মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮০২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٢٩) حضرت ایاس بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی کہ میرے چچا نے خیبر کے دن مرحب یہودی سے مبارزت کی تو مرحب نے کہا۔ ع
ترجمہ : ” خیبر (کا خطہ) جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔ اسلحہ سے لیس ایک مجرب بہادر ہوں۔ جب جنگیں آتیں ہیں تو وہ شعلہ وار ہوجاتا ہے۔ “
اس پر میرے چچا نے یہ شعر کہا۔ ع
ترجمہ : ” تحقیق خیبر (کا خطہ) مجھے جانتا ہے کہ میں عام ہوں۔ اسلحہ سے لیس اور جان پر کھیلنے والا سپوت ہوں۔ “
پس دونوں (کی) ضربیں ایک دوسرے پر شروع ہوگئیں۔ اور مرحب کی تلوار حضرت عامر کی ڈھال میں آپڑی۔ (جس کی وجہ سے) حضرت عامر کی تلوار ان کی پنڈلی پر آ لگی اور اس نے ان کی رگ کو کاٹ دیا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ سے ملا تو انھوں نے کہا : عامر کے اعمال ضائع ہوگئے۔ انھوں نے خود کو قتل کیا ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں روتا ہوا حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا عامر کے اعمال ضائع ہوگئے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس نے یہ بات کہی ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس نے یہ بات کہی ہے جھوٹ کہی ہے۔ بلکہ اس کے لیے تو دوہرا اجر ہے۔
جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت عامر ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو رجز کہہ رہے تھے۔ اور انھیں صحابہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی موجود تھے۔ حضرت عامر رکاب کو ہانک رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ ع ۔
بخدا ! اگر خدا نے ہمیں ہدایت نہ دی ہوتی ۔ تو ہم صدقہ بھی نہ کرتے اور نمازیں بھی نہ پڑھتے۔
بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہم پر سرکشی کی۔ جب وہ کسی فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کردیتے ہیں۔
ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہوسکتے پس اگر ہماری (دشمن سے) ملاقات ہوجائے تو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور ہم پر سکینہ نازل فرما۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ۔ یہ کون ہے ؟ کسی نے عرض کیا۔ عامر ہے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہارا پروردگار تمہاری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس آدمی کے لیے بھی خصوصیت کے ساتھ استغفار کیا وہ آدمی شہید ہی ہوا۔ پس جب یہ بات حضرت عمر بن خطاب نے سُنی تو انھوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے ہمیں حضرت عامر سے مزید کیوں مستفید نہ ہونے دیا۔ پھر حضرت عامر (میدان جنگ میں مبارزت کے جواب میں) کھڑے ہوئے اور شہید ہوگئے۔
٦۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حضرت علی کی طرف بھیجا اور فرمایا : آج کے دن میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔۔۔ یا فرمایا ۔۔۔ جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ سلمہ کہتے ہیں : پس میں حضرت علی کو اس حال میں چلا کر لایا کہ ان کو آشوب چشم تھا ۔ راوی کہتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھ میں اپنا لعاب مبارک ڈالا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں جھنڈا عطا فرمایا۔ مرحب اپنی تلوار کو اوپر نیچے ہلاتا ہوا باہر نکلا اور کہہ رہا تھا۔
تحقیق خربا (کے لوگ) مجھے جانتے ہیں کہ میں مرجر ہوں، اسلحہ سے لیس تجربہ کار سپوت ہوں۔ جب جنگیں آگے بڑھتی ہیں تو میں شعلہ وار ہوجاتا ہوں۔
حضرت علی نے جواباً ارشاد فرمایا : ع
” میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح نہایت مہیب ہوں اور میں دشمنوں کے پیمانہ کے ساتھ پورا ناپ کردیتا ہوں۔ “
پھر حضرت علی نے مرحب کے سر کو (دو حصوں میں) تلوار سے پھاڑ دیا۔ اور یہ فتح حضرت علی کے ہاتھ سے حاصل ہوئی۔
ترجمہ : ” خیبر (کا خطہ) جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔ اسلحہ سے لیس ایک مجرب بہادر ہوں۔ جب جنگیں آتیں ہیں تو وہ شعلہ وار ہوجاتا ہے۔ “
اس پر میرے چچا نے یہ شعر کہا۔ ع
ترجمہ : ” تحقیق خیبر (کا خطہ) مجھے جانتا ہے کہ میں عام ہوں۔ اسلحہ سے لیس اور جان پر کھیلنے والا سپوت ہوں۔ “
پس دونوں (کی) ضربیں ایک دوسرے پر شروع ہوگئیں۔ اور مرحب کی تلوار حضرت عامر کی ڈھال میں آپڑی۔ (جس کی وجہ سے) حضرت عامر کی تلوار ان کی پنڈلی پر آ لگی اور اس نے ان کی رگ کو کاٹ دیا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ سے ملا تو انھوں نے کہا : عامر کے اعمال ضائع ہوگئے۔ انھوں نے خود کو قتل کیا ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں روتا ہوا حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا عامر کے اعمال ضائع ہوگئے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس نے یہ بات کہی ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں نے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس نے یہ بات کہی ہے جھوٹ کہی ہے۔ بلکہ اس کے لیے تو دوہرا اجر ہے۔
جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت عامر ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو رجز کہہ رہے تھے۔ اور انھیں صحابہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی موجود تھے۔ حضرت عامر رکاب کو ہانک رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ ع ۔
بخدا ! اگر خدا نے ہمیں ہدایت نہ دی ہوتی ۔ تو ہم صدقہ بھی نہ کرتے اور نمازیں بھی نہ پڑھتے۔
بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہم پر سرکشی کی۔ جب وہ کسی فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کردیتے ہیں۔
ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہوسکتے پس اگر ہماری (دشمن سے) ملاقات ہوجائے تو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور ہم پر سکینہ نازل فرما۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ۔ یہ کون ہے ؟ کسی نے عرض کیا۔ عامر ہے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہارا پروردگار تمہاری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس آدمی کے لیے بھی خصوصیت کے ساتھ استغفار کیا وہ آدمی شہید ہی ہوا۔ پس جب یہ بات حضرت عمر بن خطاب نے سُنی تو انھوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے ہمیں حضرت عامر سے مزید کیوں مستفید نہ ہونے دیا۔ پھر حضرت عامر (میدان جنگ میں مبارزت کے جواب میں) کھڑے ہوئے اور شہید ہوگئے۔
٦۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حضرت علی کی طرف بھیجا اور فرمایا : آج کے دن میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔۔۔ یا فرمایا ۔۔۔ جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ سلمہ کہتے ہیں : پس میں حضرت علی کو اس حال میں چلا کر لایا کہ ان کو آشوب چشم تھا ۔ راوی کہتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھ میں اپنا لعاب مبارک ڈالا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں جھنڈا عطا فرمایا۔ مرحب اپنی تلوار کو اوپر نیچے ہلاتا ہوا باہر نکلا اور کہہ رہا تھا۔
تحقیق خربا (کے لوگ) مجھے جانتے ہیں کہ میں مرجر ہوں، اسلحہ سے لیس تجربہ کار سپوت ہوں۔ جب جنگیں آگے بڑھتی ہیں تو میں شعلہ وار ہوجاتا ہوں۔
حضرت علی نے جواباً ارشاد فرمایا : ع
” میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح نہایت مہیب ہوں اور میں دشمنوں کے پیمانہ کے ساتھ پورا ناپ کردیتا ہوں۔ “
پھر حضرت علی نے مرحب کے سر کو (دو حصوں میں) تلوار سے پھاڑ دیا۔ اور یہ فتح حضرت علی کے ہاتھ سے حاصل ہوئی۔
(۳۸۰۲۹) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبِی ، قَالَ : بَارَزَ عَمِّی یَوْمَ خَیْبَرَ مَرْحَبًا الْیَہُودِیَّ ، فَقَالَ مَرْحَبٌ :
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی مَرْحَبُ شَاکِی السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ
إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَہَّبُ
فَقَالَ عَمِّی عَامِرٌ :
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی عَامِرٌ شَاکِی السِّلاَحِ بَطَلٌ مُغَامِرٌ
فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَیْنِ ، فَوَقَعَ سَیْفُ مَرْحَبٍ فِی تُرْسِ عَامِرٍ ، فَرَجَعَ السَّیْفُ عَلَی سَاقِہِ فَقَطَعَ أَکْحَلَہُ ، فَکَانَتْ فِیہَا نَفْسُہُ ، قَالَ سَلَمَۃُ : فَلَقِیتُ مِنْ صَحَابَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ ، قَتَلَ نَفْسَہُ ، قَالَ سَلَمَۃُ : فَجِئْتُ إِلَی نَبِیِّ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبْکِی ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ ؟ قَالَ : مَنْ قَالَ ذَلِکَ ؟ قُلْتُ : أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِکَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِکَ ، بَلْ لَہُ أَجْرُہُ مَرَّتَیْنِ :
حِینَ خَرَجَ إِلَی خَیْبَرَ جَعَلَ یَرْجُزُ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِیہِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَسُوقُ الرِّکَابَ ، وَہُوَ یَقُولُ :
تَاللہِ لَوْلاَ اللہِ مَا اہْتَدَیْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّیْنَا
إِنَّ الَّذِینَ قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا
وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِکَ مَا اسْتَغْنَیْنَا فَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَیْنَا
وَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا
فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ ہَذَا ؟ قَالَ : عَامِرٌ ، یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : غَفَرَ لَک رَبُّک ، قَالَ : وَمَا أَسْتَغْفَرَ لإِنْسَانٍ قَطُّ یَخُصُّہُ إِلاَّ اُسْتُشْہِدَ ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَوْلاَ مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ ، فَقَامَ فَاسْتُشْہِدَ۔
قَالَ سَلَمَۃُ : ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَنِی إِلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ الْیَوْمَ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ، أَوْ یُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، قَالَ : فَجِئْتُ بِہِ أَقُودُہُ أَرْمَدَ ، قَالَ : فَبَصَقَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی عَیْنَیْہِ ، ثُمَّ أَعْطَاہُ الرَّایَۃَ ، فَخَرَجَ مَرْحَبٌ یَخْطُرُ بِسَیْفِہِ ، فَقَالَ :
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی مَرْحَبُ شَاکِی السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ
إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَہَّبُ
فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ :
أَنَا الَّذِی سَمَّتْنِی أُمِّی حَیْدَرَہْ کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیہِ الْمَنْظَرَہْ
أُوفِیہِمْ بِالصَّاعِ کَیْلَ السَّنْدَرَہْ
فَفَلَقَ رَأْسَ مَرْحَبٍ بِالسَّیْفِ ، وَکَانَ الْفَتْحُ عَلَی یَدَیْہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی مَرْحَبُ شَاکِی السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ
إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَہَّبُ
فَقَالَ عَمِّی عَامِرٌ :
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی عَامِرٌ شَاکِی السِّلاَحِ بَطَلٌ مُغَامِرٌ
فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَیْنِ ، فَوَقَعَ سَیْفُ مَرْحَبٍ فِی تُرْسِ عَامِرٍ ، فَرَجَعَ السَّیْفُ عَلَی سَاقِہِ فَقَطَعَ أَکْحَلَہُ ، فَکَانَتْ فِیہَا نَفْسُہُ ، قَالَ سَلَمَۃُ : فَلَقِیتُ مِنْ صَحَابَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ ، قَتَلَ نَفْسَہُ ، قَالَ سَلَمَۃُ : فَجِئْتُ إِلَی نَبِیِّ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبْکِی ، قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ ؟ قَالَ : مَنْ قَالَ ذَلِکَ ؟ قُلْتُ : أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِکَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِکَ ، بَلْ لَہُ أَجْرُہُ مَرَّتَیْنِ :
حِینَ خَرَجَ إِلَی خَیْبَرَ جَعَلَ یَرْجُزُ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِیہِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَسُوقُ الرِّکَابَ ، وَہُوَ یَقُولُ :
تَاللہِ لَوْلاَ اللہِ مَا اہْتَدَیْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّیْنَا
إِنَّ الَّذِینَ قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا
وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِکَ مَا اسْتَغْنَیْنَا فَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَیْنَا
وَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا
فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ ہَذَا ؟ قَالَ : عَامِرٌ ، یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : غَفَرَ لَک رَبُّک ، قَالَ : وَمَا أَسْتَغْفَرَ لإِنْسَانٍ قَطُّ یَخُصُّہُ إِلاَّ اُسْتُشْہِدَ ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَوْلاَ مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ ، فَقَامَ فَاسْتُشْہِدَ۔
قَالَ سَلَمَۃُ : ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَنِی إِلَی عَلِیٍّ ، فَقَالَ : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ الْیَوْمَ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ، أَوْ یُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، قَالَ : فَجِئْتُ بِہِ أَقُودُہُ أَرْمَدَ ، قَالَ : فَبَصَقَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی عَیْنَیْہِ ، ثُمَّ أَعْطَاہُ الرَّایَۃَ ، فَخَرَجَ مَرْحَبٌ یَخْطُرُ بِسَیْفِہِ ، فَقَالَ :
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی مَرْحَبُ شَاکِی السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ
إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَہَّبُ
فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ :
أَنَا الَّذِی سَمَّتْنِی أُمِّی حَیْدَرَہْ کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیہِ الْمَنْظَرَہْ
أُوفِیہِمْ بِالصَّاعِ کَیْلَ السَّنْدَرَہْ
فَفَلَقَ رَأْسَ مَرْحَبٍ بِالسَّیْفِ ، وَکَانَ الْفَتْحُ عَلَی یَدَیْہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٣٠) حضرت جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر میں سے ذوی القربیٰ کے حصے کو بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب پر تقسیم فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : پس میں اور حضرت عثمان بن عفان ، نکلے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! یہ آپ بنی ہاشم کے جو بھائی ہیں۔ ان کی اس فضیلت کا انکار نہیں کیا جاسکتا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان میں بھیج کر عطا فرمائی ہے۔ لیکن آپ ہمارے بنی عبد المطلب کے بھائیوں کو کیسا دیکھتے ہیں۔ آپ نے انھیں ہم سے تھوڑا عطا فرمایا ہے۔ حالانکہ ہم اور وہ ، نسب کے اعتبار سے ایک ہی مرتبہ کے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ انھوں نے ہمارا حالت اسلام اور جاہلیت میں کبھی ساتھ نہیں چھوڑا۔
(۳۸۰۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : قسَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَہْمَ ذَوِی الْقُرْبَی مِنْ خَیْبَرَ عَلَی بَنِی ہَاشِمٍ وَبَنِی الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : فَمَشَیْت أَنَا وَعُثْمَان بْنُ عَفَّانَ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَیْہِ ، فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَؤُلاَئِ إِخْوَتُک مِنْ بَنِی ہَاشِمٍ ، لاَ یُنْکَرُ فَضْلُہُمْ لِمَکَانِکَ الَّذِی وَضَعَک اللَّہُ بِہِ مِنْہُمْ ، أَرَأَیْتَ إِخْوَتَنَا مِنْ بَنِی الْمُطَّلِبِ أَعْطَیْتَہُمْ دُونَنَا ، وَإِنَّمَا نَحْنُ وَہُمْ بِمَنْزِلَۃٍ وَاحِدَۃٍ فِی النَّسَبِ ، فَقَالَ : إِنَّہُمْ لَمْ یُفَارِقُونَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَالإِسْلاَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٣١) حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کسی بستی پر) حملہ نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوجائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سماعت کرلیں۔ پس اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذان کی آواز سنائی دیتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رک جاتے اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذان کی آواز نہ سنتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (بستی پر) حملہ آور ہوجاتے۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (جب) خیبر کے علاقہ میں تشریف لائے تو (اس وقت) وہ لوگ اپنے قلعوں سے باہر نکل چکے تھے اور اپنی زمینوں میں پھیل گئے تھے ۔ اور ان کے ہمراہ زنبیل، کلہاڑیاں اور پھاؤڑے وغیرہ تھے۔ پس جب انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو بولے۔ محمد اور لشکر ! ! !
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اللہ اکبر۔ خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں پڑاؤ ڈال دیتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے (آگاہ کردہ) لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح عطا فرمائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غنائم کو تقسیم فرمایا۔ صفیہ، حضرت دحیہ کلبی کے حصے میں آئیں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا۔ کہ حضرت دحیہ کلبی کے حصہ میں ایک خوبصورت لونڈی آئی ہے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سات غلاموں کے عوض خرید لیا اور انھیں حضرت ام سلیم کی طرف بھیج دیا تاکہ وہ انھیں درست کریں ۔ راوی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا۔ یہ ان کے پاس عدت گزاریں۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (وہاں سے) روانگی کا قصد فرمایا۔ تو لوگ کہنے لگے۔ نامعلوم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ کو بطور قیدی کے پکڑا یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے شادی کی ہے ؟ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ کو باپردہ کر کے انھیں اپنے پیچھے سوار کیا۔ پھر لوگ چل پڑے یہاں تک کہ جب مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے جانوروں کو تیز دوڑایا ۔۔۔ لوگوں کی عادت یہی تھی کہ جب وہ (سفر سے) واپسی کرتے اور مدینہ کے قریب پہنچتے تو یونہی کرتے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کو ٹھوکر لگی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گرپڑے اور صفیہ بھی گرگئیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں منتظر ہو کر دیکھ رہی تھیں۔ تو انھوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ یہودیہ (صفیہ) کو دور کرے اور برباد کرے۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ کو باپردہ کیا اور ان کو (اونٹنی پر) سوار کیا۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اللہ اکبر۔ خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں پڑاؤ ڈال دیتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے (آگاہ کردہ) لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح عطا فرمائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غنائم کو تقسیم فرمایا۔ صفیہ، حضرت دحیہ کلبی کے حصے میں آئیں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا۔ کہ حضرت دحیہ کلبی کے حصہ میں ایک خوبصورت لونڈی آئی ہے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سات غلاموں کے عوض خرید لیا اور انھیں حضرت ام سلیم کی طرف بھیج دیا تاکہ وہ انھیں درست کریں ۔ راوی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا۔ یہ ان کے پاس عدت گزاریں۔ پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (وہاں سے) روانگی کا قصد فرمایا۔ تو لوگ کہنے لگے۔ نامعلوم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ کو بطور قیدی کے پکڑا یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے شادی کی ہے ؟ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ کو باپردہ کر کے انھیں اپنے پیچھے سوار کیا۔ پھر لوگ چل پڑے یہاں تک کہ جب مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے جانوروں کو تیز دوڑایا ۔۔۔ لوگوں کی عادت یہی تھی کہ جب وہ (سفر سے) واپسی کرتے اور مدینہ کے قریب پہنچتے تو یونہی کرتے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کو ٹھوکر لگی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گرپڑے اور صفیہ بھی گرگئیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں منتظر ہو کر دیکھ رہی تھیں۔ تو انھوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ یہودیہ (صفیہ) کو دور کرے اور برباد کرے۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ کو باپردہ کیا اور ان کو (اونٹنی پر) سوار کیا۔
(۳۸۰۳۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ لاَ یُغِیرُ حَتَّی یُصْبِحَ فَیَسْتَمِعَ ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَکَ ، وَإِنْ لَمْ یَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ ، قَالَ فَأَتَی خَیْبَرَ وَقَدْ خَرَجُوا مِنْ حُصُونِہِمْ ، فَتَفَرَّقُوا فِی أَرْضِیہِمْ ، مَعَہُمْ مَکَاتِلُہُمْ وَفُؤُوسُہُمْ وَمُرُورُہُمْ ، فَلَمَّا رَأَوْہُ، قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، خَرِبَتْ خَیْبَرُ : إِنَّا إذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ ، فَقَاتَلَہُمْ حَتَّی فَتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ ، فَقَسَمَ الْغَنَائِمَ ، فَوَقَعَتْ صَفِیَّۃُ فِی سَہْمِ دِحْیَۃَ الْکَلْبِی۔
فَقِیلَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہُ قَدْ وَقَعَتْ جَارِیَۃٌ جَمِیلَۃٌ فِی سَہْمِ دِحْیَۃَ الْکَلْبِی ، فَاشْتَرَاہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَۃِ أَرْؤُسٍ ، فَبَعَثَ بِہَا إِلَی أُمِّ سُلَیْمٍ تُصْلِحُہَا ، قَالَ : وَلاَ أَعْلَمُ إِلاَّ إِنَّہُ قَالَ : وَتَعْتَدُّ عِنْدَہَا ، فَلَمَّا أَرَادَ الشُّخُوصَ ، قَالَ النَّاسُ : مَا نَدْرِی اتَّخَذَہَا سُرِّیۃً ، أَمْ تَزَوَّجَہَا ؟ فَلَمَّا رَکِبَ سَتَرَہَا وَأَرْدَفَہَا خَلْفَہُ ، فَأَقْبَلُوا حَتَّی إِذَا دَنَوْا مِنَ الْمَدِینَۃِ أَوْضَعُوا ، وَکَذَلِکَ کَانُوا یَصْنَعُونَ إِذَا رَجَعُوا فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِینَۃِ ، فَعَثَرَتْ نَاقَۃُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَسَقَطَ وَسَقَطَتْ ، وَنِسَائُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْظُرْنَ مُشْرِفَاتٍ ، فَقُلْنَ : أَبْعَدَ اللَّہُ الْیَہُودِیَّۃَ وَأَسْحَقَہَا ، فَسَتَرَہَا وَحَمَلَہَا۔
(بخاری ۹۴۷۔ ابوداؤد ۲۹۹۰)
فَقِیلَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہُ قَدْ وَقَعَتْ جَارِیَۃٌ جَمِیلَۃٌ فِی سَہْمِ دِحْیَۃَ الْکَلْبِی ، فَاشْتَرَاہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَۃِ أَرْؤُسٍ ، فَبَعَثَ بِہَا إِلَی أُمِّ سُلَیْمٍ تُصْلِحُہَا ، قَالَ : وَلاَ أَعْلَمُ إِلاَّ إِنَّہُ قَالَ : وَتَعْتَدُّ عِنْدَہَا ، فَلَمَّا أَرَادَ الشُّخُوصَ ، قَالَ النَّاسُ : مَا نَدْرِی اتَّخَذَہَا سُرِّیۃً ، أَمْ تَزَوَّجَہَا ؟ فَلَمَّا رَکِبَ سَتَرَہَا وَأَرْدَفَہَا خَلْفَہُ ، فَأَقْبَلُوا حَتَّی إِذَا دَنَوْا مِنَ الْمَدِینَۃِ أَوْضَعُوا ، وَکَذَلِکَ کَانُوا یَصْنَعُونَ إِذَا رَجَعُوا فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِینَۃِ ، فَعَثَرَتْ نَاقَۃُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَسَقَطَ وَسَقَطَتْ ، وَنِسَائُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْظُرْنَ مُشْرِفَاتٍ ، فَقُلْنَ : أَبْعَدَ اللَّہُ الْیَہُودِیَّۃَ وَأَسْحَقَہَا ، فَسَتَرَہَا وَحَمَلَہَا۔
(بخاری ۹۴۷۔ ابوداؤد ۲۹۹۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٣٢) حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ جب ہم (خیبر) پہنچے تو وہ لوگ (اپنے کھیتوں میں) بیلچوں کے ساتھ نکل چکے تھے۔ پس جب انھوں نے ہمیں دیکھا تو کہنے لگے۔ محمد ! بخدا ! محمد اور لشکر ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر ! جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے۔
(۳۸۰۳۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ رِدْفَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ خَیْبَرَ ، فَلَمَّا انْتَہَیْنَا وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِی ، فَلَمَّا رَأَوْنَا ، قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللہِ ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ۔ (احمد ۲۹۔ طبرانی ۴۷۰۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٣٣) حضرت عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے ایک حصہ کو کرایہ پر دیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن رواحہ کو تقسیم کے وقت بھیجا اور آپ نے انھیں اختیار دیا۔
(۳۸۰۳۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُد بْنُ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَکْرَی خَیْبَرَ بِالشَّطْرِ ، ثُمَّ بَعَثَ ابْنَ رَوَاحَۃَ عِنْدَ الْقِسْمَۃِ فَخَیَّرَہُمْ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٣٤) حضرت عبداللہ بن بریدہ اسلمی ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر کے علاقہ میں فروکش ہوئے تو اہل خیبر گھبرا گئے اور کہنے لگے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اہل یثرب کے ہمراہ آگئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب کو چند لوگوں کے ہمراہ بھیجا وہ اہل خیبر سے ملے لیکن اہل خیبر نے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو واپس کردیا پس یہ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس حالت میں حاضر ہوئے کہ حضرت عمر اپنے ساتھیوں کو بزدل کہہ رہے تھے اور ان کے ساتھی انھیں بزدلی کا کہہ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں جھنڈا کل ایسے آدمی کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس (آدمی) سے محبت کرتے ہیں۔
راوی کہتے ہیں : پس جب اگلا دن آیا تو حضرت ابوبکر اور عمر اس جھنڈے کے امیدوار تھے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو بلایا۔ حضرت علی اس وقت آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھ میں تھتکارا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو عَلَم تھما دیا۔ حضرت علی لوگوں کو لے کر چل دئیے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت علی کا سامنا اہل خیبر سے ہوا اور مرحب خیبری سے آپ کا سامنا ہوا تو وہ یہ رجز پڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ع
تحقیق خیبر والے جانتے ہیں کہ میں مرحب ہوں، اسلحہ سے لیس اور تجربہ کار بہادر ہوں۔
جب شیر آگے بڑھتے ہیں تو میں شعلہ وار ہوجاتا ہوں، کبھی نیزہ بازی کرتا ہوں اور کبھی تلوار بازی۔
راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت علی اور مرحب کا ٹکراؤ ہوا تو حضرت علی نے اس کی کھوپڑی پر تلوار کے ساتھ ایسی ضرب لگائی ۔ کہ تلوار نے اس کی کھوپڑی سے داڑھوں تک کاٹ کر رکھ دیا۔ اور آپ کی ضرب کی آواز تمام لشکر نے سُنی مسلمانوں کے لشکر کے ابتدائی حصہ کو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کردی۔
راوی کہتے ہیں : پس جب اگلا دن آیا تو حضرت ابوبکر اور عمر اس جھنڈے کے امیدوار تھے۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو بلایا۔ حضرت علی اس وقت آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی آنکھ میں تھتکارا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو عَلَم تھما دیا۔ حضرت علی لوگوں کو لے کر چل دئیے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت علی کا سامنا اہل خیبر سے ہوا اور مرحب خیبری سے آپ کا سامنا ہوا تو وہ یہ رجز پڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ع
تحقیق خیبر والے جانتے ہیں کہ میں مرحب ہوں، اسلحہ سے لیس اور تجربہ کار بہادر ہوں۔
جب شیر آگے بڑھتے ہیں تو میں شعلہ وار ہوجاتا ہوں، کبھی نیزہ بازی کرتا ہوں اور کبھی تلوار بازی۔
راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت علی اور مرحب کا ٹکراؤ ہوا تو حضرت علی نے اس کی کھوپڑی پر تلوار کے ساتھ ایسی ضرب لگائی ۔ کہ تلوار نے اس کی کھوپڑی سے داڑھوں تک کاٹ کر رکھ دیا۔ اور آپ کی ضرب کی آواز تمام لشکر نے سُنی مسلمانوں کے لشکر کے ابتدائی حصہ کو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کردی۔
(۳۸۰۳۴) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مَیْمُونٍ أَبِی عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ الأَسْلَمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِحَضْرَۃِ خَیْبَرَ ، فَزِعَ أَہْلُ خَیْبَرَ ، وَقَالُوا : جَائَ مُحَمَّدٌ فِی أَہْلِ یَثْرِبَ ، قَالَ : فَبَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِالنَّاسِ فَلَقِیَ أَہْلَ خَیْبَرَ ، فَرَدُّوہُ وَکَشَفُوہُ ہُوَ وَأَصْحَابَہُ ، فَرَجَعُوا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُجِبْنَ أَصْحَابَہُ وَیُجِبْنَہُ أَصْحَابُہُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لأُعْطِیَنَّ اللِّوَائَ غَدًا رَجُلاً یُحِبُّ أللَّہَ وَرَسُولَہُ ، وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ۔
قَالَ: فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ تَصَادَرَ لَہَا أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ ، قَالَ: فَدَعَا عَلِیًّا وَہُوَ یَوْمَئِذٍ أَرْمَدُ ، فَتَفَلَ فِی عَیْنِہِ وَأَعْطَاہُ اللِّوَائَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ بِالنَّاسِ ، قَالَ : فَلَقِیَ أَہْلَ خَیْبَرَ وَلَقِیَ مَرْحَبًا الْخَیْبَرِیَّ ، وَإِذَا ہُوَ یَرْتَجِزُ وَیَقُولُ :
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی مَرْحَبُ
إِذَا اللُّیُوثُ أَقْبَلَتْ تَلَہَّبُ
شَاکِی السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ
أَطْعَنُ أَحْیَانًا وَحِینًا أَضْرِبُ
قالَ : فَالْتَقَی ہُوَ وَعَلِیٌّ ، فَضَرَبَہُ ضَرْبَۃً عَلَی ہَاہَتِہِ بِالسَّیْفِ ، عَضَّ السَّیْفُ مِنْہَا بِالأَضْرَاسِ ، وَسَمِعَ صَوْتَ ضَرْبَتِہِ أَہْلُ الْعَسْکَرِ ، قَالَ : فَمَا تَتَامَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّی فُتِحَ لأَوَّلِہِمْ۔ (نسائی ۸۴۰۳۔ احمد ۳۵۸)
قَالَ: فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ تَصَادَرَ لَہَا أَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ ، قَالَ: فَدَعَا عَلِیًّا وَہُوَ یَوْمَئِذٍ أَرْمَدُ ، فَتَفَلَ فِی عَیْنِہِ وَأَعْطَاہُ اللِّوَائَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ بِالنَّاسِ ، قَالَ : فَلَقِیَ أَہْلَ خَیْبَرَ وَلَقِیَ مَرْحَبًا الْخَیْبَرِیَّ ، وَإِذَا ہُوَ یَرْتَجِزُ وَیَقُولُ :
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی مَرْحَبُ
إِذَا اللُّیُوثُ أَقْبَلَتْ تَلَہَّبُ
شَاکِی السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ
أَطْعَنُ أَحْیَانًا وَحِینًا أَضْرِبُ
قالَ : فَالْتَقَی ہُوَ وَعَلِیٌّ ، فَضَرَبَہُ ضَرْبَۃً عَلَی ہَاہَتِہِ بِالسَّیْفِ ، عَضَّ السَّیْفُ مِنْہَا بِالأَضْرَاسِ ، وَسَمِعَ صَوْتَ ضَرْبَتِہِ أَہْلُ الْعَسْکَرِ ، قَالَ : فَمَا تَتَامَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّی فُتِحَ لأَوَّلِہِمْ۔ (نسائی ۸۴۰۳۔ احمد ۳۵۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٣٥) حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمرا ہ مکہ سے خیبر کی طرف نکلے جبکہ رمضان میں سے بارہ دن باقی تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے روزہ چھوڑ دیا۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی پر طعن نہیں فرمایا۔
(۳۸۰۳۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی خَیْبَرَ فِی ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ بَقِیَتْ مِنْ رَمَضَانَ ، فَصَامَ طَائِفَۃٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ آخَرُونَ ، فَلَمْ یَعِبْ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٣٦) حضرت حکم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جعفر اور ان کے ساتھیوں کو خیبر کے دن تقسیم میں شامل فرمایا۔ حالانکہ یہ لوگ جنگ خیبر میں شریک نہیں تھے۔
(۳۸۰۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِیِّ ، عَنِ الْحَکَمِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَسَمَ لِجَعْفَرٍ وَأَصْحَابِہِ یَوْمَ خَیْبَرَ ، وَلَمْ یَشْہَدُوا الْوَقْعَۃَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٣٧) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا ۔ اللہ پاک اس کے ذریعہ فتح عطا فرمائیں گے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ میں نے امارت کی تمنا اس دن کے سوا کبھی نہیں کی۔ پھر جب اگلا دن (کل کا دن) آیا تو میں اس کو اونچا ہو کر دیکھنے لگا۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے علی ! کھڑے ہو جاؤ، جاؤ اور جا کر لڑو۔ کسی طرف توجہ نہ کرنا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تیرے (ہاتھ) پر فتح دے دیں۔ پس حضرت علی نے رُخ پھیرا تو انھوں نے (واپس) مڑنا ناپسند کیا ۔ عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں ان کفار سے کس بات پر لڑوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ (لڑو) یہاں تک کہ وہ کہہ دیں۔ لا الہ الا اللّٰہ۔ پس جب وہ یہ بات کہہ دیں تو ان کے اموال اور ان کے خون محفوظ ہوجائیں گے سوائے کسی حق کی صورت میں۔
(۳۸۰۳۷) حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ سُہَیْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لأَدْفَعَنِ اللِّوَائَ غَدًا إِلَی رَجُلٍ یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ، یَفْتَحُ اللَّہُ بِہِ ، قَالَ عُمَرُ : مَا تَمَنَّیْت الإِمْرَۃَ إِلاَّ یَوْمَئِذٍ ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ تَطَاوَلْتُ لَہَا ، قَالَ : فَقَالَ : یَا عَلِیُّ ، قُمَ اذْہَبْ فَقَاتِلْ ، وَلاَ تَلْفِتْ حَتَّی یَفْتَحَ اللَّہُ عَلَیْک ، فَلَمَّا قَفَّی ، کَرِہَ أَنْ یَلْتَفِتَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، عَلاَمَ أُقَاتِلُہُمْ ؟ قَالَ : حَتَّی یَقُولُوا : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، فَإِذَا قَالَوہَا حَرُمَتْ دِمَاؤُہُمْ وَأَمْوَالُہُمْ إِلاَّ بِحَقِّہَا۔ (مسلم ۱۸۷۱۔ احمد ۳۸۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٣٨) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں حضرت علی نے کہا۔ اے ابو لیلیٰ ! تم خیبر میں ہمارے ساتھ نہیں تھے ؟ میں نے عرض کای : کیوں نہیں ! بخدا میں تو تمہارے ساتھ تھا۔ (پھر) حضرت علی نے فرمایا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کو بھیجا اور وہ لوگوں کو لے کر (میدان کی طرف) چلے لیکن پسپا ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف واپس تشریف لے آئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کو بھیجا وہ بھی لوگوں کے ہمراہ پسپا ہوگئے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف واپس آگئے۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ (اب) میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔ وہ بھاگنے والا آدمی نہیں ہے۔ حضرت علی فرماتے ہیں۔۔۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف آدمی بھیجا اور مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلایا۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوا کہ میں آشوب چشم میں مبتلا تھا۔ اور مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے جھنڈا عطا فرمایا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! (یہ مجھے آپ) کیسے دے رہے ہیں ؟ جبکہ مجھے تو آشوب چشم ہے اور میں کچھ نہیں دیکھ رہا۔ حضرت علی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی۔ اے اللہ ! تو ان کو سردی اور گرمی سے کافی ہوجا۔ حضرت علی فرماتے ہیں۔ مجھے اس کے بعد کبھی سردی یا گرمی نے تکلیف نہیں دی۔
(۳۸۰۳۸) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، وَالْحَکَمِ ، وَعِیسَی ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : مَا کُنْتُ مَعَنا یَا أَبَا لَیْلَی بِخَیْبَرَ ؟ قُلْتُ : بَلَی وَاللہِ ، لَقَدْ کُنْت مَعَکُمْ ، قَالَ : فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا بَکْرٍ فَسَارَ بِالنَّاسِ ، فَانْہَزَمَ حَتَّی رَجَعَ إِلَیْہِ ، وَبَعَثَ عُمَرَ فَانْہَزَمَ بِالنَّاسِ حَتَّی انْتَہَی إِلَیْہِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ، وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ، یَفْتَحُ اللَّہُ لَہُ ، لَیْسَ بِفَرَّارٍ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَیَّ فَدَعَانِی ، فَأَتَیْتُہُ وَأَنَا أَرْمَدُ لاَ أُبْصِرُ شَیْئًا ، فَدَفَعَ إِلَیَّ الرَّایَۃَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، کَیْفَ وَأَنَا أَرْمَدُ لاَ أُبْصِرُ شَیْئًا ؟ قَالَ : فَتَفَلَ فِی عَیْنِی ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَ ، اکْفِہِ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ ، قَالَ : فَمَا آذَانِی بَعْدُ حَرٌّ ، وَلاَ بَرْدٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٣٩) تجیب کے غلام حضرت ابو مرزوق سے روایت ہے کہ ہم نے رویفع بن ثابت انصاری کے ہمراہ مغرب کی طرف ایک غزوہ لڑا۔ اور ہم نے ایک بستی ۔۔۔ جس کو جَربَہْ کہا جاتا تھا ۔۔۔ کو فتح کرلیا۔ راوی کہتے ہیں : ہم میں ایک خطیب صاحب کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا۔ میں تم سے وہی بات کروں گا جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سُنی اور وہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خیبر کے دن ارشاد فرمائی تھی۔ (وہ بات یہ ہے) ” جو شخص اللہ پر، یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اس کا پانی ہرگز دوسرے کی کھیتی کو سیراب نہ کرے اور وہ غنیمت میں سے تقسیم ہونے سے قبل کچھ نہ بیچے۔ اور نہ ہی مسلمانوں کے مال فئی کے کسی جانور پر اس طرح سوار ہو کہ جب وہ جانور کمزور ہوجائے تو یہ اس کو واپس مال فئی میں داخل کر دے۔ اور نہ ہی مسلمانوں کے مال فئی سے اس طرح کوئی کپڑا پہنے کہ جب وہ کپڑے پرانا کر دے تو اس کو مال فئی میں واپس کر دے۔
(۳۸۰۳۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ یَزِیدَ بْن أَبِی حَبِیبٍ ، عَنْ أَبِی مَرْزُوقٍ مَوْلَی تُجِیبَ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رُوَیْفِعِ بْن ثَابِتٍ الأَنْصَارِیِّ نَحْوَ الْمَغْرِبِ ، فَفَتَحْنَا قَرْیَۃً ، یُقَالُ لَہَا جَرْبَۃُ ، قَالَ : فَقَامَ فِینَا خَطِیبًا ، فَقَالَ : إِنِّی لاَ أَقُولُ فِیکُمْ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِینَا یَوْمَ خَیْبَرَ: مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلاَ یَسْقِیَنَّ مَائُہُ زَرْعَ غَیْرِہِ ، وَلاَ یَبِیعَنَّ مَغْنَمًا حَتَّی یُقْسَمَ، وَلاَ یَرْکَبَنَّ دَابَّۃً مِنْ فَیْئِ الْمُسْلِمِینَ ، فَإِذَا أَعْجَفَہَا رَدَّہَا فِیہِ ، وَلاَ یَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَیْئٍ حَتَّی إِذَا أَخْلقَہُ رَدَّہُ فِیہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٤٠) حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ خیبر کا دن تھا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کا ایک گروہ (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں) حاضر ہوا اور وہ لوگ کہنے لگے۔ فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک آدمی کے پاس پہنچے اور انھوں نے کہا (یہ) فلاں بھی شہید ہے۔ تو (اس پر) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہرگز نہیں ! میں نے اس آدمی کو جہنم میں دیکھا ہے اس چادر میں یا اس عباء میں جو اس نے مال غنیمت سے خیانت کی۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ابن خطاب ! جاؤ اور لوگوں میں یہ منادی کردو کہ جنت میں صرف صاحب ایمان ہی داخل ہوں گے۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ پس میں وہاں سے نکلا اور میں نے منادی کی، کہ جنت میں صرف صاحب ایمان ہی داخل ہوں گے۔
(۳۸۰۴۰) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی سِمَاکٌ الْحَنَفِیُّ أَبُو زُمَیْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: لَمَّا کَانَ یَوْمُ خَیْبَرَ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالُوا : فُلاَنٌ شَہِیدٌ ، فُلاَنٌ شَہِیدٌ ، حَتَّی مَرُّوا عَلَی رَجُلٍ ، فَقَالُوا : فُلاَنٌ شَہِیدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کَلاَّ ، إِنِّی رَأَیْتُہُ فِی النَّارِ فِی بُرْدَۃٍ غَلَّہَا ، أَوْ فِی عَبَائَۃٍ غَلَّہَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَابْنَ الْخَطَّابِ ، اذْہَبْ فَنَادِ فِی النَّاسِ : أَنَّہُ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ فَنَادَیْتُ : أَنَّہُ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ۔ (مسلم ۱۰۷۔ احمد ۴۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٤١) حضرت حشرج بن زیاد اشجعی اپنی دادی سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ چھ عورتوں کے ساتھ خیبر کے دن جہاد میں شرکت کی، پھر یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچ گئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف قاصد بھیجا اور پوچھا کہ تم کس کے کہنے پر (جہاد میں) نکلی ہو ؟ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس سوال میں غصہ محسوس کیا تو ہم نے کہا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم (جہاد میں) نکلی ہیں اور ہمارے پاس دوائیں بھی ہیں جن کے ذریعہ ہم علاج کریں گی۔ اور ہم تیر پکڑائیں گی اور ستو پلائیں گی اور ہم وہ شعر کہیں گی۔ جن کے ذریعہ سے ہم راہ خدا میں (مجاہدین کی) مدد کریں گی۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ پھر تم (یہیں) رہو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خیبر کی جنگ میں فتح نصیب فرمائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردوں کو جس طرح حصہ دیا، اسی طرح ہمیں بھی حصہ دیا۔
(۳۸۰۴۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَۃَ الأَشْجَعِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی حَشْرَجُ بْنُ زِیَادٍ الأَشْجَعِیُّ ، عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ أَبِیہِ ؛ أَنَّہَا غَزَتْ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ خَیْبَرَ سَادِسَۃُ سِتِّ نِسْوَۃٍ ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ إِلَیْنَا ، فَقَالَ : بِأَمْرِ مَنْ خَرَجْتُنَّ ؟ وَرَأَیْنَا فِیہِ الْغَضَبَ، فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، خَرَجْنَا وَمَعَنَا دَوَائٌ نُدَاوِی بِہِ ، وَنُنَاوِلُ السِّہَامَ ، وَنَسْقِی السَّوِیقَ ، وَنَغْزِلُ الشَّعْرَ ، نُعِینُ بِہِ فِی سَبِیلِ اللہِ ، فَقَالَ لَنَا : أَقِمْنَ ، فَلَمَّا أَنْ فَتَحَ اللَّہُ عَلَیْہِ خَیْبَرَ قَسَمَ لَنَا کَمَا قَسَمَ لِلرِّجَالِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٤٢) حضرت عمیر مولیٰ ابی اللحم روایت کرتے ہیں کہ میں خیبر کے جہاد میں شریک تھا اور میں ایک مملوکہ غلام تھا۔ جب صحابہ کرام نے خیبر کو فتح کرلیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک تلوار عطا فرمائی۔ اور ارشاد فرمایا۔ یہ تلوار لٹکا لو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غنیمت میں سے عطیہ دیا لیکن میرا (پورا) حصہ نہیں نکالا۔
(۳۸۰۴۲) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عُمَیْرُ مَوْلَی آبِی اللَّحْمِ ، قَالَ : شَہِدْتُ خَیْبَرَ وَأَنَا عَبْدٌ مَمْلُوکٌ ، فَلَمَّا فَتَحُوہَا أَعْطَانِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَیْفًا ، فَقَالَ : تَقَلَّدْ ہَذَا ، وَأَعْطَانِی مِنْ خُرْثِیِّ الْمَتَاعِ ، وَلَمْ یَضْرِبْ لِی بِسَہْمٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٤٣) حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہم خیبر کے فتح ہونے کے تین (دن) بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارا بھی تقسیم میں حصہ رکھا۔ ہمارے سوا جو لوگ اس فتح میں شریک نہیں ہوئے تھے ان میں سے کسی کو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حصہ نہیں دیا۔
(۳۸۰۴۳) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ بَرِیدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : قدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ فَتْحِ خَیْبَرَ بِثَلاَثٍ ، فَقَسَمَ لَنَا ، وَلَمْ یَقْسِمْ لأَحَدٍ لَمْ یَشْہَدَ الْفَتْحَ غَیْرَنَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٤٤) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ خیبر کے دن لوگوں نے گدھوں کو ذبح کیا اور ان کو ہانڈیوں میں ڈال کر جوش دیا جا رہا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو طلحہ کو حکم دیا اور انھوں نے یہ منادی کی۔ ” بیشک اللہ اور اس کے رسول نے تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت سے منع کردیا ہے۔ کیونکہ یہ نجس ہیں۔ “ پس (یہ سنتے ہی) ہانڈیاں الٹا دی گئیں۔
(۳۸۰۴۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ خَیْبَرَ ذَبَحَ النَّاسُ الْحُمُرَ ، فَأَغْلُوا بِہَا الْقُدُورَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبَا طَلْحَۃَ ، فَنَادَی : إِنَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ یَنْہَیَانِکُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَہْلِیَّۃِ ، فَإِنَّہَا رِجْسٌ ، فَکُفِئَتِ الْقُدُورُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٤٥) حضرت عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے دن مجھے چربی کے ایک تھیلے کے بارے میں بتایا گیا عبداللہ کہتے ہیں کہ میں اس سے چمٹ گیا اور میں نے کہا۔ میں اس میں سے کسی کو کچھ بھی نہیں دوں گا۔ عبداللہ کہتے ہیں۔ پھر میں نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے مسکرا رہے تھے۔ مجھے (اس پر) بہت شرمندگی ہوئی۔
(۳۸۰۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْن مُغَفَّلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : دُلِّیَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ یَوْمَ خَیْبَرَ ، قَالَ : فَالْتَزَمْتُہُ ، وَقُلْتُ : ہَذَا لاَ أُعْطِی أَحَدًا مِنْہُ شَیْئًا ، قَالَ : فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَبَسَّمُ ، فَاسْتَحْیَیْتُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٤٦) حضرت عبداللہ بن ابی سلیط، اپنے والد ابی سلیط سے روایت کرتے ہیں ۔۔۔ اور ان کے والد بدری صحابی ہیں ۔۔۔ یہ کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے پالتو گدھے کے کھانے کے ممانعت اس حال میں (ہم تک) پہنچی جبکہ ہانڈیوں میں یہی گوشت ابل رہا تھا۔۔۔ ابی سلیط کہتے ہیں ۔۔۔ پس ہم نے ہانڈیوں کو اوندھے منہ گرا دیا۔
(۳۸۰۴۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ ضَمْرَۃَ الْفَزَارِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی سَلِیطٍ ، عَنْ أَبِیہِ أَبِی سَلِیطٍ ، وَکَانَ بَدْرِیًّا ، قَالَ : لَقَدْ أَتَی نَہْیُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ أَکْلِ الْحُمُرِ ، وَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِی بِہَا ، قَالَ : فَکَفَأْنَاہَا عَلَی وُجُوہِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٤٧) حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ خیبر کے دن پالتو گدھے کے کھانے سے منع کیا اور ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع کیا۔ اور اس بات سے منع کیا کہ حاملہ عورت سے وضع حمل سے قبل وطی کی جائے اور مال غنیمت کے حصہ کے تقسیم ہونے سے قبل بیچنے سے منع کیا ۔ اور پھل کو اس کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے بیچنے سے منع کیا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن دوسری عورت کے بال لگانے والی اور لگوانے والی عورت پر لعنت فرمائی اور اسی طرح گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی اور اپنا چہرہ نوچنے والی پر لعنت فرمائی اور اپنا گریبان چاک کرنے والے پر بھی لعنت فرمائی۔
(۳۸۰۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حدَّثَنَا الْقَاسِمُ وَمَکْحُولٌ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی یَوْمَ خَیْبَرَ عَنْ أَکْلِ الْحِمَارِ الأَہْلِی ، وَعَنْ کُلِّ ذِی نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَأَنْ تُوطَأَ الْحَبَالَی حَتَّی یَضَعْنَ ، وَعَنْ أَنْ تُبَاعَ السِّہَامُ حَتَّی تُقْسَمَ ، وَأَنْ تُبَاعَ الثَمَرَۃُ حَتَّی یَبْدُوَ صَلاَحُہَا، وَلَعَنَ یَوْمَئِذٍ الْوَاصِلَۃَ وَالْمَوْصُولَۃَ، وَالْوَاشِمَۃَ وَالْمَوْشُومَۃَ ، وَالْخَامِشَۃَ وَجْہَہَا، وَالشَّاقَّۃَ جَیْبَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٤٨) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جب جنگ خیبر کا دن تھا تو لوگوں کو (شدید) بھوک نے آلیا۔ لوگوں نے پالتو گدھوں کو پکڑا اور انھیں ذبح کر کے ان کے گوشت سے ہانڈیوں کو بھر دیا۔ یہ خبر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا پس ہم نے ہانڈیوں کو الٹ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ عنقریب تمہیں ایسا رزق دے گا جو اس سے زیادہ حلال اور طیب ہوگا۔ پس ہم نے ان ہانڈیوں کو اس حال میں الٹ دیا جبکہ وہ جوش دے رہی تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن پالتو گدھوں اور خچروں کے گوشت کو حرام قرار دیا اور اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچلی والے ہر درندے کو حرام قرار دیا اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے کو حرام قرار دیا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجثمہ (وہ بکری جس کو پتھر مار مار کر ہلاک کیا جائے) ، جھپٹی ہوئی چیز اور لوٹی ہوئی چیز کو حرام قرار دیا۔
(۳۸۰۴۸) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ خَیْبَرَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَۃٌ ، وَأَخَذُوا الْحُمُرَ الإِنْسِیَّۃِ ، فَذَبَحُوہَا وَمَلَؤُوا مِنْہَا الْقُدُورَ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ جَابِرٌ : فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَفَأْنَا الْقُدُورَ ، وَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ سَیَأْتِیکُمْ بِرِزْقٍ ہُوَ أَحَلُّ مِنْ ذَا وَأَطْیَبُ ، فَکَفَأْنَا الْقُدُورَ یَوْمَئِذٍ وَہِیَ تَغْلِی ، فَحَرَّمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَئِذٍ لُحُومَ الْحُمُرِ الإِنْسِیَّۃِ وَلُحُومَ الْبِغَالِ ، وَکُلَّ ذِی نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَکُلَّ ذِی مِخْلَبٍ مِنَ الطَّیْرِ ، وَحَرَّمَ الْمُجَثَّمَۃَ ، وَالْخُلْسَۃَ ، وَالنُّہْبَۃَ۔
তাহকীক: