মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৮০৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٦٩) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک پر خود تھا۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی خود اتار دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ ہے ابن خطل، کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو مار ڈالو۔
(۳۸۰۶۹) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَی رَأْسِہِ مِغْفَرٌ ، فَلَمَّا أَنْ دَخَلَ نَزَعَہُ ، فَقِیلَ لَہُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَذَا ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ ، فَقَالَ : اُقْتُلُوہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٧٠) حضرت ابو عثمان سے روایت ہے کہ حضرت ابو برزہ نے ابن خطل کو اس حالت میں قتل کیا کہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا تھا۔
(۳۸۰۷۰) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ؛ أَنَّ أَبَا بَرْزَۃَ قَتَلَ ابْنَ خَطَلٍ وَہُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٧١) حضرت انس سے روایت ہے کہ اہل مکہ میں سے اسی (٨٠) افراد، جبل تنعیم سے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (حملہ کے لئے) اُترے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو صحیح وسالم پکڑ لیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں معاف فرما دیا۔ اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ (ترجمہ) اور وہی اللہ ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان تک پہنچنے سے روک دیا۔ جبکہ وہ تمہیں ان پر قابو دے چکا تھا۔
(۳۸۰۷۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ ثَمَانِینَ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ ہَبَطُوا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِیمِ عِنْدَ صَلاَۃِ الْفَجْرِ ، فَأَخَذَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سِلْمًا ، فَعَفَا عَنْہُمْ ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ : {وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ}۔ (مسلم ۱۴۴۲۔ ابوداؤد ۲۶۸۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٧٢) حضرت مجاہد روایت کرتے ہیں کہ ام ہانی بیان کرتی ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک پر چار چوٹیاں تھیں۔
(۳۸۰۷۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : قالَتْ أُمُّ ہَانِئٍ : قَدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ وَلَہُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ ، تَعَنِی ضَفَائِرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٧٣) حضرت جابر سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں اس حالت میں اندر داخل ہوئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سیاہ عمامہ تھا۔
(۳۸۰۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَکَّۃَ وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ سَوْدَائُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٧٤) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیاہ رنگ کی چادر کی پگڑی کے شملہ کو اپنے چہرے پر ڈالے ہوئے تھے ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قصواء اونٹنی پر بیت اللہ کا طواف کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں ایک خمدار سوٹی تھی جس کے ذریعہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارکان کا استلام کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن عمر نے فرمایا : کہ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کے لیے مسجد میں بٹھانے کی جگہ نہ پائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے ہاتھوں پر نیچے تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کو باہر نکالا گیا اور اس کو وادی میں بٹھایا گیا پھر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی تعریف کی اور ایسی ثنا بیان کی جس کے آپ اہل تھے اور فرمایا :

٢۔ اے لوگو ! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا غرور و نخوت ختم کردیا ہے اور جاہلیت کے زمانہ پر اپنے آباء کے ذریعہ اظہار عظمت کو بھی ختم کردیا ہے۔ (اب) لوگ دو قسم پر ہیں۔ نیک اور متقی آدمی اللہ تعالیٰ کے قابل عزت و تکریم ہے اور کافر، بدبخت اللہ تعالیٰ پر ہلکا اور بےوزن ہے۔ اے لوگو ! بلاشبہ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (ترجمہ) اے لوگو ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔ اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو ۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا ہے ہر چیز سے باخبر ہے۔ میں یہ بات کہتا ہوں اور اپنے اور تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طالب ہوں۔

٣۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کے ایک طرف چل دئیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس زمزم کے پانی کا ایک ڈول لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اپنا چہرہ مبارک دھویا۔ اس کے دھو ون میں سے ہر ایک قطرہ بھی انسانی ہاتھ ہی میں گرا۔ پھر اگر وہ قطرہ اتنا ہوتا جس کو پیا جاسکتا تھا تو وہ آدمی اس کو پی لیتا وگرنہ اس کو اپنے اوپر مَل لیتا ۔ مشرکین مکہ (یہ منظر) دیکھ رہے تھے ۔ تو وہ کہنے لگے ۔ ہم نے (جو بادشاہت) آج دیکھی ہے اس سے بڑی بادشاہی کبھی نہیں دیکھی اور نہ ہی ایسی قوم دیکھی ہے جو آج دیکھی ہوئی قوم سے زیادہ بیوقوف ہے۔

٤۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو حکم فرمایا چنانچہ وہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گئے اور انھوں نے نماز کے لیے اذان دی۔ اور مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور محض ازار بند پہنے ہوئے انھوں نے ڈول پکڑ لیے اور زمزم پر شعر کہتے ہوئے پہنچ گئے اور کعبہ کو انھوں نے اندر باہر سے دھو ڈالا اور مشرکین کے کسی اثر کو کعبہ میں باقی نہیں چھوڑا بلکہ اس کو مٹا دیایا دھو دیا۔
(۳۸۰۷۴) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ (ح) وَعَنْ أَخِیہِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَکَّۃَ حِینَ دَخَلَہَا وَہُوَ مُعْتَجِرٌ بِشُقَّۃِ بُرْدٍ أَسْوَدَ ، فَطَافَ عَلَی رَاحِلَتِہِ الْقَصْوَائِ ، وَفِی یَدِہِ مِحْجَنٌ یَسْتَلِمُ بِہِ الأَرْکَانَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا وَجَدْنَا لَہَا مُنَاخًا فِی الْمَسْجِدِ ، حَتَّی نَزَلَ عَلَی أَیْدِی الرِّجَالِ ، ثُمَّ خُرِجَ بِہَا حَتَّی أُنِیخَتْ فِی الْوَادِی، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ عَلَی رِجْلَیْہِ ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ بِمَا ہُوَ لَہُ أَہْلٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّہَ قَدْ وَضَعَ عَنْکُمْ عُِبِّیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَتَعَظَّمَہَا بِآبَائِہَا ، النَّاسُ رَجُلاَنِ : فَبَرٌّ تَقِیٌّ کَرِیمٌ عَلَی اللہِ ، وَکَافِرٌ شَقِیٌّ ہَیِّنٌ عَلَی اللہِ ، أَیُّہَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّہَ یَقُولُ : {یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَأُنْثَی ، وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ، إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ أَتْقَاکُمْ ، إِنَّ اللَّہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ} أَقُولُ ہَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّہَ لِی وَلَکُمْ۔

قَالَ : ثُمَّ عَدَلَ إِلَی جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، فَأُتِیَ بِدَلْوٍ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ ، فَغَسَلَ مِنْہَا وَجْہَہُ ، مَا تَقَعُ مِنْہُ قَطْرَۃٌ إِلاَّ فِی یَدِ إِنْسَانٍ ، إِنْ کَانَتْ قَدْرَ مَا یَحْسُوہَا حَسَاہَا ، وَإِلاَّ مَسَحَ بِہَا ، وَالْمُشْرِکُونَ یَنْظُرُونَ ، فَقَالُوا : مَا رَأَیْنَا مَلِکًا قَطَّ أَعْظَمَ مِنَ الْیَوْمِ ، وَلاَ قَوْمًا أَحْمَقَ مِنَ الْیَوْمِ۔

ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً ، فَرَقَیَ عَلَی ظَہْرِ الْکَعْبَۃِ ، فَأَذَّنَ بِالصَّلاَۃِ ، وَقَامَ الْمُسْلِمُونَ فَتَجَرَّدُوا فِی الأُزُرِ ، وَأَخَذُوا الدِّلاَئَ، وَارْتَجَزُوا عَلَی زَمْزَمَ یَغْسِلُونَ الْکَعْبَۃَ ، ظَہْرَہَا وَبَطْنَہَا ، فَلَمْ یَدَعُوا أَثَرًا مِنَ الْمُشْرِکِینَ إِلاَّ مَحَوْہُ، أَوْ غَسَلُوہُ۔ (ترمذی ۳۲۷۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٧٥) حضرت یعقوب بن زید بن طلحہ تیمی اور محمد بن منکدر روایت کرتے ہیں کہ اس دن (فتح مکہ کے دن) کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے۔ صفا اور مروہ پر بھی ایک بت تھا ان کے درمیان (کی جگہ تو) بتوں سے اٹی ہوئی تھی اور کعبہ کے گرد بھی بتوں کا احاطہ تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ محمد ابن المنکدر کہتے ہیں۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک لکڑی تھی جس کے ذریعہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بتوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ ان بتوں میں سے جس بت کی طرف بھی جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اشارہ فرماتے وہ بت گر جاتا۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اساف اور نائلہ (نامی) بت کے پاس پہنچے یہ دونوں کعبہ کے سامنے مقام کے پاس تھے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ان دونوں کو خاک میں ملا دو ۔ چنانچہ مسلمانوں نے ان دونوں بتوں کے نیچے گرا دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہو، صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! ہم کیا کہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہو : اللہ کا وعدہ سچا ثابت ہوا اور اس نے اپنے بندہ کی مدد کی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکست دے دی۔
(۳۸۰۷۵) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ زَیْدِ بْنِ طَلْحَۃَ التَّیْمِیِّ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ ، قَالاَ : وَکَانَ بِہَا یَوْمَئِذٍ سِتُّونَ وَثَلاَثُ مِئَۃ وَثَنٍ عَلَی الصَّفَا ، وَعَلَی الْمَرْوَۃِ صَنَمٌ ، وَمَا بَیْنَہُمَا مَحْفُوفٌ بِالأَوْثَانِ ، وَالْکَعْبَۃُ قَدْ أُحِیطَتْ بِالأَوْثَانِ ، قَالَ : فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ : فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ قَضِیبٌ یُشِیرُ بِہِ إِلَی الأَوْثَانِ ، فَمَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ یُشِیرَ إِلَی شَیْئٍ مِنْہَا فَیَتَسَاقَطَ ، حَتَّی أَتَی إِسَافًا وَنَائِلَۃَ ، وَہُمَا قُدَّامَ الْمَقَامِ ، مُسْتَقْبِلٌ بَابَ الْکَعْبَۃِ ، فَقَالَ : عَفِّرُوہُمَا ، فَأَلْقَاہُمَا الْمُسْلِمُونَ ، قَالَ : قُولُوا ، قَالَوا : مَا نَقُولُ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : قُولُوا : صَدَقَ اللَّہُ وَعْدَہُ ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ ، وَہَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٧٦) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ بنو خزاعہ نے فتح مکہ کے سال بنو لیث کے ایک آدمی کو اپنے اس مقتول کے بدلے میں قتل کیا جس کو بنو لیث نے (کبھی) قتل کیا تھا۔ اس بات کی خبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر سوار ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا۔ اور فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو ہاتھیوں والوں سے محفوظ رکھا اور مکہ پر اپنے رسول اور اہل ایمان کو (لڑائی کے لئے) مسلط فرمایا۔ خبردار ! یہ مکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی حلال نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا۔ خبردار ! میرے لیے بھی یہ مکہ دن کی ایک گھڑی (ہی) کے لیے حلال کیا گیا تھا خبردار ! میری اس گھڑی میں مکہ حرام ہے۔ اس کا کانٹا بھی نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے درخت کو بھی نہیں کاٹا جائے گا اور اس کی گری پڑی چیز کو نہیں اٹھائے گا مگر تعریف کرنے والا۔ اور جس کا کوئی قتل کیا گیا ہو تو اس کو دو چیزوں میں اختیار ہے۔ یا تو وہ بھی قتل ہو اور یا اہل مقتول کو فدیہ دے دے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک صاحب، ابو شاہ نامی، حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے (یہ بات) لکھ دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (صحابہ سے) فرمایا۔ ابو شاہ کو (یہ بات) لکھ دو ۔ پھر قریش کے ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اذخر کو مستثنیٰ کر دیجئے کیونکہ ہم اس کو اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔
(۳۸۰۷۶) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : حدَّثَنَا شَیْبَانُ ، عَنْ یَحْیَی ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ ، أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ أَخْبَرَہُ ؛ أَنَّ خُزَاعَۃَ قَتَلُوا رَجُلاً مِنْ بَنِی لَیْثٍ عَامَ فَتْحِ مَکَّۃَ ، بِقَتِیلٍ مِنْہُمْ قَتَلُوہُ ، فَأُخْبِرَ بِذَلِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَرَکِبَ رَاحِلَتَہُ فَخَطَبَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْفِیلَ ، وَسَلَّطَ عَلَیْہَا رَسُولَہُ وَالْمُؤْمِنِینَ ، أَلاَ وَإِنَّہَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی ، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ کَانَ بَعْدِی ، أَلاَ وَإِنَّہَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ ، أَلاَ وَإِنَّہَا سَاعَتِی ہَذِہِ ، حَرَامٌ ، لاَ یُخْتَلَی شَوْکُہَا ، وَلاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا ، وَلاَ یَلْتَقِطُ سَاقِطَتَہَا إِلاَّ مُنْشِد ، وَمَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ : إِمَّا أَنْ یَقْتُلَ ، وَإِمَّا أَنْ یُفَادِیَ أَہْلَ الْقَتِیلِ۔

قَالَ : فَجَائَ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ : أَبُو شَاہٍ ، فَقَالَ : اُکْتُبْ لِی یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : اُکْتُبُوا لأَبِی شَاہٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ : إِلاَّ الإِذْخِرَ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَإِنَّا نَجْعَلُہُ فِی بُیُوتِنَا وَقُبُورِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِلاَّ الإِذْخِرَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٧٧) حضرت زہری روایت بیان کرتے ہیں کہ بنو دؤل بن بکرکے ایک آدمی نے کہا۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کروں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ ارشادات سنوں۔ چنانچہ اس نے ایک آدمی سے کہا۔ تم میرے ساتھ چلو۔ اس آدمی نے کہا۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں بنو خزاعہ کے لوگ مجھے قتل نہ کردیں۔ (بہر حال) یہ اس کے ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ قبیلہ خزاعہ کا ایک آدمی اس کو ملا اور اس نے اس کو پہچان لیا اور اس نے اس کے پیٹ میں تلوار ماری۔ اس مقتول نے کہا۔ میں نے تمہیں (پہلے) خبر دی تھی کہ یہ لوگ مجھے قتل کردیں گے۔ پھر یہ بات جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے، اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی اور پھر فرمایا : ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (خود) مکہ کو حرم بنایا ہے لوگوں نے مکہ کو حرم نہیں بنایا۔ یہ مکہ تو میرے لیے دن کی ایک گھڑی میں حلال ہوا تھا اور اس کے بعد ابھی تک حرام ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے تین لوگ ہیں۔ وہ آدمی جو مکہ میں قتل کرے۔ وہ آدمی جو غیر قاتل کو قتل کرے۔ وہ آدمی جو جاہلیت کے انتقام مانگے۔ پس البتہ میں (خود) اس آدمی کی دیت دوں گا۔ “
(۳۸۰۷۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَمْرو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی الدُّؤَلِ بْنِ بَکْرٍ : لَوَدِدْت أَنِّی رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتُ مِنْہُ ، فَقَالَ لِرَجُلٍ : انْطَلِقْ مَعِی ، فَقَالَ : إِنِّی أَخَافُ أَنْ تَقْتُلَنِی خُزَاعَۃُ ، فَلَمْ یَزَلْ بِہِ حَتَّی انْطَلَقَ ، فَلَقِیَہُ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَۃَ ، فَعَرَفَہُ فَضَرَبَ بَطْنَہُ بِالسَّیْفِ ، قَالَ : قَدْ أَخْبَرْتُک أَنَّہُمْ سَیَقْتُلُونَنِی ، فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ ہُوَ حَرَّمَ مَکَّۃَ ، لَیْسَ النَّاسُ حَرَّمُوہَا ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ ، وَہِیَ بَعْدُ حَرَمٌ ، وَإِنَّ أَعْدَی النَّاسِ عَلَی اللہِ ثَلاَثَۃٌ : مَنْ قَتَلَ فِیہَا ، أَوْ قَتَلَ غَیْرَ قَاتِلٍ ، أَوْ طَلَبَ بِذُحُولِ الْجَاہِلِیَّۃِ ، فَلأَدِیَنَّ ہَذَا الرَّجُلَ۔

قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ : فَحَدَّثْت بِہَذَا الْحَدِیثِ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، فَقُلْتُ : أَعْدَی اللَّہَ ، فَقَالَ : أَعْدَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٧٨) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب فتح مکہ کے سال حضرت عباس بن عبد المطلب ابو سفیان کو لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابو سفیان نے مقام مرالظہران میں اسلام قبول کیا تو حضرت عباس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابو سفیان ایسا آدمی ہے جو فخر کو پسند کرتا ہے۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے کوئی ایسی (فخریہ) چیز مقرر فرما دیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں ! جو کوئی ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے تو وہ مامون ہوگا اور جو کوئی شخص اپنا دروازہ بند کرلے وہ بھی مامون ہوگا۔
(۳۸۰۷۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، عَنِ ابْنِ إِدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ لَمَّا جَائَہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِأَبِی سُفْیَانَ ، فَأَسْلَمَ بِمَرِّ الظَّہْرَانِ ، فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ یُحِبُّ ہَذَا الْفَخْرَ، فَلَوْ جَعَلْتَ لَہُ شَیْئًا؟ قَالَ، نَعَمْ، مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ۔

(ابوداؤد ۳۰۱۵۔ بیہقی ۳۰۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٧٩) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ مقام حرم ہے یعنی مکہ۔ جس دن اللہ تعالیٰ نے زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا تھا اسی دن سے اس کو حرمت بخشی تھی۔ یہ زمین مجھ سے پہلے بھی کسی کے لیے حلال نہیں کی گئی اور نہ ہی میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگی۔ اور میرے لیے بھی محض دن کی ایک گھڑی حلال کی گئی ہے۔ اس کے کانٹے کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے شکار کو نہیں بدکایا جائے گا۔ اور اس کے گھاس کو نہیں کاٹا جائے گا اور نہ ہی اس کے گمشدہ مال کو اٹھایا جائے گا لیکن تعریف کرنے والے کو اٹھانا درست ہے۔ حضرت عباس نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اہل مکہ کو اذخر گھاس سے رکنا مشکل ہے کیونکہ وہ اپنی بنیادوں اور لوہے کے کام میں اس کو استعمال کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اذخر مستثنیٰ ہے۔
(۳۸۰۷۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْن عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ہَذِہِ حَرَمٌ ، یَعَنْی مَکَّۃَ ، حَرَّمَہَا اللَّہُ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، وَوَضَعَ ہَذَیْنِ الأَخْشَبَیْنِ، لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی ، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِی ، وَلَمْ تَحِلَّ لِی إِلاَّ سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ ، لاَ یُعْضَدُ شَوْکُہَا ، وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا ، وَلاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا ، وَلاَ ترْفَعُ لُقَطَتَہَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ أَہْلَ مَکَّۃَ لاَ صَبْرَ لَہُمْ عَنِ الإِذْخِرِ لِقَیْنِہِمْ وَلِبُنْیَانِہِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِلاَّ الإِذْخِرَ۔ (دارقطنی ۲۳۵۔ طحاوی ۲۶۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٨٠) حضرت ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو حضرت بلال حبشی بیت اللہ کی چھت پر چڑھ گئے اور اذان دی۔ تو صفوان بن امیہ نے حارث بن ہشام سے کہا۔ کیا تم یہ غلام نہیں دیکھ رہے ؟ حارث نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ کو یہ ناپسند ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی اور کو کھڑا کردیتے۔
(۳۸۰۸۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَکَّۃُ صَعِدَ بِلاَلٌ الْبَیْتَ فَأَذَّنَ، فَقَالَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ لِلْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ: أَلاَ تَرَی إِلَی ہَذَا الْعَبْدِ، فَقَالَ الْحَارِثُ: إِنْ یَکْرَہْہُ اللَّہُ یُغَیِّرْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٨١) حضرت ہشام بن عروہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت بلال نے فتح مکہ کے دن بیت اللہ کی چھت پر اذان دی۔
(۳۸۰۸۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ بِلاَلاً أَذَّنَ یَوْمَ الْفَتْحِ فَوْقَ الْکَعْبَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٨٢) حضرت سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے سال مدینہ منورہ سے آٹھ ہزار، یا دس ہزار کے لشکر کے ہمراہ نکلے تھے۔ اور اہل مکہ میں سے دو ہزار لوگ تھے۔
(۳۸۰۸۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مِنَ الْمَدِینَۃِ بِثَمَانِیَۃِ آلاَفٍ ، أَوْ عَشَرَۃِ آلاَفٍ ، وَمِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ بِأَلْفَیْنِ۔ (ابن سعد ۱۳۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٨٣) حضرت ام ہانی بنت ابی طالب بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو میرے سسرال بنو مخزوم میں سے دو آدمی میری طرف بھاگ کر آگئے۔ ام ہانی کہتی ہیں۔ پس میں نے انھیں اپنے گھروں میں چھپا دیا۔ پھر میرے بھائی حضرت علی بن ابی طالب میرے ہاں آئے اور کہنے لگے، میں ضرور بالضرور ان دونوں کو قتل کر دوں گا۔ ام ہانی کہتی ہیں۔ میں نے ان دونوں آدمیوں کو (کمرہ میں داخل کر کے) دروازہ بند کردیا پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مکہ کے بالائی مقام پر حاضر ہوئی تب جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ٹب میں غسل فرما رہے تھے۔ جس میں گوندھے آٹے کے اثرات تھے اور حضرت فاطمہ (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پردہ کیے ہوئے تھی۔

پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اپنے غسل سے فارغ ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کپڑے پکڑے اور زیب تن فرمائے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاشت کی آٹھ رکعات نماز ادا فرمائی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (میری طرف) متوجہ ہوئے اور فرمایا : ام ہانی ! مرحبا خوش آمدید۔ کس غرض سے آئی ہو۔ میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے سسرالی رشتہ داروں میں سے دو بندے (پناہ کے لئے) میری طرف بھاگ کر آئے ہیں اور پھر علی بن ابی طالب میرے پاس آگئے اور اب علی کا ارادہ ان دونوں کو قتل کرنے کا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ نہیں ! یقین کرو۔ اے ام ہانی ! جس کو تم نے پناہ دی ہے ہم نے بھی اس کو پناہ دی اور جس کو تم نے امن دیا ہے اس کو ہم نے بھی امن دیا ہے۔
(۳۸۰۸۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ أَبِی مُرَّۃَ مَوْلَی عَقِیلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ ، قَالَتْ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ ، فَرَّ إِلَیَّ رَجُلاَنِ مِنْ أَحْمَائِی مِنْ بَنِی مَخْزُومٍ ، قَالَتْ : فَخَبَّأْتُہُمَا فِی بَیْتِی ، فَدَخَلَ عَلَیَّ أَخِی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ، فَقَالَ : لأَقْتُلَنَّہُمَا ، قَالَتْ : فَأَغْلَقْت الْبَابَ عَلَیْہِمَا ، ثُمَّ جِئْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَی مَکَّۃَ ، وَہُوَ یَغْتَسِلُ فِی جَفْنَۃٍ ، إِنَّ فِیہَا أَثَرَ الْعَجِینِ ، وَفَاطِمَۃُ ابْنَتُہُ تَسْتُرُہُ۔

فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ غُسْلِہِ ، أَخَذَ ثَوْبًا فَتَوَشَّحَ بِہِ ، ثُمَّ صَلَّی ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ مِنَ الضُّحَی ، ثُمَّ أَقْبَلَ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا وَأَہْلاً بِأُمِّ ہَانِئٍ ، مَا جَائَ بِکَ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللہِ ، فَرَّ إِلَیَّ رَجُلاَنِ مِنْ أَحْمَائِی ، فَدَخَلَ عَلَیَّ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ فَزَعَمَ أَنَّہُ قَاتِلُہُمَا ، فَقَالَ : لاَ ، قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ یَا أُمَّ ہَانِئٍ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٨٤) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب سورة اذا جاء نصر اللّٰہ والفتح ۔ نازل ہوئی۔ مکمل تلاوت فرمائی یہاں تک کہ اس کو ختم فرمایا۔ اور پھر ارشاد فرمایا۔ ایک جہت میں (بعد والے) لوگ ہیں اور ایک جہت میں میں اور میرے صحابہ (پہلے ایمان لانے والے) ہیں۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نبوت باقی ہے۔ مروان نے حضرت ابو سعید خدری سے کہا۔ تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔ (اس وقت) مروان کے پاس زید بن ثابت اور رافع بن خدیج موجود تھے اور اس کے ساتھ تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ابو سعید خدری نے فرمایا : اگر یہ دونوں چاہتے تو یہ بھی تمہیں (یہ) حدیث بیان کرتے لیکن (ان میں سے) ایک اس بات سے خوف کھاتا ہے کہ تم اس کو اپنی قوم کی طرف سے نکال دو گے اور (ان میں سے) ایک اس بات سے خوف کھاتا ہے تم اس کو صدقہ سے نکال دو گے۔ لیکن یہ دونوں حضرات خاموش رہے کہ اسی دوران مروان نے درہ بلند کیا تاکہ ابو سعید کو مارے۔ پس جب ان دونوں حضرات نے یہ دیکھا تو دونوں نے فرمایا۔ ابوسعید نے سچ بات بتائی ہے۔
(۳۸۰۸۴) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ السُّورَۃُ : {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ} ، قَالَ : قَرَأَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی خَتَمَہَا ، وَقَالَ : النَّاسُ حَیِّزٌ ، وَأَنَا وَأَصْحَابِی حَیِّزٌ ، وَقَالَ : لاَ ہِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، وَلَکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ ۔ فَقَالَ لَہُ مَرْوَانُ : کَذَبْتَ ، وَعَنْدَہُ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ ، وَہُمَا قَاعِدَانِ مَعَہُ عَلَی السَّرِیرِ ، فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ : لَوْ شَائَ ہَذَانِ لَحَدَّثَاک ، وَلَکِنْ ہَذَا یَخَافُ أَنْ تَنْزِعَہُ عَنْ عِرَافَۃِ قَوْمِہِ ، وَہَذَا یَخْشَی أَنْ تَنْزِعَہُ عَنِ الصَّدَقَۃِ ، فَسَکَتَا ، فَرَفَعَ مَرْوَانُ الدِّرَّۃَ لِیَضْرِبَہُ ، فَلَمَّا رَأَیَا ذَلِکَ ، قَالاَ : صَدَقَ۔ (احمد ۲۲۔ طبرانی ۴۴۴۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٨٥) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : فتح مکہ کے بعد ہجرت (کاثواب) باقی نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے پس جب تم سے نکلنے کو کہا جائے تو تم (راہِ خدا میں) نکلو۔
(۳۸۰۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ ہِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، وَلَکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ ، وَإِذَا اُسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا۔ (بخاری ۱۵۸۷۔ مسلم ۹۸۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٨٦) حضرت ام یحییٰ بنت یعلیٰ اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میں اپنے والد کو لے کر فتح مکہ والے دن حاضر ہوئی اور میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہجرت پر بیعت کریں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔
(۳۸۰۸۶) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ أُمِّ یَحْیَی بِنْتِ یَعْلَی ، عَنْ أَبِیہَا ، قَالَ : جِئْتُ بِأَبِی یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَذَا یُبَایِعُک عَلَی الْہِجْرَۃِ ، فَقَالَ : لاَ ہِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، وَلَکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٨٧) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔
(۳۸۰۸۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَبِیبٍ بْن أَبِی ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی حُسَیْنٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ ہِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، وَلَکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ۔ (بخاری ۳۰۸۰۔ مسلم ۱۴۸۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٨٨) حضرت مجاشع بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی ، جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ہم سے ہجرت پر بیعت لیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ہجرت تو اہل ہجرت کے لیے ختم ہوگئی ہے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم آپ سے کس چیز پر بیعت کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اسلام اور جہاد پر۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں میں مجاشع کے بھائی سے ملا اور میں نے اس سے پوچھا : انھوں نے جواب دیا : مجاشع نے سچ بات بتائی ہے۔
(۳۸۰۸۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَخِی ، قَالَ : فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ : بَایِعْنَا عَلَی الْہِجْرَۃِ ، فَقَالَ : مَضَتِ الْہِجْرَۃُ لأَہْلِہَا ، فَقُلْتُ : عَلاَمَ نُبَایِعُک یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : عَلَی الإِسْلاَمِ وَالْجِہَادِ ، قَالَ : فَلَقِیتُ أَخَاہُ فَسَأَلْتُہُ ؟ فَقَالَ : صَدَقَ مُجَاشِعٌ۔ (بخاری ۲۹۶۲۔ مسلم ۱۴۸۷)
tahqiq

তাহকীক: