মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৮০০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠٠٩) حضرت جابر سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو شدید پیاس لگی ۔ راوی کہتے ہیں : لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لپکے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ چمڑے کے برتن میں رکھا تو میں نے پانی کو چشموں کی طرح دیکھا۔ حضرت سالم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر سے پوچھا : تم لوگ کتنی تعداد میں تھے۔ انھوں نے جواب دیا۔ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کفایت کرجاتا (ویسے) ہم پندرہ سو کی تعداد میں تھے۔
(۳۸۰۰۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَصَابَ النَّاسَ عَطَشٌ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ ، قَالَ : فَجَہَشَ النَّاسُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَوَضَعَ یَدَہُ فِی الرَّکْوَۃِ ، فَرَأَیْتُ الْمَائَ مِثْلَ الْعُیُونِ ، قَالَ : قُلْتُ : کَمْ کُنْتُمْ ؟ قَالَ : لَوْ کُنَّا مِئَۃَ أَلْفٍ لَکَفَانَا ، کُنَّا خَمْسَ عَشْرَۃَ مِئَۃ۔ (بخاری ۳۵۷۶۔ مسلم ۱۲۸۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠١٠) حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ کے دن اٹھارہ سو کی تعداد کو لے کر نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آگے بنو خزاعہ کے ایک شخص ۔۔۔ جس کا نام ناجیہ تھا۔۔۔ کو بھیجا تاکہ وہ لوگوں کی خبر لائے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام عسفان کے کنویں پر پہنچے جس کا نام غدیر اشطاط تھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا جاسوس غدیر اشطاط پر ملا اور اس نے کہا : اے محمد ! میں نے تیری قوم ۔۔۔ کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی ۔۔۔ کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ انھوں نے آپ کے لیے متفرق لوگوں کو اور جو کوئی ان کی مانتا ہے ان کو نفیر عام کیا ہے۔ انھوں نے تیرے چلنے کی خبر سن لی ہے۔ اور میں نے ان کے غلاموں کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ انھیں گھروں میں خزیر (خاص کھانا) کھلایا جاتا ہے۔ اور خالد بن ولید کو تو انھوں نے یہ سامنے گھڑ سواروں کی جماعت کے ہمراہ بھیجا ہے۔
٢۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (صحابہ سے) پوچھا۔ تم کیا کہتے ہو ؟ تمہارا کیا حکم ہے ؟ مجھے بتاؤ۔ قریش اور ان کی تیاریوں کی خبر تمہیں دو مرتبہ پہنچ چکی ہے۔ اور یہ مقام غمیم میں خالد بن ولید بھی پہنچ چکا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے پوچھا۔ کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ ہم اپنے رُخ پر چلتے رہیں اور جو کوئی ہمیں بیت اللہ سے روکے ہم اس سے لڑائی کریں۔ یا تمہاری رائے یہ ہے کہ ہم ان کے برخلاف ان کے پچھلوں کی طرف بڑھیں۔ پھر اگر ان میں سے کوئی جماعت پیچھے آئے گی تو اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دے گا۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حُکم، آپ کا حکم ہے۔ اور رائے بھی آپ کی رائے ہے۔ پھر یہ لوگ اس ٹیلے کے دائیں بائیں چل دیئے۔ اس بات کا خالد اور اس کے ہمراہ لشکر کو پتہ نہیں چلا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ لشکر کے غبار کو کر اس کر گئے۔
٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک بلند ٹیلے سے ایک پست زمین کی طرف لے گئی۔ جس کا نام بلدح تھا۔ اور (وہاں جا کر) بیٹھ گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حَلْ حَلْ ۔ لیکن وہ اونٹنی نہیں اٹھی۔ لوگوں نے کہا۔ قصوائ (اونٹنی کا نام ہے) اڑ گئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخدا یہ اونٹنی نہیں اَڑی اور نہ ہی اڑنا اس کی عادت ہے لیکن اس کو ہاتھیوں کو روکنے والے نے روک دیا ہے۔ سنو ! بخدا اگر آج کے دن وہ مجھے کسی مقام کی طرف ۔۔۔جس کا وہ بہت احترام کرتے ہیں ۔۔۔ بلائیں گے یا مجھے وہ کسی صلہ رحمی کی طرف بلائیں گے تو میں انھیں مثبت جواب دوں گا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹنی کو دوڑایا تو وہ اچھل پڑی پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے قدم کے نشانات پر وہیں واپس ہوگئے جہاں سے تشریف لائے تھے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو لے کر حدیبیہ کے ایک مقام پر فروکش ہوئے جہاں پر پانی اتنا قلیل تھا کہ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی لے رہے تھے۔ تو (اس پر) لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پانی کی قلت کی شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور ایک آدمی کو حکم دیا اور اس نے اس تیر کو کنویں کے درمیان میں گاڑ دیا۔ پس پانی نے اتنا جوش مارا کہ لوگ اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔
٤۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابھی اسی حالت میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی، اپنی قوم خزاعہ کے ایک گروہ کے ہمراہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تیری قوم کے لوگ عورتوں اور بچوں سمیت نکل چکے ہیں اور وہ خدا کے نام پر اس بات کی قسم کھا رہے ہیں کہ ضرور بالضرور تیرے اور مکہ کے درمیان حائل ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک بھی نہ بچے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے بدیل ! میں تو کسی کے ساتھ بھی لڑنے نہیں آیا۔ میں تو صرف اس لیے آیا ہوں تاکہ اپنے افعال عبادت ادا کرسکوں اور اس خانہ خدا کا طواف کروں۔ اور اگر یہ کام نہ ہو تو پھر کیا قریش کا کوئی اور ارادہ ہے ؟ کیا وہ اس بات پر راضی ہیں کہ میں ان کے ساتھ ایک مدت طے کرلوں جس میں وہ مامون رہیں گے اور اتنی مدت تک وہ اکٹھے بھی ہوجائیں۔ اور اس دوران وہ مجھے اور لوگوں کو کھلا چھوڑ دیں۔ اگر میرا معاملہ لوگوں پر غالب آگیا تو انھیں اس بات کا اختیار ہوگا ۔ چاہے تو لوگوں کی طرح یہ بھی دین میں داخل ہوجائیں اور چاہے تو یہ لڑائی کرلیں درآنحالیکہ انھوں نے اپنی تعداد بڑھا کر خوب تیاری کرلی ہوگی۔ بدیل نے کہا۔ میں یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم کو پیش کروں گا۔
٥۔ پس بدیل سوار ہو کر (چل پڑا) یہاں تک کہ وہ قریش کے پاس سے گزرا تو قریش نے اس سے پوچھا۔ تم کہاں سے آ رہے ہو ؟ بدیل نے کہا۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے آ رہا ہوں۔ اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس بات کی خبر دیتا ہوں جو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سُنی اور کہی ہے۔ قریش مں ت سے بیوقوف قسم کے لوگوں نے کہا۔ تم ہمیں اس کی بات نہ بتاؤ جو تم دیکھ کر اور سن کر آئے ہو۔ بدیل نے انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بیان کیا اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدت کی پیش کش کی تھی وہ بیان کی۔ راوی کہتے ہیں : اس دن قریش (کے اس گروہ) میں عروہ بن مسعود ثقفی بھی موجود تھا۔ وہ اچھل پڑا اور اس نے کہا۔ اے گروہ قریش ! کیا تم مجھ پر کسی شئی کی تہمت لگاتے ہو۔ کیا میں (تمہارا) بچہ نہیں ہوں ؟ اور کیا تم (میرے) والد نہیں ہو ؟ کیا میں نے تمہارے لیے اہل عکاظ سے مدد طلب نہیں کی اور جب انھوں نے مجھے منع کردیا تو مں ش خود اور اپنے بچوں اور ما تحتوں کو لے کر تمہارے پاس نہیں آگیا۔ انھوں نے جواباً کہا : کیوں نہیں ! تو نے ایسا ہی کیا ہے۔ عروہ نے کہا : پھر تم بدیل کی اس بات کو قبول کرلو جو وہ تمہارے پاس لے کر آیا ہے اور جو تمہارے اوپر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیش کی ہے۔ اور تم مجھے بھیجو تاکہ میں تمہارے پاس اس خیر کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے توفیق لے کر آؤں۔ قریش نے (اس سے) کہا۔ چل جا۔
٦۔ عروہ وہاں سے نکلا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مقام حدیبیہ مں اُترا اور اس نے کہا ۔ اے محمد ! یہ تیری قوم۔۔۔ کعب بن لوی اور عامر بن لوی۔۔۔ کے لوگ ہیں جو عورتوں اور بچوں سمیت باہر نکلے ہیں۔ انھوں نے قسم اٹھائی ہے کہ یہ لوگ تجھے مکہ کی طرف راستہ نہیں دیں گے حتی کہ ان کے نوجوان ہلاک ہوجائیں ۔ اور اب آپ کو اپنی قوم سے لڑائی کی دو صورتیں ہیں۔ (ایک تو یہ ہے کہ) تو اپنی قوم کو (لڑائی کر کے) نیست و نابود کر دے اور تو نے کسی آدمی کے بارے میں نہیں سنا ہوگا کہ اس نے تجھ سے پہلے اپنی قوم کو تباہ و برباد کیا ہو۔ اور (دوسری صورت یہ ہے کہ) جن کو میں آپ کے ہمراہ دیکھ رہا ہوں یہ آپ کو حوالہ کردیں ۔ مجھے تو تمہارے ہمراہ اجنبی قسم کے متفرق لوگ نظر آ رہے ہیں۔ مجھے تو ان کے ناموں اور شکلوں سے بھی معرفت نہیں ہے۔
٧۔ حضرت ابوبکر ۔۔۔ کو غصہ آگیا اور ۔۔۔ارشاد فرمایا : تم لات کی فرج چوسو۔ کیا ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسوا کریں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حوالہ کریں گے ؟ عروہ نے کہا : بخدا ! اگر تمہارا مجھ پر احسان نہ ہوتا جس کا میں نے بدلہ نہیں دیا۔ تو میں تمہیں تمہاری بات کا ضرور جواب دیتا۔
٨۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے ہوئے تھے اور ان کے چہرے پر خود تھی۔ (جس کی وجہ سے) عروہ نے ان کو نہ پہچانا۔ اور عروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باتیں کررہا تھا۔ اور جب بھی عروہ اپنا ہاتھ پھیلاتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی مبارک کو چھوتا۔ حضرت مغیرہ کے ہاتھ میں جو نیزہ تھا آپ نے اس کے ساتھ عروہ کو خبردار کیا۔ جب مغیرہ نے عروہ کو پریشان کیا تو اس نے پوچھا۔ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا ۔ کہ یہ مغیرہ بن شعبہ ہیں۔ عروہ نے کہا۔ اے عہد شکن ! تم یہاں ہو۔ تم نے کل مقام عکاظ میں اپنی عہد شکنی کو خود سے کیوں نہ دھو ڈالا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عروہ بن مسعود کو وہی بات کہی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدیل سے کہی تھی۔
٩۔ عروہ وہاں سے کھڑا ہوا اور چل دیا یہاں تک کہ وہ اپنی قوم میں آیا اور اس نے کہا۔ اے گروہ قریش ! میں شاہوں کے دربار میں بھی گیا ہوں۔ میں قیصر کے پاس اس کے ملک شام میں گیا ہوں اور نجاشی کے پاس ارض حبشہ میں گیا ہوں اور عراق میں کسریٰ کے پاس بھی گیا ہوں۔ (لیکن) بخدا میں کسی بادشاہ کو اپنے لوگوں میں اس قدر عظمت والا نہیں دیکھا جس قدر میں محمد کو اس کے صحابہ میں باعظمت دیکھا ہے۔ بخدا وہ محمد کی طرف نظر گاڑھ کر نہیں دیکھتے اور اس کے پاس آواز اونچی نہیں کرتے۔ اور محمد جس پانی سے وضو کرتا ہے تو اس کے ساتھی اس دھو ون پر جمع ہوجاتے ہیں کہ کس کو اس میں سے کتنا حصہ ملتا ہے ؟ پس بدیل جو خبر تمہارے پاس لایا ہے اس کو قبول کرلو کیونکہ یہ سمجھ داری والا معاملہ ہے۔
١٠۔ قریش نے کہا : تم بیٹھ جاؤ۔ اور قریش نے بنی حارث بن عبد مناف کے ایک آدمی کو بلایا جس کا نام ” حُلَیس “ تھا اور (اس کو) کہا۔ تم جاؤ اور جو تمہیں اس آدمی (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کی طرف سے نظر آئے اور معلوم ہو اس کو دیکھو۔
١١۔ حُلیس وہاں سے نکلا۔ پس جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پہچان لیا اور ارشاد فرمایا : یہ ” حُلیس ہے۔ اور یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ہدی کی تعظیم کرتے ہیں۔ پس تم اس کے رُخ پر ہدی کو چلا دو ۔ “ صحابہ نے اس کے رُخ پر ہدی کو چلا دیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں۔ حُلیس کے بارے میں احادیث (میں بیان) مختلف نقل ہوا ہے۔ بعض راویوں نے بیان کیا ہے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو وہی بات ارشاد فرمائی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدیل اور عروہ سے کہی تھی۔ اور بعض راوی بیان کرتے ہیں کہ جب اس نے ہدی (کے جانور کو) دیکھا تو وہ قریش کی طرف واپس چل دیا اور اس نے (قریش سے) کہا۔ یقیناً میں ایسی بات دیکھی ہے کہ اگر تم ان کو روکو گے تو مجھے خوف ہے کہ تم غلطی کا ارتکاب کرو گے۔ پس (اب) تم اپنا معاملہ خود ہی دیکھ لو۔
١٢۔ قریش نے (اس سے بھی) کہا۔ تم بیٹھ جاؤ اور قریش کے ایک آدمی کو بلایا۔ جس کا نام ” مکرز بن حفص بن الاخیف “ تھا۔ یہ شخص بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھتا تھا۔ اور اس کو بھیجا۔ پس جب اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ یہ ایک فاجر آدمی ہے جو آنکھ سے دیکھتا ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بھی مدت کے بارے میں ویسی بات کہی جیسی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدیل اور اس کے دیگر ساتھیوں سے کہی تیے۔ مکرز وہاں سے مشرکین کے پاس واپس آیا اور اس نے (آ کر) انھیں خبر دی۔
١٣۔ اس پر قریش نے بنو عامر بن لؤی کے سہیل بن عمرو کو بھیجا تاکہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ بات تحریر کروائے جس کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعوت دے رہے ہیں۔ سہیل بن عمرو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا۔ مجھے قریش نے آپ کی طرف اس لیے بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے ایسا فیصلہ تحریر کرواؤں جس پر میں اور آپ راضی ہوں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں (ٹھیک ہے) ، لکھو، بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ راوی کہتے ہیں : سہیل بن عمرو کہنے لگا۔ میں تو اللہ کو نہیں جانتا اور نہ ہی مجھے رحمن کی معرفت ہے۔ لیکن میں تو ایسے ہی لکھوں گا جیسا کہ ہم لکھتے ہیں۔ یعنی۔ باسمک اللّٰہم۔ لوگوں کو اس بات پر غصہ آگیا اور کہنے لگے۔ ہم تمہارے ساتھ کسی بھی طرح کی مکاتبت نہیں کریں گے یہاں تک کہ تو رحمٰن و رحیم کا اقرا ر کرے۔ سہیل نے کہا : پھر تو میں تمہارے ساتھ کسی طرح کی مکاتبت نہیں کروں گا اور لوٹ جاؤں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : لکھو۔ باسمک اللّٰھم۔ یہ وہ تحریر ہے جس پر ” محمد رسول اللہ “ نے باہم صلح کی ہے۔ سہیل نے کہا۔ میں اس بات کا اقرار نہیں کرتا۔ اگر میں آپ کو اللہ کا رسول جانتا ہوتا تو میں آپ کی مخالفت نہ کرتا اور نہ ہی آپ کی نافرمانی کرتا۔ لیکن میں تو ” محمد بن عبداللہ “ لکھوں گا۔ اس بات پر بھی لوگوں کو غصہ آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لکھو۔ (محمد بن عبداللہ ، سہیل بن عمرو)
١٤۔ اس پر حضرت عمر بن خطاب کھڑے ہوگئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ اور کیا ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ کیوں نہیں (ایسا ہی ہے) ۔ حضرت عمر نے عرض کیا۔ پھر ہم کس بنیاد پر اپنے دین میں یہ گھٹیا پن گوارا کر رہے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں خدا کا رسول ہوں۔ اور میں ہرگز اس کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ اور وہ ہرگز مجھے ضائع نہیں ہونے دے گا۔ حضرت ابوبکر ایک کونے میں گوشہ نشین تھے۔ کہ حضرت عمر ان کے پاس پہنچے اور کہا۔ اے ابوبکر ! انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! حضرت عمر نے کہا : کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ اور کیا ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : کیوں نہیں (ایسا ہی ہے) حضرت عمر نے کہا۔ تو پھر کس وجہ سے ہم اپنے دین میں یہ گھٹیا پن گوارا کر رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : اے عمر ! اپنا یہ خیال چھوڑ دو ۔ اس لیے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ اللہ پاک، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی ہرگز نافرمانی نہیں کریں گے۔
١٥۔ اور اس خط کی شرائط میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ہم میں سے جو تمہارے پاس آ جائے۔۔۔ اگرچہ وہ تمہارے دین پر ہو ۔۔۔ تم اس کو ہماری طرف واپس کرو گے۔ اور تمہارے پاس سے جو ہمارے ہاں آئے گا ہم اس کو تمہاری طرف واپس ۔۔۔ نہیں کریں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص میری جانب سے (تمہاری طرف) آئے گا مجھے اس کی واپسی کی ضرورت نہیں ہے۔ اور جو تو نے اپنے لیے شرائط ٹھہرائی ہے یہ میرے اور تیرے درمیان (عہد) ہے۔
١٦۔ لوگ ابھی اسی حالت میں تھے کہ اچانک مسلمانوں کو ابو جندل بن سہیل بن عمرو بیڑیوں میں گھسٹتا ہوا دکھائی دیا۔ پس سہیل نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو ناگہاں اس کا اپنا بیٹا ابو جندل تھا۔ سہیل نے کہا : یہ پہلا شخص ہے جس کی واپسی پر میں نے تیرے ساتھ صلح کی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے سہیل ! ہم تو ابھی تحریر سے فارغ ہی نہیں ہوئے ۔ سہیل نے کہا۔ جب تک آپ اس کو واپس نہیں کرتے ہیں آپ سے خط و کتابت ہی نہیں کرتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کا معاملہ تیرے حوالہ ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ ابو جندل ، مسلمانوں کی طرف تیز چل کر آیا اور اس نے کہا۔ اے جماعتِ مسلمین ! مجھے مشرکین کی طرف واپس کیا جا رہا ہے جبکہ وہ مجھے میرے دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا کریں گے ؟ حضرت عمر اس کے ساتھ چپک گئے اور اس کے والد نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو کھینچ لیا۔ حضرت عمر کہنے لگے۔ ایک ہی تو بندہ ہے اور تمہارے پاس تلوار بھی ہے۔ لیکن ان کا والد انھیں ساتھ لے گیا۔
١٧۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو مشرکین کی طرف واپس بھیجتے تھے جو مشرکین کی طرف سے دین اسلام قبول کر کے آتے تھے۔ پس جب یہ واپس ہونے والے افراد ایک جماعت کی شکل اختیار کر گئے اور انہی میں ابو البصیر بھی تھے۔۔۔ درآنحالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو واپس بھیجتے رہے تھے۔ تو یہ لوگ سمندر کے ساحل پر ٹھہر گئے اور انھوں نے قریش کے شام کی طرف جانے والے قافلوں کو لوٹنا شروع کردیا۔ اس پر قریش نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف (آدمی) بھیجا کہ ہمیں تم سے صلہ رحمی کی امید ہے۔ آپ ان (مفرور) لوگوں کو اپنے پاس واپس بلا لیں اور اپنے پاس اکٹھا کرلیں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنی طرف واپس بلا لیا۔
١٨۔ اور تحریر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سامنے جو ارادہ ظاہر کیا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ قریش کے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑیں تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوں اور اپنے مناسک کو ادا کریں اور ان کے ہاں اپنے ہدی کے جانور نحر کریں۔ قریش نے کہا۔ نہیں ! عرب کے لوگ ہمیں ہمیشہ کے لیے کہیں یہ طعنہ نہ دیں کہ آپ نے ہمارے ساتھ چستی کا مظاہرہ کر دکھایا ہے۔ لیکن آپ اس سال واپس جائیں اور جب آئندہ سال ہوگا تو ہم آپ کو اجازت دیں گے آپ عمرہ بھی ادا فرمائیں اور تین دن قیام بھی فرمائیں۔
١٩۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وہاں سے) کھڑے ہوئے اور لوگوں سے ارشاد فرمایا : ” اٹھو اور اپنے ہدی کے جانور نحر کردو۔ اور حلق کروا لو اور حلال ہو جاؤ۔ “ (یہ بات سن کر) کوئی آدمی کھڑا ہوا اور نہ ہی کسی نے کوئی حرکت کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اس بات کا تین مرتبہ حکم ارشاد فرمایا :َ لیکن کوئی آدمی بھی اپنی جگہ سے اٹھا اور نہ ہی کسی نے کوئی حرکت کی۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ام سلمہ کے پاس تشریف لے گئے ۔۔۔ حضرت ام سلمہ اس سفر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تشریف لائی تھیں۔ اور فرمایا : ” اے ام سلمہ ! لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ میں نے ان کو تین مرتبہ اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ نحر کرلیں اور حلق کروا لیں اور حلال ہوجائیں۔ لیکن کوئی آدمی بھی میرے حکم کو پورا کرنے کے لیے نہیں اٹھا ؟ “ حضرت ام سلمہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ باہر تشریف لے جائیں اور یہ کام (پہلے خود) کریں۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وہاں سے) اٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہدی کے جانور کی طرف قصد کیا اور اس کو نحر فرمایا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلق کرنے والے کو بلایا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کے سر مبارک) کو حلق کیا۔ پس جب لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس عمل کو دیکھا تو اپنی اپنی ہدی کی طرف لپک پڑے اور اس کو نحر کردیا۔ اور بعض ، بعض کے اوپر جھک گئے اور حلق کرنے لگے۔ یہاں تک کہ قریب تھا کہ بعض ، بعض کو بھیڑ کی وجہ سے نیچے دے دیتے۔
٢٠۔ ابن شہاب کہتے ہیں۔ ہدی کے وہ جانور جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے ساتھ لیے تھے ۔ وہ ستر تھے۔
٢١۔ ابن شہاب کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو اہل حدیبیہ پر اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ ہر ایک سو افراد کے لیے ایک حصہ تھا۔
٢۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (صحابہ سے) پوچھا۔ تم کیا کہتے ہو ؟ تمہارا کیا حکم ہے ؟ مجھے بتاؤ۔ قریش اور ان کی تیاریوں کی خبر تمہیں دو مرتبہ پہنچ چکی ہے۔ اور یہ مقام غمیم میں خالد بن ولید بھی پہنچ چکا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے پوچھا۔ کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ ہم اپنے رُخ پر چلتے رہیں اور جو کوئی ہمیں بیت اللہ سے روکے ہم اس سے لڑائی کریں۔ یا تمہاری رائے یہ ہے کہ ہم ان کے برخلاف ان کے پچھلوں کی طرف بڑھیں۔ پھر اگر ان میں سے کوئی جماعت پیچھے آئے گی تو اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دے گا۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حُکم، آپ کا حکم ہے۔ اور رائے بھی آپ کی رائے ہے۔ پھر یہ لوگ اس ٹیلے کے دائیں بائیں چل دیئے۔ اس بات کا خالد اور اس کے ہمراہ لشکر کو پتہ نہیں چلا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ لشکر کے غبار کو کر اس کر گئے۔
٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک بلند ٹیلے سے ایک پست زمین کی طرف لے گئی۔ جس کا نام بلدح تھا۔ اور (وہاں جا کر) بیٹھ گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حَلْ حَلْ ۔ لیکن وہ اونٹنی نہیں اٹھی۔ لوگوں نے کہا۔ قصوائ (اونٹنی کا نام ہے) اڑ گئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخدا یہ اونٹنی نہیں اَڑی اور نہ ہی اڑنا اس کی عادت ہے لیکن اس کو ہاتھیوں کو روکنے والے نے روک دیا ہے۔ سنو ! بخدا اگر آج کے دن وہ مجھے کسی مقام کی طرف ۔۔۔جس کا وہ بہت احترام کرتے ہیں ۔۔۔ بلائیں گے یا مجھے وہ کسی صلہ رحمی کی طرف بلائیں گے تو میں انھیں مثبت جواب دوں گا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹنی کو دوڑایا تو وہ اچھل پڑی پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے قدم کے نشانات پر وہیں واپس ہوگئے جہاں سے تشریف لائے تھے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو لے کر حدیبیہ کے ایک مقام پر فروکش ہوئے جہاں پر پانی اتنا قلیل تھا کہ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی لے رہے تھے۔ تو (اس پر) لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پانی کی قلت کی شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور ایک آدمی کو حکم دیا اور اس نے اس تیر کو کنویں کے درمیان میں گاڑ دیا۔ پس پانی نے اتنا جوش مارا کہ لوگ اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔
٤۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابھی اسی حالت میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی، اپنی قوم خزاعہ کے ایک گروہ کے ہمراہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تیری قوم کے لوگ عورتوں اور بچوں سمیت نکل چکے ہیں اور وہ خدا کے نام پر اس بات کی قسم کھا رہے ہیں کہ ضرور بالضرور تیرے اور مکہ کے درمیان حائل ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک بھی نہ بچے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے بدیل ! میں تو کسی کے ساتھ بھی لڑنے نہیں آیا۔ میں تو صرف اس لیے آیا ہوں تاکہ اپنے افعال عبادت ادا کرسکوں اور اس خانہ خدا کا طواف کروں۔ اور اگر یہ کام نہ ہو تو پھر کیا قریش کا کوئی اور ارادہ ہے ؟ کیا وہ اس بات پر راضی ہیں کہ میں ان کے ساتھ ایک مدت طے کرلوں جس میں وہ مامون رہیں گے اور اتنی مدت تک وہ اکٹھے بھی ہوجائیں۔ اور اس دوران وہ مجھے اور لوگوں کو کھلا چھوڑ دیں۔ اگر میرا معاملہ لوگوں پر غالب آگیا تو انھیں اس بات کا اختیار ہوگا ۔ چاہے تو لوگوں کی طرح یہ بھی دین میں داخل ہوجائیں اور چاہے تو یہ لڑائی کرلیں درآنحالیکہ انھوں نے اپنی تعداد بڑھا کر خوب تیاری کرلی ہوگی۔ بدیل نے کہا۔ میں یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم کو پیش کروں گا۔
٥۔ پس بدیل سوار ہو کر (چل پڑا) یہاں تک کہ وہ قریش کے پاس سے گزرا تو قریش نے اس سے پوچھا۔ تم کہاں سے آ رہے ہو ؟ بدیل نے کہا۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے آ رہا ہوں۔ اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس بات کی خبر دیتا ہوں جو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سُنی اور کہی ہے۔ قریش مں ت سے بیوقوف قسم کے لوگوں نے کہا۔ تم ہمیں اس کی بات نہ بتاؤ جو تم دیکھ کر اور سن کر آئے ہو۔ بدیل نے انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بیان کیا اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدت کی پیش کش کی تھی وہ بیان کی۔ راوی کہتے ہیں : اس دن قریش (کے اس گروہ) میں عروہ بن مسعود ثقفی بھی موجود تھا۔ وہ اچھل پڑا اور اس نے کہا۔ اے گروہ قریش ! کیا تم مجھ پر کسی شئی کی تہمت لگاتے ہو۔ کیا میں (تمہارا) بچہ نہیں ہوں ؟ اور کیا تم (میرے) والد نہیں ہو ؟ کیا میں نے تمہارے لیے اہل عکاظ سے مدد طلب نہیں کی اور جب انھوں نے مجھے منع کردیا تو مں ش خود اور اپنے بچوں اور ما تحتوں کو لے کر تمہارے پاس نہیں آگیا۔ انھوں نے جواباً کہا : کیوں نہیں ! تو نے ایسا ہی کیا ہے۔ عروہ نے کہا : پھر تم بدیل کی اس بات کو قبول کرلو جو وہ تمہارے پاس لے کر آیا ہے اور جو تمہارے اوپر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیش کی ہے۔ اور تم مجھے بھیجو تاکہ میں تمہارے پاس اس خیر کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے توفیق لے کر آؤں۔ قریش نے (اس سے) کہا۔ چل جا۔
٦۔ عروہ وہاں سے نکلا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مقام حدیبیہ مں اُترا اور اس نے کہا ۔ اے محمد ! یہ تیری قوم۔۔۔ کعب بن لوی اور عامر بن لوی۔۔۔ کے لوگ ہیں جو عورتوں اور بچوں سمیت باہر نکلے ہیں۔ انھوں نے قسم اٹھائی ہے کہ یہ لوگ تجھے مکہ کی طرف راستہ نہیں دیں گے حتی کہ ان کے نوجوان ہلاک ہوجائیں ۔ اور اب آپ کو اپنی قوم سے لڑائی کی دو صورتیں ہیں۔ (ایک تو یہ ہے کہ) تو اپنی قوم کو (لڑائی کر کے) نیست و نابود کر دے اور تو نے کسی آدمی کے بارے میں نہیں سنا ہوگا کہ اس نے تجھ سے پہلے اپنی قوم کو تباہ و برباد کیا ہو۔ اور (دوسری صورت یہ ہے کہ) جن کو میں آپ کے ہمراہ دیکھ رہا ہوں یہ آپ کو حوالہ کردیں ۔ مجھے تو تمہارے ہمراہ اجنبی قسم کے متفرق لوگ نظر آ رہے ہیں۔ مجھے تو ان کے ناموں اور شکلوں سے بھی معرفت نہیں ہے۔
٧۔ حضرت ابوبکر ۔۔۔ کو غصہ آگیا اور ۔۔۔ارشاد فرمایا : تم لات کی فرج چوسو۔ کیا ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسوا کریں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حوالہ کریں گے ؟ عروہ نے کہا : بخدا ! اگر تمہارا مجھ پر احسان نہ ہوتا جس کا میں نے بدلہ نہیں دیا۔ تو میں تمہیں تمہاری بات کا ضرور جواب دیتا۔
٨۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے ہوئے تھے اور ان کے چہرے پر خود تھی۔ (جس کی وجہ سے) عروہ نے ان کو نہ پہچانا۔ اور عروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باتیں کررہا تھا۔ اور جب بھی عروہ اپنا ہاتھ پھیلاتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی مبارک کو چھوتا۔ حضرت مغیرہ کے ہاتھ میں جو نیزہ تھا آپ نے اس کے ساتھ عروہ کو خبردار کیا۔ جب مغیرہ نے عروہ کو پریشان کیا تو اس نے پوچھا۔ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا ۔ کہ یہ مغیرہ بن شعبہ ہیں۔ عروہ نے کہا۔ اے عہد شکن ! تم یہاں ہو۔ تم نے کل مقام عکاظ میں اپنی عہد شکنی کو خود سے کیوں نہ دھو ڈالا ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عروہ بن مسعود کو وہی بات کہی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدیل سے کہی تھی۔
٩۔ عروہ وہاں سے کھڑا ہوا اور چل دیا یہاں تک کہ وہ اپنی قوم میں آیا اور اس نے کہا۔ اے گروہ قریش ! میں شاہوں کے دربار میں بھی گیا ہوں۔ میں قیصر کے پاس اس کے ملک شام میں گیا ہوں اور نجاشی کے پاس ارض حبشہ میں گیا ہوں اور عراق میں کسریٰ کے پاس بھی گیا ہوں۔ (لیکن) بخدا میں کسی بادشاہ کو اپنے لوگوں میں اس قدر عظمت والا نہیں دیکھا جس قدر میں محمد کو اس کے صحابہ میں باعظمت دیکھا ہے۔ بخدا وہ محمد کی طرف نظر گاڑھ کر نہیں دیکھتے اور اس کے پاس آواز اونچی نہیں کرتے۔ اور محمد جس پانی سے وضو کرتا ہے تو اس کے ساتھی اس دھو ون پر جمع ہوجاتے ہیں کہ کس کو اس میں سے کتنا حصہ ملتا ہے ؟ پس بدیل جو خبر تمہارے پاس لایا ہے اس کو قبول کرلو کیونکہ یہ سمجھ داری والا معاملہ ہے۔
١٠۔ قریش نے کہا : تم بیٹھ جاؤ۔ اور قریش نے بنی حارث بن عبد مناف کے ایک آدمی کو بلایا جس کا نام ” حُلَیس “ تھا اور (اس کو) کہا۔ تم جاؤ اور جو تمہیں اس آدمی (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کی طرف سے نظر آئے اور معلوم ہو اس کو دیکھو۔
١١۔ حُلیس وہاں سے نکلا۔ پس جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پہچان لیا اور ارشاد فرمایا : یہ ” حُلیس ہے۔ اور یہ ان لوگوں میں سے ہے جو ہدی کی تعظیم کرتے ہیں۔ پس تم اس کے رُخ پر ہدی کو چلا دو ۔ “ صحابہ نے اس کے رُخ پر ہدی کو چلا دیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں۔ حُلیس کے بارے میں احادیث (میں بیان) مختلف نقل ہوا ہے۔ بعض راویوں نے بیان کیا ہے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو وہی بات ارشاد فرمائی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدیل اور عروہ سے کہی تھی۔ اور بعض راوی بیان کرتے ہیں کہ جب اس نے ہدی (کے جانور کو) دیکھا تو وہ قریش کی طرف واپس چل دیا اور اس نے (قریش سے) کہا۔ یقیناً میں ایسی بات دیکھی ہے کہ اگر تم ان کو روکو گے تو مجھے خوف ہے کہ تم غلطی کا ارتکاب کرو گے۔ پس (اب) تم اپنا معاملہ خود ہی دیکھ لو۔
١٢۔ قریش نے (اس سے بھی) کہا۔ تم بیٹھ جاؤ اور قریش کے ایک آدمی کو بلایا۔ جس کا نام ” مکرز بن حفص بن الاخیف “ تھا۔ یہ شخص بنو عامر بن لؤی سے تعلق رکھتا تھا۔ اور اس کو بھیجا۔ پس جب اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ یہ ایک فاجر آدمی ہے جو آنکھ سے دیکھتا ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بھی مدت کے بارے میں ویسی بات کہی جیسی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدیل اور اس کے دیگر ساتھیوں سے کہی تیے۔ مکرز وہاں سے مشرکین کے پاس واپس آیا اور اس نے (آ کر) انھیں خبر دی۔
١٣۔ اس پر قریش نے بنو عامر بن لؤی کے سہیل بن عمرو کو بھیجا تاکہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ بات تحریر کروائے جس کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعوت دے رہے ہیں۔ سہیل بن عمرو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا۔ مجھے قریش نے آپ کی طرف اس لیے بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے ایسا فیصلہ تحریر کرواؤں جس پر میں اور آپ راضی ہوں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں (ٹھیک ہے) ، لکھو، بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ راوی کہتے ہیں : سہیل بن عمرو کہنے لگا۔ میں تو اللہ کو نہیں جانتا اور نہ ہی مجھے رحمن کی معرفت ہے۔ لیکن میں تو ایسے ہی لکھوں گا جیسا کہ ہم لکھتے ہیں۔ یعنی۔ باسمک اللّٰہم۔ لوگوں کو اس بات پر غصہ آگیا اور کہنے لگے۔ ہم تمہارے ساتھ کسی بھی طرح کی مکاتبت نہیں کریں گے یہاں تک کہ تو رحمٰن و رحیم کا اقرا ر کرے۔ سہیل نے کہا : پھر تو میں تمہارے ساتھ کسی طرح کی مکاتبت نہیں کروں گا اور لوٹ جاؤں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : لکھو۔ باسمک اللّٰھم۔ یہ وہ تحریر ہے جس پر ” محمد رسول اللہ “ نے باہم صلح کی ہے۔ سہیل نے کہا۔ میں اس بات کا اقرار نہیں کرتا۔ اگر میں آپ کو اللہ کا رسول جانتا ہوتا تو میں آپ کی مخالفت نہ کرتا اور نہ ہی آپ کی نافرمانی کرتا۔ لیکن میں تو ” محمد بن عبداللہ “ لکھوں گا۔ اس بات پر بھی لوگوں کو غصہ آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لکھو۔ (محمد بن عبداللہ ، سہیل بن عمرو)
١٤۔ اس پر حضرت عمر بن خطاب کھڑے ہوگئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ اور کیا ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ کیوں نہیں (ایسا ہی ہے) ۔ حضرت عمر نے عرض کیا۔ پھر ہم کس بنیاد پر اپنے دین میں یہ گھٹیا پن گوارا کر رہے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں خدا کا رسول ہوں۔ اور میں ہرگز اس کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ اور وہ ہرگز مجھے ضائع نہیں ہونے دے گا۔ حضرت ابوبکر ایک کونے میں گوشہ نشین تھے۔ کہ حضرت عمر ان کے پاس پہنچے اور کہا۔ اے ابوبکر ! انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! حضرت عمر نے کہا : کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ اور کیا ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : کیوں نہیں (ایسا ہی ہے) حضرت عمر نے کہا۔ تو پھر کس وجہ سے ہم اپنے دین میں یہ گھٹیا پن گوارا کر رہے ہیں۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : اے عمر ! اپنا یہ خیال چھوڑ دو ۔ اس لیے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ اللہ پاک، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی ہرگز نافرمانی نہیں کریں گے۔
١٥۔ اور اس خط کی شرائط میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ہم میں سے جو تمہارے پاس آ جائے۔۔۔ اگرچہ وہ تمہارے دین پر ہو ۔۔۔ تم اس کو ہماری طرف واپس کرو گے۔ اور تمہارے پاس سے جو ہمارے ہاں آئے گا ہم اس کو تمہاری طرف واپس ۔۔۔ نہیں کریں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص میری جانب سے (تمہاری طرف) آئے گا مجھے اس کی واپسی کی ضرورت نہیں ہے۔ اور جو تو نے اپنے لیے شرائط ٹھہرائی ہے یہ میرے اور تیرے درمیان (عہد) ہے۔
١٦۔ لوگ ابھی اسی حالت میں تھے کہ اچانک مسلمانوں کو ابو جندل بن سہیل بن عمرو بیڑیوں میں گھسٹتا ہوا دکھائی دیا۔ پس سہیل نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو ناگہاں اس کا اپنا بیٹا ابو جندل تھا۔ سہیل نے کہا : یہ پہلا شخص ہے جس کی واپسی پر میں نے تیرے ساتھ صلح کی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے سہیل ! ہم تو ابھی تحریر سے فارغ ہی نہیں ہوئے ۔ سہیل نے کہا۔ جب تک آپ اس کو واپس نہیں کرتے ہیں آپ سے خط و کتابت ہی نہیں کرتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کا معاملہ تیرے حوالہ ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ ابو جندل ، مسلمانوں کی طرف تیز چل کر آیا اور اس نے کہا۔ اے جماعتِ مسلمین ! مجھے مشرکین کی طرف واپس کیا جا رہا ہے جبکہ وہ مجھے میرے دین کے بارے میں فتنہ میں مبتلا کریں گے ؟ حضرت عمر اس کے ساتھ چپک گئے اور اس کے والد نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو کھینچ لیا۔ حضرت عمر کہنے لگے۔ ایک ہی تو بندہ ہے اور تمہارے پاس تلوار بھی ہے۔ لیکن ان کا والد انھیں ساتھ لے گیا۔
١٧۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو مشرکین کی طرف واپس بھیجتے تھے جو مشرکین کی طرف سے دین اسلام قبول کر کے آتے تھے۔ پس جب یہ واپس ہونے والے افراد ایک جماعت کی شکل اختیار کر گئے اور انہی میں ابو البصیر بھی تھے۔۔۔ درآنحالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو واپس بھیجتے رہے تھے۔ تو یہ لوگ سمندر کے ساحل پر ٹھہر گئے اور انھوں نے قریش کے شام کی طرف جانے والے قافلوں کو لوٹنا شروع کردیا۔ اس پر قریش نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف (آدمی) بھیجا کہ ہمیں تم سے صلہ رحمی کی امید ہے۔ آپ ان (مفرور) لوگوں کو اپنے پاس واپس بلا لیں اور اپنے پاس اکٹھا کرلیں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنی طرف واپس بلا لیا۔
١٨۔ اور تحریر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سامنے جو ارادہ ظاہر کیا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ قریش کے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑیں تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوں اور اپنے مناسک کو ادا کریں اور ان کے ہاں اپنے ہدی کے جانور نحر کریں۔ قریش نے کہا۔ نہیں ! عرب کے لوگ ہمیں ہمیشہ کے لیے کہیں یہ طعنہ نہ دیں کہ آپ نے ہمارے ساتھ چستی کا مظاہرہ کر دکھایا ہے۔ لیکن آپ اس سال واپس جائیں اور جب آئندہ سال ہوگا تو ہم آپ کو اجازت دیں گے آپ عمرہ بھی ادا فرمائیں اور تین دن قیام بھی فرمائیں۔
١٩۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وہاں سے) کھڑے ہوئے اور لوگوں سے ارشاد فرمایا : ” اٹھو اور اپنے ہدی کے جانور نحر کردو۔ اور حلق کروا لو اور حلال ہو جاؤ۔ “ (یہ بات سن کر) کوئی آدمی کھڑا ہوا اور نہ ہی کسی نے کوئی حرکت کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اس بات کا تین مرتبہ حکم ارشاد فرمایا :َ لیکن کوئی آدمی بھی اپنی جگہ سے اٹھا اور نہ ہی کسی نے کوئی حرکت کی۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ام سلمہ کے پاس تشریف لے گئے ۔۔۔ حضرت ام سلمہ اس سفر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تشریف لائی تھیں۔ اور فرمایا : ” اے ام سلمہ ! لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ میں نے ان کو تین مرتبہ اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ نحر کرلیں اور حلق کروا لیں اور حلال ہوجائیں۔ لیکن کوئی آدمی بھی میرے حکم کو پورا کرنے کے لیے نہیں اٹھا ؟ “ حضرت ام سلمہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ باہر تشریف لے جائیں اور یہ کام (پہلے خود) کریں۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وہاں سے) اٹھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہدی کے جانور کی طرف قصد کیا اور اس کو نحر فرمایا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلق کرنے والے کو بلایا اور اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کے سر مبارک) کو حلق کیا۔ پس جب لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس عمل کو دیکھا تو اپنی اپنی ہدی کی طرف لپک پڑے اور اس کو نحر کردیا۔ اور بعض ، بعض کے اوپر جھک گئے اور حلق کرنے لگے۔ یہاں تک کہ قریب تھا کہ بعض ، بعض کو بھیڑ کی وجہ سے نیچے دے دیتے۔
٢٠۔ ابن شہاب کہتے ہیں۔ ہدی کے وہ جانور جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے ساتھ لیے تھے ۔ وہ ستر تھے۔
٢١۔ ابن شہاب کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو اہل حدیبیہ پر اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ ہر ایک سو افراد کے لیے ایک حصہ تھا۔
(۳۸۰۱۰) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الأَنْصَارِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ، قَالَ : حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ فِی أَلْفٍ وَثَمَانِ مِئَۃٍ ، وَبَعَثَ بَیْنَ یَدَیْہِ عَیْنًا لَہُ مِنْ خُزَاعَۃَ ، یُدْعَی نَاجِیَۃَ ، یَأْتِیہِ بِخَبَرِ الْقَوْمُ ، حَتَّی نَزَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَدِیرًا بِعُسْفَانَ ، یُقَالُ لَہُ : غَدِیرُ الأَشْطَاطِ ، فَلَقِیَہُ عَیْنَہُ بِغَدِیرِ الأَشْطَاطِ ، فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، تَرَکْتُ قَوْمَکَ ؛ کَعْبَ بْنَ لُؤَیٍّ ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَیٍّ قَدَ اسْتَنْفَرُوا لَکَ الأَحَابِیشَ ، وَمَنْ أَطَاعَہُمْ ، قَدْ سَمِعُوا بِمَسِیرِکَ ، وَتَرَکْتُ عِبْدَانَہُمْ یُطْعَمُونَ الْخَزِیرَ فِی دُورِہِمْ ، وَہَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فِی خَیْلٍ بَعَثُوہُ۔
فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَاذَا تَقُولُونَ ؟ مَاذَا تَأْمُرونَ ؟ أَشِیرُوا عَلَیَّ ، قَدْ جَائَکُمْ خَبَرُ قُرَیْشٍ ، مَرَّتَیْنِ ، وَمَا صَنَعَتْ ، فَہَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ بِالْغَمِیمِ ، قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَتَرَوْنَ أَنْ نَمْضِیَ لِوَجْہِنَا ، مَنْ صَدَّنَا عَنِ الْبَیْتِ قَاتَلْنَاہُ ؟ أَمْ تَرَوْنَ أَنْ نُخَالِفَ ہَؤُلاَئِ إِلَی مَنْ تَرَکُوا وَرَائَہُمْ، فَإِنِ اتَّبَعَنَا مِنْہُمْ عُنُقٌ قَطَعَہُ اللَّہُ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، الأَمْرُ أَمْرُکَ ، وَالرَّأْیُ رَأْیُکَ ، فَتَیَامَنُوا فِی ہَذَا الْعَصَلِ ، فَلَمْ یَشْعُرْ بِہِ خَالِدٌ ، وَلاَ الْخَیْلُ الَّتِی مَعَہُ حَتَّی جَاوَزَ بِہِمْ قَتَرَۃَ الْجَیْشِ۔
وَأَوْفَتْ بِہِ نَاقَتُہُ عَلَی ثَنِیَّۃٍ تَہْبِطُ عَلَی غَائِطِ الْقَوْمِ ، یُقَالُ لَہُ بَلْدَحُ ، فَبَرَکَتْ ، فَقَالَ : حَلْ حَلْ ، فَلَمْ تَنْبَعِثْ ، فَقَالُوا : خَلأَتِ الْقَصْوَائُ ، قَالَ : إِنَّہَا وَاللہِ مَا خَلأَتْ ، وَلاَ ہُوَ لَہَا بِخُلُقٍ ، وَلَکِنْ حَبَسَہَا حَابِسُ الْفِیلِ ، أَمَّا وَاللہِ لاَ یَدْعُونِی الْیَوْمَ إِلَی خُطَّۃٍ ، یُعَظِّمُونَ فِیہَا حُرْمَۃً ، وَلاَ یَدْعُونِی فِیہَا إِلَی صِلَۃٍ إِلاَّ أَجَبْتُہُمْ إِلَیْہَا ، ثُمَّ زَجَرَہَا فَوَثَبَتْ ، فَرَجَعَ مِنْ حَیْثُ جَائَ ، عَوْدَہُ عَلَی بَدْئِہِ ، حَتَّی نَزَلَ بِالنَّاسِ عَلَی ثَمَدٍ مِنْ ثِمَادِ الْحُدَیْبِیَۃِ ظَنُونٍ، قَلِیلِ الْمَائِ، یَتَبَرَّضُ النَّاسُ مَائَہَا تَبَرَّضًا، فَشَکَوْا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قِلَّۃَ الْمَائِ، فَانْتَزَعَ سَہْمًا مِنْ کِنَانَتِہِ، فَأَمَرَ رَجُلاً فَغَرَزَہُ فِی جَوْفِ الْقَلِیبِ، فَجَاشَ بِالْمَائِ حَتَّی ضَرَبَ النَّاسُ عَنْہُ بِعَطَنٍ۔
فَبَیْنَمَا ہُوَ عَلَی ذَلِکَ إِذْ مَرَّ بِہِ بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ الْخُزَاعِیُّ فِی رَکْبٍ مِنْ قَوْمِہِ مِنْ خُزَاعَۃَ ، فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، ہَؤُلاَئِ قَوْمُکَ قَدْ خَرَجُوا بِالْعُوذِ الْمَطَافِیلِ ، یُقْسِمُونَ بِاللہِ لَیَحُولُنَّ بَیْنَکَ وَبَیْنَ مَکَّۃَ حَتَّی لاَ یَبْقَی مِنْہُمْ أَحَدٌ ، قَالَ : یَا بُدَیْلُ ، إِنِّی لَمْ آتِ لِقِتَالِ أَحَدٍ ، إِنَّمَا جِئْتُ أَقْضِی نُسُکِی وَأَطُوفُ بِہَذَا الْبَیْتِ ، وَإِلاَّ فَہَلْ لِقُرَیْشٍ فِی غَیْرِ ذَلِکَ ، ہَلْ لَہُمْ إِلَی أَنْ أُمَادَّہُمْ مُدَّۃً یَأْمَنُونَ فِیہَا وَیَسْتَجِمُّونَ ، وَیُخَلُّونَ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ النَّاسِ ، فَإِنْ ظَہَرَ فِیہَا أَمْرِی عَلَی النَّاسِ کَانُوا فِیہَا بِالْخِیَارِ : أَنْ یَدْخُلُوا فِیمَا دَخَلَ فِیہِ النَّاسُ ، وَبَیْنَ أَنْ یُقَاتِلُوا وَقَدْ جَمَعُوا وَأَعَدُّوا ، قَالَ بُدَیْلٌ : سَأَعْرِضُ ہَذَا عَلَی قَوْمِکَ۔
فَرَکِبَ بُدَیْلٌ حَتَّی مَرَّ بِقُرَیْشٍ ، فَقَالُوا : مِنْ أَیْنَ ؟ قَالَ : جِئْتُکُمْ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَخْبَرْتُکُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْہُ فَعَلْتُ ، فَقَالَ أُنَاسٌ مِنْ سُفَہَائِہِمْ : لاَ تُخْبِرْنَا عَنْہُ شَیْئًا ، وَقَالَ نَاسٌ مِنْ ذَوِی أَسْنَانِہِمْ وَحُکَمَائِہِمْ : بَلْ أَخْبِرْنَا مَا الَّذِی رَأَیْتَ ؟ وَمَا الَّذِی سَمِعْتَ ؟ فَاقْتَصَّ عَلَیْہِمْ بُدَیْلٌ قِصَّۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَمَا عَرَضَ عَلَیْہِمْ مِنَ الْمُدَّۃِ ، قَالَ : وَفِی کُفَّارِ قُرَیْشٍ یَوْمَئِذٍ عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِیُّ ، فَوَثَبَ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، ہَلْ تَتَّہِمُونَنِی فِی شَیْئٍ ؟ أَوَلَسْتُ بِالْوَلَدِ ؟ أَوَلَسْتُمْ بِالْوَالِد ؟ أَوَلَسْتُ قَدَ اسْتَنْفَرْتُ لَکُمْ أَہْلَ عُکَاظٍ ، فَلَمَّا بَلَحُوا عَلَیَّ نَفَرْتُ إِلَیْکُمْ بِنَفْسِی وَوَلَدِی وَمَنْ أَطَاعَنِی ، قَالُوا : بَلَی ، قَدْ فَعَلْتَ ، قَالَ : فَاقْبَلُوا مِنْ بُدَیْلٍ مَا جَائَکُمْ بِہِ ، وَمَا عَرَضَ عَلَیْکُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَابْعَثُونِی حَتَّی آتِیَکُمْ بِمُصَادِقِہَا مِنْ عِنْدِہِ ، قَالُوا : فَاذْہَبْ۔
فَخَرَجَ عُرْوَۃُ حَتَّی نَزَلَ بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ ، فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، ہَؤُلاَئِ قَوْمُکَ ؛ کَعْبُ بْنُ لُؤَیٍّ ، وَعَامِرُ بْنُ لُؤَیٍّ قَدْ خَرَجُوا بِالْعُوذِ الْمَطَافِیلِ ، یُقْسِمُونَ : لاَ یُخَلُّونَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ مَکَّۃَ حَتَّی تُبِیدَ خَضْرَائَہُمْ ، وَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ قِتَالِہِمْ بَیْنَ أَحَدِ أَمْرَیْنِ : أَنْ تَجْتَاحَ قَوْمَکَ ، فَلَمْ تَسْمَعْ بِرَجُلٍ قَطَّ اجْتَاحَ أَصْلَہُ قَبْلَکَ ، وَبَیْنَ أَنْ یُسْلِمَکَ مَنْ أَرَی مَعَکَ ، فَإِنِّی لاَ أَرَی مَعَکَ إِلاَّ أَوْبَاشًا مِنَ النَّاسِ ، لاَ أَعْرِفُ أَسْمَائَہُمْ ، وَلاَ وُجُوہَہُمْ۔
فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ، وَغَضِبَ: اُمْصُصْ بَظْرَ اللاَّتِ، أَنَحْنُ نَخْذُلُہُ، أَوْ نُسْلِمُہُ؟ فَقَالَ عُرْوَۃُ: أَمَّا وَاللہِ لَوْلاَ یَدٌ لَکَ عِنْدِی لَمْ أَجْزِکَ بِہَا لأَجَبْتُکَ فِیمَا قُلْتَ ، وَکَانَ عُرْوَۃُ قَدْ تَحَمَّلَ بِدِیَۃٍ ، فَأَعَانَہُ أَبُو بَکْرٍ فِیہَا بِعَوْنٍ حَسَنٍ۔
وَالْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ قَائِمٌ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَعَلَی وَجْہِہِ الْمِغْفَرُ ، فَلَمْ یَعْرِفْہُ عُرْوَۃُ ، وَکَانَ عُرْوَۃُ یُکَلِّمُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکُلَّمَا مَدَّ یَدَہُ ، یَمَسُّ لِحْیَۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَرَعَہَا الْمُغِیرَۃُ بِقَدَحٍ کَانَ فِی یَدِہِ ، حَتَّی إِذَا أَحْرَجَہُ ، قَالَ : مَنْ ہَذَا ؟ قَالُوا : ہَذَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ ، قَالَ عُرْوَۃُ : أَنْتَ بِذَاکَ یَا غُدَرُ ، وَہَلْ غَسَلْتَ عَنْکَ غَدْرَتَکَ إِلاَّ أَمْسَ بِعُکَاظٍ ؟۔ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعُرْوَۃِ بْنِ مَسْعُودٍ مِثْلَ مَا قَالَ لِبُدَیْلٍ۔
فَقَامَ عُرْوَۃُ ، فَخَرَجَ حَتَّی جَائَ إِلَی قَوْمِہِ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، إِنِّی قَدْ وَفَدْتُ عَلَی الْمُلُوک ، عَلَی قَیْصَرَ فِی مُلْکِہِ بِالشَّامِ ، وَعَلَی النَّجَاشِیِّ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ ، وَعَلَی کِسْرَی بِالْعِرَاقِ ، وَإِنِّی وَاللہِ مَا رَأَیْتَ مَلِکًا ہُوَ أَعْظَمُ فِیمَنْ ہُوَ بَیْنَ ظَہْرَیْہِ مِنْ مُحَمَّدٍ فِی أَصْحَابِہِ ، وَاللہِ مَا یَشُدُّونَ إِلَیْہِ النَّظَرَ ، وَمَا یَرْفَعُونَ عِنْدَہُ الصَّوْتَ ، وَمَا یَتَوَضَّأُ مِنْ وَضُوئٍ إِلاَّ ازْدَحَمُوا عَلَیْہِ ، أَیُّہُمْ یَظْفَرُ مِنْہُ بِشَیْئٍ ، فَاقْبَلُوا الَّذِی جَائَکُمْ بِہِ بُدَیْلٌ؛ فَإِنَّہَا خُطَّۃُ رُشْدٍ۔
قَالُوا : اجْلِسْ ، وَدَعَوْا رَجُلاً مِنْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ ، یُقَالُ لَہُ : الْحُلَیْسُ ، فَقَالُوا : انْطَلِقْ ، فَانْظُرْ مَا قِبَلُ ہَذَا الرَّجُلِ ، وَمَا یَلْقَاکَ بِہِ ، فَخَرَجَ الْحُلَیْسُ ، فَلَمَّا رَآہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُقْبِلاً عَرَفَہُ ، قَالَ : ہَذَا الْحُلَیْسُ ، وَہُوَ مِنْ قَوْمٍ یُعَظِّمُونَ الْہَدْی ، فَابْعَثُوا الْہَدْیَ فِی وَجْہِہِ ، فَبَعَثُوا الْہَدْیَ فِی وَجْہِہِ ، قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : فَاخْتَلَفَ الْحَدِیثُ فِی الْحُلَیْسِ ، فَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ : جَائَہُ ، فَقَالَ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لِبُدَیْلٍ وَعُرْوَۃَ ، وَمِنْہُمْ مَنْ قَالَ لَمَّا رَأَی الْہَدْیَ رَجَعَ إِلَی قُرَیْشٍ ، فَقَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُ امْرئًا لَئِنْ صَدَدْتُمُوہُ إِنِّی لَخَائِفٌ عَلَیْکُمْ أَنْ یُصِیبَکُمْ عَنْتٌ ، فَأَبْصِرُوا بَصَرَکُمْ۔
قَالُوا : اجْلِسْ ، وَدَعَوْا رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ یُقَالُ لَہُ : مِکْرَزُ بْنُ حَفْصِ بْنِ الأَحْنَفِ ، مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَی ، فَبَعَثُوہُ ، فَلَمَّا رَآہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ہَذَا رَجُلٌ فَاجِرٌ یَنْظُرُ بِعَیْنٍ ، فَقَالَ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لِبُدَیْلٍ وَلأَصْحَابِہِ فِی الْمُدَّۃِ ، فَجَائَہُمْ فَأَخْبَرَہُمْ ، فَبَعَثُوا سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ یُکَاتِبُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الَّذِی دَعَا إِلَیْہِ ، فَجَائَہُ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو ، فَقَالَ : قَدْ بَعَثَتْنِی قُرَیْشٌ إِلَیْکَ أُکَاتِبُکَ عَلَی قَضِیَّۃٍ ، نَرْتَضِی أَنَا وَأَنْتَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : نَعَمَ ، اُکْتُبْ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، قَالَ : قَالَ : مَا أَعْرِفُ اللَّہَ ، وَلاَ أَعْرِفُ الرَّحْمَنَ ، وَلَکِنْ أَکْتُبَ کَمَا کُنَّا نَکْتُبُ : بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ ، فَوَجَدَ النَّاسُ مِنْ ذَلِکَ ، وَقَالُوا :
لاَ نُکَاتِبُکَ عَلَی خُطَّۃٍ حَتَّی تُقِرَّ بِالرَّحْمَان الرَّحِیمِ ، قَالَ سُہَیْلٌ : إِذًا لاَ أُکَاتِبُہُ عَلَی خُطَّۃٍ حَتَّی أَرْجِعَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُکْتُبْ : بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ ، ہَذَا مَا قَاضَی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ ، قَالَ : لاَ أُقِرُ ، لَوْ أَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللہِ مَا خَالَفْتُکَ ، وَلاَ عَصَیْتُکَ ، وَلَکِنْ اُکْتُبْ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، فَوَجَدَ النَّاسُ مِنْہَا أَیْضًا ، قَالَ : اُکْتُبْ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ۔ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو۔
فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ ، أَوَلَیْسَ عَدُوُّنَا عَلَی بَاطِلٍ ؟ قَالَ : بَلَی ، قَالَ : فَعَلَی مَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا ؟ قَالَ : إِنِّی رَسُولُ اللہِ ، وَلَنْ أَعْصِیَہُ ، وَلَنْ یُضَیِّعَنِی ، وَأَبُو بَکْرٍ مُتَنَحٍّ نَاحِیَۃً ، فَأَتَاہُ عُمَرُ ، فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ ، أَوَلَیْسَ عَدُوُّنَا عَلَی بَاطِلٍ ؟ قَالَ: بَلَی ، قَالَ : فَعَلَی مَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا ؟ قَالَ : دَعْ عَنْکَ مَا تَرَی یَا عُمَرُ ، فَإِنَّہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلَنْ یُضَیِّعَہُ اللَّہُ ، وَلَنْ یَعْصِیَہُ۔
وَکَانَ فِی شَرْطِ الْکِتَابِ أَنَّہُ: مَنْ کَانَ مِنَّا فَأَتَاکَ ، فَإِنْ کَانَ عَلَی دِینِکَ رَدَدْتَہُ إِلَیْنَا ، وَمَنْ جَائَنَا مِنْ قِبَلِکَ رَدَدْنَاہُ إِلَیْکَ، قَالَ: أَمَا مَنْ جَائَ مِنْ قِبَلِی فَلاَ حَاجَۃَ لِی بِرَدِّہِ، وَأَمَّا الَّتِی اشْتَرَطْتَ لِنَفْسِکَ فَتِلْکَ بَیْنِی وَبَیْنَکَ۔
فَبَیْنَمَا النَّاسُ عَلَی ذَلِکَ الْحَالِ إِذْ طَلَعَ عَلَیْہِمْ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو ، یَرْسُفُ فِی الْحَدِیدِ ، قَدْ خَلاَ لَہُ أَسْفَلُ مَکَّۃَ مُتَوَشِّحًا السَّیْفَ ، فَرَفَعَ سُہَیْلٌ رَأْسَہُ ، فَإِذَا ہُوَ بِابْنِہِ أَبِی جَنْدَلٍ ، فَقَالَ : ہَذَا أَوَّلُ مَنْ قَاضَیْتُکَ عَلَی رَدِّہِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا سُہَیْلُ ؛ إِنَّا لَمْ نَقْضِ الْکِتَابَ بَعْدُ ، قَالَ : وَلاَ أُکَاتِبُکَ عَلَی خُطَّۃٍ حَتَّی تَرُدَّہُ ، قَالَ : فَشَأْنُکَ بِہِ ، قَالَ : فَبَہَشَ أَبُو جَنْدَلٍ إِلَی النَّاسِ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ ، أُرَدُّ إِلَی الْمُشْرِکِینَ یَفْتِنُونَنِی فِی دِینِی ؟ فَلَصِقَ بِہِ عُمَرُ وَأَبُوہُ آخِذٌ بِیَدِہِ یَجْتَرُّہُ ، وَعُمَرُ یَقُولُ: إِنَّمَا ہُوَ رَجُلٌ ، وَمَعَک السَّیْفُ ، فَانْطَلَقَ بِہِ أَبُوہُ۔
فَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرُدُّ عَلَیْہِمْ مَنْ جَائَ مِنْ قِبَلِہِمْ یَدْخُلُ فِی دِینِہِ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا نَفَرٌ فِیہِمْ أَبُو بَصِیرٍ وَرَدَّہُمْ إِلَیْہِمْ ، أَقَامُوا بِسَاحِلِ الْبَحْرِ ، فَکَانُوا قَطَعُوا عَلَی قُرَیْشٍ مَتْجَرَہُمْ إِلَی الشَّامِ ، فَبَعَثُوا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّا نَرَاہَا مِنْک صِلَۃً ، أَنْ تَرُدَّہُمْ إِلَیْک وَتَجْمَعَہُمْ ، فَرَدَّہُمْ إِلَیْہِ۔
وَکَانَ فِیمَا أَرَادَہُمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْکِتَابِ : أَنْ یَدَعُوہُ یَدْخُلُ مَکَّۃَ ، فَیَقْضِی نُسُکَہُ ، وَیَنْحَرُ ہَدْیَہُ بَیْنَ ظَہْرَیْہِمْ ، فَقَالُوا : لاَ تَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّکَ أَخَذْتَنَا ضَغْطَۃً أَبَدًا ، وَلَکِنِ ارْجِعْ عَامَکَ ہَذَا ، فَإِذَا کَانَ قَابِلٌ أَذِنَّا لَکَ ، فَاعْتَمَرْتَ وَأَقَمْتَ ثَلاَثًا۔
وَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : قُومُوا فَانْحَرُوا ہَدْیَکُمْ ، وَاحْلِقُوا وَأَحِلُّوا ، فَمَا قَامَ رَجُلٌ وَلاَ تَحَرَّکَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِذَلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَمَا تَحَرَّکَ رَجُلٌ وَلاَ قَامَ مِنْ مَجْلِسِہِ ، فَلَمَّا رَأَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ دَخَلَ عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ ، وَکَانَ خَرَجَ بِہَا فِی تِلْکَ الْغَزْوَۃِ ، فَقَالَ : یَا أُمَّ سَلَمَۃَ ، مَا بَالُ النَّاسِ ، أَمَرْتُہُمْ ثَلاَثَ مِرَارٍ أَنْ یَنْحَرُوا ، وَأَنْ یَحْلِقُوا ، وَأَنْ یَحِلُّوا ، فَمَا قَامَ رَجُلٌ إِلَی مَا أَمَرْتُہُ بِہِ ؟ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اُخْرُجْ أَنْتَ فَاصْنَعْ ذَلِکَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی یَمَّمَ ہَدْیَہُ ، فَنَحَرَہُ ، وَدَعَا حَلاَقًا فَحَلَقَہُ ، فَلَمَّا رَأَی النَّاسَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَثَبُوا إِلَی ہَدْیِہِمْ فَنَحَرُوہُ ، وَأَکَبَّ بَعْضُہُمْ یَحْلِقُ بَعْضًا ، حَتَّی کَادَ بَعْضُہُمْ أَنْ یَغُمَّ بَعْضًا مِنَ الزِّحَامِ۔
قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : وَکَانَ الْہَدْیُ الَّذِی سَاقَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ سَبْعِینَ بَدَنَۃً۔
قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : فَقَسَّمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْبَرَ عَلَی أَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ ، عَلَی ثَمَانیَۃَ عَشَرَ سَہْمًا ، لِکُلِّ مِئَۃِ رَجُلٍ سَہْمٌ۔
فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَاذَا تَقُولُونَ ؟ مَاذَا تَأْمُرونَ ؟ أَشِیرُوا عَلَیَّ ، قَدْ جَائَکُمْ خَبَرُ قُرَیْشٍ ، مَرَّتَیْنِ ، وَمَا صَنَعَتْ ، فَہَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ بِالْغَمِیمِ ، قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَتَرَوْنَ أَنْ نَمْضِیَ لِوَجْہِنَا ، مَنْ صَدَّنَا عَنِ الْبَیْتِ قَاتَلْنَاہُ ؟ أَمْ تَرَوْنَ أَنْ نُخَالِفَ ہَؤُلاَئِ إِلَی مَنْ تَرَکُوا وَرَائَہُمْ، فَإِنِ اتَّبَعَنَا مِنْہُمْ عُنُقٌ قَطَعَہُ اللَّہُ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، الأَمْرُ أَمْرُکَ ، وَالرَّأْیُ رَأْیُکَ ، فَتَیَامَنُوا فِی ہَذَا الْعَصَلِ ، فَلَمْ یَشْعُرْ بِہِ خَالِدٌ ، وَلاَ الْخَیْلُ الَّتِی مَعَہُ حَتَّی جَاوَزَ بِہِمْ قَتَرَۃَ الْجَیْشِ۔
وَأَوْفَتْ بِہِ نَاقَتُہُ عَلَی ثَنِیَّۃٍ تَہْبِطُ عَلَی غَائِطِ الْقَوْمِ ، یُقَالُ لَہُ بَلْدَحُ ، فَبَرَکَتْ ، فَقَالَ : حَلْ حَلْ ، فَلَمْ تَنْبَعِثْ ، فَقَالُوا : خَلأَتِ الْقَصْوَائُ ، قَالَ : إِنَّہَا وَاللہِ مَا خَلأَتْ ، وَلاَ ہُوَ لَہَا بِخُلُقٍ ، وَلَکِنْ حَبَسَہَا حَابِسُ الْفِیلِ ، أَمَّا وَاللہِ لاَ یَدْعُونِی الْیَوْمَ إِلَی خُطَّۃٍ ، یُعَظِّمُونَ فِیہَا حُرْمَۃً ، وَلاَ یَدْعُونِی فِیہَا إِلَی صِلَۃٍ إِلاَّ أَجَبْتُہُمْ إِلَیْہَا ، ثُمَّ زَجَرَہَا فَوَثَبَتْ ، فَرَجَعَ مِنْ حَیْثُ جَائَ ، عَوْدَہُ عَلَی بَدْئِہِ ، حَتَّی نَزَلَ بِالنَّاسِ عَلَی ثَمَدٍ مِنْ ثِمَادِ الْحُدَیْبِیَۃِ ظَنُونٍ، قَلِیلِ الْمَائِ، یَتَبَرَّضُ النَّاسُ مَائَہَا تَبَرَّضًا، فَشَکَوْا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قِلَّۃَ الْمَائِ، فَانْتَزَعَ سَہْمًا مِنْ کِنَانَتِہِ، فَأَمَرَ رَجُلاً فَغَرَزَہُ فِی جَوْفِ الْقَلِیبِ، فَجَاشَ بِالْمَائِ حَتَّی ضَرَبَ النَّاسُ عَنْہُ بِعَطَنٍ۔
فَبَیْنَمَا ہُوَ عَلَی ذَلِکَ إِذْ مَرَّ بِہِ بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ الْخُزَاعِیُّ فِی رَکْبٍ مِنْ قَوْمِہِ مِنْ خُزَاعَۃَ ، فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، ہَؤُلاَئِ قَوْمُکَ قَدْ خَرَجُوا بِالْعُوذِ الْمَطَافِیلِ ، یُقْسِمُونَ بِاللہِ لَیَحُولُنَّ بَیْنَکَ وَبَیْنَ مَکَّۃَ حَتَّی لاَ یَبْقَی مِنْہُمْ أَحَدٌ ، قَالَ : یَا بُدَیْلُ ، إِنِّی لَمْ آتِ لِقِتَالِ أَحَدٍ ، إِنَّمَا جِئْتُ أَقْضِی نُسُکِی وَأَطُوفُ بِہَذَا الْبَیْتِ ، وَإِلاَّ فَہَلْ لِقُرَیْشٍ فِی غَیْرِ ذَلِکَ ، ہَلْ لَہُمْ إِلَی أَنْ أُمَادَّہُمْ مُدَّۃً یَأْمَنُونَ فِیہَا وَیَسْتَجِمُّونَ ، وَیُخَلُّونَ فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ النَّاسِ ، فَإِنْ ظَہَرَ فِیہَا أَمْرِی عَلَی النَّاسِ کَانُوا فِیہَا بِالْخِیَارِ : أَنْ یَدْخُلُوا فِیمَا دَخَلَ فِیہِ النَّاسُ ، وَبَیْنَ أَنْ یُقَاتِلُوا وَقَدْ جَمَعُوا وَأَعَدُّوا ، قَالَ بُدَیْلٌ : سَأَعْرِضُ ہَذَا عَلَی قَوْمِکَ۔
فَرَکِبَ بُدَیْلٌ حَتَّی مَرَّ بِقُرَیْشٍ ، فَقَالُوا : مِنْ أَیْنَ ؟ قَالَ : جِئْتُکُمْ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَخْبَرْتُکُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْہُ فَعَلْتُ ، فَقَالَ أُنَاسٌ مِنْ سُفَہَائِہِمْ : لاَ تُخْبِرْنَا عَنْہُ شَیْئًا ، وَقَالَ نَاسٌ مِنْ ذَوِی أَسْنَانِہِمْ وَحُکَمَائِہِمْ : بَلْ أَخْبِرْنَا مَا الَّذِی رَأَیْتَ ؟ وَمَا الَّذِی سَمِعْتَ ؟ فَاقْتَصَّ عَلَیْہِمْ بُدَیْلٌ قِصَّۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَمَا عَرَضَ عَلَیْہِمْ مِنَ الْمُدَّۃِ ، قَالَ : وَفِی کُفَّارِ قُرَیْشٍ یَوْمَئِذٍ عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِیُّ ، فَوَثَبَ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، ہَلْ تَتَّہِمُونَنِی فِی شَیْئٍ ؟ أَوَلَسْتُ بِالْوَلَدِ ؟ أَوَلَسْتُمْ بِالْوَالِد ؟ أَوَلَسْتُ قَدَ اسْتَنْفَرْتُ لَکُمْ أَہْلَ عُکَاظٍ ، فَلَمَّا بَلَحُوا عَلَیَّ نَفَرْتُ إِلَیْکُمْ بِنَفْسِی وَوَلَدِی وَمَنْ أَطَاعَنِی ، قَالُوا : بَلَی ، قَدْ فَعَلْتَ ، قَالَ : فَاقْبَلُوا مِنْ بُدَیْلٍ مَا جَائَکُمْ بِہِ ، وَمَا عَرَضَ عَلَیْکُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَابْعَثُونِی حَتَّی آتِیَکُمْ بِمُصَادِقِہَا مِنْ عِنْدِہِ ، قَالُوا : فَاذْہَبْ۔
فَخَرَجَ عُرْوَۃُ حَتَّی نَزَلَ بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ ، فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، ہَؤُلاَئِ قَوْمُکَ ؛ کَعْبُ بْنُ لُؤَیٍّ ، وَعَامِرُ بْنُ لُؤَیٍّ قَدْ خَرَجُوا بِالْعُوذِ الْمَطَافِیلِ ، یُقْسِمُونَ : لاَ یُخَلُّونَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ مَکَّۃَ حَتَّی تُبِیدَ خَضْرَائَہُمْ ، وَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ قِتَالِہِمْ بَیْنَ أَحَدِ أَمْرَیْنِ : أَنْ تَجْتَاحَ قَوْمَکَ ، فَلَمْ تَسْمَعْ بِرَجُلٍ قَطَّ اجْتَاحَ أَصْلَہُ قَبْلَکَ ، وَبَیْنَ أَنْ یُسْلِمَکَ مَنْ أَرَی مَعَکَ ، فَإِنِّی لاَ أَرَی مَعَکَ إِلاَّ أَوْبَاشًا مِنَ النَّاسِ ، لاَ أَعْرِفُ أَسْمَائَہُمْ ، وَلاَ وُجُوہَہُمْ۔
فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ، وَغَضِبَ: اُمْصُصْ بَظْرَ اللاَّتِ، أَنَحْنُ نَخْذُلُہُ، أَوْ نُسْلِمُہُ؟ فَقَالَ عُرْوَۃُ: أَمَّا وَاللہِ لَوْلاَ یَدٌ لَکَ عِنْدِی لَمْ أَجْزِکَ بِہَا لأَجَبْتُکَ فِیمَا قُلْتَ ، وَکَانَ عُرْوَۃُ قَدْ تَحَمَّلَ بِدِیَۃٍ ، فَأَعَانَہُ أَبُو بَکْرٍ فِیہَا بِعَوْنٍ حَسَنٍ۔
وَالْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ قَائِمٌ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَعَلَی وَجْہِہِ الْمِغْفَرُ ، فَلَمْ یَعْرِفْہُ عُرْوَۃُ ، وَکَانَ عُرْوَۃُ یُکَلِّمُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکُلَّمَا مَدَّ یَدَہُ ، یَمَسُّ لِحْیَۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَرَعَہَا الْمُغِیرَۃُ بِقَدَحٍ کَانَ فِی یَدِہِ ، حَتَّی إِذَا أَحْرَجَہُ ، قَالَ : مَنْ ہَذَا ؟ قَالُوا : ہَذَا الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ ، قَالَ عُرْوَۃُ : أَنْتَ بِذَاکَ یَا غُدَرُ ، وَہَلْ غَسَلْتَ عَنْکَ غَدْرَتَکَ إِلاَّ أَمْسَ بِعُکَاظٍ ؟۔ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعُرْوَۃِ بْنِ مَسْعُودٍ مِثْلَ مَا قَالَ لِبُدَیْلٍ۔
فَقَامَ عُرْوَۃُ ، فَخَرَجَ حَتَّی جَائَ إِلَی قَوْمِہِ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ ، إِنِّی قَدْ وَفَدْتُ عَلَی الْمُلُوک ، عَلَی قَیْصَرَ فِی مُلْکِہِ بِالشَّامِ ، وَعَلَی النَّجَاشِیِّ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ ، وَعَلَی کِسْرَی بِالْعِرَاقِ ، وَإِنِّی وَاللہِ مَا رَأَیْتَ مَلِکًا ہُوَ أَعْظَمُ فِیمَنْ ہُوَ بَیْنَ ظَہْرَیْہِ مِنْ مُحَمَّدٍ فِی أَصْحَابِہِ ، وَاللہِ مَا یَشُدُّونَ إِلَیْہِ النَّظَرَ ، وَمَا یَرْفَعُونَ عِنْدَہُ الصَّوْتَ ، وَمَا یَتَوَضَّأُ مِنْ وَضُوئٍ إِلاَّ ازْدَحَمُوا عَلَیْہِ ، أَیُّہُمْ یَظْفَرُ مِنْہُ بِشَیْئٍ ، فَاقْبَلُوا الَّذِی جَائَکُمْ بِہِ بُدَیْلٌ؛ فَإِنَّہَا خُطَّۃُ رُشْدٍ۔
قَالُوا : اجْلِسْ ، وَدَعَوْا رَجُلاً مِنْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ ، یُقَالُ لَہُ : الْحُلَیْسُ ، فَقَالُوا : انْطَلِقْ ، فَانْظُرْ مَا قِبَلُ ہَذَا الرَّجُلِ ، وَمَا یَلْقَاکَ بِہِ ، فَخَرَجَ الْحُلَیْسُ ، فَلَمَّا رَآہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُقْبِلاً عَرَفَہُ ، قَالَ : ہَذَا الْحُلَیْسُ ، وَہُوَ مِنْ قَوْمٍ یُعَظِّمُونَ الْہَدْی ، فَابْعَثُوا الْہَدْیَ فِی وَجْہِہِ ، فَبَعَثُوا الْہَدْیَ فِی وَجْہِہِ ، قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : فَاخْتَلَفَ الْحَدِیثُ فِی الْحُلَیْسِ ، فَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ : جَائَہُ ، فَقَالَ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لِبُدَیْلٍ وَعُرْوَۃَ ، وَمِنْہُمْ مَنْ قَالَ لَمَّا رَأَی الْہَدْیَ رَجَعَ إِلَی قُرَیْشٍ ، فَقَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُ امْرئًا لَئِنْ صَدَدْتُمُوہُ إِنِّی لَخَائِفٌ عَلَیْکُمْ أَنْ یُصِیبَکُمْ عَنْتٌ ، فَأَبْصِرُوا بَصَرَکُمْ۔
قَالُوا : اجْلِسْ ، وَدَعَوْا رَجُلاً مِنْ قُرَیْشٍ یُقَالُ لَہُ : مِکْرَزُ بْنُ حَفْصِ بْنِ الأَحْنَفِ ، مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَی ، فَبَعَثُوہُ ، فَلَمَّا رَآہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ہَذَا رَجُلٌ فَاجِرٌ یَنْظُرُ بِعَیْنٍ ، فَقَالَ لَہُ مِثْلَ مَا قَالَ لِبُدَیْلٍ وَلأَصْحَابِہِ فِی الْمُدَّۃِ ، فَجَائَہُمْ فَأَخْبَرَہُمْ ، فَبَعَثُوا سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ یُکَاتِبُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الَّذِی دَعَا إِلَیْہِ ، فَجَائَہُ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو ، فَقَالَ : قَدْ بَعَثَتْنِی قُرَیْشٌ إِلَیْکَ أُکَاتِبُکَ عَلَی قَضِیَّۃٍ ، نَرْتَضِی أَنَا وَأَنْتَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : نَعَمَ ، اُکْتُبْ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، قَالَ : قَالَ : مَا أَعْرِفُ اللَّہَ ، وَلاَ أَعْرِفُ الرَّحْمَنَ ، وَلَکِنْ أَکْتُبَ کَمَا کُنَّا نَکْتُبُ : بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ ، فَوَجَدَ النَّاسُ مِنْ ذَلِکَ ، وَقَالُوا :
لاَ نُکَاتِبُکَ عَلَی خُطَّۃٍ حَتَّی تُقِرَّ بِالرَّحْمَان الرَّحِیمِ ، قَالَ سُہَیْلٌ : إِذًا لاَ أُکَاتِبُہُ عَلَی خُطَّۃٍ حَتَّی أَرْجِعَ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُکْتُبْ : بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ ، ہَذَا مَا قَاضَی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ ، قَالَ : لاَ أُقِرُ ، لَوْ أَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللہِ مَا خَالَفْتُکَ ، وَلاَ عَصَیْتُکَ ، وَلَکِنْ اُکْتُبْ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، فَوَجَدَ النَّاسُ مِنْہَا أَیْضًا ، قَالَ : اُکْتُبْ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ۔ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو۔
فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ ، أَوَلَیْسَ عَدُوُّنَا عَلَی بَاطِلٍ ؟ قَالَ : بَلَی ، قَالَ : فَعَلَی مَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا ؟ قَالَ : إِنِّی رَسُولُ اللہِ ، وَلَنْ أَعْصِیَہُ ، وَلَنْ یُضَیِّعَنِی ، وَأَبُو بَکْرٍ مُتَنَحٍّ نَاحِیَۃً ، فَأَتَاہُ عُمَرُ ، فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ ، أَوَلَیْسَ عَدُوُّنَا عَلَی بَاطِلٍ ؟ قَالَ: بَلَی ، قَالَ : فَعَلَی مَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا ؟ قَالَ : دَعْ عَنْکَ مَا تَرَی یَا عُمَرُ ، فَإِنَّہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلَنْ یُضَیِّعَہُ اللَّہُ ، وَلَنْ یَعْصِیَہُ۔
وَکَانَ فِی شَرْطِ الْکِتَابِ أَنَّہُ: مَنْ کَانَ مِنَّا فَأَتَاکَ ، فَإِنْ کَانَ عَلَی دِینِکَ رَدَدْتَہُ إِلَیْنَا ، وَمَنْ جَائَنَا مِنْ قِبَلِکَ رَدَدْنَاہُ إِلَیْکَ، قَالَ: أَمَا مَنْ جَائَ مِنْ قِبَلِی فَلاَ حَاجَۃَ لِی بِرَدِّہِ، وَأَمَّا الَّتِی اشْتَرَطْتَ لِنَفْسِکَ فَتِلْکَ بَیْنِی وَبَیْنَکَ۔
فَبَیْنَمَا النَّاسُ عَلَی ذَلِکَ الْحَالِ إِذْ طَلَعَ عَلَیْہِمْ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو ، یَرْسُفُ فِی الْحَدِیدِ ، قَدْ خَلاَ لَہُ أَسْفَلُ مَکَّۃَ مُتَوَشِّحًا السَّیْفَ ، فَرَفَعَ سُہَیْلٌ رَأْسَہُ ، فَإِذَا ہُوَ بِابْنِہِ أَبِی جَنْدَلٍ ، فَقَالَ : ہَذَا أَوَّلُ مَنْ قَاضَیْتُکَ عَلَی رَدِّہِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا سُہَیْلُ ؛ إِنَّا لَمْ نَقْضِ الْکِتَابَ بَعْدُ ، قَالَ : وَلاَ أُکَاتِبُکَ عَلَی خُطَّۃٍ حَتَّی تَرُدَّہُ ، قَالَ : فَشَأْنُکَ بِہِ ، قَالَ : فَبَہَشَ أَبُو جَنْدَلٍ إِلَی النَّاسِ ، فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ ، أُرَدُّ إِلَی الْمُشْرِکِینَ یَفْتِنُونَنِی فِی دِینِی ؟ فَلَصِقَ بِہِ عُمَرُ وَأَبُوہُ آخِذٌ بِیَدِہِ یَجْتَرُّہُ ، وَعُمَرُ یَقُولُ: إِنَّمَا ہُوَ رَجُلٌ ، وَمَعَک السَّیْفُ ، فَانْطَلَقَ بِہِ أَبُوہُ۔
فَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرُدُّ عَلَیْہِمْ مَنْ جَائَ مِنْ قِبَلِہِمْ یَدْخُلُ فِی دِینِہِ ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا نَفَرٌ فِیہِمْ أَبُو بَصِیرٍ وَرَدَّہُمْ إِلَیْہِمْ ، أَقَامُوا بِسَاحِلِ الْبَحْرِ ، فَکَانُوا قَطَعُوا عَلَی قُرَیْشٍ مَتْجَرَہُمْ إِلَی الشَّامِ ، فَبَعَثُوا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّا نَرَاہَا مِنْک صِلَۃً ، أَنْ تَرُدَّہُمْ إِلَیْک وَتَجْمَعَہُمْ ، فَرَدَّہُمْ إِلَیْہِ۔
وَکَانَ فِیمَا أَرَادَہُمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْکِتَابِ : أَنْ یَدَعُوہُ یَدْخُلُ مَکَّۃَ ، فَیَقْضِی نُسُکَہُ ، وَیَنْحَرُ ہَدْیَہُ بَیْنَ ظَہْرَیْہِمْ ، فَقَالُوا : لاَ تَحَدَّثُ الْعَرَبُ أَنَّکَ أَخَذْتَنَا ضَغْطَۃً أَبَدًا ، وَلَکِنِ ارْجِعْ عَامَکَ ہَذَا ، فَإِذَا کَانَ قَابِلٌ أَذِنَّا لَکَ ، فَاعْتَمَرْتَ وَأَقَمْتَ ثَلاَثًا۔
وَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : قُومُوا فَانْحَرُوا ہَدْیَکُمْ ، وَاحْلِقُوا وَأَحِلُّوا ، فَمَا قَامَ رَجُلٌ وَلاَ تَحَرَّکَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِذَلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَمَا تَحَرَّکَ رَجُلٌ وَلاَ قَامَ مِنْ مَجْلِسِہِ ، فَلَمَّا رَأَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ دَخَلَ عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ ، وَکَانَ خَرَجَ بِہَا فِی تِلْکَ الْغَزْوَۃِ ، فَقَالَ : یَا أُمَّ سَلَمَۃَ ، مَا بَالُ النَّاسِ ، أَمَرْتُہُمْ ثَلاَثَ مِرَارٍ أَنْ یَنْحَرُوا ، وَأَنْ یَحْلِقُوا ، وَأَنْ یَحِلُّوا ، فَمَا قَامَ رَجُلٌ إِلَی مَا أَمَرْتُہُ بِہِ ؟ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اُخْرُجْ أَنْتَ فَاصْنَعْ ذَلِکَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی یَمَّمَ ہَدْیَہُ ، فَنَحَرَہُ ، وَدَعَا حَلاَقًا فَحَلَقَہُ ، فَلَمَّا رَأَی النَّاسَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَثَبُوا إِلَی ہَدْیِہِمْ فَنَحَرُوہُ ، وَأَکَبَّ بَعْضُہُمْ یَحْلِقُ بَعْضًا ، حَتَّی کَادَ بَعْضُہُمْ أَنْ یَغُمَّ بَعْضًا مِنَ الزِّحَامِ۔
قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : وَکَانَ الْہَدْیُ الَّذِی سَاقَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ سَبْعِینَ بَدَنَۃً۔
قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : فَقَسَّمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْبَرَ عَلَی أَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ ، عَلَی ثَمَانیَۃَ عَشَرَ سَہْمًا ، لِکُلِّ مِئَۃِ رَجُلٍ سَہْمٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠١١) حضرت عطاء سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پڑاؤ کا مقام حرم تھا۔
(۳۸۰۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ أَبِی الْعُمَیْسِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : کَانَ مَنْزِلُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ فِی الْحَرَمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠١٢) حضرت برائ بیان فرماتے ہیں۔ کہ حدیبیہ کے روز ہم لوگوں کی تعداد چودہ سو تھی۔
(۳۸۰۱۲) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ، عَنْ شَرِیکٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : کُنَّا یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِئَۃٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠١٣) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ جب ہدی کے جانور (ابھی) ان پہاڑوں سے پیچھے تھے جن پہاڑوں پر ثنیۃ وادی دکھائی دیتی ہے۔ تو مشرکین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آئے اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہدی کے جانوروں کے رُخ پھیر دیئے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اسی مقام پر نحر کیا جہاں پر مشرکین نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روکا تھا۔ اور یہ مقام حدیبیہ تھا۔ اور (پھر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلق فرمایا اور لوگوں نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حلق کروایا ۔ اور کچھ دیگر لوگ انتظار میں رہے۔ اور انھوں نے کہا۔ ہوسکتا ہے کہ ہم بیت اللہ کا طواف کرلیں۔ (اس پر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ حلق کروانے والوں پر رحم فرمائے۔ (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) کہا گیا۔ اور قصر کروانے والے ۔۔۔ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (پھر) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ حلق کروانے والوں پر رحم فرمائے۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
(۳۸۰۱۳) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبُو مُرَّۃَ مَوْلَی أُمِّ ہَانِئٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ الْہَدْیُ دُونَ الْجِبَالِ الَّتِی تَطْلُعُ عَلَی وَادِی الثَّنِیَّۃِ ، عَرَضَ لَہُ الْمُشْرِکُونَ ، فَرَدُّوا وُجُوہَ بُدْنِہِ ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَیْثُ حَبَسُوہُ وَہِیَ الْحُدَیْبِیَۃُ ، وَحَلَقَ وَائْتَسَی بِہِ نَاسٌ فَحَلَقُوا ، وَتَرَبَّصَ آخَرُونَ ، قَالُوا : لَعَلَّنَا نَطُوفُ بِالْبَیْتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رَحِمَ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ، قِیلَ : وَالْمُقَصِّرِینَ ، قَالَ : رَحِمَ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ثَلاَثًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠١٤) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ نے حدیبیہ کے دن حلق کروایا سوائے عثمان اور ابو قتادہ کے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ سر منڈانے (حلق) والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے سوال کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اور کتروانے والوں پر ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (دوبارہ) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ سر منڈانے (حلق) والوں پر رحم فرمائے۔ صحابہ نے (سہ بارہ) سوال کیا۔ اور بال کترانے والوں پر ؟ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ سر منڈانے (حلق) والوں پر رحم فرمائے۔ صحابہ نے عرض کیا۔ اور کتروانے والوں پر ؟ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے فرمایا : کتروانے والوں پر (بھی رحم فرمائے) ۔
(۳۸۰۱۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الدَّسْتَوَائِیُّ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی إِبْرَاہِیمَ الأَنْصَارِیِّ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَلَقَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ ہُوَ وَأَصْحَابُہُ ، إِلاَّ عُثْمَانَ وَأَبَا قَتَادَۃَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَرْحَمُ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِینَ ، یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِینَ ، یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِینَ ، یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : وَالْمُقَصِّرِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠١٥) حضرت ناجیہ بن جندب بن ناجیہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم مقام غمیم میں (پہنچے) تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کی اطلاع ملی کہ انھوں نے خالد بن ولید کو گھڑ سواروں کے ایک دستہ کے ہمراہ روانہ کیا ہے۔ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کرنے والا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ آپ ان سے ملاقات کریں۔ کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر بہت رحم کھاتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کون آدمی ہے جو ہمیں اس راستہ سے ہٹا دے ؟ (یعنی دوسرے راستہ پر لے جائے) میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں لے جاؤں گا۔ فرماتے ہیں : پس میں نے انھیں ایک ایسے کٹھن راستہ پر ڈال دیا۔ جس میں گھاٹیاں اور اتار چڑھاؤ تھا۔ پھر جب ہموار زمین آئی تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مقام حدیبیہ میں پڑاؤ کروایا اور اس جگہ کا پانی ختم تھا۔ ناجیہ فرماتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے کنویں میں اپنے ترکش سے ایک یا دو ترا ڈالے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں اپنا لعاب مبارک ڈالاپھر دعا فرمائی۔ راوی کہتے ہیں : پس اس کے چشمے لوٹ آئے یہاں تک کہ میں نے ۔۔۔یا ہم لوگوں نے ۔۔۔ کہا اگر ہم چاہیں تو اپنے پیالے (برتن) سے پانی بھر لیں۔
(۳۸۰۱۵) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَسْلَمَ ، عْن نَاجِیَۃَ بْنِ جُنْدُبِ بْنِ نَاجِیَۃَ ، قَالَ : لَمَّا کُنَّا بِالْغَمِیمِ لَقِیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَبَرَ قُرَیْشٍ ، أَنَّہَا بَعَثَتْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ فِی جَرِیدَۃِ خَیْلٍ ، تَتَلَقَّی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَکَرِہَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَلْقَاہُ ، وَکَانَ بِہِمْ رَحِیمًا ، فَقَالَ : مَنْ رَجُلٌ یَعْدِلُنَا عَنِ الطَّرِیقِ ؟ فَقُلْتُ : أَنَا ، بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : فَأَخَذْتُ بِہِمْ فِی طَرِیقٍ قَدْ کَانَ حَزْنٌ ؛ بِہَا فَدَافِدٌ وَعِقَابٌ ، فَاسْتَوَتْ بِی الأَرْضُ حَتَّی أَنْزَلْتُہُ عَلَی الْحُدَیْبِیَۃِ ، وَہِیَ نَزَحٌ ، قَالَ : فَأَلْقَی فِیہَا سَہْمًا ، أَوْ سَہْمَیْنِ مِنْ کِنَانَتِہِ ، ثُمَّ بَصَقَ فِیہَا ، ثُمَّ دَعَا ، قَالَ : فَعَادَتْ عُیُونُہَا حَتَّی إِنِّی لأََقُولُ ، أَوْ نَقُولُ : لَوْ شِئْنَا لاَغْتَرَفْنَا بِأَقْدَاحِنَا۔ (طبرانی ۱۷۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠١٦) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے دن ارشاد فرمایا : اللہ پاک سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔ صحابہ نے سوال کیا : یا رسول اللہ ! بال کتروانے والوں پر ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (دوبارہ) ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔۔۔ یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔۔۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قصر کروانے والوں پر ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قصر کروانے والوں پر (بھی رحم فرما) ۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! سر منڈانے (حلق) والوں کی کیا وجہ تھی کہ آپ نے ان پر رحم کی دعا زیادہ (تین بار) فرمائی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : انھوں نے کسی درجہ میں بھی شک نہیں کیا۔
(۳۸۰۱۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ : یَرْحَمُ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَالْمُقَصِّرِینَ ؟ قَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ الْمُحَلِّقِینَ ثَلاَثًا ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِینَ ، یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : وَالْمُقَصِّرِینَ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا بَالُ الْمُحَلِّقِینَ ظَاہَرْتَ لَہُمُ التَّرَحُّمَ ؟ قَالَ : إِنَّہُمْ لَمْ یَشُکُّوا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠١٧) حضرت عبداللہ بن مسعود بیان فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ حدیبیہ سے (واپس) آئے۔ صحابہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ریتلی زمین پر اترے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیں کون بیدار کرے گا ؟ حضرت بلال نے عرض کیا۔ میں بیدار کروں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پھر تو ہم سوتے ہیں۔ تمام لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ تو کچھ لوگ ۔۔۔ جن میں فلاں، فلاں اور حضرت عمر تھے ۔۔۔ بیدار ہوگئے۔ ہم نے کہا (آپس میں) باتیں کرو۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی آنکھ مبارک کھل گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم جس طرح کر رہے تھے ویسے ہی کرتے رہو (یعنی باتیں کرلو) ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے پھر وہی کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو کوئی سویا ہو یا اس کو نماز بھول گئی ہو تو تم اس کے ساتھ یہی کچھ کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی گم ہوگئی تو میں اس کی تلاش میں نکلا فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو اس حال میں پایا کہ اس کی رسی ایک درخت کے ساتھ اڑی ہوئی تھی۔ پس میں (اسے لے کر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر سوار ہوئے اور ہم روانہ ہوگئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کو اس حالت میں شدت ہوتی تھی۔ اور ہمیں یہ شدت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر محسوس ہوتی تھی۔ فرماتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پیچھے ایک طرف ہو کر کھڑے ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سر مبارک کو اپنے کپڑے سے ڈھانپ لیا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سخت شدت کے آثار ظاہر ہوئے یہاں تک کہ ہم سمجھ گئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ے ہمیں بتایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوئی ہے۔ {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا }۔
(۳۸۰۱۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ أَبِی عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ ، فَذَکَرُوا أَنَّہُمْ نَزَلُوا دَہَاسًا مِنَ الأَرْضِ ، یَعْنِی بِالدَّہَاسِ الرَّمْلَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ یَکْلَؤُنَا ؟ قَالَ : فَقَالَ بِلاَلٌ : أَنَا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِذًا نَنَامُ ، قَالَ : فَنَامُوا حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَاسْتَیْقَظَ أُنَاسٌ فِیہِمْ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَفِیہِمْ عُمَرُ ، قَالَ : فَقُلْنَا : اہْضِبُوا ، یَعْنِی تَکَلَّمُوا ، قَالَ : فَاسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : افْعَلُوا کَمَا کُنْتُمْ تَفْعَلُونَ ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، قَالَ : کَذَلِکَ فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ ، أَوْ نَسِیَ۔
قَالَ : وَضَلَّتْ نَاقَۃُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَطَلَبْتُہَا ، قَالَ : فَوَجَدْتُ حَبْلَہَا قَدْ تَعَلَّقَ بِشَجَرَۃٍ ، فَجِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَکِبَ فَسِرْنَا ، قَالَ : وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ اشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَیْہِ ، وَعَرَفْنَا ذَلِکَ فِیہِ ، قَالَ : فَتَنَحَّی مُنْتَبِذًا خَلْفَنَا ، قَالَ : فَجَعَلَ یُغَطِّی رَأْسَہُ بِثَوْبِہِ ، وَیَشْتَدُّ ذَلِکَ عَلَیْہِ حَتَّی عَرَفْنَا أَنَّہُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ ، فَأَتَوْنَا فَأَخْبَرُونَا أَنَّہُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ : {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا}۔
قَالَ : وَضَلَّتْ نَاقَۃُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَطَلَبْتُہَا ، قَالَ : فَوَجَدْتُ حَبْلَہَا قَدْ تَعَلَّقَ بِشَجَرَۃٍ ، فَجِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَکِبَ فَسِرْنَا ، قَالَ : وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ اشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَیْہِ ، وَعَرَفْنَا ذَلِکَ فِیہِ ، قَالَ : فَتَنَحَّی مُنْتَبِذًا خَلْفَنَا ، قَالَ : فَجَعَلَ یُغَطِّی رَأْسَہُ بِثَوْبِہِ ، وَیَشْتَدُّ ذَلِکَ عَلَیْہِ حَتَّی عَرَفْنَا أَنَّہُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ ، فَأَتَوْنَا فَأَخْبَرُونَا أَنَّہُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ : {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بنی لحیان
(٣٨٠١٨) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو بنی لحیان کے ساتھ کئے گئے غزوہ میں ارشاد فرمایا۔ تم میں سے ہر دو آدمیوں میں سے ایک نکل جائے۔ اور اجر ان دونوں کو ملے گا۔
(۳۸۰۱۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ شَیْبَانَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی الْمَہْرِیِّ ، أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ أَخْبَرَہُ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَہُمْ فِی غَزْوَۃٍ غَزَاہَا بَنِی لِحْیَانَ : لِیَنْبَعِثْ مِنْ کُلِّ رَجُلَیْنِ رَجُلٌ ، وَالأَجْرُ بَیْنَہُمَا۔ (مسلم ۱۵۰۷۔ احمد ۱۳۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ بنی لحیان
(٣٨٠١٩) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس افراد پر مشتمل ایک جاسوس سریہ روانہ فرمایا اور ان پر عاصم بن ثابت کو امیر مقرر فرمایا۔ پس یہ لوگ نکلے یہاں تک کہ جب یہ لوگ مقام ہدہ میں تھے تو (ان کے بارے میں) ہذیل کی ایک شاخ بنو لحیان سے ذکر کیا گیا تو انھوں نے ان کی طرف ایک سو تیر انداز مرد بھیجے۔ ان تیر اندازوں نے ان کے کھانے کے مقام کو ۔۔۔ جہاں انھوں نے کھجوریں کھائی تھیں۔۔۔ دیکھا تو بولے، یہ تو یثرب کی (کھجوروں کی) گٹھلیاں ہیں۔ پھر وہ لوگ ان کے نشانات قدم پر چلے یہاں تک کہ جب عاصم اور ان کے ساتھیوں کو ان کے آنے کا احساس ہوا تو انھوں نے ایک پہاڑ کی طرف پناہ پکڑی۔ اور دوسرے لوگوں (تیر اندازوں) نے ان کا احاطہ کرلیا اور ان سے نیچے اترنے کو کہا۔ اور انھیں عہد (امان) دیا۔ تو حضرت عاصم نے فرمایا : میں کسی کافر کے عہد (امان) پر نیچے نہیں اتروں گا۔ اے اللہ ! تو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہمارے بارے میں خبر پہنچا دے اور ابن دثنہ بیاظی اس کی طرف اتر گیا۔
(۳۸۰۱۹) حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَنْصَارِیُّ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عَمْرٌو ، أَوْ عُمَرُ بْنُ أُسَیْدَ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَشْرَۃَ رَہْطٍ سَرِیَّۃً عَیْنًا ، وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَخَرَجُوا حَتَّی إِذَا کَانُوا بِالْہَدَّۃِ ذُکِرُوا لِحَیٍّ مِنْ ہُذَیْلٍ ، یُقَالُ لَہُمْ بَنُو لِحْیَانَ ، فَبَعَثَ إِلَیْہِمْ مِئَۃَ رَجُلٍ رَامِیًا ، فَوَجَدُوا مَأْکَلَہُمْ حَیْثُ أَکَلُوا التَّمْرَ ، فَقَالُوا : ہَذِا نَوَی یَثْرِبَ ، ثُمَّ اتَّبَعُوا آثَارَہُمْ ، حَتَّی إِذَا أَحَسَّ بِہِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُہُ لَجَؤُوا إِلَی جَبَلٍ ، فَأَحَاطَ بِہِمَ الآخَرُونَ ، فَاسْتَنْزَلُوہُمْ وَأَعْطَوْہُمَ الْعَہْدَ ، فَقَالَ عَاصِمٌ : وَاللہِ لاَ أَنْزِلُ عَلَی عَہْدِ کَافِرٍ ، اللَّہُمَّ أَخْبِرْ نَبِیَّک عَنَّا ، وَنَزَلَ إِلَیْہِ ابْنُ دَثِنَۃَ الْبَیَاضِیُّ۔ (بخاری ۳۰۴۵۔ ابوداؤد ۲۶۵۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نجد کے بارے میں جو ذکر ہوا اور اس کے بارے میں جو نقل ہوا
(٣٨٠٢٠) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نجد کی طرف ایک سریہ میں روانہ کیا۔ ابن عمر بیان کرتے ہیں۔ ہمیں (وہاں سے) بہت زیادہ چیزیں غنیمت میں ملیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس ہمیں ہمارے ساتھی نے جو ہم پر امیر تھا۔ ایک ایک اونٹ عطیہ میں دے دیا۔ پھر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وہ اشیاء لے کر پہنچے۔ تو ہمیں پھر خمس کے اخراج کے بعد جو حصہ ملا وہ بارہ، بارہ اونٹ تھے۔ پس ہم میں سے ہر ایک آدمی کو اس اونٹ سمیت جو ہمارے ساتھی نے ہمیں عطیہ میں دیا تھا۔ تیرہ اونٹ ملے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے ساتھی سے اس اونٹ کے حساب پر کوئی بات نہیں کی۔
(۳۸۰۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَرِیَّۃٍ إِلَی نَجْدٍ ، قَالَ : فَأَصَبْنَا نَعَمًا کَثِیرَۃً ، قَالَ : فَنَفَّلَنَا صَاحِبُنَا الَّذِی کَانَ عَلَیْنَا بَعِیرًا بَعِیرًا ، ثُمَّ قَدِمْنَا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا أَصَبْنَا ، فَکَانَتْ سُہْمَانُنَا بَعْدَ الْخُمُسِ اثْنَیْ عَشَرَ بَعِیرًا ، اثْنَیْ عَشَرَ بَعِیرًا ، فَکَانَ لِکُلِّ رَجُلٍ مِنَّا ثَلاَثَۃَ عَشَرَ بَعِیرًا بِالْبَعِیرِ الَّذِی نَفَّلَنَا صَاحِبُنَا ، فَمَا عَابَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی صَاحِبِنَا مَا حَاسَبَنَا بِہِ فِی سُہْمَانِنَا۔
(ابوداؤد ۲۷۳۷۔ بیہقی ۳۱۲)
(ابوداؤد ۲۷۳۷۔ بیہقی ۳۱۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نجد کے بارے میں جو ذکر ہوا اور اس کے بارے میں جو نقل ہوا
(٣٨٠٢١) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نجد کی طرف ایک سریہ میں روانہ فرمایا۔ تو ہمارے حصوں میں بارہ بارہ اونٹ آئے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک ایک اونٹ عطیہ فرمایا۔
(۳۸۰۲۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَرِیَّۃٍ إِلَی نَجْدٍ ، فَبَلَغَتْ سُہْمَانُنَا اثْنَیْ عَشَرَ بَعِیرًا ، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعِیرًا بَعِیرًا۔ (ابوداؤد ۲۷۳۷۔ بیہقی ۳۱۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نجد کے بارے میں جو ذکر ہوا اور اس کے بارے میں جو نقل ہوا
(٣٨٠٢٢) حضرت حبیب بن سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آغاز میں غنیمت میں سے ایک ربع کو عطیہ کرتے تھے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آخر میں ایک تہائی میں سے عطیہ کرتے تھے۔
(۳۸۰۲۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، عنْ زِیَادِ بْنِ جَارِیَۃَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ مَسْلَمَۃَ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُنَفِّلُ مِنَ الْمَغْنَمِ فِی بِدَایَتِہِ الرُّبُعَ ، وَفِی رَجْعَتِہِ الثُّلُثَ۔ (طبرانی۳۵۲۷)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نجد کے بارے میں جو ذکر ہوا اور اس کے بارے میں جو نقل ہوا
(٣٨٠٢٣) حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آغاز میں ایک چوتھائی میں سے اور بعد میں ایک تہائی سے عطیہ دیتے تھے۔
(۳۸۰۲۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ الزُّرَقِیِّ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی ، عَنْ مَکْحُولٍ الشَّامِیِّ ، عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ فِی الْبَدْأَۃِ الرُّبُعَ ، وَفِی الرَّجْعَۃِ الثُّلُثَ۔
(ترمذی ۱۵۶۱۔ ابن ماجہ ۲۸۵۲)
(ترمذی ۱۵۶۱۔ ابن ماجہ ۲۸۵۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نجد کے بارے میں جو ذکر ہوا اور اس کے بارے میں جو نقل ہوا
(٣٨٠٢٤) حضرت حبیب بن مسلمہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ (جہاد میں) شریک ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے (غنیمت کے) ثلث میں سے عطیہ دیا۔
(۳۸۰۲۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ التَّنُوخِیُّ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ جَارِیَۃَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ مَسْلَمَۃَ ، قَالَ : شَہِدْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الثُّلُثَ۔ (احمد ۱۵۹۔ حاکم ۴۳۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نجد کے بارے میں جو ذکر ہوا اور اس کے بارے میں جو نقل ہوا
(٣٨٠٢٥) حضرت حبیب بن مسلمہ سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (غنیمت میں سے) خمس کے بعد ایک تہائی میں سے عطیہ دیا۔
(۳۸۰۲۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ جَارِیَۃَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ مَسْلَمَۃَ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ۔(ابوداؤد ۲۷۴۲۔ احمد ۱۵۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نجد کے بارے میں جو ذکر ہوا اور اس کے بارے میں جو نقل ہوا
(٣٨٠٢٦) حضرت محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ ابو سلمہ، یحییٰ بن عبد الرحمن اور عبد الملک بن مغیرہ۔۔۔ اور میں بھی ان کے ہمراہ تھا۔۔۔ آپس میں انفال ۔۔۔ عطایا ۔۔۔ کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے ۔ تو انھوں نے سعید بن مسیب کی طرف یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا۔ تو (ان کا) قاصد واپس آیا اور اس نے کہا کہ سعید نے مجھے کچھ بھی بتانے سے انکار کردیا ہے ۔۔۔ راوی کہتے ہیں : پھر سعید نے اپنا غلام بھیجا اور اس نے (آکر) کہا۔ سعید، تمہیں کہہ رہے ہیں۔ کہ تم نے میرے پاس انفال ۔۔۔ عطایا۔۔۔ کے بارے میں پوچھنے کے لیے قاصد بھیجا تھا۔ حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد انفال ۔۔۔ عطایا۔۔۔ نہیں ہیں۔
(۳۸۰۲۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : تَذَاکَرَ أَبُو سَلَمَۃَ ، وَیَحْیَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، وَأَنَا مَعَہُمَ الأَنْفَالَ ، فَأَرْسَلُوا إلَی سَعِیدٌ بْنِ الْمُسَیَّبِ یَسْأَلُونَہُ عَنْ ذَلِکَ ، فَجَائَ الرَّسُولُ، فَقَالَ: أَبَی أَنْ یُخْبِرَنِی شَیْئًا، قَالَ: فَأَرْسَلَ سَعِیدٌ غُلاَمَہُ، فَقَالَ: إِنَّ سَعِیدًا یَقُولُ لَکُمْ: إِنَّکُمْ أَرْسَلْتُمْ تَسْأَلُونَنِی عَنِ الأَنْفَالِ ، وَإِنَّہُ لاَ نَفْلَ بَعْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (طبری ۱۷۷۔ ابن حبان ۴۸۳۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نجد کے بارے میں جو ذکر ہوا اور اس کے بارے میں جو نقل ہوا
(٣٨٠٢٧) حجاج بن عبداللہ نصری بیان کرتے ہیں کہ عطیہ برحق ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطیہ عطا فرمایا۔
(۳۸۰۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی الْحَجَّاجُ بْنُ عَبْدِ اللہِ النَّصْرِیُّ ، قَالَ : النَّفَلُ حَقٌّ ، نَفَّلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (طبرانی ۳۱۹۸۔ ابو نعیم ۱۹۵۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خیبر
(٣٨٠٢٨) حضرت انس (آیت قرآنی) {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا } کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ خیبر (والی فتح) ہے۔
(۳۸۰۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ أَنَسٍ؛ {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا} قَالَ: خَیْبَرَ۔ (حاکم ۴۵۹)
তাহকীক: