মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮১৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٨٩) حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب صحابہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جسم مبارک پر قمیص تھی۔ انھوں نے اس قمیص کو اتارنا چاہا تو انھوں نے کمرہ میں سے ایک آواز سنی ۔ قمیص نہ اتارو۔
(۳۸۱۸۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادُوا أَنْ یُغَسِّلُوا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ عَلَیْہِ قَمِیصٌ ، فَأَرَادُوا أَنْ یَنْزِعُوہُ ، فَسَمِعُوا نِدَائً مِنَ الْبَیْتِ : أَنْ لاَ تَنْزِعُوا الْقَمِیصَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٩٠) حضرت عائشہ اور ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد چوما تھا۔
(۳۸۱۹۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ قَبَّلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا مَاتَ۔ (بخاری ۴۴۵۵۔ ابن ماجہ ۱۴۵۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٩١) حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو لوگ رونے لگے۔ اس پر حضرت عمر مسجد میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں کسی آدمی کے بارے میں نہ سنوں کہ اس کا یہ گمان ہو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ان کے پروردگار نے ایسی ہی حالت بھیجی ہے جیسا کہ موسیٰ کی طرف ان کے پروردگار نے بھیجی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف پیغام بھیجا تھا تو وہ اپنی قوم سے چالیس دن تک (دور) ٹھہرے رہے۔ خدا کی قسم ! مجھے تو اس بات کی پختہ امید ہے کہ ایسے لوگوں کے ہاتھ ، پاؤں کٹ جائیں گے جن کا یہ خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر موت واقع ہوگئی ہے۔
(۳۸۱۹۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَکَی النَّاسُ ، فَقَامَ عُمَرُ فِی الْمَسْجِدِ خَطِیبًا ، فَقَالَ : لاَ أَسْمَعُ أَحَدًا یَزْعُمُ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ، وَلَکِنْ أَرْسَلَ إِلَیْہِ رَبُّہُ ، کَمَا أَرْسَلَ إِلَی مُوسَی رَبُّہُ ، فَقَدْ أَرْسَلَ اللَّہُ إِلَی مُوسَی ، فَلَبِثَ عَنْ قَوْمِہِ أَرْبَعِینَ لَیْلَۃً ، وَاللہِ إِنِّی لأَرْجُوَ أَنْ تُقْطَعَ أَیْدِی رِجَالٍ وَأَرْجُلِہِمْ یَزْعُمُونَ أَنَّہُ مَاتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٩٢) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس (حجرہ مبارک سے) باہر تشریف لائے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مرض الموت میں اپنے سر مبارک کو ایک پٹی سے باندھا ہوا تھا۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر کی جانب بڑھے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف فرما ہوگئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! بلاشبہ میں اس وقت حوض کوثر پر کھڑا ہوں “۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت کو پیش کیا گیا لیکن اس نے آخرت کو پسند کیا “۔ یہ بات حضرت ابوبکر کے سوا کوئی اور آدمی نہیں سمجھ سکا۔ چنانچہ ان کی آنکھیں بہہ پڑیں اور وہ رونے لگے۔ اور حضرت ابوبکر نے کہا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ بلکہ ہم تو آپ پر اپنے آبائ، امہات، جانیں اور اموال بھی فدا کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے تشریف لے آئے۔ پھر (اس کے بعد) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر (موت تک دوبارہ) تشریف فرما نہیں ہوئے۔
(۳۸۱۹۲) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ أُنَیْسِ بْنِ أَبِی یَحْیَی ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا وَنَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ ، وَہُوَ عَاصِبٌ رَأْسَہُ بِخِرْقَۃٍ فِی الْمَرَضِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ ، فَأَہْوَی قِبَلَ الْمِنْبَرِ ، حَتَّی اسْتَوَی عَلَیْہِ فَاتَّبَعْنَاہُ ، فَقَالَ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، إِنِّی لَقَائِمٌ عَلَی الْحَوْضِ السَّاعَۃَ ، وَقَالَ : إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَیْہِ الدُّنْیَا وَزِینَتُہَا ، فَاخْتَارَ الآخِرَۃَ ، فَلَمْ یَفْطِنْ لَہَا أَحَدٌ إِلاَّ أَبُو بَکْرٍ ، فَذَرَفَتْ عَیْنَاہُ فَبَکَی ، وَقَالَ : بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی ، بَلْ نَفْدِیک بِآبَائِنَا ، وَأُمَّہَاتِنَا ، وَأَنْفُسِنَا ، وَأَمْوَالِنَا ، قَالَ : ثُمَّ ہَبَطَ ، فَمَا قَامَ عَلَیْہِ حَتَّی السَّاعَۃِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٩٣) حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہں ج کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت بوجھل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ ” میں کل کہاں ہوں گا۔ ؟ “ لوگوں نے کہا : فلانی زوجہ کے ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (دوبارہ) پوچھا۔ میں اس کے بعد کہاں ہوں گا ؟ “ لوگوں نے کہا ۔ فلانی زوجہ کے پاس۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات نے معلوم کرلیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ حضرت عائشہ کا ہے۔ تو تمام ازواج نے کہا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے اپنی باریاں اپنی بہن عائشہ کو ہدیہ کردی ہیں۔
(۳۸۱۹۳) حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا ثَقُلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَیْنَ أَکُونُ غَدًا ؟ قَالَوا : عَنْدَ فُلاَنَۃَ ، قَالَ : أَیْنَ أَکُونُ بَعْدَ غَدٍ ؟ قَالَوا : عَنْدَ فُلاَنَۃَ ، فَعَرَفْنَ أَزْوَاجُہُ أَنَّہُ إِنَّمَا یُرِیدُ عَائِشَۃَ ، فَقُلْنَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، قَدْ وَہَبْنَا أَیَّامَنَا لأُخْتِنَا عَائِشَۃَ۔ (ابن سعد ۲۳۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٩٤) حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا۔ آپ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض کے بارے میں بیان کریں ۔ انھوں نے کہا : ہاں (بیان کرتا ہوں) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت بوجھل ہوگئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غشی طاری ہوگئی۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو افاقہ ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرے واسطے لگن میں پانی رکھ دو ۔ “ چنانچہ ہم نے یہ حکم پورا کیا۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل فرمایا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھنے لگے تھے کہ آپ پر غشی طاری ہوگئی۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو افاقہ ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” میرے واسطے لگن میں پانی رکھ دو “۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ ہم نے یہ حکم پورا کردیا۔ فرماتی ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل فرمایا اور اٹھنے لگے تھے کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غشی طاری ہوگئی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو افاقہ ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ۔ ” کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ؟ “ ہم نے عرض کیا۔ نہیں ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لوگ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتظار کررہے ہیں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ لوگ خوب جھک کر (متوجہ ہو کر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتظار کر رہے تھے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائیں۔
٢۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھنا چاہتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غشی طاری ہوگئی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو افاقہ ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ ” کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ! چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ حضرت ابوبکر کے پاس قاصدآیا اور آ کر کہا۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے عمر ! لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ حضرت عمر نے کہا۔ آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ ہی کی طرف قاصد بھیجا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر نے ان دنوں میں لوگوں کو نمازیں پڑھائیں۔
٣۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے نفس میں ہلکا پن محسوس کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عباس اور ایک اور آدمی کے درمیان نماز ظہر کے لیے باہر تشریف لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے فرمایا۔ مجھے ابوبکر کے دائیں طرف بٹھا دو ۔ پس جب حضرت ابوبکر نے یہ بات سنی تو انھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محسوس ہوئے وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ پر ہی رہیں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ چنانچہ ان دونوں صحابہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت ابوبکر کے دائیں جانب بٹھا دیا۔ پس حضرت ابوبکر ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (اقتداء میں) نماز پڑھنے لگے اور باقی لوگ حضرت ابوبکر (کی اقتداء میں) نماز پڑھنے لگے۔
٤۔ روای کہتے ہیں : پھر میں حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ کیا میں آپ پر وہ حدیث پیش نہ کروں جو مجھ سے امی عائشہ نے بیان کی ہے ؟ انھوں نے کہا۔ لاؤ۔ پس میں نے یہ حدیث حضرت ابن عباس پر پیش کی تو انھوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا مگر انھوں نے یہ کہا۔ کیا انھوں نے تمہیں بتایا کہ دوسرا آدمی کون تھا ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ نیں و ! انھوں نے فرمایا : یہ دوسرا آدمی حضرت علی تھے۔
٢۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھنا چاہتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غشی طاری ہوگئی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو افاقہ ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ ” کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ! چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ حضرت ابوبکر کے پاس قاصدآیا اور آ کر کہا۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے عمر ! لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ حضرت عمر نے کہا۔ آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ ہی کی طرف قاصد بھیجا ہے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر نے ان دنوں میں لوگوں کو نمازیں پڑھائیں۔
٣۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے نفس میں ہلکا پن محسوس کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عباس اور ایک اور آدمی کے درمیان نماز ظہر کے لیے باہر تشریف لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے فرمایا۔ مجھے ابوبکر کے دائیں طرف بٹھا دو ۔ پس جب حضرت ابوبکر نے یہ بات سنی تو انھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محسوس ہوئے وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ پر ہی رہیں۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ چنانچہ ان دونوں صحابہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت ابوبکر کے دائیں جانب بٹھا دیا۔ پس حضرت ابوبکر ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (اقتداء میں) نماز پڑھنے لگے اور باقی لوگ حضرت ابوبکر (کی اقتداء میں) نماز پڑھنے لگے۔
٤۔ روای کہتے ہیں : پھر میں حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ کیا میں آپ پر وہ حدیث پیش نہ کروں جو مجھ سے امی عائشہ نے بیان کی ہے ؟ انھوں نے کہا۔ لاؤ۔ پس میں نے یہ حدیث حضرت ابن عباس پر پیش کی تو انھوں نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہ کیا مگر انھوں نے یہ کہا۔ کیا انھوں نے تمہیں بتایا کہ دوسرا آدمی کون تھا ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ نیں و ! انھوں نے فرمایا : یہ دوسرا آدمی حضرت علی تھے۔
(۳۸۱۹۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی عَائِشَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَائِشَۃَ ، فَقُلْتُ : حَدِّثِینِی عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، مَرِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَثَقُلَ فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ، قَالَتْ : فَأَفَاقَ ، فَقَالَ : ضَعُوا لِی مَائً فِی الْمِخْضَبِ ، فَفَعَلْنَا ، قَالَتْ : فَاغْتَسَلَ ، فَذَہَبَ لِیَنُوئَ ، فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ، قَالَتْ : ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : ضَعُوا لِی مَائً فِی الْمِخْضَبِ ، قَالَتْ : قَدْ فَعَلْنَا ، قَالَتْ : فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوئَ ، فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ بَعْدُ ؟ فَقُلْنَا : لاَ ، یَا رَسُولَ اللہِ ، ہُمْ یَنْتَظِرُونَک ، قَالَتْ : وَالنَّاسُ عُکُوفٌ یَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیُصَلِّیَ بِہِمْ عِشَائَ الآخِرَۃِ۔
قَالَتْ : فَاغْتَسَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوئَ فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ بَعْدُ ؟ قُلْتُ : لاَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : فَأَتَاہُ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْمُرُک أَنْ تُصَلِّیَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ : یَا عُمَرُ ، صَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ : أَنْتَ أَحَقُّ ، إِنَّمَا أَرْسَلَ إِلَیْک رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَصَلَّی بِہِمْ أَبُو بَکْرٍ تِلْکَ الأَیَّامَ۔
ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّۃً مِنْ نَفْسِہِ ، فَخَرَجَ لِصَلاَۃِ الظُّہْرِ ، بَیْنَ الْعَبَّاسِ وَرَجُلٍ آخَرَ ، فَقَالَ لَہُمَا : أَجْلَسَانِی عَنْ یَمِینِہِ ، فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَکْرٍ حِسَّہُ ، ذَہَبَ یَتَأَخَّرُ ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَثْبُتَ مَکَانَہُ ، قَالَتْ : فَأَجْلَسَاہُ عَنْ یَمِینِہِ ، فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ یُصَلِّی بِصَلاَۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ جَالِسٌ ، وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ بِصَلاَۃِ أَبِی بَکْرٍ۔
قَالَ : فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : أَلاَ أَعْرِضُ عَلَیْک مَا حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ ؟ قَالَ : ہَاتِ ، فَعَرَضْتُ عَلَیْہِ ہَذَا ، فَلَمْ یُنْکِرْ مِنْہُ شَیْئًا ، إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : أَخْبَرَتْک مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لاَ ، فَقَالَ : ہُوَ عَلِیٌّ رَحِمَہُ اللہُ۔
قَالَتْ : فَاغْتَسَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوئَ فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ بَعْدُ ؟ قُلْتُ : لاَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ : فَأَتَاہُ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَأْمُرُک أَنْ تُصَلِّیَ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ : یَا عُمَرُ ، صَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ : أَنْتَ أَحَقُّ ، إِنَّمَا أَرْسَلَ إِلَیْک رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَصَلَّی بِہِمْ أَبُو بَکْرٍ تِلْکَ الأَیَّامَ۔
ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّۃً مِنْ نَفْسِہِ ، فَخَرَجَ لِصَلاَۃِ الظُّہْرِ ، بَیْنَ الْعَبَّاسِ وَرَجُلٍ آخَرَ ، فَقَالَ لَہُمَا : أَجْلَسَانِی عَنْ یَمِینِہِ ، فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَکْرٍ حِسَّہُ ، ذَہَبَ یَتَأَخَّرُ ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَثْبُتَ مَکَانَہُ ، قَالَتْ : فَأَجْلَسَاہُ عَنْ یَمِینِہِ ، فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ یُصَلِّی بِصَلاَۃِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ جَالِسٌ ، وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ بِصَلاَۃِ أَبِی بَکْرٍ۔
قَالَ : فَأَتَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ : أَلاَ أَعْرِضُ عَلَیْک مَا حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ ؟ قَالَ : ہَاتِ ، فَعَرَضْتُ عَلَیْہِ ہَذَا ، فَلَمْ یُنْکِرْ مِنْہُ شَیْئًا ، إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : أَخْبَرَتْک مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لاَ ، فَقَالَ : ہُوَ عَلِیٌّ رَحِمَہُ اللہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٩٥) حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو انصار کے خطیب اٹھ کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک نے کہنا شروع کیا۔ اے جماعت مہاجرین ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تم میں سے کسی کو عادل (امیر) مقرر کرتے تو اس کے ساتھ ہم میں سے بھی ایک آدمی کو ملا دیتے۔ پس ہماری رائے تو یہ ہے کہ یہ معاملہ (خلافت) بھی دو آدمیوں کو سونپ دیا جائے جن میں ایک تم سے ہو اور ایک ہم سے ہو۔ راوی کہتے ہیں : پس انصار کے بہت سے خطباء نے تسلسل سے یہ بات کہی ۔ تو اس پر حضرت زید بن ثابت کھڑے ہوئے اور فرمایا : یقیناً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہاجرین میں سے تھے۔ لہٰذا امام بھی مہاجرین میں سے ہوگا۔ اور اہم اس امام کے بھی اسی طرح مدد گار ہوں گے جس طرح ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مددگار تھے۔ پھر حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے جماعت انصار ! اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین بدلہ دے اور تمہارے قائل کو ثابت قدم رکھے پھر آپ نے فرمایا : خدا کی قسم ! اگر تم اس کے علاوہ (فیصلہ) کرتے تو ہم آپ سے مصالحت نہ کرتے۔
(۳۸۱۹۵) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُد ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَامَ خُطَبَائُ الأَنْصَارِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْہُمْ یَقُولُ : یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ ، إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا اسْتَعْمَلَ رَجُلاً مِنْکُمْ ، قَرَنَ مَعَہُ رَجُلاً مِنَّا ، فَنَرَی أَنْ یَلِیَ ہَذَا الأَمْرَ رَجُلاَنِ ؛ أَحَدُہُمَا مِنْکُمْ وَالآخَرُ مِنَّا ، قَالَ : فَتَتَابَعَتْ خُطَبَائُ الأَنْصَارِ عَلَی ذَلِکَ ، فَقَامَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ ، وَإِنَّ الإِمَامَ إِنَّمَا یَکُونُ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ ، وَنَحْنُ أَنْصَارُہُ کَمَا کُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللہِ ، فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ ، فَقَالَ : جَزَاکُمُ اللَّہُ خَیْرًا ، یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، وَثَبَّتَ قَائِلَکُمْ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللہِ لَوْ فَعَلْتُمْ غَیْرَ ذَلِکَ ، لَمَا صَالَحْنَاکُمْ۔ (احمد ۱۸۵۔ ابن سعد ۲۱۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٩٦) حضرت سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک تخت پر رکھ دیا گیا ۔ اور لوگ جماعت ، جماعت کی صورت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرہ میں داخل ہوتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز پڑھتے اور باہر نکل آتے لیکن کوئی ان کی امامت نہ کرواتا ۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات پیر کے روز ہوئی اور منگل کے روز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دفنایا گیا۔
(۳۸۱۹۶) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وُضِعَ عَلَی سَرِیرِہِ ، فَکَانَ النَّاسُ یَدْخُلُونَ عَلَیْہِ زُمَرًا زُمَرًا ، یُصَلُّونَ عَلَیْہِ وَیَخْرُجُونَ ، وَلَمْ یَؤُمَّہُمْ أَحَد ، وَتُوُفِّیَ یَوْمَ الاِثْنَیْنِ ، وَدُفِنَ یَوْمَ الثُّلاَثَائِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ (ابن سعد ۲۸۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨١٩٧) حضرت عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے حج کیا اور آپ نے لوگوں کو ایک خطبہ دینے کا ارادہ کیا ۔ تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے عرض کیا۔ (اس وقت) آپ کے پاس معمولی درجہ کے اور متفرق مقامات کے لوگ جمع ہیں۔ لہٰذا آپ مدینہ آنے تک خطبہ کا ارادہ مؤخر کردیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر جب میں مدینہ پہنچا تو میں منبر کے قریب ہو کر بیٹھ گیا۔ اور میں نے حضرت عمر کو کہتے سنا۔ مجھے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ لوگ کہتے ہیں۔ حضرت ابوبکر کی خلافت اچانک رونما ہوگئی تھی۔ واقعۃً وہ اچانک تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی خلافت کے شر (کے امکان کو) ختم فرما دیا (اور اب) یہ خلافت مشورہ سے ہی (باقی) ہے۔
(۳۸۱۹۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَیْدَ اللہِ بْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ یُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : حَجَّ عُمَرُ فَأَرَادَ أَنْ یَخْطُبَ النَّاسَ خُطْبَۃً ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : إِنَّہُ قَدِ اجْتَمَعَ عِنْدَکَ رِعَاعُ النَّاسِ وَسِفْلَتُہُمْ ، فَأَخِّرْ ذَلِکَ حَتَّی تَأْتِیَ الْمَدِینَۃَ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ دَنَوْتُ قَرِیبًا مِنَ الْمِنْبَرِ ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : إِنِّی قَدْ عَرَفْتُ ، أَنَّ أُنَاسًا یَقُولُونَ : إِنَّ خِلاَفَۃَ أَبِی بَکْرٍ فَلْتَۃٌ ، وَإِنَّمَا کَانَتْ فَلْتَۃً ، وَلَکِنَّ اللَّہَ وَقَی شَرَّہَا ، إِنَّہُ لاَ خِلاَفَۃَ إِلاَ عَنْ مَشْورَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨١٩٨) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ میں عبد الرحمن بن عوف کے پاس آتا جاتا رہتا تھا اور (اس وقت) ہم حضرت عمر بن خطاب کے ساتھ مقام منیٰ میں تھے۔ میں عبد الرحمن بن عوف کو قرآن پڑھا تا تھا پس میں ان کے پاس منزل میں آیا تو میں نے انھیں نہیں پایا۔ کہا گیا کہ وہ امیر المؤمنین کے پاس ہیں۔ چنانچہ میں ان کا انتظار کرنے لگا یہاں تک کہ وہ آگئے اور انھوں نے بتایا۔ آج حضرت عمر کو اتنا شدید غصہ آیا تھا کہ اس سے پہلے کبھی ان کو اتنا غصہ نہیں آیا۔ ابن عباس کہتے ہیں : میں نے پوچھا : یہ کیوں ؟ عبد الرحمن بن عوف نے جواب دیا۔ حضرت عمر کو یہ بات پہنچی کہ انصار میں سے دو آدمیوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کا ذکر کیا تو پھر ان دونوں نے کہا۔ بخدا ! ان کی بیعت تو اچانک ہوگئی تھی۔
وہ اس کے ہاتھ پر مارتا پھر جو ہوتا سو ہوتا۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر نے لوگوں سے گفتگو کرنے کا ارادہ کیا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین ! آپ (ابھی) گفتگو نہ کریں کیونکہ آپ (اس وقت) ایسے شہر میں ہیں کہ آپ کے پاس تمام عرب کے دور دراز غیر معروف علاقوں کے لوگ جمع ہیں۔ اور آپ اگر (اب) کوئی بھی بات کریں گے تو وہ آپ سے منسوب ہو کر تمام زمین میں پھیل جائے گی۔ پھر آپ کو نہیں معلوم کہ کیا ہوگا۔ آپ کے مطلب کے لوگ تو وہی ہیں جن کو آپ جانتے ہیں کہ وہ مدینہ واپس جائیں گے۔
٢۔ پھر جب ہم مدینہ میں آئے تو میں سویرے سویرے چلا گیا یہاں تک کہ میں نے منبر کے دائیں پائے (کے ساتھ جگہ) پکڑ لی۔ پھر حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بھی میری طرف آئے یہاں تک کہ وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گئے ۔ میں نے (ان سے) کہا۔ آج کے دن حضرت عمر ایسی گفتگو کریں گے کہ ویسی گفتگو انھوں نے خلیفہ بننے کے بعد سے کبھی نہیں کی۔ سعید نے پوچھا۔ وہ کیسی بات کریں گے ؟ میں نے جواب دیا، ابھی تم وہ بات سُن لو گے۔
ٍ ٣۔ راوی کہتے ہیں : پھر جب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت عمر باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ منبر پر بیٹھ گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر آپ نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھا۔ پھر آپ نے فرمایا : یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہمارے درمیان باقی رکھا ان پر اللہ کی جانب سے وحی نازل ہوتی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے ذریعہ حلال و حرام بیان کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو (کی روح کو) قبض کرلیا پس جو کچھ ان کے ہمراہ اللہ نے اٹھانا چاہا وہ اٹھا لیا ۔ اور جس کو اللہ نے باقی رکھنا چاہا تھا اس کو باقی رکھا۔ چنانچہ بعض باتوں کے ساتھ تو ہم وابستہ رہے اور بعض باتیں ہم سے فوت ہوگئیں۔ پس ہم قرآن میں سے جو کچھ پڑھتے تھے اس میں یہ بھی تھا۔ ولا ترغبوا عن آباء کم فانہ کفر بکم ان ترغبوا عن آباء کم۔ اور رجم کی آیت بھی نازل ہوئی تھی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم بھی کیا تھا اور ہم نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ رجم کیا تھا۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے ! بلاشبہ میں نے (خود) اس آیت کو یاد کیا تھا اور اس کو سمجھا تھا اور معلوم کیا تھا۔ اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ کہا جائے گا۔ عمر نے قرآن میں اس بات کو لکھا جو اس میں سے نہیں ہے تو البتہ میں اس آیت رجم کو اپنے ہاتھوں سے لکھتا۔ رجم کی تین حالات ہیں۔ واضح حمل ہو۔ یا زانی کی طرف سے اقرار ہو یا عادل گواہ ہوں۔ جیسا کہ حکم خداوندی ہے۔
٤۔ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی خلافت کے بارے میں یہ بات کہی ہے کہ یہ تو اچانک ہوگئی تھی۔ میری عمر کی قسم ! اگرچہ بات ایسی ہی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی خلافت کی خیر و برکت عطا فرمائی اور اس کے شر سے محفوظ فرما لیا۔ تم میں سے کون سا آدمی ہے جس کے لیے (لوگوں کی) گردنیں یوں خم ہوجائیں جیسا کہ حضرت ابوبکر کے لیے خم ہوگئیں تھیں۔
٥۔ یقیناً لوگوں کا معاملہ کچھ ایسا تھا کہ (جب) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے تو ہمارے پاس معاملہ لایا گیا اور ہمیں کہا گیا۔ انصار، سعد بن عبادہ کے پاس بنو ساعدہ میں جمع ہیں اور سعد کی بیعت کر رہے ہیں۔ چنانچہ میں، حضرت ابوبکر ، حضرت ابو عبیدہ بن جرا ح ان کی طرف پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے کہ (مبادا) وہ اسلام میں کوئی دراڑ پیدا کردیں۔ پس ہمیں انصار ہی میں سے دو سچے آدمی ملے ۔ عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی۔ انھوں نے پوچھا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ ہم نے کہا : تمہاری قوم کے پاس، کیونکہ ہمیں ان کے بارے میں کوئی بات پہنچی ہے۔ ان دونوں نے کہا۔ واپس چلے جاؤ کیونکہ تمہاری مخالفت نہیں کی جائے گی اور ایسی چیز نہیں لائی جائے گی جس کو تم ناپسند کرو۔ لیکن ہم نے آگے جانے پر ہی اصرار کیا۔ اور میں (عمر ) وہ کلام تیار کررہا تھا جس کے بارے میں میرا ارادہ بیان کا تھا ۔ یہاں تک کہ ہم ان لوگوں کے پاس پہنچ گئے وہ لوگ تو سارے کے سارے حضرت سعد بن عبادہ پر جھکے ہوئے تھے اور حضرت سعد بن عبادہ اپنے تخت پر تشریف فرما تھے۔ اور بیمار تھے۔ پس جب ہم اوپر سے ان لوگوں کے پاس پہنچے تو انھوں نے بات شروع کی اور کہنے لگے ۔ اے گروہ قریش ! ایک امرن ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم میں سے ہوگا۔ اس پر حضرت حباب بن منذر کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ میں ذی رائے اور معتمد لوگوں میں سے ہوں۔ اگر تم چاہو۔
٦۔ پھر حضرت ابوبکر نے کہا۔ اپنی حالت پر رہو۔ پس میں نے گفتگو کرنا چاہی تو حضرت ابوبکر نے فرمایا : اے عمر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! خاموش رہو، پھر حضرت ابوبکر نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور پھر کہا۔ اے گروہ انصار ! خدا کی قسم ! ہم تمہاری فضیلت کے منکر نہیں ہیں اور نہ ہی اسلام کے بارے میں تمہاری محنت و مشقت کے منکر ہیں۔ اور نہ ہی خود پر واجب تمہارے حق کے منکر ہیں۔ لیکن یقیناً تم جانتے ہو کہ یہ قبیلہ قریش پورے عرب میں اس مقام پر ہے جس پر اس کے علاوہ کوئی قبیلہ نہیں ہے۔ اور عرب کے لوگ قریش ہی کے کسی آدمی پر جمع ہوں گے۔ پس ہم (میں سے) امراء ہوں گے اور تم (میں سے) وزراء ہوں گے۔ پس اللہ سے ڈرو اور اسلام میں دراڑ نہ ڈالو۔ اور اسلام میں نئی بات ایجاد کرنے والے نہ بنو۔ اور بغور یہ بات سنو کہ مجھے تمہارے لیے ان دو افراد میں سے کسی ایک پر راضی ہوں۔ مراد میں (عمر ) تھا اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح ۔ پس ان دونوں میں سے جس پر بھی تم بیعت کرلو تو وہ تمہارے لیے ثقہ ہے۔ حضرت عمر کہنے لگے۔ خدا کی قسم ! جو بات کہنا مجھے پسند تھا حضرت ابوبکر نے ان میں سے کوئی بات نہ چھوڑی بلکہ سب کہہ دی۔ سوائے آخری بات کے ۔ خد ا کی قسم ! میں غیر معصیت کی حالت میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں تو بھی مجھے یہ بات اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایسی قوم پر امیر بنوں جس میں حضرت ابوبکر موجود ہوں۔
٨۔ حضرت عمر کہتے ہیں : پھر میں نے عرض کیا۔ اے گروہ انصار ! اے گروہ مسلمین ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معاملہ (یعنی خلافت) کا لوگوں میں سے سب سے زیادہ حق دار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد وہ ہیں جو غاز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمرا ہ تھے۔ یعنی حضرت ابوبکر جو ہر میدان میں سبقت رکھنے والے اور مضبوط ہیں۔ پھر میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا (پکڑنا چاہا) لیکن انصار میں سے ایک آدمی مجھ سے پہل کر گیا پس اس نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر ہاتھ مارا قبل اس کے کہ میں حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا۔ پھر میں نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر ہاتھ مارا (یعنی بیعت کی) اور پھر دیگر لوگوں نے تسلسل کے ساتھ بیعت کی۔ اور حضرت سعد بن عبادہ کے ساتھ ایسے زیادتی ہوگئی اور لوگوں نے کہا۔ حضرت سعد قتل ہوگئے ۔ میں نے کہا۔ ان کو قتل (ہی) کردو۔ اللہ ان کو قتل کرے۔ پھر ہم (وہاں سے) واپس پلٹ گئے اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے معاملہ کو حضرت ابوبکر (کے ہاتھ) پر جمع کردیا تھا۔ پس خدا کی قسم ! خلافتِ (صدیقی) تھی تو اچانک ہی جیسا کہ تم کہتے ہو (لیکن) اللہ تعالیٰ نے اسی کی خیر و برکت (امت کو) عطا کردی اور اس کے شر سے (امت کو) بچا لیا۔ پس (اب) جو آدمی ایسی بیعت (خلافت) کا داعی ہو تو اس کی بیعت نہ ہوگی اور نہ ہی بیعت کرنے والوں کی بیعت ہوگی۔
وہ اس کے ہاتھ پر مارتا پھر جو ہوتا سو ہوتا۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر نے لوگوں سے گفتگو کرنے کا ارادہ کیا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین ! آپ (ابھی) گفتگو نہ کریں کیونکہ آپ (اس وقت) ایسے شہر میں ہیں کہ آپ کے پاس تمام عرب کے دور دراز غیر معروف علاقوں کے لوگ جمع ہیں۔ اور آپ اگر (اب) کوئی بھی بات کریں گے تو وہ آپ سے منسوب ہو کر تمام زمین میں پھیل جائے گی۔ پھر آپ کو نہیں معلوم کہ کیا ہوگا۔ آپ کے مطلب کے لوگ تو وہی ہیں جن کو آپ جانتے ہیں کہ وہ مدینہ واپس جائیں گے۔
٢۔ پھر جب ہم مدینہ میں آئے تو میں سویرے سویرے چلا گیا یہاں تک کہ میں نے منبر کے دائیں پائے (کے ساتھ جگہ) پکڑ لی۔ پھر حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بھی میری طرف آئے یہاں تک کہ وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گئے ۔ میں نے (ان سے) کہا۔ آج کے دن حضرت عمر ایسی گفتگو کریں گے کہ ویسی گفتگو انھوں نے خلیفہ بننے کے بعد سے کبھی نہیں کی۔ سعید نے پوچھا۔ وہ کیسی بات کریں گے ؟ میں نے جواب دیا، ابھی تم وہ بات سُن لو گے۔
ٍ ٣۔ راوی کہتے ہیں : پھر جب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت عمر باہر تشریف لائے یہاں تک کہ آپ منبر پر بیٹھ گئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر آپ نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھا۔ پھر آپ نے فرمایا : یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہمارے درمیان باقی رکھا ان پر اللہ کی جانب سے وحی نازل ہوتی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے ذریعہ حلال و حرام بیان کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو (کی روح کو) قبض کرلیا پس جو کچھ ان کے ہمراہ اللہ نے اٹھانا چاہا وہ اٹھا لیا ۔ اور جس کو اللہ نے باقی رکھنا چاہا تھا اس کو باقی رکھا۔ چنانچہ بعض باتوں کے ساتھ تو ہم وابستہ رہے اور بعض باتیں ہم سے فوت ہوگئیں۔ پس ہم قرآن میں سے جو کچھ پڑھتے تھے اس میں یہ بھی تھا۔ ولا ترغبوا عن آباء کم فانہ کفر بکم ان ترغبوا عن آباء کم۔ اور رجم کی آیت بھی نازل ہوئی تھی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رجم بھی کیا تھا اور ہم نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ رجم کیا تھا۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے ! بلاشبہ میں نے (خود) اس آیت کو یاد کیا تھا اور اس کو سمجھا تھا اور معلوم کیا تھا۔ اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ کہا جائے گا۔ عمر نے قرآن میں اس بات کو لکھا جو اس میں سے نہیں ہے تو البتہ میں اس آیت رجم کو اپنے ہاتھوں سے لکھتا۔ رجم کی تین حالات ہیں۔ واضح حمل ہو۔ یا زانی کی طرف سے اقرار ہو یا عادل گواہ ہوں۔ جیسا کہ حکم خداوندی ہے۔
٤۔ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی خلافت کے بارے میں یہ بات کہی ہے کہ یہ تو اچانک ہوگئی تھی۔ میری عمر کی قسم ! اگرچہ بات ایسی ہی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی خلافت کی خیر و برکت عطا فرمائی اور اس کے شر سے محفوظ فرما لیا۔ تم میں سے کون سا آدمی ہے جس کے لیے (لوگوں کی) گردنیں یوں خم ہوجائیں جیسا کہ حضرت ابوبکر کے لیے خم ہوگئیں تھیں۔
٥۔ یقیناً لوگوں کا معاملہ کچھ ایسا تھا کہ (جب) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے تو ہمارے پاس معاملہ لایا گیا اور ہمیں کہا گیا۔ انصار، سعد بن عبادہ کے پاس بنو ساعدہ میں جمع ہیں اور سعد کی بیعت کر رہے ہیں۔ چنانچہ میں، حضرت ابوبکر ، حضرت ابو عبیدہ بن جرا ح ان کی طرف پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے کہ (مبادا) وہ اسلام میں کوئی دراڑ پیدا کردیں۔ پس ہمیں انصار ہی میں سے دو سچے آدمی ملے ۔ عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی۔ انھوں نے پوچھا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ ہم نے کہا : تمہاری قوم کے پاس، کیونکہ ہمیں ان کے بارے میں کوئی بات پہنچی ہے۔ ان دونوں نے کہا۔ واپس چلے جاؤ کیونکہ تمہاری مخالفت نہیں کی جائے گی اور ایسی چیز نہیں لائی جائے گی جس کو تم ناپسند کرو۔ لیکن ہم نے آگے جانے پر ہی اصرار کیا۔ اور میں (عمر ) وہ کلام تیار کررہا تھا جس کے بارے میں میرا ارادہ بیان کا تھا ۔ یہاں تک کہ ہم ان لوگوں کے پاس پہنچ گئے وہ لوگ تو سارے کے سارے حضرت سعد بن عبادہ پر جھکے ہوئے تھے اور حضرت سعد بن عبادہ اپنے تخت پر تشریف فرما تھے۔ اور بیمار تھے۔ پس جب ہم اوپر سے ان لوگوں کے پاس پہنچے تو انھوں نے بات شروع کی اور کہنے لگے ۔ اے گروہ قریش ! ایک امرن ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم میں سے ہوگا۔ اس پر حضرت حباب بن منذر کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ میں ذی رائے اور معتمد لوگوں میں سے ہوں۔ اگر تم چاہو۔
٦۔ پھر حضرت ابوبکر نے کہا۔ اپنی حالت پر رہو۔ پس میں نے گفتگو کرنا چاہی تو حضرت ابوبکر نے فرمایا : اے عمر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! خاموش رہو، پھر حضرت ابوبکر نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور پھر کہا۔ اے گروہ انصار ! خدا کی قسم ! ہم تمہاری فضیلت کے منکر نہیں ہیں اور نہ ہی اسلام کے بارے میں تمہاری محنت و مشقت کے منکر ہیں۔ اور نہ ہی خود پر واجب تمہارے حق کے منکر ہیں۔ لیکن یقیناً تم جانتے ہو کہ یہ قبیلہ قریش پورے عرب میں اس مقام پر ہے جس پر اس کے علاوہ کوئی قبیلہ نہیں ہے۔ اور عرب کے لوگ قریش ہی کے کسی آدمی پر جمع ہوں گے۔ پس ہم (میں سے) امراء ہوں گے اور تم (میں سے) وزراء ہوں گے۔ پس اللہ سے ڈرو اور اسلام میں دراڑ نہ ڈالو۔ اور اسلام میں نئی بات ایجاد کرنے والے نہ بنو۔ اور بغور یہ بات سنو کہ مجھے تمہارے لیے ان دو افراد میں سے کسی ایک پر راضی ہوں۔ مراد میں (عمر ) تھا اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح ۔ پس ان دونوں میں سے جس پر بھی تم بیعت کرلو تو وہ تمہارے لیے ثقہ ہے۔ حضرت عمر کہنے لگے۔ خدا کی قسم ! جو بات کہنا مجھے پسند تھا حضرت ابوبکر نے ان میں سے کوئی بات نہ چھوڑی بلکہ سب کہہ دی۔ سوائے آخری بات کے ۔ خد ا کی قسم ! میں غیر معصیت کی حالت میں قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں تو بھی مجھے یہ بات اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایسی قوم پر امیر بنوں جس میں حضرت ابوبکر موجود ہوں۔
٨۔ حضرت عمر کہتے ہیں : پھر میں نے عرض کیا۔ اے گروہ انصار ! اے گروہ مسلمین ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معاملہ (یعنی خلافت) کا لوگوں میں سے سب سے زیادہ حق دار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد وہ ہیں جو غاز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمرا ہ تھے۔ یعنی حضرت ابوبکر جو ہر میدان میں سبقت رکھنے والے اور مضبوط ہیں۔ پھر میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا (پکڑنا چاہا) لیکن انصار میں سے ایک آدمی مجھ سے پہل کر گیا پس اس نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر ہاتھ مارا قبل اس کے کہ میں حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا۔ پھر میں نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر ہاتھ مارا (یعنی بیعت کی) اور پھر دیگر لوگوں نے تسلسل کے ساتھ بیعت کی۔ اور حضرت سعد بن عبادہ کے ساتھ ایسے زیادتی ہوگئی اور لوگوں نے کہا۔ حضرت سعد قتل ہوگئے ۔ میں نے کہا۔ ان کو قتل (ہی) کردو۔ اللہ ان کو قتل کرے۔ پھر ہم (وہاں سے) واپس پلٹ گئے اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے معاملہ کو حضرت ابوبکر (کے ہاتھ) پر جمع کردیا تھا۔ پس خدا کی قسم ! خلافتِ (صدیقی) تھی تو اچانک ہی جیسا کہ تم کہتے ہو (لیکن) اللہ تعالیٰ نے اسی کی خیر و برکت (امت کو) عطا کردی اور اس کے شر سے (امت کو) بچا لیا۔ پس (اب) جو آدمی ایسی بیعت (خلافت) کا داعی ہو تو اس کی بیعت نہ ہوگی اور نہ ہی بیعت کرنے والوں کی بیعت ہوگی۔
(۳۸۱۹۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَنَحْنُ بِمِنًی مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أُعَلِّمُ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ الْقُرْآنَ ، فَأَتَیْتُہُ فِی الْمَنْزِلِ ، فَلَمْ أَجِدْہُ ، فَقِیلَ : ہُوَعِنْدَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ ، فَانْتَظَرْتُہُ حَتَّی جَائَ ، فَقَالَ لِی : قَدْ غَضِبَ ہَذَا الْیَوْمَ غَضَبًا مَا رَأَیْتہ غَضِبَ مِثْلَہُ مُنْذُ کَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِمَ ذَاکَ ؟ قَالَ : بَلَغَہُ أَنَّ رَجُلَیْنِ مِنَ الأَنْصَارِ ذَکَرَا بَیْعَۃَ أَبِی بَکْرٍ ، فَقَالاَ : وَاللہِ مَا کَانَتْ إِلاَّ فَلْتَۃً ، فَمَا یَمْنَعُ امْرَئًا إِنْ ہَلَکَ ہَذَا أَنْ یَقُومَ إِلَی مَنْ یُحِبُّ ، فَیَضْرِبُ عَلَی یَدِہِ ، فَتَکُونُ کَمَا کَانَتْ ، قَالَ : فَہَمَّ عُمَرُ أَنْ یُکَلِّمَ النَّاسَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : لاَ تَفْعَلْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، فَإِنَّک بِبَلَدٍ قَدِ اجْتَمَعَتْ إِلَیْہِ أَفْنَائُ الْعَرَبِ کُلُّہَا ، وَإِنَّک إِنْ قُلْتَ مَقَالَۃً حُمِلَتْ عَنْک وَانْتَشَرَتْ فِی الأَرْضِ کُلِّہَا ، فَلَمْ تَدْرِ مَا یَکُونُ فِی ذَلِکَ ، وَإِنَّمَا یُعِینُک مَنْ قَدْ عَرَفْتَ أَنَّہُ سَیَصِیرُ إِلَی الْمَدِینَۃِ۔
فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ رُحْتُ مَہْجَرًا ، حَتَّی أَخَذْتُ عِضَادَۃَ الْمِنْبَرِ الْیُمْنَی ، وَرَاحَ إِلَیَّ سَعِیدُ بْنُ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ ، حَتَّی جَلَسَ مَعِی ، فَقُلْتُ : لَیَقُولَنَّ ہَذَا الْیَوْمَ مَقَالَۃً ، مَا قَالَہَا مُنْذُ اُسْتُخْلِفَ ، قَالَ : وَمَا عَسَی أَنْ یَقُولَ ؟ قُلْتُ : سَتَسْمَعُ ذَلِکَ۔
قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَ النَّاسُ خَرَجَ عُمَرُ حَتَّی جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ، ثُمَّ ذَکَرَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ أَبْقَی رَسُولَہُ بَیْنَ أَظْہُرِنَا ، یَنْزِلُ عَلَیْہِ الْوَحْیُ مِنَ اللہِ، یُحِلُّ بِہِ وَیُحَرِّمُ ، ثُمَّ قَبَضَ اللَّہُ رَسُولَہُ ، فَرَفَعَ مِنْہُ مَا شَائَ أَنْ یَرْفَعَ ، وَأَبْقَی مِنْہُ مَا شَائَ أَنْ یُبْقِی ، فَتَشَبَّثْنَا بِبَعْضٍ ، وَفَاتَنَا بَعْضٌ ، فَکَانَ مِمَّا کُنَّا نَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ : لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ ، فَإِنَّہُ کُفْرٌ بِکُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ ، وَنَزَلَتْ آیَۃُ الرَّجْمِ ، فَرَجَمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا مَعَہُ ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ، لَقَدْ حَفِظْتُہَا وَعَلِمْتُہَا وَعَقَلْتہَا ، وَلَوْلاَ أَنْ یُقَالَ : کَتَبَ عُمَرُ فِی الْمُصْحَفِ مَا لَیْسَ فِیہِ ، لَکَتَبْتہَا بِیَدِی کِتَابًا ، وَالرَّجْمُ عَلَی ثَلاَثَۃِ مَنَازِلَ : حَمْلٌ بَیِّنٌ ، أَوِ اعْتِرَافٌ مِنْ صَاحِبِہِ ، أَوْ شُہُود عَدْلٌ ، کَمَا أَمَرَ اللَّہُ۔
وَقَدْ بَلَغَنِی أَنَّ رِجَالاً یَقُولُونَ فِی خِلاَفَۃِ أَبِی بَکْرٍ : أَنَّہَا کَانَتْ فَلْتَۃً ، وَلَعَمْرِی إِنْ کَانَتْ کَذَلِکَ ، وَلَکِنَّ اللَّہَ أَعْطَی خَیْرَہَا ، وَوَقَی شَرَّہَا ، وَأَیَّکُمْ ہَذَا الَّذِی تَنْقَطِعُ إِلَیْہِ الأَعَنْاقُ کَانْقِطَاعِہَا إِلَی أَبِی بَکْرٍ۔
إِنَّہُ کَانَ مِنْ شَأْنِ النَّاسِ : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُوُفِّیَ ، فَأَتَیْنَا ، فَقِیلَ لَنَا : إِنَّ الأَنْصَارَ قَدِ اجْتَمَعَتْ فِی سَقِیفَۃِ بَنِی سَاعِدَۃَ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ یُبَایِعُونَہُ ، فَقُمْتُ ، وَقَامَ أَبُو بَکْرٍ ، وَأَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَحْوَہُمْ ، فَزِعِینَ أَنْ یُحْدِثُوا فِی الإِسْلاَمِ فَتْقًا ، فَلَقِیَنَا رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ ؛ رَجُلُ صِدْقٍ ، عُوَیْمُ بْنُ سَاعِدَۃَ ، وَمَعْن بْنُ عَدِی ، فَقَالاَ : أَیْنَ تُرِیدُونَ ؟ فَقُلْنَا : قَوْمَکُمْ ، لِمَا بَلَغَنَا مِنْ أَمْرِہِمْ ، فَقَالاَ : ارْجِعُوا فَإِنَّکُمْ لَنْ تُخَالِفُوا ، وَلَنْ یُؤْتَ شَیْئٌ تَکْرَہُونَہُ ، فَأَبَیْنَا إِلاَّ أَنْ نَمْضِی ، وَأَنَا أَزوّر کَلاَمًا أُرِیدُ أَنْ أَتَکَلَّمَ بِہِ ، حَتَّی انْتَہَیْنَا إِلَی الْقَوْمِ ، وَإِذَا ہُمْ عَکَر ہُنَالِکَ عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ، وَہُوَ عَلَی سَرِیرٍ لَہُ مَرِیضٌ ، فَلَمَّا غَشَیْنَاہُمْ ، تَکَلَّمُوا فَقَالُوا : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، مِنَّا أَمِیرٌ وَمِنْکُمْ أَمِیرٌ ، فَقَامَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، فَقَالَ : أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ ، وَعُذَیْقُہَا الْمُرَجَّبُ ، إِنْ شِئْتُمْ وَاللہِ رَدَدْنَاہَا جَذَعَۃً۔
فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : عَلَی رِسْلِکُمْ ، فَذَہَبْتُ لأَتَکَلَّمَ ، فَقَالَ : أَنْصِتْ یَا عُمَرُ ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، إِنَّا وَاللہِ مَا نُنْکِرُ فَضْلَکُمْ ، وَلاَ بَلاَئَکُمْ فِی الإِسْلاَمِ ، وَلاَ حَقَّکُمُ الْوَاجِبَ عَلَیْنَا ، وَلَکِنَّکُمْ قَدْ عَرَفْتُمْ أَنَّ ہَذَا الْحَیَّ مِنْ قُرَیْشٍ بِمَنْزِلَۃٍ مِنَ الْعَرَبِ ، لَیْسَ بِہَا غَیْرُہُمْ ، وَأَنَّ الْعَرَبَ لَنْ تَجْتَمِعَ إِلاَّ عَلَی رَجُلٍ مِنْہُمْ ، فَنَحْنُ الأُمَرَائُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَائُ ، فَاتَّقُوا اللَّہَ ، وَلاَ تَصَدَّعُوا الإِسْلاَمَ ، وَلاَ تَکُونُوا أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ فِی الإِسْلاَمِ ، أَلاَ وَقَدْ رَضِیتُ لَکُمْ أَحَدَ ہَذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ ، لِی وَلأَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، فَأَیُّہُمَا مَا بَایَعْتُمْ فَہُوَ لَکُمْ ثِقَۃٌ ، قَالَ : فَوَاللہِ مَا بَقِیَ شَیْئٌ کُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَقُولَہُ إِلاَّ وَقَدْ قَالَہُ ، یَوْمَئِذٍ ، غَیْرَ ہَذِہِ الْکَلِمَۃِ، فَوَاللہِ لأَنْ أُقْتَلَ ، ثُمَّ أُحْیَی ، ثُمَّ أُقْتَلَ ، ثُمَّ أُحْیَی ، فِی غَیْرِ مَعْصِیَۃٍ ، أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَکُونَ أَمِیرًا عَلَی قَوْمٍ فِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ۔
قَالَ ، ثُمَّ قُلْتُ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ ، إِنَّ أَوْلَی النَّاسِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْدِہِ : {ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ} أَبُو بَکْرٍ السَّبَّاقُ الْمَتِینُ ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِیَدِہِ ، وَبَادَرَنِی رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَضَرَبَ عَلَی یَدِہِ قَبْلَ أَنْ أَضْرِبَ عَلَی یَدِہِ ، ثُمَّ ضَرَبْتُ عَلَی یَدِہِ ، وَتَتَابَعَ النَّاسُ ، وَمِیلَ عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ، فَقَالَ النَّاسُ : قُتِلَ سَعْدٌ ، فَقُلْتُ : اُقْتُلُوہُ ، قَتَلَہُ اللَّہُ ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا ، وَقَدْ جَمَعَ اللَّہُ أَمْرَ الْمُسْلِمِینَ بِأَبِی بَکْرٍ ، فَکَانَتْ لَعَمْرُ اللہِ فَلْتَۃٌ کَمَا قُلْتُمْ ، أَعْطَی اللَّہُ خَیْرَہَا وَوَقَی شَرَّہَا ، فَمَنْ دَعَا إِلَی مِثْلِہَا ، فَہُوَ الَّذِی لاَ بَیْعَۃَ لَہُ ، وَلاَ لِمَنْ بَایَعَہُ۔ (بخاری ۲۴۸۴۔ ابوداؤد ۴۴۱۷)
فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ رُحْتُ مَہْجَرًا ، حَتَّی أَخَذْتُ عِضَادَۃَ الْمِنْبَرِ الْیُمْنَی ، وَرَاحَ إِلَیَّ سَعِیدُ بْنُ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ ، حَتَّی جَلَسَ مَعِی ، فَقُلْتُ : لَیَقُولَنَّ ہَذَا الْیَوْمَ مَقَالَۃً ، مَا قَالَہَا مُنْذُ اُسْتُخْلِفَ ، قَالَ : وَمَا عَسَی أَنْ یَقُولَ ؟ قُلْتُ : سَتَسْمَعُ ذَلِکَ۔
قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَ النَّاسُ خَرَجَ عُمَرُ حَتَّی جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ، ثُمَّ ذَکَرَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ أَبْقَی رَسُولَہُ بَیْنَ أَظْہُرِنَا ، یَنْزِلُ عَلَیْہِ الْوَحْیُ مِنَ اللہِ، یُحِلُّ بِہِ وَیُحَرِّمُ ، ثُمَّ قَبَضَ اللَّہُ رَسُولَہُ ، فَرَفَعَ مِنْہُ مَا شَائَ أَنْ یَرْفَعَ ، وَأَبْقَی مِنْہُ مَا شَائَ أَنْ یُبْقِی ، فَتَشَبَّثْنَا بِبَعْضٍ ، وَفَاتَنَا بَعْضٌ ، فَکَانَ مِمَّا کُنَّا نَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ : لاَ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ ، فَإِنَّہُ کُفْرٌ بِکُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِکُمْ ، وَنَزَلَتْ آیَۃُ الرَّجْمِ ، فَرَجَمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا مَعَہُ ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ ، لَقَدْ حَفِظْتُہَا وَعَلِمْتُہَا وَعَقَلْتہَا ، وَلَوْلاَ أَنْ یُقَالَ : کَتَبَ عُمَرُ فِی الْمُصْحَفِ مَا لَیْسَ فِیہِ ، لَکَتَبْتہَا بِیَدِی کِتَابًا ، وَالرَّجْمُ عَلَی ثَلاَثَۃِ مَنَازِلَ : حَمْلٌ بَیِّنٌ ، أَوِ اعْتِرَافٌ مِنْ صَاحِبِہِ ، أَوْ شُہُود عَدْلٌ ، کَمَا أَمَرَ اللَّہُ۔
وَقَدْ بَلَغَنِی أَنَّ رِجَالاً یَقُولُونَ فِی خِلاَفَۃِ أَبِی بَکْرٍ : أَنَّہَا کَانَتْ فَلْتَۃً ، وَلَعَمْرِی إِنْ کَانَتْ کَذَلِکَ ، وَلَکِنَّ اللَّہَ أَعْطَی خَیْرَہَا ، وَوَقَی شَرَّہَا ، وَأَیَّکُمْ ہَذَا الَّذِی تَنْقَطِعُ إِلَیْہِ الأَعَنْاقُ کَانْقِطَاعِہَا إِلَی أَبِی بَکْرٍ۔
إِنَّہُ کَانَ مِنْ شَأْنِ النَّاسِ : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُوُفِّیَ ، فَأَتَیْنَا ، فَقِیلَ لَنَا : إِنَّ الأَنْصَارَ قَدِ اجْتَمَعَتْ فِی سَقِیفَۃِ بَنِی سَاعِدَۃَ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ یُبَایِعُونَہُ ، فَقُمْتُ ، وَقَامَ أَبُو بَکْرٍ ، وَأَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَحْوَہُمْ ، فَزِعِینَ أَنْ یُحْدِثُوا فِی الإِسْلاَمِ فَتْقًا ، فَلَقِیَنَا رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ ؛ رَجُلُ صِدْقٍ ، عُوَیْمُ بْنُ سَاعِدَۃَ ، وَمَعْن بْنُ عَدِی ، فَقَالاَ : أَیْنَ تُرِیدُونَ ؟ فَقُلْنَا : قَوْمَکُمْ ، لِمَا بَلَغَنَا مِنْ أَمْرِہِمْ ، فَقَالاَ : ارْجِعُوا فَإِنَّکُمْ لَنْ تُخَالِفُوا ، وَلَنْ یُؤْتَ شَیْئٌ تَکْرَہُونَہُ ، فَأَبَیْنَا إِلاَّ أَنْ نَمْضِی ، وَأَنَا أَزوّر کَلاَمًا أُرِیدُ أَنْ أَتَکَلَّمَ بِہِ ، حَتَّی انْتَہَیْنَا إِلَی الْقَوْمِ ، وَإِذَا ہُمْ عَکَر ہُنَالِکَ عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ، وَہُوَ عَلَی سَرِیرٍ لَہُ مَرِیضٌ ، فَلَمَّا غَشَیْنَاہُمْ ، تَکَلَّمُوا فَقَالُوا : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، مِنَّا أَمِیرٌ وَمِنْکُمْ أَمِیرٌ ، فَقَامَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، فَقَالَ : أَنَا جُذَیْلُہَا الْمُحَکَّکُ ، وَعُذَیْقُہَا الْمُرَجَّبُ ، إِنْ شِئْتُمْ وَاللہِ رَدَدْنَاہَا جَذَعَۃً۔
فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : عَلَی رِسْلِکُمْ ، فَذَہَبْتُ لأَتَکَلَّمَ ، فَقَالَ : أَنْصِتْ یَا عُمَرُ ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، إِنَّا وَاللہِ مَا نُنْکِرُ فَضْلَکُمْ ، وَلاَ بَلاَئَکُمْ فِی الإِسْلاَمِ ، وَلاَ حَقَّکُمُ الْوَاجِبَ عَلَیْنَا ، وَلَکِنَّکُمْ قَدْ عَرَفْتُمْ أَنَّ ہَذَا الْحَیَّ مِنْ قُرَیْشٍ بِمَنْزِلَۃٍ مِنَ الْعَرَبِ ، لَیْسَ بِہَا غَیْرُہُمْ ، وَأَنَّ الْعَرَبَ لَنْ تَجْتَمِعَ إِلاَّ عَلَی رَجُلٍ مِنْہُمْ ، فَنَحْنُ الأُمَرَائُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَائُ ، فَاتَّقُوا اللَّہَ ، وَلاَ تَصَدَّعُوا الإِسْلاَمَ ، وَلاَ تَکُونُوا أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ فِی الإِسْلاَمِ ، أَلاَ وَقَدْ رَضِیتُ لَکُمْ أَحَدَ ہَذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ ، لِی وَلأَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، فَأَیُّہُمَا مَا بَایَعْتُمْ فَہُوَ لَکُمْ ثِقَۃٌ ، قَالَ : فَوَاللہِ مَا بَقِیَ شَیْئٌ کُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَقُولَہُ إِلاَّ وَقَدْ قَالَہُ ، یَوْمَئِذٍ ، غَیْرَ ہَذِہِ الْکَلِمَۃِ، فَوَاللہِ لأَنْ أُقْتَلَ ، ثُمَّ أُحْیَی ، ثُمَّ أُقْتَلَ ، ثُمَّ أُحْیَی ، فِی غَیْرِ مَعْصِیَۃٍ ، أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَکُونَ أَمِیرًا عَلَی قَوْمٍ فِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ۔
قَالَ ، ثُمَّ قُلْتُ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ ، إِنَّ أَوْلَی النَّاسِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْدِہِ : {ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ} أَبُو بَکْرٍ السَّبَّاقُ الْمَتِینُ ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِیَدِہِ ، وَبَادَرَنِی رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَضَرَبَ عَلَی یَدِہِ قَبْلَ أَنْ أَضْرِبَ عَلَی یَدِہِ ، ثُمَّ ضَرَبْتُ عَلَی یَدِہِ ، وَتَتَابَعَ النَّاسُ ، وَمِیلَ عَلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ، فَقَالَ النَّاسُ : قُتِلَ سَعْدٌ ، فَقُلْتُ : اُقْتُلُوہُ ، قَتَلَہُ اللَّہُ ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا ، وَقَدْ جَمَعَ اللَّہُ أَمْرَ الْمُسْلِمِینَ بِأَبِی بَکْرٍ ، فَکَانَتْ لَعَمْرُ اللہِ فَلْتَۃٌ کَمَا قُلْتُمْ ، أَعْطَی اللَّہُ خَیْرَہَا وَوَقَی شَرَّہَا ، فَمَنْ دَعَا إِلَی مِثْلِہَا ، فَہُوَ الَّذِی لاَ بَیْعَۃَ لَہُ ، وَلاَ لِمَنْ بَایَعَہُ۔ (بخاری ۲۴۸۴۔ ابوداؤد ۴۴۱۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨١٩٩) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کی روح مبارکہ) قبض ہوئی تو انصار نے کہا۔ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے ہوگا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر ان کے پاس آئے اور فرمایا : اے گروہانِ انصار ! کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ؟ انصار نے کہا۔ کیوں نہیں ! حضرت عمر نے کہا۔ پھر تم میں سے کس کا دل اس بات پر خوش ہے کہ وہ ابوبکر سے آگے بڑھے۔ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ سے اس بات کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم ابوبکر سے آگے بڑھیں۔
(۳۸۱۹۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَاصِمِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَتِ الأَنْصَارُ : مِنَّا أَمِیرٌ وَمِنْکُمْ أَمِیرٌ ، قَالَ : فَأَتَاہُمْ عُمَرُ، فَقَالَ: یَا مَعَاشِرَ الأَنْصَارِ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ؟ قَالَوا: بَلَی ، قَالَ: فَأَیُّکُمْ تَطِیبُ نَفْسُہُ أَنْ یَتَقَدَّمَ أَبَا بَکْرٍ ؟ فَقَالُوا : نَعُوذُ بِاللہِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَکْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨٢٠٠) حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کی وفات) کے بعد جب حضرت ابوبکر کی بیعت کی گئی تو حضرت علی اور حضرت زبیر ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی حضرت فاطمہ کے ہاں آنے جانے لگے اور ان سے مشاورت کرنے لگے اور اپنے معاملہ (خلافت) میں ان سے تقاضا کرنے لگے۔ پس جب یہ بات حضرت عمر بن خطاب کو پہنچی تو آپ نکل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ حضرت فاطمہ کے ہاں داخل ہوئے اور فرمایا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی ! خدا کی قسم ! تمام مخلوق میں ہمیں تمہارے والد سے زیادہ کوئی محبوب نہیں ۔ اور آپ کے بعد والد کے بعد ہمیں آپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔ خدا کی قسم ! (لیکن) اگر یہ آپ کے پاس (دوبارہ) جمع ہوئے تو مجھے یہ (محبت والی) بات اس سے مانع نہیں ہوگی کہ میں لوگوں کو حکم دوں اور ان تمام (گھر میں موجود) افراد پر گھر کو جلا دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں : پس جب حضرت عمر باہر چلے گئے تو یہ حضرات بی بی فاطمہ کے پاس آئے۔ حضرت فاطمہ نے فرمایا : تمہیں معلوم ہے کہ حضرت عمر میرے پاس آئے تھے۔ اور انھوں نے خدا کی قسم کھا کر کہا ہے کہ اگر تم لوگ دوبارہ جمع ہوئے تو وہ ضرور بالضرور تمہیں گھر میں جلا دیں گے۔ اور خدا کی قسم ! حضرت عمر نے جو کہا ہے وہ اس کو ضرور پورا کریں گے۔ پس تم لوگ اچھی حالت میں ہی واپس چلے جاؤ۔ اور اپنی رائے کو دیکھ لو۔ میری طرف واپس نہ آنا چنانچہ لوگ وہاں سے واپس ہوگئے اور جب تک ان لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت نہیں کی یہ (فاطمہ کے پاس) واپس نہیں آئے۔
(۳۸۲۰۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ أَسْلَمَ ؛ أَنَّہُ حِینَ بُویِعَ لأَبِی بَکْرٍ بَعْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَانَ عَلِیٌّ وَالزُّبَیْرُ یَدْخُلاَنِ عَلَی فَاطِمَۃَ بِنْتِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَیُشَاوِرُونَہَا وَیَرْتَجِعُونَ فِی أَمْرِہِمْ ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ حَتَّی دَخَلَ عَلَی فَاطِمَۃَ ، فَقَالَ : یَا بِنْتَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاللہِ مَا مِنَ الْخَلْقِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَیْنَا مِنْ أَبِیک ، وَمَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَیْنَا بَعْدَ أَبِیک مِنْک ، وَأَیْمُ اللہِ ، مَا ذَاکَ بِمَانِعِیَّ إِنِ اجْتَمَعَ ہَؤُلاَئِ النَّفَرُ عِنْدَکِ ، أَنْ آمُرَ بِہِمْ أَنْ یُحَرَّقَ عَلَیْہِمُ الْبَیْتُ۔
قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَ عُمَرُ جَاؤُوہَا ، فَقَالَتْ : تَعْلَمُونَ أَنَّ عُمَرَ قَدْ جَائَنِی ، وَقَدْ حَلَفَ بِاللہِ لَئِنْ عُدْتُمْ لَیُحَرِّقَنَّ عَلَیْکُمُ الْبَیْتَ ، وَأَیْمُ اللہِ ، لَیَمْضِیَنَّ لِمَا حَلَفَ عَلَیْہِ ، فَانْصَرِفُوا رَاشِدِینَ ، فَرُوْا رَأْیَکُمْ ، وَلاَ تَرْجِعُوا إِلَیَّ ، فَانْصَرَفُوا عنہا ، فَلَمْ یَرْجِعُوا إِلَیْہَا ، حَتَّی بَایَعُوا لأَبِی بَکْرٍ۔
قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَ عُمَرُ جَاؤُوہَا ، فَقَالَتْ : تَعْلَمُونَ أَنَّ عُمَرَ قَدْ جَائَنِی ، وَقَدْ حَلَفَ بِاللہِ لَئِنْ عُدْتُمْ لَیُحَرِّقَنَّ عَلَیْکُمُ الْبَیْتَ ، وَأَیْمُ اللہِ ، لَیَمْضِیَنَّ لِمَا حَلَفَ عَلَیْہِ ، فَانْصَرِفُوا رَاشِدِینَ ، فَرُوْا رَأْیَکُمْ ، وَلاَ تَرْجِعُوا إِلَیَّ ، فَانْصَرَفُوا عنہا ، فَلَمْ یَرْجِعُوا إِلَیْہَا ، حَتَّی بَایَعُوا لأَبِی بَکْرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨٢٠١) حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دفن میں حاضر نہیں تھے۔ یہ دونوں انصار میں موجود تھے۔ پس ان کے واپس آنے سے پہلے ان کی بیعت ہوگئی ۔
(۳۸۲۰۱) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ لَمْ یَشْہَدَا دَفْنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَانَا فِی الأَنْصَارِ ، فَبُویِعَا قَبْلَ أَنْ یَرْجِعَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨٢٠٢) حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر ، حضرت ابوبکر کے پاس حاضر ہوئے تو (دیکھا کہ) حضرت ابوبکر اپنی زبان کو پکڑے ہوئے تھے اور اس کو ہلا رہے تھے۔ حضرت عمر نے کہا۔ اے خلیفہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔ حضرت ابوبکر کہنے لگے۔ ہاں اسی زبان نے مجھے بہت سے گھاٹوں پر اتارا ہے۔
(۳۸۲۰۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ ، قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ عَلَی أَبِی بَکْرٍ وَہُوَ آخِذٌ بِلِسَانِہِ یُنَضْنِضُہُ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : اللَّہَ اللَّہَ یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللہِ ، وَہُوَ یَقُولُ : ہَاہْ ، إِنَّ ہَذَا أَوْرَدَنِی الْمَوَارِدَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨٢٠٣) حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ اے خلیفۃ اللہ ! حضرت ابوبکر نے کہا۔ میں خلیفۃ اللہ نہیں ہوں۔ بلکہ میں خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں اور میں اس پر راضی ہوں۔
(۳۸۲۰۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لأَبِی بَکْرٍ : یَا خَلِیفَۃَ اللہِ ، قَالَ : لَسْتُ بِخَلِیفَۃِ اللہِ ، وَلَکِنِّی خَلِیفَۃُ رَسُولِ اللہِ ، أَنَا رَاضٍ بِذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨٢٠٤) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔” میں نہیں جانتا کہ میری تم میں رہنے کی مقدار کتنی باقی ہے۔ پس تم ان دونوں کی اقتداء کرنا جو میرے بعد (خلیفہ) ہوں گے۔ “ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی طرف اشارہ فرمایا : ” اور حضرت عمار کے طریقہ کے مطابق چلنا۔ اور جو حدیث تم کو ابن مسعود بیان کرے تو اس کی تصدیق کرو۔ “
(۳۸۲۰۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ مَوْلًی لِرِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّی لاَ أَدْرِی مَا قَدْرُ بَقَائِی فِیکُمْ ، فَاقْتَدُوا بِاللَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِی ، وَأَشَارَ إِلَی أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ، وَاہْتَدُوا بِہَدْیِ عَمَّارٍ ، وَمَا حَدَّثَکُمُ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنْ شَیْئٍ فَصَدِّقُوہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨٢٠٥) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر (اس کے بعد) انھوں نے عبد الملک بن عمیر کی طرح ہی حدیث بیان کی ۔۔۔ لیکن انھوں نے یہ بھی کہا۔ اور ابن ام عبد کے عہد کو مضبوطی سے پکڑو۔
(۳۸۲۰۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سَالِمٍ الْمُرَادِیِّ أَبِی الْعَلاَئِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ ہَرِمٍ ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ ، وَأَبِی عَبْدِ اللہِ ، رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ حُذَیْفَۃَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَذَکَرَ مِثْلَ حَدِیثِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ، إِلاَّ إِنَّہُ قَالَ: تَمَسَّکُوا بِعَہْدِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ۔ (ترمذی ۳۶۶۳۔ ابن سعد ۳۳۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨٢٠٦) بنو زریق کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ جب یہ دن تھا تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نکلے یہاں تک کہ وہ انصار کے پاس آئے۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے گروہ انصار ! یقیناً ہم تمہارے حق کے منکر نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی مؤمن تمہارے حق کا منکر ہوسکتا ہے۔ اور خدا کی قسم ! بلاشبہ ہم نے جو خیر بھی حاصل کی ہے تم اس میں ہمارے ساتھ شریک تھے۔ لیکن قریش کے آدمی کے علاوہ کسی اور آدمی پر اہل عرب راضی ہوں گے اور نہ قرار پکڑیں گے۔ کیونکہ قریش کے لوگ سب سے زیادہ فصیح اللسان ہیں اور تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت چہرے والے ہں ۔ اور اہل عرب میں سے سب سے وسیع گھر والے ہیں اور عرب کے لوگوں میں سب سے زیادہ باعزت ہیں۔ پس تم آؤ عمر کی طرف اور ان کی بیعت کرو۔ راوی کہتے ہیں : انصار نے کہا : نہیں ! حضرت عمر نے پوچھا : کیوں ؟ انصار نے جواب دیا ۔ ہمیں ترجیح دیے جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت عمر نے کہا۔ بہرحال جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو (یہ) نہیں ہوگا۔ حضرت عمر نے کہا۔ چلو پھر حضرت ابوبکر کی بیعت کرلو۔
٢۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا۔ تم مجھ سے زیادہ قوی ہو۔ حضرت عمر نے (جواباً ) فرمایا : آپ مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ پھر دوبارہ ان دونوں حضرات نے باہم ان جملوں کا تکرار کیا۔ پھر جب تیسری مرتبہ یہ بات ہوئی تو حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ یقیناً میری قوت بھی آپ کے لیے ہے اور اس کے ساتھ آپ کو فضیلت بھی حاصل ہے۔ چنانچہ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کرلی۔
٣۔ محمد کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی بیعت کے وقت لوگ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے پاس گئے تو انھوں نے فرمایا۔ تم لوگ میرے پاس آئے ہو حالانکہ تم میں تین میں سے تیسرا موجود ہے یعنی حضرت ابوبکر ۔
٤۔ ابن عون کہتے ہیں : میں نے محمد سے پوچھا۔ تین میں سے تیسرا کون ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ارشاد خداوندی ہے۔ { ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ }۔
٢۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا۔ تم مجھ سے زیادہ قوی ہو۔ حضرت عمر نے (جواباً ) فرمایا : آپ مجھ سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔ پھر دوبارہ ان دونوں حضرات نے باہم ان جملوں کا تکرار کیا۔ پھر جب تیسری مرتبہ یہ بات ہوئی تو حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ یقیناً میری قوت بھی آپ کے لیے ہے اور اس کے ساتھ آپ کو فضیلت بھی حاصل ہے۔ چنانچہ لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کرلی۔
٣۔ محمد کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی بیعت کے وقت لوگ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کے پاس گئے تو انھوں نے فرمایا۔ تم لوگ میرے پاس آئے ہو حالانکہ تم میں تین میں سے تیسرا موجود ہے یعنی حضرت ابوبکر ۔
٤۔ ابن عون کہتے ہیں : میں نے محمد سے پوچھا۔ تین میں سے تیسرا کون ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ارشاد خداوندی ہے۔ { ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ }۔
(۳۸۲۰۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی زُرَیْقٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ ذَلِکَ الْیَوْمُ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ حَتَّی أَتَیَا الأَنْصَارَ ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، إِنَّا لاَ نُنْکِرُ حَقَّکُمْ ، وَلاَ یُنْکِرُ حَقَّکُمْ مُؤْمِنٌ ، وَإِنَّا وَاللہِ مَا أَصَبْنَا خَیْرًا إِلاَّ مَا شَارَکْتُمُونَا فِیہِ ، وَلَکِنْ لاَ تَرْضَی الْعَرَبُ وَلاَ تُقِرُّ إِلاَّ عَلَی رَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ ، لأَنَّہُمْ أَفْصَحُ النَّاسِ أَلْسِنَۃً ، وَأَحْسَنُ النَّاسِ وُجُوہًا ، وَأَوْسَطُ الْعَرَبِ دَارًا ، وَأَکْثَرُ النَّاسِ شُِجِنۃً فِی الْعَرَبِ ، فَہَلُمُّوا إِلَی عُمَرَ فَبَایِعُوہُ ، قَالَ : فَقَالُوا : لاَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لِمَ ؟ فَقَالُوا : نَخَافُ الأَثَرَۃَ ، قَالَ عُمَرُ : أَمَّا مَا عِشْتُ فَلاَ ، قَالَ : فَبَایِعُوا أَبَا بَکْرٍ۔
فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لِعُمَرَ : أَنْتَ أَقْوَی مِنِّی ، فَقَالَ عُمَرُ : أَنْتَ أَفْضَلُ مِنِّی ، فَقَالاَہَا الثَّانِیَۃَ ، فَلَمَّا کَانَتِ الثَّالِثَۃُ ، قَالَ لَہُ عُمَرُ : إِنَّ قُوَّتِی لَک مَعَ فَضْلِکَ ، قَالَ : فَبَایَعُوا أَبَا بَکْرٍ۔
قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَتَی النَّاسُ عِنْدَ بَیْعَۃِ أَبِی بَکْرٍ أَبَا عبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، فَقَالَ : أَتَأْتُونِی وَفِیکُمْ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ ، یَعَنْی أَبَا بَکْرٍ۔
قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَقُلْتُ لِمُحَمَّدٍ : مَنْ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ ، قَالَ : قَوْلُ اللہِ : {ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ}۔
فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لِعُمَرَ : أَنْتَ أَقْوَی مِنِّی ، فَقَالَ عُمَرُ : أَنْتَ أَفْضَلُ مِنِّی ، فَقَالاَہَا الثَّانِیَۃَ ، فَلَمَّا کَانَتِ الثَّالِثَۃُ ، قَالَ لَہُ عُمَرُ : إِنَّ قُوَّتِی لَک مَعَ فَضْلِکَ ، قَالَ : فَبَایَعُوا أَبَا بَکْرٍ۔
قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَتَی النَّاسُ عِنْدَ بَیْعَۃِ أَبِی بَکْرٍ أَبَا عبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، فَقَالَ : أَتَأْتُونِی وَفِیکُمْ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ ، یَعَنْی أَبَا بَکْرٍ۔
قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَقُلْتُ لِمُحَمَّدٍ : مَنْ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ ، قَالَ : قَوْلُ اللہِ : {ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨٢٠٧) حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ سے سنا اور (ان سے) سوال کیا گیا تھا۔ اے ام المؤمنین ! اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خلیفہ بناتے تو کس کو خلیفہ بناتے ؟ انھوں نے جواب دیا ۔ حضرت ابوبکر کو۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ سے پوچھا گیا۔ پھر ابوبکر کے بعد کس کو ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا۔ پھر عمر کو ۔ پوچھا گیا۔ حضرت عمر کے بعد کس کو ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا ۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو۔ پھر حضرت عائشہ یہاں پہنچ کر رک گئیں۔
(۳۸۲۰۷) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَۃَ وَسُئِلَتْ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ ، مَنْ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْتَخْلِفُ ، أَوِ اسْتَخْلَفَ ؟ قَالَتْ : أَبُو بَکْرٍ ، قَالَ : ثُمَّ قِیلَ لَہَا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَتْ : ثُمَّ عُمَرُ ، قِیلَ: مَنْ بَعْدَ عُمَرَ ؟ قَالَتْ: أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، ثُمَّ انْتَہَتْ إِلَی ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮২০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں وارد احادیث اور آپ کا ارتداد کے بارے میں طریقہ کار
(٣٨٢٠٨) حضرت عبد خیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بہترین حالت میں موت آئی جس بہترین حالت پر انبیاء کرام کو موت آتی ہے۔ پھر حضرت علی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف بیان کی۔ (پھر) حضرت علی نے کہا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنایا گیا پس انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے مطابق کام کیا۔ پھر حضرت ابوبکر کی موت بھی اس بہترین حالت میں آئی جس پر کسی آدمی کی بہترین موت آسکتی ہے۔ اور حضرت ابوبکر اس امت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے بہترین شخص تھے۔ پھر حضرت عمر کو خلیفہ بنایا گیا چنانچہ انھوں نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر کے عمل اور سنت کے مطابق عمل کیا پھر ان کو بھی اس بہترین حالت میں موت آئی جس پر کسی بھی آدمی کو بہترین موت آسکتی ہے۔ اور حضرت عمر اس امت میں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر کے بعد سب سے بہترین شخص تھے۔
(۳۸۲۰۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَلْعٍ ، عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا یَقُولُ: قُبِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی خَیْرِ مَا قُبِضَ عَلَیْہِ نَبِیٌّ مِنَ الأَنْبِیَائِ ، وَأَثْنَی عَلَیْہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ ، فَعَمِلَ بِعَمَلِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبِسُنَّتِہِ ، ثُمَّ قُبِضَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی خَیْرِ مَا قُبِضَ عَلَیْہِ أَحَدٌ ، وَکَانَ خَیْرَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ ، فَعَمِلَ بِعَمَلِہِمَا وَسُنَّتِہِمَا، ثُمَّ قُبِضَ عَلَی خَیْرِ مَا قُبِضَ عَلَیْہِ أَحَدٌ، وَکَانَ خَیْرَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا وَبَعْدَ أَبِی بَکْرٍ۔
তাহকীক: