মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮১২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٢٩) حضرت حسن بن سعد روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت زید، جعفر اور عبداللہ بن رواحہ کے قتل کی خبر ملی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو یہ وفات کی خبر سُنائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت اسماء کو اس حالت میں چھوڑا تھا کہ وہ آنسو بہا رہی تھی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (دوبارہ) حضرت اسمائ کے پاس تشریف لائے اور ان سے تعزیت کی اور فرمایا : میرے پاس میرے بھتیجوں کو بلا کر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت اسمائ ۔۔۔ پرندوں کے بچوں کی طرح کے ۔۔۔ تین بچے لے کر حاضر ہوئیں۔ اسماء کہتی ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نائی کو بلایا اور ان کے سرمنڈوائے اور فرمایا : ” محمد تو ہمارے چچا ابو طالب کے مشابہ ہے اور عون اللہ تو صورت و سیرت میں میرے مشابہ ہے۔ اور عبداللہ تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اوپر اٹھایا اور دعا فرمائی۔ اے اللہ ! عبداللہ کے دائیں ہاتھ کے سودے میں برکت دے۔ راوی کہتے ہیں : ان کی ماں حضرت اسمائ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی (لاوارثی) کی شکایت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں جواب دیا ۔ کیا تم ان کے ضائع ہونے کا خوف کھاتی ہو ؟ حالانکہ میں دنیا و آخرت میں ان کا ولی ہوں۔
(۳۸۱۲۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مَہْدِیِّ بْنِ مَیْمُونٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی یَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : لَمَّا جَائَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَبَرُ قَتْلِ زَیْدٍ ، وَجَعْفَرٍ ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ نَعَاہُمْ إِلَی النَّاسِ ، وَتَرَکَ أَسْمَائَ حَتَّی أَفَاضَتْ مِنْ عَبْرَتِہَا : ثُمَّ أَتَاہَا فَعَزَّاہَا ، وَقَالَ : ادْعِی لِی بَنِی أَخِی ، قَالَ : فَجَائَتْ بِثَلاَثَۃِ بَنِینَ ، کَأَنَّہُمْ أَفْرُخٌ ، قَالَتْ : فَدَعَا الْحَلاَّقَ فَحَلَقَ رُؤُوسَہُمْ ، فَقَالَ : أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِیہُ عَمِّنَا أَبِی طَالِبٍ ، وَأَمَّا عَوْنُ اللہِ فَشَبِیہُ خَلْقِی وَخُلُقِی ، وَأَمَّا عَبْدُ اللہِ فَأَخَذَ بِیَدِہِ فَشَالَہَا ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ بَارِکْ لِعَبْدِ اللہِ فِی صَفْقَۃِ یَمِینِہِ ، قَالَ : فَجَعَلَتْ أُمُّہُمْ تُفْرِحُ لَہُ ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَتَخْشَیْنَ عَلَیْہِمُ الضَّیْعَۃَ وَأَنَا وَلِیُّہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ ؟۔ (ابن سعد ۳۶۔ احمد ۲۰۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٣٠) حضرت سالم بن ابی جعد سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہداء مؤتہ۔۔۔ خواب میں دکھائے گئے ۔ چنانچہ آپ نے حضرت جعفر کو ایک ایسے فرشتے کی شکل میں دیکھا جس کے دو پر تھے اور وہ خون میں لتھڑے ہوئے تھے اور حضرت زید کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے مقابل تخت پر دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے ہیں۔ ابن رواحہ ان کے ساتھ یوں بیٹھے ہوئے تھے گویا کہ وہ ان سے اعراض کیے ہوئے ہیں۔
(۳۸۱۳۰) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حدَّثَنَا قُطْبَۃُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ، قَالَ: أُرِیَہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی النَّوْمِ ، فَرَأَی جَعْفَرًا مَلَکًا ذَا جَنَاحَیْنِ ، مُضَرَّجًا بِالدِّمَائِ ، وَزَیْدًا مُقَابِلُہُ عَلَی السَّرِیرِ ، قَالَ : وَابْنَ رَوَاحَۃَ جَالِسًا مَعَہُمْ کَأَنَّہُمْ مُعْرِضُونَ عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٣١) حضرت ابو میسرہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت جعفر اور زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ کے قتل کی خبر ملی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی بات کرتے ہوئے دُعا فرمائی۔ اے اللہ ! زید کی مغفرت فرما۔ اے اللہ ! جعفر کی مغفرت فرما۔ اور عبداللہ بن رواحہ کی مغفرت فرما۔
(۳۸۱۳۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی مَیْسَرَۃَ ؛ أَنَّہُ لَمَّا أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَتْلُ جَعْفَرٍ ، وَزَیْدٍ ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ، ذَکَرَ أَمْرَہُمْ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِزَیْدٍ ، اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِجَعْفَرٍ ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٣٢) حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ حضرت اسامہ ، اپنے والد کے قتل کے بعد حاضر ہوئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے سامنے (استقبال کے لئے) کھڑے ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں بھر آئیں۔ پھر جب اگلادن آیا اور حضرت اسامہ حاضر ہوئے اور پھر اپیپ اسی جگہ پر کھڑے ہوگئے تو اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کیا میں آج بھی تمہارا استقبال اس طرح کروں جس طرح میں نے کل تمہارا استقبال کیا تھا “ ؟
(۳۸۱۳۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : جَائَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ بَعْدَ قَتْلِ أَبِیہِ ، فَقَامَ بَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَمَعَتْ عَیْنَاہُ ، فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ جَائَ فَقَامَ مَقَامَہُ ذَلِکَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أُلاَقِی مِنْک الْیَوْمَ مَا لَقِیتُ مِنْک أَمْسِ ؟۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٣٣) حضرت عائشہ کہا کرتی تھیں۔ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید بن حارثہ کو کسی لشکر میں روانہ نہیں فرمایا مگر یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اس لشکر میں امیر مقرر فرمایا۔ اور اگر حضرت زید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد باقی ہوتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں خلیفہ (بھی) بناتے۔
(۳۸۱۳۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُد ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَہِیَّ یُحَدِّثُ ؛ أَنَّ عَائِشَۃَ کَانَتْ تَقُولُ : مَا بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَیْدَ بْنَ حَارِثَۃَ فِی جَیْشٍ قَطُّ ، إِلاَّ أَمَّرَہُ عَلَیْہِمْ ، وَلَوْ بَقِیَ بَعْدَہُ لاَسْتَخْلَفَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٣٤) حضرت عامر سے روایت ہے کہ امی عائشہ کہا کرتی تھیں کہ اگر حضرت زید زندہ ہوتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو خلیفہ بناتے۔
(۳۸۱۳۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، أَنَّ عَائِشَۃَ کَانَتْ تَقُولُ : لَوْ أَنَّ زَیْدًا حَیٌّ لاَسْتَخْلَفَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٣٥) حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مؤتہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت اسامہ بن زید کو امیر مقرر فرمایا۔ اسی لشکر میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی تھے ۔۔۔ راوی کہتے ہیں : بعض لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے حضرت اسامہ کو اس لشکر والوں پر امیر بنانے پر اعتراض کیا۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا : ” یقیناً تم میں سے کچھ لوگ میری طرف سے اسامہ کو امیر بنانے پر اعتراض کر رہے ہیں۔ یہ لوگ حضرت اسامہ کے امیر بنانے پر اسی طرح اعتراض کرتے ہیں جیسا کہ انھوں نے اس سے پہلے حضرت اسامہ کے والد کو امیر بنانے پر اعتراض کیا تھا۔ خدا کی قسم !ً بلاشبہ وہ امیر بننے کے لائق تھے اور لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے محبوب تھے۔ اور ان کا بیٹا ان کے بعد مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ تم میں سے نیکوکار لوگوں میں سے ہوگا۔ تم اس کے ساتھ اچھائی کا ارادہ کرو۔ “
(۳۸۱۳۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ قَطَعَ بَعْثًا قِبَلَ مُؤْتَۃَ ، وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ ، وَفِی ذَلِکَ الْبَعْثِ أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ ، قَالَ : فَکَانَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ یَطْعَنُونَ فِی ذَلِکَ ، لِتَأْمِیرِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُسَامَۃَ عَلَیْہِمْ ، قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ أُنَاسًا مِنْکُمْ قَدْ طَعَنُوا عَلَیَّ فِی تَأْمِیرِ أُسَامَۃَ ، وَإِنَّمَا طَعَنُوا فِی تَأْمِیرِ أُسَامَۃَ کَمَا طَعَنُوا فِی تَأْمِیرِ أَبِیہِ مِنْ قَبْلِہِ ، وَایْمُ اللہِ ، إِنْ کَانَ لَحَقِیقًا لِلإِمَارَۃِ ، وَإِنْ کَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ ، وَإِنَّ ابْنَہُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ مِنْ بَعْدِہِ ، وَإِنِّی أَرْجُو أَنْ یَکُونَ مِنْ صَالِحِیکُمْ ، فَاسْتَوْصُوا بِہِ خَیْرًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٣٦) حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت جعفر بن ابی طالب کے قتل کی خبر پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جعفر کی بیوی اسماء بنت عمیس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ انھوں نے آنسو بہا لیے اور غم ہلکا ہوگیا ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت اسمائ کے پاس گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے تعزیت کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جعفر کے بیٹوں کو بلایا اور ان کے لیے دُعا فرمائی۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن جعفر کے لیے یہ دعا کی کہ ان کے سودے میں برکت دی جائے۔ پس عبداللہ جب بھی کوئی چیز خریدتے تو انھیں اس میں نفع ہوتا۔ پھر حضرت اسمائ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عر ض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم مہاجرین میں سے نہیں ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ تم نے دو مرتبہ ہجرت کی ہے۔ (ایک مرتبہ) تم نے نجاشی کی طرف ہجرت کی اور (ایک مرتبہ) تم نے میری طرف ہجرت کی۔
(۳۸۱۳۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا أَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَتْلُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، تَرَکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَہُ أَسْمَائَ بِنْتَ عُمَیْسٍ حَتَّی أَفَاضَتْ عَبْرَتَہَا ، وَذَہَبَ بَعْضُ حُزْنِہَا ، ثُمَّ أَتَاہَا فَعَزَّاہَا ، وَدَعَا بَنِی جَعْفَرٍ فَدَعَا لَہُمْ ، وَدَعَا لِعَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنْ یُبَارَکَ لَہُ فِی صَفْقَۃِ یَدِہِ ، فَکَانَ لاَ یَشْتَرِی شَیْئًا إِلاَّ رَبِحَ فِیہِ۔

فَقَالَتْ لَہُ أَسْمَائُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ ہَؤُلاَئِ یَزْعُمُونَ أَنَّا لَسْنَا مِنَ الْمُہَاجِرِینَ ، فَقَالَ : کَذَبُوا ، لَکُمُ الْہِجْرَۃُ مَرَّتَیْنِ ، ہَاجَرْتُمْ إِلَی النَّجَاشِیِّ ، وَہَاجَرْتُمْ إِلَیَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٣٧) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ میں مقام مؤتہ میں موجود تھا۔ پس جب ہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب کو غیر موجود پایا تو ہم نے ان کو مقتولین میں تلاش (کرنا شروع) کیا چنانچہ ہم نے ان کو اس حالت میں پایا کہ ان کو پچاس کے قریب تلواروں اور نیزوں کے زخم لگے ہوئے تھے۔ اور ہم نے یہ سارے زخم حضرت جعفر کے جسم کے اگلے حصہ میں پائے۔
(۳۸۱۳۷) حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الأَزْدِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبُو أُوَیْسٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : کُنْتُ بِمُؤْتَۃِ ، فَلَمَّا فَقَدْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِی طَالِبٍ طَلَبْنَاہُ فِی الْقَتْلَی ، فَوَجَدْنَا فِیہِ خَمْسینَ ؛ بَیْنَ طَعَنْۃٍ وَرَمْیَۃٍ ، وَوَجَدْنَا ذَلِکَ فِیمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِہِ۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ،
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٣٨) حضرت ابو اسحاق روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت برائ سے کہا۔ اے ابو عمارہ ! کیا تم لوگ حنین کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ؟ حضرت برائ نے کہا۔ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیٹھ نہیں پھیری تھی۔ لیکن کچھ لوگ جلد بازی میں خالی ہاتھ قبیلہ ہوازن کی طرف چل پڑے تھے حالانکہ ہوازن والے تو ایک تیر انداز قوم تھے۔ چنانچہ انھوں نے اس (خالی ہاتھ) جماعت کو تیز تیر پھینکنے والی کمان کے ذریعہ سے خوب تیر برسائے یوں لگتا تھا کہ گویا تیروں کا مجموعہ آ رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس لوگ چھٹ گئے اور اس وقت ہوازن کے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بڑھے جبکہ ابو سفیان آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خچر کو ہانک رہے تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (خچر سے) نیچے تشریف لائے اور مدد کے لیے پکارا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے تھے۔

” میں جھوٹا نبی نہیں ہوں۔ میں تو عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ “

اے اللہ ! اپنی مدد نازل فرما “ راوی کہتے ہیں : خدا کی قسم ! جب جنگ خوب شعلہ زن ہوتی تھی تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آڑ میں (اپنا) بچاؤ کرتے تھے۔ اور یقیناً (اس وقت) بہادر وہی شخص ہوتا تھا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔
(۳۸۱۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَائِ : ہَلْ کُنْتُمْ وَلَّیْتُمْ یَوْمَ حُنَیْنٍ ، یَا أَبَا عُمَارَۃَ ؟ فَقَالَ : أَشْہَدُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا وَلَّی ، وَلَکِنِ انْطَلَقَ جُفَائٌ مِنَ النَّاسِ وَحُسَّرٌ إلَی ہَذَا الْحَیِّ مِنْ ہَوَازِنَ ، وَہُمْ قَوْمٌ رُمَاۃٌ ، فَرَمَوْہُمْ بِرِشْقٍ مِنْ نَبْلٍ کَأَنَّہَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ ، قَالَ: فَانْکَشَفُوا، فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ ہُنَالِکَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو سُفْیَانَ بْنُ الْحَارِثِ یَقُودُ بَغْلَتَہُ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاسْتَنْصَرَ ، وَہُوَ یَقُولُ :

أَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب

اللَّہُمَّ نَزِّل نَصْرَک ، قَالَ : وَکُنَّا وَاللہِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِی بِہِ ، وَإِنَّ الشُّجَاعَ لِلَّذِی یُحَاذِی بِہِ۔ (مسلم ۱۴۰۱۔ بیہقی ۱۳۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٣٩) حضرت براء سے روایت ہے کہ نہیں خدا کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کی جنگ کے دن اپنی پشت نہیں پھیری ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عباس اور ابو سفیان ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خچر کی لگام کو پکڑے ہوئے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ رہے تھے۔

” میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں تو عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔ “
(۳۸۱۳۹) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : لاَ وَاللہِ مَا وَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ دُبُرَہُ ، قَالَ : وَالْعَبَّاسُ ، وَأَبُو سُفْیَانَ آخِذَانِ بِلِجَامِ بَغْلَتِہِ ، وَہُوَ یَقُولُ :

أَنَا النَّبِیُّ لاَ کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٤٠) حضرت انس سے روایت ہے کہ حنین کے دن ، جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاء یہ تھی۔ ” اے اللہ ! اگر آپ چاہتے ہیں تو آج کے بعد آپ کی عبادت نہیں کی جائے گی۔ “
(۳۸۱۴۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : کَانَ مِنْ دُعَائِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ : اللَّہُمَّ إِنَّک إِنْ تَشَأْ لاَ تُعْبَدْ بَعْدَ ہَذَا الْیَوْمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٤١) حضرت انس سے روایت ہے کہ جب حنین کا دن تھا تو قبیلہ ہوازن اور غطفان نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک بہت بڑی تعداد جمع کرلی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس دن دس ہزار یا دس ہزار سے بھی زیادہ کی تعداد کے ہمراہ تھے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ طلقاء (فتح مکہ کے موقع کے مسلمان) بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں : دشمن اپنے مال مویشی اور بیوی بچوں کو ساتھ لایا تھا اور انھیں اپنے پیچھے چھوڑا ہوا تھا۔ پس جب دونوں گروہوں کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی تو کچھ لوگ بھاگ گئے۔ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دن ایک سفید خچر پر سوار تھے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (خچر سے) نیچے اترے اور فرمایا : ” میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ “ راوی کہتے ہیں : اس دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتبہ (یہ) آواز لگائی اور ان کے درمیان کوئی اور کلام مخلوط نہیں فرمایا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دائیں طرف رُخ کیا اور آواز لگائی۔ ” اے گروہ انصار ! “ انصار نے جواب میں کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم حاضر ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بائیں طرف رُخ کیا اور آواز دی، اے گروہ انصار ! “ انصار نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم حاضر ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زمین پر اترے اور (دوبارہ) آمنا سامنا ہوا تو دشمن شکست خوردہ ہوا اور مسلمانوں کو بہت سی غنیمتیں ملیں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ غنائم طلقاء کو عطا فرمائیں اور ان میں تقسیم کردیں۔ (اس پر) انصار نے کہا۔ سختی کے وقت ہمیں پکارا جاتا ہے اور غنیمتیں ہمارے سوا اوروں کو تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہ بات جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچ گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام انصار کو جمع فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان کے ساتھ) ایک قبہ میں بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا : ” اے گروہ انصار ! مجھے تمہاری طرف سے کیا بات پہنچی ہے ؟ “ انصار صحابہ خاموش رہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے گروہ انصار ! اگر لوگ ایک کشادہ اور صاف راستہ پر چلیں اور انصار ایک پہاڑی گھاٹی پر چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو (چلنے کے لئے) پکڑوں گا ۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ دنیا (کا سامان) لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں پناہ دو ؟ “ انصار کہنے لگے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم راضی ہیں، ہم راضی ہیں۔ ابن عون کہتے ہیں کہ ہشام بن زید کہتے ہیں میں نے حضرت انس سے پوچھا۔ آپ اس وقت حاضر تھے ۔ انھوں نے جواب دیا ۔ تو میں اس وقت کہاں غائب ہوتا ؟۔
(۳۸۱۴۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَیْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، حَدَّثَنِی ابْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ حُنَیْنٍ جَمَعَتْ ہَوَازِنُ وَغَطَفَانُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَمْعًا کَثِیرًا ، وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَئِذٍ فِی عَشَرَۃِ آلاَفٍ ، أَوْ أَکْثَرَ مِنْ عَشَرَۃِ آلاَفٍ ، قَالَ : وَمَعَہُ الطُّلَقَائُ ، قَالَ : فَجَاؤُوا بِالنَّعَمِ وَالذُّرِّیَّۃِ ، فَجُعِلُوا خَلْفَ ظُہُورِہِمْ ، قَالَ : فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّی النَّاسُ ، وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَئِذٍ عَلَی بَغْلَۃٍ بَیْضَائَ ، قَالَ : فَنَزَلَ ، فَقَالَ : إِنِّی عَبْدُ اللہِ وَرَسُولُہُ ، قَالَ : وَنَادَی یَوْمَئِذٍ نِدَائَیْنِ ، لَمْ یَخْلِطْ بَیْنَہُمَا کَلاَمًا ، فَالْتَفَتَ عَنْ یَمِینِہِ ، فَقَالَ : أَیْ مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللہِ ، نَحْنُ مَعَک ، ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ یَسَارِہِ ، فَقَالَ : أَیْ مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، فَقَالُوا : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللہِ ، نَحْنُ مَعَک۔

ثُمَّ نَزَلَ إِلَی الأَرْضِ فَالْتَقَوْا، فَہَزَمُوا وَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ، فَأَعْطَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الطُّلَقَائَ وَقَسَمَ فِیہَا، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ: نُدْعَی عِنْدَ الشِّدَّۃِ وَتُقْسَمُ الْغَنِیمَۃُ لِغَیْرِنَا، فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَہُمْ، وَقَعَدَ فِی قُبَّۃٍ، فَقَالَ: أَیْ مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، مَا حَدِیثٌ بَلَغَنِی عَنْکُمْ؟ فَسَکَتُوا، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ سَلَکُوا وَادِیًا، وَسَلَکَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لأَخَذْت شِعْبَ الأَنْصَارِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ یَذْہَبَ النَّاسُ بِالدُّنْیَا، وَتَذْہَبُونَ بِرَسُولِ اللہِ تَحُوزُونَہُ إِلَی بُیُوتِکُمْ؟ فَقَالُوا: رَضِینَا، رَضِینَا یَا رَسُولَ اللہِ۔

قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : قَالَ ہِشَامُ بْنُ زَیْدٍ : قُلْتُ لأَنَسٍ : وَأَنْتَ شَاہِدٌ ذَلِکَ ؟ قَالَ : وَأَیْنَ أَغِیبُ عَنْ ذَلِکَ ؟۔ (بخاری ۴۳۳۳۔ مسلم ۷۳۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٤٢) حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت طلحہ حنین کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہنسانے لگے اور فرمایا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے ام سلیم کو نہیں دیکھا ان کے ہاتھ میں چھرا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام سلیم سے پوچھا۔ ” اے ام سلیم ! اس چھرے سے تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ “ حضرت ام سلیم نے جواب دیا۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر کوئی دشمن میرے قریب آیا تو میں یہ چھرا اسے گھونپ دوں گی۔
(۳۸۱۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: جَائَ أَبُو طَلْحَۃَ یَوْمَ حُنَیْنٍ یُضْحِکُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ، أَلَمْ تَرَ إِلَی أُمِّ سُلَیْمٍ مَعَہَا خِنْجَرٌ، فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا أُمَّ سُلَیْمٍ، مَا أَرَدْتِ إِلَیْہِ؟ قَالَتْ: أَرَدْتُ إِنْ دَنَا إِلَیَّ أَحَدٌ مِنْہُمْ طَعَنْتُہُ بِہِ۔ (مسلم ۱۴۴۳۔ ابن حبان ۷۱۸۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٤٣) حضرت انس سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ حنین کے دن ارشاد فرمایا تھا۔ ” جس نے کسی کو قتل کیا تو اس (قاتل) کو مقتول کا سامان ملے گا۔ “ چنانچہ حضرت ابو طلحہ نے اس دن بیس آدمی قتل کیے اور ان کا سامان حاصل کیا۔
(۳۸۱۴۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ حُنَیْنٍ : مَنْ قَتَلَ قَتِیلاً فَلَہُ سَلَبُہُ ، فَقَتَلَ یَوْمَئِذٍ أَبُو طَلْحَۃَ عِشْرِینَ رَجُلاً ، فَأَخَذَ أَسْلاَبَہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٤٤) حضرت طلحہ بن مصرف سے روایت ہے کہ حنین کے دن مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انھیں آواز دی گئی۔ اے سورة بقرہ والو ! راوی کہتے ہیں : پس صحابہ کرام واپس پلٹ آئے اور ان کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔
(۳۸۱۴۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، قَالَ : انْہَزَمَ الْمُسْلِمُونَ یَوْمَ حُنَیْنٍ ، فَنُودُوا : یَا أَصْحَابَ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ ، قَالَ : فَرَجَعُوا وَلَہُمْ حُنَیْنٌ ، یَعَنْی بُکَائً۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٤٥) حضرت عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن لوگ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چھٹ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صرف ایک آدمی رہ گیا جس کا نام زید تھا۔ اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھورے رنگ کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھا ۔۔۔ یہ وہی خچر تھا جو نجاشی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدیہ کیا تھا ۔۔۔ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید سے کہا ۔ ” تو ہلاک ہوجائے اے زید ! لوگوں کو بلاؤ۔ “ چنانچہ زید نے آواز دی۔ اے لوگو ! یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں بلا رہے ہیں۔ لیکن کسی نے زید کو اس وقت جواب نہیں دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” تو ہلاک ہوجائے ! اوس اور خزرج کو خاص کر کے بلاؤ۔ “ چنانچہ حضرت زید نے آواز دی۔ اے اوس و خزرج کے لوگو ! یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں بلا رہے ہیں۔ لیکن اس وقت بھی زید کو کسی نے جواب نہ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (پھر) فرمایا۔ ” تو ہلاک ہوجائے۔ مہاجرین کو بلا لو کیونکہ ان کی گردنوں میں تو اللہ کے لیے بیعت ہے۔ “ راوی کہتے ہیں : مجھے حضرت بریدہ نے بیان کیا کہ لوگوں میں سے ایک ہزار ایسے لوگ (واپس) متوجہ ہوئے جنہوں نے نیاموں کو توڑا اور پھینک دیا تھا۔ پھر یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے (اور لڑے) یہاں تک کہ کفار پر ان کو فتح ہوئی۔
(۳۸۱۴۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ صُہَیْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُنَیْنٍ انْکَشَفَ النَّاسُ عَنْہُ ، فَلَمْ یَبْقَ مَعَہُ إِلاَّ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ : زَیْدٌ ، آخِذٌ بِعَنَانِ بَغْلَتِہِ الشَّہْبَائِ، وَہِیَ الَّتِی أَہْدَاہَا لَہُ النَّجَاشِیُّ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَیْحَک یَا زَیْدُ ، اُدْعُ النَّاسَ ، فَنَادَی : أَیُّہَا النَّاسُ ، ہَذَا رَسُولُ اللہِ یَدْعُوکُمْ ، فَلَمْ یُجِبْہُ أَحَدٌ عِنْدَ ذَلِکَ ، فَقَالَ : وَیْحَک ، حُضَّ الأَوْسَ وَالْخَزْرَجَ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ ، ہَذَا رَسُولُ اللہِ یَدْعُوکُمْ ، فَلَمْ یُجِبْہُ أَحَدٌ عِنْدَ ذَلِکَ ، فَقَالَ : وَیْحَک ، اُدْعُ الْمُہَاجِرِینَ ، فَإِنَّ لِلَّہِ فِی أَعَنْاقِہِمْ بَیْعَۃً ، قَالَ : فَحَدَّثَنِی بُرَیْدَۃُ ، أَنَّہُ أَقْبَلَ مِنْہُمْ أَلْفٌ ، قَدْ طَرَحُوا الْجُفُونَ وَکَسَرُوہَا ، ثُمَّ أَتَوْا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی فُتِحَ عَلَیْہِمْ۔

(بزار ۱۸۲۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٤٦) حضرت عمر مولیٰ غفرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس خچر پر تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے نیچے تشریف لائے اور لوگوں کو آواز دینے لگے ۔ ” اے سورة بقرہ والو ! ۔۔۔ اے درخت کی (جگہ) بیعت کرنے والو ! میں اللہ کا رسول ہوں (کیا یہ) لوگ پیٹھ پھیر کر چلے جائیں گے ؟
(۳۸۱۴۶) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عُمَرُ مَوْلَی غُفْرَۃَ ، قَالَ : نَزَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ بَغْلَۃٍ کَانَ عَلَیْہَا ، فَجَعَلَ یَصْرُخُ بِالنَّاسِ : یَا أَہْلَ سُورَۃِ الْبَقَرَۃِ ، یَا أَہْلَ بَیْعَۃِ الشَّجَرَۃِ ، أَنَا رَسُولُ اللہِ وَنَبِیُّہُ ، وَتَوَلَّوْا مُدْبِرِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٤٧) حضرت اسماعیل بن ابی خالد روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں زخم کے آثار تھے تو میں نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ غزوہ حنین کے دن میرے اس ہاتھ پر ضرب لگ گئی تھی۔ اسماعیل کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا : آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ حنین میں حاضر ہوئے تھے ۔ انھوں نے جواب دیا۔ ہاں !
(۳۸۱۴۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ أَوْفَی بِیَدِہِ ضَرْبَۃٌ ، فَقُلْتُ : مَا ہَذَا ؟ فَقَالَ : ضُرِبْتُہَا یَوْمَ حُنَیْنٍ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : وَشَہِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُنَیْنًا ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ (بخاری ۴۳۱۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
(٣٨١٤٨) حضرت عبداللہ بن عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے بعد قبیلہ ہوازن کے کچھ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں آپ سے ایک رغبت ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ” تمہاری رغبت کس چیز میں ہے۔ حسب (رشتہ داروں میں) یا مال میں “ انھوں نے جواب دیا (مال میں نہیں) بلکہ حسب میں، ماؤں میں اور بیٹیوں میں۔ رہا مال تو وہ اللہ تعالیٰ ہمیں پھر دے دیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو کچھ میرے اور بنو ہاشم کے قبضہ میں موجود ہے وہ تو میں واپس کرتا ہوں اور باقی لوگوں سے میں تمہارے لیے سفارش کروں گا جب میں نماز پڑھ لوں گا۔ انشاء اللہ۔ پس تم کھڑے ہوجانا اور یوں یوں کہنا۔ پس جو انھوں نے کہنا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں وہ سکھا دیا ۔ چنانچہ انھوں نے وہی کچھ کہا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا تھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی سفارش فرمائی۔ چنانچہ جو کچھ عورتوں میں سے مسلمانوں کے قبضے میں موجود تھیں وہ سارا کچھ مسلمانوں نے واپس کردیا سوائے حضرت اقرع بن حابس کے اور عیینہ بن حصن کے ۔ جو عورتیں ان دونوں کے پاس تھیں انھوں نے انھیں اپنے پاس ہی رکھا۔
(۳۸۱۴۸) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی ، عَنْ أَخِیہِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ؛ أَنَّ نَفَرًا مِنْ ہَوَازِنَ جَاؤُوا بَعْدَ الْوَقْعَۃِ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّا نَرْغَبُ فِی رَسُولِ اللہِ ، قَالَ : فِی أَیِّ ذَلِکَ تَرْغَبُونَ ، أَفِی الْحَسَبِ ، أَمْ فِی الْمَالِ؟ قَالُوا: بَلْ فِی الْحَسَبِ ، وَالأُمَّہَاتِ ، وَالْبَنَاتِ ، وَأَمَّا الْمَالُ فَسَیَرْزُقُنَا اللَّہُ، قَالَ: أَمَّا أَنَا، فَأَرُدَّ مَا فِی یَدِی وَأَیْدِی بَنِی ہَاشِمٍ مِنْ عَوْرَتِکُمْ، وَأَمَّا النَّاسُ فَسَأَشْفَعُ لَکُمْ إِلَیْہِمْ إِذَا صَلَّیْتُ إِنْ شَائَ اللَّہُ، فَقُومُوا فَقُولُوا کَذَا وَکَذَا، فَعَلَّمَہُمْ مَا یَقُولُونَ، فَفَعَلُوا مَا أَمَرَہُمْ بِہِ، وَشَفَعَ لَہُمْ، فَلَمْ یَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ إِلاَّ رَدَّ مَا فِی یَدَیْہِ مِنْ عَوْرَتِہِمْ، غَیْرَ الأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ، وَعُیَیْنَۃَ بْنِ حِصْنٍ، أَمْسَکَا امْرَأَتَیْنِ کَانَتَا فِی أَیْدِیہِمَا۔
tahqiq

তাহকীক: