثْمَانَ ، وَطَلْحَۃَ ، وَالزُّبَیْرَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ ، وَسَعْدًا ، فَإِنْ أَصَابَتْ سَعْدًا فَذَلِکَ ، وَإِلاَّ فَأَیُّہُمُ اسْتُخْلِفَ فَلْیَسْتَعِنْ بِہِ ، فَإِنِّی لَمْ أَنْزَعْہُ عَنْ عَجْزٍ ، وَلاَ خِیَانَۃٍ ،
قَالَ : وَجَعَلَ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ یُشَاوِرُ مَعَہُمْ ، وَلَیْسَ لَہُ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ۔
قَالَ : فَلَمَّا اجْتَمَعُوا ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : اجْعَلُوا أَمْرَکُمْ إِلَی ثَلاَثَۃِ نَفَرٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ الزُّبَیْرُ أَمْرَہُ إِلَی عَلِیٍّ، وَجَعَلَ طَلْحَۃُ أَمْرَہُ إِلَی عُثْمَانَ، وَجَعَلَ سَعْدٌ أَمْرَہُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: فَأَتْمِرُوا أُولَئِکَ الثَّلاَثَۃَ حِینَ جُعِلَ الأَمْرُ إِلَیْہِمْ ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَیُّکُمْ یَتَبَرَّأُ مِنَ الأَمْرِ وَیَجْعَلُ الأَمْرَ إِلَیَّ ، وَلَکُمُ اللَّہُ عَلَیَّ أَنْ لاَ آلُو عَنْ أَفْضَلِکُمْ وَخَیْرِکُمْ لِلْمُسْلِمِینَ؟ فَأُسْکِتَ الشَّیْخَانِ عَلِیٌّ وَعُثْمَان، فَقَالَ عَبْدُالرَّحْمَنِ: تَجْعَلاَنِہِ إِلَیَّ وَأَنَا أَخْرُجُ مِنْہَا ، فَوَاللہِ لاَ آلُوکُمْ عَنْ أَفْضَلِکُمْ وَخَیْرِکُمْ لِلْمُسْلِمِینَ؟ قَالَوا: نَعَمْ، فَخَلاَ بِعَلِیٍّ، فَقَالَ: إِنَّ لَک مِنَ الْقَرَابَۃِ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْقَدَمِ ، وَلِی اللَّہُ عَلَیْک لَئِنِ اسْتُخْلِفْتَ لَتَعْدِلَنَّ ، وَلَئِنِ اسْتُخْلِفَ عُثْمَان لَتَسْمَعَن وَلَتُطِیعُنَّ ؟ قَالَ : فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَخَلاَ بِعُثْمَانَ ، فَقَالَ : مِثْلَ ذَلِکَ ، فَقَالَ لَہُ عُثْمَان : نَعَمْ ، ثُمَّ قَالَ : یَا عُثْمَان ، أَبْسِطْ یَدَک ، فَبَسَطَ یَدَہُ فَبَایَعَہُ ، وَبَایَعَہُ عَلِیٌّ وَالنَّاسُ۔
ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : أُوصِی الْخَلِیفَۃَ مِنْ بَعْدِی بِتَقْوَی اللہِ ، وَالْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ أَنْ یَعْرِفَ لَہُمْ حَقَّہُمْ ، وَیَعْرِفَ لَہُمْ حُرْمَتَہُمْ ، وَأُوصِیہِ بِأَہْلِ الأَمْصَارِ خَیْرًا ، فَإِنَّہُمْ رِدْئُ الإِسْلاَمِ ، وَغَیْظُ الْعَدُوِّ ، وَجُبَاۃِ الأَمْوَالِ ، أَنْ لاَ یُؤْخَذَ مِنْہُمْ فَیْؤُہُمْ إِلاَّعَنْ رِضًا مِنْہُمْ ، وَأُوصِیہِ بِالأَنْصَارِ خَیْرًا ؛ الَّذِینَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ ، أَنْ یَقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَیَتَجَاوَزَ عَنْ مُسِیئِہِمْ ، وَأُوصِیہِ بِالأَعْرَابِ خَیْرًا ، فَإِنَّہُمْ أَصْلُ الْعَرَبِ وَمَادَّۃُ الإِسْلاَمِ ، أَنْ یُؤْخَذَ مِنْ حَوَاشِی أَمْوَالِہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ ، وَأُوصِیہِ بِذِمَّۃِ اللہِ وَذِمَّۃِ رَسُولِہِ ، أَنْ یُوفِیَ لَہُمْ بِعَہْدِہِمْ ، وَأَنْ لاَ یُکَلَّفُوا إِلاَّ طَاقَتَہُمْ ، وَأَنْ یُقَاتِلَ مَنْ وَرَائَہُمْ۔ (بخاری ۱۳۹۲)
قَالَ: وَکَانَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَامَ بَیْنَ الصُّفُوفِ ، فَقَالَ : اسْتَوُوا ، فَإِذَا اسْتَوَوْا تَقَدَّمَ فَکَبَّرَ ، قَالَ: فَلَمَّا کَبَّرَ طُعِنَ مَکَانَہُ، قَالَ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: قَتَلَنِی الْکَلْبُ، أَوْ أَکَلَنِی الْکَلْبُ، قَالَ عَمْرٌو: مَا أَدْرِی أَیُّہُمَا قَالَ؟ وَمَا بَیْنِی وَبَیْنَہُ غَیْرَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَأَخَذَ عُمَرُ بِیَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَدَّمَہُ ، وَطَارَ الْعِلْجُ وَبِیَدِہِ سِکِّینٌ ذَاتُ طَرَفَیْنِ، مَا یَمُرُّ بِرَجُلٍ یَمِینًا، وَلاَ شِمَالاً إِلاَّ طَعَنَہُ حَتَّی أَصَابَ مِنْہُمْ ثَلاَثَۃَ عَشَرَ رَجُلا ، فَمَاتَ مِنْہُمْ تِسْعَۃٌ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ طَرَحَ عَلَیْہِ بُرْنُسًا لِیَأْخُذَہُ ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّہُ مَأْخُوذٌ نَحَرَ نَفْسَہُ۔
قَالَ : فَصَلَّیْنَا الْفَجْرَ صَلاَۃً خَفِیفَۃً ، قَالَ : فَأَمَّا نَوَاحِی الْمَسْجِدِ فَلاَ یَدْرُونَ مَا الأَمْرُ إِلاَّ أَنَّہُمْ حَیْثُ فَقَدُوا صَوْتَ عُمَرَ ، جَعَلُوا یَقُولُونَ : سُبْحَانَ اللہِ ، مَرَّتَیْنِ ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا کَانَ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ عَلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : اُنْظُرْ مَنْ قَتَلَنِی ؟ قَالَ : فَجَالَ سَاعَۃً ، ثُمَّ جَائَ ، فَقَالَ : غُلاَمُ الْمُغِیرَۃِ الصَّنَّاعُ ، وَکَانَ نَجَّارًا ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَجْعَلْ مُنْیَتِی بِیَدِ رَجُلٍ یَدَّعِی الإِسْلاَمَ ، قَاتَلَہُ اللَّہُ ، لَقَدْ أَمَرْتُ بِہِ مَعْرُوفًا ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ لابْنِ عَبَّاسٍ : لَقَدْ کُنْتَ أَنْتَ وَأَبُوک تُحِبَّانِ أَنْ تَکْثُرَ الْعُلُوج بِالْمَدِینَۃِ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنْ شِئْتَ فَعَلْنَا ، فَقَالَ : بَعْدَ مَا تَکَلَّمُوا بِکَلاَمِکُمْ وَصَلَّوْا صَلاَتَکُمْ وَنَسَکُوا نُسُکَکُمْ ؟۔
قَالَ: فَقَالَ لَہُ النَّاسُ: لَیْسَ عَلَیْک بَأْسٌ ، قَالَ: فَدَعَا بِنَبِیذٍ فَشَرِبَ ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ ، ثُمَّ دَعَا بِلَبَنٍ فَشَرِبَہُ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ ، فَظَنَّ أَنَّہُ الْمَوْتُ ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ : اُنْظُرْ مَا عَلَیَّ مِنَ الدَّیْنِ فَاحْسِبْہُ ، فَقَالَ : سِتَّۃً وَثَمَانِینَ أَلْفًا ، فَقَالَ : إِنْ وَفَی بِہَا مَالُ آلِ عُمَرَ فَأَدِّہَا عَنِّی مِنْ أَمْوَالِہِمْ ، وَإِلاَّ فَسَلْ بَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ، فَإِنْ تَفِی مِنْ أَمْوَالِہِمْ وَإِلاَّ فَسَلْ قُرَیْشًا ، وَلاَ تَعْدُہُمْ إِلَی غَیْرِہِمْ ، فَأَدِّہَا عَنِّی۔
اذْہَبْ إِلَی عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ ، فَسَلِّمْ وَقُلْ : یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَلاَ تَقُلْ : أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ ، فَإِنِّی لَسْتُ لَہُمُ الْیَوْمَ بِأَمِیرٍ ، أَنْ یُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَیْہِ ، قَالَ : فَأَتَاہَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ فَوَجَدَہَا قَاعِدَۃً تَبْکِی ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ : یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ یُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَیْہِ ، قَالَتْ : قَدْ وَاللہِ کُنْتُ أُرِیدُہُ لِنَفْسِی ، وَلأُوثِرَنَّہُ الْیَوْمَ عَلَی نَفْسِی ، فَلَمَّا جَائَ ، قِیلَ : ہَذَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : فَقَالَ : ارْفَعَانِی ، فَأَسْنَدَہُ رَجُلٌ إِلَیْہِ ، فَقَالَ: مَا لَدَیْک ؟ قَالَ : أَذِنَتْ لَک ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : مَا کَانَ شَیْئٌ أَہَمَّ عِنْدِی مِنْ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا أَنَا مِتُّ فَاحْمِلُونِی عَلَی سَرِیرِی ، ثُمَّ اسْتَأْذِنْ ، فَقُلْ : یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَإِنْ أَذِنَتْ لَک ؛ فَأَدْخِلْنِی ، وَإِنْ لَمْ تَأْذَنْ فَرُدَّنِی إِلَی مَقَابِرِ الْمُسْلِمِینَ ، قَالَ : فَلَمَّا حُمِلَ کَأَنَّ النَّاسَ لَمْ تُصِبْہُمْ مُصِیبَۃٌ إِلاَّ یَوْمَئِذٍ ، قَالَ : فَسَلَّمَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، وَقَالَ : یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَأَذِنَتْ لَہُ ، حَیْثُ أَکْرَمَہُ اللَّہُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ۔
فَقَالُوا لَہُ حِینَ حَضَرَہُ الْمَوْتُ : اسْتَخْلِفْ ، فَقَالَ : لاَ أَجِدُ أَحَدًا أَحَقُّ بِہَذَا الأَمْرِ مِنْ ہَؤُلاَئِ النَّفَرِ ، الَّذِینَ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَنْہُمْ رَاضٍ ، فَأَیَّہُمُ اسْتَخْلَفُوا فَہُوَ الْخَلِیفَۃُ بَعْدِی ، فَسَمَّی عَلِیًّا ، وَعُثْمَانَ ، وَطَلْحَۃَ ، وَالزُّبَیْرَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ ، وَسَعْدًا ، فَإِنْ أَصَابَتْ سَعْدًا فَذَلِکَ ، وَإِلاَّ فَأَیُّہُمُ اسْتُخْلِفَ فَلْیَسْتَعِنْ بِہِ ، فَإِنِّی لَمْ أَنْزَعْہُ عَنْ عَجْزٍ ، وَلاَ خِیَانَۃٍ ،
قَالَ : وَجَعَلَ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ یُشَاوِرُ مَعَہُمْ ، وَلَیْسَ لَہُ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ۔
قَالَ : فَلَمَّا اجْتَمَعُوا ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : اجْعَلُوا أَمْرَکُمْ إِلَی ثَلاَثَۃِ نَفَرٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ الزُّبَیْرُ أَمْرَہُ إِلَی عَلِیٍّ، وَجَعَلَ طَلْحَۃُ أَمْرَہُ إِلَی عُثْمَانَ، وَجَعَلَ سَعْدٌ أَمْرَہُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: فَأَتْمِرُوا أُولَئِکَ الثَّلاَثَۃَ حِینَ جُعِلَ الأَمْرُ إِلَیْہِمْ ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَیُّکُمْ یَتَبَرَّأُ مِنَ الأَمْرِ وَیَجْعَلُ الأَمْرَ إِلَیَّ ، وَلَکُمُ اللَّہُ عَلَیَّ أَنْ لاَ آلُو عَنْ أَفْضَلِکُمْ وَخَیْرِکُمْ لِلْمُسْلِمِینَ؟ فَأُسْکِتَ الشَّیْخَانِ عَلِیٌّ وَعُثْمَان، فَقَالَ عَبْدُالرَّحْمَنِ: تَجْعَلاَنِہِ إِلَیَّ وَأَنَا أَخْرُجُ مِنْہَا ، فَوَاللہِ لاَ آلُوکُمْ عَنْ أَفْضَلِکُمْ وَخَیْرِکُمْ لِلْمُسْلِمِینَ؟ قَالَوا: نَعَمْ، فَخَلاَ بِعَلِیٍّ، فَقَالَ: إِنَّ لَک مِنَ الْقَرَابَۃِ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْقَدَمِ ، وَلِی اللَّہُ عَلَیْک لَئِنِ اسْتُخْلِفْتَ لَتَعْدِلَنَّ ، وَلَئِنِ اسْتُخْلِفَ عُثْمَان لَتَسْمَعَن وَلَتُطِیعُنَّ ؟ قَالَ : فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَخَلاَ بِعُثْمَانَ ، فَقَالَ : مِثْلَ ذَلِکَ ، فَقَالَ لَہُ عُثْمَان : نَعَمْ ، ثُمَّ قَالَ : یَا عُثْمَان ، أَبْسِطْ یَدَک ، فَبَسَطَ یَدَہُ فَبَایَعَہُ ، وَبَایَعَہُ عَلِیٌّ وَالنَّاسُ۔
ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : أُوصِی الْخَلِیفَۃَ مِنْ بَعْدِی بِتَقْوَی اللہِ ، وَالْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ أَنْ یَعْرِفَ لَہُمْ حَقَّہُمْ ، وَیَعْرِفَ لَہُمْ حُرْمَتَہُمْ ، وَأُوصِیہِ بِأَہْلِ الأَمْصَارِ خَیْرًا ، فَإِنَّہُمْ رِدْئُ الإِسْلاَمِ ، وَغَیْظُ الْعَدُوِّ ، وَجُبَاۃِ الأَمْوَالِ ، أَنْ لاَ یُؤْخَذَ مِنْہُمْ فَیْؤُہُمْ إِلاَّعَنْ رِضًا مِنْہُمْ ، وَأُوصِیہِ بِالأَنْصَارِ خَیْرًا ؛ الَّذِینَ تَبَوَّؤُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ ، أَنْ یَقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَیَتَجَاوَزَ عَنْ مُسِیئِہِمْ ، وَأُوصِیہِ بِالأَعْرَابِ خَیْرًا ، فَإِنَّہُمْ أَصْلُ الْعَرَبِ وَمَادَّۃُ الإِسْلاَمِ ، أَنْ یُؤْخَذَ مِنْ حَوَاشِی أَمْوَالِہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ ، وَأُوصِیہِ بِذِمَّۃِ اللہِ وَذِمَّۃِ رَسُولِہِ ، أَنْ یُوفِیَ لَہُمْ بِعَہْدِہِمْ ، وَأَنْ لاَ یُکَلَّفُوا إِلاَّ طَاقَتَہُمْ ، وَأَنْ یُقَاتِلَ مَنْ وَرَائَہُمْ۔ (بخاری ۱۳۹۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢١٥) حضرت عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کی موت کا وقت جب قریب ہوا تو آپ نے فرمایا۔ حضرت علی ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر ، حضرت عثمان ، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت سعد کو میرے پاس بلاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت عمر نے (ان میں سے) صرف حضرت علی اور حضرت عثمان سے گفتگو فرمائی۔ چنانچہ آپ نے کہا۔ اے علی ! شاید یہ لوگ تمہارے بارے میں قرابت (نبوی) کو اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہیں علم اور فقہ عطاء کی ہے اس کو پہچانیں۔ پس تم اللہ سے ڈرنا۔ اور اگر تمہیں اس کام (خلافت) کی سپردگی ہوجائے تو تم بنو فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا (یعنی برتری نہ دینا) ور حضرت عمر نے حضرت عثمان سے کہا۔ اے عثمان ! شاید یہ لوگ تمہارا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دامادی کا رشتہ، اور تمہاری عمر اور تمہاری شرافت کو پہچانیں۔ پس اگر تم اس امر (خلافت) کے متولی ٹھہرے تو اللہ سے ڈرنا اور بنو فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ حضرت صہیب کو میرے پاس بلاؤ۔ اور آپ نے (انہیں) کہا۔ تم تین دن تک لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ ان (مذکورہ بالا) افراد کو چاہیے کہ اکٹھے ہوں اور خلوت میں (کوئی فیصلہ) کریں۔ پھر اگر یہ لوگ کسی ایک آدمی پر اکٹھے ہوجائیں تو اس کی مخالفت کرنے والے کا سر مار دو ۔
(۳۸۲۱۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ الأَوْدِیِّ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا حُضِرَ ، قَالَ : اُدْعُوا لِی عَلِیًّا ، وَطَلْحَۃَ ، وَالزُّبَیْرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ ، وَسَعْدًا ، قَالَ : فَلَمْ یُکَلِّمْ أَحَدًا مِنْہُمْ إِلاَّ عَلِیًّا ، وَعُثْمَانَ ، فَقَالَ : یَا عَلِیُّ ، لَعَلَّ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ یَعْرِفُونَ لَکَ قَرَابَتَکَ ، وَمَا آتَاک اللَّہُ مِنَ الْعِلْمِ وَالْفِقْہِ ، فَاتَّقِ اللَّہَ ، وَإِنْ وُلِّیتَ ہَذَا الأَمْرَ فَلاَ تَرْفَعْنَ بَنِی فُلاَنٍ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ ، وَقَالَ لِعُثْمَانَ : یَا عُثْمَان ، إِنَّ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ لَعَلَّہُمْ یَعْرِفُونَ لَک صِہْرَک مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسِنَّک ، وَشَرَفَک ، فَإِنْ أَنْتَ وُلِّیتَ ہَذَا الأَمْرَ فَاتَّقِ اللَّہَ ، وَلاَ تَرْفَعْ بَنِی فُلاَنٍ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ ، فَقَالَ : اُدْعُوا لِی صُہَیْبًا ، فَقَالَ : صَلِّ بِالنَّاسِ ثَلاَثًا ، وَلْیَجْتَمِعْ ہَؤُلاَئِ الرَّہْطُ فَلِیَخْلُوا ، فَإِنْ أَجْمَعُوا عَلَی رَجُلٍ ، فَاضْرِبُوا رَأْسَ مَنْ خَالَفَہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢١٦) حضرت عیسیٰ بن طلحہ اور حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا : تمہیں صہیب تین دن نماز پڑھائیں۔ اور تم دیکھو اگر تو یہی (خلیفہ منتخب) ہوجائیں تو ٹھیک وگرنہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت تین دن سے زیادہ عبث نہیں چھوڑی جائے گی۔
(۳۸۲۱۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی ، عَنْ عَمَّیْہِ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ ، وَعُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ، قَالاَ : قَالَ عُمَرُ : لِیُصَلِّ لَکُمْ صُہَیْبٌ ثَلاَثًا ، وَانْظُرُوا ، فَإِنْ کَانَ ذَلِکَ ، وَإِلاَّ فَإِنَّ أَمْرَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یُتْرَکُ فَوْقَ ثَلاَثٍ سُدًی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢١٧) حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے یا آپ نے جمعہ کا خطبہ دیا ۔۔۔ پس اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اور حضرت عائشہ کا ذکر کیا۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ اے لوگو ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ گویا کہ ایک مرغ تھا اس نے مجھے دو مرتبہ ٹھونگ ماری اور میں اس خواب کو اپنی عمر کے پورا ہونے سے ہی کنایہ دیکھ رہا ہوں اور لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں خلیفہ مقرر کر دوں۔ یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو خلافت کو ضائع نہیں کرے گا اور اس چیز کو بھی ضائع نہیں کرے گا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا ہے۔ پس اگر مجھے جلد ہی موت نے آلیا تو پھر خلافت ان چھ لوگوں کے درمیان مشاورت کے ساتھ (طے) ہوگی جن سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رضا مندی کے ساتھ رخصت ہوئے ۔ ان میں سے جس کی بھی تم بیعت کرلو تو پھر اس کی بات سنو اور مانو۔ یقیناً مجھے معلوم ہے کہ عنقریب کچھ لوگ اس معاملہ میں طعن کریں گے۔
اگر یہ لوگ ایسا کریں گے تو یہ اللہ کے دشمن ، کافر اور گمراہ ہوں گے۔
٢۔ میں نے اپنے بعد کلالۃ کے معاملہ سے زیادہ اہم بحث نہیں چھوڑی اور تحقیق میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی یہ سوال کیا تھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی چیز میں اتنی سختی نہیں کی جو سختی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ اس (کلالہ) میں فرمائی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اے عمر ! تمہیں سورة نساء کے آخر میں نازل ہونے والی آیۃ الصیف کافی ہے۔ “ اور اگر میں مزید زندہ رہا تو عنقریب میں کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کر جاؤں گا کہ پھر کوئی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں کرے گا۔ چاہے وہ قرآن پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔
٣۔ پھر حضرت عمر نے کہا ۔۔۔ اے اللہ ! میں تجھے شہروں کے امراء پر گواہ بناتا ہوں۔ کیونکہ میں نے انھیں صرف اس لیے بھیجا تھا تاکہ وہ لوگوں کو ان کا دین اور ان کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سُنَّت سکھائیں۔ اور ان کی فئی ان ہی میں تقسیم کریں اور ان میں انصاف کریں اور انھیں جس بات کا اشکال ہو وہ بات مجھ تک لائیں ۔
٤۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ اے لوگو ! تم دو درخت (پیداوار) ایسے کھاتے ہو کہ جن کو میں خبیث (ناپسندیدہ) ہی خیال کرتا ہوں۔ یہ تھوم اور یہ پیاز ہے یقیناً میں ایک آدمی کو عہد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں دیکھتا کہ اس سے یہ بو آتی تو اس کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر لے جایا جاتا یہاں تک کہ اس کو بقیع کی طرف نکال دیا جاتا۔ پس جو شخص ان کو ضرور کھانا چاہے تو پکا کر ان کی بو کو مار ڈالے۔
٥۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ خطبہ حضرت عمر نے جمعہ کے دن ارشاد فرمایا اور بدھ کے روز آپ کو زخمی کردیا گیا۔ ابھی ذی الحجہ میں چار دن باقی تھے۔
اگر یہ لوگ ایسا کریں گے تو یہ اللہ کے دشمن ، کافر اور گمراہ ہوں گے۔
٢۔ میں نے اپنے بعد کلالۃ کے معاملہ سے زیادہ اہم بحث نہیں چھوڑی اور تحقیق میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی یہ سوال کیا تھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی چیز میں اتنی سختی نہیں کی جو سختی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ اس (کلالہ) میں فرمائی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اے عمر ! تمہیں سورة نساء کے آخر میں نازل ہونے والی آیۃ الصیف کافی ہے۔ “ اور اگر میں مزید زندہ رہا تو عنقریب میں کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کر جاؤں گا کہ پھر کوئی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں کرے گا۔ چاہے وہ قرآن پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔
٣۔ پھر حضرت عمر نے کہا ۔۔۔ اے اللہ ! میں تجھے شہروں کے امراء پر گواہ بناتا ہوں۔ کیونکہ میں نے انھیں صرف اس لیے بھیجا تھا تاکہ وہ لوگوں کو ان کا دین اور ان کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سُنَّت سکھائیں۔ اور ان کی فئی ان ہی میں تقسیم کریں اور ان میں انصاف کریں اور انھیں جس بات کا اشکال ہو وہ بات مجھ تک لائیں ۔
٤۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ اے لوگو ! تم دو درخت (پیداوار) ایسے کھاتے ہو کہ جن کو میں خبیث (ناپسندیدہ) ہی خیال کرتا ہوں۔ یہ تھوم اور یہ پیاز ہے یقیناً میں ایک آدمی کو عہد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں دیکھتا کہ اس سے یہ بو آتی تو اس کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر لے جایا جاتا یہاں تک کہ اس کو بقیع کی طرف نکال دیا جاتا۔ پس جو شخص ان کو ضرور کھانا چاہے تو پکا کر ان کی بو کو مار ڈالے۔
٥۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ خطبہ حضرت عمر نے جمعہ کے دن ارشاد فرمایا اور بدھ کے روز آپ کو زخمی کردیا گیا۔ ابھی ذی الحجہ میں چار دن باقی تھے۔
(۳۸۲۱۷) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ سَعیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ الْغَطَفَانِیِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیِّ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ خَطِیبًا یَوْمَ جُمُعَۃٍ ، أَوْ خَطَبَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ ذَکَرَ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنِّی قَدْ رَأَیْتُ رُؤْیَا کَأَنَّ دِیکًا أَحْمَرَ نَقَرَنِی نَقْرَتَیْنِ ، وَلاَ أَرَی ذَلِکَ إِلاَّ لِحُضُورِ أَجَلِی ، وَإِنَّ النَّاسَ یَأْمُرُونَنِی أَنْ أَسْتَخْلِفَ ، وَإِنَّ اللَّہَ لَمْ یَکُنْ لِیُضَیِّعَ دِینَہُ وَخِلاَفَتَہُ ، وَالَّذِی بَعَثَ بِہِ نَبِیَّہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ عُجِّلَ بِی أَمْرٌ ، فَالْخِلاَفَۃُ شُورَی بَیْنَ ہَؤُلاَئِ الرَّہْطِ السِّتَّۃِ ، الَّذِینَ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَنْہُمْ رَاضٍ ، فَأَیُّہُمْ بَایَعْتُمْ لَہُ، فَاسْمَعُوا لَہُ وَأَطِیعُوا ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ رِجَالاً سَیَطْعَنْونَ فِی ہَذَا الأَمْرِ ، وَإِنِّی قَاتَلْتُہُمْ بِیَدِی ہَذِہِ عَلَی الإِسْلاَمِ ، فَإِنْ فَعَلُوا ذَلِکَ فَأُولَئِکَ أَعْدَائُ اللہِ الْکَفَرَۃُ الضُّلاَّلُ۔
إنِّی وَاللہِ مَا أَدَعُ بَعْدِی أَہَمَّ إِلَیَّ مِنْ أَمْرِ الْکَلاَلَۃِ ، وَقَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمَا أَغْلَظَ لِی فِی شَیْئٍ مَا أَغْلَظَ لِی فِیہَا ، حَتَّی طَعَنَ بِأُصْبُعِہِ فِی جَنْبِی ، أَوْ صَدْرِی ، ثُمَّ قَالَ : یَا عُمَرُ ، تَکْفِیک آیَۃُ الصَّیْفِ الَّتِی أُنْزِلَتْ فِی آخِرِ النِّسَائِ ، وَإِنْ أَعِشْ فَسَأَقْضِی فِیہَا قَضِیَّۃً لاَ یَخْتَلِفُ فِیہَا أَحَدٌ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، أَوْ لاَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ۔
ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أُشْہِدُک عَلَی أُمَرَائِ الأَمْصَارِ ، فَإِنِّی إِنَّمَا بَعَثْتُہُمْ لِیُعَلِّمُوا النَّاسَ دِینَہُمْ ، وَسُنَّۃَ نَبِیِّہِمْ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَیَقْسِمُوا فِیہِمْ فَیْأَہُمْ ، وَیَعْدِلُوا فِیہِمْ ، فَمَنْ أَشْکَلَ عَلَیْہِ شَیْئٌ رَفَعَہُ إِلَیَّ۔
ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنَّکُمْ تَأْکُلُونَ شَجَرَتَیْنِ لاَ أَرَاہُمَا إِلاَّ خَبِیثَتَیْنِ ؛ ہَذَا الثُّومُ وَہَذَا الْبَصَلُ ، لَقَدْ کُنْت أَرَی الرَّجُلَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوجَدُ رِیحُہُ مِنْہُ ، فَیُؤْخَذُ بِیَدِہِ حَتَّی یُخْرَجَ بِہِ إِلَی الْبَقِیعِ ، فَمَنْ کَانَ آکِلَہُمَا لاَ بُدَّ فَلِیُمِتْہُمَا طَبْخًا۔
قَالَ : فَخَطَبَ بِہَا عُمَرُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، وَأُصِیبَ یَوْمَ الأَرْبِعَائِ ، لأَرْبَعٍ بَقِینَ لِذِی الْحَجَّۃِ۔
إنِّی وَاللہِ مَا أَدَعُ بَعْدِی أَہَمَّ إِلَیَّ مِنْ أَمْرِ الْکَلاَلَۃِ ، وَقَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمَا أَغْلَظَ لِی فِی شَیْئٍ مَا أَغْلَظَ لِی فِیہَا ، حَتَّی طَعَنَ بِأُصْبُعِہِ فِی جَنْبِی ، أَوْ صَدْرِی ، ثُمَّ قَالَ : یَا عُمَرُ ، تَکْفِیک آیَۃُ الصَّیْفِ الَّتِی أُنْزِلَتْ فِی آخِرِ النِّسَائِ ، وَإِنْ أَعِشْ فَسَأَقْضِی فِیہَا قَضِیَّۃً لاَ یَخْتَلِفُ فِیہَا أَحَدٌ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، أَوْ لاَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ۔
ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أُشْہِدُک عَلَی أُمَرَائِ الأَمْصَارِ ، فَإِنِّی إِنَّمَا بَعَثْتُہُمْ لِیُعَلِّمُوا النَّاسَ دِینَہُمْ ، وَسُنَّۃَ نَبِیِّہِمْ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَیَقْسِمُوا فِیہِمْ فَیْأَہُمْ ، وَیَعْدِلُوا فِیہِمْ ، فَمَنْ أَشْکَلَ عَلَیْہِ شَیْئٌ رَفَعَہُ إِلَیَّ۔
ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنَّکُمْ تَأْکُلُونَ شَجَرَتَیْنِ لاَ أَرَاہُمَا إِلاَّ خَبِیثَتَیْنِ ؛ ہَذَا الثُّومُ وَہَذَا الْبَصَلُ ، لَقَدْ کُنْت أَرَی الرَّجُلَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوجَدُ رِیحُہُ مِنْہُ ، فَیُؤْخَذُ بِیَدِہِ حَتَّی یُخْرَجَ بِہِ إِلَی الْبَقِیعِ ، فَمَنْ کَانَ آکِلَہُمَا لاَ بُدَّ فَلِیُمِتْہُمَا طَبْخًا۔
قَالَ : فَخَطَبَ بِہَا عُمَرُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، وَأُصِیبَ یَوْمَ الأَرْبِعَائِ ، لأَرْبَعٍ بَقِینَ لِذِی الْحَجَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢١٨) حضرت جاریہ بن قدامہ سعدی سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں : جس سال حضرت عمر کو زخمی کیا گیا میں نے اس سال حج کیا ۔ بیان کرتے ہیں کہ ۔۔۔ حضرت عمر نے خطبہ دیا اور (اس میں) ارشاد فرمایا۔ میں نے (خواب) دیکھا ہے کہ ایک مرغ نے مجھے دو یا تین مرتبہ ٹھونگ ماری ہے۔ پھر اس کے بعد ایک جمعہ یا اس کے قریب ہی وقت گزرا تھا کہ حضرت عمر پر حملہ ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں : پس (پہلے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو اجازت دی گئی۔ پھر اہل مدینہ کو اجازت دی گئی پھر اہل شام کو اجازت دی گئی پھر اہل عراق کو اجازت دی گئی۔ پس ہم حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہونے والے آخری لوگ تھے۔ آپ کا پیٹ سیاہ چادر سے باندھا ہوا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ جب بھی کچھ لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوتے تو لوگ رو پڑتے اور آپ کی تعریف کرتے۔ ہم نے آپ سے کہا۔ آپ ہمیں وصیت کریں۔ اور ہمارے علاوہ کسی نے بھی آپ سے وصیت کرنے کا سوال نہیں کیا ۔۔۔ چنانچہ حضرت عمر نے کہا۔ کتاب اللہ کو لازم پکڑو۔ کیونکہ جب تک تم لوگ اس کی تابعداری کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔ اور میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ دیگر لوگ بڑھیں گے اور (یہ) کم ہوں گے۔ اور میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ ایمان کی ایسی گھاٹی ہیں جس کی طرف ایمان نے پناہ پکڑی اور میں تمہیں دیہاتیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہاری اصل اور مادہ ہیں۔ اور میں تمہیں تمہارے ذمیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں یہ لوگ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذمہ ہیں اور تمہارے مال بچوں کی روزی ہیں۔ میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس سے زیادہ حضرت عمر نے ہمارے ساتھ بات نہیں کی۔
(۳۸۲۱۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ ، عَنْ جَارِیَۃَ بْنِ قُدَامَۃَ السَّعْدِیِّ ، قَالَ : حجَجْتُ الْعَامَ الَّذِی أُصِیبَ فِیہِ عُمَرُ ، قَالَ : فَخَطَبَ ، فَقَالَ : إِنِّی رَأَیْتُ أَنَّ دِیکًا نَقَرَنِی نَقْرَتَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا ، ثُمَّ لَمْ تَکُنْ إِلاَّ جُمُعَۃٌ ، أَوْ نَحْوَہَا حَتَّی أُصِیبَ ، قَالَ : فَأُذِنَ لأَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أُذِنَ لأَہْلِ الْمَدِینَۃِ ، ثُمَّ أُذِنَ لأَہْلِ الشَّامِ ، ثُمَّ أُذِنَ لأَہْلِ الْعِرَاقِ ، فَکُنَّا آخِرَ مَنْ دَخَلَ عَلَیْہِ ، وَبَطْنُہُ مَعْصُوبٌ بِبُرْدٍ أَسْوَدَ ، وَالدِّمَائُ تَسِیلُ ، کُلَّمَا دَخَلَ قَوْمٌ بَکَوْا وَأَثْنَوْا عَلَیْہِ ، فَقُلْنَا لَہُ : أَوْصِنَا ، وَمَا سَأَلَہُ الْوَصِیَّۃَ أَحَدٌ غَیْرَنَا، فَقَالَ : عَلَیْکُمْ بِکِتَابِ اللہِ ، فَإِنَّکُمْ لَنْ تَضِلُّوا مَا اتَّبَعْتُمُوہُ ، وَأُوصِیکُمْ بِالْمُہَاجِرِینَ ، فَإِنَّ النَّاسَ یَکْثُرُونَ وَیَقِلُّونَ ، وَأُوصِیکُمْ بِالأَنْصَارِ ، فَإِنَّہُمْ شِعَبُ الإِیمَانِ الَّذِی لَجَأَ إِلَیْہِ ، وَأُوصِیکُمْ بِالأَعْرَابِ فَإِنَّہَا أَصْلُکُمْ وَمَادَّتُکُمْ ، وَأُوصِیکُمْ بِذِمَّتِکُمْ ، فَإِنَّہَا ذِمَّۃُ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَرِزْقُ عِیَالِکُمْ ، قُومُوا عَنِّی ، فَمَا زَادَنَا عَلَی ہَؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢١٩) حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر کو نیزہ لگا تو سب لوگ مضطرب ہوگئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہوگیا ۔ تو ایک آواز دینے والے نے ندا دی۔ نماز ! چنانچہ لوگوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کو آگے کردیا۔ پس انھوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اور قرآن مجید کی دو مختصر سورتیں یعنی {إِنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ } اور {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللہِ } کو پڑھا۔ پھر جب دن نکل آیا تو ایک طبیب حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت عمر کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ طبیب نے پوچھا۔ آپ کو کون سا مشروب پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : نبیذ چنانچہ نبیذ منگوایا اور اس کو حضرت عمر نے پیا لیکن وہ آپ کے زخموں سے باہر نکل آیا ۔ آپ نے فرمایا۔ یہ خون ملی پیپ ہے۔ تم میرے پاس دودھ لاؤ۔ چنانچہ دودھ لایا گیا آپ نے دودھ نوش فرمایا تو وہ بھی زخموں سے باہر نکل آیا ۔ اس پر طبیب نے آپ سے کہا۔ کوئی وصیت کرلو۔ کیونکہ میرے خیال میں آپ ایک یا دو دن میں فوت ہوجائیں گے۔
(۳۸۲۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، قَالَ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ ، مَاجَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ فِی بَعْضٍ ، حَتَّی کَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَطْلُعَ ، فَنَادَی مُنَادٍ : الصَّلاَۃُ ، فَقَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّی بِہِمْ ، فَقَرَأَ بِأَقْصَرِ سُورَتَیْنِ فِی الْقُرْآنِ : {إِنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ} ، وَ : {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللہِ} ، فَلَمَّا أَصْبَحَ دَخَلَ عَلَیْہِ الطَّبِیبُ ، وَجُرْحُہُ یَسِیلُ دَمًا ، فَقَالَ : أَیُّ الشَّرَابِ أَحَبُّ إِلَیْک ؟ قَالَ : النَّبِیُّذُ ، فَدَعَا بِنَبِیذٍ فَشَرِبَہُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ ، فَقَالَ : ہَذَا صَدِیدٌ ، ائْتُونِی بِلَبَنٍ ، فَأُتِیَ بِلَبَنٍ ، فَشَرِبَ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِہِ ، فَقَالَ لَہُ الطَّبِیبُ : أَوْصِہِ ، فَإِنِّی لاَ أَظُنُّک إِلاَّ مَیِّتًا مِنْ یَوْمِکَ ، أَوْ مِنْ غَدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢٢٠) حضرت عامر سے روایت ہے۔ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تحقیق حضرت عمر کو نیزہ مارا گیا تو وہ اس وقت سورة نحل کی قراءت کر رہے تھے۔
(۳۸۲۲۰) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الرَّازِیّ ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : حَلفَ بِاللہِ ، لَقَدْ طُعِنَ عُمَرُ وَإِنَّہُ لَفِی النَّحْلِ یَقْرَؤُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢٢١) حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر کو کہتے سُنا۔۔۔جبکہ میری انگلیوں میں سے ایک انگلی ان کے زخم کے اندر تھی ۔۔۔ اے گروہ قریش ! میں تمہارے خلاف لوگوں سے خوف نہیں رکھتا بلکہ مجھے تو صرف لوگوں کے خلاف تم سے خوف ہے۔ یقیناً میں دو چیزیں تم میں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان کو لازم پکڑو گے تب تک مسلسل خیر پر رہو گے۔ فیصلہ کرنے میں عدل اور تقسیم کرنے میں عدل۔ اور یقیناً میں تمہیں بالکل سیدھا چھوڑ کر جا رہا ہوں البتہ اگر کسی قوم نے ٹیڑھا راستہ اختیار کیا تو وہ ٹیڑھے راستے پر چل پڑیں گے۔
(۳۸۲۲۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَنِ ابْنِ مِینَائَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، وَإِنَّ إِحْدَی أَصَابِعِی فِی جُرْحِہِ ہَذِہِ ، أَوْ ہَذِہِ ، أَوْ ہَذِہِ ، وَہُوَ یَقُولُ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، إِنِّی لاَ أَخَافُ النَّاسَ عَلَیْکُمْ ، إِنَّمَا أَخَافُکُمْ عَلَی النَّاسِ ، إِنِّی قَدْ تَرَکْتُ فِیکُمْ ثِنْتَیْنِ ، لَنْ تَبْرَحُوا بِخَیْرٍ مَا لَزِمْتُمُوہُمَا : الْعَدْلُ فِی الْحُکْمِ ، وَالْعَدْلُ فِی الْقَسْمِ ، وَإِنِّی قَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی مِثْلِ مُخَرَفَۃِ النَّعَمِ ، إِلاَّ أَنْ یَعَوَّجَ قَوْمٌ ، فَیُعْوَجَّ بِہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢٢٢) حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ میں اور ابن عباس ، حضرت عمر پر حملہ ہونے کے بعد جبکہ ان پر بےہوشی طاری تھی۔ داخل ہوئے۔ تو ہم نے کہا۔ ان کو نماز سے زیادہ گھبراہٹ میں ڈالنے والی کسی چیز سے نہیں بیدار کیا جاسکے گا۔ چنانچہ ہم نے کہا۔ اے امیر المؤمنین ! نماز ! پس حضرت عمر متنبہ ہوئے اور فرمایا : نماز ! ایسے آدمی کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں جو نماز کو چھوڑ دے۔ پھر حضرت عمر نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ ان کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔
(۳۸۲۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا ، وَابْنُ عَبَّاسٍ عَلَی عُمَرَ بَعْدَ مَا طُعَنْ ، وَقَدْ أُغْمِیَ عَلَیْہِ ، فَقُلْنَا : لاَ یَنْتَبِہُ لِشَیْئٍ أَفْرَغَ لَہُ مِنَ الصَّلاَۃِ، فَقُلْنَا: الصَّلاَۃُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، فَانْتَبَہَ ، وَقَالَ: الصَّلاَۃُ ، وَلاَ حَظَّ فِی الإِسْلاَمِ لامْرِئٍ تَرَکَ الصَّلاَۃَ، فَصَلَّی وَإِنَّ جُرْحَہُ لَیَثْعَبُ دَمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢٢٣) حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر کی ہیبت کی وجہ سے پہلی صف کو چھوڑ دیتا تھا۔ جس دن حضرت عمر پر حملہ ہوا اس دن میں دوسری صف میں تھا۔ حضرت عمر تشریف لائے اور فرمایا۔ اے بندگانِ خدا ! نماز، (صفوں میں) سیدھے ہو جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی۔ کہ ابو لؤلؤ نے آپ پر دو یا تین وار کئے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر نے زرد کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ نے اس کپڑے کو اپنے سینے کی طرف اکٹھا کرلیا پھر آپ نے اشارہ کیا اور آپ فرما رہے تھے۔ { وَکَانَ أَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُورًا }
پھر اس نے مزید بارہ یا تیرہ لوگوں کو قتل کیا اور وار کئے۔ راوی کہتے ہیں۔ لوگ اس قاتل کی طرف بڑھے تو اس نے اپنے خنجر پر تکیہ لگا کر اپنے آپ کو قتل کرلیا۔
پھر اس نے مزید بارہ یا تیرہ لوگوں کو قتل کیا اور وار کئے۔ راوی کہتے ہیں۔ لوگ اس قاتل کی طرف بڑھے تو اس نے اپنے خنجر پر تکیہ لگا کر اپنے آپ کو قتل کرلیا۔
(۳۸۲۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَدَعُ الصَّفَّ الأَوَّلَ ہَیْبَۃً لِعُمَرَ ، وَکُنْتُ فِی الصَّفِّ الثَّانِی یَوْمَ أُصِیبَ ، فَجَائَ ، فَقَالَ : الصَّلاَۃُ عِبَادَ اللہِ ، اسْتَوُوا ، قَالَ : فَصَلَّی بِنَا ، فَطَعَنَہُ أَبُو لُؤْلُؤَۃَ طَعْنَتَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا ، قَالَ : وَعَلَی عُمَرَ ثَوْبٌ أَصْفَرُ ، قَالَ : فَجَمَعَہُ عَلَی صَدْرِہِ ، ثُمَّ أَہْوَی ، وَہُوَ یَقُولُ : {وَکَانَ أَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُورًا} فَقَتَلَ وَطَعَنَ اثْنَیْ عَشَرَ ، أَوْ ثَلاَثَۃَ عَشَرَ ، قَالَ : وَمَالَ النَّاسُ عَلَیْہِ ، فَاتَّکَأَ عَلَی خِنْجَرِہِ فَقَتَلَ نَفْسَہُ۔ (ابن سعد ۳۴۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢٢٤) حضرت عبداللہ بن الحارث خزاعی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر کو ان کے خطبہ میں یہ کہتے سُنا کہ : میں نے گزشتہ رات (خواب میں) ایک مرغ کو دیکھا کہ وہ مجھے ٹھونگ مار رہا ہے اور میں نے اس کو دیکھا کہ لوگ اس کو مجھ سے دور کر رہے ہیں۔ اور میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر میں باقی رہا تو میں ضرور بالضرور عام مہاجرین کو بھی دو دو ہزار عطیہ دوں گا۔ لیکن تین دن ہی گزرے تھے کہ آپ کو حضرت مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابو لؤلؤ نے قتل کردیا۔
(۳۸۲۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْن الْحَارِثِ الْخُزَاعِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُولُ فِی خُطْبَتِہِ : إِنِّی رَأَیْت الْبَارِحَۃَ دِیکًا نَقَرَنِی ، وَرَأَیْتُہُ یُجْلِیہِ النَّاسُ عَنِّی ، وَإِنِّی أُقْسِمُ بِاللہِ لَئِنْ بَقِیتُ لأَجْعَلَنَّ سِفْلَۃَ الْمُہَاجِرِینَ فِی الْعَطَائِ عَلَی أَلْفَیْنِ أَلْفَیْنِ ، فَلَمْ یَمْکُثْ إِلاَّ ثَلاَثًا ، حَتَّی قَتَلَہُ غُلاَمُ الْمُغِیرَۃِ ، أَبُو لُؤْلُؤَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢٢٥) حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے اہل شوریٰ میں سے کسی کو خاص نہیں کیا لیکن آپ نے حضرت علی اور حضرت عثمان سے علیحدگی (میں کوئی بات) کی۔ اور ان میں سے بھی ہر ایک کو دوسرے سے علیحدہ کیا۔ آپ نے فرمایا۔ اے فلاں ! اللہ سے ڈر اور اگر تجھے اس معاملہ کے ذریعہ خدا تعالیٰ آزمائے تو تُو بنی فلاں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا۔ اور (اسی طرح) آپ دوسرے (علی و عثمان میں) سے بھی ایسا کہا۔
(۳۸۲۲۵) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِیکٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : مَا خَصَّ عُمَرُ أَحَدًا مِنْ أَہْلِ الشُّورَی دُونَ أَحَدٍ ، إِلاَّ إِنَّہُ خَلاَ بِعَلِیٍّ وَعُثْمَانَ ، کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا عَلَی حِدَۃٍ ، فَقَالَ : یَا فُلاَنُ ، اتَّقِ اللَّہَ ، فَإِنِ ابْتَلاَک اللَّہُ بِہَذَا الأَمْرِ ، فَلاَ تَرْفَعْ بَنِی فُلاَنٍ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ ، وَقَالَ لِلآخَرِ مِثْلَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢٢٦) حضرت حسن بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے حضرت عثمان سے کہا۔ اللہ سے ڈر اور اگر تجھے لوگوں کے معاملات میں سے کسی کی ولایت مل جائے تو تُو بنو ابی معیط کے لوگوں کو دیگر لوگوں کی گردنوں پر بلند نہ کرنا ۔ اور حضرت عمر نے حضرت علی سے کہا۔ اللہ سے ڈر۔ اور اگر تجھے لوگوں کے معاملات میں سے کسی کا اختیار مل جائے تو تُو بنو ہاشم کو دیگر لوگوں کی گردن پر بلند نہ کرنا۔
(۳۸۲۲۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِعُثْمَانَ : اتَّقِ اللَّہَ ، وَإِنْ وُلِّیتَ شَیْئًا مِنْ أُمُورِ النَّاسِ ، فَلاَ تَحْمِلْ بَنِی أَبِی مُعَیْطٍ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ ، وَقَالَ لِعَلِیٍّ : اتَّقِ اللَّہَ ، وَإِنْ وُلِّیتَ شَیْئًا مِنْ أُمُورِ النَّاسِ ، فَلاَ تَحْمِلْ بَنِی ہَاشِمٍ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢٢٧) اہل شام کے علماء میں سے ایک عامل حضرت ابراہیم بن زرعہ سے عبد العزیز بن عمر نقل کرتے ہیں کہ میں نے ابن زرعہ سے پوچھا۔ حضرت عمر کا جنازہ کس نے پڑھا یا تھا ؟ انھوں نے جواب دیا۔ صہیب نے۔
(۳۸۲۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ زُرْعَۃَ ، عَالِمٍ مِنْ عُلَمَائِ أَہْلِ الشَّام ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : مَنْ صَلَّی عَلَی عُمَرَ ؟ قَالَ : صُہَیْبٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨٢٢٨) حضرت قاسم سے روایت ہے۔ کہ جب حضرت عمر کو نیزہ لگا تو لوگ (آپ کے پاس) آ کر آپ کی تعریف کرنے لگے اور آپ کے لیے دعا کرنے لگے تو حضرت عمر نے ان سے کہا۔ کیا تم لوگ خلافت کی بنیاد پر مجھے پاکیزہ سمجھ رہے ہو ؟ تحقیق میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اختاکر کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حالت میں دنیا سے تشریف لے گئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے خوش تھے پھر میں نے حضرت ابوبکر کی صحبت اختیار کی اور میں نے آپ کا حکم سُنا اور مانا پھر آپ کی وفات بھی اس حالت میں ہوئی کہ میں آپ کی بات سننے اور ماننے والا تھا۔ اور مجھے تو اپنے آپ پر صرف تمہاری امارت ہی کا خوف ہے۔
(۳۸۲۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ؛ أَنَّ عُمَرَ حِینَ طُعِنَ جَائَ النَّاسُ یُثْنُونَ عَلَیْہِ ، وَیَدْعُونَ لَہُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَحِمَہُ اللہُ : أَبِالإِمَارَۃِ تُزَکُّونَنِی ؟ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُبِضَ وَہُوَ عَنِّی رَاضٍ ، وَصَحِبْتُ أَبَا بَکْرٍ فَسَمِعْتُ وَأَطَعْتُ ، فَتُوُفِّیَ أَبُو بَکْرٍ وَأَنَا سَامِعٌ مُطِیعٌ ، وَمَا أَصْبَحْتُ أَخَافُ عَلَی نَفْسِی إِلاَّ إِمَارَتَکُمْ ۔
তাহকীক: