মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৭৯৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٤٩) ایک آدمی روایت کرتے ہیں کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک پر خود ٹوٹ گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دندان شہید ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جلی ہوئی چٹائی کے ذریعہ دوا کی گئی۔ اور علی بن ابی طالب ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ڈھال میں پانی لا رہے تھے۔
(۳۷۹۴۹) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : ہُشِّمَتِ الْبَیْضَۃُ عَلَی رَأْسِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ ، وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہُ ، وَجُرِحَ فِی وَجْہِہِ ، وَدُووِیَ بِحَصِیرٍ مُحَرَّقٍ ، وَکَانَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ یَنْقُلُ إِلَیْہِ الْمَائَ فِی الْحَجَفَۃِ۔ (بخاری ۲۴۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٥٠) حضرت ایوب سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن ابی بکر نے حضرت ابوبکر سے کہا۔ میں نے احد کے دن آپ کو دیکھا تھا لیکن میں نے آپ سے اعراض کیا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوبکر نے فرمایا : لیکن اگر میں تمہیں دیکھتا تو میں تم سے اعراض نہ کرتا۔
(۳۷۹۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ لأَبِی بَکْرٍ : رَأَیْتُکَ یَوْمَ أُحُدٍ فَصُغتُ عَنْکَ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : لَکِنِّی لَوْ رَأَیْتُکَ مَا صُغتُ عَنْکَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٥١) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ میں خندق کے دن، لوگوں کے آثار قدم کی پیروی کرتے ہوئے باہر نکلی۔ پس میں نے اپنے پیچھے لوگوں کی آہٹ سُنی۔ میں نے توجہ کی تو وہ سعد بن عبادہ تھے اور ان کے ساتھ ان کے بھتیجے حارث بن اوس تھے۔ جنہوں نے اپنی ڈھال اٹھائی ہوئی تھی۔ پس میں زمین پر بیٹھ گئی ۔ فرماتی ہیں : پس حضرت سعد گزر گئے اور انھوں نے زرہ پہنی ہوئی تھی۔ اور اس کے کنارے باہر نکلے ہوئے تھے۔ اور مجھے حضرت سعد کے کناروں سے خوف آ رہا تھا۔ فرماتی ہیں : یہ صاحب لوگوں میں سے بڑے جثہ والے اور لمبے تھے۔ فرماتی ہیں : پھر وہ رجز پڑھتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے گزر گئے۔

” تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ جنگ کو زور پکڑنے دو ۔ جب وقت مقرر آجائے تو موت کتنی اچھی ہوتی ہے۔ “

٢۔ فرماتی ہیں۔ پھر میں کھڑی ہوئی اور ایک باغیچہ میں گھس گئی تو وہاں مسلمانوں کے چند افراد تھے۔ جن میں عمر بن خطاب بھی تھے اور ان میں ایک آدمی وہ بھی تھا جس پر خود تھی ۔ راوی کہتے ہیں۔۔۔ حضرت عمر نے کہا : عجیب بات ہے ! تمہیں کیا چیز لے آئی ہے ؟ عجیب بات ہے ! تمہیں کیا چیز لے آئی ہے ؟ بخدا ! تم بہت جری ہو۔ تمہیں کس چیز نے فرار اور آزمائش سے مامون کردیا ہے ؟ عائشہ فرماتی ہیں : حضرت عمر مجھے مسلسل ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ زمین شق ہوجائے اور میں اس میں داخل ہو جاؤں۔ فرماتی ہیں۔ پھر (دوسرے) آدمی نے اپنے چہرے سے خود اتاری تو وہ طلحہ بن عبید اللہ تھے۔ راوی کہتے ہیں : انھوں نے کہا : اے عمر ! تم پر افسوس ہے آج تم نے بہت زیادہ ملامت کی ہے۔ فرار اور آزمائش اللہ کے سوا کس کی طرف ہوسکتا ہے۔

٣۔ عائشہ فرماتی ہیں۔ مشرکین قریش میں سے ایک آدمی نے، جس کو حبان بن العرقۃ کہا جاتا تھا۔ حضرت سعد کو تیر مارا اور کہا۔ اس کو لے لو۔ میں ابن العرقۃ ہوں۔ وہ تیر حضرت سعد کی بازو کی رگ میں لگا اور اس نے وہ رگ کاٹ دی۔ سعد نے اللہ سے دعا کی ۔ اے اللہ ! تو مجھے موت نہ دینا یہاں تک کہ تو بنو قریظہ سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا کر دے۔ یہ لوگ سعد کے جاہلیت میں حلیف اور ساتھی تھے۔ عائشہ کہتی ہیں۔ پھر ان کے زخم کا خون بند ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر ہوا بھیج دی۔ وکفی اللّٰہ المؤمنین القتال وکان اللّٰہ قویاً عزیزاً ۔

پس ابو سفیان تہامہ کے علاقہ کے ساتھ جا ملا اور عیینہ بن بدر بن حصن اور اس کے ساتھی نجد کے علاقہ کے ساتھ جا ملے اور بنو قریظہ واپس ہوگئے اور اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی طرف واپس تشریف لے آئے اور حکم دیا تو حضرت سعد کے لیے مسجد میں خیمہ لگایا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلحہ وغیرہ رکھ دیا۔

٤۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حضرت جبرائیل آئے اور عرض کیا۔ کیا آپ نے اسلحہ اتار دیا ہے ؟ بخدا ! فرشتوں نے تو اسلحہ نہیں اتارا۔ پس آپ بنو قریظہ کی طرف چلئے اور ان سے قتال کیجئے۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ کا حکم دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سامانِ حضر زیب تن فرمایا اور نکل پڑے ۔ اور (جب) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو غنم کے پاس سے گزرے۔۔۔ یہ لوگ مسجد کے پڑوسی تھے ۔۔۔ تو پوچھا : کون تمہارے پاس سے گزرا ہے ؟ انھوں نے جواباً عرض کیا۔ ہمارے پاس سے حضرت دحیہ کلبی گزرے ہیں۔ حضرت دحیہ کی داڑھی اور چہرے کی شکل حضرت جبرائیل سے مشابہ تھی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، بنو قریظہ کے پاس پہنچے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچیس دن تک ان کا محاصرہ فرمایا۔ پس جب بنو قریظہ کا محاصرہ شدید ہوگیا اور ان پر مصیبت سخت ہوگئی تو انھیں کہا گیا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ پر تسلیم ہو جاؤ۔ انھوں نے ابو لبابہ سے مشورہ کیا تو انھوں نے اپنے ہاتھ سے انھیں یہ اشارہ کیا کہ فیصلہ تو ذبح کا ہے۔ بنو قریظہ نے کہا۔ ہم ابن معاذ کے فیصلہ پر اترتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم سعد بن معاذ کے فیصلہ پر (ہی) اُتر آؤ۔ پس وہ لوگ اتر آئے۔

٥۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد کی طرف کسی کو بھیجا اور انھیں گدھے پر سوار کیا گیا جس پر کھجور کی چھال کا پالان تھا اور ان کی قوم نے انھیں گھیر لیا۔ اور یہ کہنے لگے۔ اے ابو عمرو ! (یہ لوگ) تیرے حلیف اور تیرے ساتھی ہیں۔ اور تیری پہچان کے لوگ ہیں۔ عائشہ کہتی ہیں۔ حضرت سعد نے ان کو کچھ جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ جب سعد ان کے گھروں کے پاس پہنچے تو فرمایا : اب سعد کے لیے وہ وقت آپہنچا ہے کہ سعد ، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرے۔

٦۔ پھر جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ہوئے ابو سعید کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ اور اس کو نیچے اتارو۔ حضرت عمر نے کہا۔ ہمارا سردار اللہ تعالیٰ ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھیں اتارو۔ پس لوگوں نے انھیں نیچے اتارا۔

٧۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد سے فرمایا : ان کے بارے میں فیصلہ کرو۔ انھوں نے عرض کیا : میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ صادر کرتا ہوں کہ ان کے لڑنے والوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں ، بچوں کو قیدی بنایا جائے اور ان کے اموال کو تقسیم کرلیا جائے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ بیشک تو نے ان کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے مطابق (ہی) فیصلہ کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت سعد نے اللہ سے دعا کی۔ اور فرمایا۔ اے اللہ ! اگر تو نے اپنے نبی کے خلاف قریش کی کوئی جنگ باقی رکھی ہوئی ہے تو تُو مجھے بھی اس کے لیے باقی رکھ۔ اور اگر تو نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قریش کے درمیان جنگ ختم کردی ہے تو تو مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس ان کا زخم پھوٹ پڑا۔ اور وہ زخم (پہلے) ختم ہوگیا تھا اور صرف ایک چھوٹے سے سوراخ جتنا رہ گیا تھا۔

٨۔ عائشہ کہتی ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس تشریف لے آئے اور حضرت سعد بھی اس خیمہ میں واپس آگئے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے لگوایا تھا۔ فرماتی ہیں : پھر سعد کے پاس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر حضرت عمر حاضر ہوئے۔ کہتی ہیں : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں حضرت ابوبکر کے رونے کو حضرت عمر کے رونے سے علیحدہ پہچان لیتی تھی حالانکہ میں حجرہ میں ہوتی تھی ۔ اور یہ صحابہ ایسے تھے جیسا اللہ کا ارشاد ہے۔ رحماء بینھم علقمہ کہتے ہیں۔ میں نے کہا۔ اماں جان ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کرتے تھے ؟ عائشہ نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھں ل کسی پر آنسو نہیں بہاتی تھیں لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کسی کا غم ہوتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی داڑھی پکڑتے تھے۔
(۳۷۹۵۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : خَرَجْتُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو آثَارَ النَّاسِ ، فَسَمِعْتُ وَئِیدَ الأَرْضِ وَرَائِی ، فَالْتَفَتُّ ، فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَہُ ابْنُ أَخِیہِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ ، یَحْمِلُ مِجَنَّہُ ، فَجَلَسْتُ إِلَی الأَرْضِ ، قَالَتْ : فَمَرَّ سَعْدٌ وَعَلَیْہِ دِرْعٌ ، قَدْ خَرَجَتْ مِنْہَا أَطْرَافُہُ ، فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلَی أَطْرَافِ سَعْدٍ ، قَالَتْ : وَکَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِہِمْ ، قَالَتْ: فَمَرَّ یَرْتَجِزُ ، وَہُوَ یَقُولُ :

لَبِّثْ قَلِیلاً یُدْرِکِ الْہَیْجَا حَمَلْ مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الأَجَلْ

قَالَتْ : فَقُمْتُ ، فَاقْتَحَمْتُ حَدِیقَۃً ، فَإِذَا فِیہَا نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، فِیہِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَفِیہِمْ رَجُلٌ عَلَیْہِ تَسْبِغَۃٌ لَہُ ، تَعْنِی الْمِغْفَرَ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : وَیْحَکِ ، مَا جَائَ بِکِ ؟ وَیْحَکِ ، مَا جَائَ بِکِ ؟ وَاللہِ إِنَّکِ لَجَرِیئَۃٌ ، مَا یُؤَمِّنُکِ أَنْ یَکُونَ تَحَوُّزٌ وَبَلاَئٌ ؟ قَالَتْ : فَمَا زَالَ یَلُومُنِی حَتَّی تَمَنَّیْتُ أَنَّ الأَرْضَ انْشَقَّتْ فَدَخَلْتُ فِیہَا ، قَالَتْ : فَرَفَعَ الرَّجُلُ التَّسْبِغَۃَ عَنْ وَجْہِہِ ، فَإِذَا طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ ، قَالَ ، فَقَالَ : یَا عُمَرُ ، وَیْحَک ، قَدْ أَکْثَرْتَ مُنْذُ الْیَوْمَ ، وَأَیْنَ التَّحَوُّزُ ، أَوِ الْفِرَارُ إِلاَّ إِلَی اللہِ۔

قَالَتْ : وَیَرْمِی سَعْدًا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مِنْ قُرَیْشٍ یُقَالُ لَہُ : حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَۃِ بِسَہْمٍ ، فَقَالَ : خُذْہَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرِقَۃِ ، فَأَصَابَ أَکْحَلَہُ فَقَطَعَہُ ، فَدَعَا اللَّہَ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ لاَ تُمِتْنِی حَتَّی تُقِرَّ عَیْنِی مِنْ قُرَیْظَۃَ ، وَکَانُوا حُلَفَائَہُ وَمَوَالِیَہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ، قَالَتْ : فَرَقَأَ کَلْمُہُ ، وَبَعَثَ اللَّہُ الرِّیحَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ : (وَکَفَی اللَّہُ الْمُؤْمِنِینَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللَّہُ قَوِیًّا عَزِیزًا) فَلَحِقَ أَبُو سُفْیَانَ بِتِہَامَۃَ ، وَلَحِقَ عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرِ بْنِ حِصْنٍ وَمَنْ مَعَہُ بِنَجْدٍ ، وَرَجَعَتْ بَنُو قُرَیْظَۃَ فَتَحَصَّنُوا فِی صَیَاصِیہِمْ ، وَرَجَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَدِینَۃِ ، فَأَمَرَ بِقُبَّۃٍ ، فَضُرِبَتْ عَلَی سَعْدٍ فِی الْمَسْجِدِ ، وَوُضِعَ السِّلاَحُ۔

قَالَتْ : فَأَتَاہُ جِبْرِیلُ ، فَقَالَ : أَقَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ ؟ وَاللہِ مَا وَضَعَتِ الْمَلاَئِکَۃُ السِّلاَحَ ، فَاخْرُجْ إِلَی بَنِی قُرَیْظَۃَ فَقَاتِلْہُمْ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالرَّحِیلِ وَلَبِسَ لاَمَتَہُ ، فَخَرَجَ فَمَرَّ عَلَی بَنِی غَنْمٍ ، وَکَانُوا جِیرَانَ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : مَنْ مَرَّ بِکُمْ ؟ فَقَالُوا : مَرَّ بِنَا دِحْیَۃُ الْکَلْبِی ، وَکَانَ دِحْیَۃُ تُشْبِہُ لِحْیَتُہُ وَسِنَّتُہُ وَوَجْہُہُ بِجِبْرِیلَ ، فَأَتَاہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَاصَرَہُمْ خَمْسَۃً وَعِشْرِینَ یَوْمًا ، فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُہُمْ وَاشْتَدَّ الْبَلاَئُ عَلَیْہِمْ ، قِیلَ لَہُمْ : انْزِلُوا عَلَی حُکْمِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَۃَ ، فَأَشَارَ إِلَیْہِمْ بِیَدِہِ أَنَّہُ الذَّبْحُ ، فَقَالُوا : نَنْزِلُ عَلَی حُکْمِ ابْنِ مُعَاذٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : انْزِلُوا عَلَی حُکْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَنَزَلُوا ، وَبَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی سَعْدٍ ، فَحُمِلَ عَلَی حِمَارٍ لَہُ إِکَافٌ مِنْ لِیفٍ ، وَحَفَّ بِہِ قَوْمُہُ ، فَجَعَلُوا یَقُولُونَ : یَا أَبَا عَمْرٍو ، حُلَفَاؤُکَ وَمَوَالِیکَ ، وَأَہْلُ النِّکَایَۃِ وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ ، قَالَتْ : لاَ یَرْجِعُ إِلَیْہِمْ قَوْلاً ، حَتَّی إِذَا دَنَا مِنْ دَارِہِمَ الْتَفَتَ إِلَی قَوْمِہِ ، فَقَالَ : قَدْ أَنَی لِسَعْدٍ أَنْ لاَ یُبَالِیَ فِی اللہِ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ ، فَلَمَّا طَلَعَ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قُومُوا إِلَی سَیِّدِکُمْ فَأَنْزِلُوہُ ، قَالَ عُمَرُ : سَیِّدُنَا اللَّہُ ، قَالَ : أَنْزِلُوہُ ، فَأَنْزَلُوہُ۔

قَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اُحْکُمْ فِیہِمْ ، قَالَ : فَإِنِّی أَحْکُمُ فِیہِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُہُمْ ، وَتُسْبَی ذَرَارِیُّہُمْ ، وَتُقَسَّمَ أَمْوَالُہُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ حَکَمْتَ فِیہِمْ بِحُکْمِ اللہِ وَحُکْمِ رَسُولِہِ ، قَالَ : ثُمَّ دَعَا اللَّہَ سَعْدٌ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنْ کُنْتَ أَبْقَیْتَ عَلَی نَبِیِّکَ مِنْ حَرْبِ قُرَیْشٍ شَیْئًا فَأَبْقِنِی لَہَا ، وَإِنْ کُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُمْ فَاقْبِضْنِی إِلَیْکَ ، فَقَالَ : فَانْفَجَرَ کَلْمُہُ ، وَکَانَ قَدْ بَرَأَ حَتَّی مَا بَقِیَ مِنْہُ إِلاَّ مِثْلُ الْخُرْصِ۔

قَالَتْ : فَرَجَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَعَ سَعْدٌ إِلَی قُبَّتِہِ الَّتِی کَانَ ضَرَبَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَحَضَرَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ ، قَالَتْ : فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، إِنِّی لأَعْرِفُ بُکَائَ أَبِی بَکْرٍ مِنْ بُکَائِ عُمَرَ وَأَنَا فِی حُجْرَتِی ، وَکَانُوا کَمَا قَالَ اللَّہُ تَعَالَی : {رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ} قَالَ عَلْقَمَۃُ : فَقُلْتُ : أَیْ أُمَّہْ ، فَکَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ؟ قَالَتْ : کَانَتْ عَیْنُہُ لاَ تَدْمَعُ عَلَی أَحَدٍ ، وَلَکِنَّہُ کَانَ إِذَا وَجَدَ فَإِنَّمَا ہُوَ آخِذٌ بِلِحْیَتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٥٢) حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت ہے کہ جب رات ہوئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جبرائیل آئے یا فرمایا : کوئی فرشتہ آیا اور پوچھا : آپ کی امت میں سے کون سا آدمی آج رات وفات پا گیا ہے۔ آسمان والوں کو اس کی موت پر خوشی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سعد کے ساتھ کیا ہوا ؟ صحابہ نے بتایا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ فوت ہوگیا ہے۔ اور ان کی قوم والے آئے تھے اور انھیں اپنے محلہ کی طرف لے گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز فجر پڑھی اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چل نکلے اور لوگ بھی (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ) چل نکلے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو (تیز) چلا کر تھکا دیا۔ یہاں تک کہ لوگوں کے تسمے ان کے پاؤں سے گرگئے اور ان کی چادریں ان کے کندھوں سے گرگئیں۔ ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے لوگوں کو (تیز) چلا کر تھکا دیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں فرشتے سعد کی طرف ہم سے سبقت نہ کر جائیں جیسا کہ وہ حنظلہ کی طرف ہم سے سبقت کر گئے تھے۔

٢۔ محمد کہتے ہیں مجھے اشعث بن اسحاق نے بتایا کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس پہنچے جبکہ انھیں غسل دیا جا رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھٹنے اکٹھے کرلیے اور فرمایا : ایک فرشتہ آیا ہے اور اس کے لیے بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی پس میں نے اس کے لیے جگہ چھوڑی ہے۔ حضرت سعد کی والدہ رو رہی تھیں اور شعر کہہ رہی تھیں۔

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ تمام رونے والیاں کذب بیانی کرتی ہیں سوائے اُمِ سعد کے۔

٣۔ محمد کہتے ہیں ہمارے ساتھیوں میں سے بعض لوگوں نے بتایا کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سعد کے جنازہ کے لیے نکلے تو منافقین میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ سعد کا تختہ کتنا ہلکا ہے ، یا کہا : سعد کا جنازہ کتنا ہلکا ہیـ؟ راوی کہتے ہیں : مجھے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا کہ جس دن حضرت سعد فوت ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تحقیق ستر ہزار فرشتے اترے ہیں جو سعد کے جنازہ میں شریک ہوئے ہیں۔ انھوں نے اس دن سے پہلے (کبھی) زمین کو نہیں روندا تھا۔

٤۔ محمد کہتے ہیں : پھر میں نے اسماعیل بن محمد بن سعد کو سنا ۔۔۔ جبکہ وہ ہمارے پاس خیمہ میں داخل ہوئے اور ہم واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کو دفن کر رہے تھے ۔۔۔ انھوں نے کہا : کیا میں تمہیں وہ بات نہ بیان کروں جو میں نے اپنے شیوخ سے سُنی ہیَ ؟ میں نے اپنے شیوخ کو بادن کرتے سُنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد کی وفات کے دن ارشاد فرمایا : بلاشبہ ستر ہزار فرشتے سعد کے جنازہ میں آسمان سے اتر کر شریک ہوئے ہیں جنہوں نے اس دن سے پہلے زمین کو نہیں روندا تھا۔

٥۔ محمد کہتے ہیں مجھے میرے والد نے بواسطہ اپنے والد، حضرت عائشہ سے بیان کیا کہ مسلمانوں کو نبی کریم اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو ساتھیوں (ابو بکر و عمر) یا ان میں سے ایک کے جانے کے بعد، حضرت سعد بن معاذ سے بڑھ کر کسی کی کمی کا شدت سے احساس نہیں ہوا۔

٦۔ محمد کہتے ہیں : مجھے محمد بن منکدر نے محمد بن شرحبیل کے حوالہ سے بیان کیا کہ ایک شخص نے حضرت سعد کی قبر سے اس دن (دفن کے دن) ایک مٹھی مٹی لے لی اور پھر بعد میں اس کو کھولا تو وہ مشک تھی۔

٧۔ محمد کہتے ہیں : اور مجھے واقد بن عمرو بن سعد نے (بھی) بیان کیا۔ راوی کہتے ہیں۔ واقد، خوبصورت اور دراز قد لوگوں میں سے تھے ۔۔۔ واقد کہتے ہیں : میں حضرت انس بن مالک کی خدمت میں حاضر ہوا۔ کہتے ہیں : انھوں نے مجھ سے کہا : تم کون ہو ؟ میں نے جواب دیا۔ میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں ۔ انس کہنے لگے۔ اللہ تعالیٰ سعد پر رحم کرے۔ تم تو بلاشبہ سعد کے مشابہ ہو۔ پھر انھوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ سعد پر رحم کرے ۔ (عام) لوگوں سے دراز قد اور خوبصورت تھے۔ انس کہنے لگے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اکیدر دومہ کی طرف ایک وفد بھیجا تو اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ایک ریشمی جبہ بھیجا جس میں سونا، بُنا ہوا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس جبہ کو زیب تن فرمایا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر کھڑے ہوئے اور پھر بیٹھ گئے لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی بات نہیں کی۔ لوگوں نے اس جُبہ کو ہاتھ لگانا شروع کیا اور اس کو تعجب سے دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تم لوگ اس جبہ کو تعجب سے دیکھتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے اس سے خوبصورت کپڑا نہیں دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! جو کپڑا تم دیکھ رہے ہو، سعد بن معاذ کے جنت میں جو رومال ہیں وہ اس سے بھی خوبصورت ہیں۔
(۳۷۹۵۲) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ ، قَالَ : لَمَّا نَامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ أَمْسَی ، أَتَاہُ جِبْرِیلُ ، أَوَ قَالَ : مَلَکٌ ، فَقَالَ : مَنْ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِکَ مَاتَ اللَّیْلَۃَ ، اسْتَبْشَرَ بِمَوْتِہِ أَہْلُ السَّمَائِ ؟ فَقَالَ : لاَ ، إِلاَّ أَنْ یَکُونَ سَعْدٌ ، فَإِنَّہُ أَمْسَی دَنِفًا ، مَا فَعَلَ سَعْدٌ ؟ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، قَدْ قُبِضَ ، وَجَائَ قَوْمُہُ فَاحْتَمَلُوہُ إِلَی دَارِہِمْ ، قَالَ : فَصَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، وَخَرَجَ النَّاسُ ، فَبَتَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ مَشْیًا ، حَتَّی إِنَّ شُسُوعَ نِعَالِہِمْ لَتُقْطَعُ مِنْ أَرْجُلِہِمْ ، وَإِنَّ أَرْدِیَتَہُمْ لَتَسْقُطُ عَنْ عَوَاتِقِہِمْ ، فَقَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللہِ ، بَتَتَّ النَّاسَ ، فَقَالَ : إِنِّی أَخْشَی أَنْ تَسْبِقَنَا إِلَیْہِ الْمَلاَئِکَۃُ کَمَا سَبَقَتْنَا إِلَی حَنْظَلَۃَ۔

قَالَ مُحَمَّدٌ : فَأَخْبَرَنِی أَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : فَحَضَرَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُغَسَّلُ ، قَالَ : فَقَبَضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رُکْبَتَیْہِ ، فَقَالَ : دَخَلَ مَلَکٌ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ مَجْلِسٌ ، فَأَوْسَعْتُ لَہُ ، وَأُمُّہُ تَبْکِی وَہِیَ تَقُولُ :

وَیْلَ أُمِّ سَعْدٍ سَعْدًا ۔۔۔ بَرَاعَۃً وَجَدًّا۔

بَعْدَ أَیَادٍ یَا لَہُ وَمَجْدًا ۔۔۔ مُقَدَّمٌ سَدَّ بِہِ مَسَدًّا۔

فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کُلُّ الْبَوَاکِی یَکْذِبْنَ إِلاَّ أُمَّ سَعْدٍ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَقَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِنَا : إِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ لِجِنَازَتِہِ ، قَالَ نَاسٌ مِنَ الْمُنَافِقِینَ : مَا أَخَفَّ سَرِیرَ سَعْدٍ ، أَوْ جِنَازَۃَ سَعْدٍ ؟ قَالَ : فَحَدَّثَنِی سَعْدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ مَاتَ سَعْدٌ : لَقَدْ نَزَلَ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ شَہِدُوا جِنَازَۃَ سَعْدٍ ، مَا وَطِئُوا الأَرْضَ قَبْلَ یَوْمَئِذٍ ۔

قَالَ مُحَمَّدٌ : فَسَمِعْتُ إِسْمَاعِیلَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، وَدَخَلَ عَلَیْنَا الْفُسْطَاطَ ، وَنَحْنُ نَدْفِنُ وَاقِدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَقَالَ : أَلاَ أُحَدِّثُکُمْ بِمَا سَمِعْتُ أَشْیَاخَنَا ؟ سَمِعْتُ أَشْیَاخَنَا یُحَدِّثُونَ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ مَاتَ سَعْدٌ : لَقَدْ نَزَلَ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ شَہِدُوا جِنَازَۃَ سَعْدٍ ، مَا وَطِئُوا الأَرْضَ قَبْلَ یَوْمَئِذٍ۔

قَالَ مُحَمَّدٌ : فَأَخْبَرَنِی أَبِی ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : مَا کَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ فَقْدًا عَلَی الْمُسْلِمِینَ بَعْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَیْہِ ، أَوْ أَحَدِہِمَا مِنْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ۔

قَالَ مُحَمَّدٌ : وَحَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِیلَ ؛ أَنَّ رَجُلاً أَخَذَ قَبْضَۃً مِنْ تُرَابِ قَبْرِ سَعْدٍ یَوْمَئِذٍ ، فَفَتَحَہَا بَعْدُ فَإِذَا ہُوَ مِسْکٌ۔

قَالَ مُحَمَّدٌ : وَحَدَّثَنِی وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : وَکَانَ وَاقِدٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَأَطْوَلِہِمْ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ ، فَقَالَ لِی : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ سَعْدًا ، إِنَّک بِسَعْدٍ لَشَبِیہٌ ، ثُمَّ قَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ سَعْدًا ، کَانَ مِنْ أَجْمَلِ النَّاسِ وَأَطْوَلِہِمْ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَی أُکَیْدِرِ دُومَۃَ ، فَبَعَثَ إِلَیْہِ بِجُبَّۃِ دِیبَاجٍ مَنْسُوجٍ فِیہَا ذَہَبٌ ، فَلَبِسَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ ، فَجَلَسَ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ ، فَجَعَلَ النَّاسُ یَلْمِسُونَ الْجُبَّۃَ وَیَتَعَجَّبُونَ مِنْہَا ، فَقَالَ : أَتَعْجَبُونَ مِنْہَا ؟ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا رَأَیْنَا ثَوْبًا أَحْسَنَ مِنْہُ ، قَالَ : فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَمَنَادِیلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِی الْجَنَّۃِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ۔ (ابن سعد ۴۲۳۔ حاکم ۲۰۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٥٣) حضرت برائ سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ریشم کا کپڑا ہدیہ دیا گیا تو لوگوں نے اس کی ملائمی کو تعجب سے دیکھنا شروع کیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم جو کچھ دیکھ رہے ہو، سعد کے جنت کے رومال اس سے بھی زیادہ نرم ہیں۔
(۳۷۹۵۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : أُہْدِیَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَوْبُ حَرِیرٍ ، فَجَعَلُوا یَتَعَجَّبُونَ مِنْ لِینِہِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَمَنَادِیلُ سَعْدٍ فِی الْجَنَّۃِ أَلْیَنُ مِمَّا تَرَوْنَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٥٤) حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے مہلب بن ابی صفرہ کو ۔۔۔جبکہ وہ حروریہ اور ان کے شب خون کا ذکر کر رہے تھے۔۔۔ کہتے سُنا۔ کہ اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خندق والے دن فرمایا : اور (اس وقت) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوف تھا کہ ابو سفیان شب خون مارے گا۔ اگر تم پر شب خون مارا جائے تو تم یہ کہنا۔ حم لاَ یُنْصَرُونَ ۔
(۳۷۹۵۴) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا زُہَیْرٌ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُہَلَّبَ بْنَ أَبِی صُفْرَۃَ ، یَقُولُ ، وَذَکَرَ الْحَرُورِیَّۃَ وَتَبْیِیتَہُمْ ، فَقَالَ : قَالَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ حُفِرَ الْخَنْدَقُ ، وَہُوَ یَخَافُ أَنْ یُبَیِّتَہُمْ أَبُو سُفْیَانَ : إِنْ بُیِّتُّمْ ، فَإِنَّ دَعْوَاکُمْ حم لاَ یُنْصَرُونَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٥٥) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سعد سے ملاقات پر عرش جھوم گیا۔ یعنی تخت۔۔۔ فرمایا : { وَرَفَعَ أَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ } راوی کہتے ہیں۔ تخت کی لکڑیاں جدا جدا ہوگئیں۔ راوی کہتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت سعد کی قبر میں داخل ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں ٹھہر گئے پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے تو لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کس بات کی وجہ سے آپ اندر ٹھہرے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سعد کی قبر کو ملایا گیا تو میں نے اللہ سے اس کیفیت کے ختم ہونے کی دعا کی۔
(۳۷۹۵۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَقَدَ اہْتَزَّ الْعَرْشُ لِحُبِّ لِقَائِ اللہِ سَعْدًا قَالَ : إِنَّمَا یَعْنِی السَّرِیرَ ، قَالَ : {وَرَفَعَ أَبَوَیْہِ عَلَی الْعَرْشِ} قَالَ : تَفَسَّخَتْ أَعْوَادُہُ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْرَہُ فَاحْتَبَسَ ، فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا حَبَسَکَ؟ قَالَ : ضُمَّ سَعْدٌ فِی الْقَبْرِ ضَمَّۃً ، فَدَعَوْتُ اللَّہَ أَنْ یَکْشِفَ عَنْہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٥٦) حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ، سعد بن معاذ کی موت پر عرش جھوم گیا ہے۔
(۳۷۹۵۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی سُفْیَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدَ اہْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٥٧) حضرت اسماء بنت یزید بن سکن سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد کا جنازہ لے کر نکلا گیا تو آپ کی والدہ نے چیخ ماری۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد کی والدہ سے فرمایا : کیا تمہارے آنسو بند نہیں ہوں گے اور تمہارا غم ختم نہیں ہوگا ؟ حالانکہ تیرا بیٹا پہلا شخص ہے جس کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ضحک فرمایا : اور اس کی وجہ سے عرش جھوم گیا۔
(۳۷۹۵۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ امْرَأَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، یُقَالُ لَہَا : أَسْمَائُ بِنْتُ زَیْدِ بْنِ سَکَنٍ ، قَالَتْ : لَمَّا خُرِجَ بِجِنَازَۃِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لأُمِّ سَعْدٍ : أَلاَ یَرْقَأُ دَمْعُکِ ، وَیَذْہَبُ حُزْنُکِ ؟ إِنَّ ابْنَکِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِکَ اللَّہُ لَہُ ، وَاہْتَزَّ لَہُ الْعَرْشُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٥٨) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ہم حج یا عمرہ کے سلسلہ میں آئے اور ذوالحلیفہ سے ہمارا استقبال کیا گیا۔ انصار کے بچے اپنے گھر والوں کا استقبال کیا کرتے تھے۔ لوگ حضرت اسید ابن حضیر سے ملے اور انھیں ان کی اہلیہ کی وفات کی خبر دی۔ انھوں نے سر پر کپڑا کرلیا اور رونا شروع کردیا۔ میں نے ان سے کہا : اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کریں۔ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ہو اور تمہیں سبقت اور قدامت میں بھی ایک مقام حاصل ہے اور تم ایک عورت پر رو رہے ہو ؟ عائشہ کہتی ہیں۔ انھوں نے اپنا سر کھول دیا اور کہا : میری عمر کی قسم ! آپ نے سچ کہا ہے۔ حضرت سعدبن معاذ کے بعد کسی پر بھی رونے کا حق باقی نہیں ہے۔ ا ن کے بارے میں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرما دیا تھا فرما دیا تھا۔ میں نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بارے میں کیا کہا تھا۔ انھوں نے کہا۔ (یہ کہا تھا) بلاشبہ ! سعد بن معاذ کی وفات پر عرش بھی جھوم گیا ہے۔ عائشہ کیتر ہیں۔ اُسید ، میرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان چل رہے تھے۔
(۳۷۹۵۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : قَدِمْنَا فِی حَجٍّ ، أَوْ عُمْرَۃٍ فَتُلُقِّینَا بِذِی الْحُلَیْفَۃِ ، وَکَانَ غِلْمَانُ الأَنْصَارِ یَتَلَقَّوْنَ أَہَالِیَہُمْ ، فَلَقُوا أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ ، فَنَعَوْا لَہُ امْرَأَتَہُ فَتَقَنَّعَ ، فَجَعَلَ یَبْکِی ، فَقُلْتُ : غَفَرَ اللَّہُ لَکَ ، أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلَکَ مِنَ السَّابِقَۃِ وَالْقِدَمِ مَالَکَ ، وَأَنْتَ تَبْکِی عَلَی امْرَأَۃٍ ، قَالَتْ : فَکَشَفَ رَأْسَہُ ، فَقَالَ : صَدَقْتِ لَعَمْرِی ، لَیَحُقَّنَّ أَنْ لاَ أَبْکِیَ عَلَی أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَقَدْ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ ، قُلْتُ : وَمَا قَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَقَدَ اہْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاۃِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَتْ : وَہُوَ یَسِیرُ بَیْنِی وَبَیْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٥٩) حضرت ابو سعید ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک سعد بن معاذ کی موت پر عرش جھوم اٹھا ہے۔
(۳۷۹۵۹) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ : اہْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٦٠) حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ کی موت واقع ہوئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : حضرت سعد بن معاذ کی روح سے عرش جھوم اٹھا ہے۔
(۳۷۹۶۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ إِسْرَائِیلَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَہُ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اہْتَزَّ الْعَرْشُ لِرُوحِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٦١) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ خندق والے دن حضرت سعد کی بازو کی رگ زخمی ہوگئی تھی۔ آپ کو ایک ابن العرقہ نامی شخص نے تیر مارا تھا۔ عائشہ کہتی ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مسجد کی طرف منتقل کردیا اور ان پر ایک خیمہ لگا دیا گیا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی قریب ہی سے عیادت کرسکیں۔
(۳۷۹۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : أُصِیبَ أَکْحَلُ سَعْدٍ یَوْمَ الْخَنْدَقِ ، رَمَاہُ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ ابْنُ الْعَرِقَۃِ ، قَالَتْ : فَحَوَّلَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَسْجِدِ ، وَضَرَبَ عَلَیْہِ خَیْمَۃً لِیَعُودَہُ مِنْ قَرِیبٍ۔ (بخاری ۴۶۳۔ مسلم ۶۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৬১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٦٢) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ {إِذْ جَائُ وکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ ، وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ ، وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ } یہ حالت خندق والے دن کی تھی۔
(۳۷۹۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ؛ فِی قَوْلِہِ : {إِذْ جَائُ وکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ، وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ، وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ} قَالَتْ: کَانَ ذَاکَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ۔

(بخاری ۴۱۰۳۔ مسلم ۲۳۱۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٦٣) حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ خندق کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے مقابل صف بندی فرمائی۔ راوی کہتے ہیں : یہ بہت سخت دن تھا۔ مسلمانوں نے اس جیسا دن کبھی نہیں دیکھا تھا۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے اور حضرت ابوبکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تشریف فرما تھے اور یہ وقت کھجوروں کی پیداواری کا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ لوگ کھجور کے زمانہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ ان کی زندگی (کا مدار ہی) اس پر تھا۔ راوی کہتے ہیں : پھر ابوبکر نے سر اٹھایا تو انھیں کھجور کا شگوفہ دکھائی دیا۔ یہ پہلا دکھائی دینے والا شگوفہ تھا۔ راوی کہتے ہیں : انھوں نے خوشی کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! شگوفہ۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف دیکھ کر تبسم فرمایا۔ اے اللہ ! جو صالح چیز تو ہمیں عطا کرے وہ ہم سے واپس نہ چھیننا۔
(۳۷۹۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَافَّ الْمُشْرِکِینَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ ، قَالَ ، وَکَانَ یَوْمًا شَدِیدًا لَمْ یَلْقَ الْمُسْلِمُونَ مِثْلَہُ قَطُّ ، قَالَ : وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ ، وَأَبُو بَکْرٍ مَعَہُ جَالِسٌ ، وَذَلِکَ زَمَانُ طَلْعِ النَّخْلِ ، قَالَ : وَکَانُوا یَفْرَحُونَ بِہِ إِذَا رَأَوْہُ فَرَحًا شَدِیدًا ، لأَنَّ عَیْشَہُمْ فِیہِ ، قَالَ ، فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ رَأْسَہُ فَبَصُرَ بِطَلْعَۃٍ ، وَکَانَتْ أَوَّلَ طَلْعَۃٍ رُئِیَتْ ، قَالَ : فَقَالَ ہَکَذَا بِیَدِہِ : طَلْعَۃٌ یَا رَسُولَ اللہِ ، مِنَ الْفَرَحِ ، قَالَ : فَنَظَرَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ ، وَقَالَ : اللَّہُمَّ لاَ تَنْزِعْ مِنَّا صَالِحَ مَا أَعْطَیْتَنَا ، أَوْ صَالِحًا أَعْطَیْتَنَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٦٤) حضرت عمرو بن شرحبیل سے روایت ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ کو خندق والے دن تیر لگ گیا اور ان کا خون نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بہنے لگا تو حضرت ابوبکر حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوبکر ! ٹھہر جاؤ۔ پھر حضرت عمر حاضر ہوئے اور کہا : انا للہ وانا الیہ راجعون۔
(۳۷۹۶۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِیلَ ، قَالَ : لَمَّا أُصِیبَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ بِالرَّمْیَۃِ یَوْمَ الْخَنْدَقِ ، وَجَعَلَ دَمُہُ یَسِیلُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ ، فَجَعَلَ یَقُولُ : وَا انْقِطَاعُ ظَہْرَاہُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَہْ یَا أَبَا بَکْرٍ ، فَجَائَ عُمَرُ ، فَقَالَ : إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٦٥) حضرت ہشام ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں ایک صاحب تھے جنہیں ” مسعود “ کہا جاتا تھا۔ یہ بہت چغل خور تھے۔ پس جب خندق کا دن تھا تو بنو قریظہ نے ابو سفیان کی طرف پیغام بھیجا ۔ تم ہماری طرف کچھ بندے بھیج دو جو ہمارے قلعوں میں (مورچہ زن) ہوں تاکہ ہم محمد کے ساتھ مدینہ کی (اندرونی) طرف سے قتال کریں اور تم لوگ خندق کی طرف سے قتال کرو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو جانب سے لڑنا مشکل محسوس ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسعود سے کہا۔ اے مسعود ! ہم نے بنو قریظہ کی طرف یہ پیغام بھیجا ہے کہ وہ ابو سفیان کی طرف اپنے افراد بھیجیں جب ابو سفیان ان کی طرف اپنے آدمی بھیجے گا تو بنو قریظہ والے ان کو قتل کردیں گے۔ جب مسعودنے یہ بات سنی تو ان سے صبر نہ ہوا اور انھوں نے یہ بات جا کر ابوسفیان کو بتادی۔ ابوسفیان نے کہا کہ خدا کی قسم ! محمد نے ہمیشہ سچ کہا کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ چنانچہ اس نے بنو قریظہ کی طرف کسی کو نہیں بھیجا۔ (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ عمل جنگی تدبیر کا حصہ تھا) ۔
(۳۷۹۶۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ فِی أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ : مَسْعُود ، وَکَانَ نَمَّامًا ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْخَنْدَقِ بَعَثَ أَہْلُ قُرَیْظَۃَ إِلَی أَبِی سُفْیَانَ: أَنَ ابْعَثْ إِلَیْنَا رِجَالاً یَکُونُونَ فِی آطَامِنَا ، حَتَّی نُقَاتِلَ مُحَمَّدًا مِمَّا یَلِی الْمَدِینَۃَ ، وَتُقَاتِلَ أَنْتَ مِمَّا یَلِی الْخَنْدَقَ ، فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنْ یُقَاتَلَ مِنْ وَجْہَیْنِ ، فَقَالَ لِمَسْعُودٍ : یَا مَسْعُودُ ، إِنَّا نَحْنُ بَعَثْنَا إِلَی بَنِی قُرَیْظَۃَ : أَنْ یُرْسِلُوا إِلَی أَبِی سُفْیَانَ ، فَیُرْسِلَ إِلَیْہِمْ رِجَالاً ، فَإِذَا أَتَوْہُمْ قَتَلُوہُمْ ، قَالَ : فَمَا عَدَا أَنْ سَمِعَ ذَلِکَ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَمَا تَمَالَکَ حَتَّی أَتَی أَبَا سُفْیَانَ فَأَخْبَرَہُ ، فَقَالَ : صَدَقَ وَاللہِ مُحَمَّدٌ ، مَا کَذَبَ قَطُّ ، فَلَمْ یَبْعَثْ إِلَیْہِمْ أَحَدًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٦٦) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ تین دن اس حالت میں خندق کھودتے رہے کہ انھوں نے کھانا چکھا بھی نہیں۔ پھر صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پہاڑ کا کوئی سخت حصہ آگیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس پر پانی چھڑکو۔ پس صحابہ کرام نے اس قطعہ پر پانی کا چھڑکاؤ کیا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور کدال یا پھاؤڑا ہاتھ میں لیا اور فرمایا : بسم اللہ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین ضربیں لگائیں تو وہ قطعہ ریت کا ڈھیر بن گیا۔ حضرت جابر کہتے ہیں : فَحَانَتْ مِنِّی الْتِفَاتَۃٌ تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پیٹ مبارک پر پتھر باندھا ہوا تھا۔
(۳۷۹۶۶) حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَیْمَنَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : مَکَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہُ یَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ثَلاَثًا ، مَا ذَاقُوا طَعَامًا ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنَّ ہَاہُنَا کُدْیَۃً مِنَ الْجَبَلِ ، یَعْنِی قِطْعَۃً مِنَ الْجَبَلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رُشُّوا عَلَیْہَا الْمَائَ ، فَرَشُّوہَا ، ثُمَّ جَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ ، أَوِ الْمِسْحَاۃَ ، ثُمَّ قَالَ : بِسْمِ اللہِ ، ثُمَّ ضَرَبَ ثَلاَثًا فَصَارَتْ کَثِیبًا ، قَالَ جَابِرٌ : فَحَانَتْ مِنِّی الْتِفَاتَۃٌ ، فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ شَدَّ عَلَی بَطْنِہِ حَجَرًا۔ (بخاری ۴۱۰۱۔ دارمی ۴۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٦٧) حضرت برائ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خندق والے دن مٹی ڈھوتے ہوئے دیکھا ۔ یہاں تک کہ مٹی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ مبارک کے بالوں کو چھپا دیا تھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن رواحہ کے رجز کو پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے :

” اے اللہ ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم راہ راست پر نہ آتے، اور نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ “

” پس تو ہم پر سکینہ کو نازل فرما، اور قدموں کو ثابت رکھ اگر ہماری ملاقات (دشمن سے) ہو۔ “

” بلاشبہ ان لوگوں نے ہم پر سرکشی کی ہے، اور اگر وہ فتنہ چاہیں گے تو اہم انکار کریں گے۔ “
(۳۷۹۶۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَائِ ، قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ یَنْقُلُ التُّرَابَ ، حَتَّی وَارَی التُّرَابُ شَعْرَ صَدْرِہِ ، وَہُوَ یَرْتَجِزُ بِرَجَزِ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَوَاحَۃَ یَقُولُ:

اللَّہُمَّ لَوْ لاَ أَنْتَ مَا اہْتَدَیْنَا

فَأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا

إِنَّ الأُلَی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا

وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّیْنَا

وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَیْنَا

وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَۃً أَبَیْنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غزوہ خندق
(٣٧٩٦٨) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ٹھنڈی صبح کو باہر تشریف لائے۔ مہاجرین و انصار خندق کھود رہے تھے۔ تو جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر ان پر پڑی تو فرمایا :

” بلاشبہ زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پس (اے اللہ ! ) تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ “

صحابہ کرام نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جواباً کہا :” ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی ۔ فریضہ جہاد پر جب تک ہم باقی رہیں۔ “
(۳۷۹۶۸) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَدَاۃً بَارِدَۃً ، وَالْمُہَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ یَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَیْہِمْ ، قَالَ :

إِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الآخِرَۃِ

فَاغْفِرْ لِلأَنْصَارِ وَالْمُہَاجِرَہْ

فَأَجَابُوہُ :

نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدَا

عَلَی الْجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدَا
tahqiq

তাহকীক: