মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৭৯৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٦٩) حضرت عبد الرحمن بن ابو سعید خدری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ خندق کے دن ہمیں ظہر، عصر اور مغرب ، عشا سے محبوس رکھا گیا ۔ یہاں تک کہ ہمیں اس سے کفایت دے دی گئی۔ یہی ارشاد خداوندی (کا معنی) ہے۔ { وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ ، وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا } پھر نبی کریم کھڑے ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو حکم دیا۔ انھوں نے اقامت کہی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی ، جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پہلے ظہر کی نماز پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے عصر کے لیے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز بھی ادا کی جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، عصر کی نماز پہلے پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز ادا فرمائی جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پہلے مغرب پڑھتے تھے۔ پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشا کی نماز ادا کی جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پہلے عشاء ادا کرتے تھے۔ اور یہ واقعہ { فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً ، أَوْ رُکْبَانًا } کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔
(۳۷۹۶۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : حُبِسْنَا یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الظُّہْرِ ، وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ ، وَالْعِشَائِ حَتَّی کُفِینَا ذَلِکَ ، وَذَلِکَ قَوْلُ اللہِ : {وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ ، وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا} فَقَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ ، ثُمَّ صَلَّی الظُّہْرَ کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا قَبْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلاَہَا کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا قَبْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا قَبْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ کَمَا کَانَ یُصَلِّیہَا قَبْلَ ذَلِکَ ، وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یَنْزِلَ : {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً ، أَوْ رُکْبَانًا}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٧٠) حضرت سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق کے دن غروب شمس تک ظہر اور عصر ادا نہیں کی تھی۔
(۳۷۹۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یُصَلِّ یَوْمَ الْخَنْدَقِ الظُّہْرَ ، وَالْعَصْرَ حَتَّی غَابَتِ الشَّمْسُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٧١) حضرت ابو معشر سے روایت ہے کہ حارث بن عوف اور عیینہ بن حصن آئے اور انھوں نے عام خندق میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔ ہم آپ سے غطفان کو روک کر رکھیں گے اس شرط پر کہ آپ ہمیں مدینہ کے پھل دیں گے۔ راوی کہتے ہیں : پھر انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کمی بیشی کی بات کی اور معاملہ مدینہ کے نصف پھلوں پر طے ہوگیا۔ انھوں نے کہا۔ ہمارے اور اپنے مابین آپ کوئی تحریر لکھ دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کاغذ منگوایا ۔ راوی کہتے ہیں : سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ دونوں تشریف فرما تھے۔ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا۔ کیا آپ کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ایسی بات آئی ہے جس سے ہم اعراض نہیں کرسکتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ! الیکن میرا ارادہ ہے کہ میں ان لوگوں کے چہروں کو خود سے پھیر دوں اور میں اپنے چہرے کو ان کے لیے فارغ کرنا چاہتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ دونوں صحابیوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔ ہماری جاہلیت کے زمانہ میں عرب نے کبھی ہم سے کچھ نہیں لیا تھا۔ سوائے خریداری اور مہمان نوازی کے۔
(۳۷۹۷۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ أَبِی مَعْشَرٍ ، قَالَ : جَائَ الْحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ ، وَعُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنٍ ، فَقَالاَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْخَنْدَقِ : نَکُفُّ عَنْکَ غَطَفَانَ ، عَلَی أَنْ تُعْطِیَنَا ثِمَارَ الْمَدِینَۃِ ، قَالَ : فَرَاوَضُوہُ حَتَّی اسْتَقَامَ الأَمْرُ عَلَی نِصْفِ ثِمَارِ الْمَدِینَۃِ ، فَقَالُوا : اُکْتُبْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ کِتَابًا ، فَدَعَا بِصَحِیفَۃٍ، قَالَ : وَالسَّعْدَانِ ؛ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَسَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ جَالِسَانِ ، فَأَقْبَلاَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالاَ : أَشَیْئٌ أَتَاکَ عَنِ اللہِ ، لَیْسَ لَنَا أَنْ نَعْرِضَ فِیہِ ؟قَالَ : لاَ ، وَلَکِنِّی أَرَدْتُ أَنْ أَصْرِفَ وُجُوہَ ہَؤُلاَئِ عَنِّی، وَیَفْرُغَ وَجْہِی لِہَؤُلاَئِ ، قَالَ : قَالاَ لَہُ : مَا نَالَتْ مِنَّا الْعَرَبُ فِی جَاہِلِیَّتِنَا شَیْئًا إِلاَّ بِشِرًی ، أَوْ قِرًی۔
(بخاری ۲۹۳۱۔ مسلم ۴۳۶)
(بخاری ۲۹۳۱۔ مسلم ۴۳۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٧٢) حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق والے دن ارشاد فرمایا : انھوں (مشرکین) نے ہمیں صلوۃ وسطی یعنی عصر کی نماز سے روکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔
(۳۷۹۷۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِیْدَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ : حَبَسُونَا عَنِ الصَّلاَۃِ الْوُسْطَی ، صَلاَۃِ الْعَصْرِ ، مَلأَ اللَّہُ بُیُوتَہُمْ وَقُبُورَہُمْ نَارًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٧٣) حضرت ابن عمر سے روایت ہے۔ مجھے خندق والے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پیش کیا گیا اور میری عمر پندرہ سال تھی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اجازت عنایت فرما دی۔ ابن ادریس کی روایت میں عُرِضت ہے۔
(۳۷۹۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، وَابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: عَرَضَنِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ فَأَجَازَنِی ۔ إِلاَّ أَنَّ ابْنَ إِدْرِیسَ قَالَ : عُرِضْتُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٧٤) حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق والے دن ارشاد فرمایا : کون آدمی جائے گا اور ہمیں بنو قریظہ کی خبر لا کر دے گا ؟ حضرت زبیر سوار ہوگئے اور بنو قریظہ کے بارے میں خبر لے آئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات دہرائی اور تین مرتبہ فرمایا۔ کون مجھے ان کی خبر لا کر دے گا ؟ تو حضرت زبیر نے کہا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر کے لیے اپنے والدین کو جمع فرما کر ارشاد فرمایا : تم پر میرے ماں، باپ قربان ہوں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر سے فرمایا : ہر نبی کا کوئی حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر اور میری پھوپھی کا بیٹا ہے۔
(۳۷۹۷۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ : مَنْ رَجُلٌ یَذْہَبُ فَیَأْتِینَا بِخَبَرِ بَنِی قُرَیْظَۃَ ؟ فَرَکِبَ الزُّبَیْرُ فَجَائَہُ بِخَبَرِہِمْ ، ثُمَّ عَادَ ، فَقَالَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ : مَنْ یَجِیئُنِی بِخَبَرِہِمْ ؟ فَقَالَ الزُّبَیْرُ : نَعَمْ ، قَالَ : وَجَمَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَیْرِ أَبَوَیْہِ ، فَقَالَ : فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی ، وَقَالَ لِلزُّبَیْرِ : لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِی ، وَحِوَارِیِّ الزُّبَیْرُ ، وَابْنُ عَمَّتِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٧٥) حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا کہ ہم خندق کھودیں تو ایک پہاڑ کے اندر ہمارے سامنے ایک بڑی چٹان آگئی۔ جس میں کدالیں داخل نہیں ہوتی تھیں۔ ہم نے اس بات کی شکایت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چٹان کو دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کدال ہاتھ میں لی اور اپنا کپڑا رکھ دیا۔ اور فرمایا : بسم اللہ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ضرب لگائی تو ایک تہائی چٹان ٹوٹ گئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اکبر ! شام کی چابیاں عطا کردی گئیں ہیں۔ بخدا ! مجھے اس وقت اس کے سرخ محلات دکھائی دے رہے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسری ضرب لگائی ۔ تو ایک تہائی چٹان مزید ٹوٹ گئی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اکبر ! فارس (کے خزانوں) کی چابیاں عطا کردی گئی ہیں۔ بخدا ! مجھے مدائن کا سفید محل دکھائی دے رہا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیسری ضرب لگائی اور فرمایا : بسم اللہ ! تو بقیہ چٹان بھی ٹوٹ گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اکبر ! یمن (کے خزانوں) کی کنجیاں عطا کردی گئی ہیں۔ بخدا ! مجھے صنعاء کے دروازے دکھائی دے رہے ہیں۔
(۳۷۹۷۵) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مَیْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ حَیْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْفِرَ الْخَنْدَقَ ، عَرَضَ لَنَا فِی بَعْضِ الْجَبَلِ صَخْرَۃٌ عَظِیمَۃٌ شَدِیدَۃٌ ، لاَ تَدْخُلُ فِیہَا الْمَعَاوِلُ ، فَاشْتَکَیْنَا ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَجَائَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَآہَا أَخَذَ الْمِعْوَلَ وَأَلْقَی ثَوْبَہُ ، وَقَالَ : بِسْمِ اللہِ ، ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَۃً فَکَسَرَ ثُلُثَہَا ، فَقَالَ : اَللَّہُ أَکْبَرُ ، أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ الشَّامِ ، وَاللہِ إِنِّی لأَبْصِرُ قُصُورَہَا الْحُمْرَ السَّاعَۃَ ، ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِیَۃَ فَقَطَعَ ثُلُثًا آخَرَ ، فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ فَارِسَ ، وَاللہِ إِنِّی لأُبْصِرُ قَصْرَ الْمَدَائِنِ الأَبْیَضَ ، ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَۃَ ، فَقَالَ : بِسْمِ اللہِ ، فَقَطَعَ بَقِیَّۃَ الْحَجَرِ ، وَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، أُعْطِیتُ مَفَاتِیحَ الْیَمَنِ ، وَاللہِ إِنِّی لأَبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَائَ۔ (احمد ۳۰۳۔ ابویعلی ۱۶۸۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٧٦) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ مشرکین نے خندق والے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چار نماز سے مشغول رکھا یہاں تک کہ رات کا جتنا حصہ اللہ نے چاہا گزر گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال کو حکم دیا ۔ انھوں نے اذان دی اور اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھی پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز پڑھی پھر حضرت بلال نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز پڑھی۔
(۳۷۹۷۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ، عَنْ عَبْدِاللہِ؛ أَنَّ الْمُشْرِکِینَ شَغَلُوا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ ، حَتَّی ذَہَبَ مِنَ اللَّیْلِ مَا شَائَ اللَّہُ ، فَأَمَرَ بِلاَلا ، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ الظُّہْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٧٧) حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت صفیہ خندق والے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھیں۔
(۳۷۹۷۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ أَنَّ صَفِیَّۃَ کَانَتْ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٧٨) حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ جب خندق کا دن تھا اور مشرکین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور پوچھا : کون مبارز بنے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے زبیر ! کھڑے ہو جاؤ۔ حضرت صفیہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا ایک بیٹا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے زبیر ! کھڑے ہو جاؤ۔ پس حضرت زبیر کھڑے ہوگئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دونوں میں سے جو اپنے ساتھی سے بلند ہوگا وہ دوسرے کو قتل کر دے گا۔ پس حضرت زبیر ، اس سے بلند ہوگئے تو انھوں نے اس کو قتل کردیا۔ پھر حضرت زبیر ، اس مقتول کا سامان لے کر آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ سامان انہی کو عطا کردیا۔
(۳۷۹۷۸) حَدَّثَنَا وَکِیعُ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْخَنْدَقِ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، فَقَالَ : مَنْ یُبَارِزُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قُمْ یَا زُبَیْرُ ، فَقَالَتْ صَفِیَّۃُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَاحِدِی ، فَقَالَ : قُمْ یَا زُبَیْرُ ، فَقَامَ الزُّبَیْرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیُّہُمَا عَلاَ صَاحِبَہُ قَتَلَہُ ، فَعَلاَہُ الزُّبَیْرُ فَقَتَلَہُ ، ثُمَّ جَائَ بِسَلَبِہِ ، فَنَفَّلَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِیَّاہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٧٩) حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ نوفل بن نوفل کو خندق والے دن اس کے گھوڑے نے گرا دیا اور وہ قتل ہوگیا ۔ پس ابو سفیان نے اس کی دیت سو اونٹ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار فرما دیا اور فرمایا : اس کو پکڑ لو۔ کیونکہ اس کی دیت بھی خبیث ہے اور اس کی لاش بھی خبیث ہے۔
(۳۷۹۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ یَعْلَی بْنِ حَکِیمٍ ، وَالزُّبَیْرِ بْنِ الْخِرِّیتِ ، وَأَیُّوبَ السِّخْتِیَانِیِّ کُلِّہِمْ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ أَنَّ نَوْفَلاً ، أَوِ ابْنَ نَوْفَلٍ ، تَرَدَّی بِہِ فَرَسُہُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقُتِلَ ، فَبَعَثَ أَبُو سُفْیَانَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِدِیَتِہِ ، مِئَۃً مِنَ الإِبِلِ ، فَأَبَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : خُذُوہُ ، فَإِنَّہُ خَبِیثُ الدِّیَۃِ ، خَبِیثُ الْجِیفَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٨٠) حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خوَّات بن جبیر کو بنو قریظہ کی طرف ایک جناح نامی گھوڑے پر سوار کر کے بھیجا۔
(۳۷۹۸۰) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَوَّاتَ بْنَ جُبَیْرٍ إِلَی بَنِی قُرَیْظَۃَ عَلَی فَرَسٍ یُقَالُ لَہُ : جَنَاحٌ۔ (بخاری ۴۱۱۷۔ مسلم ۱۳۸۹)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٨١) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوم الخندق سے واپس تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلحہ رکھ دیا اور غسل فرما لیا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جبرائیل حاضر ہوئے اور ان کے سر پر غبار تھا تو انھوں نے فرمایا۔ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے۔ بخدا ! میں نے تو اسلحہ نہیں رکھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پھر کدھر ؟ حضرت جبرائیل نے جواب دیا۔ اِدھر ! اور انھوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا ۔ راوی کہتے ہیں پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو قریظہ کی طرف نکل پڑے۔
(۳۷۹۸۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، وَعَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ ، وَوَضَعَ السِّلاَحَ وَاغْتَسَلَ ، أَتَاہُ جِبْرِیلُ ، وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَہُ الْغُبَارُ ، فَقَالَ : وَضَعْتَ السِّلاَحَ ؟ فَوَاللہِ مَا وَضَعْتُہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَأَیْنَ ؟ قَالَ : ہَاہُنَا ، وَأَوْمَأَ إِلَی بَنِی قُرَیْظَۃَ ، قَالَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٨٢) حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم قریظہ کو فرمایا : جنگ دھوکا ہے۔
(۳۷۹۸۲) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ قُرَیْظَۃَ : الْحَرْبُ خَِدْعَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٨٣) حضرت محمد سے روایت ہے کہ حیی بن اخطب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس شرط پر معاہدہ کیا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرے گا اور اس بات پر اس نے اللہ تعالیٰ کو کفیل بنایا ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جب بنو قریظہ کا دن آیا۔ اس کو اور اس کے بیٹے کو لایا گیا ۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا انھیں کفیل کے بدلے میں لایا گیا ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں حکم دیا ۔ پس اس کی اور اس کے بیٹے کی گردن مار دی گئی۔
(۳۷۹۸۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : عَاہَدَ حُیَیُّ بْنُ أَخْطَبَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لاَ یُظَاہِرَ عَلَیْہِ أَحَدًا، وَجَعَلَ اللَّہَ عَلَیْہِ کَفِیلاً، قَالَ: فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ قُرَیْظَۃَ، أُتِیَ بِہِ وَبِابْنِہِ سَلْمًا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَوْفِی الْکَفِیلَ ، فَأَمَرَ بِہِ فَضُرِبَتْ عُنُقَہُ ، وَعُنُقَ ابْنِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٨٤) حضرت زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو قریظہ والے دن میرے لیے (دعا میں) اپنے والدین کو جمع فرما کر ارشاد فرمایا : تم پر میرے ماں، باپ قربان ہوں۔
(۳۷۹۸۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنِ الزُّبَیْرِ ، قَالَ : جَمَعَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ أَبَوَیْہِ یَوْمَ قُرَیْظَۃَ ، فَقَالَ : فِدَاک أَبِی وَأُمِّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٨٥) حضرت ابو سیدط خدری سے روایت ہے کہ اہل قریظہ، حضرت سعد بن معاذ کے فیصلہ پر اترے ۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد کی طرف کسی کو بھیجا۔ حضرت سعد ، ایک گدھے پر تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں : پھر جب حضرت سعد ، مسجد کے قریب پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” اپنے سردار “ یا فرمایا : ” اپنے میں سے بہترین شخص۔ “ کی تعظیم میں کھڑے ہو جاؤ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ بلاشبہ یہ لوگ تمہارے فیصلہ پر اترے ہیں۔ حضرت معاذ نے فرمایا : ان لوگوں کے لڑنے والوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو قید کرلیا جائے ۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نے مالک (الملک) کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ کبھی راوی یہ قول نقل کرتے ہیں : تم نے خدا کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
(۳۷۹۸۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ ، سَمِعَہُ یَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، یَقُولُ : نَزَلَ أَہْلُ قُرَیْظَۃَ عَلَی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی سَعْدٍ ، قَالَ : فَأَتَاہُ عَلَی حِمَارٍ ، قَالَ : فَلَمَّا أَنْ دَنَا قَرِیبًا مِنَ الْمَسْجِدِ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قُومُوا إِلَی سَیِّدِکُمْ ، أَوْ خَیْرِکُمْ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ ہَؤُلاَئِ نَزَلُوا عَلَی حُکْمِکَ ، قَالَ : تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُہُمْ ، وَتُسْبَی ذَرَارِیُّہُمْ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قَضَیْتَ بِحُکْمِ الْمَلِکِ ، وَرُبَّمَا قَالَ : قَضَیْتَ بِحُکْمِ اللہِ۔ (بخاری ۴۱۲۱۔ مسلم ۱۳۸۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٨٦) حضرت ہشام بن عروہ، اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ پر اترے۔ پھر انھوں نے فیصلہ کرنے کو، حضرت سعد بن معاذ کی طرف لوٹا دیا۔ تو حضرت سعد ابن معاذ نے ان کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا : کہ ان کے مقاتلین کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو قید کردیا جائے اور ان کے اموال کو تقسیم کردیا جائے۔ ہشام کہتے ہیں۔ میرے والد نے بتایا ہے کہ مجھے خبر ملی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (اے معاذ ! ) تو نے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
(۳۷۹۸۶) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبِی ؛ أَنَّہُمْ نَزَلُوا عَلَی حکْمِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَرَدُّوا الْحُکْمَ إِلَی سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَحَکَمَ فِیہِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ : أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُہُمْ ، وَتُسْبَی النِّسَائُ وَالذُّرِّیَّۃُ ، وَتُقَسَّمُ أَمْوَالُہُمْ ، قَالَ ہِشَامٌ : قَالَ أَبِی : فَأُخْبِرْتُ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَقَدْ حَکَمْتَ فِیہِمْ بِحُکْمِ اللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٨٧) حضرت عامر سے روایت ہے کہ بنو قریظہ نے حضرت سعد بن معاذ کو تیر مارا۔ اور انھوں نے آپ کے بازو کی رگ کو زخمی کردیا۔ حضرت معاذ نے دعا مانگی۔ اے اللہ ! تو مجھے موت نہ دینا یہاں تک کہ تو مجھے ان سے شفاء دے دے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر وہ لوگ حضرت معاذ بن سعد کے فیصلہ پر اتر (راضی ہو) گئے۔ پس آپ نے یہ فیصلہ فرمایا : کہ ان کے مقاتلین کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں ، بچوں کو قیدی بنایا جائے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
(۳۷۹۸۷) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : رَمَی أَہْلُ قُرَیْظَۃَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ ، فَأَصَابُوا أَکْحَلَہُ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ لاَ تُمِتْنِی حَتَّی تَشْفِیَنِی مِنْہُمْ ، قَالَ : فَنَزَلُوا عَلَی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَحَکَمَ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُہُمْ وَتُسْبَی ذَرَارِیُّہُمْ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : بِحُکْمِ اللہِ حَکَمْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
(٣٧٩٨٨) حضرت ابن ابی اوفی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احزاب (کفار کے لشکروں) پر یہ بددعا فرمائی۔ اے اللہ ! کتاب کو نازل کرنے والی ذات ، جلد حساب لینے والی ذات، لشکروں کو شکست دینے والی ذات، ان کو شکست دے اور ان کو ہلا کر رکھ دے۔
(۳۷۹۸۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ ابْنِ أَبِی أَوْفَی ، یَقُولُ : دَعَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الأَحْزَابِ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ ، سَرِیعَ الْحِسَابِ ، ہَازِمَ الأَحْزَابِ اہْزِمْہُمْ وَزَلْزِلْہُمْ۔
তাহকীক: