মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮০৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٤٩) حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کی طرف سفر فرمایا پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر میں پہنچ گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر اور ان کے ہمراہ کچھ لوگوں کو اہل خیبر کے شہر یا قلعہ کی طرف روانہ فرمایا۔ انھوں نے (جا کر) ان کے ساتھ لڑائی کی ۔ لیکن کچھ ہی دیر میں یہ مسلمانوں کا گروہ ۔۔۔ حضرت عمر اور ان کے ساتھی ۔۔۔ پسپا ہوگیا۔ پس حضرت عمر ، اپنے ساتھیوں کو اور ان کے ساتھی حضرت عمر کو بزدلی کا طعنہ دیتے ہوئے (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں) واپس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات ناگوار گزری اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” اب میں ضرور یہود کی طرف ایسا آدمی بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ وہ ان کے ساتھ لڑتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسی کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائیں گے۔ وہ آدمی بھاگنے والا نہیں ہوگا۔ “ (یہ بات سن کر) بہت سے لوگ اس کے امیدوار بن گئے اور اپنی گردنیں دراز کرنے لگے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کہے ہوئے کو اپنے بارے میں دیکھنے کے منتظر ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ دیر خاموش رہے پھر ارشاد فرمایا : علی کہاں ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا۔ وہ تو آشوب چشم میں مبتلا ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو میرے پاس بلاؤ۔ پھر جب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری آنکھیں کھولیں اور ان میں اپنا لعاب مبارک ڈالا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے جھنڈا عطا فرمایا۔ اور میں اس جھنڈے کو لے کر دوڑتا ہوا چلا کہ مبادا میرے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں کوئی خیال نہ آجائے یا کسی اور کے بارے میں کوئی خیال نہ آجائے۔ یہاں تک کہ میں دشمنوں کے پاس پہنچ گیا اور میں نے ان کے ساتھ قتال کیا۔ مرحب یہودی رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا مبارزت کے لیے آیا تو میں بھی اس کے جواب میں رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے مبارزت کے لیے باہر نکلا پھر ہماری باہم مڈبھیڑ ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے ہاتھ سے قتل کروا دیا۔ اور اس کے ساتھی پسپا ہوگئے اور قلعہ بند ہوگئے انھوں نے دروازہ بند کرلیا۔ ہم دروازہ پر پہنچے پس میں نے مسلسل دروازہ پر ضرب لگائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول دیا۔
(۳۸۰۴۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : حدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَکِیمٍ ، عَنْ أَبِی مَرْیَمَ ، عْن عَلِیٍّ ، قَالَ : سَارَ رَسُولُ اللہِ إِلَی خَیْبَرَ ، فَلَمَّا أَتَاہَا بَعَثَ عُمَرَ وَمَعَہُ النَّاسُ ، إِلَی مَدِینَتِہِمْ ، أَوْ إِلَی قَصْرِہِمْ ، فَقَاتَلُوہُمْ ، فَلَمْ یَلْبَثُوا أَنِ انْہَزَمَ عُمَرُ وَأَصْحَابُہُ ، فَجَائَ یُجَبِّنُہُمْ وَیُجَبِّنُونَہُ ، فَسَائَ ذَلِکَ رَسُولَ اللہِ ، فَقَالَ : لأَبْعَثَنَّ إِلَیْہِمْ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ، وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، یُقَاتِلُہُمْ حَتَّی یَفْتَحَ اللَّہُ لَہُ ، لَیْسَ بِفَرَّارٍ ، فَتَطَاوَلَ النَّاسُ لَہَا ، وَمَدُّوا أَعْنَاقَہُمْ ، یُرُونَہُ أَنْفُسَہُمْ ، رَجَائَ مَا قَالَ ، فَمَکَثَ سَاعَۃً ، ثُمَّ قَالَ : أَیْنَ عَلِیٌّ ؟ فَقَالُوا : ہُوَ أَرْمَدُ ، فَقَالَ : ادْعُوہُ لِی ، فَلَمَّا أَتَیْتُہُ ، فَتَحَ عَیْنَیَّ ، ثُمَّ تَفَلَ فِیہِمَا ، ثُمَّ أَعْطَانِی اللِّوَائَ ، فَانْطَلَقْتُ بِہِ سَعْیًا ، خَشْیَۃَ أَنْ یُحْدِثَ رَسُولُ اللہِ فِیہِمْ حَدَثًا ، أَوْ فِی ، حَتَّی أَتَیْتُہُمْ فَقَاتَلْتُہُمْ ، فَبَرَزَ مَرْحَبٌ یَرْتَجِزُ ، وَبَرَزْت لَہُ أَرْتَجِزُ کَمَا یَرْتَجِزُ ، حَتَّی الْتَقَیْنَا ، فَقَتَلَہُ اللَّہُ بِیَدَی ، وَانْہَزَمَ أَصْحَابُہُ ، فَتَحَصَّنُوا وَأَغْلَقُوا الْبَابَ ، فَأَتَیْنَا الْبَابَ ، فَلَمْ أَزَلْ أُعَالِجُہُ حَتَّی فَتَحَہُ اللَّہُ۔ (حاکم ۳۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٥٠) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آج کے دن میں ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا کہ جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ اس پر لوگوں نے اوپر اوپر اٹھ کر دیکھنا شروع کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ علی کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا : ان کی آنکھ میں شکایت ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو بلایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دونوں ہتھیلیوں پر تھوکا اور ان کو حضرت علی کی آنکھ پر پھیرا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو جھنڈا حوالہ کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسی دن حضرت علی کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائی۔
(۳۸۰۵۰) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ، قَالَ: حدَّثَنَا أَبُو مُنَیْنٍ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لأَدْفَعَن الْیَوْمَ الرَّایَۃَ إِلَی رَجُلٍ یُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، فَتَطَاوَلَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ: أَیْنَ عَلِیٌّ؟ فَقَالُوا: یَشْتَکِی عَیْنَہُ ، فَدَعَاہُ فَبَزَقَ فِی کَفَّیْہِ ، وَمَسَحَ بِہِمَا عَیْنَ عَلِیٍّ ، ثُمَّ دَفَعَ إِلَیْہِ الرَّایَۃَ ، فَفَتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ یَوْمَئِذٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٥١) حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ اگر یہ ضابطہ نہ ہوتا کہ لشکر کے آخری حصہ کو کچھ نہ ملے تو مسلمان کافروں کی جو بستی بھی فتح کرتے میں اسے مسلمانوں کے درمیان حصوں میں تقسیم کردیتا جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو مسلمانوں میں حصوں میں تقسیم فرما دیا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ایک اصول مسلمانوں میں چلتا رہے۔ اور میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ بعد کے لوگوں کو کچھ نہ دیا جائے۔
(۳۸۰۵۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، یَقُولُ : لَوْلاَ أَنْ یُتْرُکَ آخَرُ النَّاسِ لاَ شَیْئَ لَہُمْ ، مَا افْتَتَحَ الْمُسْلِمُونَ قَرْیَۃً مِنْ قُرَی الْکُفَّارِ إِلاَّ قَسَمْتُہَا بَیْنَہُمْ سُہْمَانًا کَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْبَرَ سُہْمَانًا ، وَلَکِنِّی أَرَدْتُ أَنْ تَکُونَ جَرِیَّۃً تَجْرِی عَلَی الْمُسْلِمِینَ ، وَکَرِہْتُ أَنْ یُتْرُکَ آخِرُ النَّاسِ لاَ شَیْئَ لَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٥٢) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے خیبر کے دن ایک عورت کو قید کیا اور اس کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ اس عورت نے اس آدمی کی تلوار کے قبضہ پر جھگڑا کیا تو اس آدمی نے اس عورت کو قتل کردیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو (مقتول) دیکھا تو ارشاد فرمایا۔ اس عورت کو کس نے قتل کیا ہے ؟ لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا ۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کے قتل کرنے سے منع فرمایا۔
(۳۸۰۵۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : سَبَی رَجُلٌ امْرَأَۃً یَوْمَ خَیْبَرَ ، فَحَمَلَہَا خَلْفَہُ فَنَازَعَتْہُ قَائِمَ سَیْفِہِ ، فَقَتَلَہَا ، فَأَبْصَرَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ قَتَلَ ہَذِہِ ؟ فَأَخْبَرُوہُ ، فَنَہَی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٥٣) حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لشکر کو جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن ابی الحقیق کو خیبر میں قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ عورتوں اور بچوں کو قتل کرے۔
(۳۸۰۵۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی النَّفَرَ الَّذِینَ بَعَثَ إِلَی ابْنِ أَبِی الْحُقِیقِ بِخَیْبَرَ لِیَقْتُلُوہُ، فَنَہَاہُمْ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٥٤) حضرت عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ کی طرف کچھ وفود گئے اور ہم میں حضرت ابوہریرہ بھی تھے۔ یہ رمضان کے دنوں کی بات ہے۔ پس ہم میں سے بعض، بعض کے لیے کھانے کی دعوت کا اہتمام کرتے۔ راوی کا بیان ہے۔ حضرت ابوہریرہ ان میں سے تھے جو ہمارے لیے بہت زیادہ کھانے کی دعوت کا اہتما م کرتے تھے۔ اور ہمیں اپنے کجاوہ (منزل) کی طرف بلا لیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے (دل میں) کہا کہ کیوں نہ میں اپنے ساتھیوں کے لیے دعوت کا اہتمام کروں اور انھیں اپنے کجاوہ کی طرف بُلاؤں ۔ کہتے ہیں : پس میں نے کھانے کا کہا اور وہ تیار کرلیا گیا اور شام کو حضرت ابوہریرہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے (ان سے) کہا ۔ آج کی رات میری طرف دعوت ہے۔ انھوں نے (آگے سے) فرمایا : کیا تم مجھ پر (آج) سبقت لے گئے ہو ؟ کہتے ہیں : میں نے کہا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پس میں نے سب کو بلایا اور وہ میرے پاس آگئے۔ حضرت ابوہریرہ کہنے لگے۔ اے گروہ انصار ! کیا میں تمہیں، تمہاری باتوں میں سے ہی کچھ سُناؤں ؟ راوی کہتے ہیں کہ پھر انھوں نے فتح مکہ کا (واقعہ) ذکر کیا۔
٢۔ حضرت ابوہریرہ کہنے لگے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میمنہ اور میسرہ میں سے ایک لشکر پر حضرت زبیر کو مقرر فرمایا اور حضرت خالد بن الولید کو دوسرے لشکر پر مقرر فرمایا۔ اور حضرت ابو عبیدہ کو خالی ہاتھ لوگوں پر مقرر فرمایا۔ پھر وہ لوگ وادی کے آنگن میں داخل ہوگئے۔ ابوہریرہ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چھوٹے سے لشکر میں تھے۔ فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے آواز دی ۔ فرمایا۔ اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا۔ میں حاضر ہوں۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے لیے انصار کو آواز دو ۔ میرے پاس صرف میرے انصار (صحابہ) ہی آئیں۔ ابوہریرہ کہتے ہیں۔ پس میں نے انھیں آواز دی۔ کہتے ہیں : وہ سب حاضر ہوگئے یہاں تک کہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے جھرمٹ میں لے لیا۔
٣۔ راوی کہتے ہیں : قریش نے اپنے بہت سے پیرو اور متفرق لوگوں کو جمع کر رکھا تھا۔ اور قریش کہہ رہے تھے۔ ہم ان لوگوں کو (پہلے) آگے بھیجیں گے پس اگر ان کو کچھ (فائدہ) ملا تو ہم ان کے ساتھ شریک ہوں گے اور اگر یہ لوگ مارے گئے تو ہم سے جو سوال کیا گیا ہم وہ دے چکے ہوں گے۔
٤۔ جب انصار نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے جھرمٹ میں لیا ہوا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تھا۔ قریش کے پیرو اور ان متفرق لوگوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ مار کر اشارہ فرماتے ہوئے کہا۔ ان کو مار ڈالو۔۔۔ سلمان راوی نے بھی اپنے دائیں ہتھیلی کے کنارے کو بائیں ہتھیلی پر مارا ۔۔۔ ان کو خوب مارو یہاں تک کہ تم مجھے صفاء پر ملو ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ہم اس حالت میں روانہ ہوئے کہ ہم سے جو کوئی بھی اُن (اتباعِ قریش) میں سے کسی کو قتل کرنا چاہے تو اس کو قتل کرسکتا تھا۔ اور ان مں سے کوئی بھی ہمیں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ ابو سفیان نے (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قریش کے عوام کو مباح قرار دیا گیا ہے ؟ (پھر تو) آج کے بعد قریش (باقی) نہیں ہوں گے۔۔۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنا دروازہ بند کرلے گا وہ مامون ہوگا اور جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے گا وہ بھی مامون ہوگا۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے اپنے اپنے دروازے بند کرلیے۔
٥۔ ابوہریرہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجر اسود کا استلام کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کی ایک جانب رکھے ہوئے بُت کی طرف آئے جس کی مشرکین مکہ عبادت کرتے تھے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں (اس وقت) کمان تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ٹیڑھی جانب سے پکڑا ہوا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قوس (کمان) کو اس بت کی آنکھ میں مارنا شروع کیا اور ارشاد فرمایا : حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقیناً باطل ایسی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طواف سے فارغ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفا پہاڑی کی طرف آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر اس جگہ تک بلند ہوئے جہاں سے بیت اللہ دکھائی دیتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف اور خدا کا ذکر کرنے لگے اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مانگنا مطلوب تھا وہ کچھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مانگا ۔۔۔ ابوہریرہ کہتے ہیں : انصار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نیچے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : انصار ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ اس آدمی (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو اپنی بستی میں رغبت اور اپنی قوم سے محبت نے آلیا ہے۔
٦۔ راوی کہتے ہیں : ابوہریرہ فرماتے ہیں : (اسی دوران) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی آگئی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی آتی تھی تو یہ بات ہم پر مخفی نہ رہتی تھی۔ اور اس کیفیت (نزول وحی) کے ختم ہونے تک لوگوں میں سے کوئی بھی شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ پس جب وحی (کی کیفیت) ختم ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ اے گروہ انصار ! انصار نے جواباً عرض کات۔ ہم حاضر ہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نے یہ بات کہی ہے کہ اس آدمی کو، اس کی بستی کی رغبت اور اس کی قوم کی محبت نے آلیا ہے ۔۔۔ انصار نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے (واقعی) یہ بات کہی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ اس وقت میرا نام کیا ہوگا ؟ ہرگز نہیں ! میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے اللہ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ زندگی تمہارے ساتھ ہوگی اور موت بھی تمہارے ساتھ ہوگی۔ راوی کہتے ہیں : انصار نے (یہ بات سن کر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف رخ کر کے رونا شروع کردیا اور کہنے لگے۔ بخدا ! اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو بات ہم نے کہی ہے وہ محض اللہ اور اس کے رسول پر ناز کی وجہ سے کہی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہاری معذرت کو قبول کرتے ہیں اور تمہاری تصدیق کرتے ہیں۔
٢۔ حضرت ابوہریرہ کہنے لگے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میمنہ اور میسرہ میں سے ایک لشکر پر حضرت زبیر کو مقرر فرمایا اور حضرت خالد بن الولید کو دوسرے لشکر پر مقرر فرمایا۔ اور حضرت ابو عبیدہ کو خالی ہاتھ لوگوں پر مقرر فرمایا۔ پھر وہ لوگ وادی کے آنگن میں داخل ہوگئے۔ ابوہریرہ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چھوٹے سے لشکر میں تھے۔ فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے آواز دی ۔ فرمایا۔ اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا۔ میں حاضر ہوں۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے لیے انصار کو آواز دو ۔ میرے پاس صرف میرے انصار (صحابہ) ہی آئیں۔ ابوہریرہ کہتے ہیں۔ پس میں نے انھیں آواز دی۔ کہتے ہیں : وہ سب حاضر ہوگئے یہاں تک کہ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے جھرمٹ میں لے لیا۔
٣۔ راوی کہتے ہیں : قریش نے اپنے بہت سے پیرو اور متفرق لوگوں کو جمع کر رکھا تھا۔ اور قریش کہہ رہے تھے۔ ہم ان لوگوں کو (پہلے) آگے بھیجیں گے پس اگر ان کو کچھ (فائدہ) ملا تو ہم ان کے ساتھ شریک ہوں گے اور اگر یہ لوگ مارے گئے تو ہم سے جو سوال کیا گیا ہم وہ دے چکے ہوں گے۔
٤۔ جب انصار نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے جھرمٹ میں لیا ہوا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تھا۔ قریش کے پیرو اور ان متفرق لوگوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ مار کر اشارہ فرماتے ہوئے کہا۔ ان کو مار ڈالو۔۔۔ سلمان راوی نے بھی اپنے دائیں ہتھیلی کے کنارے کو بائیں ہتھیلی پر مارا ۔۔۔ ان کو خوب مارو یہاں تک کہ تم مجھے صفاء پر ملو ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ہم اس حالت میں روانہ ہوئے کہ ہم سے جو کوئی بھی اُن (اتباعِ قریش) میں سے کسی کو قتل کرنا چاہے تو اس کو قتل کرسکتا تھا۔ اور ان مں سے کوئی بھی ہمیں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ ابو سفیان نے (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قریش کے عوام کو مباح قرار دیا گیا ہے ؟ (پھر تو) آج کے بعد قریش (باقی) نہیں ہوں گے۔۔۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنا دروازہ بند کرلے گا وہ مامون ہوگا اور جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے گا وہ بھی مامون ہوگا۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے اپنے اپنے دروازے بند کرلیے۔
٥۔ ابوہریرہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجر اسود کا استلام کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کی ایک جانب رکھے ہوئے بُت کی طرف آئے جس کی مشرکین مکہ عبادت کرتے تھے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں (اس وقت) کمان تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ٹیڑھی جانب سے پکڑا ہوا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قوس (کمان) کو اس بت کی آنکھ میں مارنا شروع کیا اور ارشاد فرمایا : حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقیناً باطل ایسی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طواف سے فارغ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفا پہاڑی کی طرف آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر اس جگہ تک بلند ہوئے جہاں سے بیت اللہ دکھائی دیتا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف اور خدا کا ذکر کرنے لگے اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مانگنا مطلوب تھا وہ کچھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مانگا ۔۔۔ ابوہریرہ کہتے ہیں : انصار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نیچے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : انصار ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ اس آدمی (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو اپنی بستی میں رغبت اور اپنی قوم سے محبت نے آلیا ہے۔
٦۔ راوی کہتے ہیں : ابوہریرہ فرماتے ہیں : (اسی دوران) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی آگئی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی آتی تھی تو یہ بات ہم پر مخفی نہ رہتی تھی۔ اور اس کیفیت (نزول وحی) کے ختم ہونے تک لوگوں میں سے کوئی بھی شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ پس جب وحی (کی کیفیت) ختم ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ اے گروہ انصار ! انصار نے جواباً عرض کات۔ ہم حاضر ہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نے یہ بات کہی ہے کہ اس آدمی کو، اس کی بستی کی رغبت اور اس کی قوم کی محبت نے آلیا ہے ۔۔۔ انصار نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے (واقعی) یہ بات کہی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ اس وقت میرا نام کیا ہوگا ؟ ہرگز نہیں ! میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے اللہ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ زندگی تمہارے ساتھ ہوگی اور موت بھی تمہارے ساتھ ہوگی۔ راوی کہتے ہیں : انصار نے (یہ بات سن کر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف رخ کر کے رونا شروع کردیا اور کہنے لگے۔ بخدا ! اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو بات ہم نے کہی ہے وہ محض اللہ اور اس کے رسول پر ناز کی وجہ سے کہی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہاری معذرت کو قبول کرتے ہیں اور تمہاری تصدیق کرتے ہیں۔
(۳۸۰۵۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ : وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَی مُعَاوِیَۃَ وَفِینَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ ، وَذَلِکَ فِی رَمَضَانَ ، فَجَعَلَ بَعْضُنَا یَصْنَعُ لِبَعْضٍ الطَّعَامَ ، قَالَ : فَکَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ مِمَّنْ یَصْنَعُ لَنَا فَیُکْثِرُ فَیَدْعُونَا إِلَی رَحْلِہِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَلاَ أَصْنَعُ لأَصْحَابِنَا فَأَدْعُوہُمْ إِلَی رَحْلِی ، قَالَ : فَأَمَرْت بِطَعَامٍ فَصُنِعَ ، وَلَقِیت أَبَا ہُرَیْرَۃَ مِنَ الْعَشِّی ، فَقُلْتُ : الدَّعْوَۃُ عِنْدِی اللَّیْلَۃَ ، قَالَ: أَسَبَقَتْنِی ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَدَعَوْتُہُمْ فَہُمْ عِنْدِی ، قَالَ : قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : أَلاَ أُعَلِّلْکُمْ بِحَدِیثٍ مِنْ حَدِیثِکُمْ یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ؟ قَالَ : ثُمَّ ذَکَرَ فَتْحَ مَکَّۃَ۔
قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی دَخَلَ مَکَّۃَ ، وَبَعَثَ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ عَلَی إِحْدَی الْمُجَنِّبَتَیْنِ ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ عَلَی الْمُجَنِّبَۃِ الأُخْرَی ، وَبَعَثَ أَبَا عُبَیْدَۃَ عَلَی الْحُسَّرِ ، فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِی ، قَالَ : وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی
کَتِیبَۃٍ ، قَالَ : فَنَادَانِی ، قَالَ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : اہْتِفْ لِی بِالأَنْصَارِ ، وَلاَ یَأْتِنِی إِلاَّ أَنْصَارِیٌّ ، قَالَ : فَہَتَفْتُ بِہِمْ ، قَالَ : فَجَاؤُوا حَتَّی أَطَافُوا بِہِ۔
قَالَ : وَقَدْ وَبَّشَتْ قُرَیْشٌ أَوْبَاشًا لَہَا وَأَتْبَاعًا ، قَالُوا : نُقدِّمَ ہَؤُلاَئِ ، فَإِنْ کَانَ لَہُمْ شَیئٌ کُنَا مَعَہُمْ ، وَإِنْ أُصِیبُوا أَعْطَیْنَا الَّذِی سُئِلْنَا۔
فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلأَنْصَارِ حِینَ أَطَافُوا بِہِ : أَتَرَوْنَ إِلَی أَوْبَاشِ قُرَیْشٍ وَأَتْبَاعِہِمْ ؟ ثُمَّ قَالَ بِیَدَیْہِ إِحْدَاہُمَا عَلَی الأُخْرَی : اُحْصُدُوہُمْ ، ثُمَّ ضَرَبَ سُلَیْمَانَ بِحَرْفِ کَفِّہِ الْیُمْنَی عَلَی بَطْنِ کَفِّہِ الْیُسْرَی : اُحْصُدُوہُمْ حَصْدًا حَتَّی تُوَافُونِی بِالصَّفَا ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَمَا أَحَدٌ مِنَّا یَشَائُ أَنْ یَقْتُلَ مِنْہُمْ أَحَدًا إِلاَّ قَتَلَہُ ، وَأَمَّا أَحَدٌ مِنْہُمْ یُوَجِّہُ إِلَیْنَا شَیْئًا ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أُبِیحَتْ خَضْرَائُ قُرَیْشٍ ، لاَ قُرَیْشَ بَعْدَ ہَذَا الْیَوْمِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ ، قَالَ : فَغَلَّقَ النَّاسُ أَبْوَابَہُمْ۔
قَالَ : فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَطَافَ بِالْبَیْتِ ، فَأَتَی عَلَی صَنَمٍ إِلَی جَنْبِ الْبَیْتِ یَعْبُدُونَہُ ، وَفِی یَدِہِ قَوْسٌ وَہُوَ آخِذٌ بِسِیَۃِ الْقَوْسِ ، فَجَعَلَ یَطْعُنْ بِہَا فِی عَیْنِہِ وَیَقُولُ : {جَائَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ، إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا}
حَتَّی إِذَا فَرَغَ مِنْ طَوَافِہِ أَتَی الصَّفَا فَعَلاَہَا حَیْثُ یَنْظُرُ إِلَی الْبَیْتِ ، فَرَفَعَ یَدَیْہِ وَجَعَلَ یَحْمَدُ اللَّہَ وَیَذْکُرُہُ ، وَیَدْعُو بِمَا شَائَ أَنْ یَدْعُوَ ، قَالَ : وَالأَنْصَارُ تَحْتَہُ ، قَالَ : تَقُولُ الأَنْصَارُ بَعْضُہَا لِبَعْضٍ : أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْہُ رَغْبَۃٌ فِی قَرْیَتِہِ وَرَأْفَۃٌ بِعَشِیرَتِہِ۔
قَالَ : قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : وَجَائَ الْوَحْیُ ، وَکَانَ إِذَا جَائَ الْوَحْیُ لَمْ یَخْفَ عَلَیْنَا ، فَلَیْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یَرْفَعُ طَرْفَہُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی یَقْضِیَ ، فَلَمَّا قَضَی الْوَحْیُ ، قَالُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، قَالُوا : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : قُلْتُمْ : أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْہُ رَغْبَۃٌ فِی قَرْیَتِہِ وَرَأْفَۃٌ بِعَشِیرَتِہِ ، قَالُوا : قَدْ قُلْنَا ذَاکَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : فَمَا اسَمِی إِذًا ؟ کَلاً إِنِّی عَبْدُ اللہِ وَرَسُولُہُ ، ہَاجَرْت إِلَی اللہِ وَإِلَیْکُمْ ، الْمَحْیَا مَحْیَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ ، قَالَ : فَأَقْبَلُوا إِلَیْہِ یَبْکُونَ ، یَقُولُونَ : وَاللہِ یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا قُلْنَا الَّذِی قُلْنَا إِلاَّ لِلضَّنِّ بِاللہِ وَبِرَسُولِہِ ، قَالَ : فَإِنَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ یَعْذُرَانِکُمْ وَیُصَدِّقَانِکُمْ۔
(مسلم ۱۴۰۵۔ ابوداؤد ۱۸۶۷)
قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی دَخَلَ مَکَّۃَ ، وَبَعَثَ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ عَلَی إِحْدَی الْمُجَنِّبَتَیْنِ ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ عَلَی الْمُجَنِّبَۃِ الأُخْرَی ، وَبَعَثَ أَبَا عُبَیْدَۃَ عَلَی الْحُسَّرِ ، فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِی ، قَالَ : وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی
کَتِیبَۃٍ ، قَالَ : فَنَادَانِی ، قَالَ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : اہْتِفْ لِی بِالأَنْصَارِ ، وَلاَ یَأْتِنِی إِلاَّ أَنْصَارِیٌّ ، قَالَ : فَہَتَفْتُ بِہِمْ ، قَالَ : فَجَاؤُوا حَتَّی أَطَافُوا بِہِ۔
قَالَ : وَقَدْ وَبَّشَتْ قُرَیْشٌ أَوْبَاشًا لَہَا وَأَتْبَاعًا ، قَالُوا : نُقدِّمَ ہَؤُلاَئِ ، فَإِنْ کَانَ لَہُمْ شَیئٌ کُنَا مَعَہُمْ ، وَإِنْ أُصِیبُوا أَعْطَیْنَا الَّذِی سُئِلْنَا۔
فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلأَنْصَارِ حِینَ أَطَافُوا بِہِ : أَتَرَوْنَ إِلَی أَوْبَاشِ قُرَیْشٍ وَأَتْبَاعِہِمْ ؟ ثُمَّ قَالَ بِیَدَیْہِ إِحْدَاہُمَا عَلَی الأُخْرَی : اُحْصُدُوہُمْ ، ثُمَّ ضَرَبَ سُلَیْمَانَ بِحَرْفِ کَفِّہِ الْیُمْنَی عَلَی بَطْنِ کَفِّہِ الْیُسْرَی : اُحْصُدُوہُمْ حَصْدًا حَتَّی تُوَافُونِی بِالصَّفَا ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَمَا أَحَدٌ مِنَّا یَشَائُ أَنْ یَقْتُلَ مِنْہُمْ أَحَدًا إِلاَّ قَتَلَہُ ، وَأَمَّا أَحَدٌ مِنْہُمْ یُوَجِّہُ إِلَیْنَا شَیْئًا ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أُبِیحَتْ خَضْرَائُ قُرَیْشٍ ، لاَ قُرَیْشَ بَعْدَ ہَذَا الْیَوْمِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ ، قَالَ : فَغَلَّقَ النَّاسُ أَبْوَابَہُمْ۔
قَالَ : فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَطَافَ بِالْبَیْتِ ، فَأَتَی عَلَی صَنَمٍ إِلَی جَنْبِ الْبَیْتِ یَعْبُدُونَہُ ، وَفِی یَدِہِ قَوْسٌ وَہُوَ آخِذٌ بِسِیَۃِ الْقَوْسِ ، فَجَعَلَ یَطْعُنْ بِہَا فِی عَیْنِہِ وَیَقُولُ : {جَائَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ، إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا}
حَتَّی إِذَا فَرَغَ مِنْ طَوَافِہِ أَتَی الصَّفَا فَعَلاَہَا حَیْثُ یَنْظُرُ إِلَی الْبَیْتِ ، فَرَفَعَ یَدَیْہِ وَجَعَلَ یَحْمَدُ اللَّہَ وَیَذْکُرُہُ ، وَیَدْعُو بِمَا شَائَ أَنْ یَدْعُوَ ، قَالَ : وَالأَنْصَارُ تَحْتَہُ ، قَالَ : تَقُولُ الأَنْصَارُ بَعْضُہَا لِبَعْضٍ : أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْہُ رَغْبَۃٌ فِی قَرْیَتِہِ وَرَأْفَۃٌ بِعَشِیرَتِہِ۔
قَالَ : قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : وَجَائَ الْوَحْیُ ، وَکَانَ إِذَا جَائَ الْوَحْیُ لَمْ یَخْفَ عَلَیْنَا ، فَلَیْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یَرْفَعُ طَرْفَہُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی یَقْضِیَ ، فَلَمَّا قَضَی الْوَحْیُ ، قَالُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ، قَالُوا : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : قُلْتُمْ : أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْہُ رَغْبَۃٌ فِی قَرْیَتِہِ وَرَأْفَۃٌ بِعَشِیرَتِہِ ، قَالُوا : قَدْ قُلْنَا ذَاکَ یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : فَمَا اسَمِی إِذًا ؟ کَلاً إِنِّی عَبْدُ اللہِ وَرَسُولُہُ ، ہَاجَرْت إِلَی اللہِ وَإِلَیْکُمْ ، الْمَحْیَا مَحْیَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ ، قَالَ : فَأَقْبَلُوا إِلَیْہِ یَبْکُونَ ، یَقُولُونَ : وَاللہِ یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا قُلْنَا الَّذِی قُلْنَا إِلاَّ لِلضَّنِّ بِاللہِ وَبِرَسُولِہِ ، قَالَ : فَإِنَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ یَعْذُرَانِکُمْ وَیُصَدِّقَانِکُمْ۔
(مسلم ۱۴۰۵۔ ابوداؤد ۱۸۶۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٥٥) حضرت ابو سلمہ اور یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مشرکین (مکہ) کے درمیان جنگ بندی کا وقفہ تھا۔ اور بنو کعب بنو بکر کے درمیان مکہ میں لڑائی ہوگئی۔ بنی کعب کی طرف سے ایک فریادی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا۔ ع
اے خدا ! میں محمد کو اپنے اور اس کے آباء کی پرانی قسم دیتا ہوں۔
کہ تم مدد کرو۔ اللہ تمہیں ہدایت دے۔ سخت مدد اور اللہ کے بندوں کو بلاؤ وہ مدد کے لیے آئیں گے۔
٢۔ پس ایک بادل گزرا اور وہ کڑکا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ یہ بادل بنو کعب کی مدد کے لیے کھڑک رہا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ سے فرمایا : میرا سامان تیار کرو۔ اور کسی کو یہ بات نہ بتانا۔ پس (اسی دوران) حضرت عائشہ کے پاس حضرت ابوبکر تشریف لائے اور انھوں نے امی عائشہ کی حالت کو متغیر پایا تو انھوں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سامان تیار کروں۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا۔ کہاں کے لیے ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا۔ مکہ کے لیے ۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ بخدا ! ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان جنگ بندی کا وقفہ ختم تو نہیں ہوا۔ پھر حضرت ابوبکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ان لوگوں نے پہلے غدر کیا ہے۔
٣۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے راستہ بند کرنے کا حکم دیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر مسلمان نکل پڑے اور اہل مکہ کو یوں گھیر لیا کہ ان کو کوئی خبر نہ مل سکی۔ ابو سفیان نے حکیم بن حزام سے کہا۔ اے حکیم ! بخدا ! ہم لوگوں کو گھیر لیا گیا ہے اور ہم ڈھک چکے ہیں۔ کیا تم اس کام کے لیے تیار ہو۔ کہ ہم یہاں سے مرالظہران تک سوار ہو کر (حالات) دیکھیں۔ شاید ہمیں کوئی خبر مل جائے۔ قبیلہ خزاعہ کے بدیل بن ورقاء کعبی نے کہا۔ میں بھی تمہارے ساتھ چلوں۔ ابو سفیان اور حکم نے کہا۔ اگر تم چاہو تو چل پڑو۔ راوی کہتے ہیں۔ پس یہ لوگ سوار ہو کر جب مرالظہران کی پہاڑی کے قریب پہنچے۔ اور گاٹی پر چڑھ گئے۔
٤۔ پس جب یہ پیلو کے درخت سے آگے گزرے تو انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہرہ داروں نے ۔۔۔ انصاری صحابہ کی ایک جماعت نے پکڑ لیا۔ اس رات حضرت عمر بن خطاب پہرہ داروں پر ذمہ دار تھے۔ پہرہ دار صحابہ ان کو ۔۔۔ ابو سفیان وغیرہ کو لے کر حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے۔ اور آ کر کہنے لگے۔ ہم آپ کے پاس اہل مکہ میں سے چند لوگ پکڑ کر لائے ہیں۔ حضرت عمر۔۔۔ انھیں دیکھ کر ہنسنے لگے اور ۔۔۔ فرمایا : خدا کی قسم ! اگر تم میرے پاس ابو سفیان کو لے آتے تو بھی کچھ زیادہ نہ ہوتا۔ پہرہ دار صحابہ نے کہا : خدا کی قسم ! ہم آپ کے پاس ابو سفیان ہی کو لائے ہیں۔ (اس پر) حضرت عمر نے فرمایا : اس کو بند کرلو۔ صحابہ نے ابو سفیان کو بند کرلیا۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر حضرت عمر ابو سفیان کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابو سفیان سے کہا گیا۔ بیعت (اسلام) کرلو۔ ابو سفیان نے کہا ۔۔۔ میں اس وقت یہی صورت یا اس سے بھی بدتر صورت ہی موجود پاتا ہوں۔ پھر اس نے (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) بیعت کرلی۔ پھر حکیم بن حزام سے کہا گیا۔ تم (بھی) بیعت کرلو۔ اس نے کہا : میں آپ سے بیعت کرتا ہوں۔ لیکن میں کھڑا ہی رہوں گا۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم ہماری طرف سے بھی کھڑے رہنے کو قبول کرو۔
٥۔ پس جب یہ لوگ واپس ہوئے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابو سفیان ایک ایسا آدمی ہے جو شہرت کو پسند کرتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ مامون ہے سوائے ابن خطل ، مقیس بن صبابہ اللیثی، عبداللہ بن سعد بن سرح اور دو باندیاں۔ اگر تم ان (مستثنیٰ ) لوگوں کو کعبہ کے غلافوں میں بھی چمٹا ہوا پاؤ تو بھی ان کو قتل کر ڈالو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جب یہ لوگ واپس ہوئے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ اگر آپ ابو سفیان کے بارے میں حکم دیں کہ اس کو راستہ میں روک دیا جائے اور پھر آپ لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیں۔ پس حضرت عباس نے ابوسفیان کو راستہ میں پالیا (اور روک دیا) حضرت عباس نے ابو سفیان سے کہا۔ کیا تم بیٹھو گے تاکہ کچھ نظارہ کرو ؟ ابو سفیان نے کہا : کیوں نہیں ! اور یہ (راستہ میں روکنا اور نظارہ دکھانا) سب کچھ صرف اس لیے تھا کہ ابو سفیان ان کی کثرت کو دیکھے اور ان کے بارے میں پوچھے۔
٦۔ اسی دوران قبیلہ جہینہ کے لوگ گزرے تو ابو سفیان نے پوچھا : اے عباس ! یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے جواب دیا : یہ جہینہ کے لوگ ہیں۔ ابو سفیان نے کہا۔ مجھے اجہینہ والوں سے کیا مطلب ؟ خدا کی قسم ! میری اور ان کی کبھی جنگ نہیں ہوئی۔ پھر قبیلہ مزینہ کے لوگ گزرے تو ابوسفیان نے پوچھا۔ اے عباس ! یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے کہا۔ یہ قبیلہ مزینہ کے لوگ ہیں۔ ابو سفیان نے کہا۔ مجھے مزینہ سے کیا مطلب ؟ خدا کی قسم ! مزینہ اور میرے درمیان کبھی جنگ نہیں ہوئی۔ پھر قبیلہ سلیم کے لوگ گزرے تو ابو سفیان نے کہا۔ اے عباس ! یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے کہا۔ یہ قبیلہ سلیم کے لوگ ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر (اس طرح) عرب کے گروہ گزرتے رہے اس دوران قبیلہ اسلم اور غفار بھی گزرے۔ ابو سفیان نے ان کے بارے میں پوچھا۔ اور حضرت عباس اس کو بتاتے رہے۔
٧۔ یہاں تک کہ تمام لوگوں کے آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہاجرین اولین اور انصار کے ہمراہ لڑائی کے سامان کے ساتھ گزرے جو آنکھوں کو چندھیا رہا تھا۔ ابو سفیان نے کہا ۔ اے عباس ، یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے فرمایا : یہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے صحابہ ہیں جو مہاجرین اولین اور انصار کے ہمراہ ہیں۔ ابو سفیان کہنے لگا۔ میرا بھتیجا تو بڑی بادشاہی والا ہوگیا ہے۔ حضرت عباس نے کہا۔ نہیں ! بخدا ! یہ بادشاہی نہیں ہے بلکہ یہ نبوت ہے۔ یہ لوگ دس ہزار یا بارہ ہزار کی تعداد میں تھے۔
٨۔ راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ کو دیا اور پھر انھوں نے اپنے بیٹے قیس بن سعد کو دے دیا۔ اور ابو سفیان سوار ہو کر لوگوں سے آگے نکل گیا یہاں تک کہ اس نے پہاڑی سے اہل مکہ کو دیکھا۔ اہل مکہ نے اس سے پوچھا۔ تیرے پیچھے کیسا لشکر ہے ؟ اس نے جواب دیا ۔ میرے پیچھے بہت بڑی تعداد ہے۔ میرے پیچھے وہ لشکر ہے جس کی تمہیں طاقت نہیں میرے پیچھے ایسا لشکر ہے کہ جس کی مثال میں نے نہیں دیکھی۔ جو شخص میرے گھر میں داخل ہوجائے گا۔ وہ امن پا جائے گا۔ پس لوگوں نے حضرت ابوسفیان کے گھر میں زبردستی گھسنا شروع کردیا۔
٩۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے بالائی حصہ میں مقام حجون پر ٹھہر گئے اور حضرت زبیر بن عوام کو گھڑ سواروں کے امیر کے طور پر وادی کے بالائی حصہ سے بھیجا۔ اور حضرت خالد بن الولید کو گھڑ سواروں پر مقرر فرما کر وادی کے نچلے حصہ میں بھیجا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” تحقیق تو (مکہ) خدا کی زمین کا بہترین حصہ ہے اور خدا تعالیٰ کی زمین میں سے خدا تعالیٰ کو محبوب ترین حصہ ہے۔ بخدا ! اگر مجھے تجھ سے نکالا جاتا تو میں ہرگز نہ نکلتا۔ اور (فرمایا) یہ قطعہ زمین مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی حلال نہیں کار گیا تھا اور نہ ہی میرے بعد اور کسی کے لیے حلال کیا جائے گا ۔ میرے لیے یہ دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا ہے۔ اور یہ موجودہ گھڑی ہے۔ یہ مکہ حرام ہے اس کے درخت کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے حبل (لوبیان کے مشابہ پھل) کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کی گمشدہ چیز کو کوئی بھی نہیں اٹھائے گا الا یہ کہ وہ اس کا اعلان کرنے کے لیے اٹھائے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک آدمی نے ۔۔۔ جس کو شاہ کہا جاتا تھا ۔۔۔ کہا : بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت عباس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اذخر کو مستثنیٰ کر دیجئے۔ کیونکہ وہ تو ہمارے گھروں ، قبروں اور لوہاروں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یا فرمایا : ہمارے لوہاروں اور قبروں کے استعمال میں آتی ہے۔
١٠۔ پھر ابن خطل کو کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا پایا گیا تو اس کو قتل کردیا گیا اور مقیس بن صبابہ کو صحابہ نے صفا اور مروہ کے درمیان پایا تو بنو کعب کی ایک جماعت اس کی طرف لپکی تاکہ اس کو قتل کر دے۔ لیکن اس کے چچا زاد نمیلہ نے کہا۔ اس کو تم چھوڑ دو ۔ خدا کی قسم کوئی آدمی اس کے قریب نہیں آئے گا مگر یہ کہ میں اس کو اپنی اس تلوار کے ذریعہ مار کر ٹھنڈا کر دوں گا۔ لوگ اس سے پیچھے ہٹ گئے اس کے بعد اس نے اپنی تلوار سے اس (مقیس) پر حملہ کیا اور تلوار سے اس کی کھوپڑی کو پھاڑ ڈالا۔ اور اس کو یہ بات ناپسند تھی کہ کوئی (دوسرا) مسلمان آدمی اس کے قتل پر فخر کرے۔
١١۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر عثمان بن طلحہ آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ان سے) کہا۔ اے عثمان ! چابی کہاں ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ وہ تو میری والدہ کے پاس ہے یعنی سلافہ بنت سعد کے پاس ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس عورت کی طرف عثمان کو بھیجا تو اس نے جواب میں کہا۔ نہ ” لات اور عُزیّٰ کی قسم ! میں یہ چابی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالہ نہیں کروں گی۔ عثمان نے کہا۔ (امی) اب ہماری حالت پہلے والی نہیں رہی۔ اگر تم چابی حوالہ نہ کرو گی تو میں اور میرا بھائی قتل ہوجائیں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اس نے چابی بیٹے کے حوالہ کردی۔ راوی کہتے ہیں : وہ یہ چابی لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آئے یہاں تک کہ جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پہنچے اور ان سے چابی گرگئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر اپنا کپڑا لٹکایا پھر عثمان نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت اللہ کا دروازہ کھول کردیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کے کونوں اور کناروں میں اللہ کی بڑائی اور تعریف بیان کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعات نماز ادا فرمائی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے اور چوکھٹوں کے درمیان کھڑے ہوگئے۔ حضرت علی کہتے ہیں۔ میں چابی کو بلند ہو کر دیکھنے لگا اور مجھے اس (کے حاصل ہونے) کی امید ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ چابی ہمیں حوالہ فرمائیں گے پس ہمارے ہاں بیت اللہ کا سقایہ اور چوکیداری جمع ہوجائے گی لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ عثمان کہاں ہیں ؟ یہ لو جو تمہیں خدا نے دیا ہے۔ (یہ کہہ کر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چابی ان کے حوالہ کردی۔
١٢۔ پھر حضرت بلال بیت اللہ کی چھت پر چڑھے اور آپ نے اذان دی۔ تو خالد بن اُسِید نے پوچھا۔ یہ کون سی آواز ہے ؟ لوگوں نے کہا۔ بلال بن رباح (کی آواز ہے) ۔ خالد کہنے لگا ابوبکر کا حبشی غلام ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ! کہنے لگا۔ کہاں ہے وہ ؟ لوگوں نے کہا۔ بیت اللہ کی چھت پر۔ خالد نے پوچھا : بنو ابی طلحہ کے مقام عزت پر ؟ لوگوں نے جواب دیا : ہاں ! خالد نے پوچھا : بلال کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ کہہ رہا ہے۔ اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ۔ اور اشھد ان محمدًا رسول اللّٰہ۔ خالد کہنے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے ابو خالد کو اس آواز کے سننے سے محفوظ رکھ کر عزت دی۔ ابو خالد سے اس کا اپنا باپ مراد تھا اور یہ جنگ بدر میں مشرکین کے ہمراہ قتل کیا گیا تھا۔
١٣۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین کی طرف نکل پڑے۔ حنین میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (سے مقابلہ) کے لیے قبیلہ ہوازن اکٹھا ہوا۔ اور انھوں نے لڑائی لڑی (عارضی طور پر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو شکست ہوئی ۔ ارشاد خداوندی ہے۔ (ترجمہ) ۔ ” اور حنین کے دن جب تمہاری تعداد کی کثرت نے تمہیں مگن کردیا تھا مگر وہ کثرت تعداد تمہارے کچھ کام نہ آئی۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر سکینہ نازل فرمائی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری سے نیچے تشریف لائے اور یہ دعا مانگی۔ اے اللہ ! اگر آپ چاہتے ہیں، آج کے بعد آپ کی عبادت نہ کی جائے۔ چہروں کو بدصورت فرما۔ پھر آپ نے فریق مخالف کی طرف وہ کنکریاں پھینک دیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں تھیں۔ جس پر وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ تو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیدیوں اور اموال پر قبضہ فرما لیا۔ اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا۔ اگر تم چاہو تو فدیہ دے دو اور اگر چاہو تو قید ہو جاؤ۔ ان لوگوں نے کہا۔ آج کے دن ہم اپنے حسب پر کسی بات کو پسند نہیں کرتے۔ (اس پر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب میں نکلوں تو تم مجھ سے سوال کرنا میں تمہیں اپنا حصہ دے دوں گا اور مسلمانوں میں سے بھی کوئی میری بات کو نہیں روکے گا پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (باہر) نکلے تو وہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لپکے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو میرا حصہ ہے وہ تو میں نے تمہیں دے دیا۔ اور دیگر مسلمانوں نے بھی یہی بات ان لوگوں سے کہی سوائے عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر کے۔ انھوں نے کہا۔ جو میرا حصہ ہے میں تو وہ نہیں دوں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں اس میں سے تمہارا حق ملے گا۔ راوی کہتے ہیں : پس اس دن انھیں ایک بھینگی بوڑھی حصہ میں ملی۔
١٤۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف والوں کا تقریباً ایک مہینہ تک محاصرہ فرمایا۔ پھر حضرت عمر بن خطاب نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مجھے اجازت دیں میں ان کے پاس جاتا ہوں اور انھیں اللہ کی طرف دعوت دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ تب تو وہ لوگ تمہیں قتل کردیں گے پھر حضرت عروہ ان اہل طائف کے پاس گئے اور انھیں اللہ کی طرف دعوت دی تو بنو مالک میں سے ایک آدمی نے حضرت عروہ کو تیر مار کر قتل کر ڈالا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عروہ کی مثال اپنی قوم میں ایسی ہے جیسا کہ یاسین کا ساتھی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ان کے جانوروں پر قبضہ کرلو اور ان پر تنگی کردو۔
١٥۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپسی کے لیے چل پڑے یہاں تک کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نخلہ مقام کے پاس پہنچے تو لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرنا شروع کردیا۔ حضرت انس کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر مبارک آپ کے کندھے سے اتار ڈالی اور انھوں نے (گویا) چاند کا ٹکڑا ظاہر کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” مجھے میری چادر واپس کردو۔ کیا تم لوگ مجھ پر کنجوسی کا الزام لگاتے ہوتے ہو۔ بخدا اگر میرے پاس اونٹ اور بکریاں ہوتی تو میں تمہیں دے دیتا ” پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مؤلفۃ القلوب کو اس دن سو سو اونٹ دیئے اور دیگر لوگوں کو بھی عطا فرمایا۔
١٦۔ اس پر انصار نے بھی کچھ کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلایا اور فرمایا۔ کیا تم نے یہ یہ بات کہی ہے ؟ کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے ہدایت دی ؟ انصار نے جواباً کہا۔ کیوں نہیں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ کیا میں نے تمہیں تنگ دست نہیں پایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے مالدار کردیا۔ انصار نے جواباً کہا۔ کیوں نہیں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ کیا میں نے تمہیں باہم دشمن نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں میرے ذریعے محبت ڈالی ؟ انصار نے جواباً کہا : کیوں نہیں ! ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں اگر تم چاہو تو تم بھی یوں کہو کہ آپ بھی تو ہمارے پاس بےیارو مدد گار آئے تھے اور پھر ہم نے آپ کی نصرت کی۔ انصار نے کہا۔ (نہیں) اللہ اور اس کے رسول کا احسان زیادہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا۔ اگر تم چاہو تو تم بھی یوں کہہ سکتے ہو کہ آپ ہمارے پاس نکالے ہوئے آئے تھے تو ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا تھا۔ انصار نے جواباً کہا۔ (نہیں) اللہ اور اس کے رسول کا احسان زیادہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ آپ بھی ہمارے پاس تنگدست آئے تھے پھر ہم نے آپ کے ساتھ غمخواری کی تھی انصار نے جواباً کہا۔ اللہ اور اس کے رسول کا احسان زیادہ ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اپنے گھروں میں رسول خدا کو لے کر پلٹو ؟ انصار نے عرض کیا۔ کیوں نہیں ! اس پر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : دیگر لوگ تو اوپر والا کپڑا ہیں اور انصار جسم کے ساتھ کا کپڑا ہیں۔
١٧۔ (راوی کہتے ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو عبد الاشہل کے حلیف عباد بن وقش کو تقسیم شدہ چیزوں پر مقرر فرمایا۔ تو (ان کے پاس) قبیلہ اسلم کا ایک ننگا آدمی آیا جس پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ اس نے آ کر کہا۔ مجھے ان چادروں میں سے ایک چادر پہنا دو ۔ عباد نے جواباً کہا۔ یہ تو مسلمانوں کے تقسیم شدہ حصے ہیں۔ اور میرے لیے یہ بات حلال نہیں ہے کہ میں ان میں سے تجھے کچھ دوں۔ (یہ سن کر) اسلم قبیلہ کے دیگر (مسلمان) لوگوں نے کہا۔ ان میں سے اس کو ایک چادر دے دو ۔ پھر اگر کسی نے اس کے بارے میں بات کی تو یہ ہماری تقسیم اور حصہ میں سے ہوگی۔ عباد نے اس سائل کو ایک چادر دے دی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات پہنچ گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا خدشہ نہیں تھا۔ عباد نے جواب دیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے یہ چادر اس کو نہیں دی یہاں تک کہ اس کی قوم نے کہا کہ اگر کسی نے اس کے بارے میں بات کی تو وہ ہماری تقسیم اور حصوں میں سے شمار کرلی جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہتر بدلہ دے، اللہ تعالیٰ تمہیں بہتر بدلہ دے۔
اے خدا ! میں محمد کو اپنے اور اس کے آباء کی پرانی قسم دیتا ہوں۔
کہ تم مدد کرو۔ اللہ تمہیں ہدایت دے۔ سخت مدد اور اللہ کے بندوں کو بلاؤ وہ مدد کے لیے آئیں گے۔
٢۔ پس ایک بادل گزرا اور وہ کڑکا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ یہ بادل بنو کعب کی مدد کے لیے کھڑک رہا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ سے فرمایا : میرا سامان تیار کرو۔ اور کسی کو یہ بات نہ بتانا۔ پس (اسی دوران) حضرت عائشہ کے پاس حضرت ابوبکر تشریف لائے اور انھوں نے امی عائشہ کی حالت کو متغیر پایا تو انھوں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سامان تیار کروں۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا۔ کہاں کے لیے ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا۔ مکہ کے لیے ۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ بخدا ! ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان جنگ بندی کا وقفہ ختم تو نہیں ہوا۔ پھر حضرت ابوبکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ان لوگوں نے پہلے غدر کیا ہے۔
٣۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے راستہ بند کرنے کا حکم دیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر مسلمان نکل پڑے اور اہل مکہ کو یوں گھیر لیا کہ ان کو کوئی خبر نہ مل سکی۔ ابو سفیان نے حکیم بن حزام سے کہا۔ اے حکیم ! بخدا ! ہم لوگوں کو گھیر لیا گیا ہے اور ہم ڈھک چکے ہیں۔ کیا تم اس کام کے لیے تیار ہو۔ کہ ہم یہاں سے مرالظہران تک سوار ہو کر (حالات) دیکھیں۔ شاید ہمیں کوئی خبر مل جائے۔ قبیلہ خزاعہ کے بدیل بن ورقاء کعبی نے کہا۔ میں بھی تمہارے ساتھ چلوں۔ ابو سفیان اور حکم نے کہا۔ اگر تم چاہو تو چل پڑو۔ راوی کہتے ہیں۔ پس یہ لوگ سوار ہو کر جب مرالظہران کی پہاڑی کے قریب پہنچے۔ اور گاٹی پر چڑھ گئے۔
٤۔ پس جب یہ پیلو کے درخت سے آگے گزرے تو انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہرہ داروں نے ۔۔۔ انصاری صحابہ کی ایک جماعت نے پکڑ لیا۔ اس رات حضرت عمر بن خطاب پہرہ داروں پر ذمہ دار تھے۔ پہرہ دار صحابہ ان کو ۔۔۔ ابو سفیان وغیرہ کو لے کر حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے۔ اور آ کر کہنے لگے۔ ہم آپ کے پاس اہل مکہ میں سے چند لوگ پکڑ کر لائے ہیں۔ حضرت عمر۔۔۔ انھیں دیکھ کر ہنسنے لگے اور ۔۔۔ فرمایا : خدا کی قسم ! اگر تم میرے پاس ابو سفیان کو لے آتے تو بھی کچھ زیادہ نہ ہوتا۔ پہرہ دار صحابہ نے کہا : خدا کی قسم ! ہم آپ کے پاس ابو سفیان ہی کو لائے ہیں۔ (اس پر) حضرت عمر نے فرمایا : اس کو بند کرلو۔ صحابہ نے ابو سفیان کو بند کرلیا۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر حضرت عمر ابو سفیان کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابو سفیان سے کہا گیا۔ بیعت (اسلام) کرلو۔ ابو سفیان نے کہا ۔۔۔ میں اس وقت یہی صورت یا اس سے بھی بدتر صورت ہی موجود پاتا ہوں۔ پھر اس نے (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) بیعت کرلی۔ پھر حکیم بن حزام سے کہا گیا۔ تم (بھی) بیعت کرلو۔ اس نے کہا : میں آپ سے بیعت کرتا ہوں۔ لیکن میں کھڑا ہی رہوں گا۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم ہماری طرف سے بھی کھڑے رہنے کو قبول کرو۔
٥۔ پس جب یہ لوگ واپس ہوئے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابو سفیان ایک ایسا آدمی ہے جو شہرت کو پسند کرتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ مامون ہے سوائے ابن خطل ، مقیس بن صبابہ اللیثی، عبداللہ بن سعد بن سرح اور دو باندیاں۔ اگر تم ان (مستثنیٰ ) لوگوں کو کعبہ کے غلافوں میں بھی چمٹا ہوا پاؤ تو بھی ان کو قتل کر ڈالو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جب یہ لوگ واپس ہوئے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ اگر آپ ابو سفیان کے بارے میں حکم دیں کہ اس کو راستہ میں روک دیا جائے اور پھر آپ لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیں۔ پس حضرت عباس نے ابوسفیان کو راستہ میں پالیا (اور روک دیا) حضرت عباس نے ابو سفیان سے کہا۔ کیا تم بیٹھو گے تاکہ کچھ نظارہ کرو ؟ ابو سفیان نے کہا : کیوں نہیں ! اور یہ (راستہ میں روکنا اور نظارہ دکھانا) سب کچھ صرف اس لیے تھا کہ ابو سفیان ان کی کثرت کو دیکھے اور ان کے بارے میں پوچھے۔
٦۔ اسی دوران قبیلہ جہینہ کے لوگ گزرے تو ابو سفیان نے پوچھا : اے عباس ! یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے جواب دیا : یہ جہینہ کے لوگ ہیں۔ ابو سفیان نے کہا۔ مجھے اجہینہ والوں سے کیا مطلب ؟ خدا کی قسم ! میری اور ان کی کبھی جنگ نہیں ہوئی۔ پھر قبیلہ مزینہ کے لوگ گزرے تو ابوسفیان نے پوچھا۔ اے عباس ! یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے کہا۔ یہ قبیلہ مزینہ کے لوگ ہیں۔ ابو سفیان نے کہا۔ مجھے مزینہ سے کیا مطلب ؟ خدا کی قسم ! مزینہ اور میرے درمیان کبھی جنگ نہیں ہوئی۔ پھر قبیلہ سلیم کے لوگ گزرے تو ابو سفیان نے کہا۔ اے عباس ! یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے کہا۔ یہ قبیلہ سلیم کے لوگ ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر (اس طرح) عرب کے گروہ گزرتے رہے اس دوران قبیلہ اسلم اور غفار بھی گزرے۔ ابو سفیان نے ان کے بارے میں پوچھا۔ اور حضرت عباس اس کو بتاتے رہے۔
٧۔ یہاں تک کہ تمام لوگوں کے آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہاجرین اولین اور انصار کے ہمراہ لڑائی کے سامان کے ساتھ گزرے جو آنکھوں کو چندھیا رہا تھا۔ ابو سفیان نے کہا ۔ اے عباس ، یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے فرمایا : یہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے صحابہ ہیں جو مہاجرین اولین اور انصار کے ہمراہ ہیں۔ ابو سفیان کہنے لگا۔ میرا بھتیجا تو بڑی بادشاہی والا ہوگیا ہے۔ حضرت عباس نے کہا۔ نہیں ! بخدا ! یہ بادشاہی نہیں ہے بلکہ یہ نبوت ہے۔ یہ لوگ دس ہزار یا بارہ ہزار کی تعداد میں تھے۔
٨۔ راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ کو دیا اور پھر انھوں نے اپنے بیٹے قیس بن سعد کو دے دیا۔ اور ابو سفیان سوار ہو کر لوگوں سے آگے نکل گیا یہاں تک کہ اس نے پہاڑی سے اہل مکہ کو دیکھا۔ اہل مکہ نے اس سے پوچھا۔ تیرے پیچھے کیسا لشکر ہے ؟ اس نے جواب دیا ۔ میرے پیچھے بہت بڑی تعداد ہے۔ میرے پیچھے وہ لشکر ہے جس کی تمہیں طاقت نہیں میرے پیچھے ایسا لشکر ہے کہ جس کی مثال میں نے نہیں دیکھی۔ جو شخص میرے گھر میں داخل ہوجائے گا۔ وہ امن پا جائے گا۔ پس لوگوں نے حضرت ابوسفیان کے گھر میں زبردستی گھسنا شروع کردیا۔
٩۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے بالائی حصہ میں مقام حجون پر ٹھہر گئے اور حضرت زبیر بن عوام کو گھڑ سواروں کے امیر کے طور پر وادی کے بالائی حصہ سے بھیجا۔ اور حضرت خالد بن الولید کو گھڑ سواروں پر مقرر فرما کر وادی کے نچلے حصہ میں بھیجا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” تحقیق تو (مکہ) خدا کی زمین کا بہترین حصہ ہے اور خدا تعالیٰ کی زمین میں سے خدا تعالیٰ کو محبوب ترین حصہ ہے۔ بخدا ! اگر مجھے تجھ سے نکالا جاتا تو میں ہرگز نہ نکلتا۔ اور (فرمایا) یہ قطعہ زمین مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی حلال نہیں کار گیا تھا اور نہ ہی میرے بعد اور کسی کے لیے حلال کیا جائے گا ۔ میرے لیے یہ دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا ہے۔ اور یہ موجودہ گھڑی ہے۔ یہ مکہ حرام ہے اس کے درخت کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے حبل (لوبیان کے مشابہ پھل) کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کی گمشدہ چیز کو کوئی بھی نہیں اٹھائے گا الا یہ کہ وہ اس کا اعلان کرنے کے لیے اٹھائے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک آدمی نے ۔۔۔ جس کو شاہ کہا جاتا تھا ۔۔۔ کہا : بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت عباس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اذخر کو مستثنیٰ کر دیجئے۔ کیونکہ وہ تو ہمارے گھروں ، قبروں اور لوہاروں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یا فرمایا : ہمارے لوہاروں اور قبروں کے استعمال میں آتی ہے۔
١٠۔ پھر ابن خطل کو کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا پایا گیا تو اس کو قتل کردیا گیا اور مقیس بن صبابہ کو صحابہ نے صفا اور مروہ کے درمیان پایا تو بنو کعب کی ایک جماعت اس کی طرف لپکی تاکہ اس کو قتل کر دے۔ لیکن اس کے چچا زاد نمیلہ نے کہا۔ اس کو تم چھوڑ دو ۔ خدا کی قسم کوئی آدمی اس کے قریب نہیں آئے گا مگر یہ کہ میں اس کو اپنی اس تلوار کے ذریعہ مار کر ٹھنڈا کر دوں گا۔ لوگ اس سے پیچھے ہٹ گئے اس کے بعد اس نے اپنی تلوار سے اس (مقیس) پر حملہ کیا اور تلوار سے اس کی کھوپڑی کو پھاڑ ڈالا۔ اور اس کو یہ بات ناپسند تھی کہ کوئی (دوسرا) مسلمان آدمی اس کے قتل پر فخر کرے۔
١١۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر عثمان بن طلحہ آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ان سے) کہا۔ اے عثمان ! چابی کہاں ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ وہ تو میری والدہ کے پاس ہے یعنی سلافہ بنت سعد کے پاس ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس عورت کی طرف عثمان کو بھیجا تو اس نے جواب میں کہا۔ نہ ” لات اور عُزیّٰ کی قسم ! میں یہ چابی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالہ نہیں کروں گی۔ عثمان نے کہا۔ (امی) اب ہماری حالت پہلے والی نہیں رہی۔ اگر تم چابی حوالہ نہ کرو گی تو میں اور میرا بھائی قتل ہوجائیں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اس نے چابی بیٹے کے حوالہ کردی۔ راوی کہتے ہیں : وہ یہ چابی لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آئے یہاں تک کہ جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پہنچے اور ان سے چابی گرگئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر اپنا کپڑا لٹکایا پھر عثمان نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت اللہ کا دروازہ کھول کردیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کے کونوں اور کناروں میں اللہ کی بڑائی اور تعریف بیان کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو ستونوں کے درمیان دو رکعات نماز ادا فرمائی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے اور چوکھٹوں کے درمیان کھڑے ہوگئے۔ حضرت علی کہتے ہیں۔ میں چابی کو بلند ہو کر دیکھنے لگا اور مجھے اس (کے حاصل ہونے) کی امید ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ چابی ہمیں حوالہ فرمائیں گے پس ہمارے ہاں بیت اللہ کا سقایہ اور چوکیداری جمع ہوجائے گی لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ عثمان کہاں ہیں ؟ یہ لو جو تمہیں خدا نے دیا ہے۔ (یہ کہہ کر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چابی ان کے حوالہ کردی۔
١٢۔ پھر حضرت بلال بیت اللہ کی چھت پر چڑھے اور آپ نے اذان دی۔ تو خالد بن اُسِید نے پوچھا۔ یہ کون سی آواز ہے ؟ لوگوں نے کہا۔ بلال بن رباح (کی آواز ہے) ۔ خالد کہنے لگا ابوبکر کا حبشی غلام ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ! کہنے لگا۔ کہاں ہے وہ ؟ لوگوں نے کہا۔ بیت اللہ کی چھت پر۔ خالد نے پوچھا : بنو ابی طلحہ کے مقام عزت پر ؟ لوگوں نے جواب دیا : ہاں ! خالد نے پوچھا : بلال کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ کہہ رہا ہے۔ اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ۔ اور اشھد ان محمدًا رسول اللّٰہ۔ خالد کہنے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے ابو خالد کو اس آواز کے سننے سے محفوظ رکھ کر عزت دی۔ ابو خالد سے اس کا اپنا باپ مراد تھا اور یہ جنگ بدر میں مشرکین کے ہمراہ قتل کیا گیا تھا۔
١٣۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین کی طرف نکل پڑے۔ حنین میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (سے مقابلہ) کے لیے قبیلہ ہوازن اکٹھا ہوا۔ اور انھوں نے لڑائی لڑی (عارضی طور پر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو شکست ہوئی ۔ ارشاد خداوندی ہے۔ (ترجمہ) ۔ ” اور حنین کے دن جب تمہاری تعداد کی کثرت نے تمہیں مگن کردیا تھا مگر وہ کثرت تعداد تمہارے کچھ کام نہ آئی۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اہل ایمان پر سکینہ نازل فرمائی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری سے نیچے تشریف لائے اور یہ دعا مانگی۔ اے اللہ ! اگر آپ چاہتے ہیں، آج کے بعد آپ کی عبادت نہ کی جائے۔ چہروں کو بدصورت فرما۔ پھر آپ نے فریق مخالف کی طرف وہ کنکریاں پھینک دیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں تھیں۔ جس پر وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ تو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیدیوں اور اموال پر قبضہ فرما لیا۔ اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا۔ اگر تم چاہو تو فدیہ دے دو اور اگر چاہو تو قید ہو جاؤ۔ ان لوگوں نے کہا۔ آج کے دن ہم اپنے حسب پر کسی بات کو پسند نہیں کرتے۔ (اس پر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب میں نکلوں تو تم مجھ سے سوال کرنا میں تمہیں اپنا حصہ دے دوں گا اور مسلمانوں میں سے بھی کوئی میری بات کو نہیں روکے گا پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (باہر) نکلے تو وہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لپکے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو میرا حصہ ہے وہ تو میں نے تمہیں دے دیا۔ اور دیگر مسلمانوں نے بھی یہی بات ان لوگوں سے کہی سوائے عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر کے۔ انھوں نے کہا۔ جو میرا حصہ ہے میں تو وہ نہیں دوں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں اس میں سے تمہارا حق ملے گا۔ راوی کہتے ہیں : پس اس دن انھیں ایک بھینگی بوڑھی حصہ میں ملی۔
١٤۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف والوں کا تقریباً ایک مہینہ تک محاصرہ فرمایا۔ پھر حضرت عمر بن خطاب نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مجھے اجازت دیں میں ان کے پاس جاتا ہوں اور انھیں اللہ کی طرف دعوت دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ تب تو وہ لوگ تمہیں قتل کردیں گے پھر حضرت عروہ ان اہل طائف کے پاس گئے اور انھیں اللہ کی طرف دعوت دی تو بنو مالک میں سے ایک آدمی نے حضرت عروہ کو تیر مار کر قتل کر ڈالا۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عروہ کی مثال اپنی قوم میں ایسی ہے جیسا کہ یاسین کا ساتھی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ان کے جانوروں پر قبضہ کرلو اور ان پر تنگی کردو۔
١٥۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپسی کے لیے چل پڑے یہاں تک کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نخلہ مقام کے پاس پہنچے تو لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرنا شروع کردیا۔ حضرت انس کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر مبارک آپ کے کندھے سے اتار ڈالی اور انھوں نے (گویا) چاند کا ٹکڑا ظاہر کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ” مجھے میری چادر واپس کردو۔ کیا تم لوگ مجھ پر کنجوسی کا الزام لگاتے ہوتے ہو۔ بخدا اگر میرے پاس اونٹ اور بکریاں ہوتی تو میں تمہیں دے دیتا ” پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مؤلفۃ القلوب کو اس دن سو سو اونٹ دیئے اور دیگر لوگوں کو بھی عطا فرمایا۔
١٦۔ اس پر انصار نے بھی کچھ کہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلایا اور فرمایا۔ کیا تم نے یہ یہ بات کہی ہے ؟ کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے ہدایت دی ؟ انصار نے جواباً کہا۔ کیوں نہیں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ کیا میں نے تمہیں تنگ دست نہیں پایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے مالدار کردیا۔ انصار نے جواباً کہا۔ کیوں نہیں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ کیا میں نے تمہیں باہم دشمن نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں میرے ذریعے محبت ڈالی ؟ انصار نے جواباً کہا : کیوں نہیں ! ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں اگر تم چاہو تو تم بھی یوں کہو کہ آپ بھی تو ہمارے پاس بےیارو مدد گار آئے تھے اور پھر ہم نے آپ کی نصرت کی۔ انصار نے کہا۔ (نہیں) اللہ اور اس کے رسول کا احسان زیادہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا۔ اگر تم چاہو تو تم بھی یوں کہہ سکتے ہو کہ آپ ہمارے پاس نکالے ہوئے آئے تھے تو ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا تھا۔ انصار نے جواباً کہا۔ (نہیں) اللہ اور اس کے رسول کا احسان زیادہ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ آپ بھی ہمارے پاس تنگدست آئے تھے پھر ہم نے آپ کے ساتھ غمخواری کی تھی انصار نے جواباً کہا۔ اللہ اور اس کے رسول کا احسان زیادہ ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اپنے گھروں میں رسول خدا کو لے کر پلٹو ؟ انصار نے عرض کیا۔ کیوں نہیں ! اس پر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : دیگر لوگ تو اوپر والا کپڑا ہیں اور انصار جسم کے ساتھ کا کپڑا ہیں۔
١٧۔ (راوی کہتے ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو عبد الاشہل کے حلیف عباد بن وقش کو تقسیم شدہ چیزوں پر مقرر فرمایا۔ تو (ان کے پاس) قبیلہ اسلم کا ایک ننگا آدمی آیا جس پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ اس نے آ کر کہا۔ مجھے ان چادروں میں سے ایک چادر پہنا دو ۔ عباد نے جواباً کہا۔ یہ تو مسلمانوں کے تقسیم شدہ حصے ہیں۔ اور میرے لیے یہ بات حلال نہیں ہے کہ میں ان میں سے تجھے کچھ دوں۔ (یہ سن کر) اسلم قبیلہ کے دیگر (مسلمان) لوگوں نے کہا۔ ان میں سے اس کو ایک چادر دے دو ۔ پھر اگر کسی نے اس کے بارے میں بات کی تو یہ ہماری تقسیم اور حصہ میں سے ہوگی۔ عباد نے اس سائل کو ایک چادر دے دی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات پہنچ گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا خدشہ نہیں تھا۔ عباد نے جواب دیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے یہ چادر اس کو نہیں دی یہاں تک کہ اس کی قوم نے کہا کہ اگر کسی نے اس کے بارے میں بات کی تو وہ ہماری تقسیم اور حصوں میں سے شمار کرلی جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بہتر بدلہ دے، اللہ تعالیٰ تمہیں بہتر بدلہ دے۔
(۳۸۰۵۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، وَیَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالاَ : کَانَتْ بَیْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبَیْنَ الْمُشْرِکِینَ ہُدْنَۃٌ ، فَکَانَ بَیْنَ بَنِی کَعْبٍ وَبَیْنَ بَنِی بَکْرٍ قِتَالٌ بِمَکَّۃَ ، فَقَدِمَ صَرِیخٌ لِبَنِی کَعْبٍ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ :
اللہُمَّ إِنِّی نَاشِدٌ مُحَمَّدًا حِلْفَ أَبِینَا وَأَبِیہِ الأَتْلَدَا
فَانْصُرْ ہَدَاک اللَّہُ نَصْرًا أَعْتَدَا وَادْعُ عِبَادَ اللہِ یَأْتُوا مَدَدَا
فَمَرَّتْ سَحَابَۃٌ فَرَعَدَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ ہَذِہِ لَتَرْعَدُ بِنَصْرِ بَنِی کَعْبٍ ، ثُمَّ قَالَ لِعَائِشَۃَ : جَہِّزِینِی ، وَلاَ تُعْلِمَنَّ بِذَلِکَ أَحَدًا ، فَدَخَلَ عَلَیْہَا أَبُو بَکْرٍ فَأَنْکَرَ بَعْضَ شَأْنِہَا ، فَقَالَ : مَا ہَذَا ، قَالَتْ : أَمَرَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ أُجَہِّزَہُ ، قَالَ : إلَی أَیْنَ ، قَالَتْ : إلَی مَکَّۃَ ، قَالَ : فَوَاللہِ مَا انْقَضَتِ الْہُدْنَۃُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ بَعْدُ ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ لَہُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّہُمْ أَوَّلُ مَنْ غَدَرَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالطَّرِیقِ فَحُبِسَتْ ، ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ مَعَہُ ، فَغُمَّ لأَہْلِ مَکَّۃَ لاَ یَأْتِیہِمْ خَبَرٌ ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ لِحَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ : أَیْ حَکِیمُ ، وَاللہِ لَقَدْ غَمَّنَا وَاغْتَمَمْنَا ، فَہَلْ لَکَ أَنْ تَرْکَبَ مَا بَیْنَنَا وَبَیْنَ مَرْوٍ ، لَعَلَّنَا أَنْ نَلْقَی خَبَرًا ، فَقَالَ لَہُ بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ الْکَعْبِیُّ مِنْ خُزَاعَۃَ : وَأَنَا مَعَکُمْ ، قَالاَ : وَأَنْتَ إِنْ شِئْتَ ، قَالَ : فَرَکِبُوا حَتَّی إذَا دَنَوْا مِنْ ثَنِیَّۃِ مَرْوٍ أَظْلَمُوا فَأَشْرَفُوا عَلَی الثَّنِیَّۃِ ، فَإِذَا النِّیرَانُ قَدْ أَخَذَتِ الْوَادِیَ کُلَّہُ ، قَالَ أَبُو سُفْیَانَ لِحَکِیمٍ : مَا ہَذِہِ النِّیرَانُ ، قَالَ بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ : ہَذِہِ نِیرَانُ بَنِی عَمْرٍو ، جَوَّعَتْہَا الْحَرْبُ ، قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : لأوَأَبِیک لَبَنُو عَمْرٍو أَذَلُّ وَأَقَلُّ مِنْ ہَؤُلاَئِ ، فَتَکَشَّفَ عَنْہُمُ الأَرَاک ، فَأَخَذَہُمْ حَرَسُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ عَلَی الْحَرَسِ ، فَجَاؤُوا بِہِمْ إِلَیْہِ ، فَقَالُوا : جِئْنَاک بِنَفَرٍ أَخَذْنَاہُمْ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ، فَقَالَ عُمَرُ وَہُوَ یَضْحَکُ إِلَیْہِمْ : وَاللہِ لَوْ جِئْتُمُونِی بِأَبِی سُفْیَانَ مَا زِدْتُمْ ، قَالَوا : قَدْ وَاللہِ أَتَیْنَاک بِأَبِی سُفْیَانَ ، فَقَالَ : احْبِسُوہُ ، فَحَبَسُوہُ حَتَّی أَصْبَحَ ، فَغَدَا بِہِ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقِیلَ لَہُ: بَایِعْ ، فَقَالَ : لاَ أَجِدُ إِلاَّ ذَاکَ ، أَوْ شَرًّا مِنْہُ ، فَبَایَعَ ، ثُمَّ قِیلَ لِحَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ : بَایِعْ ، فَقَالَ : أُبَایِعُک ، وَلاَ أَخِرُّ إِلاَّ قَائِمًا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَّا مِنْ قَبْلِنَا فَلَنْ تَخِرَّ إِلاَّ قَائِمًا۔
فَلَمَّا وَلَّوْا ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ : أَیْ رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ یُحِبُّ السَّمَاعَ ، یَعْنِی الشَّرَفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ إِلاَّ ابْنَ خَطَلٍ ، وَمِقْیَسَ بْنَ صُبَابَۃَ اللَّیْثِیَّ ، وَعَبْدَ اللہِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ ، وَالْقَیْنَتَیْنِ ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوہُمْ مُتَعَلِّقِینَ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ فَاقْتُلُوہُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا وَلَّوْا ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَوْ أَمَرْت بِأَبِی سُفْیَانَ فَحَبَسَ عَلَی الطَّرِیقِ ، وَأَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالرَّحِیلِ ، فَأَدْرَکَہُ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : ہَلْ لَک إِلَی أَنْ تَجْلِسَ حَتَّی تَنْظُرَ ؟ قَالَ : بَلَی ، وَلَمْ یَکُنْ ذَلِکَ إِلاَّ لِیَرَی ضَعْفَۃً فَیَسْأَلَہُمْ ، فَمَرَّتْ جُہَیْنَۃُ ، فَقَالَ : أَیْ عَبَّاسُ ، مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قَالَ : ہَذِہِ جُہَیْنَۃُ ، قَالَ : مَا لِی وَلِجُہَیْنَۃَ ؟ وَاللہِ مَا کَانَتْ بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ حَرْبٌ قَطُّ ، ثُمَّ مَرَّتْ مُزَیْنَۃُ ، فَقَالَ : أَیْ عَبَّاسُ ، مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قَالَ : ہَذِہِ مُزَیْنَۃُ ، قَالَ : مَا لِی وَلِمُزَیْنَۃَ ، وَاللہِ مَا کَانَتْ بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ حَرْبٌ قَطُّ ، ثُمَّ مَرَّتْ سُلَیْمٌ ، فَقَالَ : أَیْ عَبَّاسُ ، مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قَالَ : ہَذِہِ سُلَیْمٌ ، قَالَ : ثُمَّ جَعَلَتْ تَمُرُّ طَوَائِفُ الْعَرَبِ ، فَمَرَّتْ عَلَیْہِ أَسْلَمُ وَغِفَارٌ فَیَسْأَلُ عَنْہَا فَیُخْبِرُہُ الْعَبَّاسُ۔
حَتَّی مَرَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أُخْرَیَاتِ النَّاسِ ، فِی الْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ وَالأَنْصَارِ ، فِی لأمۃٍ تَلْتَمِعُ الْبَصَرَ ، فَقَالَ : أَیْ عَبَّاسُ ، مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قَالَ : ہَذَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ ، فِی الْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ وَالأَنْصَارِ ، قَالَ : لَقَدْ أَصْبَحَ ابْنُ أَخِیک عَظِیمَ الْمُلْکِ ، قَالَ : لاَ وَاللہِ ، مَا ہُوَ بِمُلْکٍ ، وَلَکِنَّہَا النُّبُوَّۃُ ، وَکَانُوا عَشَرَۃَ آلاَفٍ ، أَوِ اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا۔
قَالَ : وَدَفَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّایَۃَ إِلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ، فَدَفَعَہَا سَعْدٌ إِلَی ابْنِہِ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ ، وَرَکِبَ أَبُو سُفْیَانَ فَسَبَقَ النَّاسَ حَتَّی اطَّلَعَ عَلَیْہِمْ مِنَ الثَّنِیَّۃِ ، قَالَ لَہُ أَہْلُ مَکَّۃَ : مَا وَرَائَک ؟ قَالَ : وَرَائِی الدَّہْمُ ، وَرَائِی مَا لاَ قِبَلَ لَکُمْ بِہِ ، وَرَائِی مَنْ لَمْ أَرَ مِثْلَہُ ، مَنْ دَخَلَ دَارِی فَہُوَ آمِنٌ ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَقْتَحِمُونَ دَارَہِ ، وَقَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَقَفَ بِالْحَجُونِ بِأَعْلَی مَکَّۃَ ، وَبَعَثَ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فِی الْخَیْلِ فِی أَعْلَی الْوَادِی ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ فِی الْخَیْلِ فِی أَسْفَلِ الْوَادِی ، وَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّکِ لَخَیْرُ أَرْضِ اللہِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللہِ إِلَی اللہِ ، وَإِنِّی وَاللہِ لَوْ لَمْ أُخْرَجْ مِنْک مَا خَرَجْتُ ، وَإِنَّہَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی ، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِی ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ ، وَہِیَ سَاعَتِی ہَذِہِ ، حَرَامٌ لاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا ، وَلاَ یُحْتَشُّ حَبْلُہَا ، وَلاَ یَلْتَقِطُ ضَالَّتَہَا إِلاَّ مُنْشِدٌ ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ : شَاہٌ ، وَالنَّاسُ یَقُولُونَ : قَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِلاَّ الإِذْخِرَ ، فَإِنَّہُ لِبُیُوتِنَا وَقُبُورِنَا وَقُیُونِنَا ، أَوْ لِقُیُونِنَا وَقُبُورِنَا۔
فَأَمَّا ابْنُ خَطَلٍ فَوُجِدَ مُتَعَلِّقًا بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ فَقُتِلَ ، وَأَمَّا مِقْیَسُ بْنُ صُبَابَۃَ فَوَجَدُوہُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَبَادَرَہُ نَفَرٌ مِنْ بَنِی کَعْبٍ لِیَقْتُلُوہُ ، فَقَالَ ابْنُ عَمِّہِ نُمَیْلَۃُ : خَلُّوا عَنْہُ ، فَوَاللہِ لاَ یَدْنُو مِنْہُ رَجُلٌ إِلاَّ ضَرَبْتُہُ بِسَیْفِی ہَذَا حَتَّی یَبْرُدَ ، فَتَأَخَّرُوا عَنْہُ فَحَمْلَ عَلَیْہِ بِسَیْفِہِ فَفَلَقَ بِہِ ہَامَتَہُ ، وَکَرِہَ أَنْ یَفْخَرَ عَلَیْہِ أَحَدٌ۔
ثُمَّ طَافَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَیْتِ ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَۃَ ، فَقَالَ : أَیْ عُثْمَان ، أَیْنَ الْمِفْتَاحُ ؟ فَقَالَ : ہُوَعِنْدَ أُمِّی سُلاَفَۃَ ابْنَۃِ سَعْدٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : لاَ وَاللاَتِ وَالْعُزَّی ، لاَ أَدْفَعُہُ إِلَیْہِ أَبَدًا ، قَالَ : إِنَّہُ قَدْ جَائَ أَمْرٌ غَیْرُ الأَمْرِ الَّذِی کُنَّا عَلَیْہِ ، فَإِنَّک إِنْ لَمْ تَفْعَلِی قُتِلْتُ أَنَا وَأَخِی ، قَالَ : فَدَفَعَتْہُ إِلَیْہِ ، قَالَ : فَأَقْبَلَ بِہِ حَتَّی إِذَا کَانَ وِجَاہَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عُثِرَ فَسَقَطَ الْمِفْتَاحُ مِنْہُ ، فَقَامَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَحْنَی عَلَیْہِ ثَوْبَہُ ، ثُمَّ فَتْحَ لَہُ عُثْمَان ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْکَعْبَۃَ ، فَکَبَّرَ فِی زَوَایَاہَا وَأَرْجَائِہَا ، وَحَمِدَ اللَّہَ ، ثُمَّ صَلَّی بَیْنَ الأُسْطُوَانَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَامَ بَیْنَ الْبَابَیْنِ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : فَتَطَاوَلْت لَہَا وَرَجَوْت أَنْ یَدْفَعَ إِلَیْنَا الْمِفْتَاحَ ، فَتَکُونُ فِینَا السِّقَایَۃُ وَالْحِجَابَۃُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیْنَ عُثْمَان ؟ ہَاکُمْ مَا أَعْطَاکُمَ اللَّہُ ، فَدَفَعَ إِلَیْہِ الْمِفْتَاحَ۔
ثُمَّ رَقَی بِلاَلٌ عَلَی ظَہْرِ الْکَعْبَۃِ فَأَذَّنَ ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ أُسَیْدٍ : مَا ہَذَا الصَّوْتُ ؟ قَالَوا : بِلاَلُ بْنُ رَبَاحٍ ، قَالَ : عَبْدُ أَبِی بَکْرٍ الْحَبَشِیُّ؟ قَالَوا: نَعَمْ ، قَالَ : أَیْنَ ؟ قَالَوا : عَلَی ظَہْرِ الْکَعْبَۃِ ، قَالَ : عَلَی مَرْقِبَۃِ بَنِی أَبِی طَلْحَۃَ؟ قالَوا : نَعَمْ ، قَالَ : مَا یَقُولُ ؟ قَالَوا : یَقُولُ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ، قَالَ : لَقَدْ أَکْرَمَ اللَّہُ أَبَا خَالِدٍ عَنْ أَنْ یَسْمَعَ ہَذَا الصَّوْتَ ، یَعَنْی أَبَاہُ ، وَکَانَ مِمَّنْ قُتِلَ یَوْمَ بَدْرٍ فِی الْمُشْرِکِینَ۔
وَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی حُنَیْنٍ ، وَجَمَعَتْ لَہُ ہَوَازِنُ بِحُنَیْنٍ ، فَاقْتَتَلُوا ، فَہُزِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ اللَّہُ : {وَیَوْمَ حُنَیْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا} ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ سَکِینَتَہُ عَلَی رَسُولِہِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ دَابَّتِہِ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنَّک إِنْ شِئْت لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْیَوْمِ ، شَاہَتِ الْوُجُوہُ ، ثُمَّ رَمَاہُمْ بِحَصْبَائَ کَانَتْ فِی یَدِہِ ، فَوَلَّوْا مُدْبِرِینَ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السَّبْیَ وَالأَمْوَالَ ، فَقَالَ لَہُمْ : إِنْ شِئْتُمْ فَالْفِدَائُ ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَالسَّبْیُ ، قَالُوا : لَنْ نُؤْثِرَ الْیَوْمَ عَلَی الْحَسَبِ شَیْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِذَا خَرَجْتُ فَاسْأَلُونِی ، فَإِنِّی سَأُعْطِیکُمَ الَّذِی لِی ، وَلَنْ یَتَعَذَّرَ عَلَیَّ أَحَدٌّ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَاحُوا إِلَیْہِ ، فَقَالَ : أَمَّا الَّذِی لِی فَقَدْ أَعْطَیْتُکُمُوہُ ، وَقَالَ الْمُسْلِمُونَ مِثْلَ ذَلِکَ إِلاَّ عُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنِ بْنِ حُذَیْفَۃَ بْنِ بَدْرٍ ، فَإِنَّہُ قَالَ : أَمَّا الَّذِی لِی فَإِنِّی لاَ أُعْطِیہِ ، قَالَ : أَنْتَ عَلَی حَقِّکَ مِنْ ذَلِکَ ، قَالَ : فَصَارَتْ لَہُ یَوْمَئِذٍ عَجُوزٌ عَوْرَائُ۔
ثُمَّ حَاصَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَہْلَ الطَّائِفِ قَرِیبًا مِنْ شَہْرٍ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَیْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، دَعَنْی فَأَدْخُلْ عَلَیْہِمْ ، فَأَدْعُوہُمْ إِلَی اللہِ ، قَالَ : إِنَّہُمْ إِذَا قَاتَلُوک ، فَدَخَلَ عَلَیْہِمْ عُرْوَۃُ فَدَعَاہُمْ إِلَی اللہِ ، فَرَمَاہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِی مَالِکٍ بِسَہْمٍ فَقَتَلَہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مِثْلُہُ فِی قَوْمِہِ مِثْلُ صَاحِبِ یَاسِینَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خُذُوا مَوَاشِیَہُمْ وَضَیِّقُوا عَلَیْہِمْ۔
ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا حَتَّی إِذَا کَانَ بِنَخْلَۃٍ ، جَعَلَ النَّاسُ یَسْأَلُونَہُ ، قَالَ أَنَسٌ : حَتَّی انْتَزَعُوا رِدَائَہُ عَنْ ظَہْرِہِ ، فَأَبْدَوْا عَنْ مِثْلِ فِلْقَۃَ الْقَمَرِ ، فَقَالَ : رُدُّوا عَلَیَّ رِدَائِی ، لاَ أَبَا لَکُمْ ، أَتَبْخَلُونَنِی ، فَوَاللہِ أَنْ لَوْ کَانَ مَا بَیْنَہُمَا إِبِلاً وَغَنَمًا لأَعْطَیْتُکُمُوہُ ، فَأَعْطَی الْمُؤَلَّفَۃَ یَوْمَئِذٍ مِئَۃً مِئَۃً مِنَ الإِبِلِ، وَأَعْطَی النَّاسَ۔
فَقَالَتِ الأَنْصَارُ عِنْدَ ذَلِکَ ، فَدَعَاہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا ؟ أَلَمْ أَجِدْکُمْ ضُلاَّلاً فَہَدَاکُمَ اللَّہُ بِی ؟ قَالَوا : بَلَی ، قَالَ : أَوَلَمْ أَجِدْکُمْ عَالۃً فَأَغْنَاکُمْ اللَّہُ بَی ؟ قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : أَلَمْ أَجِدْکُمْ أَعْدَائً فَأَلَّفَ اللَّہُ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ بِی ؟ قَالَوا : بَلَی ، قَالَ : أَمَا إِنَّکُمْ لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ : قَدْ جِئْتَنَا مَخْذُولاً فَنَصَرْنَاک ، قَالَوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنَّ ، قَالَ : لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ : جِئْتَنَا طَرِیدًا فَآوَیْنَاک ، قَالَوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنَّ ، وَلَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ : جِئْتنَا عَائِلاً فَآسَیْنَاک ، قَالَوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنَّ ، قَالَ : أَفَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ یَنْقَلِبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْبَعِیرِ ، وَتَنْقَلِبُونَ بِرَسُولِ اللہِ إِلَی دِیَارِکُمْ ؟ قَالَوا : بَلَی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : النَّاسُ دِثَارٌ ، وَالأَنْصَارُ شِعَارٌ۔
وَجَعَلَ عَلَی الْمَقَاسِمِ عَبَّادَ بْنَ وَقْشٍ أَخَا بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَارِیًّا لَیْسَ عَلَیْہِ ثَوْبٌ ، فَقَالَ : اُکْسُنِی مِنْ ہَذِہِ الْبُرُودِ بُرْدَۃً ، قَالَ : إِنَّمَا ہِیَ مَقَاسِمُ الْمُسْلِمِینَ ، وَلاَ یَحِلُّ لِی أَنْ أُعْطِیَک مِنْہَا شَیْئًا، فَقَالَ قَوْمُہُ : اُکْسُہُ مِنْہَا بُرْدَۃً ، فَإِنْ تَکَلَّمَ فِیہَا أَحَدٌ ، فَہِیَ مِنْ قِسْمِنَا وَأُعْطِیَّاتِنَا ، فَأَعْطَاہُ بُرْدَۃً ، فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا کُنْتُ أَخْشَی ہَذَا عَلَیْہِ ، مَا کُنْتُ أَخْشَاکُمْ عَلَیْہِ ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا أَعْطَیْتُہُ إِیَّاہَا ، حَتَّی قَالَ قَوْمُہُ : إِنْ تَکَلَّمَ فِیہَا أَحَدٌ فَہِیَ مِنْ قِسْمِنَا وَأُعْطِیَّاتِنَا ، فَقَالَ : جَزَاکُمَ اللَّہُ خَیْرًا ، جَزَاکُمَ اللَّہُ خَیْرًا۔ (ترمذی ۳۹۲۵۔ ابن حبان ۳۷۰۸)
اللہُمَّ إِنِّی نَاشِدٌ مُحَمَّدًا حِلْفَ أَبِینَا وَأَبِیہِ الأَتْلَدَا
فَانْصُرْ ہَدَاک اللَّہُ نَصْرًا أَعْتَدَا وَادْعُ عِبَادَ اللہِ یَأْتُوا مَدَدَا
فَمَرَّتْ سَحَابَۃٌ فَرَعَدَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ ہَذِہِ لَتَرْعَدُ بِنَصْرِ بَنِی کَعْبٍ ، ثُمَّ قَالَ لِعَائِشَۃَ : جَہِّزِینِی ، وَلاَ تُعْلِمَنَّ بِذَلِکَ أَحَدًا ، فَدَخَلَ عَلَیْہَا أَبُو بَکْرٍ فَأَنْکَرَ بَعْضَ شَأْنِہَا ، فَقَالَ : مَا ہَذَا ، قَالَتْ : أَمَرَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ أُجَہِّزَہُ ، قَالَ : إلَی أَیْنَ ، قَالَتْ : إلَی مَکَّۃَ ، قَالَ : فَوَاللہِ مَا انْقَضَتِ الْہُدْنَۃُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ بَعْدُ ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ إلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ لَہُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّہُمْ أَوَّلُ مَنْ غَدَرَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالطَّرِیقِ فَحُبِسَتْ ، ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجَ الْمُسْلِمُونَ مَعَہُ ، فَغُمَّ لأَہْلِ مَکَّۃَ لاَ یَأْتِیہِمْ خَبَرٌ ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ لِحَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ : أَیْ حَکِیمُ ، وَاللہِ لَقَدْ غَمَّنَا وَاغْتَمَمْنَا ، فَہَلْ لَکَ أَنْ تَرْکَبَ مَا بَیْنَنَا وَبَیْنَ مَرْوٍ ، لَعَلَّنَا أَنْ نَلْقَی خَبَرًا ، فَقَالَ لَہُ بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ الْکَعْبِیُّ مِنْ خُزَاعَۃَ : وَأَنَا مَعَکُمْ ، قَالاَ : وَأَنْتَ إِنْ شِئْتَ ، قَالَ : فَرَکِبُوا حَتَّی إذَا دَنَوْا مِنْ ثَنِیَّۃِ مَرْوٍ أَظْلَمُوا فَأَشْرَفُوا عَلَی الثَّنِیَّۃِ ، فَإِذَا النِّیرَانُ قَدْ أَخَذَتِ الْوَادِیَ کُلَّہُ ، قَالَ أَبُو سُفْیَانَ لِحَکِیمٍ : مَا ہَذِہِ النِّیرَانُ ، قَالَ بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ : ہَذِہِ نِیرَانُ بَنِی عَمْرٍو ، جَوَّعَتْہَا الْحَرْبُ ، قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : لأوَأَبِیک لَبَنُو عَمْرٍو أَذَلُّ وَأَقَلُّ مِنْ ہَؤُلاَئِ ، فَتَکَشَّفَ عَنْہُمُ الأَرَاک ، فَأَخَذَہُمْ حَرَسُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ عَلَی الْحَرَسِ ، فَجَاؤُوا بِہِمْ إِلَیْہِ ، فَقَالُوا : جِئْنَاک بِنَفَرٍ أَخَذْنَاہُمْ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ، فَقَالَ عُمَرُ وَہُوَ یَضْحَکُ إِلَیْہِمْ : وَاللہِ لَوْ جِئْتُمُونِی بِأَبِی سُفْیَانَ مَا زِدْتُمْ ، قَالَوا : قَدْ وَاللہِ أَتَیْنَاک بِأَبِی سُفْیَانَ ، فَقَالَ : احْبِسُوہُ ، فَحَبَسُوہُ حَتَّی أَصْبَحَ ، فَغَدَا بِہِ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقِیلَ لَہُ: بَایِعْ ، فَقَالَ : لاَ أَجِدُ إِلاَّ ذَاکَ ، أَوْ شَرًّا مِنْہُ ، فَبَایَعَ ، ثُمَّ قِیلَ لِحَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ : بَایِعْ ، فَقَالَ : أُبَایِعُک ، وَلاَ أَخِرُّ إِلاَّ قَائِمًا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَّا مِنْ قَبْلِنَا فَلَنْ تَخِرَّ إِلاَّ قَائِمًا۔
فَلَمَّا وَلَّوْا ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ : أَیْ رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ یُحِبُّ السَّمَاعَ ، یَعْنِی الشَّرَفَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ إِلاَّ ابْنَ خَطَلٍ ، وَمِقْیَسَ بْنَ صُبَابَۃَ اللَّیْثِیَّ ، وَعَبْدَ اللہِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ ، وَالْقَیْنَتَیْنِ ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوہُمْ مُتَعَلِّقِینَ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ فَاقْتُلُوہُمْ ، قَالَ : فَلَمَّا وَلَّوْا ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَوْ أَمَرْت بِأَبِی سُفْیَانَ فَحَبَسَ عَلَی الطَّرِیقِ ، وَأَذَّنَ فِی النَّاسِ بِالرَّحِیلِ ، فَأَدْرَکَہُ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : ہَلْ لَک إِلَی أَنْ تَجْلِسَ حَتَّی تَنْظُرَ ؟ قَالَ : بَلَی ، وَلَمْ یَکُنْ ذَلِکَ إِلاَّ لِیَرَی ضَعْفَۃً فَیَسْأَلَہُمْ ، فَمَرَّتْ جُہَیْنَۃُ ، فَقَالَ : أَیْ عَبَّاسُ ، مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قَالَ : ہَذِہِ جُہَیْنَۃُ ، قَالَ : مَا لِی وَلِجُہَیْنَۃَ ؟ وَاللہِ مَا کَانَتْ بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ حَرْبٌ قَطُّ ، ثُمَّ مَرَّتْ مُزَیْنَۃُ ، فَقَالَ : أَیْ عَبَّاسُ ، مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قَالَ : ہَذِہِ مُزَیْنَۃُ ، قَالَ : مَا لِی وَلِمُزَیْنَۃَ ، وَاللہِ مَا کَانَتْ بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ حَرْبٌ قَطُّ ، ثُمَّ مَرَّتْ سُلَیْمٌ ، فَقَالَ : أَیْ عَبَّاسُ ، مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قَالَ : ہَذِہِ سُلَیْمٌ ، قَالَ : ثُمَّ جَعَلَتْ تَمُرُّ طَوَائِفُ الْعَرَبِ ، فَمَرَّتْ عَلَیْہِ أَسْلَمُ وَغِفَارٌ فَیَسْأَلُ عَنْہَا فَیُخْبِرُہُ الْعَبَّاسُ۔
حَتَّی مَرَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی أُخْرَیَاتِ النَّاسِ ، فِی الْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ وَالأَنْصَارِ ، فِی لأمۃٍ تَلْتَمِعُ الْبَصَرَ ، فَقَالَ : أَیْ عَبَّاسُ ، مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قَالَ : ہَذَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ ، فِی الْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ وَالأَنْصَارِ ، قَالَ : لَقَدْ أَصْبَحَ ابْنُ أَخِیک عَظِیمَ الْمُلْکِ ، قَالَ : لاَ وَاللہِ ، مَا ہُوَ بِمُلْکٍ ، وَلَکِنَّہَا النُّبُوَّۃُ ، وَکَانُوا عَشَرَۃَ آلاَفٍ ، أَوِ اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا۔
قَالَ : وَدَفَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّایَۃَ إِلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ ، فَدَفَعَہَا سَعْدٌ إِلَی ابْنِہِ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ ، وَرَکِبَ أَبُو سُفْیَانَ فَسَبَقَ النَّاسَ حَتَّی اطَّلَعَ عَلَیْہِمْ مِنَ الثَّنِیَّۃِ ، قَالَ لَہُ أَہْلُ مَکَّۃَ : مَا وَرَائَک ؟ قَالَ : وَرَائِی الدَّہْمُ ، وَرَائِی مَا لاَ قِبَلَ لَکُمْ بِہِ ، وَرَائِی مَنْ لَمْ أَرَ مِثْلَہُ ، مَنْ دَخَلَ دَارِی فَہُوَ آمِنٌ ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَقْتَحِمُونَ دَارَہِ ، وَقَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَقَفَ بِالْحَجُونِ بِأَعْلَی مَکَّۃَ ، وَبَعَثَ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فِی الْخَیْلِ فِی أَعْلَی الْوَادِی ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ فِی الْخَیْلِ فِی أَسْفَلِ الْوَادِی ، وَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّکِ لَخَیْرُ أَرْضِ اللہِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللہِ إِلَی اللہِ ، وَإِنِّی وَاللہِ لَوْ لَمْ أُخْرَجْ مِنْک مَا خَرَجْتُ ، وَإِنَّہَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی ، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِی ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ ، وَہِیَ سَاعَتِی ہَذِہِ ، حَرَامٌ لاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا ، وَلاَ یُحْتَشُّ حَبْلُہَا ، وَلاَ یَلْتَقِطُ ضَالَّتَہَا إِلاَّ مُنْشِدٌ ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ : شَاہٌ ، وَالنَّاسُ یَقُولُونَ : قَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِلاَّ الإِذْخِرَ ، فَإِنَّہُ لِبُیُوتِنَا وَقُبُورِنَا وَقُیُونِنَا ، أَوْ لِقُیُونِنَا وَقُبُورِنَا۔
فَأَمَّا ابْنُ خَطَلٍ فَوُجِدَ مُتَعَلِّقًا بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ فَقُتِلَ ، وَأَمَّا مِقْیَسُ بْنُ صُبَابَۃَ فَوَجَدُوہُ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَبَادَرَہُ نَفَرٌ مِنْ بَنِی کَعْبٍ لِیَقْتُلُوہُ ، فَقَالَ ابْنُ عَمِّہِ نُمَیْلَۃُ : خَلُّوا عَنْہُ ، فَوَاللہِ لاَ یَدْنُو مِنْہُ رَجُلٌ إِلاَّ ضَرَبْتُہُ بِسَیْفِی ہَذَا حَتَّی یَبْرُدَ ، فَتَأَخَّرُوا عَنْہُ فَحَمْلَ عَلَیْہِ بِسَیْفِہِ فَفَلَقَ بِہِ ہَامَتَہُ ، وَکَرِہَ أَنْ یَفْخَرَ عَلَیْہِ أَحَدٌ۔
ثُمَّ طَافَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَیْتِ ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَۃَ ، فَقَالَ : أَیْ عُثْمَان ، أَیْنَ الْمِفْتَاحُ ؟ فَقَالَ : ہُوَعِنْدَ أُمِّی سُلاَفَۃَ ابْنَۃِ سَعْدٍ ، فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : لاَ وَاللاَتِ وَالْعُزَّی ، لاَ أَدْفَعُہُ إِلَیْہِ أَبَدًا ، قَالَ : إِنَّہُ قَدْ جَائَ أَمْرٌ غَیْرُ الأَمْرِ الَّذِی کُنَّا عَلَیْہِ ، فَإِنَّک إِنْ لَمْ تَفْعَلِی قُتِلْتُ أَنَا وَأَخِی ، قَالَ : فَدَفَعَتْہُ إِلَیْہِ ، قَالَ : فَأَقْبَلَ بِہِ حَتَّی إِذَا کَانَ وِجَاہَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عُثِرَ فَسَقَطَ الْمِفْتَاحُ مِنْہُ ، فَقَامَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَحْنَی عَلَیْہِ ثَوْبَہُ ، ثُمَّ فَتْحَ لَہُ عُثْمَان ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْکَعْبَۃَ ، فَکَبَّرَ فِی زَوَایَاہَا وَأَرْجَائِہَا ، وَحَمِدَ اللَّہَ ، ثُمَّ صَلَّی بَیْنَ الأُسْطُوَانَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَامَ بَیْنَ الْبَابَیْنِ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : فَتَطَاوَلْت لَہَا وَرَجَوْت أَنْ یَدْفَعَ إِلَیْنَا الْمِفْتَاحَ ، فَتَکُونُ فِینَا السِّقَایَۃُ وَالْحِجَابَۃُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیْنَ عُثْمَان ؟ ہَاکُمْ مَا أَعْطَاکُمَ اللَّہُ ، فَدَفَعَ إِلَیْہِ الْمِفْتَاحَ۔
ثُمَّ رَقَی بِلاَلٌ عَلَی ظَہْرِ الْکَعْبَۃِ فَأَذَّنَ ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ أُسَیْدٍ : مَا ہَذَا الصَّوْتُ ؟ قَالَوا : بِلاَلُ بْنُ رَبَاحٍ ، قَالَ : عَبْدُ أَبِی بَکْرٍ الْحَبَشِیُّ؟ قَالَوا: نَعَمْ ، قَالَ : أَیْنَ ؟ قَالَوا : عَلَی ظَہْرِ الْکَعْبَۃِ ، قَالَ : عَلَی مَرْقِبَۃِ بَنِی أَبِی طَلْحَۃَ؟ قالَوا : نَعَمْ ، قَالَ : مَا یَقُولُ ؟ قَالَوا : یَقُولُ : أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ، قَالَ : لَقَدْ أَکْرَمَ اللَّہُ أَبَا خَالِدٍ عَنْ أَنْ یَسْمَعَ ہَذَا الصَّوْتَ ، یَعَنْی أَبَاہُ ، وَکَانَ مِمَّنْ قُتِلَ یَوْمَ بَدْرٍ فِی الْمُشْرِکِینَ۔
وَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی حُنَیْنٍ ، وَجَمَعَتْ لَہُ ہَوَازِنُ بِحُنَیْنٍ ، فَاقْتَتَلُوا ، فَہُزِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ اللَّہُ : {وَیَوْمَ حُنَیْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْکُمْ شَیْئًا} ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّہُ سَکِینَتَہُ عَلَی رَسُولِہِ وَعَلَی الْمُؤْمِنِینَ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ دَابَّتِہِ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنَّک إِنْ شِئْت لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْیَوْمِ ، شَاہَتِ الْوُجُوہُ ، ثُمَّ رَمَاہُمْ بِحَصْبَائَ کَانَتْ فِی یَدِہِ ، فَوَلَّوْا مُدْبِرِینَ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السَّبْیَ وَالأَمْوَالَ ، فَقَالَ لَہُمْ : إِنْ شِئْتُمْ فَالْفِدَائُ ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَالسَّبْیُ ، قَالُوا : لَنْ نُؤْثِرَ الْیَوْمَ عَلَی الْحَسَبِ شَیْئًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِذَا خَرَجْتُ فَاسْأَلُونِی ، فَإِنِّی سَأُعْطِیکُمَ الَّذِی لِی ، وَلَنْ یَتَعَذَّرَ عَلَیَّ أَحَدٌّ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَاحُوا إِلَیْہِ ، فَقَالَ : أَمَّا الَّذِی لِی فَقَدْ أَعْطَیْتُکُمُوہُ ، وَقَالَ الْمُسْلِمُونَ مِثْلَ ذَلِکَ إِلاَّ عُیَیْنَۃَ بْنَ حِصْنِ بْنِ حُذَیْفَۃَ بْنِ بَدْرٍ ، فَإِنَّہُ قَالَ : أَمَّا الَّذِی لِی فَإِنِّی لاَ أُعْطِیہِ ، قَالَ : أَنْتَ عَلَی حَقِّکَ مِنْ ذَلِکَ ، قَالَ : فَصَارَتْ لَہُ یَوْمَئِذٍ عَجُوزٌ عَوْرَائُ۔
ثُمَّ حَاصَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَہْلَ الطَّائِفِ قَرِیبًا مِنْ شَہْرٍ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَیْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، دَعَنْی فَأَدْخُلْ عَلَیْہِمْ ، فَأَدْعُوہُمْ إِلَی اللہِ ، قَالَ : إِنَّہُمْ إِذَا قَاتَلُوک ، فَدَخَلَ عَلَیْہِمْ عُرْوَۃُ فَدَعَاہُمْ إِلَی اللہِ ، فَرَمَاہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِی مَالِکٍ بِسَہْمٍ فَقَتَلَہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مِثْلُہُ فِی قَوْمِہِ مِثْلُ صَاحِبِ یَاسِینَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خُذُوا مَوَاشِیَہُمْ وَضَیِّقُوا عَلَیْہِمْ۔
ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا حَتَّی إِذَا کَانَ بِنَخْلَۃٍ ، جَعَلَ النَّاسُ یَسْأَلُونَہُ ، قَالَ أَنَسٌ : حَتَّی انْتَزَعُوا رِدَائَہُ عَنْ ظَہْرِہِ ، فَأَبْدَوْا عَنْ مِثْلِ فِلْقَۃَ الْقَمَرِ ، فَقَالَ : رُدُّوا عَلَیَّ رِدَائِی ، لاَ أَبَا لَکُمْ ، أَتَبْخَلُونَنِی ، فَوَاللہِ أَنْ لَوْ کَانَ مَا بَیْنَہُمَا إِبِلاً وَغَنَمًا لأَعْطَیْتُکُمُوہُ ، فَأَعْطَی الْمُؤَلَّفَۃَ یَوْمَئِذٍ مِئَۃً مِئَۃً مِنَ الإِبِلِ، وَأَعْطَی النَّاسَ۔
فَقَالَتِ الأَنْصَارُ عِنْدَ ذَلِکَ ، فَدَعَاہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا ؟ أَلَمْ أَجِدْکُمْ ضُلاَّلاً فَہَدَاکُمَ اللَّہُ بِی ؟ قَالَوا : بَلَی ، قَالَ : أَوَلَمْ أَجِدْکُمْ عَالۃً فَأَغْنَاکُمْ اللَّہُ بَی ؟ قَالُوا : بَلَی ، قَالَ : أَلَمْ أَجِدْکُمْ أَعْدَائً فَأَلَّفَ اللَّہُ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ بِی ؟ قَالَوا : بَلَی ، قَالَ : أَمَا إِنَّکُمْ لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ : قَدْ جِئْتَنَا مَخْذُولاً فَنَصَرْنَاک ، قَالَوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنَّ ، قَالَ : لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ : جِئْتَنَا طَرِیدًا فَآوَیْنَاک ، قَالَوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنَّ ، وَلَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ : جِئْتنَا عَائِلاً فَآسَیْنَاک ، قَالَوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَمَنَّ ، قَالَ : أَفَلاَ تَرْضَوْنَ أَنْ یَنْقَلِبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْبَعِیرِ ، وَتَنْقَلِبُونَ بِرَسُولِ اللہِ إِلَی دِیَارِکُمْ ؟ قَالَوا : بَلَی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : النَّاسُ دِثَارٌ ، وَالأَنْصَارُ شِعَارٌ۔
وَجَعَلَ عَلَی الْمَقَاسِمِ عَبَّادَ بْنَ وَقْشٍ أَخَا بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَارِیًّا لَیْسَ عَلَیْہِ ثَوْبٌ ، فَقَالَ : اُکْسُنِی مِنْ ہَذِہِ الْبُرُودِ بُرْدَۃً ، قَالَ : إِنَّمَا ہِیَ مَقَاسِمُ الْمُسْلِمِینَ ، وَلاَ یَحِلُّ لِی أَنْ أُعْطِیَک مِنْہَا شَیْئًا، فَقَالَ قَوْمُہُ : اُکْسُہُ مِنْہَا بُرْدَۃً ، فَإِنْ تَکَلَّمَ فِیہَا أَحَدٌ ، فَہِیَ مِنْ قِسْمِنَا وَأُعْطِیَّاتِنَا ، فَأَعْطَاہُ بُرْدَۃً ، فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا کُنْتُ أَخْشَی ہَذَا عَلَیْہِ ، مَا کُنْتُ أَخْشَاکُمْ عَلَیْہِ ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا أَعْطَیْتُہُ إِیَّاہَا ، حَتَّی قَالَ قَوْمُہُ : إِنْ تَکَلَّمَ فِیہَا أَحَدٌ فَہِیَ مِنْ قِسْمِنَا وَأُعْطِیَّاتِنَا ، فَقَالَ : جَزَاکُمَ اللَّہُ خَیْرًا ، جَزَاکُمَ اللَّہُ خَیْرًا۔ (ترمذی ۳۹۲۵۔ ابن حبان ۳۷۰۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٥٦) حضرت ابن سابط سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان بن طلحہ کو کپڑے کے پیچھے سے (کعبہ کی) چابی عطا کی) ۔
(۳۸۰۵۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی السَّوَادِئِ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَاوَلَ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَۃَ الْمِفْتَاحَ مِنْ وَرَائِ الثَّوْبِ۔ (عبدالرزاق ۹۰۷۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٥٧) حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب اہل مکہ کے ساتھ صلح کی اور قبیلہ خزاعہ والے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاہلیت میں بھی حلیف تھے اور بنو بکر قریش کے حلیف تھے۔ لہٰذا (اس صلح میں بھی) خزاعہ والے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صلح میں داخل ہوگئے اور بنو بکر قریش کی صلح میں داخل ہوگئے۔ پھر بنو خزاعہ اور بنو بکر میں کوئی لڑائی ہوئی تو قریش نے بنو بکر کی اسلحہ اور کھانے کے ساتھ خوب مدد کی۔ اور (گویا) ان پر سایہ فگن ہوگئے۔ پس بنو بکر، قبیلہ خزاعہ پر غالب آگئے اور بنو بکر نے قبیلہ خزاعہ کے بہت لوگ قتل کئے۔ پھر قریش کو یہ خیال ہوا کہ وہ اپنا عہد (جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا ہو) توڑ چکے ہیں۔ تو انھوں نے ابو سفیان سے کہا۔ جاؤ محمد کی طرف اور معاہدہ کی تجدید کرو ا لو اور لوگوں میں صلح کروا لو۔
٢۔ ابو سفیان چل پڑا یہاں تک کہ وہ مدینہ میں پہنچا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ تحقیق تمہارے پاس ابوسفیان آ رہا ہے اور عنقریب وہ اپنی حاجت (پوری کئے) بغیر واپس پلٹے گا۔ چنانچہ ابو سفیان، حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے ابوبکر ! معاہدہ کو برقرار رکھو اور لوگوں کے درمیان صلح ہی رہنے دو ۔ یا یہ الفاظ کہے کہ ۔۔۔ اپنی قوم کے درمیان صلح ہی رہنے دو ۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا۔ یہ معاملہ میرے بس میں نہیں ہے یہ تو اللہ اور اس کے رسول کے بس میں ہے۔ راوی کہتے ہیں : ابو سفیان نے جو باتیں حضرت ابوبکر سے کہیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ۔ یہ بات نہیں ہے کہ اگر کسی قوم نے دوسری قوم کو اسلحہ اور کھانے کے ذریعہ سے مدد کی ہو اور ان پر سایہ کیا ہو تو وہ عہد کو توڑنے والے ہوں۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا۔ یہ معاملہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بس میں ہے۔
٣۔ پھر ابو سفیان حضرت عمر بن خطاب کے پاس آیا اور ان سے بھی ویسی باتیں کہیں جیسی باتیں اس نے حضرت ابوبکر سے کہی تھیں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا۔ کیا تم نے عہد توڑ دیا ہے ؟ پس اس بارے میں جو نئی بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے پرانا کردیا ہے اور جو مضبوط اور سخت بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے توڑ ڈالا ہے۔ ابو سفیان کہتا ہے میں نے اس د ن کی طرح قوم کو نہیں دیکھا ؟ پھر ابو سفیان حضرت فاطمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے فاطمہ ! کیا تم وہ کام کرو گی جس میں تم اپنی قوم کی خواتین کی سیادت کرو۔ پھر ابو سفیان نے ان سے بھی ویسی بات ذکر کی جیسی بات اس نے حضرت ابوبکر سے کہی تھی۔ حضرت فاطمہ نے جواب دیا۔ یہ معاملہ میرے اختیار میں نہیں ہے (بلکہ) یہ معاملہ تو اللہ اور اس کے رسول کے اختیار میں ہے۔ پھر ابو سفیان، حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوا اور ویسی بات ہی کہی جیسی بات حضرت ابوبکر سے کہی تھی۔ حضرت علی نے اس کو جواب دیا۔ میں نے آج کے دن (کے آدمی) کی طرح کوئی گمراہ آدمی نہیں دیکھا ! تم تو لوگوں کے سردار ہو پس تم معاہدہ کو برقرار رکھو اور لوگوں کے درمیان صلح کرواؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ ابو سفیان نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور کہنے لگا۔ تحقیق میں نے لوگوں میں سے بعض کو بعض سے پناہ دے دی ہے۔
٤۔ پھر ابو سفیان چل پڑا یہاں تک کہ وہ اہل مکہ کے پاس پہنچا اور انھیں وہ بات بتلائی جو اس نے سرانجام دی تھی۔ تو انھوں نے (آگے سے) کہا۔ خدا کی قسم ! ہم نے آج کے دن (کے آدمی) کی طرح کوئی قوم کا نمائندہ نہیں دیکھا۔ بخدا ! نہ تو تم جنگ کی خبر ہمارے پاس لائے ہو کہ ہم (اس سے) بچاؤ کریں اور نہ ہی تم ہمارے پاس صلح کی خبر لے کر آئے ہو کہ ہم مامون ہوجائیں۔ (لہٰذا) تم واپس جاؤ۔
٥۔ راوی کہتے ہیں : (اتنے میں) قبیلہ خزاعہ کا نمائندہ وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ گیا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشرکین مکہ کے کئے کی خبر سنائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدد کے لیے بلایا اور اس بات کو اس نے ان شعروں میں بیان کیا۔
اے اللہ ! محمد کو اپنے اور ان کے آباء کا پرانا عہد یاد دلاتا ہوں۔
اور (یہ بات کہ) آپ والد ہیں اور ہم بیٹے ہیں۔ بلاشبہ قریش نے آپ کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔
اور انھوں نے آپ کے پختہ عہد کو توڑ ڈالا ہے اور انھوں نے ہمارے لیے مقما کداء میں گھات لگایا ہے۔
اور انھوں نے یہ سمجھا ہے کہ میں کسی کو (مدد کے لئے) نہیں بلاؤں گا ۔ حالانکہ وہ لوگ تو تعداد میں تھوڑے اور ذلیل ہیں۔
وہ لوگ ہم پر مقام ونیر میں صبح کو حملہ آور ہوئے جبکہ ہم رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔
ہم نے اسلام قبول کیا ہے اور اپنا ہاتھ واپس نہیں کھینچا۔ پس ۔۔۔ اے اللہ کے رسول۔۔۔ خوب سخت مدد کیجئے۔
اور آپ اللہ کے لشکروں کو ابھاریں پس یہ آپ کے پاس مدد کیلئے ایسے سمندروں کی طرح آئیں گے جو جھاگ مار رہا ہو۔
اور ان میں اللہ کے رسول بھی ہوں جن کی تلوار نیام سے باہر ہو ۔ کہ اگر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کو نقصان پہنچانا چاہیں تو آپ کا چہرہ غضب کی وجہ سے تمتمانے لگے۔
حماد راوی کہتے ہیں۔ ان اشعار میں سے بعض حضرت ایوب (کی روایت) سے ہیں اور بعض دیگر اشعار حضرت یزید بن حازم (کی روایت) سے ہیں اور ان میں سے اکثر اشعار محمد بن اسحق (کی روایت) سے ہیں۔ پھر راوی دوبارہ ایوب کی عکرمہ سے روایت کی طرف لوٹے۔
٦۔ اور فرمایا : حضرت حسان بن ثابت نے شعر کہے۔
” مجھے افسوس ہے کہ ہم مکہ کی وادی میں بنو کعب کے ان لوگوں کی مدد نہ کرسکے جن کی گردنیں کاٹی جا رہی تھیں، صفوان اس بوڑھے اونٹ کی مانند ہے جس کی سرین کے سوراخ کو کشادہ کیا گیا ہو، پس یہ تو جنگ کا وقت تھا جس میں جنگ کو خوب بھڑکایا گیا تھا، اے ام مجالد کے بٹے ک ! جب جنگ کا میدان گرم ہوجائے اور لڑائی اپنی تیزی دکھانے لگے تو ہم سے مامون ہو کے نہ بیٹھ جا، کاش میرے اشعار، میرے نیزے کی نوک اور میرے نیزے کی سزا سہیل بن عمرو کو جا پہنچتی۔ “
٧۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تو لوگوں نے کوچ کرلیا اور روانہ ہو کر چل دیئے یہاں تک کہ صحابہ مقام مرالظہران میں اترے۔ راوی کہتے ہیں : ابو سفیان (بھی) آ رہا تھا یہاں تک کہ وہ بھی رات کے وقت مقام مرالظہران میں اترا۔ راوی کہتے ہیں : اس نے لشکر اور آگ کو دیکھا تو پوچھنے لگا۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ کسی نے (جواباً ) کہا یہ بنو تمیم ہیں ان کے علاقوں میں خشک سالی آگئی ہے اور یہ تمہارے علاقوں میں گزر بسر کے لیے آئے ہیں۔ ابو سفیان نے کہا۔ بخدا ! یہ لوگ تو اہل منیٰ سے بھی زیادہ ہیں۔ یا یہ کہا : اہل منیٰ کے مثل ہیں۔ پھر جب اس کو اس بات کا علم ہوا کہ یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کا لشکر) ہے تو اس نے کہا۔ حضرت عباس کی طرف میری راہ نمائی کرو۔ چنانچہ یہ حضرت عباس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے قبہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو سفیان سے کہا۔ اے ابو سفیان ! اسلام لے آؤ۔ سلامتی پا جاؤ گے۔ اس نے آگے سے جواب دیا۔ میں لات اور عزی کا کیا کروں گا ؟
٨۔ راوی ایوب کہتے ہیں کہ مجھے ابو الخلیل نے یہ روایت سعید بن جبیر کے حوالہ سے بیان کی کہ حضرت عمر بن خطاب نے ابو سفیان سے کہا : حضرت عمر قبہ سے باہر تھے اور ان کی گردن میں تلوار تھی۔ اس پر لید کر دے۔ ہاں بخدا ! اگر تم قبہ سے باہر ہوتے تو میں تمہیں یہ بات کبھی نہ کہتا۔
٩۔ راوی کہتے ہیں۔ ابو سفیان نے پوچھا۔ یہ کون شخص ہے ؟ صحابہ کرام نے جواب دیا یہ عمر بن خطاب ہے۔
١٠۔ پھر راوی حضرت ایوب کی عکرمہ سے روایت کی طرف متوجہ ہوئے۔
١١۔ پھر ابو سفیان نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت عباس انھیں لے کر اپنی منزل کی طرف چل پڑے۔ پھر جب صبح ہوئی تو لوگ اپنے اپنے وضو کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ راوی کہتے ہیں : ابو سفیان نے پوچھا : اے ابو الفضل ! لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ انھیں کس کام کا حکم دیا گیا ہے ؟ حضرت عباس نے جواب دیا : نہیں ! بلکہ یہ لوگ نماز قائم کرنے کے لیے اٹھے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عباس نے ابو سفیان کو کہا تو انھوں نے بھی وضو کیا اور پھر حضرت عباس انھیں لے کر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ گئے ۔ پس جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں شروع ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی تکبیر کہی ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کیا اور لوگوں نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر مبارک اٹھایا اور لوگوں نے اپنے سروں کو اٹھایا ۔ (یہ منظر دیکھ کر) ابو سفیان نے کہا ۔ میں نے آج کے دن (کی اطاعت) سے بڑھ کر کسی قوم کی شروع سے آخر تک ، ساری جماعت کی ایسی اطاعت نہیں دیکھی۔ نہ تو فارس کے معززین کی اور نہ ہی مقتدر روم کی۔ کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت سے زیادہ مطیع ہوں۔
١٢۔ حماد راوی کہتے ہیں : یزید بن حازم حضرت عکرمہ سے یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ ابو سفیان نے کہا۔ اے ابو الفضل ! خدا کی قسم ! تیرا بھتیجا تو بڑی بادشاہی کا مالک ہوگیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عباس نے ابو سفیان سے کہا۔ یہ بادشاہت نہیں ہے بلکہ یہ تو نبوت ہے۔ ابو سفیان نے کہا : ہاں وہی ہے، ہاں وہی ہے۔
١٣۔ پھر راوی عکرمہ کے واسطہ سے ایوب کی طرف لوٹے اور کہا۔ ابو سفیان نے کہا۔ قریش کی صبح کیسی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت عباس نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں ان کے پاس جاؤں اور انھیں دعوت دوں اور میں انھیں امن دے دوں۔ آپ ابو سفیان کے لیے کوئی ایسی چیز مقرر فرما دیں ۔ جس سے ان کو یاد کیا جائے۔ چنانچہ حضرت عباس چل پڑے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کالے سفید بالوں والی پیشانی کے خچر پر سوار ہو کر چل پڑے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ میرے باپ کو میری طرف واپس کرو۔ میرے باپ کو میری طرف واپس کرو۔ کیونکہ آدمی کا چچا آدمی کے والد کے مثل ہوتا ہے۔ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ قریش ان کے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جو قبیلہ ثقیف نے عروہ بن مسعود کے ساتھ کیا تھا۔ کہ انھوں نے تو ثقفا والوں کو اللہ کی طرف دعوت دی اور انھوں نے عروہ کو قتل کردیا۔ خبردار ! بخدا اگر وہ لوگ حضرت عباس کے خلاف کھڑے ہوئے تو میں انھیں آگ میں جلا دوں گا۔
١٤۔ پس حضرت عباس (وہاں سے) چلے یہاں تک کہ مکہ میں پہنچ گئے اور فرمایا : اے مکہ والو ! اسلام لے آؤ، سلامتی پا جاؤ گے۔ تم لوگوں کو ایک شدید معاملہ درپیش ہوچکا ہے۔ ” تحقیق جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر کو مکہ کے بالائی طرف سے بھیجا تھا اور حضرت خالد بن الولید کو مکہ کے نچلے حصہ کی طرف روانہ فرمایا تھا۔ چنانچہ حضرت عباس نے ان لوگوں سے کہا۔ یہ مکہ کے بالائی حصہ سے زبیر آ رہے ہیں اور مکہ کے تحتانی حصہ سے حضرت خالد بن الولید آ رہے ہیں۔ اور خالد کے بارے میں جانتے ہو کہ خالد، کون خالد ؟ اور خزاعہ قبیلہ جن کے ناک کٹے ہوئے ہیں۔ پھر آپ سے فرمایا : جو کوئی اپنا اسلحہ ڈال دے گا وہ امن پالے گا پھر (اس کے بعد) جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو مخالفین نے تھوڑی سی تیر اندازی کی۔
١٥۔ (لیکن) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان (مخالفین) پر غلبہ حاصل ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام لوگوں کو امن دے دیا۔ سوائے خزاعہ اور بنو بکر کے۔ پھر راوی نے چار نام ذکر فرمائے۔ مقیس بن صبابۃ، عبداللہ بن ابی سرح ، ابن خطل، بنی ہاشم کی لونڈی سارہ، حماد راوی کہتے ہیں : حدیث ایوب میں ” سارہ “ کا ذکر ہے اور اس کے سوا دیگر حدیثوں میں ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس خزاعہ نے آدھا دن لڑائی کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترجمہ) ۔ کیا تم ان لوگوں سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑا اور رسول کو (وطن سے) نکالنے کا ارادہ کیا اور وہی ہیں جنہوں نے تمہارے خلاف (چھیڑ چھاڑ کرنے میں) پہلی کی۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ (اگر ایسا ہے) تو اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مؤمن ہو۔ ان سے جنگ کرو تاکہ اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے، انھیں رسوا کرے، ان کے خلاف تمہاری مدد کرے اور مومنوں کے دل ٹھنڈے کر دے (راوی کہتے ہی) اس سے خزاعہ مراد ہیں) اور ان کے دل کی کڑھن دور کر دے (مراد خزاعہ) اور جس کی چاہے توبہ قبول کرے (خزاعہ)
٢۔ ابو سفیان چل پڑا یہاں تک کہ وہ مدینہ میں پہنچا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ تحقیق تمہارے پاس ابوسفیان آ رہا ہے اور عنقریب وہ اپنی حاجت (پوری کئے) بغیر واپس پلٹے گا۔ چنانچہ ابو سفیان، حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے ابوبکر ! معاہدہ کو برقرار رکھو اور لوگوں کے درمیان صلح ہی رہنے دو ۔ یا یہ الفاظ کہے کہ ۔۔۔ اپنی قوم کے درمیان صلح ہی رہنے دو ۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا۔ یہ معاملہ میرے بس میں نہیں ہے یہ تو اللہ اور اس کے رسول کے بس میں ہے۔ راوی کہتے ہیں : ابو سفیان نے جو باتیں حضرت ابوبکر سے کہیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ۔ یہ بات نہیں ہے کہ اگر کسی قوم نے دوسری قوم کو اسلحہ اور کھانے کے ذریعہ سے مدد کی ہو اور ان پر سایہ کیا ہو تو وہ عہد کو توڑنے والے ہوں۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا۔ یہ معاملہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بس میں ہے۔
٣۔ پھر ابو سفیان حضرت عمر بن خطاب کے پاس آیا اور ان سے بھی ویسی باتیں کہیں جیسی باتیں اس نے حضرت ابوبکر سے کہی تھیں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا۔ کیا تم نے عہد توڑ دیا ہے ؟ پس اس بارے میں جو نئی بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے پرانا کردیا ہے اور جو مضبوط اور سخت بات تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے توڑ ڈالا ہے۔ ابو سفیان کہتا ہے میں نے اس د ن کی طرح قوم کو نہیں دیکھا ؟ پھر ابو سفیان حضرت فاطمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے فاطمہ ! کیا تم وہ کام کرو گی جس میں تم اپنی قوم کی خواتین کی سیادت کرو۔ پھر ابو سفیان نے ان سے بھی ویسی بات ذکر کی جیسی بات اس نے حضرت ابوبکر سے کہی تھی۔ حضرت فاطمہ نے جواب دیا۔ یہ معاملہ میرے اختیار میں نہیں ہے (بلکہ) یہ معاملہ تو اللہ اور اس کے رسول کے اختیار میں ہے۔ پھر ابو سفیان، حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوا اور ویسی بات ہی کہی جیسی بات حضرت ابوبکر سے کہی تھی۔ حضرت علی نے اس کو جواب دیا۔ میں نے آج کے دن (کے آدمی) کی طرح کوئی گمراہ آدمی نہیں دیکھا ! تم تو لوگوں کے سردار ہو پس تم معاہدہ کو برقرار رکھو اور لوگوں کے درمیان صلح کرواؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ ابو سفیان نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور کہنے لگا۔ تحقیق میں نے لوگوں میں سے بعض کو بعض سے پناہ دے دی ہے۔
٤۔ پھر ابو سفیان چل پڑا یہاں تک کہ وہ اہل مکہ کے پاس پہنچا اور انھیں وہ بات بتلائی جو اس نے سرانجام دی تھی۔ تو انھوں نے (آگے سے) کہا۔ خدا کی قسم ! ہم نے آج کے دن (کے آدمی) کی طرح کوئی قوم کا نمائندہ نہیں دیکھا۔ بخدا ! نہ تو تم جنگ کی خبر ہمارے پاس لائے ہو کہ ہم (اس سے) بچاؤ کریں اور نہ ہی تم ہمارے پاس صلح کی خبر لے کر آئے ہو کہ ہم مامون ہوجائیں۔ (لہٰذا) تم واپس جاؤ۔
٥۔ راوی کہتے ہیں : (اتنے میں) قبیلہ خزاعہ کا نمائندہ وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ گیا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشرکین مکہ کے کئے کی خبر سنائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدد کے لیے بلایا اور اس بات کو اس نے ان شعروں میں بیان کیا۔
اے اللہ ! محمد کو اپنے اور ان کے آباء کا پرانا عہد یاد دلاتا ہوں۔
اور (یہ بات کہ) آپ والد ہیں اور ہم بیٹے ہیں۔ بلاشبہ قریش نے آپ کے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے۔
اور انھوں نے آپ کے پختہ عہد کو توڑ ڈالا ہے اور انھوں نے ہمارے لیے مقما کداء میں گھات لگایا ہے۔
اور انھوں نے یہ سمجھا ہے کہ میں کسی کو (مدد کے لئے) نہیں بلاؤں گا ۔ حالانکہ وہ لوگ تو تعداد میں تھوڑے اور ذلیل ہیں۔
وہ لوگ ہم پر مقام ونیر میں صبح کو حملہ آور ہوئے جبکہ ہم رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔
ہم نے اسلام قبول کیا ہے اور اپنا ہاتھ واپس نہیں کھینچا۔ پس ۔۔۔ اے اللہ کے رسول۔۔۔ خوب سخت مدد کیجئے۔
اور آپ اللہ کے لشکروں کو ابھاریں پس یہ آپ کے پاس مدد کیلئے ایسے سمندروں کی طرح آئیں گے جو جھاگ مار رہا ہو۔
اور ان میں اللہ کے رسول بھی ہوں جن کی تلوار نیام سے باہر ہو ۔ کہ اگر وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کو نقصان پہنچانا چاہیں تو آپ کا چہرہ غضب کی وجہ سے تمتمانے لگے۔
حماد راوی کہتے ہیں۔ ان اشعار میں سے بعض حضرت ایوب (کی روایت) سے ہیں اور بعض دیگر اشعار حضرت یزید بن حازم (کی روایت) سے ہیں اور ان میں سے اکثر اشعار محمد بن اسحق (کی روایت) سے ہیں۔ پھر راوی دوبارہ ایوب کی عکرمہ سے روایت کی طرف لوٹے۔
٦۔ اور فرمایا : حضرت حسان بن ثابت نے شعر کہے۔
” مجھے افسوس ہے کہ ہم مکہ کی وادی میں بنو کعب کے ان لوگوں کی مدد نہ کرسکے جن کی گردنیں کاٹی جا رہی تھیں، صفوان اس بوڑھے اونٹ کی مانند ہے جس کی سرین کے سوراخ کو کشادہ کیا گیا ہو، پس یہ تو جنگ کا وقت تھا جس میں جنگ کو خوب بھڑکایا گیا تھا، اے ام مجالد کے بٹے ک ! جب جنگ کا میدان گرم ہوجائے اور لڑائی اپنی تیزی دکھانے لگے تو ہم سے مامون ہو کے نہ بیٹھ جا، کاش میرے اشعار، میرے نیزے کی نوک اور میرے نیزے کی سزا سہیل بن عمرو کو جا پہنچتی۔ “
٧۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تو لوگوں نے کوچ کرلیا اور روانہ ہو کر چل دیئے یہاں تک کہ صحابہ مقام مرالظہران میں اترے۔ راوی کہتے ہیں : ابو سفیان (بھی) آ رہا تھا یہاں تک کہ وہ بھی رات کے وقت مقام مرالظہران میں اترا۔ راوی کہتے ہیں : اس نے لشکر اور آگ کو دیکھا تو پوچھنے لگا۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ کسی نے (جواباً ) کہا یہ بنو تمیم ہیں ان کے علاقوں میں خشک سالی آگئی ہے اور یہ تمہارے علاقوں میں گزر بسر کے لیے آئے ہیں۔ ابو سفیان نے کہا۔ بخدا ! یہ لوگ تو اہل منیٰ سے بھی زیادہ ہیں۔ یا یہ کہا : اہل منیٰ کے مثل ہیں۔ پھر جب اس کو اس بات کا علم ہوا کہ یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کا لشکر) ہے تو اس نے کہا۔ حضرت عباس کی طرف میری راہ نمائی کرو۔ چنانچہ یہ حضرت عباس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے قبہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو سفیان سے کہا۔ اے ابو سفیان ! اسلام لے آؤ۔ سلامتی پا جاؤ گے۔ اس نے آگے سے جواب دیا۔ میں لات اور عزی کا کیا کروں گا ؟
٨۔ راوی ایوب کہتے ہیں کہ مجھے ابو الخلیل نے یہ روایت سعید بن جبیر کے حوالہ سے بیان کی کہ حضرت عمر بن خطاب نے ابو سفیان سے کہا : حضرت عمر قبہ سے باہر تھے اور ان کی گردن میں تلوار تھی۔ اس پر لید کر دے۔ ہاں بخدا ! اگر تم قبہ سے باہر ہوتے تو میں تمہیں یہ بات کبھی نہ کہتا۔
٩۔ راوی کہتے ہیں۔ ابو سفیان نے پوچھا۔ یہ کون شخص ہے ؟ صحابہ کرام نے جواب دیا یہ عمر بن خطاب ہے۔
١٠۔ پھر راوی حضرت ایوب کی عکرمہ سے روایت کی طرف متوجہ ہوئے۔
١١۔ پھر ابو سفیان نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت عباس انھیں لے کر اپنی منزل کی طرف چل پڑے۔ پھر جب صبح ہوئی تو لوگ اپنے اپنے وضو کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ راوی کہتے ہیں : ابو سفیان نے پوچھا : اے ابو الفضل ! لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ انھیں کس کام کا حکم دیا گیا ہے ؟ حضرت عباس نے جواب دیا : نہیں ! بلکہ یہ لوگ نماز قائم کرنے کے لیے اٹھے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عباس نے ابو سفیان کو کہا تو انھوں نے بھی وضو کیا اور پھر حضرت عباس انھیں لے کر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ گئے ۔ پس جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں شروع ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی تکبیر کہی ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کیا اور لوگوں نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر مبارک اٹھایا اور لوگوں نے اپنے سروں کو اٹھایا ۔ (یہ منظر دیکھ کر) ابو سفیان نے کہا ۔ میں نے آج کے دن (کی اطاعت) سے بڑھ کر کسی قوم کی شروع سے آخر تک ، ساری جماعت کی ایسی اطاعت نہیں دیکھی۔ نہ تو فارس کے معززین کی اور نہ ہی مقتدر روم کی۔ کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت سے زیادہ مطیع ہوں۔
١٢۔ حماد راوی کہتے ہیں : یزید بن حازم حضرت عکرمہ سے یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ ابو سفیان نے کہا۔ اے ابو الفضل ! خدا کی قسم ! تیرا بھتیجا تو بڑی بادشاہی کا مالک ہوگیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عباس نے ابو سفیان سے کہا۔ یہ بادشاہت نہیں ہے بلکہ یہ تو نبوت ہے۔ ابو سفیان نے کہا : ہاں وہی ہے، ہاں وہی ہے۔
١٣۔ پھر راوی عکرمہ کے واسطہ سے ایوب کی طرف لوٹے اور کہا۔ ابو سفیان نے کہا۔ قریش کی صبح کیسی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت عباس نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں ان کے پاس جاؤں اور انھیں دعوت دوں اور میں انھیں امن دے دوں۔ آپ ابو سفیان کے لیے کوئی ایسی چیز مقرر فرما دیں ۔ جس سے ان کو یاد کیا جائے۔ چنانچہ حضرت عباس چل پڑے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کالے سفید بالوں والی پیشانی کے خچر پر سوار ہو کر چل پڑے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ میرے باپ کو میری طرف واپس کرو۔ میرے باپ کو میری طرف واپس کرو۔ کیونکہ آدمی کا چچا آدمی کے والد کے مثل ہوتا ہے۔ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ قریش ان کے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جو قبیلہ ثقیف نے عروہ بن مسعود کے ساتھ کیا تھا۔ کہ انھوں نے تو ثقفا والوں کو اللہ کی طرف دعوت دی اور انھوں نے عروہ کو قتل کردیا۔ خبردار ! بخدا اگر وہ لوگ حضرت عباس کے خلاف کھڑے ہوئے تو میں انھیں آگ میں جلا دوں گا۔
١٤۔ پس حضرت عباس (وہاں سے) چلے یہاں تک کہ مکہ میں پہنچ گئے اور فرمایا : اے مکہ والو ! اسلام لے آؤ، سلامتی پا جاؤ گے۔ تم لوگوں کو ایک شدید معاملہ درپیش ہوچکا ہے۔ ” تحقیق جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر کو مکہ کے بالائی طرف سے بھیجا تھا اور حضرت خالد بن الولید کو مکہ کے نچلے حصہ کی طرف روانہ فرمایا تھا۔ چنانچہ حضرت عباس نے ان لوگوں سے کہا۔ یہ مکہ کے بالائی حصہ سے زبیر آ رہے ہیں اور مکہ کے تحتانی حصہ سے حضرت خالد بن الولید آ رہے ہیں۔ اور خالد کے بارے میں جانتے ہو کہ خالد، کون خالد ؟ اور خزاعہ قبیلہ جن کے ناک کٹے ہوئے ہیں۔ پھر آپ سے فرمایا : جو کوئی اپنا اسلحہ ڈال دے گا وہ امن پالے گا پھر (اس کے بعد) جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو مخالفین نے تھوڑی سی تیر اندازی کی۔
١٥۔ (لیکن) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان (مخالفین) پر غلبہ حاصل ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام لوگوں کو امن دے دیا۔ سوائے خزاعہ اور بنو بکر کے۔ پھر راوی نے چار نام ذکر فرمائے۔ مقیس بن صبابۃ، عبداللہ بن ابی سرح ، ابن خطل، بنی ہاشم کی لونڈی سارہ، حماد راوی کہتے ہیں : حدیث ایوب میں ” سارہ “ کا ذکر ہے اور اس کے سوا دیگر حدیثوں میں ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس خزاعہ نے آدھا دن لڑائی کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترجمہ) ۔ کیا تم ان لوگوں سے جنگ نہیں کرو گے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑا اور رسول کو (وطن سے) نکالنے کا ارادہ کیا اور وہی ہیں جنہوں نے تمہارے خلاف (چھیڑ چھاڑ کرنے میں) پہلی کی۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ (اگر ایسا ہے) تو اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مؤمن ہو۔ ان سے جنگ کرو تاکہ اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے، انھیں رسوا کرے، ان کے خلاف تمہاری مدد کرے اور مومنوں کے دل ٹھنڈے کر دے (راوی کہتے ہی) اس سے خزاعہ مراد ہیں) اور ان کے دل کی کڑھن دور کر دے (مراد خزاعہ) اور جس کی چاہے توبہ قبول کرے (خزاعہ)
(۳۸۰۵۷) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : لَمَّا وَادَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَہْلَ مَکَّۃَ ، وَکَانَتْ خُزَاعَۃُ حُلَفَائَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، وَکَانَتْ بَنُو بَکْرٍ حُلَفَائَ قُرَیْشٍ ، فَدَخَلَتْ خُزَاعَۃُ فِی صُلْحِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَدَخَلَتْ بَنُو بَکْرٍ فِی صُلْحِ قُرَیْشٍ ، فَکَانَ بَیْنَ خُزَاعَۃَ وَبَیْنَ بَنِی بَکْرٍ قِتَالٌ ، فَأَمَدَّتْہُمْ قُرَیْشٌ بِسِلاَحٍ وَطَعَامٍ ، وَظَلَّلُوا عَلَیْہِمْ ، فَظَہَرَتْ بَنُو بَکْرٍ عَلَی خُزَاعَۃَ ، وَقَتَلُوا فِیہِمْ ، فَخَافَتْ قُرَیْشٌ أَنْ یَکُونُوا قَدْ نَقَضُوا ، فَقَالُوا لأَبِی سُفْیَانَ : اذْہَبْ إِلَی مُحَمَّدٍ فَأَجِزِ الْحِلْفَ وَأَصْلِحْ بَیْنَ النَّاسِ۔
فَانْطَلَقَ أَبُو سُفْیَانَ حَتَّی قَدِمَ الْمَدِینَۃَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَدْ جَائَکُمْ أَبُو سُفْیَانَ ، وَسَیَرْجِعُ رَاضِیًا بِغَیْرِ حَاجَتِہِ ، فَأَتَی أَبَا بَکْرٍ ، فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ ، أَجِزِ الْحِلْفَ وَأَصْلِحْ بَیْنَ النَّاسِ ، أَوَ قَالَ : بَیْنَ قَوْمِکَ ، قَالَ : لَیْسَ الأَمْرُ إِلَیَّ ، الأَمْرُ إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ ، قَالَ : وَقَدْ قَالَ لَہُ فِیمَا قَالَ : لَیْسَ مِنْ قَوْمٍ ظَلَّلُوا عَلَی قَوْمٍ وَأَمَدُّوہُمْ بِسِلاَحٍ وَطَعَامٍ ، أَنْ یَکُونُوا نَقَضُوا ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : الأَمْرُ إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ۔
ثُمَّ أَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ لَہُ نَحْوًا مِمَا قَالَ لأَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : أَنَقَضْتُمْ ؟ فَمَا کَانَ مِنْہُ جَدِیدًا فَأَبْلاَہُ اللَّہُ ، وَمَا کَانَ مِنْہُ شَدِیدًا ، أَوْ مَتِینًا فَقَطَعَہُ اللَّہُ ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : مَا رَأَیْتُ کَالْیَوْمِ شَاہِدَ عَشِیرَۃٍ ، ثُمَّ أَتَی فَاطِمَۃَ ، فَقَالَ : یَا فَاطِمَۃُ ، ہَلْ لَک فِی أَمْرٍ تَسُودِینَ فِیہِ نِسَائَ قَوْمِکَ ، ثُمَّ ذَکَرَ لَہَا نَحْوًا مِمَّا ذَکَرَ لأَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَتْ : لَیْسَ الأَمْرُ إِلَی ، الأَمْرُ إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ ، ثُمَّ أَتَی عَلِیًّا ، فَقَالَ لَہُ نَحْوًا مِمَا قَالَ لأَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : مَا رَأَیْتُ کَالْیَوْمِ رَجُلاً أَضَلَّ ، أَنْتَ سَیِّدُ النَّاسِ ، فَأَجِزْ الْحِلْفَ وَأَصْلِحْ بَیْنَ النَّاسِ ، قَالَ : فَضَرَبَ إِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الأُخْرَی ، وَقَالَ : قَدْ أَجْرَتُ النَّاسَ بَعْضُہُمْ مِنْ بَعْضٍ۔
ثُمَّ ذَہَبَ حَتَّی قَدِمَ عَلَی مَکَّۃَ فَأَخْبَرَہُمْ بِمَا صَنَعَ ، فَقَالُوا : وَاللہِ مَا رَأَیْنَا کَالْیَوْمِ وَافِدَ قَوْمٍ ، وَاللہِ مَا أَتَیْتَنَا بِحَرْبٍ فَنَحْذَرَ ، وَلاَ أَتَیْتَنَا بِصُلْحٍ فَنَأْمَنَ ، ارْجِعْ۔
قَالَ: وَقَدِمَ وَافِدُ خُزَاعَۃَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ بِمَا صَنَعَ الْقَوْمُ ، وَدَعَا إِلَی النُّصْرَۃِ، وَأَنْشَدَہُ فِی ذَلِکَ شِعْرًا :
لاَہُمَّ إِنِّی نَاشِدٌ مُحَمَّدًا
وَوَالِدًا کُنْتَ وَکُنَّا وَلَدًا
وَنَقَضُوا مِیثَاقَک الْمُؤَکَّدَا
وَزَعَمْتْ أَنْ لَسْتُ أَدْعُو أَحَدًا
وَہُمْ أَتَوْنَا بِالْوَتِیرِ ہُجَّدًا
حِلْفَ أَبِینَا وَأَبِیہِ الأَتْلَدَا
إِنَّ قُرَیْشًا أَخْلَفُوکَ الْمَوْعِدَا
وَجَعَلُوا لِی بِکَدَائٍ رُصَّدَا
فَہُمْ أَذَلُّ وَأَقَلُّ عَدَدَا
نَتْلُو الْقُرْآنَ رُکَّعًا وَسُجَّدًا
ثُمَّتَ أَسْلَمْنَا وَلَمْ نَنْزِعْ یَدًا
فَانْصُرْ رَسُولَ اللہِ نَصْرًا أَعْتَدَا
وَابْعَثْ جُنُودَ اللہِ تَأْتِی مَدَدًا
فِیہِمْ رَسُولُ اللہِ قَدْ تَجَرَّدَا
فِی فَیْلَقٍ کَالْبَحْرِ یَأْتِی مُزْبِدَا
إِنْ سِیمَ خَسْفًا وَجْہُہُ تَرَبَّدَا
قالَ حَمَّادٌ : ہَذَا الشِّعْرُ بَعْضُہُ عَنْ أَیُّوبَ ، وَبَعْضُہُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ حَازِمٍ ، وَأَکْثَرُہُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أسْحَاقَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی حَدِیثِ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ۔
قَالَ : قَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ :
أَتَانِی وَلَمْ أَشْہَدْ بِبَطْحَائِ مَکَّۃ
رِجَالُ بَنِی کَعْبٍ تُحَزَّ رِقَابُہَا
وَصَفْوَانُ عُودٌ حُزَّ مِنْ وَدَقٍ اسْتِہِ
فَذَاکَ أَوَانُ الْحَرْبِ شُدَّ عِصَابُہَا
فَلاَ تَجْزَعَنْ یَاابْنَ أَمِّ مُجَالِدٍ
فَقَدْ صَرَّحَتْ صِرْفًا وأََعَصل نَابہَا
فَیَا لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ یَنَالَنَّ مَرَّۃً
سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو حَوْبَہَا وَعِقَابَہَا
قالَ : فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِیلِ ، فَارْتَحَلُوا ، فَسَارُوا حَتَّی نَزَلُوا مَرًّا ، قَالَ : وَجَائَ أَبُو سُفْیَانَ حَتَّی نَزَلَ مَرًّا لَیْلاً ، قَالَ : فَرَأَی الْعَسْکَرَ وَالنِّیرَانَ ، فَقَالَ : مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ فَقِیلَ : ہَذِہِ تَمِیمٌ ، مَحَّلَتْ بِلاَدَہَا فَانْتَجَعَتْ بِلاَدَکُمْ ، قَالَ : وَاللہِ ، لَہَؤُلاَئِ أَکْثَرُ مِنْ أَہْلِ مِنًی ، أَوْ قَالَ : مِثُلُ أَہْلِ مِنًی ، فَلَمَّا عَلِمَ أَنَّہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : دُلُّونِی عَلَی الْعَبَّاسِ ، فَأَتَی الْعَبَّاسَ فَأَخْبَرَہُ الْخَبَرَ ، وَذَہَبَ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی قُبَّۃٍ لَہُ ، فَقَالَ لَہُ : یَا أَبَا سُفْیَانَ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، فَقَالَ : کَیْفَ أَصْنَعُ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّی ؟۔
قَالَ أَیُّوبُ : فَحَدَّثَنِی أَبُو الْخَلِیلِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : قَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَہُوَ خَارِجٌ مِنَ الْقُبَّۃِ فِی عُنُقِہِ السَّیْفُ : إِخْرَ عَلَیْہَا ، أَمَّا وَاللہِ أَنْ لَوْ کُنْت خَارِجًا مِنَ الْقُبَّۃِ مَا قُلْتہَا أَبَدًا۔
قَالَ : قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : مَنْ ہَذَا ؟ قَالَوا : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔
ثُمَّ رَجَعَ إلَی حَدِیثِ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ۔
فَأَسْلَمَ أَبُو سُفْیَانَ ، وَذَہَبَ بِہِ الْعَبَّاسُ إلَی مَنْزِلِہِ ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارَ النَّاسُ لِطَہُورِہِمْ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : یَا أَبَا الْفَضْلِ ، مَا لِلنَّاسِ ؟ أُمِرُوا بِشَیْئٍ ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَکِنَّہُمْ قَامُوا إِلَی الصَّلاَۃِ ، قَالَ : فَأَمَرَہُ الْعَبَّاسُ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ ذَہَبَ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّلاَۃَ کَبَّرَ ، فَکَبَّرَ النَّاسُ ، ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعُوا ، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : مَا رَأَیْتُ کَالْیَوْمِ طَاعَۃَ قَوْمٍ جَمَعَہُمْ مِنْ ہَاہُنَا وَہَاہُنَا ، وَلاَ فَارِسَ الأَکارِمَ ، وَلاَ الرُّومَ ذَاتَ الْقُرُونِ ، بِأَطْوَعَ مِنْہُمْ لَہُ۔
قَالَ حَمَّادٌ : وَزَعَمَ یَزِیدُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ أَنَّ أَبَا سُفْیَانَ قَالَ : یَا أَبَا الْفَضْلِ ، أَصْبَحَ ابْنُ أَخِیک وَاللہِ عَظِیمَ الْمُلْکِ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ : إِنَّہُ لَیْسَ بِمُلْکٍ وَلَکِنَّہَا النُّبُوَّۃُ ، قَالَ : أَوْ ذَاکَ ، أَوْ ذَاکَ۔
ثُمَّ رَجَعَ إِلَی حَدِیثِ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ۔
قَالَ : قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : وَاصَبَاحَ قُرَیْشٍ ، قَالَ : فَقَالَ الْعَبَّاسُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَوْ أَذِنْتَ لِی فَأَتَیْتُہُمْ ، فَدَعَوْتُہُمْ ، فَأَمَّنْتُہُمْ ، وَجَعَلْتَ لأَبِی سُفْیَانَ شَیْئًا یُذْکَرُ بِہِ ، فَانْطَلَقَ الْعَبَّاسُ ، فَرَکِبَ بَغْلَۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الشَّہْبَائَ وَانْطَلَقَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رُدُّوا عَلَیَّ أَبِی ، رُدُّوا عَلَیَّ أَبِی، فَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِیہِ ، إِنِّی أَخَافُ أَنْ تَفْعَلَ بِہِ قُرَیْشٌ مَا فَعَلَتْ ثَقِیفٌ بِعُرْوَۃِ بْنِ مَسْعُودٍ ، دَعَاہُمْ إِلَی اللہِ فَقَتَلُوہُ ، أَمَا وَاللہِ لَئِنْ رَکِبُوہَا مِنْہُ لأَضْرِمَنَّہَا عَلَیْہِمْ نَارًا۔
فَانْطَلَقَ الْعَبَّاسُ حَتَّی قَدِمَ مَکَّۃَ ، فَقَالَ : یَا أَہْلَ مَکَّۃَ ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ، قَدَ اسْتَبْطِنْتُمْ بِأَشْہَبَ بَاذِلٍ ، وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ الزُّبَیْرَ مِنْ قِبَلِ أَعْلَی مَکَّۃَ ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ مِنْ قِبَلِ أَسْفَلِ مَکَّۃَ ، فَقَالَ لَہُمُ الْعَبَّاسُ : ہَذَا الزُّبَیْرُ مِنْ قِبَلِ أَعْلَی مَکَّۃَ ، وَہَذَا خَالِدٌ مِنْ قِبَلِ أَسْفَلِ مَکَّۃَ ، وَخَالِدٌ مَا خَالِدٌ ؟ وَخُزَاعَۃُ الْمُجَدَّعَۃُ الأُنُوفِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَلْقَی سِلاَحَہُ فَہُوَ آمِنٌ ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَرَامَوْا بِشَیْئٍ مِنَ النَّبْلِ۔
ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ظَہَرَ عَلَیْہِمْ ، فَأَمَّنَ النَّاسَ إِلاَّ خُزَاعَۃَ مِنْ بَنِی بَکْرٍ ، فَذَکَرَ أَرْبَعَۃً : مِقْیَسَ بْنَ صَبَابَۃَ ، وَعَبْدَ اللہِ بْنَ أَبِی سَرْحٍ ، وَابْنَ خَطَلٍ ، وَسَارَۃَ مَوْلاَۃَ بَنِی ہَاشِمٍ ، قَالَ حَمَّادٌ : سَارَۃُ ، فِی حَدِیثِ أَیُّوبَ ، وَفِی حَدِیثِ غَیْرِہِ : قَالَ : فَقَتَلَہُمْ خُزَاعَۃُ إِلَی نِصْفِ النَّہَارِ ، وَأَنْزَلَ اللَّہُ : {أَلاَ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَکَثُوا أَیْمَانَہُمْ وَہَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَہُمْ بَدَؤُوکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ ، أَتَخْشَوْنَہُمْ ، فَاللَّہُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْہُ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ ، قَاتِلُوہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللَّہُ بِأَیْدِیکُمْ وَیُخْزِہِمْ ، وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْہِمْ ، وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ} قَالَ : خُزَاعَۃُ ، {وَیُذْہِبْ غَیْظَ قُلُوبِہِمْ} قَالَ : خُزَاعَۃُ ، {وَیَتُوبُ اللَّہُ عَلَی مَنْ یَشَائُ} قَالَ : خُزَاعَۃُ۔
فَانْطَلَقَ أَبُو سُفْیَانَ حَتَّی قَدِمَ الْمَدِینَۃَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَدْ جَائَکُمْ أَبُو سُفْیَانَ ، وَسَیَرْجِعُ رَاضِیًا بِغَیْرِ حَاجَتِہِ ، فَأَتَی أَبَا بَکْرٍ ، فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ ، أَجِزِ الْحِلْفَ وَأَصْلِحْ بَیْنَ النَّاسِ ، أَوَ قَالَ : بَیْنَ قَوْمِکَ ، قَالَ : لَیْسَ الأَمْرُ إِلَیَّ ، الأَمْرُ إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ ، قَالَ : وَقَدْ قَالَ لَہُ فِیمَا قَالَ : لَیْسَ مِنْ قَوْمٍ ظَلَّلُوا عَلَی قَوْمٍ وَأَمَدُّوہُمْ بِسِلاَحٍ وَطَعَامٍ ، أَنْ یَکُونُوا نَقَضُوا ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : الأَمْرُ إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ۔
ثُمَّ أَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ لَہُ نَحْوًا مِمَا قَالَ لأَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : أَنَقَضْتُمْ ؟ فَمَا کَانَ مِنْہُ جَدِیدًا فَأَبْلاَہُ اللَّہُ ، وَمَا کَانَ مِنْہُ شَدِیدًا ، أَوْ مَتِینًا فَقَطَعَہُ اللَّہُ ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : مَا رَأَیْتُ کَالْیَوْمِ شَاہِدَ عَشِیرَۃٍ ، ثُمَّ أَتَی فَاطِمَۃَ ، فَقَالَ : یَا فَاطِمَۃُ ، ہَلْ لَک فِی أَمْرٍ تَسُودِینَ فِیہِ نِسَائَ قَوْمِکَ ، ثُمَّ ذَکَرَ لَہَا نَحْوًا مِمَّا ذَکَرَ لأَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَتْ : لَیْسَ الأَمْرُ إِلَی ، الأَمْرُ إِلَی اللہِ وَإِلَی رَسُولِہِ ، ثُمَّ أَتَی عَلِیًّا ، فَقَالَ لَہُ نَحْوًا مِمَا قَالَ لأَبِی بَکْرٍ ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : مَا رَأَیْتُ کَالْیَوْمِ رَجُلاً أَضَلَّ ، أَنْتَ سَیِّدُ النَّاسِ ، فَأَجِزْ الْحِلْفَ وَأَصْلِحْ بَیْنَ النَّاسِ ، قَالَ : فَضَرَبَ إِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الأُخْرَی ، وَقَالَ : قَدْ أَجْرَتُ النَّاسَ بَعْضُہُمْ مِنْ بَعْضٍ۔
ثُمَّ ذَہَبَ حَتَّی قَدِمَ عَلَی مَکَّۃَ فَأَخْبَرَہُمْ بِمَا صَنَعَ ، فَقَالُوا : وَاللہِ مَا رَأَیْنَا کَالْیَوْمِ وَافِدَ قَوْمٍ ، وَاللہِ مَا أَتَیْتَنَا بِحَرْبٍ فَنَحْذَرَ ، وَلاَ أَتَیْتَنَا بِصُلْحٍ فَنَأْمَنَ ، ارْجِعْ۔
قَالَ: وَقَدِمَ وَافِدُ خُزَاعَۃَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَہُ بِمَا صَنَعَ الْقَوْمُ ، وَدَعَا إِلَی النُّصْرَۃِ، وَأَنْشَدَہُ فِی ذَلِکَ شِعْرًا :
لاَہُمَّ إِنِّی نَاشِدٌ مُحَمَّدًا
وَوَالِدًا کُنْتَ وَکُنَّا وَلَدًا
وَنَقَضُوا مِیثَاقَک الْمُؤَکَّدَا
وَزَعَمْتْ أَنْ لَسْتُ أَدْعُو أَحَدًا
وَہُمْ أَتَوْنَا بِالْوَتِیرِ ہُجَّدًا
حِلْفَ أَبِینَا وَأَبِیہِ الأَتْلَدَا
إِنَّ قُرَیْشًا أَخْلَفُوکَ الْمَوْعِدَا
وَجَعَلُوا لِی بِکَدَائٍ رُصَّدَا
فَہُمْ أَذَلُّ وَأَقَلُّ عَدَدَا
نَتْلُو الْقُرْآنَ رُکَّعًا وَسُجَّدًا
ثُمَّتَ أَسْلَمْنَا وَلَمْ نَنْزِعْ یَدًا
فَانْصُرْ رَسُولَ اللہِ نَصْرًا أَعْتَدَا
وَابْعَثْ جُنُودَ اللہِ تَأْتِی مَدَدًا
فِیہِمْ رَسُولُ اللہِ قَدْ تَجَرَّدَا
فِی فَیْلَقٍ کَالْبَحْرِ یَأْتِی مُزْبِدَا
إِنْ سِیمَ خَسْفًا وَجْہُہُ تَرَبَّدَا
قالَ حَمَّادٌ : ہَذَا الشِّعْرُ بَعْضُہُ عَنْ أَیُّوبَ ، وَبَعْضُہُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ حَازِمٍ ، وَأَکْثَرُہُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أسْحَاقَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَی حَدِیثِ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ۔
قَالَ : قَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ :
أَتَانِی وَلَمْ أَشْہَدْ بِبَطْحَائِ مَکَّۃ
رِجَالُ بَنِی کَعْبٍ تُحَزَّ رِقَابُہَا
وَصَفْوَانُ عُودٌ حُزَّ مِنْ وَدَقٍ اسْتِہِ
فَذَاکَ أَوَانُ الْحَرْبِ شُدَّ عِصَابُہَا
فَلاَ تَجْزَعَنْ یَاابْنَ أَمِّ مُجَالِدٍ
فَقَدْ صَرَّحَتْ صِرْفًا وأََعَصل نَابہَا
فَیَا لَیْتَ شِعْرِی ہَلْ یَنَالَنَّ مَرَّۃً
سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو حَوْبَہَا وَعِقَابَہَا
قالَ : فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِیلِ ، فَارْتَحَلُوا ، فَسَارُوا حَتَّی نَزَلُوا مَرًّا ، قَالَ : وَجَائَ أَبُو سُفْیَانَ حَتَّی نَزَلَ مَرًّا لَیْلاً ، قَالَ : فَرَأَی الْعَسْکَرَ وَالنِّیرَانَ ، فَقَالَ : مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ فَقِیلَ : ہَذِہِ تَمِیمٌ ، مَحَّلَتْ بِلاَدَہَا فَانْتَجَعَتْ بِلاَدَکُمْ ، قَالَ : وَاللہِ ، لَہَؤُلاَئِ أَکْثَرُ مِنْ أَہْلِ مِنًی ، أَوْ قَالَ : مِثُلُ أَہْلِ مِنًی ، فَلَمَّا عَلِمَ أَنَّہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : دُلُّونِی عَلَی الْعَبَّاسِ ، فَأَتَی الْعَبَّاسَ فَأَخْبَرَہُ الْخَبَرَ ، وَذَہَبَ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی قُبَّۃٍ لَہُ ، فَقَالَ لَہُ : یَا أَبَا سُفْیَانَ ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ ، فَقَالَ : کَیْفَ أَصْنَعُ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّی ؟۔
قَالَ أَیُّوبُ : فَحَدَّثَنِی أَبُو الْخَلِیلِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : قَالَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَہُوَ خَارِجٌ مِنَ الْقُبَّۃِ فِی عُنُقِہِ السَّیْفُ : إِخْرَ عَلَیْہَا ، أَمَّا وَاللہِ أَنْ لَوْ کُنْت خَارِجًا مِنَ الْقُبَّۃِ مَا قُلْتہَا أَبَدًا۔
قَالَ : قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : مَنْ ہَذَا ؟ قَالَوا : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔
ثُمَّ رَجَعَ إلَی حَدِیثِ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ۔
فَأَسْلَمَ أَبُو سُفْیَانَ ، وَذَہَبَ بِہِ الْعَبَّاسُ إلَی مَنْزِلِہِ ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارَ النَّاسُ لِطَہُورِہِمْ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : یَا أَبَا الْفَضْلِ ، مَا لِلنَّاسِ ؟ أُمِرُوا بِشَیْئٍ ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَکِنَّہُمْ قَامُوا إِلَی الصَّلاَۃِ ، قَالَ : فَأَمَرَہُ الْعَبَّاسُ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ ذَہَبَ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّلاَۃَ کَبَّرَ ، فَکَبَّرَ النَّاسُ ، ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعُوا ، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : مَا رَأَیْتُ کَالْیَوْمِ طَاعَۃَ قَوْمٍ جَمَعَہُمْ مِنْ ہَاہُنَا وَہَاہُنَا ، وَلاَ فَارِسَ الأَکارِمَ ، وَلاَ الرُّومَ ذَاتَ الْقُرُونِ ، بِأَطْوَعَ مِنْہُمْ لَہُ۔
قَالَ حَمَّادٌ : وَزَعَمَ یَزِیدُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ أَنَّ أَبَا سُفْیَانَ قَالَ : یَا أَبَا الْفَضْلِ ، أَصْبَحَ ابْنُ أَخِیک وَاللہِ عَظِیمَ الْمُلْکِ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ : إِنَّہُ لَیْسَ بِمُلْکٍ وَلَکِنَّہَا النُّبُوَّۃُ ، قَالَ : أَوْ ذَاکَ ، أَوْ ذَاکَ۔
ثُمَّ رَجَعَ إِلَی حَدِیثِ أَیُّوبَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ۔
قَالَ : قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : وَاصَبَاحَ قُرَیْشٍ ، قَالَ : فَقَالَ الْعَبَّاسُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَوْ أَذِنْتَ لِی فَأَتَیْتُہُمْ ، فَدَعَوْتُہُمْ ، فَأَمَّنْتُہُمْ ، وَجَعَلْتَ لأَبِی سُفْیَانَ شَیْئًا یُذْکَرُ بِہِ ، فَانْطَلَقَ الْعَبَّاسُ ، فَرَکِبَ بَغْلَۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الشَّہْبَائَ وَانْطَلَقَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رُدُّوا عَلَیَّ أَبِی ، رُدُّوا عَلَیَّ أَبِی، فَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِیہِ ، إِنِّی أَخَافُ أَنْ تَفْعَلَ بِہِ قُرَیْشٌ مَا فَعَلَتْ ثَقِیفٌ بِعُرْوَۃِ بْنِ مَسْعُودٍ ، دَعَاہُمْ إِلَی اللہِ فَقَتَلُوہُ ، أَمَا وَاللہِ لَئِنْ رَکِبُوہَا مِنْہُ لأَضْرِمَنَّہَا عَلَیْہِمْ نَارًا۔
فَانْطَلَقَ الْعَبَّاسُ حَتَّی قَدِمَ مَکَّۃَ ، فَقَالَ : یَا أَہْلَ مَکَّۃَ ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ، قَدَ اسْتَبْطِنْتُمْ بِأَشْہَبَ بَاذِلٍ ، وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ الزُّبَیْرَ مِنْ قِبَلِ أَعْلَی مَکَّۃَ ، وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ مِنْ قِبَلِ أَسْفَلِ مَکَّۃَ ، فَقَالَ لَہُمُ الْعَبَّاسُ : ہَذَا الزُّبَیْرُ مِنْ قِبَلِ أَعْلَی مَکَّۃَ ، وَہَذَا خَالِدٌ مِنْ قِبَلِ أَسْفَلِ مَکَّۃَ ، وَخَالِدٌ مَا خَالِدٌ ؟ وَخُزَاعَۃُ الْمُجَدَّعَۃُ الأُنُوفِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ أَلْقَی سِلاَحَہُ فَہُوَ آمِنٌ ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَرَامَوْا بِشَیْئٍ مِنَ النَّبْلِ۔
ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ظَہَرَ عَلَیْہِمْ ، فَأَمَّنَ النَّاسَ إِلاَّ خُزَاعَۃَ مِنْ بَنِی بَکْرٍ ، فَذَکَرَ أَرْبَعَۃً : مِقْیَسَ بْنَ صَبَابَۃَ ، وَعَبْدَ اللہِ بْنَ أَبِی سَرْحٍ ، وَابْنَ خَطَلٍ ، وَسَارَۃَ مَوْلاَۃَ بَنِی ہَاشِمٍ ، قَالَ حَمَّادٌ : سَارَۃُ ، فِی حَدِیثِ أَیُّوبَ ، وَفِی حَدِیثِ غَیْرِہِ : قَالَ : فَقَتَلَہُمْ خُزَاعَۃُ إِلَی نِصْفِ النَّہَارِ ، وَأَنْزَلَ اللَّہُ : {أَلاَ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَکَثُوا أَیْمَانَہُمْ وَہَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَہُمْ بَدَؤُوکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ ، أَتَخْشَوْنَہُمْ ، فَاللَّہُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْہُ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ ، قَاتِلُوہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللَّہُ بِأَیْدِیکُمْ وَیُخْزِہِمْ ، وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْہِمْ ، وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ} قَالَ : خُزَاعَۃُ ، {وَیُذْہِبْ غَیْظَ قُلُوبِہِمْ} قَالَ : خُزَاعَۃُ ، {وَیَتُوبُ اللَّہُ عَلَی مَنْ یَشَائُ} قَالَ : خُزَاعَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٥٨) حضرت زکریا بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہ میں ابو اسحاق کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا ۔ تو بنو خزاعہ کا ایک آدمی ہمارے پاس آیا۔ ابو اسحاق نے اس سے کہا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات کیسے فرمائی تھی ۔ کہ تحقیق یہ بدلی بنی کعب کی مدد کے لیے کڑک رہی ہے ؟ تو اس خزاعی آدمی نے جواب دیا۔ تحقیق اس بدلی نے فیصلہ کردیا تھا بنو کعب کی مدد کا۔ پھر اس خزاعی نے ہمیں ایک خط نکال کر دکھایا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے خزاعہ کی طرف تھا۔ اور میں نے اس خط کو اسی دن لکھا۔ اس میں لکھا تھا۔ ” اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ خط محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے بدیل، بسر اور سرواتِ بنی عمرو کی طرف ہے۔ پس بیشک میں تمہارے سامنے اس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ بہرحال اس کے بعد، میں نے تمہارا عہد نہیں توڑا اور نہ ہی میں نے تمہاری زمین کو مباح کیا ہے۔ اور اہل تہامہ میں سے میرے ہاں سب سے زیادہ تم لوگ معزز ہو۔ اور سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہو۔ اور (اسی طرح) وہ لوگ جنہوں نے تمہاری اتباع کی ہے (یعنی بنو ہاشم، بنو زہرہ وغیرہ) ۔ اور میں نے تم میں سے ہجرت کرنے والوں کے لیے بھی وہی پیمان باندھا ہے جو میں نے اپنے لیے باندھا ہے۔ اور اگر (تم میں سے) کوئی اپنی زمین سے (اسی طرح) ہجرت کرے کہ وہاں سکونت نہ رکھے مگر حج اور عمرہ کے لئے۔ اگر تم سلامتی قبول کرلو تو میں تمہارے بارے میں کوئی حکم نہیں دوں گا۔ اور تم لوگ میری طرف سے نہ خائف ہو اور نہ محصور۔
٢۔ اما بعد ! پس بلاشبہ علقمہ بن علاثہ اور ابن ہوزہ نے اسلام قبول کرلیا اور انھوں نے اپنے تابع ۔۔۔ عکرمہ۔۔۔ کے ہمراہ ہجرت کی ہے۔ اور ان کے لیے بھی اس نے وہی کچھ پیمان باندھا ہے جو اس نے اپنے لیے باندھا ہے۔ اور ہم میں سے بعض، بعض کے حکم میں ہے حلال اور حرام ہونے کے اعتبار سے۔ اور بخدا میں نے تمہیں نہیں جھٹلایا اور پس تمہارا پروردگار تمہیں حیات دے۔
٣۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجھے زہری سے یہ بات پہنچی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ یہ لوگ خزاعہ کے ہیں۔ اور یہ میرے اہل میں سے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف خط تحریر فرمایا۔ یہ لوگ اس وقت عرفات اور مکہ کے درمیان پڑاؤ کئے ہوئے تھے۔ اور یہ لوگ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیف تھے۔
٢۔ اما بعد ! پس بلاشبہ علقمہ بن علاثہ اور ابن ہوزہ نے اسلام قبول کرلیا اور انھوں نے اپنے تابع ۔۔۔ عکرمہ۔۔۔ کے ہمراہ ہجرت کی ہے۔ اور ان کے لیے بھی اس نے وہی کچھ پیمان باندھا ہے جو اس نے اپنے لیے باندھا ہے۔ اور ہم میں سے بعض، بعض کے حکم میں ہے حلال اور حرام ہونے کے اعتبار سے۔ اور بخدا میں نے تمہیں نہیں جھٹلایا اور پس تمہارا پروردگار تمہیں حیات دے۔
٣۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجھے زہری سے یہ بات پہنچی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ یہ لوگ خزاعہ کے ہیں۔ اور یہ میرے اہل میں سے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف خط تحریر فرمایا۔ یہ لوگ اس وقت عرفات اور مکہ کے درمیان پڑاؤ کئے ہوئے تھے۔ اور یہ لوگ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیف تھے۔
(۳۸۰۵۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ أَبِی إِسْحَاقَ فِیمَا بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ ، فَسَایَرَنَا رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَۃَ ، فَقَالَ لَہُ أَبُو إِسْحَاقَ : کَیْفَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ رَعَدَتْ ہَذِہِ السَّحَابَۃُ بِنَصْرِ بَنِی کَعْبٍ ؟ فَقَالَ الْخُزَاعِیُّ : لَقَدْ فَصَلَتْ بِنَصْرِ بَنِی کَعْبٍ ، ثُمَّ أَخْرَجَ إِلَیْنَا رِسَالَۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی خُزَاعَۃَ ، وَکَتَبْتُہَا یَوْمَئِذٍ ، کَانَ فِیہَا : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی بُدَیْلٍ ، وَبُسْرٍ ، وَسَرَوَاتِ بَنِی عَمْرٍو ، فَإِنِّی أَحْمَدُ إِلَیْکُمَ اللَّہَ ، الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ ، أَمَّا بَعْدَ ذَلِکُمْ : فَإِنِّی لَمْ آثَمْ بَإِلَّکُمْ ، وَلَمْ أَضَعْ فِی جَنْبِکُمْ ، وَإِنَّ أَکْرَمَ أَہْلِ تِہَامَۃَ عَلَیَّ أَنْتُمْ ، وَأَقْرَبَہُ رَحِمًا ، وَمَنْ تَبِعَکُمْ مِنَ الْمُطَیَّبِینَ ، وَإِنِّی قَدْ أَخَذْتُ لِمَنْ ہَاجَرَ مِنْکُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ لِنَفْسِی ، وَلَوْ ہَاجَرَ بِأَرْضِہِ غَیْرَ سَاکِنِ مَکَّۃَ ، إِلاَّ مُعْتَمِرًا ، أَوْ حَاجًّا ، وَإِنِّی لَمْ أَضَعْ فِیکُمْ إِنْ سَلِمْتُمْ ، وَإِنَّکُمْ غَیْرُ خَائِفِینَ مِنْ قِبَلِی ، وَلاَ مُحْصَرِینَ۔
أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّہُ قَدْ أَسْلَمَ عَلْقَمَۃُ بْنُ عُلاَثَۃَ ، وَابْنُ ہَوْذَۃَ ، وَبَایَعَا وَہَاجَرَا عَلَی مَنِ اتَّبَعَہُمَا مِنْ عِکْرِمَۃَ ، وَأَخَذَ لِمَنْ تَبِعَہُ مِثْلَ مَا أَخَذَ لِنَفْسِہِ ، وَإِنَّ بَعْضُنَا مِنْ بَعْضٍ فِی الْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ ، وَإِنِّی وَاللہِ مَا کَذَبْتُکُمْ ، وَلِیُحْیِّکُمْ رَبُّکُمْ۔
قَالَ : وَبَلَغَنِی عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : ہَؤُلاَئِ خُزَاعَۃُ ، وَہُمْ مِنْ أَہْلِی ، قَالَ : فَکَتَبَ إِلَیْہِمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَہُمْ یَوْمَئِذٍ نُزُولٌ بَیْنَ عَرَفَاتٍ وَمَکَّۃَ ، وَلَمْ یُسْلِمُوا حَیْثُ کَتَبَ إِلَیْہِمْ ، وَقَدْ کَانُوا حُلَفَائَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّہُ قَدْ أَسْلَمَ عَلْقَمَۃُ بْنُ عُلاَثَۃَ ، وَابْنُ ہَوْذَۃَ ، وَبَایَعَا وَہَاجَرَا عَلَی مَنِ اتَّبَعَہُمَا مِنْ عِکْرِمَۃَ ، وَأَخَذَ لِمَنْ تَبِعَہُ مِثْلَ مَا أَخَذَ لِنَفْسِہِ ، وَإِنَّ بَعْضُنَا مِنْ بَعْضٍ فِی الْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ ، وَإِنِّی وَاللہِ مَا کَذَبْتُکُمْ ، وَلِیُحْیِّکُمْ رَبُّکُمْ۔
قَالَ : وَبَلَغَنِی عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : ہَؤُلاَئِ خُزَاعَۃُ ، وَہُمْ مِنْ أَہْلِی ، قَالَ : فَکَتَبَ إِلَیْہِمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَہُمْ یَوْمَئِذٍ نُزُولٌ بَیْنَ عَرَفَاتٍ وَمَکَّۃَ ، وَلَمْ یُسْلِمُوا حَیْثُ کَتَبَ إِلَیْہِمْ ، وَقَدْ کَانُوا حُلَفَائَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٥٩) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اپنے دادا کی روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ والے دن ارشاد فرمایا۔ سوائے خزاعہ کے بنو بکر سے (بقیہ لوگ) اسلحہ روک لو۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خزاعہ کو اجازت دی یہاں تک کہ انھوں نے نماز عصر پڑھ لی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا۔ تم (بھی) اسلحہ روک لو۔ اس کے بعد اگلے دن بنو خزاعہ کا ایک آدمی بنو بکر کے ایک آدمی سے ملا تو اس نے بنو بکر کے آدمی کو مزدلفہ میں قتل کردیا۔ یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : اللہ کے ساتھ لوگوں میں سب سے زیادہ دشمنی کرنے والا شخص وہ ہے جو (کسی کو) حرم میں قتل کرے اور (وہ) جو اپنے قاتل کے علاوہ (کسی کو) قتل کر ڈالے اور (وہ) جو جاہلیت کے انتقام میں قتل کرے۔
(۳۸۰۵۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حدَّثَنَا حُسَیْنُ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ : کُفُّوا السِّلاَحَ ، إِلاَّ خُزَاعَۃَ عَنْ بَنِی بَکْرٍ ، فَأَذِنَ لَہُمْ حَتَّی صَلَّوْا الْعَصْرَ ، ثُمَّ قَالَ لَہُمْ : کُفُّوا السِّلاَحَ ، فَلَقِیَ مِنَ الْغَدِ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَۃَ رَجُلاً مِنْ بَنِی بَکْرٍ فَقَتَلَہُ بِالْمُزْدَلِفَۃِ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ خَطِیبًا ، فَقَالَ : إِنَّ أَعْدَی النَّاسِ عَلَی اللہِ مَنْ قَتَلَ فِی الْحَرَمِ ، وَمَنْ قَتَلَ غَیْرَ قَاتِلِہِ ، وَمَنْ قَتَلَ بِذُحُولِ الْجَاہِلِیَّۃِ۔ (احمد ۲۰۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٦٠) حضرت جابر سے روایت ہے کہ ہم جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ میں (بھی) داخل ہوئے اور بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت ایسے موجود تھے جن کی خدا کے سوا عبادت کی جاتی تھی ۔۔۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان بتوں کے بارے میں حکم فرمایا تو تمام بتوں کو اوندھے منہ گرا دیا گیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقیناً باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں دو رکعات نماز ادا فرمائی۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں حضرت ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کی ( طرف منسوب) تصویریں دیکھیں اس حال میں کہ ان کے ہاتھوں میں مشرکین نے تیروں (کی تصویر) بنائی ہوئی تھی جن کے ذریعہ سے قسمت آزمائی کی جاتی تھی۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (یہ منظر دیکھ کر) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ان (مشرکین) کو ہلاک کرے ، ابراہیم تو تیروں سے قسمت آزمائی نہیں کرتے تھے۔ پھر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زعفران منگوایا اور اس کے ذریعہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تصاویر کو مسخ فرما دیا۔
(۳۸۰۶۰) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ ، وَفِی الْبَیْتِ وَحَوْلَ الْبَیْتِ ثَلاَثُ مِئَۃٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا ، تُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللہِ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکُبَّتْ کُلُّہَا لِوُجُوہِہَا ، ثُمَّ قَالَ : {جَائَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ، إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا} ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْبَیْتَ ، فَصَلَّی فِیہِ رَکْعَتَیْنِ ، فَرَأَی فِیہِ تِمْثَالَ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ ، وَقَدْ جَعَلُوا فِی یَدِ إِبْرَاہِیمَ الأَزْلاَمَ یَسْتَقْسِمُ بِہَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَاتَلَہُمَ اللَّہُ ، مَا کَانَ إِبْرَاہِیمُ یَسْتَقْسِمُ بِالأَزْلاَمِ ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِزَعْفَرَانٍ ، فَلَطَّخَہُ بِتِلْکَ التَّمَاثِیلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٦١) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت موجود تھے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس لکڑی سے مارنا شروع فرمایا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں تھی اور فرمایا۔ ” حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا اور یقیناً باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے “۔ ” حق آچکا ہے اور باطل میں نہ کچھ شروع کرنے کا دم ہے اور نہ دوبارہ کرنے کا۔
(۳۸۰۶۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ ، وَحَوْلَ الْکَعْبَۃِ ثَلاَثُ مِئَۃٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا ، فَجَعَلَ یَطْعَنُہَا بِعُودٍ کَانَ فِی یَدِہِ ، وَیَقُولُ : {جَائَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ، إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا} {جَائَ الْحَقُّ ، وَمَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیدُ}۔ (بخاری ۲۴۷۸۔ مسلم ۱۴۰۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٦٢) حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ساتھ لے کر چلے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے لے کر کعبہ میں پہنچے اور پھر فرمایا۔ بیٹھ جاؤ۔ چنانچہ میں کعبہ کی ایک جانب بیٹھ گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے کندھوں پر سوار ہوئے اور پھر مجھے فرمایا۔ مجھے لے کر اوپر اٹھو۔ مں ر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لے کر اوپر اٹھا لیکن (جب) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اٹھا کر کھڑے ہونے میں کمزوری دیکھی تو پھر فرمایا۔ بیٹھ جاؤ۔ چنانچہ میں نیچے بیٹھ گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے اوپر سے اتر گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے لیے بیٹھ گئے اور فرمایا۔ اے علی ! میرے کندھوں پر سوار ہو جاؤ۔ پس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کندھوں پر سوار ہوگیا پھر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے لے کر اوپر کی طرف بلند ہوئے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے لے کر اوپر اٹھے تو مجھے یہ خیال ہوا کہ اگر میں چاہوں تو میں آسمان افق کو بھی ہاتھ میں لاسکتا ہوں پھر میں کعبہ کی چھت پر چڑھ گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک طرف ہٹ گئے اور مجھے ارشاد فرمایا۔ (اوپر موجود) بتوں میں سے سب سے بڑے بت کو جو کہ قریش ہے نیچے پھینک دو ۔ اور وہ بت تانبے کا تھا اور لوہے کی کیلوں کے ساتھ چھت پر گاڑھا ہوا تھا۔ تو مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا : اس کو ہلاؤ۔ چنانچہ میں نے اس کو ہلانا شروع کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے فرماتے جا رہے تھے۔ اور ہلاؤ، اور ہلاؤ۔ پس میں اس کو ہلاتا رہا یہاں تک کہ وہ بت میرے قابو میں آگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ اس کو نیچے پھینک دو ۔ چنانچہ میں نے اس بت کو نیچے پھینک دیا اور پھر میں (خود بھی) نیچے اتر آیا۔
(۳۸۰۶۲) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَکِیمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو مَرْیَمَ ، عْن عَلِیٍّ ، قَالَ : انْطَلَقَ بِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی بِی الْکَعْبَۃَ ، فَقَالَ : اجْلِسْ ، فَجَلَسْتُ إِلَی جَنْبِ الْکَعْبَۃِ ، وَصَعِدَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی مَنْکِبَیْ ، ثُمَّ قَالَ لِی : انْہَضْ بِی ، فَنَہَضْتُ بِہِ ، فَلَمَّا رَأَی ضَعْفِی تَحْتَہُ ، قَالَ : اجْلِسْ ، فَجَلَسْتُ فَنَزَلَ عَنِّی ، وَجَلَسَ لِی ، فَقَالَ : یَا عَلِیُّ ، اصْعَدْ عَلَی مَنْکِبَی ، فَصَعِدْتُ عَلَی مَنْکِبِہِ ، ثُمَّ نَہَضَ بِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا نَہَضَ بِی خُیِّلَ إِلَیَّ أَنِّی لَوْ شِئْتُ نِلْتُ أُفُقَ السَّمَائِ ، فَصَعِدْتُ عَلَی الْکَعْبَۃِ ، وَتَنَحَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِی : أَلْقِ صَنَمَہُمْ الأَکْبَرِ ، صَنَمِ قُرَیْشٍ ، وَکَانَ مِنْ نُحَاسٍ ، وَکَانَ مَوْتُودًا بِأَوْتَادٍ مِنْ حَدِیدٍ فِی الأَرْضِ ، فَقَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : عَالِجْہُ ، فَجَعَلْتُ أُعَالِجُہُ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لِی : إِیہٍ ، فَلَمْ أَزَلْ أُعَالِجُہُ حَتَّی اسْتَمْکَنْتُ مِنْہُ ، فَقَالَ : اقْذِفْہُ ، فَقَذَفْتُہُ وَنَزَلْتُ۔ (حاکم ۳۶۶۔ احمد ۸۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٦٣) حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے دن تشریف لائے۔ بیت اللہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی تصاویر تھیں۔ اور ان کے ہاتھوں میں تیر تھے۔ تو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ابراہیم اور تیروں کا (آپس میں) کیا جوڑ ہے ؟ بخدا ! حضرت ابراہیم نے کبھی تیروں کے ذریعہ قسمت آزمائی نہیں کی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کپڑا لانے کا حکم دیا اور اس کو تر کر کے ان حضرات کی تصاویر کو مٹا دیا گیا۔
(۳۸۰۶۳) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنْ عِکْرِمَۃَ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدِمَ یَوْمَ الْفَتْحِ، وَصُورَۃُ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ فِی الْبَیْتِ، وَفِی أَیْدِیہِمَا الْقِدِاحُ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا لإِبْرَاہِیمَ وَلِلْقِدِاحِ ؟ وَاللہِ مَا اسْتَقْسَمَ بِہَا قَطُّ ، ثُمَّ أَمَرَ بِثَوْبٍ فَبُلَّ وَمَحَی بِہِ صُوَرَہُمَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٦٤) حضرت مجاہد بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے دن تشریف لائے تو رکن اور مقام کے درمیان بت پڑے ہوئے تھے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان بتوں کو اوندھے منہ گرا دیا۔ اور پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو ارشاد فرمایا۔ ” خبردار ! مکہ قیامت کے دن تک ہمیشہ کے لیے حرم (محترم) ہے۔ مجھ سے پہلے بھی یہ خطہ کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا۔ اور نہ ہی میرے بعد یہ خطہ کسی کے لیے حلال ہوگا۔ ہاں اتنی بات ہے کہ میرے لیے اس مقام کو دن کے کچھ حصہ کے لیے حلال کردیا گیا ہے۔ اس علاقہ (مکہ) کی گھاس کو نہیں کاٹا جائے گا اور اس کے شکار کو بدکایا نہیں جائے گا اور نہ ہی اس کے درختوں کو کاٹا جائے گا۔ اور نہ ہی اس میں گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے گا اِلَّا یہ کہ اس لقطہ کی تعریف کرنے کا ارادہ ہو۔ ” (یہ بات سن کر) حضرت عباس کھڑے ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اذخر (گھاس کی قسم) کو مستثنیٰ کر دیجئے ہمارے لوہاروں، گھروں اور قبروں میں استعمال کے لیے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب میں ارشاد فرمایا۔ ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔ ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔
(۳۸۰۶۴) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدِمَ یَوْمَ الْفَتْحِ وَالأَنْصَابُ بَیْنَ الرُّکْنِ وَالْمَقَامِ ، فَجَعَلَ یُکَفؤہَا لِوُجُوہِہَا ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطِیبًا ، فَقَالَ : أَلاَ إِنَّ مَکَّۃَ حَرَامٌ أَبَدًا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِی ، وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِی ، غَیْرَ أَنَّہَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ ، لاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا ، وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا ، وَلاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا ، وَلاَ تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلاَّ أَنْ تُعَرَّفَ ، فَقَامَ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، إِلاَّ الإِذْخِرَ ، لِصَاعَتِنَا وَبُیُوتِنَا وَقُبُورِنَا ، فَقَالَ : إِلاَّ الإِذْخِرَ ، إِلاَّ الإِذْخِرَ۔ (بخاری ۴۳۱۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٦٥) حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ بیت اللہ میں داخل ہوا ۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں تصویریں دیکھیں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم فرمایا اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ڈول پانی لے کر حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تصویروں پر پانی مارنا شروع فرمایا۔ اور ارشاد فرمایا۔ اللہ پاک اس قوم کو ہلاک فرمائے جو ان چیزوں کی تصویر بناتی ہے جس کو وہ پیدا نہیں کرتی۔
(۳۸۰۶۵) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِہْرَانَ ، عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : دَخَلْت مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْکَعْبَۃَ ، فَرَأَی فِی الْبَیْتِ صُورَۃً ، فَأَمَرَنِی فَأَتَیْتُہُ بِدَلْوٍ مِنْ مَائٍ ، فَجَعَلَ یَضْرِبُ تِلْکَ الصُّورَۃَ وَیَقُولُ : قَاتَلَ اللَّہُ قَوْمًا یُصَوِّرُونَ مَا لاَ یَخْلُقُونَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٦٦) حضرت حارث بن مالک بن برصاء سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ والے دن ارشاد فرمایا۔ آج کے بعد قیامت کے دن تک (مکہ میں) لڑائی نہیں لڑی جائے گی۔
(۳۸۰۶۶) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، وَوَکِیعٌ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِکِ بْنِ بَرْصَائَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ : لاَ تُغْزَی بَعْدَ الْیَوْمِ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ (احمد ۴۱۲۔ طبرانی ۳۳۳۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٦٧) حضرت عبداللہ بن مطیع، اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ آج کے دن کے بعد ہمیشہ کے لیے (یہ حکم ہے کہ) کوئی قریشی قید کر کے قتل نہیں کیا جائے گا۔
(۳۸۰۶۷) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، وَوَکِیعٌ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُطِیعٍ ، عنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یُقْتَلُ قُرَشِیٌّ صَبْرًا بَعْدَ ہَذَا الْیَوْمِ أَبَدًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کی احادیث
(٣٨٠٦٨) حضرت مصعب بن سعد، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام لوگوں کو امن دے دیا سوائے چار مرد اور دو عورتوں کے ، اور ارشاد فرمایا : تم لوگ ان کو اگرچہ کعبہ کے پردوں میں بھی لپٹا ہوا پاؤ ان کو تب بھی قتل کر ڈالو۔ (وہ یہ لوگ تھے) عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن ابی سرح، پھر عبداللہ بن خطل کو تو اس حالت میں پایا گیا کہ وہ (واقعۃً ) کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا تھا۔ تو اس کی طرف حضرت سعید بن حریث اور عمار (دونوں) لپکے لیکن حضرت سعید، حضرت عمار سے آگے بڑھ گئے اور یہ سعید، عمار سے زیادہ جوان تھے۔ اور انھوں نے ابن خطل کو قتل کردیا۔ اور مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پا لیا اور اس کو (وہیں) قتل کردیا اور رہا عکرمہ، تو سمندر میں (کشتی پر) سوار ہوا تو ان (کشتی والوں) کو تیز آندھی نے آلیا۔ چنانچہ کشتی والوں نے سواروں سے کہنا شروع کیا۔ (خدا کو) خالص طریقہ سے پکارو، کیونکہ تمہارے معبودان (باطلہ) یہاں پر تمہیں کسی شئی کا فائدہ نہیں دیں گے۔ عکرمہ نے (دل میں) کہا۔ بخدا ! اگر مجھے اس سمندر میں خالص طریقہ پر (خدا کو) پکارنا ہی نجات دے سکتا ہے تو پھر خشکی پر بھی یہی نجات دے سکتا ہے۔ اے اللہ ! میرا تیرے ساتھ عہد ہے کہ اگر آپ مجھے اس موجودہ مصیبت سے عافیت عطا کریں گے تو میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھ دوں گا میں ضرور بالضرور ان کو معاف کرنے والا اور کرم کرنے والا پاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرلیا۔
اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کا معاملہ یہ ہوا کہ وہ حضرت عثمان کے ہاں (جا کر) چھپ گیا پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو حضرت عثمان ، ان کو لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھیں آنجناب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھڑا کردیا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا اور ان کی طرف تین مرتبہ دیکھا۔ ہر مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار فرمایا۔ پھر تین مرتبہ کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بیعت فرما لیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا ۔ کیا تم میں سے کوئی سمجھ دار آدمی موجود نہیں تھا جو اس کو (مارنے) کھڑا ہوجاتا جبکہ اس نے مجھے دیکھا تھا کہ میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت لینے سے روکا ہو اتھا۔ اور اس کو قتل کردیتا ۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں کیا علم تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اپنی آنکھ کے ساتھ اشارہ کیوں نہیں کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ کسی نبی کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔
اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کا معاملہ یہ ہوا کہ وہ حضرت عثمان کے ہاں (جا کر) چھپ گیا پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو حضرت عثمان ، ان کو لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھیں آنجناب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھڑا کردیا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر مبارک اوپر اٹھایا اور ان کی طرف تین مرتبہ دیکھا۔ ہر مرتبہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار فرمایا۔ پھر تین مرتبہ کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بیعت فرما لیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا ۔ کیا تم میں سے کوئی سمجھ دار آدمی موجود نہیں تھا جو اس کو (مارنے) کھڑا ہوجاتا جبکہ اس نے مجھے دیکھا تھا کہ میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت لینے سے روکا ہو اتھا۔ اور اس کو قتل کردیتا ۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمیں کیا علم تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اپنی آنکھ کے ساتھ اشارہ کیوں نہیں کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ کسی نبی کے لیے یہ بات مناسب نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔
(۳۸۰۶۸) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُفَضَّلٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : زَعَمَ السُّدِّیُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ ، أَمَّنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلاَّ أَرْبَعَۃَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَیْنِ ، وَقَالَ : اقْتُلُوہُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوہُمْ مُتَعَلِّقِینَ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ : عِکْرِمَۃَ بْنَ أَبِی جَہْلٍ ، وَعَبْدَ اللہِ بْنَ خَطَلٍ ، وَمِقْیَسَ بْنَ صُبَابَۃَ ، وَعَبْدَ اللہِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ۔
فَأَمَّا عَبْدُ اللہِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِکَ وَہُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ ، فَاسْتَبَقَ إِلَیْہِ سَعِیدُ بْنُ حُرَیْثٍ وَعَمَّارٌ ، فَسَبَقَ سَعِیدٌ عَمَّارًا ، وَکَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَیْنِ فَقَتَلَہُ ، وَأَمَّا مِقْیَسُ بْنُ صُبَابَۃَ فَأَدْرَکَہُ النَّاسُ فِی السُّوقِ فَقَتَلُوہُ۔
وَأَمَّا عِکْرِمَۃُ فَرَکِبَ الْبَحْرَ فَأَصَابَتْہُمْ عَاصِفٌ ، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِینَۃِ لأَہْلِ السَّفِینَۃِ : أَخْلِصُوا ، فَإِنَّ آلِہَتَکُمْ لاَ تُغْنِی عَنْکُمْ شَیْئًا ہَاہُنَا ، فَقَالَ عِکْرِمَۃُ : وَاللہِ لَئِنْ لَمْ یُنْجِینِی فِی الْبَحْرِ إِلاَّ الإِخْلاَصُ مَا یُنْجِینِی فِی الْبَرِّ غَیْرُہُ ، اللَّہُمَّ إِنَّ لَک عَہْدًا إِنْ أَنْتَ عَافَیْتنِی مِمَّا أَنَا فِیہِ ، أَنْ آتِی مُحَمَّدًا حَتَّی أَضَعَ یَدَیْ فِی یَدِہِ ، فَلأَجِدَنَّہُ عَفُوًّا کَرِیمًا ، قَالَ : فَجَائَ فَأَسْلَمَ۔
وَأَمَّا عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ فَإِنَّہُ اخْتَبَأَ عَنْدَ عُثْمَانَ ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ لِلْبَیْعَۃِ ، جَائَ بِہِ حَتَّی أَوْقَفَہُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، بَایِعْ عَبْدَ اللہِ ، قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَنَظَرَ إِلَیْہِ ثَلاَثًا ، کُلُّ ذَلِکَ یَأْبَی فَبَایَعَہُ بَعْدَ الثَّلاَثِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی أَصْحَابِہِ ، فَقَالَ : أَمَا کَانَ فِیکُمْ رَجُلٌ رَشِیدٌ یَقُومُ إِلَی ہَذَا حَیْثُ رَآنِی کَفَفْت یَدِی عَنْ بَیْعَتِہِ فَیَقْتُلُہُ ؟ قَالَوا : وَمَا یُدْرِینَا یَا رَسُولَ اللہِ مَا فِی نَفْسِکَ ، أَلاَ أَوْمَأْت إِلَیْنَا بِعَیْنِکَ ؟ قَالَ : إِنَّہُ لاَ یَنْبَغِی لِنَبِیٍّ أَنْ تَکُونَ لَہُ خَائِنَۃُ أَعْیُنٍ۔ (حاکم ۵۴۔ ابویعلی ۷۵۳)
فَأَمَّا عَبْدُ اللہِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِکَ وَہُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ ، فَاسْتَبَقَ إِلَیْہِ سَعِیدُ بْنُ حُرَیْثٍ وَعَمَّارٌ ، فَسَبَقَ سَعِیدٌ عَمَّارًا ، وَکَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَیْنِ فَقَتَلَہُ ، وَأَمَّا مِقْیَسُ بْنُ صُبَابَۃَ فَأَدْرَکَہُ النَّاسُ فِی السُّوقِ فَقَتَلُوہُ۔
وَأَمَّا عِکْرِمَۃُ فَرَکِبَ الْبَحْرَ فَأَصَابَتْہُمْ عَاصِفٌ ، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِینَۃِ لأَہْلِ السَّفِینَۃِ : أَخْلِصُوا ، فَإِنَّ آلِہَتَکُمْ لاَ تُغْنِی عَنْکُمْ شَیْئًا ہَاہُنَا ، فَقَالَ عِکْرِمَۃُ : وَاللہِ لَئِنْ لَمْ یُنْجِینِی فِی الْبَحْرِ إِلاَّ الإِخْلاَصُ مَا یُنْجِینِی فِی الْبَرِّ غَیْرُہُ ، اللَّہُمَّ إِنَّ لَک عَہْدًا إِنْ أَنْتَ عَافَیْتنِی مِمَّا أَنَا فِیہِ ، أَنْ آتِی مُحَمَّدًا حَتَّی أَضَعَ یَدَیْ فِی یَدِہِ ، فَلأَجِدَنَّہُ عَفُوًّا کَرِیمًا ، قَالَ : فَجَائَ فَأَسْلَمَ۔
وَأَمَّا عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ فَإِنَّہُ اخْتَبَأَ عَنْدَ عُثْمَانَ ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ لِلْبَیْعَۃِ ، جَائَ بِہِ حَتَّی أَوْقَفَہُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، بَایِعْ عَبْدَ اللہِ ، قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَنَظَرَ إِلَیْہِ ثَلاَثًا ، کُلُّ ذَلِکَ یَأْبَی فَبَایَعَہُ بَعْدَ الثَّلاَثِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی أَصْحَابِہِ ، فَقَالَ : أَمَا کَانَ فِیکُمْ رَجُلٌ رَشِیدٌ یَقُومُ إِلَی ہَذَا حَیْثُ رَآنِی کَفَفْت یَدِی عَنْ بَیْعَتِہِ فَیَقْتُلُہُ ؟ قَالَوا : وَمَا یُدْرِینَا یَا رَسُولَ اللہِ مَا فِی نَفْسِکَ ، أَلاَ أَوْمَأْت إِلَیْنَا بِعَیْنِکَ ؟ قَالَ : إِنَّہُ لاَ یَنْبَغِی لِنَبِیٍّ أَنْ تَکُونَ لَہُ خَائِنَۃُ أَعْیُنٍ۔ (حاکم ۵۴۔ ابویعلی ۷۵۳)
তাহকীক: