মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৭৯৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٨٩) حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لشکروں کو دور کردیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اپنے گھر ی طرف لوٹ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر مبارک دھونا شروع کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جبرائیل حاضر ہوئے اور کہا۔ اللہ تعالیٰ آپ سے درگزر فرمائے۔ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے۔ حالانکہ آسمان کے فرشتوں نے اسلحہ نہیں رکھا ؟ آپ ہمارے ساتھ بنو قریظہ کے قلعہ کی طرف تشریف لائیے۔ تو نیا کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں منادی کروائی کہ بنو قریظہ کے قلعہ پر پہنچو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان لوگوں کے پاس قلعہ پر تشریف لے گئے۔
(۳۷۹۸۹) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ الأَصَمِّ ، قَالَ : لَمَّا کَشَفَ اللَّہُ الأَحْزَابَ ، وَرَجَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی بَیْتِہِ ، فَأَخَذَ یَغْسِلُ رَأْسَہُ ، أَتَاہُ جِبْرِیلُ ، فَقَالَ : عَفَا اللَّہُ عَنْکَ ، وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَلَمْ تَضَعْہُ مَلاَئِکَۃُ السَّمَائِ ؟ ائْتِنَا عِنْدَ حِصْنِ بَنِی قُرَیْظَۃَ ، فَنَادَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی النَّاسِ : أَنَ ائْتُوا حِصْنَ بَنِی قُرَیْظَۃَ ، ثُمَّ اغْتَسَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاہُمْ عِنْدَ الْحِصْنِ۔ (ابن سعد ۷۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو روایات میں نے غزوہ بنی المصطلق کے بارے میں محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٩٠) حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو المصطلق پر حملہ کیا جبکہ وہ غافل تھے اور ان کے جانور پانی پر آئے ہوئے تھے اور جویریہ بنت الحارث بھی متاثرین میں سے تھی اور میں گھوڑ سواروں میں تھا۔
(۳۷۹۹۰) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنْ دُعَائِ الْمُشْرِکِینَ ، فَکَتَبَ إِلَیَّ : أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ ، وَہُمْ غَارُّونِ ، وَنَعَمُہُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ ، فَکَانَتْ جُوَیْرِیَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِمَّا أَصَابُوا ، وَکُنْتُ فِی الْخَیْلِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو روایات میں نے غزوہ بنی المصطلق کے بارے میں محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٩١) حضرت ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں اور ابو صرمہ مازنی، حضرت ابو سعید خدری کے پاس حاضر ہوئے اور ہم نے ان سے عزل کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے جواب میں ارشاد فرمایا : ہم نے عرب کی صاحب زادیاں قید کی تھی ہم نے بنو المصطلق کی عورتوں کو قید کیا اور ہم نے (ان کے ساتھ) عزل کا ارادہ کیا اور فدیہ لینے میں رغبت ظاہر کی۔ ہم میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے درمیان موجود ہیں اور تم عزل کرتے ہو ؟ تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے عرب کی صاحبزادیاں قید کی ہیں۔ ہم نے بنو المصطلق کی عورتیں قیدی بنائی ہیں۔ اور ہم عزل کا ارادہ رکھتے ہیں اور فدیہ لینے میں رغبت رکھتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں ! تم یہ کام نہ کرو۔ کیونکہ قیامت تک کوئی بھی جان جس کے ہونے کو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے وہ بہرحال ہو کر رہے گی۔
(۳۷۹۹۱) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی رَبِیعَۃُ بْنُ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا ، وَأَبُو صِرْمَۃَ الْمَازِنِیُّ عَلَی أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ فَسَأَلْنَاہُ عَنِ الْعَزْلِ ؟ فَقَالَ : أَسَرْنَا کَرَائِمَ الْعَرَبِ ، أَسَرْنَا نِسَائَ بَنِی عَبْدِ الْمُصْطَلِقِ ، فَأَرَدْنَا الْعَزْلَ، وَرَغِبْنَا فِی الْفِدَائِ ، فَقَالَ بَعْضُنَا : أَتَعْزِلُونَ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ ؟ فَأَتَیْنَاہُ ، فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَسَرْنَا کَرَائِمَ الْعَرَبِ ، أَسَرْنَا نِسَائَ بَنِی الْمُصْطَلِقِ ، فَأَرَدْنَا الْعَزْلَ ، وَرَغِبْنَا فِی الْفِدَائِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ عَلَیْکُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ، فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ نَسَمَۃٍ کَتَبَ اللَّہُ عَلَیْہَا أَنْ تَکُونَ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ وَہِیَ کَائِنَۃٌ۔ (نسائی ۵۰۴۵۔ مالک ۹۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو روایات میں نے غزوہ بنی المصطلق کے بارے میں محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٩٢) حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ غزوہ بنو المصطلق میں جب منزل پر پہنچے۔

تو مہاجرین اور انصار کے کم عمر لڑکوں میں کوئی جھگڑا ہوگیا۔ مہاجرین کے لڑکوں نے کہا۔ یا للمہاجرین۔ اور انصار کے لڑکوں نے کہا۔ یا للانصار۔ یہ خبر عبداللہ بن ابی بن سلول کو پہنچی تو اس نے کہا۔ ہاں ! بخدا ! اگر انصار ، مہاجرین پر خرچہ نہ کرتے تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد سے چلے جاتے۔ ہاں ! بخدا ! اگر ہم مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے تو البتہ ضرور بالضرور عزت والے مدینہ سے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ پس یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو کوچ کرنے کا حکم دیا۔ گویا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں مشغول کر رہے تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوران سفر بنو عبد الاشہل میں ایک سوار جماعت کو پایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں فرمایا : تمہیں معلوم نہیں ہے کہ منافق عبداللہ بن ابی نے کیا کہا ہے ؟ انھوں نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس نے کیا کہا ہیَ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے کہا ہے۔ ہاں ! بخدا ! اگر تم (انصار) ان (مہاجرین) پر خرچ نہ کرو تو یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے چلے جائیں گے۔ ہاں۔ بخدا ! اگر ہم مدینہ واپس گئے تو البتہ ضرور بالضرور عزت والے ، مدینہ سے ذلت والوں کو باہر نکال دیں گے۔ انھوں نے کہا : یا رسول اللہ ! سچ کہا۔ آپ اور اللہ تعالیٰ عزت والے جبکہ وہ ذلیل ہے۔
(۳۷۹۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی غَزْوَۃِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ لَمَّا أَتَوْا الْمَنْزِلَ ، وَقَدْ جَلاَ أَہْلُہُ ، أَجْہَضُوہُمْ ، وَقَدْ بَقِیَ دَجَاجٌ فِی الْمَعْدِنِ ، فَکَانَ بَیْنَ غِلْمَانٍ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَغِلْمَانٍ مِنَ الأَنْصَارِ قِتَالٌ ، فَقَالَ غِلْمَانٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ : یَا لَلْمُہَاجِرِینَ ، وَقَالَ غِلْمَانٌ مِنَ الأَنْصَارِ : یَا لَلأَنْصَارِ ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عَبْدَ اللہِ بْنَ أُبَیِّ ابْنَ سَلُولَ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللہِ لَوْ أَنَّہُمْ لَمْ یُنْفِقُوا عَلَیْہِمَ انْفَضُّوا مِنْ حَوْلِہِ ، أَمَا وَاللہِ : (لَئِنْ رَجَعَنَّا إِلَی الْمَدِینَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْہَا الأَذَلَّ) فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَہُمْ بِالرَّحِیلِ ، فَکَأَنَّہُ یَشْغَلُہُمْ ، فَأَدْرَکَ رَکْبًا مِنْ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ فِی الْمَسِیرِ ، فَقَالَ لَہُمْ : أَلَمْ تَعْلَمُوا مَا قَالَ الْمُنَافِقُ عَبْدُ اللہِ بْنُ أُبَیٍّ ؟ قَالُوا : وَمَاذَا قَالَ یَا رَسُولَ اللہِ ؟ قَالَ : قَالَ : أَمَا وَاللہِ لَوْ لَمْ تُنْفِقُوا عَلَیْہِمْ لاَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِہِ ، أَمَا وَاللہِ لَئِنْ رَجَعَنَّا إِلَی الْمَدِینَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْہَا الأَذَلَّ ، قَالُوا : صَدَقَ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَأَنْتَ وَاللہِ الْعَزِیزُ ، وَہُوَ الذَّلِیلُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٧٩٩٣) حضرت انس سے آیت مبارکہ {إنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا } کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد حدیبیہ ہے۔
(۳۷۹۹۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَۃَ یُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّہُ قَالَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ : {إنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا} ، قَالَ : الْحُدَیْبِیَۃُ۔ (بخاری ۴۸۳۴۔ مسلم ۱۴۱۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٧٩٩٤) حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ کی طرف چلے۔ واقعہ حدیبیہ ماہ شوال میں پیش آیا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چل پڑے یہاں تک کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عسفان مقام پر پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بنی کعب کا ایک آدمی ملا اور اس نے کہا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے قریش کو اس حالت میں چھوڑا ہے کہ انھوں نے آپ کے لیے اپنے مختلف النسل لوگوں کو جمع کیا ہے اور نہیں خزیر (قیمہ اور آٹا کا مرکب) کھلاتے ہیں۔ ان کا ارادہ یہ ہے کہ وہ آپ کو بیت اللہ سے روک دیں گے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکل پڑے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عسفان مقام سے باہر تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قریش کے جاسوس خالد بن ولید ملے اور راستہ میں ان کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آمنا سامنا ہوگیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (صحابہ کو) فرمایا : ادھر آ جاؤ ! پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو درختوں کے درمیان ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہموار راستہ سے ہٹ گئے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غمیم پہنچے۔

٢۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غمیم میں فروکش ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو خطاب فرمایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور اللہ تعالیٰ کے شایان شان، ثنا بیان کی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اما بعد ! بلاشبہ قریش نے تمہارے لیے اپنے متفرق گروہوں کو جمع کیا ہے اور اس کو خزیر (خاص مرکب غذا) کھلانا شروع کیا ہے۔ اور ان کا ارادہ یہ ہے کہ وہ ہمیں بیت اللہ سے روک ڈالیں۔ تو تم مجھے اپنی رائے سے مطلع کرو ؟ تم لوگ سردار (یعنی اہل مکہ) کی طرف (مقابلہ کے لئے) جانا چاہتے ہو یا تم لوگ ان کے معاونین کی طرف (مقابلہ کے لئے) جانا چاہتے ہو تاکہ ہم ان کو واپس ان کی عورتوں اور بچوں کے پاس پہنچا دیں۔ پس اگر وہ بیٹھ جائیں گے تو وہ اس حالت میں بیٹھیں گے کہ وہ بےبس اور شکست خوردہ ہوں گے۔ اور اگر وہ ہم سے (مقابلہ کا) مطالبہ کریں گے تو وہ ہم سے ایک کمزور اور نرم مطالبہ کریں گے پھر اللہ تعالیٰ انھیں رسوا کر دے گا۔

٣۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہماری رائے تو یہ ہے کہ ہم سردار کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معین ہیں اور آپ کے مددگار ہیں اور آپ کو غالب کرنے والے ہیں۔ حضرت مقداد بن الاسود نے فرمایا۔۔۔ جبکہ وہ اپنے کجاوہ میں تھے۔۔۔ بخدا ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم آپ سے ایسی بات نہیں کہیں گے جیسا کہ بنی اسرائیل نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہی تھی کہ { اذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَ ، إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ } بلکہ ہم تو کہیں گے۔ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑے اور ہم آپ کے ہمراہ لڑیں گے۔

٤۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وہاں سے) نکلے یہاں تک کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرم کے قریب پہنچے اور اس کی حدود میں داخل ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جدعاء اونٹنی بیٹھ گئی۔ لوگوں نے کہا۔ یہ اونٹنی اڑ گئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خدا کی قسم ! اونٹنی اڑی نہیں ہے اور نہ ہی اڑنا اس کی عادت ہے بلکہ اس کو تو اس ذات نے روکا ہے جس نے ہاتھیوں کو مکہ سے روکا تھا۔ (پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا) (اگر) قریش مجھے تعظیم محارم کے لیے دعوت دیں گے تو وہ اس عمل میں مجھ پر سبقت نہیں پاسکیں گے (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے فرمایا) ادھر آؤ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذات الحنظل نامی چوٹی کے دائیں جانب کا راستہ پکڑ لیا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ پر پہنچے۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں پر پڑاؤ ڈالا تو لوگوں نے ایک کنواں سے پانی لینا شروع کیا۔ ابھی تمام لوگ سیراب نہیں ہوئے تھے کہ کنواں خالی ہوگیا ۔ لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس بات کی شکایت کی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو ترکش میں سے ایک تیر نکال کردیا اور فرمایا : اس تیر کو کنویں میں گاڑھ دو ۔ لوگوں نے اس تیر کو کنویں میں گاڑا تو کنواں پانی سے ابلنے لگا اور اس کا پانی اوپر آگیا یہاں تک کہ لوگ خوب سیراب ہوگئے۔

٥۔ جب قریش کو اس بات کی خبر ہوئی تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بنو حلیس کے بھائی کو بھیجا۔۔۔ یہ اس قوم کا فرد تھا جن کے ہاں ہدی کی تعظیم ہوتی تھی ۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہدی کو کھڑا کردو۔ پس جب اس نے ہدی (کے جانور کو) دیکھا تو کوئی بھی بات نہیں کی۔ اور اپنی جگہ سے ہی قریش کی طرف پھر گیا۔ اور (جا کر) کہا : اے میری قوم ! قلائد، اونٹ اور ہدی کے جانوروں (کا احترام کرو) ۔ اس نے قریش کو خوب ڈرایا اور ان پر کڑی تنقید کی قریش نے اس کو گالیاں دیں اور اس سے ترش رو ہوگئے اور کہنے لگے۔ تم تو بیوقوف دیہاتی ہو۔ ہمیں تم سے کوئی تعجب نہیں ہے۔ بلکہ تجھے بھیجنے پر ہمیں اپنے آپ پر تعجب ہے۔ بیٹھ جاؤ۔

٦۔ پھر قریش نے عروہ بن مسعود کو کہا۔ تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جاؤ اور ہم تمہارے پیچھے نہیں آئیں گے تو عروہ (وہاں سے) نکلا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا۔ اے محمد ! میں نے سارے عرب میں کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا جو آپ کی طرح (بھروسہ کر کے) چلا ہو ۔ تم مختلف لوگوں کو لے کر اپنے اس قوم و قبیلہ کی طرف آئے ہو۔ یقین کرو ! میں تمہارے پاس کعب بن لوی، اور عامر بن لوی کے ہاں سے آیا ہوں۔ انھوں نے اپنے بیوی بچوں کے سامنے چیتوں کا لباس پہن کر اللہ کے نام کی قسمیں کھائی ہیں۔ کہ : آپ ان کے سامنے جو بات رکھو گے وہ اس سے بھی سخت تر بات آپ کے سامنے رکھیں گے۔

٧۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ لڑنے کے لیے نہیں آئے بلکہ ہمارا ارادہ تو یہ ہے کہ ہم اپنا عمرہ پوراکریں گے اور اپنے ہدی کے جانور نحر کریں۔ تو کیا تم اپنی قوم کے پاس جاؤ گے کیونکہ وہ بھی پالان والے (یعنی کمزور) ہیں اور جنگیں انھیں بھی کھا چکی ہیں۔ اور ان کے لیے بھی اس بات میں کوئی خیر نہیں ہے کہ جنگ ان کو مزید کھائے۔ پس وہ میرے اور بیت اللہ کے درمیان سے ہٹ جائیں تاکہ ہم اپنا عمرہ ادا کریں اور اپنے ہدی کے جانور نحر کریں۔ اور یہ لوگ میرے اور اپنے درمیان ایک مدت رکھ لیں۔ اور یہ لوگ میرے اور لوگوں کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ خدا کی قسم ! میں تو اس معاملہ (کلمہ کے معاملہ) میں ہر سُرخ اور سیاہ کے ساتھ لڑوں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے غالب کر دے یا میں خود بھی اس راہ میں قتل کردیا جاؤں۔ پس اگر لوگ مجھے قتل کردیں گے تو یہی لوگوں کی مراد ہے اور اگر اللہ تعالیٰ مجھے ان پر غلبہ دے تو پھر انھیں اختیار ہوگا یا تو خوب تیاری کے ساتھ لڑیں گے اور یا فوج در فوج اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔

٨۔ راوی کہتے ہیں : پھر عروہ، قریش کی طرف واپس آیا اور اس نے کہا۔ یقین کرلو ! بخدا ! مجھے روئے زمین پر تم سے زیادہ محبوب کوئی قوم نہیں ف۔ تم مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو اور میرے بھائی ہو۔۔۔ اور میں نے مجامع میں تمہاری مدد کے لیے لوگوں کو بلایا لیکن جب وہ لوگ تمہاری مدد کے لیے نہیں آئے۔ تو میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تمہارے پاس آگیا اور میں نے یہ سوچ کر تمہارے ہاں پڑاؤ ڈالا تاکہ میں تمہارے لیے مواسات کرسکوں۔ خدا کی قسم ! تمہارے بعد مجھے زندگی سے کوئی محبت نہیں ہے۔ تم لوگ یقین کرلو ! کہ اس آدمی (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) نے انصاف کی بات پیش کی ہے تم اس بات کو قبول کرلو۔ یقین کرو ! میں کئی بادشاہوں کے ہاں گیا ہوں اور میں نے کئی وڈیروں کو دیکھا ہے میں بقسم یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے کوئی بادشاہ یا وڈیرہ، اپنے ساتھیوں میں اتنا باعظمت نہیں دیکھا جتنا آپ کو دیکھا۔ آپ سے اجازت حاصل کئے بغیر کوئی آدمی گفتگو نہیں کرتا۔ جب آپ اجازت گفتگو دیتے ہیں تو بولنے والا بولتا ہے اور اگر آپ اجازت نہیں ا دیتے تو خاموش رہتا ہے پھر جب آپ وضو کرتے ہیں تو آپ کے ساتھی آپ کے دھو ون کو جلدی سے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور اپنے سروں پر بہاتے ہیں اور اس کو برکت کی چیز سمجھتے ہیں۔

٩۔ پس جب اہل مکہ نے اس کی بات سُنی تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سہیل بن عمرو اور مکرز بن حفص کو بھیجا اور کہا۔ تم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جاؤ پھر اگر وہ تمہیں وہی کچھ (تأثر) دے جو عروہ نے ذکر کیا ہے تو تم اس کو یہ فیصلہ سُنا دینا کہ وہ اس سال ہمارے ہاں سے لوٹ جائں ۔ اور بیت اللہ تک نہ آئیں تاکہ جو کوئی عربی بھی ان کے سفر عمرہ کے بارے میں سُنے تو وہ یہ بات بھی سُنے کہ ” ہم نے اس (محمد) کو بیت اللہ سے روک دیا ہے “ سہیل اور مکرز چل پڑے یہاں تک کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچے اور انھوں نے یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ان کے سوال کے مطابق جواب عطا فرمایا اور کہا۔ لکھو : بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ وہ کہنے لگے ۔ بخدا ! یہ الفاظ تو ہم کبھی بھی نہیں لکھیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ پھر کیا لکھو گے ؟ انھوں نے کہا۔ ہم تو یہ الفاظ لکھیں گے۔ باسمک اللّٰھم۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی لکھ لو۔ پھر انھوں نے یہ جملہ لکھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لکھو، کہ یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ کے ساتھ فیصلہ ہوا ہے وہ لوگ کہنے لگے ۔ خدا کی قسم ! ہمارا اسی بات میں تو تم سے اختلاف ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ میں کیسے لکھواؤں ؟ انھوں نے کہا : آپ اپنا نسب بیان کر کے تحریر لکھوائیں۔ کہ محمد بن عبداللہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بھی اچھی بات ہے اسی کو لکھ لو۔ تو انھوں نے یہ جملہ لکھ لیا۔

١٠۔ اور ان کی شرائط میں یہ بات بھیتی کہ ہمارے درمیان آپس میں صلح و صفائی رہے گی۔ نہ کوئی خیانت (کرے گا) اور نہ کوئی خفیہ جھوٹ اور تلوار سونتے گا۔

١١۔ اور یہ بھی شر ط تھی کہ ہم میں سے جو تمہارے پاس آئے گا ۔ اسے تم ہمارے پاس واپس بھیجو گے۔ اور جو شخص تم میں سے ہمارے پاس آئے گا ہم اس کو تمہارے پاس واپس نہیں لوٹائیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو کوئی میرے ساتھ داخل (ملنا چاہے) ہوگا تو اس کے لیے بھی میری شرط کے موافق شرط ہوگی۔ اس پر قریش نے کہا۔ جو ہمارے ساتھ داخل (ملنا چاہے) ہوگا وہ ہمارا ساتھی شمار ہوگا۔ اور اس کے لیے بھی ہمارے والی شرطیں ہوں گی۔ پھر بنو کعب نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اور بنو بکر نے کہا۔ ہم قریش کے ساتھ ہیں۔

١٢۔ ابھی مسلمان اور اہل مکہ، تحریر لکھ رہے تھے کہ اس دوران حضرت ابو جندل بیڑیوں میں جکڑے ہوئے حاضر ہوئے۔ مسلمانوں نے کہا۔ یہ ابو جندل آگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میرے (پاس ہوں گے) ۔ سہیل نے کہا۔ یہ میرے پاس ہوں گے۔ سہیل نے کہا ۔ تحریر پڑھیں۔ تو اس تحریر کی رو سے وہ سہیل کے حق میں چلے گئے۔ حضرت ابو جندل نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اے گروہ مسلمین ! مجھے مشرکین کی طرف واپس کیا جائے گا ؟ حضرت عمر نے فرمایا : اے ابو جندل ! یہ ہے تلوار ! دو بندے ہی تو ہیں۔ سہیل نے کہا۔ اے عمر ! تم نے میرے خلاف معاونت کی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہیل سے کہا یہ شخص مجھے ہدیہ کردو۔ سُہیل نے کہا : نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے تم اس کو رکھنے کی اجازت دے دو ۔ سہیل نے کہا نہیں۔ مکرز نے کہا۔ اے محمد ! میں تمہیں اس کے رکھنے کی اجازت دیتا ہوں۔
(۳۷۹۹۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْحُدَیْبِیَۃِ ، وَکَانَتِ الْحُدَیْبِیَۃُ فِی شَوَّالٍ ، قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِعُسْفَانَ ، لَقِیَہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِی کَعْبٍ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّا تَرَکْنَا قُرَیْشًا وَقَدْ جَمَعَتْ لَکَ أَحَابِیشَہَا تُطْعِمُہَا الْخَزِیرَ ، یُرِیدُونَ أَنْ یَصُدُّوکَ عَنِ الْبَیْتِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا تَبَرَّزَ مِنْ عُسْفَانَ ، لَقِیَہُمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ طَلِیعَۃً لِقُرَیْشٍ ، فَاسْتَقْبَلَہُمْ عَلَی الطَّرِیقِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَلُمَّ ہَاہُنَا ، فَأَخَذَ بَیْنَ سَرْوَعَتَیْنِ ، یَعْنِی شَجَرَتَیْنِ ، وَمَالَ عَنْ سَنَنِ الطَّرِیقِ حَتَّی نَزَلَ الْغَمِیمَ۔

فَلَمَّا نَزَلَ الْغَمِیمَ خَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ، ثُمَّ قَالَ :

أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ قُرَیْشًا قَدْ جَمَعَتْ لَکُمْ أَحَابِیشَہَا تُطْعِمُہَا الْخَزِیرَ ، یُرِیدُونَ أَنْ یَصُدُّونَا عَنِ الْبَیْتِ ، فَأَشِیرُوا عَلَیَّ بِمَا تَرَوْنَ ؟ أَنْ تَعْمِدُوا إِلَی الرَّأْسِ ، یَعْنِی أَہْلَ مَکَّۃَ ، أَمْ تَرَوْنَ أَنْ تَعْمِدُوا إِلَی الَّذِینَ أَعَانُوہُمْ ، فَنُخَالِفُہُمْ إِلَی نِسَائِہِمْ وَصِبْیَانِہِمْ ، فَإِنْ جَلَسُوا جَلَسُوا مَوْتُورِینَ مَہْزُومِینَ ، وَإِنْ طَلَبُونَا طَلَبُونَا طَلَبًا مُتَدَارِیًا ضَعِیفًا ، فَأَخْزَاہُمَ اللَّہُ ؟۔

فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، نَرَی أَنْ تَعْمِدَ إِلَی الرَّأْسِ ، فَإِنَّ اللَّہَ مُعِینُکَ ، وَإِنَّ اللَّہَ نَاصِرُکَ ، وَإِنَّ اللَّہَ مُظْہِرُکَ ، قَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ وَہُوَ فِی رَحْلِہِ : إِنَّا وَاللہِ یَا رَسُولَ اللہِ ، لاَ نَقُولُ لَکَ کَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِیلَ لِنَبِیِّہَا : {اذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَ ، إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ} وَلَکِنِ اذْہَبْ أَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَ ، إِنَّا مَعَکُمْ مُقَاتِلُونَ۔

فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا غَشِیَ الْحَرَمَ وَدَخَلَ أَنْصَابَہُ ، بَرَکَتْ نَاقَتُہُ الْجَدْعَائُ ، فَقَالُوا: خَلأَتْ، فَقَالَ: وَاللہِ مَا خَلأَتْ، وَمَا الْخَلأُ بِعَادَتِہَا، وَلَکِنْ حَبَسَہَا حَابِسُ الْفِیلِ عَنْ مَکَّۃَ، لاَ تَدْعُونِی قُرَیْشٌ إِلَی تَعْظِیمِ الْمَحَارِمِ فَیَسْبِقُونِی إِلَیْہِ ، ہَلُمَّ ہَاہُنَا لأَصْحَابِہِ ، فَأَخَذَ ذَاتَ الْیَمِینِ فِی ثَنِیَّۃٍ تُدْعَی ذَاتَ الْحَنْظَلِ ، حَتَّی ہَبَطَ عَلَی الْحُدَیْبِیَۃِ ، فَلَمَّا نَزَلَ اسْتَقَی النَّاسُ مِنَ الْبِئْرِ ، فَنَزَفَتْ وَلَمْ تَقُمْ بِہِمْ ، فَشَکَوْا ذَلِکَ إِلَیْہِ فَأَعْطَاہُمْ سَہْمًا مِنْ کِنَانَۃِ ، فَقَالَ : اِغْرِزُوہُ فِی الْبِئْرِ ، فَغَرَزُوہُ فِی الْبِئْرِ ، فَجَاشَتْ وَطَمَا مَاؤُہَا

حَتَّی ضَرَبَ النَّاسُ بِالْعَطَنِ۔

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِہِ قُرَیْشٌ أَرْسَلُوا إِلَیْہِ أَخَا بَنِی حُلَیْسٍ ، وَہُوَ مِنْ قَوْمٍ یُعَظِّمُونَ الْہَدْیَ ، فَقَالَ : ابْعَثُوا الْہَدْیَ ، فَلَمَّا رَأَی الْہَدْیَ لَمْ یُکَلِّمْہُمْ کَلِمَۃً ، وَانْصَرَفَ مِنْ مَکَانِہِ إِلَی قُرَیْشٍ ، فَقَالَ : یَا قَوْمُ الْقَلاَئِدُ وَالْبُدْنُ وَالْہَدْی ، فَحَذَّرَہُمْ وَعَظَّمَ عَلَیْہِمْ ، فَسَبُّوہُ وَتَجَہَّمُوہُ ، وَقَالُوا : إِنَّمَا أَنْتَ أَعْرَابِیٌّ جِلْفٌ لاَ نَعْجَبُ مِنْکَ ، وَلَکِنَّا نَعْجَبُ مِنْ أَنْفُسِنَا إِذْ أَرْسَلْنَاکَ ، اِجْلِسْ۔

ثُمَّ قَالُوا لِعُرْوَۃِ بْنِ مَسْعُودٍ : انْطَلِقْ إِلَی مُحَمَّدٍ ، وَلاَ نُؤْتَیَنَّ مِنْ وَرَائِکَ ، فَخَرَجَ عُرْوَۃُ حَتَّی أَتَاہُ ، فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، مَا رَأَیْتُ رَجُلاً مِنَ الْعَرَبِ سَارَ إِلَی مِثْلِ مَا سِرْت إِلَیْہِ ، سِرْتَ بِأَوْبَاشِ النَّاسِ إِلَی عِتْرَتِکَ وَبَیْضَتِکَ الَّتِی تَفَلَّقَتْ عَنْک لِتُبِیدَ خَضْرَائَہَا ، تَعْلَمُ أَنِّی قَدْ جِئْتُکَ مِنْ عِنْدِ کَعْبِ بْنِ لُؤَیٍّ ، وَعَامِرِ بْنِ لُؤَی ، قَدْ لَبِسُوا جُلُودَ النُّمُورِ عِنْدَ الْعُوذِ الْمَطَافِیلِ یُقْسِمُونَ بِاللہِ لاَ تَعْرِضُ لَہُمْ خُطَّۃً إِلاَّ عَرَضُوا لَکَ أَمْرَّ مِنْہَا۔

فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّا لَمْ نَأْتِ لِقِتَالٍ ، وَلَکِنَّا أَرَدْنَا أَنْ نَقْضِیَ عُمْرَتَنَا وَنَنْحَرَ ہَدْیَنَا ، فَہَلْ لَکَ أَنْ تَأْتِیَ قَوْمَکَ ، فَإِنَّہُمْ أَہْلُ قَتَبٍ ، وَإِنَّ الْحَرْبَ قَدْ أَخَافَتْہُمْ ، وَإِنَّہُ لاَ خَیْرَ لَہُمْ أََنْ تَأْکُلَ الْحَرْبُ مِنْہُمْ إِلاَّ مَا قَدْ أَکَلَتْ ، فَیُخَلُّونَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْبَیْتِ ، فَنَقْضِی عُمْرَتَنَا وَنَنْحَرُ ہَدْیَنَا ، وَیَجْعَلُونَ بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ مُدَّۃً ، نُزِیلُ فِیہَا نِسَائَہُمْ وَیَأْمَنُ فِیہَا سَرْبُہُمْ ، وَیُخَلُّونَ بَیْنِی وَبَیْنَ النَّاسِ ، فَإِنِّی وَاللہِ لأُقَاتِلَنَّ عَلَی ہَذَا الأَمْرِ الأَحْمَرَ وَالأَسْوَدَ حَتَّی یُظْہِرَنِی اللَّہُ ، أَوْ تَنْفَرِدَ سَالِفَتِی ، فَإِنْ أَصَابَنِی النَّاسُ فَذَاکَ الَّذِی یُرِیدُونَ ، وَإِنْ أَظْہَرَنِی اللَّہُ عَلَیْہِمَ اخْتَارُوا ؛ إِمَّا قَاتَلُوا مُعَدِّینَ ، وَإِمَّا دَخَلُوا فِی السِّلْمِ وَافِرِینَ۔

قَالَ : فَرَجَعَ عُرْوَۃُ إِلَی قُرَیْشٍ ، فَقَالَ : تَعْلَمُنَّ وَاللہِ مَا عَلَی الأَرْضِ قَوْمٌ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْکُمْ ، إِنَّکُمْ لإِخْوَانِی وَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَیَّ ، وَلَقَدَ اسْتَنْصَرْتُ لَکُمُ النَّاسَ فِی الْمَجَامِعِ ، فَلَمَّا لَمْ یَنْصُرُوکُمْ أَتَیْتُکُمْ بِأَہْلِی حَتَّی نَزَلْتُ مَعَکُمْ إِرَادَۃَ أَنْ أُوَاسِیَکُمْ ، وَاللہِ مَا أُحِبُّ الْحَیَاۃَ بَعْدَکُمْ ، تَعْلَمُنَّ أَنَّ الرَّجُلَ قَدْ عَرَضَ نِصْفًا فَاقْبَلُوہُ ، تَعْلَمُنَّ أَنِّی قَدْ قَدِمْتُ عَلَی الْمُلُوک ، وَرَأَیْتُ الْعُظَمَائَ ، فَأُقْسِمُ بِاللہِ إِنْ رَأَیْتُ مَلِکًا ، وَلاَ عَظِیمًا أَعْظَمَ فِی أَصْحَابِہِ مِنْہُ ، إِنْ یَتَکَلَّمَ مِنْہُمْ رَجُلٌ حَتَّی یَسْتَأْذِنَہُ ، فَإِنْ ہُوَ أَذِنَ لَہُ تَکَلَّمَ ، وَإِنْ لَمْ یَأْذَنْ لَہُ سَکَتَ ، ثُمَّ إِنَّہُ لَیَتَوَضَّأُ فَیَبْتَدِرُونَ وَضُوئَہُ یَصُبُّونَہُ عَلَی رُؤُوسِہِمْ ، یَتَّخِذُونَہُ حَنَانًا۔

فَلَمَّا سَمِعُوا مَقَالَتَہُ أَرْسَلُوا إِلَیْہِ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو ، وَمِکْرَزَ بْنَ حَفْصٍ ، فَقَالُوا : انْطَلِقُوا إِلَی مُحَمَّدٍ ، فَإِنْ أَعْطَاکُمْ مَا ذَکَرَ عُرْوَۃُ ، فَقَاضِیَاہُ عَلَی أَنْ یَرْجِعَ عَامَہُ ہَذَا عَنَّا ، وَلاَ یَخْلُصَ إِلَی الْبَیْتِ ، حَتَّی یَسْمَعَ مَنْ یَسْمَعُ بِمَسِیرِہِ مِنَ الْعَرَبِ ؛ أَنَّا قَدْ صَدَدْنَاہُ ، فَخَرَجَ سُہَیْلٌ ، وَمِکْرَزٌ حَتَّی أَتَیَاہُ وَذَکَرَا ذَلِکَ لَہُ ، فَأَعْطَاہُمَا الَّذِی سَأَلاَ ، فَقَالَ : اُکْتُبُوا : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، قَالُوا : وَاللہِ لاَ نَکْتُبُ ہَذَا أَبَدًا ، قَالَ : فَکَیْفَ ؟ قَالُوا : نَکْتُبُ بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ ، قَالَ : وَہَذِہِ فَاکْتُبُوہَا ، فَکَتَبُوہَا ، ثُمَّ قَالَ :

اُکْتُبْ : ہَذَا مَا قَاضَی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ ، فَقَالُوا : وَاللہِ مَا نَخْتَلِفُ إِلاَّ فِی ہَذَا ، فَقَالَ : مَا أَکْتُبُ ؟ فَقَالُوا : انْتَسِبْ ، فَاکْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : وَہَذِہِ حَسَنَۃٌ ، اُکْتُبُوہَا ، فَکَتَبُوہَا۔

وَکَانَ فِی شَرْطِہِمْ ، أَنَّ بَیْنَنَا الْعَیْبَۃَ الْمَکْفُوفَۃَ ، وَأَنَّہُ لاَ إِغْلاَلَ ، وَلاَ إِسْلاَلَ۔

قَالَ أَبُو أُسَامَۃَ : الإِغْلاَلُ الدُّرُوعُ ، وَالإِسْلاَلُ السُّیُوفُ ، وَیَعْنِی بِالْعَیْبَۃِ الْمَکْفُوفَۃِ أَصْحَابَہُ یَکُفُّہُمْ عَنْہُمْ۔

وَأَنَّہُ مَنْ أَتَاکُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوہُ عَلَیْنَا ، وَمَنْ أَتَانَا مِنْکُمْ لَمْ نَرْدُدْہُ عَلَیْکُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَمَنْ دَخَلَ مَعِی فَلَہُ مِثْلُ شَرْطِی ، فَقَالَتْ قُرَیْشٌ : مَنْ دَخَلَ مَعَنا فَہُوَ مِنَّا ، لَہُ مِثْلُ شَرْطِنَا ، فَقَالَتْ بَنُو کَعْبٍ : نَحْنُ مَعَکَ یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَتْ بَنُو بَکْرٍ : نَحْنُ مَعَ قُرَیْشٍ۔

فَبَیْنَمَا ہُمْ فِی الْکِتَابِ إِذْ جَائَ أَبُو جَنْدَلٍ یَرْسُفُ فِی الْقُیُودِ ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : ہَذَا أَبُو جَنْدَلٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہُوَ لِی ، وَقَالَ سُہَیْلٌ : ہُوَ لِی ، وَقَالَ سُہَیْلٌ : اقْرَأَ الْکِتَابَ ، فَإِذَا ہُوَ لِسُہَیْلٍ ، فَقَالَ أَبُو جَنْدَلٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ ، أُرَدُّ إِلَی الْمُشْرِکِینَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : یَا أَبَا جَنْدَلٍ ، ہَذَا السَّیْفُ ، فَإِنَّمَا ہُوَ رَجُلٌ وَرَجُلٌ ، فَقَالَ سُہَیْلٌ : أَعَنْتَ عَلَیَّ یَا عمَرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِسُہَیْلٍ: ہَبْہُ لِی ، قَالَ: لاَ ، قَالَ : فَأَجِزْہُ لِی ، قَالَ: لاَ ، قَالَ مِکْرَزٌ: قَدْ أَجَزْتُہُ لَکَ یَا مُحَمَّدُ، فَلَمْ یُہَجْ۔ (بخاری ۲۷۳۱۔ ابوداؤد ۲۷۵۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٧٩٩٥) حضرت مروان سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔۔ جس سال مشرکین نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روکا۔۔۔ اس سال چلے پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ تک پہنچے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حِل میں ہی مجبوراً روک دیا گیا۔ جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ حرم میں نماز کا تھا۔ پس جب لوگوں نے فیصلہ تحریر کردیا اور اس تحریر سے فارغ ہوگئے تو لوگ اس فیصلہ سے بہت دل برداشتہ ہوئے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! نحر کرو اور حلق کرواؤ اور حلال ہو جاؤ۔ کوئی آدمی بھی کھڑا نہ ہوا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات دوبارہ ارشاد فرمائی۔ لیکن پھر کوئی آدمی نہ کھڑا ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ام سلمہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : لوگوں کی جو حالت ہوچکی ہے اس میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انھوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ جا کر اپنی ہدی کو نحر کریں اور حلق کروا کر حلال ہوجائیں۔ لوگ بھی حلال ہوجائیں گے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نحر کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حلق کروا کر حلال ہوگئے۔
(۳۷۹۹۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ مَرْوَانَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ صَدُّوہُ ، فَلَمَّا انْتَہَی إِلَی الْحُدَیْبِیَۃِ اضْطَرَبَ فِی الْحِلِّ ، وَکَانَ مُصَلاَّہُ فِی الْحَرَمِ ، فَلَمَّا کَتَبُوا الْقَضِیَّۃَ وَفَرَغُوا مِنْہَا ، دَخَلَ النَّاسُ مِنْ ذَلِکَ أَمْرٌ عَظِیمٌ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، انْحَرُوا ، وَاحْلِقُوا ، وَأَحِلُّوا ، فَمَا قَامَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ ، ثُمَّ أَعَادَہَا فَمَا قَامَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ ، فَدَخَلَ عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ ، فَقَالَ : مَا رَأَیْتِ مَا دَخَلَ عَلَی النَّاسِ ؟ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اذْہَبْ ، فَانْحَرْ ہَدْیَک ، وَاحْلِقْ ، وَأَحِلَ ، فَإِنَّ النَّاسَ سَیُحِلُّونَ ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَحَلَقَ ، وَأَحَلَّ۔ (احمد ۳۲۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٧٩٩٦) حضرت برائ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت اللہ سے روک دیا گیا (تو اس وقت) اہل مکہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات پر مصالحت کرلی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (آئندہ سال) مکہ میں داخل ہوں گے اور وہاں پر تین دن قیام کریں گے اور مکہ میں صرف اسلحہ کے تھیلے کو ، جس میں تلوار اور زرہ ہوگی ۔۔۔ لے کر آئیں گے اور اہل مکہ میں سے کسی کو لے کر نہیں جائیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو لوگ ہوں گے ان میں سے کسی کو یہاں ٹھہرنے سے آپ منع نہیں کریں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی سے فرمایا : ” ہمارے درمیان معاہدہ تحریر کرو۔ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔ یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح کی ہے۔ “ مشرکین کہنے لگے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول ، مانتے تو ہم آپ کے متبع بن جاتے لیکن (چونکہ ہم نہیں مانتے لہٰذا) آپ یوں لکھیں۔ محمد بن عبداللہ۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی کو حکم دیا کہ پہلی والی عبارت مٹا دو ۔ حضرت علی فرمانے لگے۔ نہیں ! خدا کی قسم ! میں اس کو نہیں مٹاؤں گا۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے وہ جگہ دکھاؤ۔ حضرت علی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ جگہ دکھائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جملہ کو مٹا دیا۔ اور (اس کی جگہ) لکھا۔ ابن عبداللہ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اگلے سال) تین دن مکہ میں قیام فرمایا۔ جب تیسرا دن آیا تو مشرکین نے حضرت علی سے کہا۔ یہ تمہارے ساتھی کی شرط کے مطابق آخری دن ہے پس تم ان سے کہو کہ وہ مکہ سے باہر چلے جائیں۔ حضرت علی نے یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکل گئے۔
(۳۷۹۹۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : لَمَّا حُصِرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبَیْتِ ، صَالَحَہُ أَہْلُ مَکَّۃَ عَلَی أَنْ یَدْخُلَہَا فَیُقِیمَ بِہَا ثَلاَثًا ، وَلاَ یَدْخُلَہَا إِلاَّ بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ : السَّیْفِ وَقِرَابِہِ ، وَلاَ یَخْرُجَ مَعَہُ بِأَحَدٍ مِنْ أَہْلِہَا ، وَلاَ یَمْنَعَ أَحَدًا أَنْ یَمْکُثَ بِہَا مِمَّنْ کَانَ مَعَہُ ، فَقَالَ لِعَلِیٍّ : اُکْتُبَ الشَّرْطَ بَیْنَنَا : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، ہَذَا مَا قَاضَی عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ ، فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ : لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللہِ تَابَعْنَاکَ ، وَلَکِنِ اکْتُبْ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : فَأَمَرَ عَلِیًّا أَنْ یَمْحُوَہَا ، فَقَالَ عَلِیٌّ : لاَ وَاللہِ ، لاَ أَمْحُوہَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَرِنِی مَکَانَہَا ، فَأَرَاہُ مَکَانَہَا ، فَمَحَاہَا ، وَکَتَبَ : ابْنُ عَبْدِ اللہِ ، فَأَقَامَ فِیہَا ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الثَّالِثِ ، قَالُوا لِعَلِیٍّ : ہَذَا آخِرُ یَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِکَ ، فَمُرْہُ فَلْیَخْرُجْ ، فَحَدَّثَہُ بِذَلِکَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَخَرَجَ۔ (بخاری ۲۶۹۸۔ مسلم ۱۴۱۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٧٩٩٧) حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ ہم نے (جب) حدیبیہ کے دن پڑاؤ کیا تو ہم نے اس کے کنویں کو اس حال میں پایا کہ (ہم سے) پہلے والے لوگ اس سے پی چکے تھے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنویں کے منڈیر پر تشریف فرما ہوئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے ایک ڈول منگوایا اور اس میں سے اپنے منہ مبارک میں پانی لیا اور پھر اس پانی کو دوبارہ ڈول میں کلی کردیا اور اللہ سے دعا کی۔ تو اس کنویں کا پانی اتنا زیادہ ہوگیا کہ سارے لوگ اس سے سیراب ہوگئے۔
(۳۷۹۹۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ، قَالَ: نَزَلْنَا یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ ، فَوَجَدْنَا مَائَہَا قَدْ شَرِبَہُ أَوَائِلُ النَّاسِ ، فَجَلَسَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْبِئْرِ ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْہَا ، فَأَخَذَ مِنْہُ بِفِیہِ، ثُمَّ مَجَّہُ فِیہَا وَدَعَا اللَّہَ ، فَکَثُرَ مَاؤُہَا حَتَّی تَرَوَّی النَّاسُ مِنْہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٧٩٩٨) حضرت عطاء سے منقول ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذوالقعدہ میں عمرہ کرنے کے لیے نکلے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مہاجرین و انصار کی ایک جماعت بھی تھی۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر میں پہنچے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قریش کے لوگ آگئے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیت اللہ سے واپس کردیں اس دوران ان کے درمیان سخت گفتگو اور نزاع کھڑا ہوگیا۔ قریب تھا کہ یہ لوگ باہم لڑ پڑتے۔ راوی کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے ایک درخت کے نیچے بیعت لی۔ صحابہ کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی۔ یہی بیعت رضوان کا دن کہلاتا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کے ساتھ مصالحت فرمائی۔ قریش نے کہا۔ ہم آپ کے ساتھ اس شرط پر صلح کرتے ہیں کہ آپ ہدی کے جانور یہیں ذبح کردیں اور حلق کر کے لوٹ جائیں۔ اور جب آئندہ سال آئے گا تو ہم آپ کو تین دن تک مکہ میں رہنے کی اجازت دیں گے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات مان لی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگ عکاظ کی طرف نکل گئے اور انھوں نے وہاں پر تین دن قیام کیا۔ مشرکین نے یہ بھی شرط رکھی تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تلوار کے علاوہ کوئی اسلحہ لے کر داخل نہیں ہوں گے۔ اور اہل مکہ میں سے اگر کوئی آپ کے ساتھ جانا چاہے گا تو آپ اسے لے کر نہیں جائیں گے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہدی کے جانور کو اسی جگہ نحر کردیا اور حلق کروا کر واپس تشریف لے آئے۔ جب آئندہ سال کے یہی ایام آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہمراہ کئی اونٹ لے کر تشریف لائے اور بہت سے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھے۔ پس یہ لوگ مسجد حرام میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ کلمات نازل فرمائے۔ { لَقَدْ صَدَقَ اللَّہُ رَسُولَہُ الرُّؤْیَا بِالْحَقِّ ، لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَائَ اللَّہُ آمِنِینَ } راوی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی۔ { الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ، فَمَنِ اعْتَدَی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ } یعنی اگر وہ تم سے مسجد حرام میں لڑیں تو تم بھی ان سے لڑو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہ بات حلال کردی ہے کہ اگر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مسجد حرام مں ت لڑیں تو آپ بھی مسجد حرام میں ان سے لڑیں۔ ابو جندل بن سہیل بن عمرو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے جبکہ وہ بندھے ہوئے تھے اور انھیں ان کے والد نے باندھا تھا ۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ان کے والد کی طرف رد کردیا۔
(۳۷۹۹۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِرًا فِی ذِی الْقَعْدَۃِ وَمَعَہُ الْمُہَاجِرِونَ وَالأََنْصَارُ حَتَّی أَتَی الْحُدَیْبِیَۃَ ، فَخَرَجَتْ إِلَیْہِ قُرَیْشٌ فَرَدُّوہُ عَنِ الْبَیْتِ ، حَتَّی کَانَ بَیْنَہُمْ کَلاَمُ وَتَنَازُعٌ ، حَتَّی کَادَ یَکُونُ بَیْنَہُمْ قِتَالٌ ، قَالَ : فَبَایَعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَصْحَابُہُ وَعِدَّتُہُمْ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِئَۃٍ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ ، وَذَلِکَ یَوْمُ بَیْعَۃِ الرُّضْوَانِ ، فَقَاضَاہُمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ قُرَیْشٌ : نُقَاضِیکَ عَلَی أَنْ تَنْحَرَ الْہَدْیَ مَکَانَہُ ، وَتَحْلِقَ وَتَرْجِعَ ، حَتَّی إِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ نُخَلِّی لَکَ مَکَّۃَ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ ، فَفَعَلَ۔

قَالَ : فَخَرَجُوا إِلَی عُکَاظٍ ، فَأَقَامُوا فِیہَا ثَلاَثًا ، وَاشْتَرَطُوا عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَدْخُلَہَا بِسِلاَحٍ إِلاَّ بِالسَّیْفِ ، وَلاَ تَخْرُجَ بِأَحَدٍ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ إِنْ خَرَجَ مَعَکَ ، فَنَحَرَ الْہَدْیَ مَکَانَہُ ، وَحَلَقَ وَرَجَعَ ، حَتَّی إِذَا کَانَ فِی قَابِلِ فِی تِلْکَ الأَیَّامِ دَخَلَ مَکَّۃَ ، وَجَائَ بِالْبُدْنِ مَعَہُ ، وَجَائَ النَّاسُ مَعَہُ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَلَیْہِ : {لَقَدْ صَدَقَ اللَّہُ رَسُولَہُ الرُّؤْیَا بِالْحَقِّ ، لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَائَ اللَّہُ آمِنِینَ} قَالَ : وَأَنْزَلَ اللَّہُ عَلَیْہِ : {الشَّہْرُ الْحَرَامُ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ، فَمَنِ اعْتَدَی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَی عَلَیْکُمْ} فَإِنْ قَاتَلُوکُمْ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَاتِلُوہُمْ ، فَأَحَلَّ اللَّہُ لَہُمْ إِنْ قَاتَلُوہُ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ یُقَاتِلَہُمْ فِیْہِ ، فَأَتَاہُ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو ، وَکَانَ مُوثَقًا ، أَوْثَقَہُ أَبُوہُ ، فَرَدَّہُ إِلَی أَبِیہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٧٩٩٩) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ، مشرکین اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان ہونے والی صلح کے بعد تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں : مشرکین حجر اسود سے متصل باب الندوۃ کے پاس موجود تھے اور باہم یہ گفتگو کر رہے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو کمزوری اور لاغری لاحق ہوگئی ہے۔ تو جب صحابہ نے استلام کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے فرمایا : یہ لوگ باہم یہ گفتگو کر رہے ہیں کہ تمہیں کمزوری اور لاغری لاحق ہوچکی ہے۔ پس تم تین چکروں میں رمل کرو۔ تاکہ وہ دیکھ لیں کہ تم قوی ہو۔ راوی کہتے ہں ت : جب صحابہ نے استلام کیا تو قدم اٹھاتے ہی انھوں نے رمل شروع کردیا۔ اس پر مشرکین میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ تمہارا تو خیال یہ نہیں تھا کہ انھیں کمزوری اور لاغری لاحق ہوچکی ہے۔ جبکہ یہ لوگ تو خالی چلنے پر راضی نہیں ہیں جب تک کہ دوڑ نہ لیں۔
(۳۷۹۹۹) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ فِی الْہُدْنَۃِ الَّتِی کَانَتْ قَبْلَ الصُّلْحِ الَّذِی کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُمْ ، قَالَ : وَالْمُشْرِکُونَ عِنْدَ بَابِ النَّدْوَۃِ مِمَّا یَلِی الْحِجْرَ ، وَقَدْ تَحَدَّثُوا أَنَّ بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِہِ جُہْدًا وَہُزْلاً ، فَلَمَّا اسْتَلَمُوا ، قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہُمْ قَدْ تَحَدَّثُوا أَنَّ بِکُمْ جُہْدًا وَہُزْلاً ، فَارْمُلُوا ثَلاَثَۃَ أَشْوَاطٍ حَتَّی یَرَوْا أَنَّ بِکُمْ قُوَّۃً ، قَالَ : فَلَمَّا اسْتَلَمُوا الْحَجَرَ رَفَعُوا أَرْجُلَہُمْ فَرَمَلُوا ، حَتَّی قَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ : أَلَیْسَ زَعَمْتُمْ أَنَّ بِہِمْ ہُزْلاً وَجُہْدًا ، وَہُمْ لاَ یَرْضَوْنَ بِالْمَشْیِ حَتَّی یَسْعَوْا سَعْیًا ؟۔ (احمد ۳۵۶۔ طبرانی ۱۲۰۷۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠٠٠) حضرت مجمع بن جاریہ سے روایت ہے کہ میں، حدیبیہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھا۔ پس جب ہم حدیبیہ سے واپس پلٹے تو لوگوں نے اونٹوں کو تیز رفتار سے بھگانا شروع کیا۔ پھر بعض صحابہ نے بعض سے پوچھا۔ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر ہم بھی لوگوں کے ہمراہ سواریاں دوڑاتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کراع غمیم نامی پہاڑ کے پاس کھڑے پایا۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ کے مطلوبہ افراد جمع ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ {إنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا }

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ایک صاحب نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا یہ فتح ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں ! قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ بلاشبہ یہ فتح ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس اہل حدیبیہ پر اٹھارہ حصوں میں یہ فتح تقسیم کی گئی ۔ لشکر کی تعداد پندرہ سو تھی۔ اور تین سو (ان میں) گھڑ سوار تھے ۔ اور گھڑ سوار کو دو حصے ملے تھے۔
(۳۸۰۰۰) حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ یَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبِی ، عَنْ عَمِّہِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِیَۃَ ، قَالَ : شَہِدْتُ الْحُدَیْبِیَۃَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْہَا إِذَا النَّاسُ یُوجِفُونَ الأَبَاعِرَ ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ : مَا لِلنَّاسِ ؟ فَقَالُوا : أُوحِیَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا نُوجِفُ مَعَ النَّاسِ حَتَّی وَجَدْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عِنْدَ کُرَاعِ الْغَمِیمِ ، فَلَمَّا اجْتَمَعَ إِلَیْہِ بَعْضُ مَا یُرِیدُ مِنَ النَّاسِ ، قَرَأَ عَلَیْہِمْ : (إنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا) فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِہِ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَوَفَتْحٌ ہُوَ ؟ قَالَ : إِیْ ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، إِنَّہُ لَفَتْحٌ ، قَالَ : فَقُسِّمَتْ عَلَی أَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ ، عَلَی ثَمَانیَۃَ عَشَرَ سَہْمًا ، وَکَانَ الْجَیْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِئَۃٍ ، وَثَلاَثُ مِئَۃ فَارِسٍ ، فَکَانَ لِلْفَارِسِ سَہْمَانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠٠١) حضرت ایاس بن سلمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک صد جانور نحر کئے۔ ہماری تعداد سترہ سو تھی اور ان کے پاس، اسلحہ ، افراد اور گھوڑوں کی تیاری بھی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانوروں میں اونٹ بھی تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ میں پڑاؤ ڈالا تو قریش نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات پر صلح کرلی کہ ہم نے جہاں پر ہدی کے جانوروں کو روکا ہے وہیں پر ان کو حلال کردیا جائے۔
(۳۸۰۰۱) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی غَزْوَۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ ، فَنَحَرَ مِئَۃَ بَدَنَۃٍ ، وَنَحْنُ سَبْعَ عَشْرَۃَ مِئَۃ ، وَمَعَہُمْ عِدَّۃُ السِّلاَحِ وَالرِّجَالِ وَالْخَیْلِ ، وَکَانَ فِی بُدْنِہِ جَمَلٌ ، فَنَزَلَ الْحُدَیْبِیَۃَ فَصَالَحَتُہُ قُرَیْشٌ عَلَی أَنَّ ہَذَا الْہَدْیَ مَحَلُّہُ حَیْثُ حَبَسْنَاہُ۔ (ابن سعد ۱۰۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠٠٢) حضرت سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھے۔ اگر ہماری رائے قتال کی ہوجاتی تو ہم قتال کرتے ۔ یہ اس صلح کے دوران کی بات ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مشرکین کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم لوگ حق پر نہیں ہیں اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں ؟ ّ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیوں نہیں ! پھر حضرت عمر نے پوچھا۔ کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں جائیں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں نہیں ! حضرت عمر نے عرض کیا۔ پھر ہم ایسی گھٹیا بات کہہ کر کیوں لوٹ رہے ہیں ؟ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خطاب کے بیٹے ! میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے ہرگز ضائع نہیں کریں گے۔

راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت عمر کو صبر نہ آیا اور وہ غصہ کی حالت میں چل دیئے اور حضرت ابوبکر کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ اے ابوبکر ! کیا ہم لوگ حق پر اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : کیوں نہیں ! حضرت عمر نے پوچھا۔ کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں جائیں گے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا : کیوں نہیں۔ حضرت عمر نے کہا۔ پھر ہم اپنے دین کے متعلق ایسی گھٹیا بات کہہ کر کیوں جا رہے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا ؟ حضرت ابوبکر نے کہا۔ خطاب کے بیٹے ! وہ خدا کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو کبھی ضائع نہیں کریں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فتح (کے وعدہ کے) ساتھ قرآن نازل ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کی طرف آدمی بھیجا اور (بلا کر) انھیں یہ قرآن پڑھایا۔ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا یہ فتح ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! اس پر حضرت عمر کا دل خوش ہوگیا اور وہ لوٹ گئے۔
(۳۸۰۰۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ سِیَاہٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبِیبُ بْنُ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ ، قَالَ : لَقَدْ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ نَرَی قِتَالاً لَقَاتَلْنَا ، وَذَلِکَ فِی الصُّلْحِ الَّذِی کَانَ بَیْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبَیْنَ الْمُشْرِکِینَ ، فَجَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلَسْنَا عَلَی حَقٍّ وَہُمْ عَلَی بَاطِلٍ ؟ قَالَ : بَلَی ، قَالَ : أَلَیْسَ قَتْلاَنَا فِی الْجَنَّۃِ وَقَتْلاَہُمْ فِی النَّارِ ؟ قَالَ : بَلَی ، قَالَ : فَفِیمَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ ، وَنَرْجِعُ وَلَمَّا یَحْکُمَ اللَّہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ ؟ قَالَ : یَابْنَ الْخَطَّابِ ، إِنِّی رَسُولُ اللہِ ، وَلَنْ یُضَیِّعَنِی اللَّہُ أَبَدًا ، قَالَ : فَانْطَلَقَ عُمَرُ ، وَلَمْ یَصْبِرْ ، مُتَغَیِّظًا حَتَّی أَتَی أَبَا بَکْرٍ ، فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ ، أَلَسْنَا عَلَی حَقٍّ وَہُمْ عَلَی بَاطِلٍ ؟ قَالَ : بَلَی ، قَالَ : أَلَیْسَ قَتْلاَنَا فِی الْجَنَّۃِ وَقَتْلاَہُمْ فِی النَّارِ ؟ قَالَ : بَلَی ، قَالَ : فَعَلَی مَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا ، وَنَرْجِعُ وَلَمَّا یَحْکُمَ اللَّہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ؟ قَالَ : یَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، إِنَّہُ رَسُولُ اللہِ ، وَلَنْ یُضَیِّعَہُ اللَّہُ أَبَدًا ، قَالَ : فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْفَتْحِ ، فَأَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ فَأَقْرَأَہُ إیَّاہُ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَوَفَتْحٌ ہُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَطَابَتْ نَفْسُہُ وَرَجَعَ۔ (بخاری ۳۱۸۲۔ مسلم ۱۴۱۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠٠٣) حضرت انس سے روایت ہے کہ قریش نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مصالحت کی جبکہ ان (مصالحت کرنے والوں) میں سہیل بن عمرو بھی تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی سے فرمایا : لکھو ! بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ سہیل نے کہا یہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ہم نہیں جانتے۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ کیا ہے۔ ہاں وہ بات لکھو جس کو ہم جانتے ہیں۔ بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لکھو ! محمد رسول اللہ کی طرف سے۔ وہ کہنے لگے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مانتے تو ہم آپ کی اتباع ہی کرلیتے۔ ہاں اپنا اور اپنے والد کا نام لکھو۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ لکھو ! محمد بن عبداللہ کی طرف سے۔ پھر مشرکین قریش نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ شرط لگائی کہ تم میں سے جو آدمی (ہمارے پاس) آئے گا ہم اس کو تمہیں واپس نہیں کریں گے۔ اور ہم میں سے جو آدمی تمہارے پاس آئے گا تو تم اس کو ہماری طرف واپس کرو گے۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا یہ بات بھی لکھی جائے گی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! جو آدمی ہم میں سے ان ی طرف جائے گا تو اللہ اس کو دور کر دے گا۔ اور جو ہمارے پاس ان میں سے آئے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے راہ اور مخرج پیدا کر دے گا۔
(۳۸۰۰۳) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ قُرَیْشًا صَالَحُوا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِمْ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیٍّ : اُکْتُبْ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، فَقَالَ سُہَیْلٌ : أَمَّا بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ فَمَا نَدْرِی مَا بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ، وَلَکِنِ اُکْتُبْ بِمَا نَعْرِفُ : بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ ، فَقَالَ : اُکْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ ، قَالُوا : لَوْ عَلِمْنَا أَنَّکَ رَسُولُ اللہِ اتَّبَعَنَاکَ ، وَلَکِنِ اُکْتُبَ اسْمَکَ وَاسْمَ أَبِیکَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُکْتُبْ : مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، فَاشْتَرَطُوا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ جَائَ مِنْکُمْ لَمْ نَرُدَّہُ عَلَیْکُمْ ، وَمَنْ جَائَکُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوہُ عَلَیْنَا ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَتَکْتُبُ ہَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّہُ مَنْ ذَہَبَ مِنَّا إِلَیْہِمْ فَأَبْعَدَہُ اللَّہُ ، وَمَنْ جَائَنَا مِنْہُمْ سَیَجْعَلُ اللَّہُ لَہُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا۔ (بخاری ۴۱۵۴۔ مسلم ۱۴۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠٠٤) حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ہم یوم الحدیبیہ کو چودہ سو کی تعداد میں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ارشاد فرمایا : آج کے دن تم لوگ اہل زمین میں سب سے زیادہ بہتر ہو۔
(۳۸۰۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا ، یَقُولُ : کُنَّا یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِئَۃ ، فَقَالَ لَنَا : أَنْتُمَ الْیَوْمَ خَیْرُ أَہْلِ الأَرْضِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠٠٥) حضرت مسور اور مروان سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے سال نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہزار سے کچھ زیادہ تعداد میں اپنے صحابہ کے ہمراہ نکلے پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذوالحلیفہ میں تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہدی کو مقلد کیا اور شعار کرکے احرام باندھا۔
(۳۸۰۰۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ ، وَمَرْوَانَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ خَرَجَ فِی بِضْعَ عَشْرَۃَ مِئَۃٍ مِنْ أَصْحَابِہِ ، فَلَمَّا کَانَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ قَلَّدَ الْہَدْیَ ، وَأَشْعَرَ، وَأَحْرَمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠٠٦) حضرت ایاس بن سلمہ ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے سہیل بن عمرو، حویطب ابن عبد العزی اور مکرز بن حفص کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجا تاکہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صلح کریں۔ پس جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سہیل کو دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہارا معاملہ آسان ہوگیا ہے۔ لوگ تمہارے پاس اپنے رشتوں کے ہمراہ آ رہے ہیں۔ اور تم سے صلح کا سوال کر رہے ہیں۔ پس ہدی کے جانوروں کو کھڑا کردو اور تلبیہ کو ظاہر کرو۔ شاید کہ یہ ان کے دلوں کو نرم کر دے۔ صحابہ کرام نے لشکر کے اطراف سے تلبیہ بلند کیا یہاں تک کہ ان کے تلبیہ میں ان کی آوازوں سے گونج پیدا ہوگئی ۔ راوی کہتے ہیں : پس مشرکین آئے اور انھوں نے صلح کی بات کی۔

٢۔ راوی کہتے ہیں : اس دوران جبکہ یہ لوگ باہم۔ مسلمانوں کے لشکر میں مشرکین اور مشرکین کے لشکر میں مسلمان موجود تھے۔ کہا گیا : ابو سفیان ! ! ! اچانک وادی لوگوں اور اسلحہ سے بہنے لگی۔ راوی کہتے ہیں : ایاس بیان کرتے ہیں کہ سلمہ نے کہا۔ میں نے مشرکین میں سے چھ مسلح افراد کو ہانک لیا درآنحالیکہ وہ اپنے لیے کسی نفع اور نقصان کے مالک نہیں تھے ۔ ہم انھیں لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں قتل کیا اور نہ مال چھینا بلکہ معاف فرما دیا۔ راوی کہتے ہیں : پھر مشرکین کے قبضہ میں ہمارے جو ساتھی تھے ہم نے ان کے بارے میں سختی کی اور مشرکین کے قبضہ میں ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑا بلکہ چھڑا لیا۔ راوی کہتے ہیں : ہمارے قبضہ میں جو ان کے افراد تھے ہم ان پر غالب رہے۔

٣۔ پھر قریش، سہیل بن عمرو اور حویطب بن عبد العزی کے پاس گئے اور انھیں اپنی صلح کا متولی بنایا۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی اور حضرت طلحہ کو بھیجا۔ حضرت علی نے ان کے درمیان فیصلہ تحریر کیا۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ۔ یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ نے قریش سے صلح کی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے اس بات پر صلح کی ہے کہ نہ تو دھوکا دہی ہوگی اور نہ ہی شرائط کی خلاف ورزی اور یہ بھی شرط ہے کہ اصحابِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے جو آدمی حج وعمرہ کرنے یا اللہ کی رضا کے لیے مکہ مکرمہ آئے گا تو اس کے خون اور مال کو امن ہوگا۔ اور قریش میں سے جو شخص مدینہ میں مصر یا شام کی طرف جانے کے لیے آئے اور اللہ کے فضل کا متلاشی ہو تو اس کا مال اور خون بھی مامون ہوگا۔ اور یہ شرط بھی تھی کہ قریش میں سے جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے گا تو واپس کیا جائے گا اور جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے قریش کی طرف آئے گا تو وہ انہی کے پاس ہوگا۔

٤۔ یہ بات اہل اسلام پر بہت شاق گزری۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص ان میں سے ہماری طرف آئے گا تو ہم اس کو ان کی طرف واپس کردیں گے (حالانکہ) اللہ تعالیٰ اس کے دل سے اسلام کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے لیے راہ بنا دے گا۔

٥۔ قریش نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات پر صلح کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئندہ سال انہی مہینوں میں عمرہ کریں گے (لیکن) ہمارے پاس گھوڑے اور اسلحہ لے کر نہیں آئیں گے سوائے اس مقدار کے جو ایک مسافر اپنے تھیلے میں رکھتا ہے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (آئندہ سال) مکہ میں تین دن قیام کریں گے۔ اور یہ شرط بھی تھی کہ اس ہدی کو جہاں پر ہم نے روکا ہے وہیں پر اس کو حلال کریں۔ ان کو مزید آگے نہیں ہانکیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ہم تو اس کو ہانکیں گے اور تم اس کو واپس موڑ دینا۔
(۳۸۰۰۶) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : بَعَثَتْ قُرَیْشٌ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو ، وَحُوَیْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّی ، وَمِکْرَزَ بْنَ حَفْصٍ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیُصَالِحُوہُ ، فَلَمَّا رَآہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِمْ سُہَیْلٌ ، قَالَ : قَدْ سَہُلَ مِنْ أَمْرِکُمْ ، الْقَوْمُ یَأْتُونَ إِلَیْکُمْ بِأَرْحَامِہِمْ ، وَسَائِلُوکُمُ الصُّلْحَ ، فَابْعَثُوا الْہَدْیَ ، وَأَظْہِرُوا التَّلْبِیَۃِ ، لَعَلَّ ذَلِکَ یُلَیِّنُ قُلُوبَہُمْ ، فَلَبَّوْا مِنْ نَوَاحِی الْعَسْکَرِ ، حَتَّی ارْتَجَّتْ أَصْوَاتُہُمْ بِالتَّلْبِیَۃِ ، قَالَ : فَجَاؤُوہُ فَسَأَلُوا الصُّلْحَ۔

قَالَ : فَبَیْنَمَا النَّاسُ قَدْ تَوَادَعُوا ، وَفِی الْمُسْلِمِینَ نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، وَفِی الْمُشْرِکِینَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، فَقِیلَ : أَبُو سُفْیَانَ ، فَإِذَا الْوَادِی یَسِیلُ بِالرِّجَالِ وَالسِّلاَحِ ، قَالَ : قَالَ إِیَاسٌ : قَالَ سَلَمَۃُ : فَجِئْتُ بِسِتَّۃٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مُسَلَّحِینَ أَسُوقُہُمْ ، مَا یَمْلِکُونَ لأَنْفُسِہِمْ نَفْعًا ، وَلاَ ضَرًّا ، فَأَتَیْنَا بِہِمُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ یَسْلُبْ ، وَلَمْ یَقْتُلْ ، وَعَفَا ، قَالَ : فَشَدَدْنَا عَلَی مَا فِی أَیْدِی الْمُشْرِکِینَ مِنَّا ، فَمَا تَرَکْنَا فِیہِمْ رَجُلاً مِنَّا إِلاَّ اسْتَنْقَذْنَاہُ ، قَالَ : وَغُلِبْنَا عَلَی مَنْ فِی أَیْدِینَا مِنْہُمْ۔

ثُمَّ إِنَّ قُرَیْشًا أَتَتْ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو ، وَحُوَیْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّی ، فَوَلُوا صُلْحَہُمْ ، وَبَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیًّا ، وَطَلْحَۃَ ، فَکَتَبَ عَلِیٌّ بَیْنَہُمْ : بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ، ہَذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہِ قُرَیْشًا ، صَالَحَہُمْ عَلَی أَنَّہُ لاَ إِغْلاَلَ ، وَلاَ إِسْلاَلَ ، وَعَلَی أَنَّہُ مَنْ قَدِمَ مَکَّۃَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ حَاجًّا ، أَوْ مُعْتَمِرًا ، أَوْ یَبْتَغِی مِنْ فَضْلِ اللہِ ، فَہُوَ آمِنٌ عَلَی دَمِہِ وَمَالِہِ ، وَمَنْ قَدِمَ الْمَدِینَۃَ مِنْ قُرَیْشٍ مُجْتَازًا إِلَی مِصْرَ وَإِلَی الشَّامِ ، یَبْتَغِی مِنْ فَضْلِ اللہِ ، فَہُوَ آمِنٌ عَلَی دَمِہِ وَمَالِہِ ، وَعَلَی أَنَّہُ مَنْ جَائَ مُحَمَّدًا مِنْ قُرَیْشٍ فَہُوَ رَدٌّ ، وَمَنْ جَائَہُمْ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ فَہُوَ لَہُمْ۔

فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ جَائَہُمْ مِنَّا فَأَبْعَدَہُ اللَّہُ ، وَمَنْ جَائَنَا مِنْہُمْ رَدَدْنَاہُ إِلَیْہِمْ ، یَعْلَمُ اللَّہُ الإِسْلاَمَ مِنْ نَفْسِہِ یَجْعَلُِ اللَّہُ لَہُ مَخْرَجًا۔

وَصَالَحُوہُ عَلَی أَنَّہُ یَعْتَمِرُ عَامًا قَابِلاً فِی مِثْلِ ہَذَا الشَّہْرِ ، لاَ یَدْخُلُ عَلَیْنَا بِخَیْلٍ ، وَلاَ سِلاَحٍ ، إِلاَّ مَا یَحْمِلُ الْمُسَافِرُ فِی قِرَابِہِ ، فَیَمْکُثُ فِیہَا ثَلاَثَ لَیَالٍ ، وَعَلَی أَنَّ ہَذَا الْہَدْیَ حَیْثُ حَبَسْنَاہُ فَہُوَ مَحِلُّہُ ، لاَ یُقْدِمُہُ عَلَیْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : نَحْنُ نَسُوقُہُ ، وَأَنْتُمْ تَرُدُّونَ وَجْہَہُ۔ (طبری ۹۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠٠٧) حضرت ایاس بن سلمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے خارجہ بن کرز کو اپنے لیے جاسوسی کرنے کے لیے بھیجا۔ تو وہ (صحابہ کرام کی) تعریفیں کرتے ہوئے واپس پلٹا۔ تو قریش نے اس سے کہا۔ تو دیہاتی آدمی ہے۔ انھوں نے تجھے اسلحہ کی جھنکار سنائی تو تیرا دل اڑ گیا۔ پس تجھے کچھ پتہ نہیں چلا کہ تجھے کیا کیا گیا اور تو نے کیا کہا۔ پھر قریش نے عروہ بن مسعود کو بھیجا۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اے محمد ! یہ کیا بات ہے ؟ تو خدا کی ذات کی طرف بلاتا ہے اور پھر تو اپنی قوم کے پاس اوباش لوگوں کو لاتا ہے۔ جن میں سے بعض کو تو جانتا ہے اور بعض کو نہیں جانتا۔۔۔ تاکہ تو ان سے قطع رحمی کرے اور ان کی حرمتوں، خون اور اموال کو حلال کرے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں تو اپنی قوم کے پاس صرف اس لیے آیا ہوں تاکہ میں ان سے صلح رحمی کروں۔ اللہ ان کو ان کے دین کے بدلہ ایک اس سے بہتر دین اور ان کی معیشت سے بہتر معیشت دیتا ہے۔ پس (یہ بات سن کر) وہ بھی تعریفیں کرتے ہوئے لوٹا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، مشرکین کے قبضہ میں جو مسلمان موجود تھے ان پر مصائب کی شدت اور بڑھ گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کو بلایا اور اشارہ فرمایا۔ اے عمر ! کیا اپنے مسلمان قیدی بھائیوں کو تم اپنی طرف سے پیغام پہنچا (آؤ) گے۔ حضرت عمر نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا تو مکہ میں کوئی بڑا خاندان نہیں ہے۔ جبکہ میرے علاوہ لوگ مجھ سے زیادہ وہاں خاندانی روابط رکھتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان کو بلایا اور ان کو اہل مکہ کی طرف روانہ کیا۔ حضرت عثمان ، اپنی سواری پر سوار ہو کر نکلے یہاں تک کہ آپ مشرکین کے لشکر کے پاس پہنچے۔ انھوں نے آپ سے لا یعنی باتیں شروع کیں۔ اور بیہودہ گفتگو کی۔ لیکن پھر حضرت عثمان کو ابان بن سعد بن العاص نے ۔۔۔ جو حضرت عثمان کا چچا زاد تھا ۔۔۔ پناہ دی ۔ اور انھیں اپنی زین پر سوار کیا اور خود آپ کے پیچھے سوار ہوگیا پھر جب یہ کچھ آگے بڑھے تو اس نے کہا۔ اے چچا زاد ! کیا وجہ ہے کہ میں تجھے پرانے کپڑے پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں ؟ شلوار نیچے کرو (یعنی ٹخنے ڈھانپ لو) ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عثمان کی ازار نصف پنڈلی تک تھی ۔۔۔ حضرت عثمان نے جواباً اس کو ارشاد فرمایا : ہمارے صاحب (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کی ازار بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ پھر حضرت عثمان نے مسلمان قیدیوں میں سے کسی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام پہنچائے بیرے نہیں چھوڑا (یعنی سب کو پیغام دیا) حضرت سلمہ فرماتے ہیں۔ اس دوران جبکہ ہم قیلولہ کر رہے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منادی نے آواز دی۔ اے لوگو ! بیعت (محمد) بیعت ! روح القدس نازل ہوئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں : پس ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف چل دئیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کیکر کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیعت کی۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ { لَقَدْ رَضِیَ اللَّہُ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ إِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ }

راوی کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان کے لیے بیعت اس طرح لی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر رکھ لیا۔ لوگ کہنے لگے۔ ابو عبداللہ کی خوش قسمتی ہے۔ وہ بیت اللہ کا طواف کررہا ہے اور ہم یہاں پر ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر وہ کئی سال بھی وہاں رہے تب بھی طواف نہیں کرے گا جب تک میں طواف نہیں کروں گا۔
(۳۸۰۰۷) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : بَعَثَتْ قُرَیْشٌ خَارِجَۃَ بْنَ کُرْزٍ یَطَّلِعُ لَہَمْ طَلِیعَۃً ، فَرَجَعَ حَامِدًا یُحْسِنُ الثَّنَائَ ، فَقَالُوا لَہُ : إِنَّک أَعْرَابِیٌّ ، قَعْقَعُوا لَکَ السِّلاَحَ فَطَارَ فُؤَادُکَ ، فَمَا دَرَیْتَ مَا قِیلَ لَکَ وَمَا قُلْتَ ، ثُمَّ أَرْسَلُوا عُرْوَۃَ بْنَ مَسْعُودٍ فَجَائَہُ ، فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، مَا ہَذَا الْحَدِیثُ ؟ تَدْعُو إِلَی ذَاتِ اللہِ ، ثُمَّ جِئْتَ قَوْمَکَ بِأَوْبَاشِ النَّاسِ ، مَنْ تَعْرِفُ وَمَنْ لاَ تَعْرِفُ ، لِتَقْطَعَ أَرْحَامَہُمْ ، وَتَسْتَحِلَّ حُرْمَتَہُمْ وَدِمَائَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ ، فَقَالَ : إِنِّی لَمْ آتِ قَوْمِی إِلاَّ لأَصِلَ أَرْحَامَہُمْ ، یُبَدِّلُہُمُ اللَّہُ بِدِینٍ خَیْرٍ مِنْ دِینِہِمْ ، وَمَعَایِشَ خَیْرٍ مِنْ مَعَایِشِہِمْ ، فَرَجَعَ حَامِدًا بِحُسْنِ الثَّنَائَ۔

قَالَ : قَالَ إِیَاسٌ ، عَنْ أَبِیہِ : فَاشْتَدَّ الْبَلاَئُ عَلَی مَنْ کَانَ فِی یَدِ الْمُشْرِکِینَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُمَرَ ، فَقَالَ : یَا عُمَرُ ، ہَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّی إِخْوَانَکَ مِنْ أُسَارَی الْمُسْلِمِینَ ؟ فَقَالَ : لاَ ، یَا نَبِیَّ اللہِ ، وَاللہِ مَا لِی بِمَکَّۃَ مِنْ عَشِیرَۃٍ ، غَیْرِی أَکْثَرُ عَشِیرَۃً مِنِّی ، فَدَعَا عُثْمَانَ فَأَرْسَلَہُ إِلَیْہِمْ ، فَخَرَجَ عُثْمَانُ عَلَی رَاحِلَتِہِ ، حَتَّی جَائَ عَسْکَرَ الْمُشْرِکِینَ ، فَعَبِثُوا بِہِ ، وَأَسَاؤُوا لَہُ الْقَوْلَ ، ثُمَّ أَجَارَہُ أَبَانُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ ، ابْنُ عَمِّہِ ، وَحَمَلَہُ عَلَی السَّرْجِ وَرَدِفَہُ ، فَلَمَّا قَدِمَ ، قَالَ : یَابْنَ عَمِّ ، مَا لِی أَرَاک مُتَحَشِّفًًا ؟ أَسْبِلْ ، قَالَ : وَکَانَ إِزَارُہُ إِلَی نِصْفِ سَاقَیْہِ ، فَقَالَ لَہُ عُثْمَانُ : ہَکَذَا إِزْرَۃُ صَاحِبِنَا ، فَلَمْ یَدَعْ أَحَدًا بِمَکَّۃَ مِنْ أُسَارَی الْمُسْلِمِینَ ، إِلاَّ أَبْلَغَہُمْ مَا قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔

قَالَ سَلَمَۃُ : فَبَیْنَمَا نَحْنُ قَائِلُونَ ، نَادَی مُنَادِی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، الْبَیْعَۃَ ، الْبَیْعَۃَ ، نَزَلَ رُوحُ الْقُدُسِ ، قَالَ : فَسِرْنَا إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَہُوَ تَحْتَ شَجَرَۃِ سَمُرَۃٍ ، فَبَایَعْنَاہُ ، وَذَلِکَ قَوْلُ اللہِ : {لَقَدْ رَضِیَ اللَّہُ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ إِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ} قَالَ : فَبَایَعَ لِعُثْمَانَ إِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الأُخْرَی ، فَقَالَ النَّاسُ : ہَنِیئًا لأَبِی عَبْدِ اللہِ ، یَطُوفُ بِالْبَیْتِ وَنَحْنُ ہَاہُنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ مَکَثَ کَذَا وَکَذَا سَنَۃً ، مَا طَافَ حَتَّی أَطُوفَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ حدیبیہ
(٣٨٠٠٨) حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے دن ارشاد فرمایا : تم لوگ رات کے وقت آگ نہ جلانا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آگ جلاؤا ور (کھانا) بناؤ۔ تمہارے بعد کوئی قوم تمہارے مُد اور صاع (کے ثواب) کو نہیں پا سکے گی۔
(۳۸۰۰۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَحْیَی ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ : لاَ تُوقِدُوا نَارًا بِلَیْلٍ ، ثُمَّ قَالَ : أَوْقِدُوا وَاصْطَنِعُوا ، فَإِنَّہُ لَنْ یُدْرِکَ قَوْمٌ بَعْدَکُمْ مُدَّکُمْ ، وَلاَ صَاعَکُمْ۔
tahqiq

তাহকীক: