মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮০৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٨٩) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کے سال روزہ رکھا یہاں تک کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام کدید میں پہنچے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے افطار کرلیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال میں سے تو آخری عمل کو ہی لیا جائے گا۔
(۳۸۰۸۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَامَ عَامَ الْفَتْحِ حَتَّی بَلَغَ الْکَدِیدَ ، ثُمَّ أَفْطَرَ ، وَإِنَّمَا یُؤْخَذُ بِالآخِرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٩٠) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پندرہ روز قیام کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز قصر پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کی طرف روانگی کی۔
(۳۸۰۹۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَقَامَ حَیْثُ فَتَحَ مَکَّۃَ خَمْسَ عَشْرَۃَ ، یَقْصُرُ الصَّلاَۃَ حَتَّی سَارَ إِلَی حُنَیْنٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٩١) حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ والے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار افراد کے سوا بقیہ تمام لوگوں کو امن عطا فرمایا۔
(۳۸۰۹۱) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ ، أَمَّنَ النَّاسَ إِلاَّ أَرْبَعَۃً۔ (دارقطنی ۱۶۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٩٢) حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب صلح حدیبیہ سے واپسی پر آیات {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا } آخر تک، نازل ہوئیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ غم اور شکستگی کی ملی جلی حالت میں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہے۔ پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے وہ تو آپ کے ساتھ کیا جائے گا۔ آپ اس کو خوشگواری اور مزہ سے پائیں لیکن ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان آیات پر اگلی آیت نازل فرمائی (ترجمہ) تاکہ وہ مؤمن مردوں اور عورتوں کو ایسے باغات میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ آخر آیت تک۔
(۳۸۰۹۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : أُنْزِلَتْ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ، مَرْجِعَہُ مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ ، وَأَصْحَابُہُ مُخَالِطُوا الْحُزْنِ وَالْکَآبَۃِ ، قَالَ: نَزَلَتْ عَلَیَّ آیَۃٌ ہِیَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا جَمِیعًا ، فَلَمَّا تَلاَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : ہَنِیئًا مَرِیئًا ، قَدْ بَیَّنَ اللَّہُ مَا یُفْعَلُ بِکَ، فَمَاذَا یُفْعَلُ بِنَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّہُ الآیَۃَ الَّتِی بَعْدَہَا : {لیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الأَنْہَارُ} حَتَّی خَتَمَ الآیَۃَ۔

(بخاری ۴۱۷۲۔ مسلم ۱۴۱۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٩٣) حضرت مکحول سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مکہ میں داخل ہوئے تو جنات نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شراروں کے ساتھ ہدف بنایا تو حضرت جبرائیل نے فرمایا : اے محمد ! پناہ حاصل کیجئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کلمات کے ذریعہ سے پناہ پکڑی پس ان جنات کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا۔ میں اللہ تعالیٰ کے ان کلمات تامہ کے ذریعہ سے پناہ پکڑتا ہوں جن سے آگے کوئی نیک و بد نہیں جاسکتا۔ ہر اس بُری چیز سے جو آسمان سے نازل ہو اور آسمان کی طرف اوپر چڑھے اور ہر اس شر سے جو زمین میں پھیلے اور ہر اس شر سے جو زمین سے نکلے اور رات، دن کے شر سے اور ہر رات کو آنے والے کے شر سے سوائے اس رات کے آنے والے کے جو خیر کے ساتھ آئے۔ اے رحمن۔ “
(۳۸۰۹۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مَکْحُولٌ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ تَلَقَّتْہُ الْجِنُّ بِالشَّرَرِ یَرْمُونَہُ ، فَقَالَ جِبْرَائِیلُ : تَعَوَّذْ یَا مُحَمَّدُ ، فَتَعَوَّذَ بِہَؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ فَدُحِرُوا عَنْہُ ، فَقَالَ : أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّاتِ ، الَّتِی لاَ یُجَاوِزہُنَّ بَرٌّ وَلاَ فَاجِرٌ ، مِنْ شَرِّ مَا نَزَلَ مِنَ السَّمَائِ ، وَمَا یَعْرُجُ فِیہَا ، وَمِنْ شَرِّ مَا بُثَّ فِی الأَرْضِ ، وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا ، وَمِنْ شَرِّ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ طَارِقٍ ، إِلاَّ طَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ یَا رَحْمَنُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٩٤) حضرت عبداللہ بن حبیب روایت کرتے ہیں کہ خالد بن ولید لات پر سے گزرے تو فرمایا :

اے کافروں کے بت ! تیری کوئی قدر نہیں ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے ذلیل کردیا ہے۔
(۳۸۰۹۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَبِیبٍ ، قَالَ : مَرَّ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ عَلَی اللاَتِ ، فَقَالَ :

یَا عُزَّ کُفْرَانَکِ لاَ سُبْحَانَکِ

إِنِّی رَأَیْتُ اللَّہَ قَدْ أَہَانَکِ (طبرانی ۳۸۱۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٩٥) حضرت ابو السفر سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شیبہ بن عثمان (صحیح قول کے مطابق یہ نام عثمان بن طلحہ ہے) کو پیغام بھیجا کہ کعبہ کی چابی لے آئیں۔ پھر آپ نے حضرت عمر سے فرمایا کہ ان کے ساتھ جاؤ، اگر وہ چابی لے آئیں تو ٹھیک ورنہ انھیں مار ڈالنا۔ وہ چابی لے آئے۔ آپ نے چابی لے لی تو شیبہ رونے لگے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ چابی لے لو، اللہ تعالیٰ جاہلیت اور اسلام میں تمہارے پاس اس چابی کے ہونے سے خوش ہے۔
(۳۸۰۹۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی السَّفَرِ ، قَالَ : لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ ، دَعَا شَیْبَۃَ بْنَ عُثْمَانَ بِالْمِفْتَاحِ ، مِفْتَاحِ الْکَعْبَۃِ ، فَتَلَکَّأَ ، فَقَالَ لِعُمَرَ : قُمْ فَاذْہَبْ مَعَہُ ، فَإِنْ جَائَ بِہَا وَإِلاَّ فَاجْلِدْ رَأْسَہُ ، قَالَ : فَجَائَ بِہَا ، قَالَ : فَأَجَالَہَا فِی حَجَرِہِ وَشَیْبَۃُ قَائِمٌ ، قَالَ : فَبَکَی شَیْبَۃُ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَاکَ فَخُذْہَا ، فَإِنَّ اللَّہَ قَدْ رَضِیَ لَکُمْ بِہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَالإِسْلاَمِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٩٦) حضرت ابن سابط سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان بن طلحہ کو (بیت اللہ کی) چابی پردے کے پیچھے سے عطا فرمائی۔
(۳۸۰۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی السَّوْدَائِ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَاوَلَ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَۃَ الْمِفْتَاحَ مِنْ وَرَائِ الثَّوْبِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٩٧) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے سال رمضان کے دس دن گزرنے کے بعد (سفر مکہ پر) نکلے۔
(۳۸۰۹۷) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ لِعَشْرٍ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ۔

(احمد ۳۱۵۔ ابن سعد ۱۳۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٩٨) حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن حکم فرمایا کہ جو تصاویر کعبہ کے گرد موجود ہیں ان کو مٹا دیا جائے۔
(۳۸۰۹۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ تُطْمَسَ التَّمَاثِیلُ الَّتِی حَوْلَ الْکَعْبَۃِ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٩٩) حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے سال مقام جعرانہ سے عمرہ فرمایا۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے عمرہ سے فارغ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کو مکہ پر خلیفہ بنادیا اور انھیں یہ حکم دیا کہ لوگوں کو افعال حج کی تعلیم دیں۔ اور یہ کہ وہ لوگوں میں اس بات کا اعلان کردیں کہ جو شخص اس سال بیت اللہ کا حج کرے گا وہ امن پا جائے گا اور اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا حج نہیں کرسکے گا۔ اور نہ ہی بیت اللہ کا ننگا طواف کرے گا۔
(۳۸۰۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ عَامَ الْفَتْحِ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِہِ اسْتَخْلَفَ أَبَا بَکْرٍ عَلَی مَکَّۃَ ، وَأَمَرَہُ أَنْ یُعَلِّمَ النَّاسَ الْمَنَاسِکَ ، وَأَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ : مَنْ حَجَّ الْعَامَ فَہُوَ آمِنٌ ، وَلاَ یَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکَ ، وَلاَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨١٠٠) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فتح مکہ کے سال یہ بات سُنی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرما رہے تھے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے شراب، خنزیروں، مردار اور بتوں کو حرام قرار دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : ایک آدمی نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کیونکہ ان کے ذریعہ سے تو کشتیوں کو تیل ملا جاتا ہے اور کھالوں کو بھی۔ اور ان کے ذریعہ سے چراغ روشن کیے جاتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ یہود کو ہلاک کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر (مردار کی) چربیوں کو حرام کیا تو انھوں نے اس کو پکڑ کر پگھلا لیا اور پھر اس کو بیچ کر اس کا ثمن (آمدنی) کھالیا۔
(۳۸۱۰۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ حَرَّمَا بَیْعَ الْخَمْرِ ، وَالْخَنَازِیرِ ، وَالْمَیْتَۃِ ، وَالأَصْنَامِ ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا تَرَی فِی شُحُومِ الْمَیْتَۃِ ؛ فَإِنَّہَا تُدْہَنُ بِہَا السُّفُنُ وَالْجُلُودُ وَیُسْتَصْبَحُ بِہَا ؟ قَالَ : قَاتَلَ اللَّہُ الْیَہُودَ ، إِنَّ اللَّہَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَیْہِمْ شُحُومَہَا، أَخَذُوہَا فَجَمَلُوہَا ، ثُمَّ بَاعُوہَا وَأَکَلُوا أَثْمَانَہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨١٠١) حضرت عبد الرحمن بن ازہر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح مکہ کے سال دیکھا جبکہ میں ایک نو عمر لڑکا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خالد بن ولید کے گھر کا پوچھ رہے تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شرابی کو لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو حکم دیا چنانچہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا انھوں نے اسے مارنا شروع کیا۔ کچھ نے کوڑے کے ساتھ اور کچھ نے جوتیوں کے ساتھ اور کچھ نے لاٹھی کے ساتھ مارا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر مٹی گرائی پھر حضرت ابوبکر کی خدمت میں ایک شرابی کو لایا گیا تو انھوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا۔ جس آدمی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مارا تھا اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنا مارا تھا ؟ تو اس کا اندازہ چالیس لگایا گیا چنانچہ حضرت ابوبکر نے چالیس کوڑے لگائے۔
(۳۸۱۰۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَزْہَرِ ، قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ، وَأَنَا غُلاَمٌ شَابٌّ یَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِید، فَأُتِیَ بِشَارِبٍ ، فَأَمَرَہُمْ فَضَرَبُوہُ بِمَا فِی أَیْدِیہِمْ ، فَمِنْہُمْ مَنْ ضَرَبَ بِالسَّوْطِ ، وَبِالنَّعْلِ ، وَبِالْعِصِی ، وَحَثَا عَلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ ، فَلَمَّا کَانَ أَبُو بَکْرٍ أُتِیَ بِشَارِبٍ فَسَأَلَ أَصْحَابَہُ : کَمْ ضَرَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّذِی ضَرَبَ ؟ فَحزَّرَہُ أَرْبَعِینَ ، فَضَرَبَ أَبُو بَکْرٍ أَرْبَعِینَ۔ (بیہقی ۳۲۰۔ احمد ۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨١٠٢) حضرت یعلیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں فتح مکہ کے موقع پر اپنے والد امیہ کو لے کر حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے والد کو ہجرت پر بیعت کرلیجئے ۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ (نہیں) بلکہ میں تو ان سے جہاد پر بعتب لوں گا کیونکہ ہجرت تو ختم ہوگئی ہے۔
(۳۸۱۰۲) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَیْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَیَّۃَ ، ابْنِ أَخِی یَعْلَی بْنِ مُنْیَۃَ ، أَنَّ أَبَاہُ أَخْبَرَہُ ، أَنَّ یَعْلَی ، قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَبِی أُمَیَّۃَ یَوْمَ الْفَتْحِ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، بَایِعْ أَبِی عَلَی الْہِجْرَۃِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : بَلْ أُبَایِعُہُ عَلَی الْجِہَادِ ، فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْہِجْرَۃُ۔ (نسائی ۷۷۹۱۔ احمد ۲۲۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨١٠٣) حضرت سائب سے روایت ہے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اسلام (کی آمد) سے پہلے تجارت میں شریک تھے۔ چنانچہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مرحبا ! میرے بھائی اور میرے شریک (تجارت) ! جو نہ دھوکا دیتا تھا اور نہ ہی بحث و مباحثہ کرتا تھا۔ اے سائب ! تحقیق تم جاہلیت میں کچھ ایسے (اچھے) اعمال کرتے تھے جو تم سے قبول نہیں کیے جاتے تھے۔ آج وہ اعمال تم سے قبول کئے جائیں گے۔
(۳۸۱۰۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ السَّائِبِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُشَارِکُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الإِسْلاَمِ فِی التِّجَارَۃِ ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْفَتْحِ أَتَاہُ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِأَخِی وَشَرِیکِی کَانَ لاَ یُدَارِی ، وَلاَ یُمَارِی یَا سَائِبُ ، قَدْ کُنْت تَعْمَلُ أَعْمَالاً فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، لاَ تُتَقَبَّلُ مِنْک ، وَہِیَ الْیَوْمُ تُتَقَبَّلُ مِنْک ۔ وَکَانَ ذَا سَلَفٍ وَصِلَۃٍ۔ (احمد ۴۲۵۔ حاکم ۶۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨١٠٤) حضرت حمزہ زیات روایت کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے بالائی حصہ سے داخل ہوئے اور حضرت خالد بن ولید مکہ کے نچلے حصہ سے داخل ہوئے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم ارشاد فرمایا : تم ہرگز قتل نہ کرنا۔ پھر ان کا ہاتھ قتل میں ملوث ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے جو کچھ کیا اس پر تمہیں کس چیز نے ابھارا تھا ؟ انھوں نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے جو کچھ کیا ہے میں اس کے سوا کسی بات کی قدرت نہیں رکھتا تھا۔
(۳۸۱۰۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ حَمْزَۃَ الزَّیَّاتِ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ ، دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَعْلَی مَکَّۃَ ، وَدَخَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ مِنْ أَسْفَلِ مَکَّۃَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تَقْتُلَنَّ ، فَوَضَعَ یَدَہُ فِی الْقَتْلِ ، فَقَالَ : مَا حَمَلَک عَلَی مَا صَنَعْت ؟ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا قَدَرْتُ عَلَی أَنْ لاَ أَصْنَعَ إِلاَّ الَّذِی صَنَعْتُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨١٠٥) حضرت عبداللہ بن سائب سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعبہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے نعلین مبارک اتار کر اپنے بائیں طرف رکھے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة المومنون شروع فرمائی۔ پھر جب حضرت عیسیٰ یا موسیٰ کا ذکر (سورۃ) میں آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھانسی آگئی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع فرما لیا۔
(۳۸۱۰۵) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ ، قَالَ : مُحَمَّدُ (بْنُ عَبَّادِ) بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِی حَدِیثًا ، رَفَعَہُ إِلَی أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ سُفْیَانَ ، وَعَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْفَتْحِ ، فَصَلَّی فِی قُبُلِ الْکَعْبَۃِ ، فَخَلَعَ نَعْلَیْہِ ، فَوَضَعَہُمَا عَنْ یَسَارِہِ ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ سُورَۃَ الْمُؤْمِنِینَ ، فَلَمَّا ذَکَرَ عِیسَی ، أَوْ مُوسَی ، أَخَذَتْہُ سَعْلَۃٌ فَرَکَعَ۔ (مسلم ۳۳۶۔ احمد ۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨١٠٦) حضرت محمد بن الحنفیہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے کسی حجرہ مبارک سے باہر نکلے اور اس کے دروازہ پر تشریف فرما ہوگئے اور (عادت یہ تھی کہ) جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکیلے تشریف فرما ہوتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی بھی نہیں آتا تھا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کو خود بلاتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوبکر کو میرے پاس بلاؤ۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت ابوبکر تشریف لے آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر سے کافی دیر تک سرگوشی کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کو حکم دیا چنانچہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں جانب یا بائیں جانب بیٹھ گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت عمر کو میرے پاس بلاؤ۔ چنانچہ حضرت عمر حاضر ہوئے اور حضرت ابوبکر کی جگہ (سامنے) بیٹھ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے بھی کافی لمبی سرگوشی فرمائی اس دوران حضرت عمر کی آواز بلند ہوگئی اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تو کفر کے سردار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو جادو گر گمان کیا اور آپ کو کاہن کہا اور آپ کو کذاب سمجھا اور آپ کو جھوٹ باندھنے والا کہا۔ حضرت عمر نے ان تمام باتوں کا ذکر فرمایا جو اہل مکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کو حکم دیا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دوسری جانب بیٹھ جائیں۔ چنانچہ ان حضرات شیخین میں سے ایک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھ گیا۔ پھر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو بلایا اور ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے ان دو ساتھیوں کی مثال نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا رُخ مبارک حضرت ابوبکر کی طرف پھیرا اور ارشاد فرمایا : یقین کرو کہ ابراہیم اللہ تعالیٰ کے بارے میں دودھ میں تیل سے بھی زیادہ نرم تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا رُخ مبارک حضرت عمر کی طرف کیا اور فرمایا۔ حضرت نوح اللہ کے بارے میں پتھر سے بھی زیادہ سخت تھے۔ اور فیصلہ تو وہی ہے جو عمر نے کیا ہے۔ پھر صحابہ کرام نے تیاری شرو ع کردی اور کھڑے ہوگئے ۔ اور حضرت ابوبکر کے پیچھے چل پڑے اور کہنے لگے۔ اے ابوبکر ! حضرت عمر سے پوچھنا تو ہم پسند نہیں کرتے۔ (لیکن) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کے ساتھ کیا سرگوشی کی تھی ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ فرمایا تھا کہ تم مکہ (والوں سے) لڑنے کے بارے میں مجھے کیا کہتے ہو ؟ حضرت ابوبکر کہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ آپ ہی کی قوم ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تو دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ عنقریب میری اطاعت کرلیں گے۔ حضرت ابوبکر کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کو بلایا تو حضرت عمر نے کہا۔ یہ لوگ تو کفر کے سردار ہیں حتی کہ حضرت عمر نے ہر اس بُری بات کا ذکر کردیا جو وہ لوگ کہتے تھے۔ اور خدا کی قسم ! جب تک مکہ والے ذلیل نہیں ہوں گے تب تک عرب والے ذلیل نہیں ہوں گے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں جہاد کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ مکہ پر حملہ کرو۔
(۳۸۱۰۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِکٍ الأَشْجَعِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِہِ فَجَلَسَ عِنْدَ بَابِہَا ، وَکَانَ إِذَا جَلَسَ وَحْدَہُ لَمْ یَأْتِہِ أَحَدٌ حَتَّی یَدْعُوَہُ ، قَالَ : اُدْعُ لِی أَبَا بَکْرٍ ، قَالَ : فَجَائَ فَجَلَسَ بَیْنَ یَدَیْہِ فَنَاجَاہُ طَوِیلاً ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَجَلَسَ عَنْ یَمِینِہِ ، أَوْ عَنْ یَسَارِہِ ، ثُمَّ قَالَ : اُدْعُ لِی عُمَرَ ، فَجَائَ فَجَلَسَ مَجْلِسَ أَبِی بَکْرٍ فَنَاجَاہُ طَوِیلا ، فَرَفَعَ عُمَرُ صَوْتَہُ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہُمْ رَأْسُ الْکُفْرِ ، ہُمَ الَّذِینَ زَعَمُوا أَنَّک سَاحِرٌ ، وَأَنَّک کَاہِنٌ ، وَأَنَّک کَذَّابٌ ، وَأَنَّک مُفْتَرٍ ، وَلَمْ یَدَعْ شَیْئًا مِمَّا کَانَ أَہْلُ مَکَّۃَ یَقُولُونَہُ إِلاَّ ذَکَرَہُ ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَجْلِسَ مِنَ الْجَانِبِ الآخَرِ ، فَجَلَسَ أَحَدُہُمَا عَنْ یَمِینِہِ وَالآخَرُ عَنْ یَسَارِہِ۔

ثُمَّ دَعَا النَّاسَ ، فَقَالَ : أَلاَ أُحَدِّثُکُمْ بِمِثْلِ صَاحِبَیْکُمْ ہَذَیْنِ ؟ قَالَوا : نَعَمْ ، یَا رَسُولَ اللہِ ، فَأَقْبَلَ بِوَجْہِہِ إِلَی أَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَ : إِنَّ إبْرَاہِیمَ کَانَ أَلْیَنَ فِی اللہِ مِنَ الدُّہْنِ فِی اللَّبَنِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنَّ نُوحًا کَانَ أَشَدَّ فِی اللہِ مِنَ الْحَجَرِ ، وَإِنَّ الأَمْرَ أَمْرُ عُمَرَ ، فَتَجَہَّزُوا ، فَقَامُوا فَتَبِعُوا أَبَا بَکْرٍ ، فَقَالُوا : یَا أَبَا بَکْرٍ ، إِنَّا کَرِہْنَا أَنْ نَسْأَلَ عُمَرَ ، مَا ہَذَا الَّذِی نَاجَاک بِہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : قَالَ لِی : کَیْفَ تَأْمُرُونِی فِی غَزْوِ مَکَّۃَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہُمْ قَوْمُک ، قَالَ : حَتَّی رَأَیْتُ أَنَّہُ سَیُطِیعُنِی ، قَالَ : ثُمَّ دَعَا عُمَرَ ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّہُمْ رَأْسُ الْکُفْرِ ، حَتَّی ذَکَرَ کُلَّ سُوئٍ کَانُوا یَذْکُرُونَہُ ، وَأَیْمُ اللہِ لاَ تَذِلُّ الْعَرَبُ حَتَّی یَذِلَّ أَہْلُ مَکَّۃَ ، فَأَمُرَکُمْ بِالْجِہَادِ لِتَغْزُوا مَکَّۃَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١٠٧) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل طائف کا محاصرہ کیا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ ان میں سے کوئی بھی نہیں آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم کل واپس چلے جائیں گے۔ مسلمانوں نے عرض کیا۔ ہم واپس لوٹ جائیں گے حالانکہ ہم نے اس کو فتح نہیں کیا۔ اس پر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (چلو) صبح بھی لڑائی کرلو۔ چنانچہ صحابہ نے صبح قتال کیا تو انہی کو زخم پہنچ گئے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہم کل واپس روانہ ہوجائیں گے۔ تو یہ بات صحابہ کرام کو پسندآئی۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیئے۔
(۳۸۱۰۷) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، وَقَالَ مُرَّۃُ : عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَاصَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَہْلَ الطَّائِفِ ، فَلَمْ یَنَلْ مِنْہُمْ شَیْئًا ، فَقَالَ : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُغْدُوَا عَلَی الْقِتَالِ ، فَغَدَوْا ، فَأَصَابَہُمْ جِرَاحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا ، فَأَعْجَبَہُمْ ذَلِکَ ، فَضَحِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (بخاری ۴۳۲۵۔ مسلم ۱۴۰۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ احادیث جو غزوہ طائف کے بارے میں ذکر ہوئی ہیں
(٣٨١٠٨) حضرت عبد الرحمن بن عوف روایت بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ کو فتح کرلیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف کی طرف چل پڑے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف والوں کا اٹھارہ یا انیس (دن) محاصرہ کیا لیکن طائف کو فتح نہ کرسکے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک صبح یا ایک شام محاصرہ کو شدید کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑاؤ ڈالا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کے وقت (ہی) چل پڑے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں تم سے پہلے (آگے) پہنچنے والا ہوں لہٰذا میں تمہیں اپنی عزت کے ساتھ خیر کی وصیت کرتا ہوں۔ اور یقین جانو کہ تمہارے ساتھ میرے وعدہ کی جگہ حوض ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ مں ے میری جان ہے تم لوگ نماز کو ضرور بالضرور قائم کرتے رہنا اور زکوۃ کو ضرور بالضرور ادا کرتے رہنا یا میں تمہاری طرف اپنے میں سے ایک اپنی طرح کا ایک آدمی بھیج دوں گا۔ جو اُن (اہل ایمان) سے لڑنے والوں کی گردنیں مارے گا اور ان کے افراد کو قیدی بنا لائے گا۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں کا خیال یہ ہوا کہ یہ آدمی حضرت ابوبکر ہوں گے یا حضرت عمر ہوں گے۔ لیکن جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : وہ آدمی یہ ہے۔
(۳۸۱۰۸) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ جَبْرٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ انْصَرَفَ إِلَی الطَّائِفِ ، فَحَاصَرَہُمْ تِسْعَ عَشْرَۃَ ، أَوْ ثَمَانِ عَشْرَۃَ فَلَمْ یَفْتَتِحْہَا ، ثُمَّ أَوْغَلَ رَوْحَۃً ، أَوْ غَدْوَۃً ، فَنَزَلَ ، ثُمَّ ہَجَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنِّی فَرَطٌ لَکُمْ ، فَأُوصِیکُمْ بِعِتْرَتِی خَیْرًا ، وَإِنَّ مَوْعِدَکُمَ الْحَوْضُ ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَتُقِیمُنَّ الصَّلاَۃَ وَلتُؤْتُنَّ الزَّکَاۃَ ، أَوْ لأَبْعَثَنَّ إِلَیْکُمْ رَجُلاً مِنِّی ، أَوْ کَنَفْسِی ، فَلَیَضْرِبَنَّ أعَنْاقَ مُقَاتِلَتِہِمْ وَلَیَسْبِیَنَّ ذَرَارِیَّہُمْ ، قَالَ : فَرَأَی النَّاسُ أَنَّہُ أَبُو بَکْرٍ ، أَوْ عُمَرُ ، فَأَخَذَ بِیَدِ عَلِیٍّ ، فَقَالَ : ہَذَا۔
tahqiq

তাহকীক: