মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮১০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١٠٩) حضرت ابو الزبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل طائف کا محاصرہ کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں تو بنو ثقیف کے نیزوں نے جلا ڈالا ہے لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے ان کے خلاف بد دعا کریں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! بنو ثقیف کو ہدایت دے۔ دو مرتبہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حضرت خولہ حاضر ہوئیں اور عرض کیا۔ مجھے خبر ملی ہے کہ خزاعہ کی بیٹی بہت زیورات والی ہے۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ کل آپ کو طائف فتح کروا دیں تو آپ اس کے زیورات مجھے ہدیہ فرما دیجئے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان سے لڑائی کی جازت ہی نہ دی ہو ؟ اس پر ایک آدمی نے ۔۔۔ ہمارے خیال میں حضرت عمر تھے ۔۔۔ کہا ۔۔۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جس قوم کے بارے میں آپ کو لڑائی کی اجازت نہیں دی گئی اس پر آپ نے پڑاؤ کیوں ڈالا ہوا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (آ کر) مقام جعرانہ میں اترے اور وہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کی غنیمتوں کو تقسیم فرمایا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہیں سے عمرہ کے لیے داخل ہوگئے پھر (عمرہ کے بعد) مدینہ منورہ چلے گئے۔
(۳۸۱۰۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَاصَرَ أَہْلَ الطَّائِفِ ، فَجَائَہُ أَصْحَابُہُ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَحْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِیفٍ ، فَادْعُ اللَّہَ عَلَیْہِمْ ، فَقَالَ : اللَّہُمَ اہْدِ ثَقِیفًا ، مَرَّتَیْنِ۔

قَالَ : وَجَائَتْہُ خَوْلَۃُ ، فَقَالَ : إِنِّی نُبِّئْتُ أَنَّ بِنْتَ خُزَاعَۃَ ذَاتُ حُلِیٍّ ، فَنَفِّلَنِّی حُلِیَّہَا إِنْ فَتَحَ اللَّہُ عَلَیْک الطَّائِفَ غَدًا ، قَالَ : إِنْ لَمْ یَکُنْ أَذِنَ لَنَا فِی قِتَالِہِمْ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ ، نُرَاہُ عُمَرَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا مُقَامُک عَلَی قَوْمٍ لَمْ یُؤْذَنْ لَک فِی قِتَالِہِمْ ؟ قَالَ : فَأَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالرَّحِیلِ ، فَنَزَلَ الْجِعْرَانَۃَ، فَقَسَّمَ بِہَا غَنَائِمَ حُنَیْنٍ ، ثُمَّ دَخَلَ مِنْہَا بِعُمْرَۃٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمَدِینَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١١٠) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف کے دن ، مشرکین کے غلاموں میں سے جو کوئی بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو آزاد فرما دیا۔
(۳۸۱۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عبَّاسٍ ، قَالَ : أَعْتَقَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الطَّائِفِ کُلَّ مَنْ خَرَجَ إِلَیْہِ مِنْ رَقِیقِ الْمُشْرِکِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١١١) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دو غلام طائف کے دن نکل کر آئے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کو آزاد فرما دیا تھا۔ ان میں سے ایک ابو بکرہ تھے ۔ چنانچہ یہ دونوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موالی (آزاد کردہ) تھے۔
(۳۸۱۱۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجَ غُلاَمَانِ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الطَّائِفِ فَأَعْتَقَہُمَا ، أَحَدُہُمَا أَبُو بَکْرَۃَ ، فَکَانَا مَوْلَیَیْہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١١٢) حضرت عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وادی قُریٰ کا محاصرہ فرمایا۔
(۳۸۱۱۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ کَہْمَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُحَاصِرًا وَادِیَ الْقُرَی۔ (بیہقی ۳۲۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١١٣) حضرت عبداللہ بن سنان سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل طائف کا پچیس دن تک محاصرہ فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے خلاف ہر نماز کے بعد بد دعا فرمائی۔
(۳۸۱۱۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَیْسٌ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْن سِنَانٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَاصَرَ أَہْلَ الطَّائِفِ خَمْسَۃً وَعِشْرِینَ یَوْمًا ، یَدْعُو عَلَیْہِمْ فِی دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١١٤) حضرت عبداللہ بن معیہ بیان کرتے ہیں کہ طائف کے دن دو افراد زخمی ہوگئے ۔ راوی کہتے ہیں : انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا گیا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے بارے میں بتایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بارے میں یہ حکم دیا کہ جہاں پر یہ پائے گئے اور قتل ہوئے وہیں پر ان کو دفن کیا جائے۔
(۳۸۱۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ سَمِعْتُ شَیْخًا مِنْ بَنِی عَامِرٍ ، أَحَدِ بَنِی سُوَائَۃَ ، یُقَالُ لَہُ : عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُعَیَّۃَ ، قَالَ : أُصِیبَ رَجُلاَنِ یَوْمَ الطَّائِفِ ، قَالَ : فَحُمِلاَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ : فَأُخْبِرَ بِہِمَا ، فَأَمَرَ بِہِمَا أَنْ یُدْفَنَا حَیْثُ أُصِیبَا وَلُقِیَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١١٥) حضرت ابوبکر بن ابی زہیر ثقفی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مقام نَبَاۃَ یا مقام نَبَاوَۃ میں ۔۔۔ نباوہ طائف کا حصہ ہے۔ خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے خطبہ میں فرما رہے تھے۔ ” قریب ہے کہ تم اہل جنت کو اہل جہنم سے (جدا) پہچان لو ۔ اور اپنے بہتر لوگوں کو بدتر لوگوں سے (جدا) پہچان لو۔ “ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کس ذریعہ سے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” اچھی تعریف کے ذریعہ سے اور بُری تعریف کے ذریعہ سے، تم لوگ زمین میں خدا کے گواہ ہو۔ “
(۳۸۱۱۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أُمَیَّۃَ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی زُہَیْرٍ الثَّقَفِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ فِی خُطْبَتِہِ بِالنَّبَاۃِ ، أَوْ بِالنَّبَاوَۃِ ، وَالنَّبَاوَۃُ مِنَ الطَّائِفِ: تُوشِکُونَ أَنْ تَعْرِفُوا أَہْلَ الْجَنَّۃِ مِنْ أَہْلِ النَّارِ ، وَخِیَارَکُمْ مِنْ شِرَارِکُمْ ، قَالَوا : بِمَ ، یَا رَسُولَ اللہِ؟ قَالَ : بِالثَّنَائِ الْحَسَنِ وَالثَّنَائِ السَّیِّئِ ، أَنْتُمْ شُہَدَائُ اللہِ فِی الأَرْضِ۔ (ابن ماجہ ۴۲۲۱۔ احمد ۴۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١١٦) حضرت عبد الملک بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بنو ثقیف کا محاصرہ کیا ہوا تھا تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب سے میں نے اس جگہ پڑاؤ کیا ہے تب سے میں نے فرشتہ نہیں دیکھا۔ راوی کہتے ہیں : (یہ بات سن کر) حضرت خولہ بنت حکیم سلیمہ چل پڑیں اور انھوں نے یہ بات حضرت عمر کو بیان فرمائی۔ حضرت عمر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خولہ کی بات بیان کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : خولہ سچ کہتی ہیں۔ پھر حضرت عمر نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوچ کرنے کا اشارہ کیا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ فرما لیا۔
(۳۸۱۱۶) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَہُوَ مُحَاصِرٌ ثَقِیفًا : مَا رَأَیْتُ الْمَلَکَ مُنْذُ نَزَلْتُ مَنْزِلِی ہَذَا ، قَالَ : فَانْطَلَقَتْ خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیمٍ السُّلَمِیَّۃُ ، فَحَدَّثَتْ ذَلِکَ عُمَرَ ، فَأَتَی عُمَرُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَذَکَرَ لَہُ قَوْلَہَا ، فَقَالَ : صَدَقَتْ ، فَأَشَارَ عُمَرُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِیلِ ، فَارْتَحَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١١٧) حضرت عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف کے بعد حنین سے واپس ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :” سوئی ، دھاگہ (تک) جمع کروا دو ۔ کیونکہ غنیمت میں خیانت جہنم ہے اور خیانت کرنے والے کے لیے قیامت کے دن عیب و رسوائی ہے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ کا ایک بال پکڑا اور فرمایا ” میرے لیے تمہارے اس مال میں سے یہ بھی نہیں ہے سوائے خمس کے اور خمس بھی (انجام کے اعتبار سے) تمہاری طرف رد ہوجاتا ہے۔
(۳۸۱۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، قَالَ : لَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَیْنٍ بَعْدَ الطَّائِفِ ، قَالَ : أَدُّوا الْخِیَاطَ وَالْمِخْیَطَ ، فَإِنَّ الْغُلُولَ نَارٌ ، وَعَارٌ ، وَشَنَارٌ عَلَی أَہْلِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ الْخُمُسَ ، ثُمَّ تَنَاوَلَ شَعَرَۃً مِنْ بَعِیرٍ ، فَقَالَ : مَا لِی مِنْ مَالِکُمْ ہَذَا إِلاَّ الْخُمُسُ ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَیْکُمْ۔ (عبدالرزاق ۹۴۹۸۔ احمد ۱۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١١٨) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف سے تشریف لائے تو مقام جعرانہ میں فروکش ہوئے اور وہیں پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غنیمتوں کو تقسیم فرمایا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی مقام پر عمرہ ادا فرمایا۔ اور یہ واقعہ شوال کی آخری دو راتوں سے قبل کا ہے۔
(۳۸۱۱۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ عُتْبَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّائِفِ نَزَلَ الْجِعْرَانَۃَ ، فَقَسَّمَ بِہَا الْغَنَائِمَ ، ثُمَّ اعْتَمَرَ مِنْہَا ، وَذَلِکَ لِلَیْلَتَیْنِ بَقِیَتَا مِنْ شَوَّالٍ۔ (ابن سعد ۱۷۱۔ ابویعلی ۲۳۷۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١١٩) حضرت زبیر سے روایت ہے کہ وہ طائف کے دن اپنی کچھ خالاؤں کے مالک ہوئے (لیکن) پھر وہ خالائیں ان کی ملکیت میں آنے کی وجہ سے ان پر آزاد ہوگئیں۔
(۳۸۱۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُرَارَۃَ ، عَنْ أَشْیَاخِہِ ، عَنِ الزُّبَیْرِ ؛ أَنَّہُ مَلَکَ یَوْمَ الطَّائِفِ خَالاَتٍ لَہُ ، فَأُعْتِقْنَ بِمِلْکِہِ إِیَّاہُنَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٢٠) حضرت ابن عباس روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مؤتہ کے طرف لشکر روانہ فرمایا اور ان پر حضرت زید کو حاکم مقرر فرمایا اور اگر یہ قتل ہوجائیں تو پھر حضرت جعفر امیر ہوں گے اور اگر یہ بھی قتل ہوجائیں تو پھر ابن رواحہ امیر ہوں گے۔ حضرت ابن رواحہ لشکر سے پیچھے رہ گئے اور انھوں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا فرمائی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دیکھا اور پوچھا۔ تمہیں کس چیز نے (لشکر سے) پیچھے کردیا ؟ انھوں نے جواب دیا۔ (اس لیے رُکا) تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا کرلوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا ایک شام دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ “
(۳۸۱۲۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَی مُؤْتَۃَ ، فَاسْتَعْمَلَ زَیْدًا ، فَإِنْ قُتِلَ زَیْدٌ فَجَعْفَرٌ ، فَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَابْنُ رَوَاحَۃَ ، فَتَخَلَّفَ ابْنُ رَوَاحَۃَ فَجَمَّعَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَرَآہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا خَلَّفَکَ ؟ قَالَ : أُجَمِّعُ مَعَک ، قَالَ : لَغَدْوَۃٌ ، أَوْ رَوْحَۃٌ فِی سَبِیلِ اللہِ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٢١) حضرت خالد بن سمرہ روایت کرتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عبداللہ بن رباح انصاری تشریف لائے ۔۔۔ اور انصار صحابہ ان کو فقیہ سمجھتے تھے تو انھوں نے فرمایا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھڑ سوار ابو قتادہ نے بیان کیا۔ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جیش الامراء (غزوہ مؤتہ کا لشکر) کو روانہ فرمایا تو ارشاد فرمایا : ” تم پر زید بن حارثہ حاکم ہیں۔ پس اگر یہ قتل ہوجائیں تو پھر جعفر بن ابی طالب ہیں اور اگر یہ بھی قتل ہوجائیں تو پھر عبداللہ بن رواحہ ہیں۔ “ حضرت جعفر اچھل پڑے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس بات سے خوف نہیں کھاتا کہ آپ مجھ پر زید کو حاکم بنائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جانے دو ! تم نہیں جانتے کہ ان میں کیا چیز خیر ہے۔

٢۔ پھر یہ لوگ چل پڑے اور جتنی دیر اللہ کو منظور تھا یہ لوگ وہاں رہے ۔ پھر (ایک دن) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف فرما ہوئے اور حکم دیا اور یہ منادی کی گئی کہ الصلاۃ جامعۃ۔ چنانچہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جمع ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” خیر کی بات پہنچی ہے ، خیر کی بات پہنچی ہے۔ یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔۔۔ میں تمہیں اس لڑنے والے لشکر کے بارے میں خبر دیتا ہوں۔ یہ لوگ (یہاں سے) چلے تو ان کی دشمن سے ملاقات (اور لڑائی) ہوئی چنانچہ حضرت زید شہادت کی حالت میں قتل کردیئے گئے۔ تم لوگ ان کے لیے استغفار کرو، پھر جھنڈا حضرت جعفر بن ابی طالب نے سنبھال لیا اور انھوں نے دشمن پر خوب حملہ کیا یہاں تک کہ وہ بھی شہادت کی حالت میں قتل ہوگئے۔ تم ان کی شہادت پر گواہ بن جاؤ اور ان کے لیے استغفار کرو۔ پھر جھنڈا، حضرت عبداللہ بن رواحہ نے سنبھال لیا اور اپنے قدم خوب جما لیے (لیکن) آخر کار وہ شہید کردیئے گئے۔ تم ان کے لیے استغفار کرو پھر (ان کے بعد) جھنڈا حضرت خالد بن الولید نے سنبھال لیا ہے حالانکہ وہ (پہلے سے متعین) امیروں میں سے نہیں تھے (بلکہ) انھوں نے خود اپنے آپ کو امیر بنا لیا ہے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا مانگی ” اے اللہ ! یہ خالد تو تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں تو ہی ان کی مدد فرما۔ “ اس دن سے حضرت خالد بن الولید کا نام سیف اللہ المسلول پڑگیا ۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” نکل جاؤ اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو۔ کوئی بھی تم میں سے پیچھے نہ رہے۔ “ چنانچہ صحابہ کرام پیدل اور سوار ہو کر نکل پڑے اور یہ سخت گرمی کا وقت تھا۔

٣۔ ایک رات صحابہ راستہ سے ہٹے ہوئے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اونگھ آگئی یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کجاوہ سے ایک طرف جھک گئے ۔ چنانچہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے ہاتھ سے سہارا دیا۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدھا کرنے والے آدمی کے ہاتھ کا چھونا محسوس فرمایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کون شخص ہے ؟ میں نے عرض کیا : ابو قتادہ ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چل پڑے پھر (دوبارہ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اونگھ آئی یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے کجاوہ سے ایک طرف جھک گئے ۔ میں (دوبارہ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور میں نے اپنے ہاتھ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سہارا دیا۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی سیدھا کرنے والے آدمی کے ہاتھ کا چھونا محسوس کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ یہ کون شخص ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ ابو قتادہ ہے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ میں ارشاد فرمایا : میرا خیال تو اپنے بارے میں یہ ہے کہ میں نے تمہیں آج کی رات مشقت میں ڈال دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ ہرگز نہیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ نیند یا اونگھ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشقت میں ڈالا ہوا ہے۔ لہٰذا اگر آپ ایک طرف ہوجائیں اور پڑاؤ ڈال لیں تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیند ختم ہوجائے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا خوف ہے کہ لوگ ان یخذل الناس۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : ہرگز نہیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔

٤۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پھر تم ہمارے واسطے پردے والی جگہ تلاش کرو۔ “ راوی کہتے ہیں : میں راستہ سے اترا تو اچانک مجھے درختوں کا ایک جھُنڈ نظر آیا۔ چنانچہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ درختوں کا جُھنڈ ہے جو مجھے ملا ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ راستہ پر تھے وہ راستہ سے ایک طرف ہٹے اور انھوں نے پڑاؤ کیا اور درختوں کے جھنڈ میں راستہ سے پردہ کرلیا۔ پھر ہماری آنکھ اس حالت میں کھلی کہ سورج ہم پر طلوع ہوچکا تھا۔ چنانچہ ہم کھڑے ہوئے درآنحالیکہ ہم خوف زدہ تھے ۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” آرام آرام سے “ یہاں تک کہ سورج بلند ہوگیا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جس آدمی نے ان دو رکعات کو صبح کی نماز سے پہلے ادا کیا ہے وہ بھی ان کو ادا کرلے “ چنانچہ یہ دو رکعات ان لوگوں نے بھی پڑھیں جنہوں نے ان کو (پہلے) پڑھا تھا اور انھوں نے بھی پڑھا جنہوں نے پہلے نہیں پڑھا تھا۔

٥۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا اور نماز کے لیے منادی کی گئی پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا تو فرمایا : ” ہم اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے ہیں۔ ہم کسی ایسی دنیوی چیز میں مشغول نہیں تھے کہ جس نے ہمیں نماز سے لاپرواہ کردیا ہو بلکہ ہماری ارواح اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں تھیں۔ جب چاہتے ہیں روحوں کو بھیجتے ہیں۔ خبردار ! جس آدمی کو یہ نماز کسی بندہ صالح کی طرف سے آ لے تو اس کو چاہیے کہ اس کے ساتھ ایسی نماز ہی قضا کرلے۔ “

٦۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پیاس ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کوئی پیاس نہیں ہے۔ اے ابو قتادہ ! مجھے وضو والا برتن دو “۔ راوی کہتے ہیں : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وضو والا برتن لے کر حاضر ہوا ۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اپنی گود میں رکھ لیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے منہ کے ساتھ منہ لگایا ۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں پھونک ماری یا نہیں ماری۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو قتادہ ! مجھے کجاوہ پر سے چھوٹا پیالہ پکڑا دو ۔ چنانچہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں دو پیالہ کے درمیان کا پیالہ لے کر حاضر ہوا ۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں پانی ڈالا اور فرمایا : لوگوں کو پلاؤ۔ اور (خود) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز لگائی اور بلند آواز کر کے فرمایا : خبردار ! جس کسی کے پاس بھی برتن پہنچے تو اس کو چاہیے کہ وہ پانی پی لے۔ پس میں ایک آدمی کے پاس پہنچا اور اس کو پانی پلایا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پیالہ میں بقیہ پانی لے کر لوٹا (وہاں سے مزید لے کر) میں گیا اور میں نے پہلے آدمی کے ساتھ والے کو پانی پلایا۔ یہاں تک کہ اس حلقہ کے تمام لوگوں کو میں نے پانی پلایا۔ پھر میں پیالہ کا بقیہ پانی لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا (وہاں سے مزید لے کر) اور میں گیا اور میں نے دوسرے حلقہ کو پانی پلایا یہاں تک کہ میں نے سات حلقوں کو پانی پلایا۔

٧۔ میں نے نظر لمبی کر کے وضو کے برتن میں دیکھنا شروع کیا کہ اس میں کچھ باقی ہے ؟ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیالہ میں پانی انڈیلا اور مجھے فرمایا : تو پی ! راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ مجھے کچھ زیادہ پیاس نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرے پاس سے دور رہو۔ آج کے دن تو لوگوں کو پلانے والا میں ہوں۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیالہ میں پانی ڈالا اور اس کو نوش فرمایا۔ پھر دوبارہ پیالہ میں پانی ڈالا اور نوش فرمایا پھر سہ بارہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیالہ میں پانی ڈالا اور نوش فرمایا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوگئے اور ہم بھی سوار ہوگئے۔

٨۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب لوگ اپنے پیغمبر کو غیر موجود پائیں اور ان کی نماز ان کے بہت قریب آجائے تو تم ایسے لوگوں کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہو کہ وہ کیا کریں “ میں نے عرض کاب۔ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کیا ان میں ابوبکر اور عمر موجود نہیں ہیں۔ اگر لوگ ان دونوں کی بات مانیں گے تو ہدایت پاجائیں گے اور ان کی جماعتیں بھی ہدایت پاجائیں گی اور اگر لوگ ان دونوں کی نافرمانی کریں گے تو لوگ بھی گمراہ ہوں گے اور ان کی جماعتیں بھی گمراہ ہوں گی “ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔

٩۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چل پڑے اور ہم بھی چل پڑے ۔ یہاں تک کہ جب ہم نصف دن میں پہنچے تو لوگوں نے درختوں کے سایہ کو تلاش کیا۔ پھر ہم کچھ مہاجرین کے پاس آئے۔ ان میں حضرت عمر بھی تھے۔ ہم نے ان سے کہا کہ اگر تم اپنے نبی کو نہ پاؤ اور نماز کا وقت ہوجائے تو تم کیا کرو گے ؟ انھوں نے کہا کہ بخدا ہم تمہیں بتائیں گے۔ پھر حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے {إِنَّک مَیِّتٌ وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ } میرے خیال میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اپنے پاس بلائے گا۔ آپ کھڑے ہوں اور نماز پڑھائیں۔ میں آپ کے جانے کے بعد نگرانی کروں گا۔ اگر معاملات ٹھیک ہوئے تو ساتھ آملوں گا۔ پھر نماز کھڑی ہوگئی اور گفتگو رک گئی۔
(۳۸۱۲۱) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَیْبَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَیْرٍ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَیْنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ رَبَاحٍ الأَنْصَارِیُّ ، قَالَ : وَکَانَتِ الأَنْصَارُ تُفَقِّہُہُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَۃَ فَارِسُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَیْشَ الأُمَرَائِ ، وَقَالَ : عَلَیْکُمْ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ ، فَإِنْ أُصِیبَ زَیْدٌ فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ، فَإِنْ أُصِیبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللہِ بْنُ رَوَاحَۃَ ، فَوَثَبَ جَعْفَرٌ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا کُنْتُ أَرْہَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَیَّ زَیْدًا ، فَقَالَ : امْضِ ، فَإِنَّک لاَ تَدْرِی أَیُّ ذَلِکَ خَیْرٌ۔

فَانْطَلَقُوا ، فَلَبِثُوا مَا شَائَ اللَّہُ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، وَأَمَرَ فَنُودِیَ : الصَّلاَۃُ جَامِعَۃٌ ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ثَابَ خَیْرٌ ، ثَابَ خَیْرٌ ، ثَلاَثًا ، أُخْبِرُکُمْ عَنْ جَیْشِکُمْ ہَذَا الْغَازِی ، انْطَلَقُوا فَلَقُوا الْعَدُوَّ ، فَقُتِلَ زَیْدٌ شَہِیدًا ، فَاسْتَغْفِرُوا لَہُ ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَائَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ، فَشَدَّ عَلَی الْقَوْمِ حَتَّی قُتِلَ شَہِیدًا ، اشْہَدُوا لَہُ بِالشَّہَادَۃِ ، وَاسْتَغْفِرُوا لَہُ ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَائَ عَبْدُ اللہِ بْنُ رَوَاحَۃَ ، فَأَثْبَتَ قَدَمَیْہِ حَتَّی قُتِلَ شَہِیدًا ، فَاسْتَغْفِرُوا لَہُ ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَائَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ ، وَلَمْ یَکُنْ مِنَ الأُمَرَائِ ، ہُوَ أَمَّرَ نَفْسَہُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اللَّہُمَّ إِنَّہُ سَیْفٌ مِنْ سُیُوفِکَ ، فَأَنْتَ تَنْصُرُہُ ، فَمِنْ یَوْمَئِذٍ سُمِّیَ سَیْفَ اللہِ الْمَسْلُولَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : انْفِرُوا ، فَأَمِدُّوا إِخْوَانَکُمْ ، وَلاَ یَتَخَلَّفَنَّ مِنْکُمْ أَحَدٌ ، فَنَفَرُوا مُشَاۃً وَرُکْبَانًا ، وَذَلِکَ فِی حَرٍّ شَدِیدٍ۔

فَبَیْنَمَا ہُمْ لَیْلَۃً مُمَایَلِینُ عَنِ الطَّرِیقِ ، إِذْ نَعَسَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی مَالَ عَنِ الرَّحْلِ ، فَأَتَیْتُہُ ، فَدَعَّمْتُہُ بِیَدَیَّ ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ یَدِ رَجُلٍ اعْتَدَلَ ، فَقَالَ : مَنْ ہَذَا ؟ فَقُلْتُ : أَبُو قَتَادَۃَ ، فَسَارَ أَیْضًا ثُمَّ نَعَسَ حَتَّی مَالَ عَنِ الرَّحْلِ ، فَأَتَیْتُہُ ، فَدَعَّمْتُہُ بِیَدَیَّ ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ یَدِ رَجُلٍ اعْتَدَلَ ، فَقَالَ : مَنْ ہَذَا ؟ فَقُلْتُ : أَبُو قَتَادَۃَ ، قَالَ فِی الثَّانِیَۃِ ، أَوِ الثَّالِثَۃِ ، قَالَ : مَا أُرَانِی إِلاَّ قَدْ شَقَقْتُ عَلَیْک مُنْذُ اللَّیْلَۃِ ، قَالَ : قُلْتُ : کَلاَ ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی ، وَلَکِنْ أَرَی الْکَرَی أَو النُّعَاسَ قَدْ شَقَّ عَلَیْک ، فَلَوْ عَدَلْتَ فَنَزَلْتَ حَتَّی یَذْہَبَ کَرَاکَ ، قَالَ : إِنِّی أَخَافُ أَنْ یُخْذَلَ النَّاسُ ، قَالَ : قُلْتُ : کَلاَّ ، بِأَبِی وَأُمِّی۔

قَالَ: فَابْغِنَا مَکَانًا خَمِیرًا، قَالَ: فَعَدَلْتُ عَنِ الطَّرِیقِ، فَإِذَا أَنَا بِعُقْدَۃٍ مِنْ شَجَرٍ، فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللہِ، ہَذِہِ عُقْدَۃٌ مِنْ شَجَرٍ قَدْ أَصَبْتُہَا ، قَالَ : فَعَدَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَعَدَلَ مَعَہُ مَنْ یَلِیہِ مِنْ أَہْلِ الطَّرِیقِ ، فَنَزَلُوا وَاسْتَتَرُوا بِالْعُقْدَۃِ مِنَ الطَّرِیقِ ، فَمَا اسْتَیْقَظْنَا إِلاَّ بِالشَّمْسِ طَالِعَۃً عَلَیْنَا ، فَقُمْنَا وَنَحْنُ وَہِلِینَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رُوَیْدًا رُوَیْدًا ، حَتَّی تَعَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ کَانَ یُصَلِّی ہَاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ فَلْیُصَلِّہِمَا ، فَصَلاَہُمَا مَنْ کَانَ یُصَلِّیہِمَا ، وَمَنْ کَانَ لاَ یُصَلِّیہِمَا۔

ثُمَّ أَمَرَ فَنُودِیَ بِالصَّلاَۃِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی بِنَا ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّا نَحْمَدُ اللَّہَ ، أَنا لَمْ نَکُنْ فِی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْیَا یَشْغَلُنَا عَنْ صَلاَتِنَا ، وَلَکِنْ أَرْوَاحَنَا کَانَتْ بِیَدِ اللہِ ، أَرْسَلَہَا أَنَّی شَائَ ، أَلاَ فَمَنْ أَدْرَکَتْہُ ہَذِہِ الصَّلاَۃُ مِنْ عَبْدٍ صَالِحٍ فَلْیَقْضِ مَعَہَا مِثْلَہَا۔

قَالَوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، الْعَطَشُ ، قَالَ : لاَ عَطَشَ ، یَا أَبَا قَتَادَۃَ ، أَرِنِی الْمَیْضَأَۃَ ، قَالَ : فَأَتَیْتُہُ بِہَا ، فَجَعَلَہَا فِی ضِبْنِہِ ، ثُمَّ الْتَقَمَ فَمَہَا ، فَاَللَّہُ أَعْلَمُ أَنَفَثَ فِیہَا ، أَمْ لاَ ، ثُمَّ قَالَ : یَا أَبَا قَتَادَۃَ ، أَرِنِی الْغُمَرَ عَلَی الرَّاحِلَۃِ ، فَأَتَیْتہ بِقَدَحٍ بَیْنَ الْقَدَحَیْنِ ، فَصَبَّ فِیہِ ، فَقَالَ : اسْقِ الْقَوْمَ ، وَنَادَی رَسُولُ اللہِ وَرَفَعَ صَوْتَہُ : أَلاَ مَنْ أَتَاہُ إِنَاؤُہُ فَلْیَشْرَبْہُ ، فَأَتَیْتُ رَجُلاً فَسَقَیْتُہُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِفَضْلَۃِ الْقَدَحِ ، فَذَہَبْتُ فَسَقَیْتُ الَّذِی یَلِیہِ ، حَتَّی سَقَیْتُ أَہْلَ تِلْکَ الْحَلْقَۃِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِفَضْلَۃِ الْقَدَحِ ، فَذَہَبْتُ فَسَقَیْتُ حَلْقَۃً أُخْرَی ، حَتَّی سَقَیْت سَبْعَۃَ رُفَقٍ۔

وَجَعَلْتُ أَتَطَاوَلُ ، أَنْظُرُ ہَلْ بَقِیَ فِیہَا شَیْئٌ ، فَصَبَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْقَدَحِ ، فَقَالَ لِی: اشْرَبْ ، قَالَ : قُلْتُ : بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی ، إِنِّی لاَ أَجِدُ بِی کَثِیرَ عَطَشٍ ، قَالَ إِلَیْک عَنِّی ، فَإِنِّی سَاقِی الْقَوْمَ مُنْذُ الْیَوْمِ ، قَالَ : فَصَبَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْقَدَحِ فَشَرِبَ ، ثُمَّ صَبَّ فِی الْقَدَحِ فَشَرِبَ، ثُمَّ صَبَّ فِی الْقَدَحِ فَشَرِبَ ، ثُمَّ رَکِبَ وَرَکِبْنَا۔

ثُمَّ قَالَ : کَیْفَ تَرَی الْقَوْمَ صَنَعُوا حِینَ فَقَدُوا نَبِیَّہُمْ ، وَأَرْہَقَتْہُمْ صَلاَتُہُمْ ؟ قُلْتُ : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَلَیْسَ فِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ ؟ إِنْ یُطِیعُوہُمَا فَقَدْ رَشَِدُوا ، وَرَشَِدَتْ أُمَّتُہُمْ ، وَإِنْ یَعْصُوہُمَا فَقَدْ غَوَوْا وَغَوَتْ أُمَّتُہُمْ ، قَالَہَا ثَلاَثًا ، ثُمَّ سَارَ وَسِرْنَا ، حَتَّی إِذَا کُنَّا فِی نَحْرِ الظَّہِیرَۃِ ، إِذَا نَاسٌ یَتَّبِعُونَ ظِلاَلَ الشَّجَرَۃِ، فَأَتَیْنَاہُمْ ، فَإِذَا نَاسٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ فِیہِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : فَقُلْنَا لَہُمْ : کَیْفَ صَنَعْتُمْ حِینَ فَقَدْتُمْ نَبِیَّکُمْ ، وَأَرْہَقَتْکُمْ صَلاَتُکُمْ ؟ قَالَوا : نَحْنُ وَاللہِ نُخْبِرُکُمْ ، وَثَبَ عُمَرُ ، فَقَالَ لأَبِی بَکْرٍ : إِنَّ اللَّہَ قَالَ فِی کِتَابِہِ: {إِنَّک مَیِّتٌ وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ} وَإِنِّی وَاللہِ مَا أَدْرِی لَعَلَّ اللَّہَ قَدْ تَوَفَّی نَبِیَّہُ ، فَقُمْ فَصَلِّ وَانْطَلِقْ، إِنِّی نَاظِرٌ بَعْدَک وَمُتلوِّمٌ ، فَإِنْ رَأَیْتُ شَیْئًا وَإِلاَّ لَحِقْتُ بِکَ ، قَالَ : وَأُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ ، وَانْقَطَعَ الْحَدِیثُ۔

(ابوداؤد ۴۳۸۔ ترمذی ۱۷۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٢٢) حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حضرت جعفر بن ابی طالب ، زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ کی موت کی خبر پہنچی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک پر غم کے اثرات ظاہر تھے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ میں (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو) دروازہ کی پھاڑ سے دیکھ رہی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جعفر کی عورتیں ۔۔۔ پھر اس آدمی نے ان عورتوں کے رونے کا ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آدمی سے کہا کہ وہ انھیں (جا کر) منع کرے۔
(۳۸۱۲۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَمْرَۃَ ؛ أَنَّہَا سَمِعَتْ عَائِشَۃَ تَقُولُ : لَمَّا جَائَ نَعْیُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، وَزَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ جَلَسَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یُعْرَفُ فِی وَجْہِہِ الْحُزْنُ ، قَالَتْ عَائِشَۃُ : وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ ، فَأَتَاہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ نِسَائَ جَعْفَرٍ ، فَذَکَرَ مِنْ بُکَائِہِنَّ ، فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَنْہَاہُنَّ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٢٣) حضرت شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت جعفر بن ابی طالب غزوہ مؤتہ میں مقام بلقاء میں شہید ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی : ” اے اللہ ! جعفر کے گھر جعفر کا وہ بہترین خلیفہ پیدا فرما جو تو اپنے نیک بندوں میں سے کسی بندہ کو عطا کرتا ہے۔
(۳۸۱۲۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ زَعَمَ ؛ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِی طَالِبٍ قُتِلَ یَوْمَ مُؤْتَۃَ بِالْبَلْقَائِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اللَّہُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِی أَہْلِہِ بِأَفْضَلَ مَا خَلَفْت عَبْدًا مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِینَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٢٤) حضرت خالد بن ولید بیان کرتے ہیں کہ غزوہ مؤتہ کے دن میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں۔ پھر (آخر) میرے ہاتھ میں ایک چوڑی تلوار باقی رہی۔
(۳۸۱۲۴) حَدَّثَنَا عبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، وَوَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ ، یَقُولُ: لَقَدِ انْدَقَّ فِی یَدَیَّ یَوْمَ مُؤْتَۃَ تِسْعَۃُ أَسْیَافٍ ، فَمَا صَبَرَتْ فِی یَدِی إِلاَّ صَفِیحَۃٌ لِی یَمَانِیَّۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٢٥) حضرت عطاء سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ مؤتہ میں قتل کیے جانے والے تین صحابہ کی موت کی خبر سنائی اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر جنازہ پڑھایا۔
(۳۸۱۲۵) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَطَائٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَعَی الثَّلاَثَۃَ الَّذِینَ قُتِلُوا بِمُؤْتَۃَ ، ثُمَّ صَلَّی عَلَیْہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٢٦) حضرت عبد الرحمن بن جبیر بن نفیر کہتے ہیں، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام کو غزوہ مؤتہ میں حضرت زید کے ساتھ شہید ہونے والے حضرات پر شدید غم ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” ضرور بالضرور اسی امت میں سے کچھ قومیں حضرت مسیح کو پالیں گی۔ اور وہ لوگ تم سے بہتر یا تم جیسے ہوں گے۔ “ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ کہی۔ ” اور اللہ تعالیٰ ایسی امت کو ہلاک نہیں کرے گا جس کے اول میں میں اور آخر میں مسیح ہوں گے۔
(۳۸۱۲۶) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو السَّکْسَکِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ نَفِیرٍ ، قَالَ : لَمَّا اشْتَدَّ حُزْنُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی مَنْ أُصِیبَ مِنْہُمْ مَعَ زَیْدٍ یَوْمَ مُؤْتَۃَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَیُدْرِکَنَّ الْمَسِیحَ مِنْ ہَذِہِ الأُمَّۃِ أَقْوَامٌ ، إِنَّہُمْ لَمِثْلُکُمْ ، أَوْ خَیْرٌ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، وَلَنْ یُخْزِیَ اللَّہُ أُمَّۃً ، أَنَا أَوَّلُہَا وَالْمَسِیحُ آخِرُہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٢٧) حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت جعفر کی وفات (کی خبر) آئی تو ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ انور پر غم (کے آثار) دیکھے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک صاحب حاضر ہوئے اور انھوں نے کہا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عورتیں رو رہی ہں ا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ان کی طرف واپس جاؤ۔ انھیں خاموش کرواؤ۔ اور اگر وہ انکار کریں تو تم ان کے منہ پر مٹی ڈال دینا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عائشہ کہتی ہیں : میں نے اپنے دل میں کہا : تو اپنے آپ کو بھی نہیں چھوڑتا اور نہ ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کو بجا لاتا ہے۔
(۳۸۱۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : لَمَّا أَتَتْ وَفَاۃُ جَعْفَرٍ ، عَرَفْنَا فِی وَجْہِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْحُزْنَ ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ النِّسَائَ یَبْکِینَ ، قَالَ : فَارْجِعْ إِلَیْہِنَّ فَأَسْکِتْہُنَّ ، فَإِنْ أَبَیْنَ فَاحْثُ فِی وُجُوہِہِنَّ التُّرَابَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَۃُ : قُلْتُ فِی نَفْسِی : وَاللہِ مَا تَرَکْتَ نَفْسَک ، وَلاَ أَنْتَ مُطِیعٌ رَسُولَ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ مؤتہ میں بھیجنے کے بارے میں محفوظ روایات
(٣٨١٢٨) حضرت یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر، اپنے والد، دادا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بنو مرہ کے اس آدمی نے بیان کیا جس نے (یعنی جس کی بیوی نے) مجھے دودھ پلایا تھا۔ اس نے کہا۔ گویا کہ میں غزوہ مؤتہ میں جعفر کو دیکھ رہا ہوں وہ اپنے سفید و سرخ گھوڑے سے نیچے اترے اور پھر اس کی کونچیں کاٹیں اور چل دیئے اور جا کر لڑائی کی یہاں تک کہ قتل (شہید) کردیئے گئے۔
(۳۸۱۲۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی الَّذِی أَرْضَعَنِی مِنْ بَنِی مُرَّۃَ ، قَالَ : کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی جَعْفَرٍ یَوْمَ مُؤْتَۃَ ، نَزَلَ عَنْ فَرَسٍ لَہُ شَقْرَائَ فَعَرْقَبَہَا ، ثُمَّ مَضَی فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ۔
tahqiq

তাহকীক: