মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮১৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٤٩) حضرت حکم بن عتیبہ روایت کرتے ہیں کہ جب غزوہ حنین کے دن بہت سے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے بھاگ گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
” میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں تو عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ “
راوی کہتے ہیں : پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صرف چار آدمی رہ گئے۔ تین آدمی بنو ہاشم میں سے تھے اور ایک آدمی ان کے سوا تھا۔ حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت عباس ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تھے اور حضرت ابو سفیان، (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خچر کی) لگام پکڑے ہوئے تھے۔ اور ابن مسعود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بائیں جانب تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جو کافر بھی بڑھتا تھا وہ قتل کردیا جاتا تھا۔ مشرکین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد قتل ہوئے پڑے تھے۔
” میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں تو عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ “
راوی کہتے ہیں : پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صرف چار آدمی رہ گئے۔ تین آدمی بنو ہاشم میں سے تھے اور ایک آدمی ان کے سوا تھا۔ حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت عباس ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تھے اور حضرت ابو سفیان، (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خچر کی) لگام پکڑے ہوئے تھے۔ اور ابن مسعود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بائیں جانب تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جو کافر بھی بڑھتا تھا وہ قتل کردیا جاتا تھا۔ مشرکین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد قتل ہوئے پڑے تھے۔
(۳۸۱۴۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ ، قَالَ : لَمَّا فَرَّ النَّاسُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ ، جَعَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُولُ :
أَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
قَالَ : فَلَمْ یَبْقَ مَعَہُ إِلاَّ أَرْبَعَۃٌ : ثَلاَثَۃٌ مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ ، وَرَجُلٌ مِنْ غَیْرِہِمْ : عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَالْعَبَّاسُ وَہُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ، وَأَبُو سُفْیَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِالْعَنَانِ ، وَابْنُ مَسْعُودٍ مِنْ جَانِبِہِ الأَیْسَرِ ، قَالَ : فَلَیْسَ یُقْبِلُ نَحْوَہُ أَحَدٌ إِلاَّ قُتِلَ ، وَالْمُشْرِکُونَ حَوْلَہُ صَرْعَی بِحِسَابِ الإِکْلِیلِ۔
أَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
قَالَ : فَلَمْ یَبْقَ مَعَہُ إِلاَّ أَرْبَعَۃٌ : ثَلاَثَۃٌ مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ ، وَرَجُلٌ مِنْ غَیْرِہِمْ : عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَالْعَبَّاسُ وَہُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ، وَأَبُو سُفْیَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِالْعَنَانِ ، وَابْنُ مَسْعُودٍ مِنْ جَانِبِہِ الأَیْسَرِ ، قَالَ : فَلَیْسَ یُقْبِلُ نَحْوَہُ أَحَدٌ إِلاَّ قُتِلَ ، وَالْمُشْرِکُونَ حَوْلَہُ صَرْعَی بِحِسَابِ الإِکْلِیلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٥٠) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کی غنائم میں سے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ عطا فرمائے اور عیینہ بن حصن کو بھی ایک سو اونٹ عطا فرمائے۔ انصار میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری (حاصل کردہ) غنائم ایسے لوگوں کو عطاء فرمائی ہیں جن کے (رشتہ داروں کے) خون سے ہماری تلواریں تر ہیں یا ان کی تلواریں ہمارے (رشتہ داروں کے) خون سے تر ہیں ؟ یہ بات جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچ گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان انصار کی طرف قاصد بھیجا چنانچہ یہ تمام انصار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا : کیا تم میں تمہارے (انصار کے) سوابھی کوئی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : نہیں ! لیکن ہمارے بھانجے (ہمارے ساتھ ہیں) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قوم کے بھانجے بھی قوم کا حصہ ہیں “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ ” تم لوگوں نے یہ یہ بات کہی ہے ؟ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ باقی لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم لوگ اپنے گھروں میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لے جاؤ ؟ “ انصار نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیوں نہیں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” لوگ اوپر کا کپڑا ہیں اور انصار جسم کے ساتھ والا کپڑا ہیں۔ انصار میرے مخلص دوست اور راز دار ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا۔
(۳۸۱۵۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : أَعْطَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ غَنَائِمِ حُنَیْنٍ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِئَۃً مِنَ الإِبِلِ ، وَعُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنٍ مِئَۃً مِنَ الإِبِلِ ، فَقَالَ نَاسٌ مِنَ الأَنْصَارِ : یُعْطِی رَسُولُ اللہِ غَنَائِمَنَا نَاسًا تَقْطُرُ سُیُوفُنَا مِنْ دِمَائِہِمْ ، أَوْ سُیُوفُہُمْ مِنْ دِمَائِنَا ؟ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہِمْ فَجَاؤُوا ، فَقَالَ لَہُمْ : فِیکُمْ غَیْرُکُمْ ؟ قَالُوا : لاَ ، إِلاَّ ابْنُ أُخْتِنَا ، قَالَ : ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْہُمْ ، فَقَالَ : قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْبَعِیرِ وَتَذْہَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَی دِیَارِکُمْ ؟ قَالُوا : بَلَی ، یَا رَسُولَ اللَّہ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : النَّاسُ دِثَارٌ ، وَالأَنْصَارُ شِعَارٌ ، الأَنْصَارُ کَرِشِی وَعَیْبَتِی ، وَلَوْلاَ الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَئًا مِنَ الأَنْصَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٥١) حضرت عبداللہ بن عبیدہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن ابو سفیان، حکیم بن حزام اور صفوان بن امیہ (اس ارادہ سے نکلے کہ) وہ دیکھیں کس کو شکست ہوتی ہے۔ (اس دوران) ان کے پاس سے ایک دیہاتی گزراتو انھوں نے پوچھا۔ اے عبداللہ ! لوگوں کا کیا بنا ؟ اس نے جواب دیا ۔ محمد کبھی بھی حنین سے آگے نہیں جاسکتا۔ راوی کہتے ہیں : یہ اس وقت کا تاثر تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متفرق ہوگئے تھے ۔۔۔ تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ قریش میں سے کوئی رب (بڑا) بن جائے یہ بات ہمیں اس سے زیادہ محبوب ہے کہ دیہاتیوں میں سے کوئی رب (بڑا) بنے۔ پھر آپس میں سے ایک سے کہا۔ اے فلاں ! جاؤ اور ہمارے پاس کوئی خبر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں؛ وہ آدمی چل پڑا یہاں تک کہ جب وہ قوم کے درمیان پہنچا تو اس نے انھیں یہ کہتے ہوئے سُنا۔ اے اوس، اے خزرج ! وہ لوگوں پر بلند ہوگئے۔ وہ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شعار تھا۔
(۳۸۱۵۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ؛ أَنَّ أَبَا سُفْیَانَ ، وَحَکِیمَ بْنَ حِزَامٍ ، وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَیَّۃَ خَرَجُوا یَوْمَ حُنَیْنٍ یَنْظُرُونَ عَلَی مَنْ تَکُونُ الدَّبْرَۃُ ، فَمَرَّ بِہِمْ أَعْرَابِیٌّ، فَقَالُوا : یَا عَبْدَ اللہِ ، مَا فَعَلَ النَّاسُ ؟ قَالَ : لاَ یَسْتَقْبِلُہَا مُحَمَّدٌ أَبَدًا ، قَالَ : وَذَلِکَ حِینَ تَفَرَّقَ عَنْہُ أَصْحَابُہُ ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ : لَرَبٌّ مِنْ قُرَیْشٍ أَحَبُّ إِلَیْنَا مِنْ رَبٍّ مِنِ الأَعْرَابِ ، یَا فُلاَنُ ، اذْہَبْ فَأْتِنَا بِالْخَبَرِ ، لِصَاحِبٍ لَہُمْ ، قَالَ : فَذَہَبَ حَتَّی کَانَ بَیْنَ ظَہْرَانَیِ الْقَوْمِ ، فَسَمِعَہُمْ یَقُولُونَ : یَا لَلأَوْس،ِ یَا لَلْخَزْرَجِ ، وَقَدْ عَلَوُا الْقَوْمَ ، وَکَانَ شِعَارُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٥٢) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام جعرانہ میں قیدیوں کو تقسیم فرمایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش وغیرہ کو قیدی عطا فرمائے لیکن ا ن قیدیوں میں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار صحابہ کو کچھ بھی نہ دیا۔ اس پر بہت سی باتیں کہی گئیں اور پھیلائی گئیں۔ یہاں تک کہ ایک کہنے والے نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تو اپنی قوم کے ساتھ مل گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد بن عبادہ کی طرف قاصد بھیجا اور استفسار فرمایا کہ ” مجھے تمہاری جانب سے کیسی بات پہنچی ہے جو وہ بہت زیادہ کر رہے ہیں ؟ “ راوی کہتے ہیں : انھوں نے جواب دیا۔ یقیناً ایسی بات ہوئی ہوگی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انھوں نے جواب دیا۔ میں تو اپنی قوم کا محض ایک فرد ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غصہ زیادہ ہوگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اپنی قوم کو جمع کرو اور ان کے ساتھ کوئی اور (قوم) نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں : حضرت سعد نے انصار کو قیدیوں کے باڑوں میں سے ایک باڑہ میں جمع کیا اور خود اس باڑہ کے دروازہ پر کھڑے ہوگئے اور جو ان کی قوم میں سے آتا تھا یہ اسی کو (اندر جانے کے لئے) چھوڑتے تھے۔ اور کچھ مہاجرین کو بھی انھوں نے (اندر جانے کے لئے) چھوڑ دیا ۔ اور کچھ کو واپس کردیا۔ راوی کہتے ہیں : پھر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے ، غصہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ انور سے ظاہر ہو رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔
” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت دی ؟ “ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں تنگدست نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں غنی بنادیا ؟ “ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غصہ سے۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں (باہم) دشمن نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا “ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ تم جواب کیوں نہیں دیتے ؟ انصار نے کہا۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (یہ غصہ کی حالت) ختم ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر تم چاہتے تو تم یہ بات کہتے اور سچ کہتے، تمہاری تصدیق بھی کی جاتی کہ : ” کیا ہم نے آپ کو نکالا ہوا نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا ۔ اور کیا ہم نے آپ کو جھٹلایا ہوا نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کی تصدیق کی ۔ اور کیا ہم نے آپ کو تنگدست نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کے ساتھ موالات کیا۔ اور کیا ہم نے آپ کو بےیارو مدد گار نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کی مدد کی ؟ “ اس پر انصار نے رونا شروع کیا اور کہنے لگے۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ بڑے محسن اور فضیلت والے ہیں۔ “ کیا تم نے دنیا کی اس چیز کو جو میں نے کسی قوم کو اس لیے دی تاکہ میں انھیں اسلام کے ساتھ مضبوط کر سکوں۔۔۔ محسوس کیا ہے ۔۔۔ اور میں نے تمہیں تمہارے اسلام کے سپرد کردیا (یعنی تم پختہ ایمان والے ہو) اگر سب لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور تم انصار ایک دوسری وادی یا گھاٹی میں چلو تو البتہ میں تمہاری وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ تم لوگ جسم سے متصل کپڑے (کی طرح) ہو اور بقیہ لوگ جسم کے اوپر والے کپڑے (کی طرح) ہیں۔ اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک فرد ہوتا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ بلند فرمائے حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مونڈھوں کے نیچے کا حصہ (بغلیں) دکھائی دینے لگیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی ۔ ” اے اللہ ! انصار کی مغفرت فرما، اور انصار کے بچوں کی مغفرت فرما۔ اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔ کیا تم لوگ اس بات پر راضی نہیں ہو کہ باقی لوگ تو بکریاں، اونٹ لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں اللہ کے رسول کو لے کر جاؤ ؟ “ اس پر تمام صحابہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں۔ اور وہ لوگ یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حصہ اور نصیب ہونے پر راضی ہیں۔
” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت دی ؟ “ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں تنگدست نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں غنی بنادیا ؟ “ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غصہ سے۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں (باہم) دشمن نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا “ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ تم جواب کیوں نہیں دیتے ؟ انصار نے کہا۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی (یہ غصہ کی حالت) ختم ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر تم چاہتے تو تم یہ بات کہتے اور سچ کہتے، تمہاری تصدیق بھی کی جاتی کہ : ” کیا ہم نے آپ کو نکالا ہوا نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا ۔ اور کیا ہم نے آپ کو جھٹلایا ہوا نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کی تصدیق کی ۔ اور کیا ہم نے آپ کو تنگدست نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کے ساتھ موالات کیا۔ اور کیا ہم نے آپ کو بےیارو مدد گار نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کی مدد کی ؟ “ اس پر انصار نے رونا شروع کیا اور کہنے لگے۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ بڑے محسن اور فضیلت والے ہیں۔ “ کیا تم نے دنیا کی اس چیز کو جو میں نے کسی قوم کو اس لیے دی تاکہ میں انھیں اسلام کے ساتھ مضبوط کر سکوں۔۔۔ محسوس کیا ہے ۔۔۔ اور میں نے تمہیں تمہارے اسلام کے سپرد کردیا (یعنی تم پختہ ایمان والے ہو) اگر سب لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور تم انصار ایک دوسری وادی یا گھاٹی میں چلو تو البتہ میں تمہاری وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ تم لوگ جسم سے متصل کپڑے (کی طرح) ہو اور بقیہ لوگ جسم کے اوپر والے کپڑے (کی طرح) ہیں۔ اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک فرد ہوتا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ بلند فرمائے حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مونڈھوں کے نیچے کا حصہ (بغلیں) دکھائی دینے لگیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی ۔ ” اے اللہ ! انصار کی مغفرت فرما، اور انصار کے بچوں کی مغفرت فرما۔ اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔ کیا تم لوگ اس بات پر راضی نہیں ہو کہ باقی لوگ تو بکریاں، اونٹ لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں اللہ کے رسول کو لے کر جاؤ ؟ “ اس پر تمام صحابہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں۔ اور وہ لوگ یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حصہ اور نصیب ہونے پر راضی ہیں۔
(۳۸۱۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السَّبْیَ بِالْجِعْرَانَۃِ ، أَعْطَی عَطَایَا قُرَیْشًا وَغَیْرَہَا مِنَ الْعَرَبِ ، وَلَمْ یَکُنْ فِی الأَنْصَارِ مِنْہَا شَیْئٌ ، فَکَثُرَتِ الْقَالَۃُ وَفَشَتْ ، حَتَّی قَالَ قَائِلُہُمْ : أَمَّا رَسُولُ اللہِ فَقَدْ لَقِیَ قَوْمَہُ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ، فَقَالَ : مَا مَقَالَۃٌ بَلَغَتْنِی عَنْ قَوْمِکَ ، أَکْثَرُوا فِیہَا ؟ قَالَ : فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ : فَقَدْ کَانَ مَا بَلَغَک ، قَالَ : فَأَیْنَ أَنْتَ مِنْ ذَلِکَ ؟ قَالَ : مَا أَنَا إِلاَّ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِی ، قَالَ : فَاشْتَدَّ غَضَبُہُ ، وَقَالَ : اجْمَعْ قَوْمَک ، وَلاَ یَکُنْ مَعَہُمْ غَیْرُہُمْ ، قَالَ : فَجَمَعَہُمْ فِی حَظِیرَۃٍ مِنْ حَظَائِرِ السَّبِیِّ ، وَقَامَ عَلَی بَابِہَا ، وَجَعَلَ لاَ یَتْرُکُ إِلاَّ مَنْ کَانَ مِنْ قَوْمِہِ ، وَقَدْ تَرَکَ رِجَالاً مِنَ الْمُہَاجِرِینَ ، وَرَدَّ أُنَاسًا ، قَالَ : ثُمَّ جَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْرَفُ فِی وَجْہِہِ الْغَضَبُ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، أَلَمْ أَجِدْکُمْ ضُلاَّلاً فَہَدَاکُمُ اللَّہُ ؟ فَجَعَلُوا یَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللہِ مِنْ غَضَبِ اللہِ وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِہِ ، یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، أَلَمْ أَجِدْکُمْ عَالَۃً فَأَغْنَاکُمُ اللَّہُ ؟ فَجَعَلُوا یَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللہِ مِنْ غَضَبِ اللہِ وَغَضَبِ رَسُولِہِ ، یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، أَلَمْ أَجِدْکُمْ أَعْدَائً فَأَلَّفَ اللَّہُ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ ؟ فَیَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللہِ مِنْ غَضَبِ اللہِ وَغَضَبِ رَسُولِہِ فَقَالَ : أَلاَ تُجِیبُونَ ؟ قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنُّ وَأَفْضَلُ۔
فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ ، قَالَ : وَلَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ فَصَدَقْتُمْ وَصَدَقْتُمْ : أَلَمْ نَجِدْکَ طَرِیدًا فَآوَیْنَاک ، وَمُکَذَّبًا فَصَدَّقْنَاک، وَعَائِلاً فَآسَیْنَاکَ ، وَمَخْذُولاً فَنَصَرْنَاک ؟ فَجَعَلُوا یَبْکُونَ ، وَیَقُولُونَ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنُّ وَأَفْضَلُ ، قَالَ : أَوَجَدْتُمْ مِنْ شَیْئٍ مِنْ دُنْیَا أَعْطَیْتہَا قَوْمًا ، أَتَأَلَّفُہُمْ عَلَی الإِسْلاَمِ ، وَوَکَلْتُکُمْ إِلَی إِسْلاَمِکُمْ ، لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا ، أَوْ شِعْبًا ، وَسَلَکْتُمْ وَادِیًا ، أَوْ شِعْبًا ، لَسَلَکْتُ وَادِیَکُمْ ، أَوْ شِعْبَکُمْ ، أَنْتُمْ شِعَارٌ ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ ، وَلَوْلاَ الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَئًا مِنَ الأَنْصَارِ۔
ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی إِنِّی لأَرَی مَا تَحْتَ مَنْکِبَیْہِ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ ، وَلأَبْنَائِ الأَنْصَارِ ، وَلأَبْنَائِ أَبْنَائِ الأَنْصَارِ ، أَمَّا تَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْبَعِیرِ ، وَتَذْہَبُونَ بِرَسُولِ اللہِ إِلَی بُیُوتِکُمْ ؟ فَبَکَی الْقَوْمُ حَتَّی أَخْضَلُوا لِحَاہُمْ ، وَانْصَرَفُوا وَہُمْ یَقُولُونَ : رَضِینَا بِاللہِ رَبًّا ، وَبِرَسُولِہِ حَظًّا وَنَصِیبًا۔
فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ ، قَالَ : وَلَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ فَصَدَقْتُمْ وَصَدَقْتُمْ : أَلَمْ نَجِدْکَ طَرِیدًا فَآوَیْنَاک ، وَمُکَذَّبًا فَصَدَّقْنَاک، وَعَائِلاً فَآسَیْنَاکَ ، وَمَخْذُولاً فَنَصَرْنَاک ؟ فَجَعَلُوا یَبْکُونَ ، وَیَقُولُونَ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنُّ وَأَفْضَلُ ، قَالَ : أَوَجَدْتُمْ مِنْ شَیْئٍ مِنْ دُنْیَا أَعْطَیْتہَا قَوْمًا ، أَتَأَلَّفُہُمْ عَلَی الإِسْلاَمِ ، وَوَکَلْتُکُمْ إِلَی إِسْلاَمِکُمْ ، لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا ، أَوْ شِعْبًا ، وَسَلَکْتُمْ وَادِیًا ، أَوْ شِعْبًا ، لَسَلَکْتُ وَادِیَکُمْ ، أَوْ شِعْبَکُمْ ، أَنْتُمْ شِعَارٌ ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ ، وَلَوْلاَ الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَئًا مِنَ الأَنْصَارِ۔
ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی إِنِّی لأَرَی مَا تَحْتَ مَنْکِبَیْہِ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِلأَنْصَارِ ، وَلأَبْنَائِ الأَنْصَارِ ، وَلأَبْنَائِ أَبْنَائِ الأَنْصَارِ ، أَمَّا تَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْبَعِیرِ ، وَتَذْہَبُونَ بِرَسُولِ اللہِ إِلَی بُیُوتِکُمْ ؟ فَبَکَی الْقَوْمُ حَتَّی أَخْضَلُوا لِحَاہُمْ ، وَانْصَرَفُوا وَہُمْ یَقُولُونَ : رَضِینَا بِاللہِ رَبًّا ، وَبِرَسُولِہِ حَظًّا وَنَصِیبًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٥٣) حضرت عبد الرحمن الفہری سے روایت ہے۔ کہتے ہیں : کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھا۔ ہم ایک انتہائی سخت گرمی والے دن میں چلے پھر ہم نے درختوں کے سایہ میں پڑاؤ کیا۔ پھر جب سورج زوال کر گیا تو میں نے اپنا سامان حرب پہن لیا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے خیمہ میں تھے۔ میں نے (جا کر) کہا : السَّلاَمُ عَلَیْک یَا رَسُولَ اللہِ ، وَرَحْمَۃُ اللہِ روانگی ! روانگی کا وقت ہوگیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اے بلال ! پس وہ بھی ایک ایسے درخت کے نے چن سے گرد جھاڑتے ہوئے اٹھے جس کا سایہ پرندے کے سایہ کی طرح تھا۔ اور انھوں نے (آ کر) عرض کیا۔ میں آپ پر فدا ہوں۔ میں حاضر ہوں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا؛ میرے گھوڑے پر زین کس دو ۔ چنانچہ حضرت بلال نے ایک زین نکالی جس کے اطراف میں گھاس لگا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت بلال نے گھوڑے پر زین کس دی۔
٢۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی سوار ہوگئے اور ہم بھی سوار ہوگئے اور ہم نے رات ، دن ان کے سامنے صف بندی کی اور مسلمانوں اور کافروں کے گھڑ سواروں کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی۔ جیسا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔۔۔ مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی۔ ” اے خدا کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اے گروہ مہاجرین ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھوڑے اترے اور ایک مٹھی مٹی کی لی ۔۔۔ مجھے اس صحابی نے بتایا جو مجھ سے زیادہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینکی اور فرمایا ۔ ” چہرے بگڑ جائیں۔ “ راوی کہتے ہیں : پس اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی۔
٣۔ یعلی بن عطاء کہتے ہیں۔ مجھ سے مخالفین کے بیٹوں نے اپنے آباء کی سند سے بیان کیا کہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں بچا مگر یہ کہ اس کی آنکھیں اور منہ مٹی سے بھر گیا اور ہم نے آسمان اور زمین کے درمیان ایک گھنٹی کی آواز سُنی جیسا کہ لوہے کی طشت پر لوہا مارنے سے نکلتی ہے۔
٢۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی سوار ہوگئے اور ہم بھی سوار ہوگئے اور ہم نے رات ، دن ان کے سامنے صف بندی کی اور مسلمانوں اور کافروں کے گھڑ سواروں کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی۔ جیسا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔۔۔ مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی۔ ” اے خدا کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اے گروہ مہاجرین ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھوڑے اترے اور ایک مٹھی مٹی کی لی ۔۔۔ مجھے اس صحابی نے بتایا جو مجھ سے زیادہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینکی اور فرمایا ۔ ” چہرے بگڑ جائیں۔ “ راوی کہتے ہیں : پس اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی۔
٣۔ یعلی بن عطاء کہتے ہیں۔ مجھ سے مخالفین کے بیٹوں نے اپنے آباء کی سند سے بیان کیا کہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں بچا مگر یہ کہ اس کی آنکھیں اور منہ مٹی سے بھر گیا اور ہم نے آسمان اور زمین کے درمیان ایک گھنٹی کی آواز سُنی جیسا کہ لوہے کی طشت پر لوہا مارنے سے نکلتی ہے۔
(۳۸۱۵۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عَطَائٍ ، عَنْ أَبِی ہَمَّامٍ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِہْرِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی غَزْوَۃِ حُنَیْنٍ ، فَسِرْنَا فِی یَوْمٍ قَائِظٍ شَدِیدِ الْحَرِ ، فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلاَلِ الشَّجَرِ ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ لَبِسْت لاَمَتِی وَرَکِبْت فَرَسِی ، فَانْطَلَقْت إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَہُوَ فِی فُسْطَاطِہِ فَقُلْتُ : السَّلاَمُ عَلَیْک یَا رَسُولَ اللہِ ، وَرَحْمَۃُ اللہِ ، الرَّوَاحُ ، حَانَ الرَّوَاحُ ، فَقَالَ : أَجَلْ ، فَقَالَ : یَا بِلاَلُ ، فَثَارَ مِنْ تَحْتِ سَمُرَۃٍ ، کَأَنَّ ظِلَّہُ ظِلُّ طَائِرٍ ، فَقَالَ : لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ ، وَأَنَا فِدَاؤُک ، فَقَالَ : أَسْرِجْ لِی فَرَسِی ، فَأَخْرَجَ سَرْجًا دَفَّتَاہُ مِنْ لِیفٍ ، لَیْسَ فِیہِمَا أَشَرٌ ، وَلاَ بَطَرٌ ، قَالَ : فَأَسْرَجَ۔
فَرَکِبَ ، وَرَکِبْنَا فَصَافَفْنَاہُمْ عَشِیَّتَنَا وَلَیْلَتَنَا ، فَتَشَامَّتِ الْخَیْلاَنِ ، فَوَلَّی الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِینَ کَمَا قَالَ اللَّہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا عِبَادَ اللہِ ، أَنَا عَبْدُ اللہِ وَرَسُولُہُ ، ثُمَّ قَالَ : یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ ، أَنَا عَبْدُ اللہِ وَرَسُولُہُ ، ثُمَّ اقْتَحَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسِہِ ، فَأَخَذَ کَفًّا مِنْ تُرَابٍ ، فَأَخْبَرَنِی الَّذِی کَانَ أَدْنَی إِلَیْہِ مِنِّی أَنَّہُ ضَرَبَ بِہِ وُجُوہَہُمْ ، وَقَالَ : شَاہَتِ الْوُجُوہُ ، قَالَ : فَہَزَمَہُمُ اللَّہُ۔
قَالَ یَعْلَی بْنُ عَطَائٍ : فَحَدَّثَنِی أَبْنَاؤُہُمْ ، عَنْ آبَائِہِمْ ؛ أَنَّہُمْ قَالَوا : لَمْ یَبْقَ مِنَّا أَحَدٌ إِلاَّ امْتَلأَتْ عَیْنَاہُ وَفَمُہُ تُرَابًا ، وَسَمِعْنَا صَلْصَلَۃً بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ ، کَإِمْرَارِ الْحَدِیدِ عَلَی الطَّسْتِ الْحَدِیدِ۔ (ابوداؤد ۱۳۷۱۔ احمد ۲۸۶)
فَرَکِبَ ، وَرَکِبْنَا فَصَافَفْنَاہُمْ عَشِیَّتَنَا وَلَیْلَتَنَا ، فَتَشَامَّتِ الْخَیْلاَنِ ، فَوَلَّی الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِینَ کَمَا قَالَ اللَّہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا عِبَادَ اللہِ ، أَنَا عَبْدُ اللہِ وَرَسُولُہُ ، ثُمَّ قَالَ : یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ ، أَنَا عَبْدُ اللہِ وَرَسُولُہُ ، ثُمَّ اقْتَحَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسِہِ ، فَأَخَذَ کَفًّا مِنْ تُرَابٍ ، فَأَخْبَرَنِی الَّذِی کَانَ أَدْنَی إِلَیْہِ مِنِّی أَنَّہُ ضَرَبَ بِہِ وُجُوہَہُمْ ، وَقَالَ : شَاہَتِ الْوُجُوہُ ، قَالَ : فَہَزَمَہُمُ اللَّہُ۔
قَالَ یَعْلَی بْنُ عَطَائٍ : فَحَدَّثَنِی أَبْنَاؤُہُمْ ، عَنْ آبَائِہِمْ ؛ أَنَّہُمْ قَالَوا : لَمْ یَبْقَ مِنَّا أَحَدٌ إِلاَّ امْتَلأَتْ عَیْنَاہُ وَفَمُہُ تُرَابًا ، وَسَمِعْنَا صَلْصَلَۃً بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ ، کَإِمْرَارِ الْحَدِیدِ عَلَی الطَّسْتِ الْحَدِیدِ۔ (ابوداؤد ۱۳۷۱۔ احمد ۲۸۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٥٤) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ قبیلہ ہوازن والے غزوہ حنین کے موقع پر (اپنے) بچوں عورتوں، اونٹوں اور بکریوں کو ساتھ لائے اور انھیں صفوں کی حالت میں جمع کردیا تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے زیادہ لگیں۔ پس جب آمنا سامنا ہوا ۔ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ مسلمان بھاگ نکلے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے اللہ کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے گروہ مہاجرین ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست سے دوچار کیا ۔ کوئی تلوار نہیں ماری گئی اور نہ ہی کوئی نیزہ بازی کی گئی ۔ راوی کہتے ہیں : اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن ارشاد فرمایا : ” جو کسی کافر کو قتل کرے گا وہی اس کا سامان لے گا۔ “ حضرت انس کہتے ہیں، چنانچہ اس دن حضرت ابو طلحہ نے بیس (٢٠) آدمیوں کو قتل کیا اور ان کے سامان کو لے لیا۔ حضرت ابو قتادہ کہتے ہیں۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے ایک آدمی کو گردن پر تلوار مار کر ہلاک کیا اس کے جسم پر زرہ تھی لیکن مجھ سے پہلے ہی کسی نے وہ زرہ اتار لی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دیکھ لو کس نے وہ زرہ لی ہے۔ راوی کہتے ہیں : ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا۔ میں نے وہ زرہ لی ہے۔ آپ اس کو اس زرہ سے راضی کردیں۔ (یعنی چھوڑنے پر) اور یہ زرہ مجھے دے دیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب بھی کسی شئی کا سوال کیا جاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ چیز عطا فرما دیتے یا خاموش رہتے (یعنی انکار نہ کرتے) ۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (یہ بات سن کر) خاموش ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر کہنے لگے۔ نہیں خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ اپنے شیروں میں سے ایک شیر پر سے یہ غنیمت نہیں ہٹائیں گے اور نہ یہ تجھے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” عمر نے سچ کہا ہے۔ “
حضرت ابو طلحہ کی ام سلیم سے ملاقات ہوئی۔ حضرت ام سلیم کے پاس چھُرا تھا۔ حضرت ابو طلحہ نے پوچھا۔ اے اُم سلیم ! یہ آپ کے پاس کیا ہے ؟ وہ فرمانے لگیں۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر مشرکنا میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس چھرے کے ذریعہ سے پیٹ پھاڑ کر اس کی آنتیں باہرنکال دوں گی۔ حضرت ابو طلحہ نے (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اُم سلیم جو کچھ کہہ رہی ہیں۔ آپ نے نہیں سُنا۔ حضرت ام سلیم کہنے لگیں۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمارے بعد طلقاء میں سے جو لوگ ہیں ان کو خوب قتل کریں۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ لوگ آپ کے ذریعہ (خوب) شکست کھاچکے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا : ” یقیناً اللہ کافی ہے اور خوب ہے۔ “
حضرت ابو طلحہ کی ام سلیم سے ملاقات ہوئی۔ حضرت ام سلیم کے پاس چھُرا تھا۔ حضرت ابو طلحہ نے پوچھا۔ اے اُم سلیم ! یہ آپ کے پاس کیا ہے ؟ وہ فرمانے لگیں۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر مشرکنا میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس چھرے کے ذریعہ سے پیٹ پھاڑ کر اس کی آنتیں باہرنکال دوں گی۔ حضرت ابو طلحہ نے (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اُم سلیم جو کچھ کہہ رہی ہیں۔ آپ نے نہیں سُنا۔ حضرت ام سلیم کہنے لگیں۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمارے بعد طلقاء میں سے جو لوگ ہیں ان کو خوب قتل کریں۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ لوگ آپ کے ذریعہ (خوب) شکست کھاچکے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا : ” یقیناً اللہ کافی ہے اور خوب ہے۔ “
(۳۸۱۵۴) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؛ أَنَّ ہَوَازِنَ جَائَتْ یَوْمَ حُنَیْنٍ بِالصِّبْیَانِ وَالنِّسَائِ وَالإِبِلِ وَالْغَنَمِ ، فَجَعَلُوہَا صُفُوفًا ، یَکْثُرُونَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا الْتَقَوْا ، وَلَّی الْمُسْلِمُونَ کَمَا قَالَ اللَّہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا عِبَادَ اللہِ ، أَنَا عَبْدُ اللہِ وَرَسُولُہُ ، ثُمَّ قَالَ : یَا مَعْشَرَ الْمُہَاجِرِینَ ، أَنَا عَبْدُ اللہِ وَرَسُولُہُ ، قَالَ : فَہَزَمَ اللَّہُ الْمُشْرِکِینَ وَلَمْ یُضْرَبْ بِسَیْفٍ ، وَلَمْ یُطْعَنْ بِرُمْحٍ ، قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَئِذٍ : مَنْ قَتَلَ کَافِرًا فَلَہُ سَلَبُہُ ، قَالَ : فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَۃَ یَوْمَئِذٍ عِشْرِینَ رَجُلا ، فَأَخَذَ أَسْلاَبَہُمْ۔
وَقَالَ أَبُو قَتَادَۃَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنِّی ضَرَبْت رَجُلاً عَلَی حَبْلِ الْعَاتِقِ ، وَعَلَیْہِ دِرْعٌ لَہُ فَأُجْہِضْتُ عَنْہُ ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ : فَأَعْجَلْت عَنْہُ ، قَالَ : فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَہَا ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَنَا أَخَذْتُہَا ، فَأَرْضِہِ مِنْہَا وَأَعْطِنِیہَا ، وَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یُسْأَلُ شَیْئًا إِلاَّ أَعْطَاہُ ، أَوْ سَکَتَ ، فَسَکَتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : لاَ ، وَاللہِ لاَ یَفِیئُہَا اللَّہُ عَلَی أَسَدٍ مِنْ أُسْدِہِ وَیُعْطِیکَہَا ، قَالَ : فَضَحِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : صَدَقَ عُمَرُ۔
وَلَقِیَ أَبُو طَلْحَۃَ أُمَّ سُلَیْمٍ وَمَعَہَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ: یَا أُمَّ سُلَیْمٍ، مَا ہَذَا مَعَک؟ قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّی بَعْضُ الْمُشْرِکِینَ أَنْ أَبْعَجَ بِہِ بَطْنَہُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ: یَا رَسُولَ اللہِ، أَلاَ تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَیْمٍ؟ قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللہِ، قُتِلَ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَائِ، انْہَزَمُوا بِکَ یَا رَسُولَ اللہِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّہَ قَدْ کَفَی وَأَحْسَنَ۔ (ابوداؤد ۲۷۱۲۔ احمد ۲۷۹)
وَقَالَ أَبُو قَتَادَۃَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنِّی ضَرَبْت رَجُلاً عَلَی حَبْلِ الْعَاتِقِ ، وَعَلَیْہِ دِرْعٌ لَہُ فَأُجْہِضْتُ عَنْہُ ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ : فَأَعْجَلْت عَنْہُ ، قَالَ : فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَہَا ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَنَا أَخَذْتُہَا ، فَأَرْضِہِ مِنْہَا وَأَعْطِنِیہَا ، وَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یُسْأَلُ شَیْئًا إِلاَّ أَعْطَاہُ ، أَوْ سَکَتَ ، فَسَکَتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : لاَ ، وَاللہِ لاَ یَفِیئُہَا اللَّہُ عَلَی أَسَدٍ مِنْ أُسْدِہِ وَیُعْطِیکَہَا ، قَالَ : فَضَحِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : صَدَقَ عُمَرُ۔
وَلَقِیَ أَبُو طَلْحَۃَ أُمَّ سُلَیْمٍ وَمَعَہَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ: یَا أُمَّ سُلَیْمٍ، مَا ہَذَا مَعَک؟ قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّی بَعْضُ الْمُشْرِکِینَ أَنْ أَبْعَجَ بِہِ بَطْنَہُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَۃَ: یَا رَسُولَ اللہِ، أَلاَ تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَیْمٍ؟ قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللہِ، قُتِلَ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَائِ، انْہَزَمُوا بِکَ یَا رَسُولَ اللہِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّہَ قَدْ کَفَی وَأَحْسَنَ۔ (ابوداؤد ۲۷۱۲۔ احمد ۲۷۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٥٥) حضرت ایاس بن سلمہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوازن کے جہاد میں شرکت کی تھی۔ ہم صبح کا کھانا کھا رہے تھے اور ہمارے اکثر لوگ پیدل تھے اور ہم میں کمزور لوگ بھی تھے کہ ایک آدمی سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اس نے اپنے (اونٹ) کے کجاوہ سے ایک چمڑے کی رسی کو پھینکا اور ایک نوجوان آدمی نے اس کے ساتھ اس کے اونٹ کو باندھ دیا۔ پھر وہ آیا اور اس نے لوگوں کے ہمراہ کھانا کھایا۔ جب اس نے لوگوں کی کمزوری اور کمی کو دیکھا تو وہ اپنے اونٹ کی طرف بھاگ نکلا اور اس نے اس کو کھول لیا پھر اس کو بٹھایا اور اس پر سوار ہوگیا اور پھر اس اونٹ کو مہمیز کرنا شروع کیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ایک آدمی ۔۔۔ جن کا تعلق بنو اسلم سے تھا ۔۔۔ ایک اونٹنی پر ان کے پیچھے گئے۔ میں نے بھاگتے ہوئے اس شخص کا پیچھا کیا۔ ابھی بنو اسلم کے آدمی کی اونٹنی اس آدمی کے اونٹ کے قریب ہی پہنچی تھی کہ میں نے آگے بڑھ کر اونٹ کی لگام کو پکڑ لیا۔ جونہی وہ نیچے ہوئے میں نے اس آدمی کو قتل کردیا۔ پھر میں وہ سواری اور اس کا سامان لے کر حاضر ہوا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ اس آدمی کو کس نے مارا ؟ لوگوں نے بتایا کہ ابن اکوع نے۔ پس آپ نے اس کا ساز و سامان مجھے دے دیا۔
(۳۸۱۵۵) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبِی ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہَوَازِنَ ، فَبَیْنَمَا نَحْنُ نَتَضَحَّی ، وَعَامَّتُنَا مُشَاۃٌ ، فِینَا ضَعَفَۃٌ ، إِذْ جَائَ رَجُلٌ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ ، فَانْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِہِ ، فَقَیَّدَ بِہِ جَمَلَہُ رَجُلٌ شَابٌّ ، ثُمَّ جَائَ یَتَغَدَّی مَعَ الْقَوْمِ ، فَلَمَّا رَأَی ضَعْفَہُمْ وَقِلَّۃَ ظَہْرِہِمْ خَرَجَ یَعْدُو إِلَی جَمَلِہِ فَأَطْلَقَہُ ، ثُمَّ أَنَاخَہُ فَقَعَدَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ خَرَجَ یَرْکُضُہُ ، وَاتَّبَعَہُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ صَحَابَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی نَاقَۃٍ وَرْقَائَ ، ہِیَ أَمْثَلُ ظَہْرِ الْقَوْمِ ، فَقَعَدَ فَاتَّبَعَہُ ، فَخَرَجْتُ أَعْدُو فَأَدْرَکْتُہُ وَرَأْسُ النَّاقَۃِ عِنْدَ وَرِکِ الْجَمَلِ ، وَکُنْتُ عِنْدَ وَرِکِ النَّاقَۃِ ، وَکُنْتُ تَقَدَّمْتُ حَتَّی أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ ، فَأَنَخْتُہُ ، فَلَمَّا وَضَعَ رُکْبَتَیْہِ بِالأَرْضِ ، اخْتَرَطْتُ سَیْفِی فَأَضْرِبُ رَأْسَہُ ، فَنَدَرَ فَجِئْتُ بِرَاحِلَتِہِ ، وَمَا عَلَیْہَا أَقُودُہُ ، فَأَسْتَقْبِلُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُقْبِلاً ، فَقَالَ : مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ ؟ فَقَالُوا : ابْنُ الأَکْوَعِ ، فَنَفَلَہُ سَلَبَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٥٦) حضرت عبداللہ بن زید سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو غزوہ حنین میں جو مال غنیمت میں دینا مقصود تھا وہ عطا فرمایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ مال لوگوں میں اور مؤلفۃ القلوب میں تقسیم فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار میں کوئی مال بھی تقسیم نہیں فرمایا اور ان کو نہیں دیا۔ اس پر گویا جب انھیں حصہ نہیں ملا تو انھوں نے محسوس کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا۔ ” اے گروہ انصار ! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے ہدایت بخشی اور تم لوگ پراگندہ و منتشر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے اکٹھا فرمایا۔ اور کیا میں نے تمہیں تنگدست نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے غنی کردیا۔ “ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کوئی بات پوچھتے تو صحابہ جواب میں کہتے : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہیں جواب دینے سے کیا چیز مانع ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو تو یوں کہو۔ آپ ایسی ایسی حالت میں ہمارے پاس آئے تھے۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اپنے کجاو وں کی طرف اللہ کے رسول کو لے جاؤ ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا ۔ اگر سب لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار لوگ جسم سے متصل کپڑے (کی مانند) ہیں اور بقیہ لوگ جسم سے اوپر کے کپڑے (کی مانند) ہیں۔ تم لوگ میرے بعد ترجیح نفس کا مشاہدہ کرو گے لیکن تم صبر کرنا، یہاں تک کہ تم میرے ساتھ حوض پر آ ملو۔
(۳۸۱۵۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : لَمَّا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ یَوْمَ حُنَیْنٍ مَا أَفَائَ ، قَسَمَ فِی النَّاسِ فِی الْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوبُہُمْ ، وَلَمْ یَقْسِمْ وَلَمْ یُعْطِ الأَنْصَارَ شَیْئًا ، فَکَأَنَّہُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ یُصِبْہُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ ، فَخَطَبَہُمْ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، أَلَمْ أَجِدْکُمْ ضُلاَّلاً فَہَدَاکُمَ اللَّہُ بِی ؟ وَکُنْتُمْ مُتَفَرِّقِینَ فَجَمَعَکُمُ اللَّہُ بِی ؟ وَعَالَۃً فَأَغْنَاکُمَ اللَّہُ بِی ، قَالَ : کُلَّمَا قَالَ شَیْئًا ، قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنُّ ، قَالَ : فَمَا یَمْنَعُکُمْ أَنْ تُجِیبُوا؟ قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنُّ : قَالَ : لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ : جِئْتَنَا کَذَا وَکَذَا ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْبَعِیرِ ، وَتَذْہَبُونَ بِرَسُولِ اللہِ إِلَی رِحَالِکُمْ؟ لَوْلاَ الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَئًا مِنَ الأَنْصَارِ ، لَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِیًا ، أَوْ شِعْبًا لَسَلَکْت وَادِیَ الأَنْصَارِ وَشِعْبَہُمْ، الأَنْصَارُ شِعَارٌ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ، وَإِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِی أَثَرَۃً، فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْنِی عَلَی الْحَوْضِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ ذی قرد کے بارے میں روایات
(٣٨١٥٧) حضرت ایاس بن سلمہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں صلح حدیبیہ کے دنوں میں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ مدینہ میں آیا تھا ۔ پس (ایک مرتبہ) میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا غلام حضرت رباح باہر نکلے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رباح کو اونٹوں کے ہمرا ہ بھیجا اور میں ان کے ساتھ حضرت طلحہ کا گھوڑا لے کر نکلا اور اونٹوں کے ساتھ میں گھوڑے کو ایڑ لگاتا رہا۔ پس جب صبح کا اندھیرا (چھایا ہوا) تھا تو عبد الرحمن بن عیینہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹوں پر حملہ کردیا اور اونٹوں کے چرواہے کو قتل کردیا۔ اور وہ اس کے ساتھ جو گھڑ سوار لوگ تھے وہ اونٹوں کو لے گئے۔ میں نے کہا۔ اے رباح ! اس گھوڑے پر بیٹھ جاؤ اور یہ حضرت طلحہ تک پہنچا دو ۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دے دو کہ ان پر حملہ ہوگیا ہے۔
٢۔ سلمہ کہتے ہیں : پھر میں ایک ٹیلہ پر کھڑا ہوگیا اور اپنا منہ مدینہ کی طرف کیا اور پھر میں نے تین مرتبہ آواز لگائی ۔ یا صباحاہ ! اس کے بعد ان لوگوں کے پیچھے چل نکلا۔ میرے پاس میری تلوار اور تیر تھے ۔ پس میں نے ان کی طرف تیر پھینکنے شروع کیے اور ان کو زخمی کر کے روکنے لگا۔ اور یہ بات تب ہوتی جب درخت زیادہ ہوتے۔۔۔ کہتے ہیں : جب میری طرف کوئی سوار آتا تو میں کسی درخت کی اوٹ میں بیٹھ جاتا اور پھر تیر اندازی کرتا۔ چنانچہ کوئی سوار میری طرف نہ بڑھتا مگر یہ کہ میں اس کو زخمی کر کے روک دیتا میں ان پر تیر برساتا اور یہ کہتا۔ میں ابن الاکوع ہوں اور آج کا دن ذلیلوں کی ہلاکت کا دن ہے۔
٣۔ پھر میں ایک آدمی کے پاس پہنچا تو میں نے اس کو تیر مارا جبکہ وہ اپنی سواری پر تھا۔ میرا تیر اس آدمی کو لگا یہاں تک کہ وہ اس کے کندھے میں پیوست ہوگیا۔ میں نے کہا۔ اس کو پکڑ۔ اور
” میں ابن الاکوع ہوں ۔ اور آج کا دن ذلیلوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ “
٤۔ جب میں درختوں (کے جھرمٹ) میں ہوتا تو میں ان لوگوں پر خوب تیر اندازی کرتا اور جب گھاٹیاں تنگ ہوجاتیں تو میں پہاڑ پر چڑھ جاتا اور ان پر پتھر پھینکتا۔ میری اور ان کی یہی حالت رہی کہ میں ان کے پیچھے دوڑتا رہا اور رجزیہ اشعار پڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواریوں میں سے جو کچھ پیدا کیا ہوا تھا میں اس سب کو اپنے پیچھے چھوڑ آیا اور میں نے اس کو حملہ آوروں سے چھڑا لیا۔
٥۔ سلمہ کہتے ہیں : پس میں ان پر تیر اندازی کرتا رہا یہاں تک کہ تیس سے زیادہ نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں گرا دیں جن کو وہ ہلکا (گھٹیا) سمجھتے تھے۔ وہ جو کچھ بھی پھینکتے تھے میں ان پر پتھروں کو رکھ دیتا تھا۔ اور میں اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستہ پر جمع کردیتا تھا۔ یہاں تک کہ جب چاشت کا وقت ہوا تو حملہ آوروں کے پاس عیینہ بن بدر فزاری مدد کرنے کے لیے آپہنچا اور یہ لوگ ایک تنگ گھاٹی میں تھے۔ میں پہاڑ پر چڑھ گیا چنانچہ میں ان سے بلند ہوگیا۔ عیینہ نے کہا میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں ؟ حملہ آوروں نے جواب دیا۔ ہمیں یہ مصیبت چمٹی ہوئی ہے۔ صبح سے ابھی تک اس نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ اس نے ہم سے لے لیا ہے اور اس کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس پر عیینہ نے کہا۔ اگر اس کو اپنے پیچھے سے کسی طلب (کمک) کا خیال نہ ہوتا تو البتہ یہ تمہیں چھوڑ دیتا ۔ عیینہ نے کہا۔ تم میں سے ایک جماعت اس کی طرف (لڑنے کے لئے) اٹھنی چاہیے۔ چنانچہ میری جانب ایک جماعت اٹھی جس میں چار افراد تھے۔ انھوں نے پہاڑ پر چڑھنا شروع کیا پس جب وہ میری آواز کے قریب پہنچے تو میں نے ان سے کہا۔ کیا تم مجھے جانتے ہو ؟ انھوں نے پوچھا تم کون ہو ؟ مں پ نے جواب دیا۔ میں ابن الاکوع ہوں۔ قسم اس ذات کی جس نے محمد کے چہرے کو عزت بخشی تم میں سے کوئی آدمی مجھے پکڑنا چاہے تو نہیں پکڑ سکتا اور میں جس کو پکڑنا چاہوں وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا۔ مجھے بھی یہی گمان ہے۔
٦۔ سلمہ کہتے ہیں : پھر میں اپنی اسی جگہ بیٹھا رہا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سواروں کو درختوں کے درمیان سے دیکھا کہ ان کے اول میں اخرم اسدی ہیں اور ان کے پیچھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہسوار حضرت ابو قتادہ تھے اور ابو قتادہ کے پیچھے مقداد کندی تھے۔ سلمہ کہتے ہیں۔ پس مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ۔ میں پہاڑ سے اترا اور حضرت اخرم کے پاس پہنچا اور میں نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی۔ میں نے کہا۔ اے اخرم ! ان لوگوں سے ڈرو (یعنی ابھی رک جاؤ) کیونکہ مجھے اس بات پر امن نہیں ہے کہ یہ لوگ تمہیں قتل کردیں گے۔ پس تم رکو یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (ہم تک) پہنچ جائیں۔ اخرم نے کہا ۔ اے سلمہ ! اگر تم اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور جانتے ہو کہ جنت برحق ہے اور جہنم برحق ہے تو تم میرے اور شہادت کے درمیان حائل نہ ہو۔ سلمہ کہتے ہیں۔ میں نے ان کے گھوڑے کی لگام چھوڑ دی اور وہ (جا کر) عبد الرحمن بن عیینہ سے ٹکرائے اور عبد الرحمن نے ان پر حملہ کیا اور دونوں طرف سے وار ہوئے۔ حضرت اخرم نے عبدالرحمن کے (گھوڑے کی) پانچیں کاٹ دیں اور عبد الرحمن نے حضرت اخرم کو وار کر کے قتل کردیا۔ اور عبد الرحمن ، حضرت اخرم (کا گھوڑا لے کر) واپس چلا گیا۔
٧۔ پھر ابو قتادہ ، عبد الرحمن کے پاس پہنچے اور دونوں طرف وار ہوئے تو حضرت قتادہ کے گھوڑے کے پاؤں عبد الرحمن نے کاٹ ڈالے اور حضرت ابو قتادہ نے عبد الرحمن کو قتل کردیا اور حضرت ابو قتادہ ، حضرت اخرم کے گھوڑے پر سوار ہو کر واپس پلٹے۔
٨۔ میں نے پھر ان لوگوں کے اثرات قدم کے پیچھے دوڑنا شروع کیا (اور اتنا آگے نکل گیا) یہاں تک کہ مجھے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کا غبار بھی دکھائی دینا بند ہوگیا ۔ غروب آفتاب سے قبل یہ لوگ ایک گھاٹی میں میرے سامنے آئے جس میں ایک ذوقرد نام کا کنواں تھا۔ ان لوگوں نے اس کنویں سے پانی پینے کا ارادہ کیا تھا کہ انھوں نے مجھے اپنے پیچھے دوڑتا ہوا دیکھ لیا چنانچہ وہ لوگ وہاں سے نکلے اور ایک دوسری گھاٹی جس کا نام ثنیۃ ذی ثبیر تھا اس میں مضبوط ہوگئے اسی دوران سورج ڈوب گیا اور میں ان میں سے ایک آدمی کے پاس جا پہنچا اور میں نے اس کی طرف تیر پھینکا اور میں نے کہا۔ اس (تیر) کو پکڑ لو۔ ع
” اور میں ابن الاکوع ہوں۔ آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ “
٩۔ اس آدمی نے کہا ۔۔۔ ہائے ! میری ماں مجھے گم کرے ۔ کیا تم صبح والے ابن الاکوع ہو ؟ میں نے جواب دیا : ہاں ! اے اپنی جان کے دشمن ! اور یہ وہی شخص تھا جس کو میں نے صبح تیر مارا تھا۔ چنانچہ میں نے اس کو ایک اور تیر دے مارا اور اس میں دو تیر پیوست ہوگئے۔ یہ لوگ (مزید) دو گھوڑے پیچھے چھوڑ گئے۔ میں ان دونوں گھوڑوں کو ہانک کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اس وقت) اسی کنویں پر تشریف فرما تھے جس سے میں نے ان حملہ آوروں کو بھگایا تھا۔ یعنی ذو قرد
١٠۔ پس (وہاں) اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانچ صد افراد کے ہمراہ موجود تھے۔ اور حضرت بلال نے ان میں سے ایک اونٹ کو نحر کیا تھا جن کو میں اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس کی کلیجی اور کوہان کو بھون رہے تھے۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مجھے چھوڑیں (یعنی اجازت دیں) میں آپ کے صحابہ میں سے ایک سو افراد کو منتخب کرتا ہوں اور (ان کے ذریعہ) میں کفار پر رات کو حملہ کروں گا اور ان میں سے کسی مخبر کو قتل کئے بغیر نہیں چھوڑں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” اے سلمہ ! کیا تم یہ کام کرلو گے ؟ “ حضرت سلمہ نے جواب دیا۔ جی ہاں ! قسم اس ذات کی جس نے آپ کے رُخ انور کو عزت بخشی ہے۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آگ کی روشنی میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھوں کو دیکھ لیا۔
١١۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ لوگ اس وقت مقام غطفان میں مہمانی کھا رہے ہیں۔ “ پھر اس کے بعد مقام غطفان سے ایک آدمی آیا اور اس نے بتایا کہ یہ لوگ فلاں غطفانی کے ہاں سے گزرے تو اس نے ان کے لیے اونٹ ذبح کیا پھر جب انھوں نے اس کی کھال اتارنا شروع کی تو انھوں نے گرد و غبار دیکھی اور اونٹ کو (وہیں) چھوڑ دیا اور بھاگ نکلے۔ پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” ہمارے گھڑ سواروں میں سب سے بہتر گھڑ سوار ابو قتادہ ہیں اور ہمارے پا پیادہ میں سب سے بہتر حضرت سلمہ ہیں۔ “ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے گھڑ سوار اور پا پیادہ دونوں کے حصے عطا فرمائے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے پیچھے کان چری اونٹنی پر سوار فرمایا۔ جبکہ ہم مدینہ کی طرف واپس آ رہے تھے۔
١٢۔ پھر جب ہم مدینہ کے قریب نصف النہار کو پہنچے تو انصار میں سے ایک آدمی تھا وہ جب بھی آگے ہوتا تو یہ آواز لگاتا۔ کیا کوئی مقابلہ کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی آدمی مدینہ تک دوڑ لگا کر مقابلہ کرے گا ؟ یہ حرکت اس نے کئی مرتبہ کی ۔ جبکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھا۔ میں نے ان صاحب سے کہا۔ تمہیں کسی کریم کی عزت اور کسی شریف کی ہیبت کا خیال نہیں ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی کا نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے چھوڑیے ۔ تاکہ میں اس آدمی سے مقابلہ کروں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہتے ہو تو (ٹھیک ہے) ۔ میں نے (اس آدمی سے) کہا۔ تیاری کرو۔ پس وہ اپنی سواری سے اترا اور میں نے اپنے پاؤں موڑے اور میں بھی اونٹنی سے اترا۔ پھر میں نے دوڑ لگائی یہاں تک کہ میں نے اس کو جا پکڑا اور میں نے اس کے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ زور سے مارا ور میں نے اس سے کہا۔ خدا کی قسم ! میں تم سے آگے گزر گیا ہوں۔ یا اسی طرح کی کوئی بات کہی۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ وہ صاحب ہنس پڑے اور کہنے لگے۔ میرا گمان بھی یہی تھا کہ تم مجھ پر سبقت لے جاؤ گے۔ (پھر ہم چلتے رہے) یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
٢۔ سلمہ کہتے ہیں : پھر میں ایک ٹیلہ پر کھڑا ہوگیا اور اپنا منہ مدینہ کی طرف کیا اور پھر میں نے تین مرتبہ آواز لگائی ۔ یا صباحاہ ! اس کے بعد ان لوگوں کے پیچھے چل نکلا۔ میرے پاس میری تلوار اور تیر تھے ۔ پس میں نے ان کی طرف تیر پھینکنے شروع کیے اور ان کو زخمی کر کے روکنے لگا۔ اور یہ بات تب ہوتی جب درخت زیادہ ہوتے۔۔۔ کہتے ہیں : جب میری طرف کوئی سوار آتا تو میں کسی درخت کی اوٹ میں بیٹھ جاتا اور پھر تیر اندازی کرتا۔ چنانچہ کوئی سوار میری طرف نہ بڑھتا مگر یہ کہ میں اس کو زخمی کر کے روک دیتا میں ان پر تیر برساتا اور یہ کہتا۔ میں ابن الاکوع ہوں اور آج کا دن ذلیلوں کی ہلاکت کا دن ہے۔
٣۔ پھر میں ایک آدمی کے پاس پہنچا تو میں نے اس کو تیر مارا جبکہ وہ اپنی سواری پر تھا۔ میرا تیر اس آدمی کو لگا یہاں تک کہ وہ اس کے کندھے میں پیوست ہوگیا۔ میں نے کہا۔ اس کو پکڑ۔ اور
” میں ابن الاکوع ہوں ۔ اور آج کا دن ذلیلوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ “
٤۔ جب میں درختوں (کے جھرمٹ) میں ہوتا تو میں ان لوگوں پر خوب تیر اندازی کرتا اور جب گھاٹیاں تنگ ہوجاتیں تو میں پہاڑ پر چڑھ جاتا اور ان پر پتھر پھینکتا۔ میری اور ان کی یہی حالت رہی کہ میں ان کے پیچھے دوڑتا رہا اور رجزیہ اشعار پڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواریوں میں سے جو کچھ پیدا کیا ہوا تھا میں اس سب کو اپنے پیچھے چھوڑ آیا اور میں نے اس کو حملہ آوروں سے چھڑا لیا۔
٥۔ سلمہ کہتے ہیں : پس میں ان پر تیر اندازی کرتا رہا یہاں تک کہ تیس سے زیادہ نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں گرا دیں جن کو وہ ہلکا (گھٹیا) سمجھتے تھے۔ وہ جو کچھ بھی پھینکتے تھے میں ان پر پتھروں کو رکھ دیتا تھا۔ اور میں اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راستہ پر جمع کردیتا تھا۔ یہاں تک کہ جب چاشت کا وقت ہوا تو حملہ آوروں کے پاس عیینہ بن بدر فزاری مدد کرنے کے لیے آپہنچا اور یہ لوگ ایک تنگ گھاٹی میں تھے۔ میں پہاڑ پر چڑھ گیا چنانچہ میں ان سے بلند ہوگیا۔ عیینہ نے کہا میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں ؟ حملہ آوروں نے جواب دیا۔ ہمیں یہ مصیبت چمٹی ہوئی ہے۔ صبح سے ابھی تک اس نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ اس نے ہم سے لے لیا ہے اور اس کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس پر عیینہ نے کہا۔ اگر اس کو اپنے پیچھے سے کسی طلب (کمک) کا خیال نہ ہوتا تو البتہ یہ تمہیں چھوڑ دیتا ۔ عیینہ نے کہا۔ تم میں سے ایک جماعت اس کی طرف (لڑنے کے لئے) اٹھنی چاہیے۔ چنانچہ میری جانب ایک جماعت اٹھی جس میں چار افراد تھے۔ انھوں نے پہاڑ پر چڑھنا شروع کیا پس جب وہ میری آواز کے قریب پہنچے تو میں نے ان سے کہا۔ کیا تم مجھے جانتے ہو ؟ انھوں نے پوچھا تم کون ہو ؟ مں پ نے جواب دیا۔ میں ابن الاکوع ہوں۔ قسم اس ذات کی جس نے محمد کے چہرے کو عزت بخشی تم میں سے کوئی آدمی مجھے پکڑنا چاہے تو نہیں پکڑ سکتا اور میں جس کو پکڑنا چاہوں وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ ان میں سے ایک آدمی نے کہا۔ مجھے بھی یہی گمان ہے۔
٦۔ سلمہ کہتے ہیں : پھر میں اپنی اسی جگہ بیٹھا رہا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سواروں کو درختوں کے درمیان سے دیکھا کہ ان کے اول میں اخرم اسدی ہیں اور ان کے پیچھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہسوار حضرت ابو قتادہ تھے اور ابو قتادہ کے پیچھے مقداد کندی تھے۔ سلمہ کہتے ہیں۔ پس مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ۔ میں پہاڑ سے اترا اور حضرت اخرم کے پاس پہنچا اور میں نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی۔ میں نے کہا۔ اے اخرم ! ان لوگوں سے ڈرو (یعنی ابھی رک جاؤ) کیونکہ مجھے اس بات پر امن نہیں ہے کہ یہ لوگ تمہیں قتل کردیں گے۔ پس تم رکو یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (ہم تک) پہنچ جائیں۔ اخرم نے کہا ۔ اے سلمہ ! اگر تم اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور جانتے ہو کہ جنت برحق ہے اور جہنم برحق ہے تو تم میرے اور شہادت کے درمیان حائل نہ ہو۔ سلمہ کہتے ہیں۔ میں نے ان کے گھوڑے کی لگام چھوڑ دی اور وہ (جا کر) عبد الرحمن بن عیینہ سے ٹکرائے اور عبد الرحمن نے ان پر حملہ کیا اور دونوں طرف سے وار ہوئے۔ حضرت اخرم نے عبدالرحمن کے (گھوڑے کی) پانچیں کاٹ دیں اور عبد الرحمن نے حضرت اخرم کو وار کر کے قتل کردیا۔ اور عبد الرحمن ، حضرت اخرم (کا گھوڑا لے کر) واپس چلا گیا۔
٧۔ پھر ابو قتادہ ، عبد الرحمن کے پاس پہنچے اور دونوں طرف وار ہوئے تو حضرت قتادہ کے گھوڑے کے پاؤں عبد الرحمن نے کاٹ ڈالے اور حضرت ابو قتادہ نے عبد الرحمن کو قتل کردیا اور حضرت ابو قتادہ ، حضرت اخرم کے گھوڑے پر سوار ہو کر واپس پلٹے۔
٨۔ میں نے پھر ان لوگوں کے اثرات قدم کے پیچھے دوڑنا شروع کیا (اور اتنا آگے نکل گیا) یہاں تک کہ مجھے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کا غبار بھی دکھائی دینا بند ہوگیا ۔ غروب آفتاب سے قبل یہ لوگ ایک گھاٹی میں میرے سامنے آئے جس میں ایک ذوقرد نام کا کنواں تھا۔ ان لوگوں نے اس کنویں سے پانی پینے کا ارادہ کیا تھا کہ انھوں نے مجھے اپنے پیچھے دوڑتا ہوا دیکھ لیا چنانچہ وہ لوگ وہاں سے نکلے اور ایک دوسری گھاٹی جس کا نام ثنیۃ ذی ثبیر تھا اس میں مضبوط ہوگئے اسی دوران سورج ڈوب گیا اور میں ان میں سے ایک آدمی کے پاس جا پہنچا اور میں نے اس کی طرف تیر پھینکا اور میں نے کہا۔ اس (تیر) کو پکڑ لو۔ ع
” اور میں ابن الاکوع ہوں۔ آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ “
٩۔ اس آدمی نے کہا ۔۔۔ ہائے ! میری ماں مجھے گم کرے ۔ کیا تم صبح والے ابن الاکوع ہو ؟ میں نے جواب دیا : ہاں ! اے اپنی جان کے دشمن ! اور یہ وہی شخص تھا جس کو میں نے صبح تیر مارا تھا۔ چنانچہ میں نے اس کو ایک اور تیر دے مارا اور اس میں دو تیر پیوست ہوگئے۔ یہ لوگ (مزید) دو گھوڑے پیچھے چھوڑ گئے۔ میں ان دونوں گھوڑوں کو ہانک کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اس وقت) اسی کنویں پر تشریف فرما تھے جس سے میں نے ان حملہ آوروں کو بھگایا تھا۔ یعنی ذو قرد
١٠۔ پس (وہاں) اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانچ صد افراد کے ہمراہ موجود تھے۔ اور حضرت بلال نے ان میں سے ایک اونٹ کو نحر کیا تھا جن کو میں اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس کی کلیجی اور کوہان کو بھون رہے تھے۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مجھے چھوڑیں (یعنی اجازت دیں) میں آپ کے صحابہ میں سے ایک سو افراد کو منتخب کرتا ہوں اور (ان کے ذریعہ) میں کفار پر رات کو حملہ کروں گا اور ان میں سے کسی مخبر کو قتل کئے بغیر نہیں چھوڑں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” اے سلمہ ! کیا تم یہ کام کرلو گے ؟ “ حضرت سلمہ نے جواب دیا۔ جی ہاں ! قسم اس ذات کی جس نے آپ کے رُخ انور کو عزت بخشی ہے۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آگ کی روشنی میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھوں کو دیکھ لیا۔
١١۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ لوگ اس وقت مقام غطفان میں مہمانی کھا رہے ہیں۔ “ پھر اس کے بعد مقام غطفان سے ایک آدمی آیا اور اس نے بتایا کہ یہ لوگ فلاں غطفانی کے ہاں سے گزرے تو اس نے ان کے لیے اونٹ ذبح کیا پھر جب انھوں نے اس کی کھال اتارنا شروع کی تو انھوں نے گرد و غبار دیکھی اور اونٹ کو (وہیں) چھوڑ دیا اور بھاگ نکلے۔ پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” ہمارے گھڑ سواروں میں سب سے بہتر گھڑ سوار ابو قتادہ ہیں اور ہمارے پا پیادہ میں سب سے بہتر حضرت سلمہ ہیں۔ “ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے گھڑ سوار اور پا پیادہ دونوں کے حصے عطا فرمائے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے پیچھے کان چری اونٹنی پر سوار فرمایا۔ جبکہ ہم مدینہ کی طرف واپس آ رہے تھے۔
١٢۔ پھر جب ہم مدینہ کے قریب نصف النہار کو پہنچے تو انصار میں سے ایک آدمی تھا وہ جب بھی آگے ہوتا تو یہ آواز لگاتا۔ کیا کوئی مقابلہ کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی آدمی مدینہ تک دوڑ لگا کر مقابلہ کرے گا ؟ یہ حرکت اس نے کئی مرتبہ کی ۔ جبکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھا۔ میں نے ان صاحب سے کہا۔ تمہیں کسی کریم کی عزت اور کسی شریف کی ہیبت کا خیال نہیں ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی کا نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے چھوڑیے ۔ تاکہ میں اس آدمی سے مقابلہ کروں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہتے ہو تو (ٹھیک ہے) ۔ میں نے (اس آدمی سے) کہا۔ تیاری کرو۔ پس وہ اپنی سواری سے اترا اور میں نے اپنے پاؤں موڑے اور میں بھی اونٹنی سے اترا۔ پھر میں نے دوڑ لگائی یہاں تک کہ میں نے اس کو جا پکڑا اور میں نے اس کے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ زور سے مارا ور میں نے اس سے کہا۔ خدا کی قسم ! میں تم سے آگے گزر گیا ہوں۔ یا اسی طرح کی کوئی بات کہی۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ وہ صاحب ہنس پڑے اور کہنے لگے۔ میرا گمان بھی یہی تھا کہ تم مجھ پر سبقت لے جاؤ گے۔ (پھر ہم چلتے رہے) یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
(۳۸۱۵۷) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجْت أَنَا وَرَبَاحٌ ، غُلاَمُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ الإِبِلِ ، وَخَرَجْتُ مَعَہُ بِفَرَسِ طَلْحَۃَ أُنْدِّیہِ مَعَ الإِبِلِ ، فَلَمَّا کَانَ بِغَلَسٍ أَغَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَلَی إِبِلِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَتَلَ رَاعِیَہَا ، وَخَرَجَ یَطْرُدُہَا ہُوَ وَأُنَاسٌ مَعَہُ فِی خَیْلٍ ، فَقُلْتُ : یَا رَبَاحُ ، اُقْعُدْ عَلَی ہَذَا الْفَرَسِ ، فَأَلْحِقْہُ بِطَلْحَۃَ ، وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَدْ أُغِیرَ عَلَی سَرْحِہِ۔
قَالَ : فَقُمْت عَلَی تَلٍّ ، وَجَعَلْت وَجْہِی مِنْ قِبَلِ الْمَدِینَۃِ ، ثُمَّ نَادَیْت ثَلاَثَ مَرَّاتٍ : یَا صَبَاحَاہُ ، ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ، مَعِی سَیْفِی وَنَبْلِی، فَجَعَلْتُ أَرْمِیہِمْ وَأَعْقِرُ بِہِمْ، وَذَاکَ حِینَ یَکْثُرُ الشَّجَرُ، قَالَ: فَإِذَا رَجَعَ إِلَیَّ فَارِسٌ جَلَسْتُ لَہُ فِی أَصْلِ شَجَرَۃٍ ، ثُمَّ رَمَیْتُ ، فَلاَ یُقْبِلُ عَلَیَّ فَارِسٌ إِلاَّ عَقَرْتُ بِہِ ، فَجَعَلْتُ أَرْمِیہِمْ وَأَقُولُ :
أَنَا ابْنُ الأَکْوَعِ وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ
فَأَلْحَقُ بِرَجُلٍ فَأَرْمِیہِ وَہُوَ عَلَی رَحْلِہِ ، فَیَقَعُ سَہْمِی فِی الرَّجُلِ ، حَتَّی انْتَظَمَتْ کَتِفُہُ ، قُلْتُ : خُذْہَا :
وَأَنَا ابْنُ الأَکْوَعِ وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ
فَإِذَا کُنْتُ فِی الشَّجَرَۃِ أَحْرَقْتُہُمْ بِالنَّبْلِ ، وَإِذَا تَضَایَقَتِ الثَّنَایَا عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَرَدَّیْتُہُمْ بِالْحِجَارَۃِ ، فَمَا زَالَ ذَلِکَ شَأْنِی وَشَأْنُہُمْ، أَتْبَعُہُمْ وَأَرْتَجِزُ، حَتَّی مَا خَلَقَ اللَّہُ شَیْئًا مِنْ ظَہْرِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلاَّ خَلَّفْتُہُ وَرَائَ ظَہْرِی ، وَاسْتَنْقَذْتُہُ مِنْ أَیْدِیہِمْ ، قَالَ : ثُمَّ لَمْ أَزَلْ أَرْمِیہِمْ حَتَّی أَلْقَوْا أَکْثَرَ مِنْ ثَلاَثِینَ رُمْحًا ، وَأَکْثَرَ مِنْ ثَلاَثِینَ بُرْدَۃً ، یَسْتَخْفُونَ مِنْہَا ، وَلاَ یُلْقُونَ مِنْ ذَلِکَ شَیْئًا إِلاَّ جَعَلْت عَلَیْہِ آرَامًا مِنَ الْحِجَارَۃِ ، وَجَمَعْتُہُ عَلَی طَرِیقِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، حَتَّی إِذَا امْتَدَّ الضُّحَی، أَتَاہُمْ عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِی، مُمِدًّا لَہُمْ، وَہُمْ فِی ثَنِیَّۃٍ ضَیِّقَۃٍ، ثُمَّ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَأَنَا فَوْقَہُمْ، قَالَ عُیَیْنَۃُ: مَا ہَذَا الَّذِی أَرَی؟ قَالُوا: لَقِینَا مِنْ ہَذَا الْبَرْحَ ، مَا فَارَقْنَا بِسَحَرٍ حَتَّی الآنَ ، وَأَخَذَ کُلَّ شَیْئٍ فِی أَیْدِینَا ، وَجَعَلَہُ وَرَائَ ظَہْرِہِ ، فَقَالَ عُیَیْنَۃُ : لَوْلاَ أَنَّ ہَذَا یَرَی أَنَّ وَرَائَہُ طَلَبًا لَقَدْ تَرَکَکُمْ ، قَالَ : لِیَقُمْ إِلَیْہِ نَفَرٌ مِنْکُمْ ، فَقَامَ إِلَیَّ نَفَرٌ مِنْہُمْ أَرْبَعَۃٌ ، فَصَعِدُوا فِی الْجَبَلِ، فَلَمَّا أَسْمَعْتُہُمُ الصَّوْتَ، قُلْتُ لَہُمْ: أَتَعْرِفُونِی؟ قَالُوا: وَمَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا ابْنُ الأَکْوَعِ، وَالَّذِی کَرَّمَ وَجْہَ مُحَمَّدٍ لاَ یَطْلُبُنِی رَجُلٌ مِنْکُمْ فَیُدْرِکُنِی ، وَلاَ أَطْلُبُہُ فَیَفُوتُنِی ، قَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ : إِنْ أَظُنُّ۔
قَالَ: فَمَا بَرِحْتُ مَقْعَدِی ذَاکَ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی فَوَارِسِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ، وَإِذَا أَوَّلُہُمُ الأَخْرَمُ الأَسَدِیُّ ، وَعَلَی أَثَرِہِ أَبُو قَتَادَۃَ فَارِسُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَعَلَی أَثَرِ أَبِی قَتَادَۃَ الْمِقْدَادُ الْکِنْدِیُّ ، قَالَ : فَوَلَّوُا الْمُشْرِکِینَ مُدْبِرِینَ ، وَأَنْزِلُ مِنَ الْجَبَلِ ، فَأَعْرِضُ لِلأَخْرَمِ ، فَآخُذُ عَنَانَ فَرَسِہِ ، قُلْتُ : یَا أَخَرَمُ ، أَنْذِرْ بِالْقَوْمِ ، یَعَنْی أُحَذِّرُہُمْ ، فَإِنِّی لاَ آمَنُ أَنْ یَقْطَعُوک ، فَاتَّئِدْ حَتَّی یَلْحَقَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ ، قَالَ : یَا سَلَمَۃُ ، إِنْ کُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ ، وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ ، فَلاَ تَحُل بَیْنِی وَبَیْنَ الشَّہَادَۃِ ، قَالَ : فَخَلَّیْتُ عَنَانَ فَرَسِہِ ، فَیَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُیَیْنَۃَ ، وَیَعْطِفُ عَلَیْہِ عَبْدُ الرَّحْمَان ، فَاخْتَلَفَا طَعَنْتَیْنِ ، فَعَقَرَ الأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَطَعَنَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَہُ ، وَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَی فَرَسِ الأَخْرَمِ۔
فَلَحِقَ أَبُو قَتَادَۃَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعَنْتَیْنِ فَعَقَرَ بِأَبِی قَتَادَۃَ ، وَقَتَلَہُ أبُو قَتَادَۃَ ، وَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَۃَ عَلَی فَرَسِ الأَخْرَمِ۔
ثُمَّ إِنِّی خَرَجْتُ أَعْدُو فِی أَثَرِ الْقَوْمِ ، حَتَّی مَا أَرَی مِنْ غُبَارِ صَحَابَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا ، وَیَعْرِضُونَ قَبْلَ غَیْبُوبَۃِ الشَّمْسِ إِلَی شِعْبٍ فِیہِ مَائٌ ، یُقَالُ لَہُ : ذُو قَرَدٍ ، فَأَرَادُوا أَنْ یَشْرَبُوا مِنْہُ ، فَأَبْصَرُونِی أَعْدُو وَرَائَہُمْ ، فَعَطَفُوا عَنْہُ، وَشَدُّوا فِی الثَّنِیَّۃِ ، ثَنِیَّۃِ ذِی ثَبیرٍ، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَلْحَقُ بِہِمْ رَجُلاً فَأَرْمِیہِ، فَقُلْتُ : خُذْہَا :
وَأَنَا ابْنُ الأَکْوَعِ وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ
فَقَالَ : یَا ثَکِلَتْنِی أُمِّی ، أَکْوَعِی بُکْرَۃً ، قُلْتُ : نَعَمْ أَیْ عَدُوَّ نَفْسِہِ ، وَکَانَ الَّذِی رَمَیْتُہُ بُکْرَۃً فَأَتْبَعْتُہُ بِسَہْمٍ آخَرَ ، فَعَلَقَ فِیہِ سَہْمَانِ ، وَتَخَلَّفُوا فَرَسَیْنِ ، فَجِئْتُ بِہِمَا أَسُوقُہُمَا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَہُوَ عَلَی الْمَائِ الَّذِی حَلأَتْہُمْ عَنْہُ : ذِی قَرَدٍ۔
فَإِذَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی خَمْسِ مِئَۃٍ ، وَإِذَا بِلاَلٌ قَدْ نَحَرَ جَزُورًا مِمَّا خَلَّفْتُ ، فَہُوَ یَشْوِی لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ کَبِدِہَا وَسَنَامِہَا ، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، خَلِّنِی ، فَأَنْتَخِبُ مِنْ أَصْحَابِکَ مِئَۃَ رَجُلٍ ، فَآخُذَ عَلَی الْکُفَّارِ بِالْعَشْوَۃِ ، فَلاَ یَبْقَی مِنْہُمْ مُخْبِرٌ إِلاَّ قَتَلْتُہُ ، قَالَ : أَکُنْتَ فَاعِلاً ذَاکَ یَا سَلَمَۃُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَالَّذِی أَکْرَمَ وَجْہَک ، فَضَحِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی رَأَیْتُ نَوَاجِذَہُ فِی ضَوْئِ النَّارِ۔
قَالَ: ثُمَّ قَالَ : إِنَّہُمْ یُقْرَوْنَ الآنَ بِأَرْضِ غَطَفَانَ ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ ، قَالَ : مَرُّوا عَلَی فُلاَنٍ الْغَطَفَانِی ، فَنَحَرَ لَہُمْ جَزُورًا ، فَلَمَّا أَخَذُوا یَکْشِطُونَ جِلْدَہَا ، رَأَوْا غَبَرَۃً فَتَرَکُوہَا وَخَرَجُوا ہُرَّابًا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: خَیْرُ فُرْسَانِنَا الْیَوْمَ أَبُو قَتَادَۃَ، وَخَیْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَۃُ، فَأَعْطَانِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَہْمَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ جَمِیعًا، ثُمَّ أَرْدَفَنِی وَرَائَہُ عَلَی الْعَضْبَائِ رَاجِعِینَ إِلَی الْمَدِینَۃِ۔
فَلَمَّا کَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہَا قَرِیبٌ مِنْ ضَحْوَۃٍ ، وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، کَانَ لاَ یُسْبَقُ ، فَجَعَلَ یُنَادِی : ہَلْ مِنْ مُسَابِقٍ ، أَلاَ رَجُلٌ یُسَابِقُ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، فَعَلَ ذَلِکَ مِرَارًا ، وَأَنَا وَرَائَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُرْدَفًا ، قُلْتُ لَہُ : أَمَا تُکْرِمُ کَرِیمًا ، وَلاَ تَہَابُ شَرِیفًا ؟ قَالَ : لاَ ، إِلاَّ رَسُولَ اللہِ ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی خَلِّنِی ، فَلأُسَابِقُ الرَّجُلَ ، قَالَ : إِنْ شِئْتَ ، قُلْتُ : اِذْہَبْ إِلَیْک ، فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِہِ ، وَثَنَیْت رِجْلِی فَطَفَرْت عَنِ النَّاقَۃِ ، ثُمَّ إِنِّی رَبَطْتُ عَلَیْہَا شَرَفًا ، أَوْ شَرَفَیْنِ ، یَعَنْی اسْتَبْقَیْت نَفْسِی ، ثُمَّ إِنِّی عَدَوْتُ حَتَّی أَلْحَقَہُ ، فَأَصُکَّ بَیْنَ کَتِفَیْہِ بِیَدَی ، فَقُلْتُ سَبَقْتُک وَاللہِ ، أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا ، قَالَ : فَضَحِکَ ، وَقَالَ : إِنْ أَظُنُّ ، حَتَّی قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ۔ (مسلم ۱۴۳۳۔ احمد ۵۲)
قَالَ : فَقُمْت عَلَی تَلٍّ ، وَجَعَلْت وَجْہِی مِنْ قِبَلِ الْمَدِینَۃِ ، ثُمَّ نَادَیْت ثَلاَثَ مَرَّاتٍ : یَا صَبَاحَاہُ ، ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ، مَعِی سَیْفِی وَنَبْلِی، فَجَعَلْتُ أَرْمِیہِمْ وَأَعْقِرُ بِہِمْ، وَذَاکَ حِینَ یَکْثُرُ الشَّجَرُ، قَالَ: فَإِذَا رَجَعَ إِلَیَّ فَارِسٌ جَلَسْتُ لَہُ فِی أَصْلِ شَجَرَۃٍ ، ثُمَّ رَمَیْتُ ، فَلاَ یُقْبِلُ عَلَیَّ فَارِسٌ إِلاَّ عَقَرْتُ بِہِ ، فَجَعَلْتُ أَرْمِیہِمْ وَأَقُولُ :
أَنَا ابْنُ الأَکْوَعِ وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ
فَأَلْحَقُ بِرَجُلٍ فَأَرْمِیہِ وَہُوَ عَلَی رَحْلِہِ ، فَیَقَعُ سَہْمِی فِی الرَّجُلِ ، حَتَّی انْتَظَمَتْ کَتِفُہُ ، قُلْتُ : خُذْہَا :
وَأَنَا ابْنُ الأَکْوَعِ وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ
فَإِذَا کُنْتُ فِی الشَّجَرَۃِ أَحْرَقْتُہُمْ بِالنَّبْلِ ، وَإِذَا تَضَایَقَتِ الثَّنَایَا عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَرَدَّیْتُہُمْ بِالْحِجَارَۃِ ، فَمَا زَالَ ذَلِکَ شَأْنِی وَشَأْنُہُمْ، أَتْبَعُہُمْ وَأَرْتَجِزُ، حَتَّی مَا خَلَقَ اللَّہُ شَیْئًا مِنْ ظَہْرِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلاَّ خَلَّفْتُہُ وَرَائَ ظَہْرِی ، وَاسْتَنْقَذْتُہُ مِنْ أَیْدِیہِمْ ، قَالَ : ثُمَّ لَمْ أَزَلْ أَرْمِیہِمْ حَتَّی أَلْقَوْا أَکْثَرَ مِنْ ثَلاَثِینَ رُمْحًا ، وَأَکْثَرَ مِنْ ثَلاَثِینَ بُرْدَۃً ، یَسْتَخْفُونَ مِنْہَا ، وَلاَ یُلْقُونَ مِنْ ذَلِکَ شَیْئًا إِلاَّ جَعَلْت عَلَیْہِ آرَامًا مِنَ الْحِجَارَۃِ ، وَجَمَعْتُہُ عَلَی طَرِیقِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، حَتَّی إِذَا امْتَدَّ الضُّحَی، أَتَاہُمْ عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِی، مُمِدًّا لَہُمْ، وَہُمْ فِی ثَنِیَّۃٍ ضَیِّقَۃٍ، ثُمَّ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَأَنَا فَوْقَہُمْ، قَالَ عُیَیْنَۃُ: مَا ہَذَا الَّذِی أَرَی؟ قَالُوا: لَقِینَا مِنْ ہَذَا الْبَرْحَ ، مَا فَارَقْنَا بِسَحَرٍ حَتَّی الآنَ ، وَأَخَذَ کُلَّ شَیْئٍ فِی أَیْدِینَا ، وَجَعَلَہُ وَرَائَ ظَہْرِہِ ، فَقَالَ عُیَیْنَۃُ : لَوْلاَ أَنَّ ہَذَا یَرَی أَنَّ وَرَائَہُ طَلَبًا لَقَدْ تَرَکَکُمْ ، قَالَ : لِیَقُمْ إِلَیْہِ نَفَرٌ مِنْکُمْ ، فَقَامَ إِلَیَّ نَفَرٌ مِنْہُمْ أَرْبَعَۃٌ ، فَصَعِدُوا فِی الْجَبَلِ، فَلَمَّا أَسْمَعْتُہُمُ الصَّوْتَ، قُلْتُ لَہُمْ: أَتَعْرِفُونِی؟ قَالُوا: وَمَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا ابْنُ الأَکْوَعِ، وَالَّذِی کَرَّمَ وَجْہَ مُحَمَّدٍ لاَ یَطْلُبُنِی رَجُلٌ مِنْکُمْ فَیُدْرِکُنِی ، وَلاَ أَطْلُبُہُ فَیَفُوتُنِی ، قَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ : إِنْ أَظُنُّ۔
قَالَ: فَمَا بَرِحْتُ مَقْعَدِی ذَاکَ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی فَوَارِسِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ، وَإِذَا أَوَّلُہُمُ الأَخْرَمُ الأَسَدِیُّ ، وَعَلَی أَثَرِہِ أَبُو قَتَادَۃَ فَارِسُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَعَلَی أَثَرِ أَبِی قَتَادَۃَ الْمِقْدَادُ الْکِنْدِیُّ ، قَالَ : فَوَلَّوُا الْمُشْرِکِینَ مُدْبِرِینَ ، وَأَنْزِلُ مِنَ الْجَبَلِ ، فَأَعْرِضُ لِلأَخْرَمِ ، فَآخُذُ عَنَانَ فَرَسِہِ ، قُلْتُ : یَا أَخَرَمُ ، أَنْذِرْ بِالْقَوْمِ ، یَعَنْی أُحَذِّرُہُمْ ، فَإِنِّی لاَ آمَنُ أَنْ یَقْطَعُوک ، فَاتَّئِدْ حَتَّی یَلْحَقَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ ، قَالَ : یَا سَلَمَۃُ ، إِنْ کُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ ، وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ ، فَلاَ تَحُل بَیْنِی وَبَیْنَ الشَّہَادَۃِ ، قَالَ : فَخَلَّیْتُ عَنَانَ فَرَسِہِ ، فَیَلْحَقُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُیَیْنَۃَ ، وَیَعْطِفُ عَلَیْہِ عَبْدُ الرَّحْمَان ، فَاخْتَلَفَا طَعَنْتَیْنِ ، فَعَقَرَ الأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَطَعَنَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَہُ ، وَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَی فَرَسِ الأَخْرَمِ۔
فَلَحِقَ أَبُو قَتَادَۃَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَاخْتَلَفَا طَعَنْتَیْنِ فَعَقَرَ بِأَبِی قَتَادَۃَ ، وَقَتَلَہُ أبُو قَتَادَۃَ ، وَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَۃَ عَلَی فَرَسِ الأَخْرَمِ۔
ثُمَّ إِنِّی خَرَجْتُ أَعْدُو فِی أَثَرِ الْقَوْمِ ، حَتَّی مَا أَرَی مِنْ غُبَارِ صَحَابَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا ، وَیَعْرِضُونَ قَبْلَ غَیْبُوبَۃِ الشَّمْسِ إِلَی شِعْبٍ فِیہِ مَائٌ ، یُقَالُ لَہُ : ذُو قَرَدٍ ، فَأَرَادُوا أَنْ یَشْرَبُوا مِنْہُ ، فَأَبْصَرُونِی أَعْدُو وَرَائَہُمْ ، فَعَطَفُوا عَنْہُ، وَشَدُّوا فِی الثَّنِیَّۃِ ، ثَنِیَّۃِ ذِی ثَبیرٍ، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَلْحَقُ بِہِمْ رَجُلاً فَأَرْمِیہِ، فَقُلْتُ : خُذْہَا :
وَأَنَا ابْنُ الأَکْوَعِ وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ
فَقَالَ : یَا ثَکِلَتْنِی أُمِّی ، أَکْوَعِی بُکْرَۃً ، قُلْتُ : نَعَمْ أَیْ عَدُوَّ نَفْسِہِ ، وَکَانَ الَّذِی رَمَیْتُہُ بُکْرَۃً فَأَتْبَعْتُہُ بِسَہْمٍ آخَرَ ، فَعَلَقَ فِیہِ سَہْمَانِ ، وَتَخَلَّفُوا فَرَسَیْنِ ، فَجِئْتُ بِہِمَا أَسُوقُہُمَا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَہُوَ عَلَی الْمَائِ الَّذِی حَلأَتْہُمْ عَنْہُ : ذِی قَرَدٍ۔
فَإِذَا نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی خَمْسِ مِئَۃٍ ، وَإِذَا بِلاَلٌ قَدْ نَحَرَ جَزُورًا مِمَّا خَلَّفْتُ ، فَہُوَ یَشْوِی لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ کَبِدِہَا وَسَنَامِہَا ، فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، خَلِّنِی ، فَأَنْتَخِبُ مِنْ أَصْحَابِکَ مِئَۃَ رَجُلٍ ، فَآخُذَ عَلَی الْکُفَّارِ بِالْعَشْوَۃِ ، فَلاَ یَبْقَی مِنْہُمْ مُخْبِرٌ إِلاَّ قَتَلْتُہُ ، قَالَ : أَکُنْتَ فَاعِلاً ذَاکَ یَا سَلَمَۃُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَالَّذِی أَکْرَمَ وَجْہَک ، فَضَحِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی رَأَیْتُ نَوَاجِذَہُ فِی ضَوْئِ النَّارِ۔
قَالَ: ثُمَّ قَالَ : إِنَّہُمْ یُقْرَوْنَ الآنَ بِأَرْضِ غَطَفَانَ ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ ، قَالَ : مَرُّوا عَلَی فُلاَنٍ الْغَطَفَانِی ، فَنَحَرَ لَہُمْ جَزُورًا ، فَلَمَّا أَخَذُوا یَکْشِطُونَ جِلْدَہَا ، رَأَوْا غَبَرَۃً فَتَرَکُوہَا وَخَرَجُوا ہُرَّابًا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: خَیْرُ فُرْسَانِنَا الْیَوْمَ أَبُو قَتَادَۃَ، وَخَیْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَۃُ، فَأَعْطَانِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَہْمَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ جَمِیعًا، ثُمَّ أَرْدَفَنِی وَرَائَہُ عَلَی الْعَضْبَائِ رَاجِعِینَ إِلَی الْمَدِینَۃِ۔
فَلَمَّا کَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہَا قَرِیبٌ مِنْ ضَحْوَۃٍ ، وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، کَانَ لاَ یُسْبَقُ ، فَجَعَلَ یُنَادِی : ہَلْ مِنْ مُسَابِقٍ ، أَلاَ رَجُلٌ یُسَابِقُ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، فَعَلَ ذَلِکَ مِرَارًا ، وَأَنَا وَرَائَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُرْدَفًا ، قُلْتُ لَہُ : أَمَا تُکْرِمُ کَرِیمًا ، وَلاَ تَہَابُ شَرِیفًا ؟ قَالَ : لاَ ، إِلاَّ رَسُولَ اللہِ ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی خَلِّنِی ، فَلأُسَابِقُ الرَّجُلَ ، قَالَ : إِنْ شِئْتَ ، قُلْتُ : اِذْہَبْ إِلَیْک ، فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِہِ ، وَثَنَیْت رِجْلِی فَطَفَرْت عَنِ النَّاقَۃِ ، ثُمَّ إِنِّی رَبَطْتُ عَلَیْہَا شَرَفًا ، أَوْ شَرَفَیْنِ ، یَعَنْی اسْتَبْقَیْت نَفْسِی ، ثُمَّ إِنِّی عَدَوْتُ حَتَّی أَلْحَقَہُ ، فَأَصُکَّ بَیْنَ کَتِفَیْہِ بِیَدَی ، فَقُلْتُ سَبَقْتُک وَاللہِ ، أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا ، قَالَ : فَضَحِکَ ، وَقَالَ : إِنْ أَظُنُّ ، حَتَّی قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ۔ (مسلم ۱۴۳۳۔ احمد ۵۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ ذی قرد کے بارے میں روایات
(٣٨١٥٨) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام ذی قرد میں ۔۔۔ بنو سلیم کے علاقہ میں ۔۔۔نماز خوف ادا فرمائی۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے لوگوں نے دو صفیں بنالیں۔ ایک صف نے آپ کے پیچھے (پہلے ایک رکعت) نماز پڑھی اور ایک صف دشمن کے مقابل کھڑی ہوئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس صف کو جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھی ایک رکعت نماز پڑھائی پھر یہ لوگ ان لوگوں کی صف کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ ان لوگوں کی صف کی جگہ چلے آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔
(۳۸۱۵۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ بْنِ صُخَیْرۃَ الْعَدَوِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلاَۃَ الْخَوْفِ بِذِی قَرَدٍ، أَرْضٌ مِنْ أَرْضِ بَنِی سُلَیْمٍ ، فَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَہُ صَفَّیْنِ : صَفٌّ خَلْفَہُ ، وَصَفٌّ مُوَازِی الْعَدُوَ ، فَصَلَّی بِالصَّفِّ الَّذِی یَلِیہِ رَکْعَۃً ، ثُمَّ نَکَصَ ہَؤُلاَئِ إِلَی مَصَافِّ ہَؤُلاَئِ ، وَہَؤُلاَئِ إِلَی مَصَافِّ ہَؤُلاَئِ ، فَصَلَّی بِہِمْ رَکْعَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ ذی قرد کے بارے میں روایات
(٣٨١٥٩) حضرت زید بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز خوف ادا فرمائی ۔۔۔ پھر اس کے بعد حضرت زید نے حضرت ابن عباس والی روایت بیان فرمائی۔
(۳۸۱۵۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنِ الرُّکَیْنِ الْفَزَارِیِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی صَلاَۃَ الْخَوْفِ ، فَذَکَرَ مِثْلَ حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک کے بارے میں احادیث
(٣٨١٦٠) حضرت عبد الرحمن بن کعب بن مالک، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کی عادت یہ تھی کہ) جب کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو کسی دوسرے کے ساتھ توریہ فرما لیتے حتی کہ غزوہ تبوک پیش آیا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبوک کا سفر سخت گرمی میں کیا اور اس سفر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دور جگہ جانا تھا۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو ان کے معاملہ (یعنی غزوہ) کے بارے میں وضاحت فرما دی اور انھیں اس کی خبر دے دی تاکہ لوگ دشمن کے سامان کی شایان شان تیاری کرلیں۔ اور جس طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ تھا وہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو بتادیا۔
(۳۸۱۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ غَزْوَۃً ، وَرَّی بِغَیْرِہَا حَتَّی کَانَ غَزْوَۃُ تَبُوکَ ، سَافَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَرٍّ شَدِیدٍ ، وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِیدًا ، فَجَلَّی لِلْمُسْلِمِینَ عَنْ أَمْرِہِمْ ، وَأَخْبَرَہُمْ بِذَلِکَ لِیَتَأَہَّبُوا أُہْبَۃَ عَدُوِّہِمْ ، وَأَخْبَرَہُمْ بِالْوَجْہِ الَّذِی یُرِیدُ۔ (ابوداؤد ۲۶۳۰۔ احمد ۳۸۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک کے بارے میں احادیث
(٣٨١٦١) حضرت ابو حمید ساعدی سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تبوک کے سال (غزوہ کے لئے) نکلے یہاں تک کہ جب ہم وادی قُریٰ میں پہنچے تو ایک عورت (کو ہم نے دیکھاجو) اپنے باغ میں کھڑی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا : ” (کھجوروں کا) اندازہ لگاؤ۔ “ راوی کہتے ہیں۔ لوگوں نے (کھجوروں کا) اندازہ لگایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی کھجوروں کا اندازہ لگایا اور دس وسق کا اندازہ ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت سے فرمایا : ” ان کھجوروں سے جتنی (زکوۃ) نکلتی ہے اس کا حساب کرلینا۔ میں ان شاء اللہ تمہارے پاس واپس آؤں گا۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وہاں سے) نکلے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبوک میں تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” آج کی رات تم پر شدید ہوا چلے گی۔ پس کوئی آدمی اس ہوا میں کھڑا نہ ہو۔ اور جس آدمی کے پاس اونٹ ہو وہ اس اونٹ کی رسی باندھ دے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوحمید بیان کرتے ہں ز۔ ہم نے اونٹوں کو باندھ لیا۔ پس جب رات ہوئی تو خوب تیز ہوا چلی ۔ اور اس ہوا میں ایک آدمی کھڑا ہوا تو ہوا نے اس کو طَیْ کے دو پہاڑوں میں دے مارا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں شاہ ایلہ حاضر ہوا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک سفید خچر ہدیہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایک چادر عطا فرمائی اور اس کو ان کے سمندر کے بارے میں تحریر لکھ دی۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھے اور ہم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ آگے بڑھے یہاں تک کہ ہم وادی قُریٰ میں پہنچے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے پوچھا۔ تمہارے باغ (کی زکوۃ کتنی) ہے ؟ عورت نے جواب دیا۔ آپ کے اندازہ کے مطابق دس وسق ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں تو جلدی چلوں گا۔ تم میں سے جو آدمی جلدی چلنا چاہے وہ بھی (میرے ساتھ) چلے “ راوی کہتے ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور ہم بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ نکلے یہاں تک کہ جب ہم مدینہ کے سامنے پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یہ پاکیزہ جگہ ہے “ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احدپہاڑ کو دیکھا تو فرمایا ” یہ ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ “
(۳۸۱۶۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیُّ ، عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیُّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوکَ ، حَتَّی جِئْنَا وَادِیَ الْقُرَی ، وَإِذَا امْرَأَۃٌ فِی حَدِیقَۃٍ لَہَا ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُخْرُصُوا ، قَالَ : فَخَرَصَ الْقَوْمُ، وَخَرَصَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَشَرَۃَ أَوْسُقٍ ، وَقَالَ لِلْمَرْأَۃِ : احْصِی مَا یَخْرُجُ مِنْہَا حَتَّی أَرْجِعَ إِلَیْک إِنْ شَائَ اللَّہُ۔
قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی قَدِمَ تَبُوکَ ، فَقَالَ : إِنَّہَا سَتَہُبُّ عَلَیْکُمُ اللَّیْلَۃَ رِیحٌ شَدِیدَۃٌ ، فَلاَ یَقُومَنَّ فِیہَا رَجُلٌ ، فَمَنْ کَانَ لَہُ بَعِیرٌ فَلْیُوثِقْ عِقَالہُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو حُمَیْدٍ : فَعَقَلْنَاہَا ، فَلَمَّا کَانَ مِنَ اللَّیْلِ ہَبَّتْ رِیحٌ شَدِیدَۃٌ ، فَقَامَ فِیہَا رَجُلٌ ، فَأَلْقَتْہُ فِی جَبَلَیْ طَیٍّ۔
ثُمَّ جَائَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَلِکُ أَیْلَۃَ ، فَأَہْدَی إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَغْلَۃً بَیْضَائَ، فَکَسَاہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بُرْدًا، وَکَتَبَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِہِمْ۔
قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ، وَأَقْبَلْنَا مَعَہُ حَتَّی جِئْنَا وَادِیَ الْقُرَی، فَقَالَ لِلْمَرْأَۃِ: کَمْ حَدِیقَتُک؟ قَالَتْ: عَشَرَۃُ أَوْسُقٍ، خَرْصُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنِّی مُتَعَجِّلٌ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یَتَعَجَّلَ فَلْیَفْعَلْ ، قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَہُ حَتَّی إِذَا أَوْفَی عَلَی الْمَدِینَۃِ ، قَالَ : ہَذِہِ طَابَۃُ ، فَلَمَّا رَأَی أُحُدًا ، قَالَ : ہَذَا جَبَلٌ ، یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ۔ (بخاری ۱۴۸۱۔ مسلم ۱۰۱۱)
قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی قَدِمَ تَبُوکَ ، فَقَالَ : إِنَّہَا سَتَہُبُّ عَلَیْکُمُ اللَّیْلَۃَ رِیحٌ شَدِیدَۃٌ ، فَلاَ یَقُومَنَّ فِیہَا رَجُلٌ ، فَمَنْ کَانَ لَہُ بَعِیرٌ فَلْیُوثِقْ عِقَالہُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو حُمَیْدٍ : فَعَقَلْنَاہَا ، فَلَمَّا کَانَ مِنَ اللَّیْلِ ہَبَّتْ رِیحٌ شَدِیدَۃٌ ، فَقَامَ فِیہَا رَجُلٌ ، فَأَلْقَتْہُ فِی جَبَلَیْ طَیٍّ۔
ثُمَّ جَائَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَلِکُ أَیْلَۃَ ، فَأَہْدَی إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَغْلَۃً بَیْضَائَ، فَکَسَاہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بُرْدًا، وَکَتَبَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِبَحْرِہِمْ۔
قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ، وَأَقْبَلْنَا مَعَہُ حَتَّی جِئْنَا وَادِیَ الْقُرَی، فَقَالَ لِلْمَرْأَۃِ: کَمْ حَدِیقَتُک؟ قَالَتْ: عَشَرَۃُ أَوْسُقٍ، خَرْصُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنِّی مُتَعَجِّلٌ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یَتَعَجَّلَ فَلْیَفْعَلْ ، قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَہُ حَتَّی إِذَا أَوْفَی عَلَی الْمَدِینَۃِ ، قَالَ : ہَذِہِ طَابَۃُ ، فَلَمَّا رَأَی أُحُدًا ، قَالَ : ہَذَا جَبَلٌ ، یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ۔ (بخاری ۱۴۸۱۔ مسلم ۱۰۱۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک کے بارے میں احادیث
(٣٨١٦٢) حضرت عبد الرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک، اپنے والد حضرت کعب بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بنو الاصفر کا ارادہ فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ لڑائی کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے سامنے ان کے معاملہ کو کھول کر بیان فرمایا۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت یہ تھی کہ جب بھی کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو کسی دوسرے سفر سے توریہ فرما لیتے ۔۔۔ تاآنکہ یہ غزوہ پیش آیا۔ اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شدید گرمی، دور کے سفر اور نئے دشمن سے سابقہ پیش آیا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو وہ مقصد کھول کر بیان کردیا جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں لے کر جا رہے تھے تاکہ مسلمان، دشمن کے شایانِ شان تیاری کرلیں۔
٢۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیاری فرمائی اور لوگوں نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تیاری کرلی۔ میں نے صبح کے وقت تیاری کرنا چاہی لیکن میں تیاری نہ کرسکا یہاں تک کہ لوگ (تیار ہو کر) فارغ ہوگئے اور کہا جانے لگا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح ہوتے ہی اپنے سفر پر روانہ ہوجائیں گے۔ میں نے (دل میں) کہا۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ایک دو دن میں تیاری کرلوں گا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پالوں گا۔ میرے پاس دو سواریاں تھیں۔ جبکہ میرے پاس اس سے پہلے کبھی دو سواریاں اکٹھی نہیں ہوئی تھیں۔ پس میں اپنی ذات کے اعتبار سے بھی قادر تھا اور اپنے زاد راہ کے حوالہ سے بھی قوی تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مسلسل دن گزرتے رہے اور میں کچھ بھی نہ کرسکا یہاں تک کہ لشکر کے لوگ تیزی سے سفر کرنے لگے۔
پھر مجھ پر ایک دن ایسا آیا کہ میں نے (پیچھے رہنے والوں میں) صرف ایسے آدمی کو دیکھا جس کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دے رکھا تھا۔ یا ایسے آدمی کو دیکھا جس کے بارے میں نفاق کا چرچا تھا۔ اس بات نے مجھے بہت غم گین کردیا۔
٣۔ اب میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واپس آجانے کے وقت کے لیے عذر تیار کرنا شروع کیا اور باتیں بنانے کی کوشش شروع کی۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسی تقدیر پیش آئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبوک کے مقام پر پہنچنے تک میری یاد ہی نہیں آئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام تبوک میں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے پوچھا۔ کعب بن مالک نے کیا کیا ؟ “ میری قوم کے آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا۔ اسے کچھ چیزوں نے مصروف رکھا۔ راوی کہتے ہیں۔ ایک دوسرا آدمی بولا اور اس نے کہا۔ خدا کی قسم ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم تو اچھی بات ہی کو جانتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔
٤۔ پھر جب کہا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس پہنچنے والے ہیں۔ تو مجھ سے ہر باطل اور جو کچھ میں نے جھوٹ، عذر گھڑے تھے وہ سب دور ہوگئے۔ مجھے معلوم ہوگیا کہ مجھے اس حالت میں صرف سچ ہی نجات دے سکتا ہے۔ چنانچہ میں نے سچ کو اکٹھا کیا۔ (جب) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مدینہ میں) تشریف لائے ۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے اور مسجد میں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت یہ تھی کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر سے واپسی فرماتے تو مسجد میں آتے اور وہاں دو رکعات ادا کرتے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اہل خانہ کے پاس تشریف لے جاتے۔ چنانچہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسجد میں بیٹھا ہوا پایا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف دیکھا تو مجھے بلایا اور فرمایا۔ اے کعب ! ادھر آؤ تمہیں کس چیز نے میرے ساتھ سے پیچھے رکھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ والے آدمی کی طرح مسکرائے۔ کعب کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ میں آپ کے ساتھ سے پیچھے رہنے کے وقت جس قدر وسعت اور قدرت میں تھا اتنا میں کبھی نہیں ہوا ۔ (اس وقت) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پیچھے رہ جانے والے لوگ آ کر قسمیں کھا رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی قسموں کا اعتبار کر کے ان کے لیے مغفرت طلب کر رہے تھے۔ اور ان کے خفیہ ارادوں کو اللہ کی طرف سپرد فرما رہے تھے۔ پس جب مں و نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سچ بات کہہ ڈالی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” رہا یہ آدمی ! تو اس نے سچ بولا ہے۔ پس تم کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرنا ہے وہ کر دے۔ “ چنانچہ میں (وہاں سے) اٹھ کھڑا ہوا۔
٥۔ بنو سلمہ کے کچھ لوگ میری جانب اٹھے اور کہنے لگے۔ خدا کی قسم ! تم نے کوئی (کام کی) بات نہیں کی۔ خدا کی قسم ! تمہارے کردہ گناہ کے لیے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا استغفار ہی کافی ہوجاتا۔ جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے استغفار کیا ہے۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف سے عذر قبول فرما لیا اور ان کے لیے مغفرت طلب کی۔ پس بنو سلمہ کے لوگ مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس) واپس جاتا ہوں اور اپنی تکذیب کرتا ہوں۔ پھر میں نے ان لوگوں سے پوچھا۔ کیا یہ بات کسی اور نے بھی کہی ہے یا جو عذر میں نے بیان کیا ہے ایسا کسی اور نے بھی کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ! میں نے پوچھا : کس نے ؟ انھوں نے کہا : ہلال بن امیہ واقفی اور ربیعہ بن مرارہ عمری نے۔ اور لوگوں نے مجھے ان دو نیک آدمیوں کا بتایا جو کہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے۔ کہ انھوں نے بھی تیری طرح کا عذر بیان کیا ہے۔ اور ان کو بھی وہی بات کہی گئی ہے جو تمہیں کہی گئی ہے۔
راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (لوگوں کو) ہمارے ساتھ بات کرنے سے منع کردیا ۔ چنانچہ ہم صبح کے وقت لوگوں میں گئے تو ہم سے کوئی شخص بات نہیں کرتا تھا۔ اور نہ ہی کوئی ہمیں سلام کرتا تھا۔ اور نہ ہمارے سلام کا جواب دیتا تھا۔ یہاں تک کہ جب چالیس راتیں پوری ہوگئیں تو ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کا پیغام) آیا کہ تم اپنی بیویوں سے جدا ہو جاؤ۔ چنانچہ حضرت ہلال بن امیہ کی جو بیوی تھی وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ ہلال بن امیہ ایک بوڑھے آدمی ہیں اور ان کی نگاہ بھی کمزور ہے، کیا آپ اس بات کو بھی ناپسند کرتے ہیں کہ میں انھیں کھانا بنادیا کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا : نہیں (اس کو تو ناپسند نہیں کرتا) لیکن وہ تمہارے قریب نہ آئے۔ ہلال کی بیوی کہنے لگیں۔ بخدا ! ان کو تو ایسی کسی چیز کی خواہش ہی نہیں ہے۔ خدا کی قسم ! جب سے ان کا یہ معاملہ ہوا ہے وہ تو اس دن سے آج تک مسلسل رو رہے ہیں۔
٧۔ حضرت کعب کہتے ہیں۔ میرے بعض گھر والوں نے مجھ سے کہا۔ تم بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی بیوی کے بارے میں اجازت طلب کرلو جیسا کہ ہلال بن امیہ کی بیوی نے اجازت طلب کرلی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اجازت دے دی ہے۔ کہ وہ ہلال کی خدمت کریں۔ کعب کہتے ہیں۔ میں نے کہا۔ خدا کی قسم ! میں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (اس بات کی) اجازت نہیں مانگوں گا ۔ اور اگر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (اس بات کی) اجازت مانگوں تو مجھے خبر نہیں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کیا جواب دیں گے۔ کیونکہ وہ تو بوڑھے ہیں اور میں ایک جوان آدمی ہوں ۔ چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہا۔ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا فیصلہ کرنا ہو وہ کردیں۔ اور ہم لوگوں کے درمیان اس حالت میں چلتے تھے کہ کوئی ہم سے کلام نہیں کرتا تھا اور نہ ہی ہمارے سلام کا جواب ہمیں دیتا تھا۔
٨۔ حضرت کعب کہتے ہیں : پس میں چلا یہاں تک کہ میں اپنے چچا زاد کے باغ کی دیوار کو پھلاند گیا اور میں نے سلام کیا لیکن انھوں نے سلام کے جواب میں اپنے ہونٹوں کو بھی حرکت نہ دی۔ میں نے (ان سے) کہا۔ میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہوں۔ لیکن انھوں نے مجھ سے کوئی بات بھی نہ کی۔ میں نے پھر دوبارہ یہ بات دہرائی لیکن انھوں نے میرے ساتھ بات نہیں کی۔ یہاں تک کہ جب تیسری یا چوتھی بار یہ بات میں نے کہی تو انھوں نے جواب میں کہا۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں۔
٩۔ پس میں (وہاں سے) نکلا اور میں بازار میں چلنے لگا تو لوگ میری طرف ہاتھ سے اشارہ کرنے لگے ۔ اور ایک شامی عیسائی عالم میرے بارے میں (لوگوں سے) سوال کررہا تھا۔ چنانچہ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا یہاں تک کہ وہ میرے پاس آیا اور اس نے مجھے شام میں رہنے والے میری قوم میں سے کسی کا خط دیا کہ : ہمیں وہ بات پہنچی ہے جو تیرے ساتھ تیرے ساتھی نے کی ہے۔ اور تم سے اس کی بےرخی کرنا بھی ہمیں پہنچا ہے۔ پس تم ہمارے پاس آجاؤ۔ کیونکہ اللہ نے تمہیں ذلت کی جگہ اور ضائع ہونے کی جگہ نہیں بنایا۔ ہم تمہارے ساتھ اپنے اموال میں ہمدردی کریں گے۔ حضرت کعب کہتے ہیں۔ میں نے کہا۔ اِنَّا للّٰہ۔ اہل کفر بھی مجھ میں طمع کرنے لگے ہیں۔ چنانچہ میں وہ خط لے کر تنور کی طرف گیا اور میں نے اس خط کو تنور میں پھینک دیا۔
١٠۔ خدا کی قسم ! میں اپنی اسی حالت میں تھا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ تحقیق زمین باوجود اپنی وسعت کے ہم پر تنگ ہوگئی اور ہمارے اپنے دل ہم پر تنگ ہوگئے۔ جس دن (لوگوں کو) ہم سے گفتگو کرنے سے منع کیا گیا تھا اس کے بعد سے پچاسویں صبح تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر توبہ (کی قبولیت کی خبر) نازل ہوئی چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب فجر کی نماز پڑھائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان فرمایا۔ اس پر لوگ ہمیں بشارتیں دینے لگے۔ اور ایک آدمی نے میری طرف گھوڑا دوڑایا اور بنو اسلم میں سے ایک آدمی دوڑ کر آیا اور وہ پہاڑ پر کھڑا ہوا اور آواز دی اور آواز گھوڑے سے بھی زیادہ تیز رفتار تھی۔ پس اس نے آواز دی۔ اے کعب بن مالک ! تمہیں خوشخبری ہو ! میں (یہ سن کر) سجدہ میں گرگیا اور مجھے پتہ چل گیا کہ پریشانی دور ہوگئی ہے۔ پھر جب وہ آدمی میرے پاس آیا جس کی آواز میں نے سُنی تھی تو میں نے اس کو خوشخبری سنانے کے عوض دونوں کپڑے اتار کر دے دیئے۔ اور خدا کی قسم ! میں اس دن ان دونوں کپڑوں کے علاوہ کسی شئی کا مالک نہیں تھا۔
١١۔ میں نے دو کپڑے مستعار لیے اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل نکلا ۔ مجھے لوگ فوج در فوج ملے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کی قبولیت پر مبارک بار دیتے تھے۔ یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو حضرت طلحہ بن عبید اللہ میری طرف دوڑتے ہوئے آئے اور انھوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے کوئی آدمی ان کے سوا میری طرف کھڑا نہیں ہوا۔ اسی لیے حضرت کعب ، حضرت طلحہ کو نہیں بھولتے تھے۔ پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کھڑا ہوا گویا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک چاند کا ٹکڑا تھا ۔۔۔ اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشی ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک اسی طرح روشن ہوجاتا تھا ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے آواز دی ” اے کعب ! ادھرآؤ۔ جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنا ہے۔ اس وقت سے اب تک کے دنوں میں سے بہترین دن کی تمہیں بشارت ہو “ حضرت کعب کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ آپ کی طرف سے یا اللہ کی طرف سے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے۔ بیشک تم نے اللہ کے ساتھ سچ بولا چنانچہ اللہ نے تمہاری تصدیق کی۔
١٢۔ حضرت کعب فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ آج میری توبہ میں یہ چیز بھی ہے کہ میں اپنے مال میں سے اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اپنے مال میں سے بعض کو روک لو “ میں نے عرض کیا۔ میں نے خیبر میں اپنا حصہ روک لیا ہے۔ حضرت کعب کہتے ہیں۔ خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کو سچی بات کہنے میں اس طرح نہیں آزمایا جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے آزمایا۔
٢۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیاری فرمائی اور لوگوں نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تیاری کرلی۔ میں نے صبح کے وقت تیاری کرنا چاہی لیکن میں تیاری نہ کرسکا یہاں تک کہ لوگ (تیار ہو کر) فارغ ہوگئے اور کہا جانے لگا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح ہوتے ہی اپنے سفر پر روانہ ہوجائیں گے۔ میں نے (دل میں) کہا۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ایک دو دن میں تیاری کرلوں گا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پالوں گا۔ میرے پاس دو سواریاں تھیں۔ جبکہ میرے پاس اس سے پہلے کبھی دو سواریاں اکٹھی نہیں ہوئی تھیں۔ پس میں اپنی ذات کے اعتبار سے بھی قادر تھا اور اپنے زاد راہ کے حوالہ سے بھی قوی تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مسلسل دن گزرتے رہے اور میں کچھ بھی نہ کرسکا یہاں تک کہ لشکر کے لوگ تیزی سے سفر کرنے لگے۔
پھر مجھ پر ایک دن ایسا آیا کہ میں نے (پیچھے رہنے والوں میں) صرف ایسے آدمی کو دیکھا جس کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دے رکھا تھا۔ یا ایسے آدمی کو دیکھا جس کے بارے میں نفاق کا چرچا تھا۔ اس بات نے مجھے بہت غم گین کردیا۔
٣۔ اب میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واپس آجانے کے وقت کے لیے عذر تیار کرنا شروع کیا اور باتیں بنانے کی کوشش شروع کی۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسی تقدیر پیش آئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبوک کے مقام پر پہنچنے تک میری یاد ہی نہیں آئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام تبوک میں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے پوچھا۔ کعب بن مالک نے کیا کیا ؟ “ میری قوم کے آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا۔ اسے کچھ چیزوں نے مصروف رکھا۔ راوی کہتے ہیں۔ ایک دوسرا آدمی بولا اور اس نے کہا۔ خدا کی قسم ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم تو اچھی بات ہی کو جانتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے۔
٤۔ پھر جب کہا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس پہنچنے والے ہیں۔ تو مجھ سے ہر باطل اور جو کچھ میں نے جھوٹ، عذر گھڑے تھے وہ سب دور ہوگئے۔ مجھے معلوم ہوگیا کہ مجھے اس حالت میں صرف سچ ہی نجات دے سکتا ہے۔ چنانچہ میں نے سچ کو اکٹھا کیا۔ (جب) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مدینہ میں) تشریف لائے ۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے اور مسجد میں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت یہ تھی کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر سے واپسی فرماتے تو مسجد میں آتے اور وہاں دو رکعات ادا کرتے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اہل خانہ کے پاس تشریف لے جاتے۔ چنانچہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسجد میں بیٹھا ہوا پایا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف دیکھا تو مجھے بلایا اور فرمایا۔ اے کعب ! ادھر آؤ تمہیں کس چیز نے میرے ساتھ سے پیچھے رکھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ والے آدمی کی طرح مسکرائے۔ کعب کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ میں آپ کے ساتھ سے پیچھے رہنے کے وقت جس قدر وسعت اور قدرت میں تھا اتنا میں کبھی نہیں ہوا ۔ (اس وقت) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پیچھے رہ جانے والے لوگ آ کر قسمیں کھا رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی قسموں کا اعتبار کر کے ان کے لیے مغفرت طلب کر رہے تھے۔ اور ان کے خفیہ ارادوں کو اللہ کی طرف سپرد فرما رہے تھے۔ پس جب مں و نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سچ بات کہہ ڈالی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” رہا یہ آدمی ! تو اس نے سچ بولا ہے۔ پس تم کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرنا ہے وہ کر دے۔ “ چنانچہ میں (وہاں سے) اٹھ کھڑا ہوا۔
٥۔ بنو سلمہ کے کچھ لوگ میری جانب اٹھے اور کہنے لگے۔ خدا کی قسم ! تم نے کوئی (کام کی) بات نہیں کی۔ خدا کی قسم ! تمہارے کردہ گناہ کے لیے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا استغفار ہی کافی ہوجاتا۔ جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے استغفار کیا ہے۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف سے عذر قبول فرما لیا اور ان کے لیے مغفرت طلب کی۔ پس بنو سلمہ کے لوگ مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس) واپس جاتا ہوں اور اپنی تکذیب کرتا ہوں۔ پھر میں نے ان لوگوں سے پوچھا۔ کیا یہ بات کسی اور نے بھی کہی ہے یا جو عذر میں نے بیان کیا ہے ایسا کسی اور نے بھی کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ! میں نے پوچھا : کس نے ؟ انھوں نے کہا : ہلال بن امیہ واقفی اور ربیعہ بن مرارہ عمری نے۔ اور لوگوں نے مجھے ان دو نیک آدمیوں کا بتایا جو کہ غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے۔ کہ انھوں نے بھی تیری طرح کا عذر بیان کیا ہے۔ اور ان کو بھی وہی بات کہی گئی ہے جو تمہیں کہی گئی ہے۔
راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (لوگوں کو) ہمارے ساتھ بات کرنے سے منع کردیا ۔ چنانچہ ہم صبح کے وقت لوگوں میں گئے تو ہم سے کوئی شخص بات نہیں کرتا تھا۔ اور نہ ہی کوئی ہمیں سلام کرتا تھا۔ اور نہ ہمارے سلام کا جواب دیتا تھا۔ یہاں تک کہ جب چالیس راتیں پوری ہوگئیں تو ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کا پیغام) آیا کہ تم اپنی بیویوں سے جدا ہو جاؤ۔ چنانچہ حضرت ہلال بن امیہ کی جو بیوی تھی وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ ہلال بن امیہ ایک بوڑھے آدمی ہیں اور ان کی نگاہ بھی کمزور ہے، کیا آپ اس بات کو بھی ناپسند کرتے ہیں کہ میں انھیں کھانا بنادیا کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں فرمایا : نہیں (اس کو تو ناپسند نہیں کرتا) لیکن وہ تمہارے قریب نہ آئے۔ ہلال کی بیوی کہنے لگیں۔ بخدا ! ان کو تو ایسی کسی چیز کی خواہش ہی نہیں ہے۔ خدا کی قسم ! جب سے ان کا یہ معاملہ ہوا ہے وہ تو اس دن سے آج تک مسلسل رو رہے ہیں۔
٧۔ حضرت کعب کہتے ہیں۔ میرے بعض گھر والوں نے مجھ سے کہا۔ تم بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی بیوی کے بارے میں اجازت طلب کرلو جیسا کہ ہلال بن امیہ کی بیوی نے اجازت طلب کرلی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اجازت دے دی ہے۔ کہ وہ ہلال کی خدمت کریں۔ کعب کہتے ہیں۔ میں نے کہا۔ خدا کی قسم ! میں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (اس بات کی) اجازت نہیں مانگوں گا ۔ اور اگر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (اس بات کی) اجازت مانگوں تو مجھے خبر نہیں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کیا جواب دیں گے۔ کیونکہ وہ تو بوڑھے ہیں اور میں ایک جوان آدمی ہوں ۔ چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہا۔ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا فیصلہ کرنا ہو وہ کردیں۔ اور ہم لوگوں کے درمیان اس حالت میں چلتے تھے کہ کوئی ہم سے کلام نہیں کرتا تھا اور نہ ہی ہمارے سلام کا جواب ہمیں دیتا تھا۔
٨۔ حضرت کعب کہتے ہیں : پس میں چلا یہاں تک کہ میں اپنے چچا زاد کے باغ کی دیوار کو پھلاند گیا اور میں نے سلام کیا لیکن انھوں نے سلام کے جواب میں اپنے ہونٹوں کو بھی حرکت نہ دی۔ میں نے (ان سے) کہا۔ میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہوں۔ لیکن انھوں نے مجھ سے کوئی بات بھی نہ کی۔ میں نے پھر دوبارہ یہ بات دہرائی لیکن انھوں نے میرے ساتھ بات نہیں کی۔ یہاں تک کہ جب تیسری یا چوتھی بار یہ بات میں نے کہی تو انھوں نے جواب میں کہا۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ جانتے ہیں۔
٩۔ پس میں (وہاں سے) نکلا اور میں بازار میں چلنے لگا تو لوگ میری طرف ہاتھ سے اشارہ کرنے لگے ۔ اور ایک شامی عیسائی عالم میرے بارے میں (لوگوں سے) سوال کررہا تھا۔ چنانچہ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا یہاں تک کہ وہ میرے پاس آیا اور اس نے مجھے شام میں رہنے والے میری قوم میں سے کسی کا خط دیا کہ : ہمیں وہ بات پہنچی ہے جو تیرے ساتھ تیرے ساتھی نے کی ہے۔ اور تم سے اس کی بےرخی کرنا بھی ہمیں پہنچا ہے۔ پس تم ہمارے پاس آجاؤ۔ کیونکہ اللہ نے تمہیں ذلت کی جگہ اور ضائع ہونے کی جگہ نہیں بنایا۔ ہم تمہارے ساتھ اپنے اموال میں ہمدردی کریں گے۔ حضرت کعب کہتے ہیں۔ میں نے کہا۔ اِنَّا للّٰہ۔ اہل کفر بھی مجھ میں طمع کرنے لگے ہیں۔ چنانچہ میں وہ خط لے کر تنور کی طرف گیا اور میں نے اس خط کو تنور میں پھینک دیا۔
١٠۔ خدا کی قسم ! میں اپنی اسی حالت میں تھا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ تحقیق زمین باوجود اپنی وسعت کے ہم پر تنگ ہوگئی اور ہمارے اپنے دل ہم پر تنگ ہوگئے۔ جس دن (لوگوں کو) ہم سے گفتگو کرنے سے منع کیا گیا تھا اس کے بعد سے پچاسویں صبح تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر توبہ (کی قبولیت کی خبر) نازل ہوئی چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب فجر کی نماز پڑھائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان فرمایا۔ اس پر لوگ ہمیں بشارتیں دینے لگے۔ اور ایک آدمی نے میری طرف گھوڑا دوڑایا اور بنو اسلم میں سے ایک آدمی دوڑ کر آیا اور وہ پہاڑ پر کھڑا ہوا اور آواز دی اور آواز گھوڑے سے بھی زیادہ تیز رفتار تھی۔ پس اس نے آواز دی۔ اے کعب بن مالک ! تمہیں خوشخبری ہو ! میں (یہ سن کر) سجدہ میں گرگیا اور مجھے پتہ چل گیا کہ پریشانی دور ہوگئی ہے۔ پھر جب وہ آدمی میرے پاس آیا جس کی آواز میں نے سُنی تھی تو میں نے اس کو خوشخبری سنانے کے عوض دونوں کپڑے اتار کر دے دیئے۔ اور خدا کی قسم ! میں اس دن ان دونوں کپڑوں کے علاوہ کسی شئی کا مالک نہیں تھا۔
١١۔ میں نے دو کپڑے مستعار لیے اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل نکلا ۔ مجھے لوگ فوج در فوج ملے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کی قبولیت پر مبارک بار دیتے تھے۔ یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو حضرت طلحہ بن عبید اللہ میری طرف دوڑتے ہوئے آئے اور انھوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے کوئی آدمی ان کے سوا میری طرف کھڑا نہیں ہوا۔ اسی لیے حضرت کعب ، حضرت طلحہ کو نہیں بھولتے تھے۔ پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کھڑا ہوا گویا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک چاند کا ٹکڑا تھا ۔۔۔ اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشی ہوتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک اسی طرح روشن ہوجاتا تھا ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے آواز دی ” اے کعب ! ادھرآؤ۔ جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنا ہے۔ اس وقت سے اب تک کے دنوں میں سے بہترین دن کی تمہیں بشارت ہو “ حضرت کعب کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ آپ کی طرف سے یا اللہ کی طرف سے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے۔ بیشک تم نے اللہ کے ساتھ سچ بولا چنانچہ اللہ نے تمہاری تصدیق کی۔
١٢۔ حضرت کعب فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ آج میری توبہ میں یہ چیز بھی ہے کہ میں اپنے مال میں سے اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اپنے مال میں سے بعض کو روک لو “ میں نے عرض کیا۔ میں نے خیبر میں اپنا حصہ روک لیا ہے۔ حضرت کعب کہتے ہیں۔ خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کو سچی بات کہنے میں اس طرح نہیں آزمایا جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے آزمایا۔
(۳۸۱۶۲) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الأَنْصَارِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنْ أَبِیہِ کَعْبٍ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا ہَمَّ بِبَنِی الأَصْفَرِ أَنْ یَغْزُوَہُمْ ، جَلَّی لِلنَّاسِ أَمْرَہُمْ ، وَکَانَ قَلَّمَا أَرَادَ غَزْوَۃً إِلاَّ وَرَّی عنہا بِغَیْرِہَا ، حَتَّی کَانَتَ تِلْکَ الْغَزْوَۃُ ، فَاسْتَقْبَلَ حَرًّا شَدِیدًا ، وَسَفَرًا بَعِیدًا ، وَعَدُوًّا جَدِیدًا ، فَکَشَفَ لِلنَّاسِ الْوَجْہَ الَّذِی خَرَجَ بِہِمْ إِلَیْہِ ، لِیَتَأَہَّبُوا أُہْبَۃَ عَدُوِّہِمْ۔
فَتَجَہَّزَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَتَجَہَّزَ النَّاسُ مَعَہُ ، وَطَفِقْتُ أَغْدُو لأَتَجَہَّزَ ، فَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا ، حَتَّی فَرَغَ النَّاسُ ، وَقِیلَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَادٍ وَخَارِجٌ إِلَی وُجْہَۃٍ ، فَقُلْتُ : أَتَجَہَّزُ بَعْدَہُ بِیَوْمٍ ، أَوْ یَوْمَیْنِ ، ثُمَّ أُدْرِکُہُمْ ، وَعَنْدِی رَاحِلَتَانِ ، مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِی رَاحِلَتَانِ قَطُّ قَبْلَہُمَا ، فَأَنَا قَادِرٌ فِی نَفْسِی ، قَوِیٌّ بِعُدَّتِی ، فَمَا زِلْتُ أَغْدُو بَعْدَہُ وَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا ، حَتَّی أَمْعَنَ الْقَوْمُ وَأَسْرَعُوا ، وَطَفِقْتُ أَغْدُو لِلْحَدِیثِ ، وَیَشْغَلَنِی الرَّحَّالُ ، فَأَجْمَعْتُ الْقُعُودَ حَتَّی سَبَقَنِی الْقَوْمُ ، وَطَفِقْتُ أَغْدُو فَلاَ أَرَی إِلاَّ رَجُلاً مِمَّنْ عَذَرَ اللَّہُ ، أَوْ رَجُلاً مَغْمُوصًا عَلَیْہِ فِی النِّفَاقِ ، فَیُحْزِنُنِی ذَلِکَ۔
فَطَفِقْتُ أَعُدُّ الْعُذْرَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا جَائَ ، وَأُہَیِّئُ الْکَلاَمُ ، وَقُدِّرَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لاَ یَذْکُرَنِی حَتَّی نَزَلَ تَبُوکَ ، فَقَالَ فِی النَّاسِ بِتَبُوکَ وَہُوَ جَالِسٌ : مَا فَعَلَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ ؟ فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِی ، فَقَالَ : شَغَلَہُ بُرْدَاہُ ، وَالنَّظَرُ فِی عِطْفَیْہِ ، قَالَ : فَتَکَلَّمَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : وَاللہِ یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنْ عَلِمْنَا إِلاَّ خَیْرًا ، فَصَمَتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قِیلَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا ، زَاحَ عَنِّی الْبَاطِلُ ، وَمَا کُنْتُ أَجْمَعُ مِنَ الْکَذِبِ وَالْعُذْرِ ، وَعَرَفْتُ أَنَّہُ لَنْ یُنْجِیَنِی مِنْہُ إِلاَّ الصِّدْقُ ، فَأَجْمَعْتُ صِدْقَہُ ، وَصَبَّحَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ فَقَدِمَ ، فَغَدَوْتُ إِلَیْہِ ، فَإِذَا ہُوَ فِی النَّاسِ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ ، وَکَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَکَعَ فِیہِ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَی أَہْلِہِ ، فَوَجَدْتُہُ جَالِسًا فِی الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَیَّ دَعَانِی ، فَقَالَ : ہَلُمَّ یَا کَعْبُ ، مَا خَلَّفَک عَنِّی ؟ وَتَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لاَ عُذْرَ لِی ، مَا کُنْت قَطُّ أَقْوَی ، وَلاَ أَیْسَرَ مِنِّی حِینَ تَخَلَّفْتُ عَنْک ، وَقَدْ جَائَہُ الْمُتَخَلِّفُونَ یَحْلِفُونَ ، فَیَقْبَلُ مِنْہُمْ ، وَیَسْتَغْفِرُ لَہُمْ ، وَیَکِلُ سَرَائِرَہُمْ فِی ذَلِکَ إِلَی اللہِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَمَّا صَدَقْتُہُ ، قَالَ : أَمَّا ہَذَا فَقَدْ صَدَقَ ، فَقُمْ حَتَّی یَقْضِیَ اللَّہُ فِیک مَا ہُوَ قَاضٍ ، فَقُمْتُ۔
فَقَامَ إِلَیَّ رِجَالٌ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ ، فَقَالُوا : وَاللہِ مَا صَنَعْتَ شَیْئًا ، وَاللہِ إِنْ کَانَ لَکَافِیک مِنْ ذَنْبِکَ الَّذِی أَذْنَبْت اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَک ، کَمَا صَنَعَ ذَلِکَ لِغَیْرِکَ ، فَقَدْ قَبِلَ مِنْہُمْ عُذْرَہُمْ ، وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ ، فَمَا زَالُوا یَلُومُونَنِی حَتَّی ہَمَمْتُ أَنْ أَرْجِعَ ، فَأُکَذِّبَ نَفْسِی ، ثُمَّ قُلْتُ لَہُمْ : ہَلْ قَالَ ہَذِہِ الْمَقَالَۃَ أَحَدٌ ، أَوِ اعْتَذَرَ بِمِثْلِ مَا اعْتَذَرْت بِہِ ؟ قَالَوا : نَعَمْ ، قُلْتُ : مَنْ ؟ قَالَوا : ہِلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ الْوَاقِفِیُّ ، وَرَبِیعَۃُ بْنُ مَرَارَۃَ الْعَامِرِی ، وَذَکَرُوا لِی رَجُلَیْنِ صَالِحَیْنِ قَدْ شَہِدَا بَدْرًا ، قَدِ اعْتَذَرَا بِمِثْلِ الَّذِی اعْتَذَرْت بِہِ ، وَقِیلَ لَہُمَا مِثْلُ الَّذِی قِیلَ لَکَ۔
قَالَ : وَنَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ کَلاَمُنَا ، فَطَفِقْنَا نَغْدُو فِی النَّاسِ ، لاَ یُکَلِّمُنَا أَحَدٌ ، وَلاَ یُسَلِّمُ عَلَیْنَا أَحَدٌ ، وَلاَ یَرُدُّ عَلَیْنَا سَلاَمًا ، حَتَّی إِذَا وفََتْ أَرْبَعُونَ لَیْلَۃً ، جَائَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنِ اعْتَزِلُوا نِسَائَکُمْ ، فَأَمَّا ہِلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ ، فَجَائَتِ امْرَأَتُہُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَہُ : إِنَّہُ شَیْخٌ قَدْ ضَعُفَ بَصَرُہُ ، فَہَلْ تَکْرَہُ أَنْ أَصْنَعَ لَہُ طَعَامَہُ ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَکِنْ لاَ یَقْرَبَنَّکِ ، قَالَتْ: إِنَّہُ وَاللہِ مَا بِہِ حَرَکَۃٌ إِلَی شَیْئٍ ، وَاللہِ مَا زَالَ یَبْکِی مُنْذُ کَانَ مِنْ أَمْرِہِ مَا کَانَ إِلَی یَوْمِہِ ہَذَا ، قَالَ : فَقَالَ لِی بَعْضُ أَہْلِی : لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی امْرَأَتِکَ ، کَمَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَۃُ ہِلاَلِ بْنِ أُمَیَّۃَ ، فَقَدْ أَذِنَ لَہَا أَنْ تَخْدِمَہُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللہِ ، لاَ أَسْتَأْذِنُہُ فِیہَا ، وَمَا أَدْرِی مَا یَقُولُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنِ اسْتَأْذَنْتُہُ ، وَہُوَ شَیْخٌ کَبِیرٌ ، وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ ، فَقُلْتُ لامْرَأَتِی : اِلْحَقِی بِأَہْلِکِ ، حَتَّی یَقْضِیَ اللَّہُ مَا ہُوَ قَاضٍ ، وَطَفِقْنَا نَمْشِی فِی النَّاسِ ، وَلاَ یُکَلِّمُنَا أَحَدٌ ، وَلاَ یَرُدُّ عَلَیْنَا سَلاَمًا۔
قَالَ: فَأَقْبَلْتُ ، حَتَّی تَسَوَّرْتُ جِدَارًا لابْنِ عَمٍّ لِی فِی حَائِطِہِ ، فَسَلَّمْتُ ، فَمَا حَرَّک شَفَتَیْہِ یَرُدُّ عَلَیَّ السَّلاَمَ، فَقُلْتُ : أُنْشِدُک بِاللہِ ، أَتَعْلَمُ أَنِّی أُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ، فَمَا کَلَّمَنِی کَلِمَۃً ، ثُمَّ عُدْتُ فَلَمْ یُکَلِّمْنِی ، حَتَّی إِذَا کَانَ فِی الثَّالِثَۃِ ، أَوِ الرَّابِعَۃِ ، قَالَ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔
فَخَرَجْت ، فَإِنِّی لأَمْشِی فِی السُّوقِ إِذِ النَّاسُ یُشِیرُونَ إِلَیَّ بِأَیْدِیہِمْ ، وَإِذَا نَبَطِیٌّ مِنْ نَبَطِ الشَّامِ یَسْأَلُ عَنِّی، فَطَفِقُوا یُشِیرُونَ لَہُ إِلَیَّ ، حَتَّی جَائَنِی ، فَدَفَعَ إِلَیَّ کِتَابًا مِنْ بَعْضِ قَوْمِی بِالشَّامِ : إِنَّہُ قَدْ بَلَغَنَا مَا صَنَعَ بِکَ صَاحِبُک ، وَجَفْوَتُہُ عَنْک ، فَالْحَقْ بِنَا ، فَإِنَّ اللَّہَ لَمْ یَجْعَلْک بِدَارِ ہَوَانٍ ، وَلاَ دَارِ مَضْیَعَۃٍ ، نُوَاسِکَ فِی أَمْوَالِنَا ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّا لِلَّہِ ، قَدْ طَمِعَ فِیَّ أَہْلُ الْکُفْرِ ، فَیَمَّمْتُ بِہِ تَنُّورًا ، فَسَجَرْتُہُ بِہِ۔
فَوَاللہِ إِنِّی لَعَلَی تِلْکَ الْحَالِ الَّتِی قَدْ ذَکَرَ اللَّہُ ، قَدْ ضَاقَتْ عَلَیْنَا الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ، وَضَاقَتْ عَلَیْنَا أَنْفُسُنَا ، صَبَاحِیہُ خَمْسِینَ لَیْلَۃً مُذْ نُہِیَ عَنْ کَلاَمِنَا ، أُنْزِلَتِ التَّوْبَۃُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ آذَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَۃِ اللہِ عَلَیْنَا حِینَ صَلَّی الْفَجْرَ ، فَذَہَبَ ألنَّاسُ یُبَشِّرُونَنَا ، وَرَکَضَ رَجُلٌ إِلَیَّ فَرَسًا ، وَسَعَی سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ ، فَأَوْفَی عَلَی الْجَبَلِ ، وَکَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنَ الْفَرَسِ ، فَنَادَی : یَا کَعْبَ بْنَ مَالِکَ ، أَبْشِرْ ، فَخَرَرْت سَاجِدًا ، وَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ جَائَ الْفَرَجُ ، فَلَمَّا جَائَنِی الَّذِی سَمِعْت صَوْتَہُ ، خَفَفْتُ لَہُ ثَوْبَیْنِ بِبُشْرَاہُ ، وَوَاللہِ مَا أَمْلِکُ یَوْمَئِذٍ ثَوْبَیْنِ غَیْرَہُمَا۔
وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَیْنِ ، فَخَرَجْتُ قِبَلَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَقِیَنِی النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا ، یُہَنِّئُونَنِی بِتَوْبَۃِ اللہِ عَلَیَّ ، حَتَّی دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَقَامَ إِلَیَّ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ یُہَرْوِلُ ، حَتَّی صَافَحَنِی وَہَنَّأَنِی ، وَمَا قَامَ إِلَیَّ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ غَیْرُہُ ، فَکَانَ کَعْبٌ لاَ یَنْسَاہَا لِطَلْحَۃَ ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّی وَقَفْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَأَنَّ وَجْہَہُ قِطْعَۃُ قَمَرٍ ، کَانَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْہُہُ کَذَلِکَ ، فَنَادَانِی : ہَلُمَّ یَا کَعْبُ، أَبْشِرْ بِخَیْرِ یَوْمٍ مَرَّ عَلَیْک مُنْذُ وَلَدَتْک أُمُّک ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَمِنْ عِنْدِ اللہِ ، أَمْ مِنْ عِنْدِکَ ؟ قَالَ : لاَ ، بَلْ مِنْ عِنْدِ اللہِ ، إِنَّکُمْ صَدَقْتُمُ اللَّہَ فَصَدَّقَکُمْ۔
قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ مِنْ تَوْبَتِی الْیَوْمَ أَنْ أُخْرِجَ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمْسِکْ عَلَیْک بَعْضَ مَالِکَ ، قُلْتُ : أُمْسِکُ سَہْمِی بِخَیْبَرَ ، قَالَ کَعْبٌ : فَوَاللہِ مَا أَبْلَی اللَّہُ رَجُلاً فِی صِدْقِ الْحَدِیثِ مَا أَبْلاَنِی۔ (بخاری ۴۴۱۸۔ مسلم ۲۱۲۰)
فَتَجَہَّزَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَتَجَہَّزَ النَّاسُ مَعَہُ ، وَطَفِقْتُ أَغْدُو لأَتَجَہَّزَ ، فَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا ، حَتَّی فَرَغَ النَّاسُ ، وَقِیلَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَادٍ وَخَارِجٌ إِلَی وُجْہَۃٍ ، فَقُلْتُ : أَتَجَہَّزُ بَعْدَہُ بِیَوْمٍ ، أَوْ یَوْمَیْنِ ، ثُمَّ أُدْرِکُہُمْ ، وَعَنْدِی رَاحِلَتَانِ ، مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِی رَاحِلَتَانِ قَطُّ قَبْلَہُمَا ، فَأَنَا قَادِرٌ فِی نَفْسِی ، قَوِیٌّ بِعُدَّتِی ، فَمَا زِلْتُ أَغْدُو بَعْدَہُ وَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَیْئًا ، حَتَّی أَمْعَنَ الْقَوْمُ وَأَسْرَعُوا ، وَطَفِقْتُ أَغْدُو لِلْحَدِیثِ ، وَیَشْغَلَنِی الرَّحَّالُ ، فَأَجْمَعْتُ الْقُعُودَ حَتَّی سَبَقَنِی الْقَوْمُ ، وَطَفِقْتُ أَغْدُو فَلاَ أَرَی إِلاَّ رَجُلاً مِمَّنْ عَذَرَ اللَّہُ ، أَوْ رَجُلاً مَغْمُوصًا عَلَیْہِ فِی النِّفَاقِ ، فَیُحْزِنُنِی ذَلِکَ۔
فَطَفِقْتُ أَعُدُّ الْعُذْرَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا جَائَ ، وَأُہَیِّئُ الْکَلاَمُ ، وَقُدِّرَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لاَ یَذْکُرَنِی حَتَّی نَزَلَ تَبُوکَ ، فَقَالَ فِی النَّاسِ بِتَبُوکَ وَہُوَ جَالِسٌ : مَا فَعَلَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ ؟ فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِی ، فَقَالَ : شَغَلَہُ بُرْدَاہُ ، وَالنَّظَرُ فِی عِطْفَیْہِ ، قَالَ : فَتَکَلَّمَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : وَاللہِ یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنْ عَلِمْنَا إِلاَّ خَیْرًا ، فَصَمَتَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قِیلَ : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا ، زَاحَ عَنِّی الْبَاطِلُ ، وَمَا کُنْتُ أَجْمَعُ مِنَ الْکَذِبِ وَالْعُذْرِ ، وَعَرَفْتُ أَنَّہُ لَنْ یُنْجِیَنِی مِنْہُ إِلاَّ الصِّدْقُ ، فَأَجْمَعْتُ صِدْقَہُ ، وَصَبَّحَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ فَقَدِمَ ، فَغَدَوْتُ إِلَیْہِ ، فَإِذَا ہُوَ فِی النَّاسِ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ ، وَکَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَکَعَ فِیہِ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَی أَہْلِہِ ، فَوَجَدْتُہُ جَالِسًا فِی الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَیَّ دَعَانِی ، فَقَالَ : ہَلُمَّ یَا کَعْبُ ، مَا خَلَّفَک عَنِّی ؟ وَتَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لاَ عُذْرَ لِی ، مَا کُنْت قَطُّ أَقْوَی ، وَلاَ أَیْسَرَ مِنِّی حِینَ تَخَلَّفْتُ عَنْک ، وَقَدْ جَائَہُ الْمُتَخَلِّفُونَ یَحْلِفُونَ ، فَیَقْبَلُ مِنْہُمْ ، وَیَسْتَغْفِرُ لَہُمْ ، وَیَکِلُ سَرَائِرَہُمْ فِی ذَلِکَ إِلَی اللہِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَمَّا صَدَقْتُہُ ، قَالَ : أَمَّا ہَذَا فَقَدْ صَدَقَ ، فَقُمْ حَتَّی یَقْضِیَ اللَّہُ فِیک مَا ہُوَ قَاضٍ ، فَقُمْتُ۔
فَقَامَ إِلَیَّ رِجَالٌ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ ، فَقَالُوا : وَاللہِ مَا صَنَعْتَ شَیْئًا ، وَاللہِ إِنْ کَانَ لَکَافِیک مِنْ ذَنْبِکَ الَّذِی أَذْنَبْت اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَک ، کَمَا صَنَعَ ذَلِکَ لِغَیْرِکَ ، فَقَدْ قَبِلَ مِنْہُمْ عُذْرَہُمْ ، وَاسْتَغْفَرَ لَہُمْ ، فَمَا زَالُوا یَلُومُونَنِی حَتَّی ہَمَمْتُ أَنْ أَرْجِعَ ، فَأُکَذِّبَ نَفْسِی ، ثُمَّ قُلْتُ لَہُمْ : ہَلْ قَالَ ہَذِہِ الْمَقَالَۃَ أَحَدٌ ، أَوِ اعْتَذَرَ بِمِثْلِ مَا اعْتَذَرْت بِہِ ؟ قَالَوا : نَعَمْ ، قُلْتُ : مَنْ ؟ قَالَوا : ہِلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ الْوَاقِفِیُّ ، وَرَبِیعَۃُ بْنُ مَرَارَۃَ الْعَامِرِی ، وَذَکَرُوا لِی رَجُلَیْنِ صَالِحَیْنِ قَدْ شَہِدَا بَدْرًا ، قَدِ اعْتَذَرَا بِمِثْلِ الَّذِی اعْتَذَرْت بِہِ ، وَقِیلَ لَہُمَا مِثْلُ الَّذِی قِیلَ لَکَ۔
قَالَ : وَنَہَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ کَلاَمُنَا ، فَطَفِقْنَا نَغْدُو فِی النَّاسِ ، لاَ یُکَلِّمُنَا أَحَدٌ ، وَلاَ یُسَلِّمُ عَلَیْنَا أَحَدٌ ، وَلاَ یَرُدُّ عَلَیْنَا سَلاَمًا ، حَتَّی إِذَا وفََتْ أَرْبَعُونَ لَیْلَۃً ، جَائَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنِ اعْتَزِلُوا نِسَائَکُمْ ، فَأَمَّا ہِلاَلُ بْنُ أُمَیَّۃَ ، فَجَائَتِ امْرَأَتُہُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَہُ : إِنَّہُ شَیْخٌ قَدْ ضَعُفَ بَصَرُہُ ، فَہَلْ تَکْرَہُ أَنْ أَصْنَعَ لَہُ طَعَامَہُ ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَکِنْ لاَ یَقْرَبَنَّکِ ، قَالَتْ: إِنَّہُ وَاللہِ مَا بِہِ حَرَکَۃٌ إِلَی شَیْئٍ ، وَاللہِ مَا زَالَ یَبْکِی مُنْذُ کَانَ مِنْ أَمْرِہِ مَا کَانَ إِلَی یَوْمِہِ ہَذَا ، قَالَ : فَقَالَ لِی بَعْضُ أَہْلِی : لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی امْرَأَتِکَ ، کَمَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَۃُ ہِلاَلِ بْنِ أُمَیَّۃَ ، فَقَدْ أَذِنَ لَہَا أَنْ تَخْدِمَہُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللہِ ، لاَ أَسْتَأْذِنُہُ فِیہَا ، وَمَا أَدْرِی مَا یَقُولُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنِ اسْتَأْذَنْتُہُ ، وَہُوَ شَیْخٌ کَبِیرٌ ، وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ ، فَقُلْتُ لامْرَأَتِی : اِلْحَقِی بِأَہْلِکِ ، حَتَّی یَقْضِیَ اللَّہُ مَا ہُوَ قَاضٍ ، وَطَفِقْنَا نَمْشِی فِی النَّاسِ ، وَلاَ یُکَلِّمُنَا أَحَدٌ ، وَلاَ یَرُدُّ عَلَیْنَا سَلاَمًا۔
قَالَ: فَأَقْبَلْتُ ، حَتَّی تَسَوَّرْتُ جِدَارًا لابْنِ عَمٍّ لِی فِی حَائِطِہِ ، فَسَلَّمْتُ ، فَمَا حَرَّک شَفَتَیْہِ یَرُدُّ عَلَیَّ السَّلاَمَ، فَقُلْتُ : أُنْشِدُک بِاللہِ ، أَتَعْلَمُ أَنِّی أُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ، فَمَا کَلَّمَنِی کَلِمَۃً ، ثُمَّ عُدْتُ فَلَمْ یُکَلِّمْنِی ، حَتَّی إِذَا کَانَ فِی الثَّالِثَۃِ ، أَوِ الرَّابِعَۃِ ، قَالَ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔
فَخَرَجْت ، فَإِنِّی لأَمْشِی فِی السُّوقِ إِذِ النَّاسُ یُشِیرُونَ إِلَیَّ بِأَیْدِیہِمْ ، وَإِذَا نَبَطِیٌّ مِنْ نَبَطِ الشَّامِ یَسْأَلُ عَنِّی، فَطَفِقُوا یُشِیرُونَ لَہُ إِلَیَّ ، حَتَّی جَائَنِی ، فَدَفَعَ إِلَیَّ کِتَابًا مِنْ بَعْضِ قَوْمِی بِالشَّامِ : إِنَّہُ قَدْ بَلَغَنَا مَا صَنَعَ بِکَ صَاحِبُک ، وَجَفْوَتُہُ عَنْک ، فَالْحَقْ بِنَا ، فَإِنَّ اللَّہَ لَمْ یَجْعَلْک بِدَارِ ہَوَانٍ ، وَلاَ دَارِ مَضْیَعَۃٍ ، نُوَاسِکَ فِی أَمْوَالِنَا ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّا لِلَّہِ ، قَدْ طَمِعَ فِیَّ أَہْلُ الْکُفْرِ ، فَیَمَّمْتُ بِہِ تَنُّورًا ، فَسَجَرْتُہُ بِہِ۔
فَوَاللہِ إِنِّی لَعَلَی تِلْکَ الْحَالِ الَّتِی قَدْ ذَکَرَ اللَّہُ ، قَدْ ضَاقَتْ عَلَیْنَا الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ، وَضَاقَتْ عَلَیْنَا أَنْفُسُنَا ، صَبَاحِیہُ خَمْسِینَ لَیْلَۃً مُذْ نُہِیَ عَنْ کَلاَمِنَا ، أُنْزِلَتِ التَّوْبَۃُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ آذَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَۃِ اللہِ عَلَیْنَا حِینَ صَلَّی الْفَجْرَ ، فَذَہَبَ ألنَّاسُ یُبَشِّرُونَنَا ، وَرَکَضَ رَجُلٌ إِلَیَّ فَرَسًا ، وَسَعَی سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ ، فَأَوْفَی عَلَی الْجَبَلِ ، وَکَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنَ الْفَرَسِ ، فَنَادَی : یَا کَعْبَ بْنَ مَالِکَ ، أَبْشِرْ ، فَخَرَرْت سَاجِدًا ، وَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ جَائَ الْفَرَجُ ، فَلَمَّا جَائَنِی الَّذِی سَمِعْت صَوْتَہُ ، خَفَفْتُ لَہُ ثَوْبَیْنِ بِبُشْرَاہُ ، وَوَاللہِ مَا أَمْلِکُ یَوْمَئِذٍ ثَوْبَیْنِ غَیْرَہُمَا۔
وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَیْنِ ، فَخَرَجْتُ قِبَلَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَقِیَنِی النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا ، یُہَنِّئُونَنِی بِتَوْبَۃِ اللہِ عَلَیَّ ، حَتَّی دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَقَامَ إِلَیَّ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ یُہَرْوِلُ ، حَتَّی صَافَحَنِی وَہَنَّأَنِی ، وَمَا قَامَ إِلَیَّ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ غَیْرُہُ ، فَکَانَ کَعْبٌ لاَ یَنْسَاہَا لِطَلْحَۃَ ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ حَتَّی وَقَفْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَأَنَّ وَجْہَہُ قِطْعَۃُ قَمَرٍ ، کَانَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْہُہُ کَذَلِکَ ، فَنَادَانِی : ہَلُمَّ یَا کَعْبُ، أَبْشِرْ بِخَیْرِ یَوْمٍ مَرَّ عَلَیْک مُنْذُ وَلَدَتْک أُمُّک ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَمِنْ عِنْدِ اللہِ ، أَمْ مِنْ عِنْدِکَ ؟ قَالَ : لاَ ، بَلْ مِنْ عِنْدِ اللہِ ، إِنَّکُمْ صَدَقْتُمُ اللَّہَ فَصَدَّقَکُمْ۔
قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ مِنْ تَوْبَتِی الْیَوْمَ أَنْ أُخْرِجَ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمْسِکْ عَلَیْک بَعْضَ مَالِکَ ، قُلْتُ : أُمْسِکُ سَہْمِی بِخَیْبَرَ ، قَالَ کَعْبٌ : فَوَاللہِ مَا أَبْلَی اللَّہُ رَجُلاً فِی صِدْقِ الْحَدِیثِ مَا أَبْلاَنِی۔ (بخاری ۴۴۱۸۔ مسلم ۲۱۲۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک کے بارے میں احادیث
(٣٨١٦٣) حضرت سعد سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو عورتوں اور بچوں میں چھوڑ دیا۔ حضرت علی نے پوچھا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواباً ارشاد فرمایا : کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے بمنزلہ موسیٰ سے ہارون کے ہو، مگر یہ بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
(۳۸۱۶۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ ، خَلَّفَ عَلِیًّا فِی النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، تُخَلِّفُنِی فِی النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ ؟ فَقَالَ : أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی ، إِلاَّ أَنَّہُ لاَ نَبِیَّ بَعْدِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک کے بارے میں احادیث
(٣٨١٦٤) حضرت حسن سے روایت ہے کہ حضرت عثمان ، غزوہ تبوک میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دینار لے کر آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دیناروں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا اور ان کو الٹ پلٹ کرنے لگے اور ارشاد فرمایا۔ ” اس (خیر کے کام) کے بعد عثمان بن عفان جو کچھ بھی کرے اس کو نقصان نہیں ہوگا۔
(۳۸۱۶۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّ عُثْمَانَ أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِیرَ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَلِّبُہَا فِی حِجْرِہِ ، وَیَقُولُ : مَا عَلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ ہَذَا۔ (ترمذی ۳۷۰۱۔ احمد ۶۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک کے بارے میں احادیث
(٣٨١٦٥) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” بلاشبہ مدینہ میں کچھ لوگ ایسے تھے کہ تم نے جو بھی سفر کیا یا جو وادی بھی قطع مسافت کی تو وہ لوگ اس میں (ثواب کے اعتبار سے) تمہارے ساتھ شریک تھے۔ “ صحابہ نے پوچھا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ لوگ مدینہ میں تھے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہاں ! وہ مدینہ میں تھے اور ان کو عذر نے (وہاں) روک رکھا تھا۔ “
(۳۸۱۶۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ ، وَدَنَا مِنَ الْمَدِینَۃِ ، قَالَ : إِنَّ بِالْمَدِینَۃِ لأَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِیرًا ، وَلاَ قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ إِلاَّ کَانُوا مَعَکُمْ فِیہِ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ : وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ ، حَبَسَہُمُ الْعُذْرُ۔
(بخاری ۲۸۳۸۔ ابن ماجہ ۲۷۶۴)
(بخاری ۲۸۳۸۔ ابن ماجہ ۲۷۶۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک کے بارے میں احادیث
(٣٨١٦٦) حضرت عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک میں مسافر کے لیے تین دن، رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات تک موزوں پر مسح کا حکم فرمایا۔
(۳۸۱۶۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، أَخْبَرَنَا دَاوُد بْنُ عَمْرٍو، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ الْحَضْرَمِیِّ، عَنْ أَبِی إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیِّ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ ، ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ وَلَیَالِیَہُنَّ لِلْمُسَافِرِ ، وَیَوْمًا وَلَیْلَۃً لِلْمُقِیمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ تبوک کے بارے میں احادیث
(٣٨١٦٧) حضرت محمد بن کبشہ انماری، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ (ہم لوگ) جب غزوہ تبوک (میں) تھے تو کچھ لوگ جلدی جلدی اصحاب الحجر (کے کھنڈرات) میں داخل ہونے لگے تو یہ بات جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو آواز لگائی گئی۔ ان الصلاۃ جامعۃ ۔۔۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : ” خدا کی غضب شدہ قوم پر تم کیوں داخل ہوئے ؟ “ راوی کہتے ہیں : ایک آدمی نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ن سے تعجب میں پڑ کر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں اس سے بھی عجیب بات نہ بتاؤں ؟ ایک آدمی تمہیں میں سے ہے اور وہ تم کو پہلوں کی باتیں بیان کرتا ہے اور آنے والی بھی بیان کرتا ہے۔ استقامت کا مظاہرہ کرو اور سیدھے ہو جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تمہیں عذاب دینے میں کسی شئی کی پروا نہیں ہے۔ اور عنقریب اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لائیں گے جو خود سے کسی شئی کو دور نہیں کریں گے۔
(۳۸۱۶۷) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَوْسَطَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی کَبْشَۃَ الأَنْمَارِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ ، سَارَعَ نَاسٌ إِلَی أَصْحَابِ الْحِجْرِ ، فَدَخَلُوا عَلَیْہِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ فَنُودِی : إِنَّ الصَّلاَۃَ جَامِعَۃٌ ، قَالَ : فَأَتَیْتُہُ وَہُوَ مُمْسِکٌ بِبَعِیرِہِ ، وَہُوَ یَقُولُ : عَلاَمَ تَدْخُلُونَ عَلَی قَوْمٍ غَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ ؟ قَالَ : فَنَادَاہُ رَجُلٌ تَعَجُّبًا مِنْہُمْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَفَلاَ أُنَبِّئُکُمْ بِمَا ہُوَ أَعْجَبُ مِنْ ذَلِکَ ؟ رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ ، یُحَدِّثُکُمْ بِمَا کَانَ قَبْلَکُمْ ، وَبِمَا یَکُونُ بَعْدَکُمْ ، اسْتَقِیمُوا وَسَدِّدُوا ، فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یَعْبَأُ بِعَذَابِکُمْ شَیْئًا ، وَسَیَأْتِی اللَّہُ بِقَوْمٍ لاَ یَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِہِمْ بِشَیْئٍ۔ (احمد ۲۳۱۔ طبرانی ۸۵۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮১৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی کی حدیث
(٣٨١٦٨) حضرت عبداللہ بن ابی حدرد سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اضم کی طرف ایک لشکر کے ساتھ روانہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : پس ہم عامر بن اضبط کو ملے۔ راوی کہتے ہیں : انھوں نے ہمیں مسلمانوں والاسلام کیا۔ لیکن ہم نے ان سے اسلحہ چھین لیا۔ اور محلم بن جثامہ نے ان پر حملہ کردیا اور انھیں قتل کردیا۔ پھر جب اس کو قتل کردیا تو اس کا ایک اونٹ ، سازوسامان قبضہ کرلیا۔ پس جب ہم واپس آئے تو ہم نے ان کا معاملہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے معاملہ کی خبر سنائی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔” اے ایمان والو ! جب تم اللہ کے راستے میں جہاد کرلو تو تحقیق کرلو اور ایسے شخص کو جو اسلام کا اظہار کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مؤمن نہیں ہے۔ “
٢۔ ابن اسحق کہتے ہیں۔ مجھے محمد بن جعفر نے زید بن ضمرہ سے روایت کر کے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں ۔۔۔ مجھے میرے والد اور چچا نے بیان کیا ۔۔۔ اور یہ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین میں شریک تھے ۔۔۔ یہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز ادا فرمائی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے۔ تو قبیلہ خندف کے سردار حضرت اقرع بن حابس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کھڑے ہوئے اور یہ محلم کے خون سے مانع بن رہے تھے۔ اور حضرت عیینہ بن حصن کھڑے ہوئے اور عامر بن اضبط قیسی کا خون بہا طلب کرنے لگے ۔۔۔ اور یہ اشجعی تھے ۔۔۔ راوی کہتے ہیں : مں ل نے عیینہ بن حصن کو کہتے ہوئے سُنا کہ میں اس کی عورتوں کو غم و حزن کی وہ کیفیت ضرور چکھاؤں گا جو اس نے میری عورتوں کو چکھائی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” تم لوگ دیت قبول کرلو ؟ “ انھوں نے انکار کیا۔ تو بنو لیث میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا جس کو مُکَیْتَلْ کہا جاتا تھا اور اس نے کہا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! خدا کی قسم ! میں اسلام کے روشن زمانے میں اس مقتول کو تشبیہ نہیں دوں گا مگر ایسی بکری سے جو بکری کہیں آگئی ہو اور اس کو تیر لگ گیا تو اس نے دوسروں کو بھی بھگا دیا۔ آپ آج کے دن ہی کوئی راستہ متعین کردیں اور کل (آنے والے حالات) کو بدل دیں۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے فرمایا : ” ہمارے اس سفر میں تمہیں پچاس ملیں گے اور پچاس تب ملیں گے جب ہم واپس پلٹ آئیں گے “۔ راوی کہتے ہیں : پس انھوں نے دیت قبول کرلی۔
٣۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے کہا : تم اپنے آدمی کو لے آؤ تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے استغفار کریں ۔ پس اس آدمی کو لایا گیا۔ راوی اس کی حالت بیان کرتے ہیں کہ اس پر وہی جوڑا تھا جس میں اس نے قتل کیا تھا۔ یہاں تک کہ اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بٹھا دیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اس سے) پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس آدمی نے جواب دیا : محلَّم بن جثامہ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے (اور کہا) اے اللہ ! محلم بن جثامہ کی مغفرت نہ فرمانا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس شخص نے ہمیں بیان کیا کہ یہ (بد دعاء والی) بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظاہراً فرمائی تھی جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے تنہائی میں استغفار کیا تھا۔
٤۔ ابن اسحاق کہتے ہیں۔ عمرو بن عبید نے مجھے حضرت حسن کے حوالہ سے بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محلم سے کہا۔ تم نے اس کو (پہلے) خدا کے نام پر پناہ دے دی اور پھر اس کو قتل کردیا۔ خدا کی قسم ! محلم سات دن بھی نہ رہا کہ مرگیا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت حسن کو خدا کی قسم کھاتے ہوئے سُنا کہ : محلم کو تین مرتبہ دفن کیا گیا لیکن ہر مرتبہ زمین اس کو باہر پھینک دیتی تھی۔ راوی کہتے ہیں : چنانچہ لوگوں نے انھیں دو پہاڑوں کے درمیان رکھا اور ان پر بڑے بڑے پتھر رکھ دیئے پھر ان کو درندوں نے کھالیا۔ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ان صاحب کا معاملہ ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بہرحال خدا کی قسم ! زمین تو اس سے بھی زیادہ شریر لوگوں کو چھپا لیتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تم کو آپس کی حرمت کے بارے میں خبر دے (اس لیے یہ واقعہ رونما ہوا) ۔
٢۔ ابن اسحق کہتے ہیں۔ مجھے محمد بن جعفر نے زید بن ضمرہ سے روایت کر کے بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں ۔۔۔ مجھے میرے والد اور چچا نے بیان کیا ۔۔۔ اور یہ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین میں شریک تھے ۔۔۔ یہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز ادا فرمائی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے۔ تو قبیلہ خندف کے سردار حضرت اقرع بن حابس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کھڑے ہوئے اور یہ محلم کے خون سے مانع بن رہے تھے۔ اور حضرت عیینہ بن حصن کھڑے ہوئے اور عامر بن اضبط قیسی کا خون بہا طلب کرنے لگے ۔۔۔ اور یہ اشجعی تھے ۔۔۔ راوی کہتے ہیں : مں ل نے عیینہ بن حصن کو کہتے ہوئے سُنا کہ میں اس کی عورتوں کو غم و حزن کی وہ کیفیت ضرور چکھاؤں گا جو اس نے میری عورتوں کو چکھائی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” تم لوگ دیت قبول کرلو ؟ “ انھوں نے انکار کیا۔ تو بنو لیث میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا جس کو مُکَیْتَلْ کہا جاتا تھا اور اس نے کہا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! خدا کی قسم ! میں اسلام کے روشن زمانے میں اس مقتول کو تشبیہ نہیں دوں گا مگر ایسی بکری سے جو بکری کہیں آگئی ہو اور اس کو تیر لگ گیا تو اس نے دوسروں کو بھی بھگا دیا۔ آپ آج کے دن ہی کوئی راستہ متعین کردیں اور کل (آنے والے حالات) کو بدل دیں۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے فرمایا : ” ہمارے اس سفر میں تمہیں پچاس ملیں گے اور پچاس تب ملیں گے جب ہم واپس پلٹ آئیں گے “۔ راوی کہتے ہیں : پس انھوں نے دیت قبول کرلی۔
٣۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے کہا : تم اپنے آدمی کو لے آؤ تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے استغفار کریں ۔ پس اس آدمی کو لایا گیا۔ راوی اس کی حالت بیان کرتے ہیں کہ اس پر وہی جوڑا تھا جس میں اس نے قتل کیا تھا۔ یہاں تک کہ اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بٹھا دیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اس سے) پوچھا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس آدمی نے جواب دیا : محلَّم بن جثامہ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے (اور کہا) اے اللہ ! محلم بن جثامہ کی مغفرت نہ فرمانا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس شخص نے ہمیں بیان کیا کہ یہ (بد دعاء والی) بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظاہراً فرمائی تھی جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے تنہائی میں استغفار کیا تھا۔
٤۔ ابن اسحاق کہتے ہیں۔ عمرو بن عبید نے مجھے حضرت حسن کے حوالہ سے بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے محلم سے کہا۔ تم نے اس کو (پہلے) خدا کے نام پر پناہ دے دی اور پھر اس کو قتل کردیا۔ خدا کی قسم ! محلم سات دن بھی نہ رہا کہ مرگیا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت حسن کو خدا کی قسم کھاتے ہوئے سُنا کہ : محلم کو تین مرتبہ دفن کیا گیا لیکن ہر مرتبہ زمین اس کو باہر پھینک دیتی تھی۔ راوی کہتے ہیں : چنانچہ لوگوں نے انھیں دو پہاڑوں کے درمیان رکھا اور ان پر بڑے بڑے پتھر رکھ دیئے پھر ان کو درندوں نے کھالیا۔ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ان صاحب کا معاملہ ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بہرحال خدا کی قسم ! زمین تو اس سے بھی زیادہ شریر لوگوں کو چھپا لیتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تم کو آپس کی حرمت کے بارے میں خبر دے (اس لیے یہ واقعہ رونما ہوا) ۔
(۳۸۱۶۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ قُسَیْطٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی حَدْرَدٍ الأَسْلَمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی حَدْرَدٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَرِیَّۃٍ إِلَی إِضَمٍ ، قَالَ : فَلَقِینَا عَامِرَ بْنَ الأَضْبَطِ ، قَالَ : فَحَیَّا بِتَحِیَّۃِ الإِسْلاَمِ ، فَنَزَعْنَا عَنْہُ ، وَحَمَلَ عَلَیْہِ مُحَلَّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ فَقَتَلَہُ ، فَلَمَّا قَتَلَہُ سَلَبَہُ بَعِیرًا لَہُ ، وَأُہُبًا ، وَمُتِیعًا کَانَ لَہُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ، جِئْنَا بِشَأْنِہِ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْنَاہُ بِأَمْرِہِ فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ : {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللہِ ، فَتَبَیَّنُوا وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْکُمُ السَّلاَمَ} الآیَۃَ۔
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : فَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ضُمَیْرَۃَ ،
قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی وَعَمِّی، وَکَانَا شَہِدَا حُنَیْنًا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالاَ: صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الظُّہْرَ ، ثُمَّ جَلَسَ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ، فَقَامَ إِلَیْہِ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَہُوَ سَیِّدُ خِنْدِفَ، یَرُدُّ عَنْ دَمِ مُحَلِّمٍ، وَقَامَ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ یَطْلُبُ بِدَمِ عَامِرِ بْنِ الأَضْبَطِ الْقَیْسِیِّ، وَکَانَ أَشْجَعِیًّا، قَالَ: فَسَمِعْتُ عُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنٍ یَقُولُ : لأُذِیقَنَّ نِسَائَہُ مِنَ الْحُزْنِ مِثْلَ مَا أَذَاقَ نِسَائِی ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَقْبَلُونَ الدِّیَۃَ ؟ فَأَبَوْا ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی لَیْثٍ ، یُقَالُ لَہُ : مُکَیْتِلٌ ، فَقَالَ : وَاللہِ ، یَا رَسُولَ اللہِ، مَا شَبَّہْتُ ہَذَا الْقَتِیلَ فِی غُرَّۃِ الإِسْلاَمِ ، إِلاَّ کَغَنَمٍ وَرَدَتْ ، فَرُمِیَتْ ، فَنَفَرَ آخِرُہَا ، اسْنُنِ الْیَوْمَ وَغَیِّرْ غَدًا، قَالَ : فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدَیْہِ : لَکُمْ خَمْسُونَ فِی سَفَرِنَا ہَذَا ، وَخَمْسُونَ إِذَا رَجَعْنَا ، قَالَ : فَقَبِلُوا الدِّیَۃَ۔
قَالَ : فَقَالُوا : ائْتُوا بِصَاحِبِکُمْ یَسْتَغْفِرْ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجِیئَ بِہِ ، فَوَصَفَ حِلْیَتَہُ ، وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ قَدْ تَہَیَّأَ فِیہَا لِلْقَتْلِ ، حَتَّی أُجْلِسَ بَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا اسْمُک ؟ قَالَ : مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدَیْہِ ، وَوَصَفَ أَنَّہُ رَفَعَہُمَا ، : اللَّہُمَّ لاَ تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَۃَ ، قَالَ : فَتَحَدَّثْنَا بَیْنَنَا أَنَّہُ إِنَّمَا أَظْہَرَ ہَذَا ، وَقَدِ اسْتَغْفَرَ لَہُ فِی السِّرِّ۔
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : فَأَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَّنْتَہُ بِاللہِ ثُمَّ قَتَلْتَہُ ؟ فَوَاللہِ مَا مَکَثَ إِلاَّ سَبْعًا حَتَّی مَاتَ مُحَلَّمٌ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ الْحَسَنَ یَحْلِفُ بِاللہِ : لَدُفِنَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، کُلَّ ذَلِکَ تَلْفِظُہُ الأَرْضُ ، قَالَ : فَجَعَلُوہُ بَیْنَ سَدَّیْ جَبَلٍ وَرَضَمُوا عَلَیْہِ مِنَ الْحِجَارَۃِ ، فَأَکَلَتْہُ السِّبَاعُ ، فَذَکَرُوا أَمْرَہُ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللہِ إِنَّ الأَرْضَ لَتُطْبِقُ عَلَی مَنْ ہُوَ شَرٌّ مِنْہُ ، وَلَکِنَّ اللَّہَ أَرَادَ أَنْ یُخْبِرَکُمْ بِحُرْمَتِکُمْ فِیمَا بَیْنَکُمْ۔ (ابوداؤد ۴۴۹۶)
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : فَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ضُمَیْرَۃَ ،
قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی وَعَمِّی، وَکَانَا شَہِدَا حُنَیْنًا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالاَ: صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الظُّہْرَ ، ثُمَّ جَلَسَ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ، فَقَامَ إِلَیْہِ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَہُوَ سَیِّدُ خِنْدِفَ، یَرُدُّ عَنْ دَمِ مُحَلِّمٍ، وَقَامَ عُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ یَطْلُبُ بِدَمِ عَامِرِ بْنِ الأَضْبَطِ الْقَیْسِیِّ، وَکَانَ أَشْجَعِیًّا، قَالَ: فَسَمِعْتُ عُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنٍ یَقُولُ : لأُذِیقَنَّ نِسَائَہُ مِنَ الْحُزْنِ مِثْلَ مَا أَذَاقَ نِسَائِی ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَقْبَلُونَ الدِّیَۃَ ؟ فَأَبَوْا ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی لَیْثٍ ، یُقَالُ لَہُ : مُکَیْتِلٌ ، فَقَالَ : وَاللہِ ، یَا رَسُولَ اللہِ، مَا شَبَّہْتُ ہَذَا الْقَتِیلَ فِی غُرَّۃِ الإِسْلاَمِ ، إِلاَّ کَغَنَمٍ وَرَدَتْ ، فَرُمِیَتْ ، فَنَفَرَ آخِرُہَا ، اسْنُنِ الْیَوْمَ وَغَیِّرْ غَدًا، قَالَ : فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدَیْہِ : لَکُمْ خَمْسُونَ فِی سَفَرِنَا ہَذَا ، وَخَمْسُونَ إِذَا رَجَعْنَا ، قَالَ : فَقَبِلُوا الدِّیَۃَ۔
قَالَ : فَقَالُوا : ائْتُوا بِصَاحِبِکُمْ یَسْتَغْفِرْ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجِیئَ بِہِ ، فَوَصَفَ حِلْیَتَہُ ، وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ قَدْ تَہَیَّأَ فِیہَا لِلْقَتْلِ ، حَتَّی أُجْلِسَ بَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا اسْمُک ؟ قَالَ : مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدَیْہِ ، وَوَصَفَ أَنَّہُ رَفَعَہُمَا ، : اللَّہُمَّ لاَ تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَۃَ ، قَالَ : فَتَحَدَّثْنَا بَیْنَنَا أَنَّہُ إِنَّمَا أَظْہَرَ ہَذَا ، وَقَدِ اسْتَغْفَرَ لَہُ فِی السِّرِّ۔
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : فَأَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَّنْتَہُ بِاللہِ ثُمَّ قَتَلْتَہُ ؟ فَوَاللہِ مَا مَکَثَ إِلاَّ سَبْعًا حَتَّی مَاتَ مُحَلَّمٌ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ الْحَسَنَ یَحْلِفُ بِاللہِ : لَدُفِنَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، کُلَّ ذَلِکَ تَلْفِظُہُ الأَرْضُ ، قَالَ : فَجَعَلُوہُ بَیْنَ سَدَّیْ جَبَلٍ وَرَضَمُوا عَلَیْہِ مِنَ الْحِجَارَۃِ ، فَأَکَلَتْہُ السِّبَاعُ ، فَذَکَرُوا أَمْرَہُ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللہِ إِنَّ الأَرْضَ لَتُطْبِقُ عَلَی مَنْ ہُوَ شَرٌّ مِنْہُ ، وَلَکِنَّ اللَّہَ أَرَادَ أَنْ یُخْبِرَکُمْ بِحُرْمَتِکُمْ فِیمَا بَیْنَکُمْ۔ (ابوداؤد ۴۴۹۶)
তাহকীক: