মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮১৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
(٣٨١٦٩) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل نجران کے ساتھ مباہلہ کرنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” تحقیق مجھے ایک بشارت دینے والے نے اہل نجران کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اگر یہ لوگ مباہلہ میں مکمل شریک ہوجاتے حتیٰ کہ درختوں پر پرندے بھی ۔۔۔ یا ۔۔۔ فرمایا۔۔۔ درختوں پر چڑیا بھی۔ “ اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اہل نجران کی طرف جا رہے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسن اور حسین کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور حضرت فاطمہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے چل رہی تھیں۔
(۳۸۱۶۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُلاَعِنَ أَہْلَ نَجْرَانَ قَبِلُوا الْجِزْیَۃَ أَنْ یُعْطُوہَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ أَتَانِی الْبَشِیرُ بِہَلَکَۃِ أَہْلِ نَجْرَانَ ، لَوْ تَمُّوا عَلَی الْمُلاَعَنَۃ ، حَتَّی الطَّیْرِ عَلَی الشَّجَرِ ، أَوِ الْعُصْفُورِ عَلَی الشَّجَرِ ، وَلَمَّا غَدَا إِلَیْہِمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِیَدِ حَسَنٍ وَحُسَیْنٍ ، وَکَانَتْ فَاطِمَۃُ تَمْشِی خَلْفَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
(٣٨١٧٠) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل نجران کو تحریر فرمایا۔۔۔ یہ عیسائی لوگ ہیں ۔۔۔ ” کہ تم میں سے جو سود پر خریدو فروخت کرے گا اس کا (ہم پر) کوئی ذمہ نہیں ۔ “
(۳۸۱۷۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِیدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی أَہْلِ نَجْرَانَ وَہُمْ نَصَارَی : أَنَّ مَنْ بَایَعَ مِنْکُمْ بِالرِّبَا ، فَلاَ ذِمَّۃَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
(٣٨١٧١) حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے اہل نجران ۔۔۔ یہودو نصاریٰ ۔۔۔ کو جلا وطن کیا اور ان کی زمینوں اور انگوروں کی بیلوں کو خرید لیا اور حضرت عمر نے (ان سے یہ) معاملہ کیا کہ اگر وہ بیل اور ہل کا سامان خود مہیا کریں تو ان کو (پیداوار کا) دو ثلث اور حضرت عمر کو ایک ثلث ملے گا اور اگر حضرت عمر بیج مہیا کریں تو ان کو نصف حصہ ملے گا۔ اور حضرت عمر نے ان کے ساتھ کھجوروں کا اس شرط پر معاملہ کیا کہ (پیداوار کا) ایک خمس ان کا ہوگا اور چار خمس حضرت عمر کے ہوں گے ۔۔۔ اور انگوروں میں ان کے ساتھ اس شرط پر معاملہ کیا کہ ان کا حصہ ایک ثلث ہوگا اور حضرت عمر کا حصہ دو ثلث ہوں گے۔
(۳۸۱۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ أَجْلَی أَہْلَ نَجْرَانَ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی ، وَاشْتَرَی بَیَاضَ أَرْضِہِمْ وَکُرُومِہِمْ ، فَعَامَلَ عُمَرُ النَّاسَ ؛ إِنْ ہُمْ جَاؤُوا بِالْبَقَرِ وَالْحَدِیدِ مِنْ عَنْدِہِمْ ، فَلَہُمَ الثُّلُثَانِ وَلِعُمَرَ الثُّلُثُ ، وَإِنْ جَائَ عُمَرُ بِالْبَذْرِ مِنْ عَنْدِہِ ، فَلَہُ الشَّطْرُ ، وَعَامَلَہُمُ النَّخْلَ عَلَی أَنَّ لَہُمُ الْخُمْسَ وَلِعُمَرَ أَرْبَعَۃُ أَخْمَاسٍ ، وَعَامَلَہُمُ الْکَرْمَ عَلَی أَنَّ لَہُمُ الثُّلُثَ ، وَلِعُمَرَ الثُّلُثَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
(٣٨١٧٢) حضرت سالم سے روایت ہے کہ اہل نجران کی تعداد (جب) چالسد ہزار کو پہنچ گئی ۔۔۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر ان سے اس بات کا خوف کرتے تھے کہ یہ مسلمانوں پر حملہ آور ہوجائیں گے۔ تو (اتفاقاً ) ان میں باہم حسد پیدا ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ لوگ حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ ہم لوگوں میں باہم حسد پیدا ہوگیا ہے پس آپ ہمیں جلا وطن کردیں ۔۔۔ راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے ایک تحریر لکھ دی تھی کہ انھیں جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر نے اس کو غنیمت سمجھا اور ان کو جلا وطن فرما دیا۔ اس کے بعد اہل نجران کو ندامت ہوئی اور وہ آپ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہم اپنی بات سے معذرت کرتے ہیں۔ حضرت عمر نے ان کی معذرت قبول کرنے سے انکار فرما دیا۔ پھر جب حضرت علی تشریف لائے تو یہ لوگ حضرت علی کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ ہم آپ سے آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر اور آپ کے نیو کی سفارش کے ذریعہ سوال کرتے ہیں کہ آپ ہماری معذرت قبول کرلیں۔ لیکن حضرت علی نے بھی انکار فرما دیا اور کہا۔ تم ہلاک ہو جاؤ۔ حضرت عمر تو ایک بصیرت والے شخص تھے۔
سالم راوی کہتے ہیں۔ اسلاف کی رائے یہ ہے کہ حضرت علی اگر حضرت عمر کی کسی بات پر معترض ہوتے تو وہ آپ کو اہل نجران کے بارے میں اعتراض دیتے۔
سالم راوی کہتے ہیں۔ اسلاف کی رائے یہ ہے کہ حضرت علی اگر حضرت عمر کی کسی بات پر معترض ہوتے تو وہ آپ کو اہل نجران کے بارے میں اعتراض دیتے۔
(۳۸۱۷۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : کَانَ أَہْلُ نَجْرَانَ قَدْ بَلَغُوا أَرْبَعِینَ أَلْفًا ، قَالَ : وَکَانَ عُمَرُ یَخَافُہُمْ أَنْ یَمِیلُوا عَلَی الْمُسْلِمِینَ ، فَتَحَاسَدُوا بَیْنَہُمْ ، قَالَ : فَأَتَوْا عُمَرَ ، فَقَالُوا : إِنَّا قَدْ تَحَاسَدْنَا بَیْنَنَا فَأجِّلْنَا ، قَالَ : وَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَتَبَ لَہُمْ کِتَابًا أَنْ لاَ یُجْلُوا ، قَالَ : فَاغْتَنَمَہَا عُمَرُ فَأَجْلاَہُمْ ، فَنَدِمُوا ، فَأَتَوْہُ ، فَقَالُوا : أَقِلْنَا ، فَأَبَی أَنْ یُقِیلَہُمْ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِیٌّ أَتَوْہُ ، فَقَالُوا : إِنَّا نَسْأَلُک بِخَطِّ یَمِینِکَ، وَشَفَاعَتِکَ عِنْدَ نَبِیِّکَ إِلاَّ أَقَلْتَنَا ، فَأَبَی، وَقَالَ: وَیْحَکُمْ ، إِنَّ عُمَرَ کَانَ رَشِیدَ الأَمْرِ۔
قَالَ سَالِمٌ : فَکَانُوا یَرَوْنَ ، أَنَّ عَلِیًّا لَوْ کَانَ طَاعِنًا عَلَی عُمَرَ فِی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِہِ ؛ طعَنَ عَلَیْہِ فِی أَہْلِ نَجْرَانَ۔
قَالَ سَالِمٌ : فَکَانُوا یَرَوْنَ ، أَنَّ عَلِیًّا لَوْ کَانَ طَاعِنًا عَلَی عُمَرَ فِی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِہِ ؛ طعَنَ عَلَیْہِ فِی أَہْلِ نَجْرَانَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
(٣٨١٧٣) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نجران کے دو راہب عاقب اور سید حاضر ہوئے اور انھوں نے عرض کیا۔ آپ ہمارے ساتھ خوب امانتدار شخص بھیج دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں ضرور بالضرور تمہارے ہمراہ ایک کامل امانتدار آدمی کو بھیجوں گا “ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ اس معاملہ کا انتظار کرنے لگے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے ابو عبیدہ بن الجراح ! اٹھو “ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ان کے ہمراہ بھیج دیا۔
(۳۸۱۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُسْقُفَا نَجْرَانَ ؛ الْعَاقِبُ وَالسَّیِّدُ ، فَقَالاَ : ابْعَثْ مَعَنا رَجُلاً أَمِینًا ، حَقَّ أَمِینٍ، حَقَّ أَمِینٍ ، فَقَالَ : لأَبْعَثَنَّ مَعَکُمْ رَجُلاً حَقَّ أَمِینٍ ، فَاسْتَشْرَفَ لَہَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ : قُمْ یَا أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، فَأَرْسَلَہُ مَعَہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
(٣٨١٧٤) حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نجران (والوں) کی طرف بھیجا تو انھوں نے مجھ سے پوچھا۔ تم لوگ تو پڑھتے ہو { یَا أُخْتَ ہَارُونَ } حالانکہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے درمیان بہت زیادہ سالوں کا وقفہ ہے ؟ مجھے ان کے اس سوال کا جواب معلوم نہیں تھا۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” تم نے انھیں یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ لوگ اپنے سے پہلے والے انبیاء اور صالحین کے ناموں کے مطابق نام رکھتے تھے “۔ ؟
(۳۸۱۷۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الْمُغِیرَۃَ بْنِ شُعْبَۃَ ، قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی نَجْرَانَ ، فَقَالُوا لِی : إِنَّکُمْ تَقْرَؤُونَ : {یَا أُخْتَ ہَارُونَ} وَبَیْنَ مُوسَی وَعِیسَی مَا شَائَ اللَّہُ مِنَ السِّنِینَ ؟ فَلَمْ أَدْرِ مَا أُجِیبُہُمْ بِہِ ، حَتَّی رَجَعْتُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُہُ، فَقَالَ: أَلاَ أَخْبَرْتَہُمْ أَنَّہُمْ کَانُوا یُسَمَّونَ بِأَنْبِیَائِہِمْ، وَالصَّالِحِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ ؟ (مسلم ۱۶۸۵۔ احمد ۲۵۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل نجران کے بارے میں ذکر ہونے والی احادیث اور جو کچھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ ارادہ کیا، اس کا بیان
(٣٨١٧٥) حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجران کے اسقف سے فرمایا۔ ” اے ابو الحارث ! اسلام لے آؤ “ اس نے جواب دیا۔ میں تو مسلمان ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (دوبارہ) فرمایا۔ اے ابو الحارث ! اسلام لے آؤ “ اس نے (دوبارہ) جواب میں کہا۔ تحقیق میں آپ سے پہلے ہی اسلام لے آیا ہوں ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” تو جھوٹ بولتا ہے۔ تجھے تین چیزوں نے اسلام سے روکا ہے۔ تمہارا خدا کے لیے بیٹے کا دعویٰ کرنا۔ تمہارا خنزیر کھانا ۔ تمہارا شراب پینا۔
(۳۸۱۷۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لأَسْقُفِ نَجْرَانَ : یَا أَبَا الْحَارِثِ ، أَسْلِمْ ، قَالَ : إِنِّی مُسْلِمٌ ، قَالَ : یَا أَبَا الْحَارِثِ ، أَسْلِمْ ، قَالَ : قَدْ أَسْلَمْتُ قَبْلَک ، قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کَذَبْتَ ، مَنَعَک مِنَ الإِسْلاَمِ ثَلاَثَۃٌ : ادِّعَاؤُک لِلَّہِ وَلَدًا ، وَأَکْلُک الْخِنْزِیرَ ، وَشُرْبُک الْخَمْرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٧٦) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح مبارک قبض ہوئی تو (اس وقت) حضرت ابوبکر ، مدینہ کے گوشہ میں تھے پھر آپ تشریف لائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوئے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھکا ہوا تھا۔ اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشانی پر اپنا منہ رکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بوسہ دے کر رونا شروع کردیا اور کہنے لگے۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ زندگی میں بھی خوشبودار تھے اور مر کر بھی خوشبودار ہیں۔ پھر جب حضرت ابوبکر (وہاں سے) نکلے تو ان کا گزر عمر بن خطاب سے ہوا۔ وہ کہہ رہے تھے۔ اللہ کے رسول کو موت نہیں آئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موت نہیں آئے گی حتی کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو موت دے دے اور یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کو رسوا کر دے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت کی وجہ سے (منافقین نے) خوشی محسوس کی تھی چنانچہ انھوں نے اپنے سر اٹھا لیے تھے۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ اے آدمی ! ٹھہرو (ذرا چپ کرو) کیونکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سُنا۔ {إِنَّک مَیِّتٌ ، وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ } اور ارشاد خداوندی ہے۔ { وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ ، أَفَإِنْ مِتَّ فَہُمُ الْخَالِدُونَ }۔
پھر حضرت ابوبکر منبر کے پاس آئے اور اس پر چڑھ گئے۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا اے لوگو ! اگر تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے الہٰ تھے جس کی تم عبادت کرتے تھے تو یقین جانو کہ تمہارے الہٰ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ اور اگر تمہارا الہٰ وہ ذات ہے جو آسمانوں میں ہے تو پھر یقین کرو کہ تمہارا الہٰ نہیں مرا۔ پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت تلاوت کی۔ { وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ، أَفَإِنْ مَاتَ ، أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ } ۔
یہاں تک کہ آپ نے یہ آیت مکمل فرما دی۔ پھر آپ نیچے تشریف لے آئے اور (اب) ان باتوں سے مسلمانوں نے خوشی محسوس کی اور یہ خوب خوش ہوئے اور منافقین کو مصیبت پڑگئی۔ حضرت عبداللہ بن عمر کا ارشاد ہے۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ یوں لگتا تھا جیسا کہ ہمارے چہروں پر پردے تھے جو ہٹا دیئے گئے۔
پھر حضرت ابوبکر منبر کے پاس آئے اور اس پر چڑھ گئے۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا اے لوگو ! اگر تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے الہٰ تھے جس کی تم عبادت کرتے تھے تو یقین جانو کہ تمہارے الہٰ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ اور اگر تمہارا الہٰ وہ ذات ہے جو آسمانوں میں ہے تو پھر یقین کرو کہ تمہارا الہٰ نہیں مرا۔ پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت تلاوت کی۔ { وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ، أَفَإِنْ مَاتَ ، أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ } ۔
یہاں تک کہ آپ نے یہ آیت مکمل فرما دی۔ پھر آپ نیچے تشریف لے آئے اور (اب) ان باتوں سے مسلمانوں نے خوشی محسوس کی اور یہ خوب خوش ہوئے اور منافقین کو مصیبت پڑگئی۔ حضرت عبداللہ بن عمر کا ارشاد ہے۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ یوں لگتا تھا جیسا کہ ہمارے چہروں پر پردے تھے جو ہٹا دیئے گئے۔
(۳۸۱۷۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانَ أَبُو بَکْرٍ فِی نَاحِیَۃِ الْمَدِینَۃِ ، فَجَائَ فَدَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ مُسَجًّی، فَوَضَعَ فَاہُ عَلَی جَبِینِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ یُقَبِّلُہُ وَیَبْکِی وَیَقُولُ : بِأَبِی وَأُمِّی ، طِبْتَ حَیًّا ، وَطِبْتَ مَیِّتًا ، فَلَمَّا خَرَجَ مَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَہُوَ یَقُولُ : مَا مَاتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلاَ یَمُوتُ حَتَّی یَقْتُلَ اللَّہُ الْمُنَافِقِینَ ، وَحَتَّی یُخْزِیَ اللَّہُ الْمُنَافِقِینَ ، قَالَ : وَکَانُوا قَدِ اسْتَبْشَرُوا بِمَوْتِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَفَعُوا رُؤُوسَہُمْ ، فَقَالَ : أَیُّہَا الرَّجُلُ ، اِرْبَعْ عَلَی نَفْسِکَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ قَدْ مَاتَ ، أَلَمْ تَسْمَعِ اللَّہَ یَقُولُ : {إِنَّک مَیِّتٌ ، وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ} وَقَالَ : {وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ ، أَفَإِنْ مِتَّ فَہُمُ الْخَالِدُونَ}۔
قَالَ : ثُمَّ أَتَی الْمِنْبَرَ فَصَعِدَہُ ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنْ کَانَ مُحَمَّدٌ إِلَہَکُمُ الَّذِی تَعْبُدُونَ ، فَإِنَّ إلَہَکُمْ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ، وَإِنْ کَانَ إِلَہَکُمُ الَّذِی فِی السَّمَائِ ، فَإِنَّ إِلَہَکُمْ لَمْ یَمُتْ ، ثُمَّ تَلاَ : {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ، أَفَإِنْ مَاتَ ، أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ} حَتَّی خَتَمَ الآیَۃَ ، ثُمَّ نَزَلَ ، وَقَدِ اسْتَبْشَرَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِکَ وَاشْتَدَّ فَرَحُہُمْ ، وَأَخَذَتِ الْمُنَافِقِینَ الْکَآبَۃُ۔
قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ : فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَکَأَنَّمَا کَانَتْ عَلَی وُجُوہِنَا أَغْطِیَۃٌ ، فَکُشِفَتْ۔ (بزار ۸۵۲)
قَالَ : ثُمَّ أَتَی الْمِنْبَرَ فَصَعِدَہُ ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنْ کَانَ مُحَمَّدٌ إِلَہَکُمُ الَّذِی تَعْبُدُونَ ، فَإِنَّ إلَہَکُمْ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ، وَإِنْ کَانَ إِلَہَکُمُ الَّذِی فِی السَّمَائِ ، فَإِنَّ إِلَہَکُمْ لَمْ یَمُتْ ، ثُمَّ تَلاَ : {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ، أَفَإِنْ مَاتَ ، أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ} حَتَّی خَتَمَ الآیَۃَ ، ثُمَّ نَزَلَ ، وَقَدِ اسْتَبْشَرَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِکَ وَاشْتَدَّ فَرَحُہُمْ ، وَأَخَذَتِ الْمُنَافِقِینَ الْکَآبَۃُ۔
قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ : فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَکَأَنَّمَا کَانَتْ عَلَی وُجُوہِنَا أَغْطِیَۃٌ ، فَکُشِفَتْ۔ (بزار ۸۵۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٧٧) حضرت ابن جریج اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کے متعلق تردد ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہاں دفن کریں ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سُنا تھا کہ ” نبی کو اس کی جگہ سے نہیں ہٹایا جاتا اور جہاں وہ فوت ہوتا ہے وہیں دفن کیا جاتا ہے “ چنانچہ صحابہ کرام نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بستر ایک طرف کردیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بستر والی جگہ پر آپ کی قبر کھودی گئی۔
(۳۸۱۷۷) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّہُمْ شَکُّوا فِی قَبْرِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَیْنَ یَدْفِنُونَہُ ؟ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُولُ : إِنَّ النَّبِیَّ لاَ یُحَوَّلُ عَنْ مَکَانِہِ ، وَیُدْفَنُ حَیْثُ یَمُوتُ ، فَنَحَّوْا فِرَاشَہُ ، فَحَفَرُوا لَہُ مَوْضِعَ فِرَاشِہِ۔ (ترمذی ۱۰۱۸۔ ابن ماجہ ۱۶۲۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٧٨) حضرت جریر سے روایت ہے کہ میں یمن میں تھا کہ مجھے اہل یمن میں سے دو آدمی ملے جن کے نام ذوکلاع اور ذو عمرو تھے۔ پس میں نے ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بتانا شروع کیا تو ان دونوں نے کہا۔ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اگر یہ سچ ہے تو پھر تمہارے یہ ساتھی (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) تین دن پہلے اپنی مدت عمر گزار چکے ہیں۔ چنانچہ میں بھی چلا اور وہ بھی چلے یہاں تک کہ جب ہم کچھ راستہ طے کرچکے تو مدینہ کی جانب سے ایک لشکر ہماری جانب آ رہا تھا تو ہم نے ان سے پوچھا۔ انھوں نے جواب دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں اور حضرت ابوبکر کو خلیفہ مقرر کردیا گیا ہے۔ تمام لوگ نیکی کے پابند ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ آپ اپنے ساتھی (حضرت ابوبکر ) کو بتا دینا کہ ہم آئے تھے۔ اور شاید کہ ہم واپس آئیں گے انشاء اللہ۔ اور (پھر) وہ دونوں یمن کی طرف چلے گئے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوبکر کو ان کی بات بتائی تو انھوں نے فرمایا : تم انھیں لے کر کیوں نہ آئے۔ ! ! !
راوی کہتے ہیں : پھر اس کے بعد ذو عمرو نے مجھ سے کہا۔ اے جریر ! تمہیں مجھ پر ایک عزت و شرافت حاصل ہے اور میں تمہیں ایک بات بتایا ہوں ۔ تم اہل عرب ہمیشہ خیر کی حالت میں رہو گے۔ جب تک تمہاری کیفیت یہ ہوگی کہ جب (تمہارا) امیر فوت ہوجائے تو تم کسی اور کو امیر مان لو۔ لیکن جب تلوار آجائے گی تو پھر (تمہارے امیر) بادشاہ ہوں گے اور ان کے غصے بادشاہوں کے غصے ہوں گے اور ان کی رضا بادشاہوں کی رضا کی طرح ہوگی۔
راوی کہتے ہیں : پھر اس کے بعد ذو عمرو نے مجھ سے کہا۔ اے جریر ! تمہیں مجھ پر ایک عزت و شرافت حاصل ہے اور میں تمہیں ایک بات بتایا ہوں ۔ تم اہل عرب ہمیشہ خیر کی حالت میں رہو گے۔ جب تک تمہاری کیفیت یہ ہوگی کہ جب (تمہارا) امیر فوت ہوجائے تو تم کسی اور کو امیر مان لو۔ لیکن جب تلوار آجائے گی تو پھر (تمہارے امیر) بادشاہ ہوں گے اور ان کے غصے بادشاہوں کے غصے ہوں گے اور ان کی رضا بادشاہوں کی رضا کی طرح ہوگی۔
(۳۸۱۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ جَرِیرٍ ، قَالَ : کُنْتُ بِالْیَمَنِ ، فَلَقِیت رَجُلَیْنِ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ ذَا کَلاَعٍ وَذَا عَمْرٍو ، فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُہُمَا عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالاَ : إِنْ کَانَ حَقًّا مَا تَقُولُ ، فَقَدْ مَرَّ صَاحِبُک عَلَی أَجَلِہِ مُنْذُ ثَلاَثٍ ، فَأَقْبَلْتُ وَأَقْبَلاَ مَعِیَ ، حَتَّی إِذَا کُنَّا فِی بَعْضِ الطَّرِیقِ ، رُفِعَ لَنَا رَکْبٌ مِنْ قِبَلِ الْمَدِینَۃِ ، فَسَأَلْنَاہُمْ ، فَقَالُوا : قُبِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ ، وَالنَّاسُ صَالِحُونَ ، قَالَ : فَقَالاَ لِی : أَخْبِرْ صَاحِبَک أَنَّا قَدْ جِئْنَا ، وَلَعَلَّنَا سَنَعُودُ إِنْ شَائَ اللَّہُ ، وَرَجَعَا إِلَی الْیَمَنِ ، قَالَ : فَأَخْبَرْتُ أَبَا بَکْرٍ بِحَدِیثِہِمْ ، قَالَ : أَفَلاَ جِئْتَ بِہِمْ ، قَالَ : فَلَمَّا کَانَ بَعْدُ ، قَالَ لِی ذُو عَمْرٍو : یَا جَرِیرُ ، إِنَّ بِکَ عَلَیَّ کَرَامَۃً ، وَإِنِّی مُخْبِرُک خَبَرًا ، إِنَّکُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَنْ تَزَالُوا بِخَیْرٍ مَا کُنْتُمْ ، إِذَا ہَلَکَ أَمِیرٌ تَأَمَّرْتُمْ فِی آخَرَ ، فَإِذَا کَانَتْ بِالسَّیْفِ کَانُوا مُلُوکًا یَغْضَبُونَ غَضَبَ الْمُلُوکِ ، وَیَرْضَوْنَ رِضَا الْمُلُوکِ۔ (بخاری ۴۳۵۹۔ احمد ۳۶۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٧٩) حضرت عطائ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (حجرہ میں) داخل ہوتے۔ آپ پر نماز پڑھتے اور نکل جاتے پھر اسی طرح اور لوگ اندر چلے جاتے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت عطاء سے پوچھا۔ وہ نماز پڑھتے تھے اور دعا مانگتے تھے ؟ عطاء نے کہا۔ نماز پڑھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔
(۳۸۱۷۹) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ مَاتَ ، قَالَ : أَقْبَلَ النَّاسُ یَدْخُلُونَ فَیُصَلُّونَ عَلَیْہِ ثُمَّ یَخْرُجُونَ ، وَیَدْخُلُ آخَرُونَ کَذَلِکَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : یُصَلُّونَ وَیَدْعُونَ ؟ قَالَ : یُصَلُّونَ وَیَسْتَغْفِرُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٨٠) حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی امام نے (نماز جنازہ کی) امامت نہیں کروائی۔ بلکہ لوگ جماعت جماعت کی شکل میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (حجر ہ میں) داخل ہوتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز جنازہ پڑھتے اور نکل آتے تھے۔
(۳۸۱۸۰) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمْ یُؤَمَّ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِمَامٌ ، وَکَانُوا یَدْخُلُونَ أَفْوَاجًا یُصَلُّونَ عَلَیْہِ وَیَخْرُجُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٨١) حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح مبارک قبض ہوئی تو ام ایمن نے رونا شروع کیا۔ ان سے کہا گیا۔ اے ام ایمن ! تم کیوں رو رہی ہو ؟ انھوں نے جواب دیا۔ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ آسمانی خبریں (اب) ہم پر منقطع ہوگئی ہیں۔
(۳۸۱۸۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : لَمَّا قُبِضَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَعَلَتْ أُمُّ أَیْمَنَ تَبْکِی ، فَقِیلَ لَہَا : لِمَ تَبْکِینَ یَا أُمَّ أَیْمَنَ ؟ قَالَتْ : أَبْکِی عَلَی خَبَرِ السَّمَائِ ، انْقَطَعَ عَنَّا۔ (ابن سعد ۲۲۶۔ طبرانی ۲۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٨٢) حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے تو حضرت ابوبکر نے حضرت عمر سے کہا یا حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ ہمارے ساتھ ام ایمن کے پاس چلو تاکہ ہم ان کو دیکھیں۔ پس ہم ان کے پاس گئے تو وہ رونے لگیں۔ شیخین نے ام ایمن سے کہا۔ اے ام ایمن ! جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے وہ بہتر ہے۔ اس پر ام ایمن نے کہا۔ یقیناً مجھے بھی اس بات کا علم ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے زیادہ بہتر ہے لیکن میں تو اس بات پر رو رہی ہوں کہ ہم سے آسمان کی خبریں منقطع ہوگئیں۔ پس ام ایمن نے حضرت ابوبکر و عمر کو بھی رونے پر ابھار دیا چنانچہ وہ دونوں حضرات بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔
(۳۸۱۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قُبِضَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ لِعُمَرَ ، أَوْ عُمَرُ لأَبِی بَکْرٍ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَی أُمِّ أَیْمَنَ نَزُورُہَا ، فَانْطَلَقَا إِلَیْہَا ، فَجَعَلَتْ تَبْکِی ، فَقَالاَ لَہَا : یَا أُمَّ أَیْمَنَ ، إِنَّ مَا عِنْدَ اللہِ خَیْرٌ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللہِ خَیْرٌ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلَکِنِّی أَبْکِی عَلَی خَبَرِ السَّمَائِ ، انْقَطَعَ عَنَّا ، فَہَیَّجَتْہُمَا عَلَی الْبُکَائِ ، فَجَعَلاَ یَبْکِیَانِ مَعَہَا۔ (مسلم ۱۹۰۷۔ ابن ماجہ ۱۶۳۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٨٣) حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب فوت ہوگئے تو حضرت صفیہ باہر آئیں اور اپنے کپڑے سے اشارہ کرتی ہوئی فرما رہی تھیں۔
” تحقیق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بہت سی باتیں اور شدید معاملات ہوں گے۔ اگر آپ ان کو دیکھتے تو مصائب کثیر نہ ہوتے۔ “
” تحقیق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بہت سی باتیں اور شدید معاملات ہوں گے۔ اگر آپ ان کو دیکھتے تو مصائب کثیر نہ ہوتے۔ “
(۳۸۱۸۳) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : خَرَجَتْ صَفِیَّۃُ ، وَقَدْ قُبِضَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَہِیَ تَلْمَعُ بِثَوْبِہَا ، یَعَنْی تُشِیرُ بِہِ ، وَہِیَ تَقُولُ :
قَدْ کَانَ بَعْدَک أَنْبَائٌ وَہَنْبَثَۃٌ لَوْ کُنْتَ شَاہِدُہَا لَمْ تُکْثِرِ الْخُطبَ
قَدْ کَانَ بَعْدَک أَنْبَائٌ وَہَنْبَثَۃٌ لَوْ کُنْتَ شَاہِدُہَا لَمْ تُکْثِرِ الْخُطبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٨٤) حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ تمام لوگوں میں سے جن کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفن کرنا اور قبر میں اتارنا سونپا گیا تھا وہ چار لوگ تھے ۔ حضرت علی ، حضرت عباس ، حضرت فضل اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام صالح۔ چنانچہ ان لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے لحد بنائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کچی اینٹیں نصب کیں۔
(۳۸۱۸۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛ أَنَّ الَّذِی وَلِیَ دَفْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَإِجْنَانَہُ أَرْبَعَۃُ نَفَرٍ دُونَ النَّاسِ : عَلِیٌّ ، وَعَبَّاسٌ ، وَالْفَضْلُ ، وَصَالِحٌ مَوْلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَحَدُوا لَہُ ، وَنَصَبُوا عَلَیْہِ اللَّبِنَ نَصْبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٨٥) حضرت عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر میں حضرت علی ، حضرت فضل اور حضرت اسامہ داخل ہوئے۔ حضرت شعبی کہتے ہیں۔ مجھے مرحب یا ابن ابی مرحب نے بیان کیا کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف بھی ان کے ساتھ قبر میں داخل ہوئے تھے۔
(۳۸۱۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : دَخَلَ قَبْرَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیٌّ ، وَالْفَضْلُ ، وَأُسَامَۃُ۔
قَالَ الشَّعْبِیُّ : وَحَدَّثَنِی مَرْحَبٌ ، أَوِ ابْنُ أَبِی مَرْحَبٍ ؛ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ دَخَلَ مَعَہُمُ الْقَبْرَ۔
(ابن سعد ۳۰۰۔ بیہقی ۳۹۵)
قَالَ الشَّعْبِیُّ : وَحَدَّثَنِی مَرْحَبٌ ، أَوِ ابْنُ أَبِی مَرْحَبٍ ؛ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ دَخَلَ مَعَہُمُ الْقَبْرَ۔
(ابن سعد ۳۰۰۔ بیہقی ۳۹۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٨٦) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت علی ، حضرت فضل اور حضرت اسامہ نے غسل دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ مجھے ابن ابی مرحب نے بیان کیا کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف بھی ان کے ساتھ قبر میں داخل ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت شعبی ارشاد فرماتے ہیں : متَ کے ولی اس کے اہل ہی ہوتے ہیں۔ ابو ادریس کی حدیث میں ابن ابی خالد کے حوالہ سے نقل ہے کہ حضرت علی کہنے لگے۔ میرے ماں ، باپ آپ پر قربان ہوں آپ زندگی میں بھی خوشبو دار تھے اور موت کے بعد بھی خوشبودار ہیں۔
(۳۸۱۸۶) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : غَسَّلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیٌّ ، وَالْفَضْلُ ، وَأُسَامَۃُ۔
قَالَ : وَحَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی مَرْحَبٍ ؛ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ دَخَلَ مَعَہُمُ الْقَبْرَ۔
قَالَ : وَقَالَ الشَّعْبِیُّ : مِنْ یَلِی الْمَیِّتَ إِلاَّ أَہْلُہُ۔
وَفِی حَدِیثِ ابْنِ إِدْرِیسَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی خَالِدٍ : وَجَعَلَ عَلِیٌّ یَقُولُ : بِأَبِی وَأُمِّی ، طِبْتَ حَیًّا وَمَیِّتًا۔
قَالَ : وَحَدَّثَنِی ابْنُ أَبِی مَرْحَبٍ ؛ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَوْفٍ دَخَلَ مَعَہُمُ الْقَبْرَ۔
قَالَ : وَقَالَ الشَّعْبِیُّ : مِنْ یَلِی الْمَیِّتَ إِلاَّ أَہْلُہُ۔
وَفِی حَدِیثِ ابْنِ إِدْرِیسَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی خَالِدٍ : وَجَعَلَ عَلِیٌّ یَقُولُ : بِأَبِی وَأُمِّی ، طِبْتَ حَیًّا وَمَیِّتًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٨٧) حضرت محمد بن علی سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک قمیص میں غسل دیا گیا تھا۔ چنانچہ حضرت علی کو قمیص کا نچلا حصہ سپرد ہوا اور حضرت فضل کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ سے بغل اور پہلو تک کا حصہ سپرد ہوا۔ حضرت عباس ، پانی بہا رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت فضل کہہ رہے تھے۔ میں محسوس کر رہاہوں کہ کوئی چیز مجھ پر اتر رہی ہے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مقام قباء میں واقع سعد بن خیثمہ کے کنویں سے غسل دیا گیا تھا۔ “ یہ وہی کنواں ہے جس کو بیرا ریس کہا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ خدا کی قسم ! میں نے (خود بھی) اس کنویں سے پانی پیا ہے اور غسل بھی کیا ہے۔
(۳۸۱۸۷) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ ، قَالَ : غُسِّلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی قَمِیصٍ ، فَوَلِیَ عَلِیٌّ سِفْلَتَہُ ، وَالْفَضْلُ مُحْتَضنُہُ ، وَالْعَبَّاسُ یَصُبُّ الْمَائَ ، قَالَ : وَالْفَضْلُ یَقُولُ : أَرِحْنِی ، قَطَعْتَ وَتِینِی ، إِنِّی لأَجِدُ شَیْئًا یَنْزِلُ عَلَیَّ ، قَالَ : وَغُسِّلَ مِنْ بِئْرِ سَعْدِ بْنِ خَیْثَمَۃ بِقُبَائَ ، وَہِیَ الْبِئْرُ الَّتِی یُقَالُ لَہَا : بِئْرُ أَرِیسٍ ، قَالَ : وَقَدْ وَاللہِ شَرِبْتُ مِنْہَا وَاغْتَسَلْتُ۔ (عبدالرزاق ۶۰۷۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بارے میں آنے والی احادیث
(٣٨١٨٨) حضرت سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ حضرت علی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ کچھ تلاش کرنا چاہا جو کچھ میت سے تلاش کیا جاتا ہے لیکن انھوں نے کچھ بھی نہ پایا تو کہنے لگے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ زندگی میں بھی خوشبودار تھے اور موت کے بعد بھی خوشبو دار ہں ا۔
(۳۸۱۸۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، وَابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛ أَنَّ عَلِیًّا الْتَمَسَ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یُلْتَمَسُ مِنَ الْمَیِّتِ ، فَلَمْ یَجِدْ شَیْئًا ، فَقَالَ : بِأَبِی وَأُمِّی ، طِبْتَ حَیًّا وَطِبْتَ مَیِّتًا۔
তাহকীক: