মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১২২৩ টি

হাদীস নং: ৩৭৯২৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٢٩) حضرت حکم سے روایت ہے کہ احد کے مقتولین پر نماز نہیں پڑھی گئی تھی اور نہ ہی ان کو غسل دیا گیا تھا۔
(۳۷۹۲۹) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : لَمْ یُصَلَّ عَلَیْہِمْ وَلَمْ یُغَسَّلُوا ، یَعْنِی قَتْلَی أُحُدٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯২৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٣٠) حضرت عامر سے روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ناک مبارک پر چوٹ آئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے والے چار دندان مبارک زخمی ہوئے۔ اور راوی کا خیال یہ ہے کہ حضرت طلحہ نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بچاؤ کیا تھا۔ اور انھیں نیزے لگے اور ان کی انگلی شل ہوگئی۔
(۳۷۹۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : أُصِیبَ یَوْمَ أُحُدٍ أَنْفُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَبَاعِیَتُہُ ، وَزَعَمَ أَنَّ طَلْحَۃَ وَقَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہِ ، فَضُرِبَ فَشَلَّتْ إِصْبَعَہُ۔ (ابن سعد ۲۱۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٣١) حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے۔ میں ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد کے دن اونگھ طاری ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ کئی مرتبہ تلوار میرے ہاتھ سے گرگئی۔
(۳۷۹۳۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بَکْرٍ التَّیْمِیُّ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ ، قَالَ : کُنْتُ فِیمَنْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ النُّعَاسُ یَوْمَ أُحُدٍ ، حَتَّی سَقَطَ سَیْفِی مِنْ یَدَیَّ مِرَارًا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٣٢) حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب احد کے دن مشرکین نے ڈھانپ لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ان مشرکین کو ہم سے واپس کر دے گا وہ جنت میں جائے گا۔ پس انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور لڑے یہاں تک کہ وہ صاحب قتل ہوگئے۔ پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور مشرکین کو ہٹانے لگے یہاں تک کہ وہ بھی قتل ہوگئے۔ حتی کہ سات لوگ قتل ہوگئے۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔
(۳۷۹۳۲) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ ، وَثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَہِقَہُ الْمُشْرِکُونَ یَوْمَ أُحُدٍ ، قَالَ : مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنَّا وَہُوَ فِی الْجَنَّۃِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ یَرُدُّہُمْ حَتَّی قُتِلَ حَتَّی قُتِلَ سَبْعَۃٌ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا۔ (مسلم ۱۴۱۵۔ ابویعلی ۳۳۰۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٣٣) ام ہانی کے مولیٰ ابو صالح سے روایت ہے کہ حارث بن سوید نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لایا۔ پھر وہ اہل مکہ کے ساتھ مل گیا اور (انہی کی طرف سے) احد میں شریک ہوا۔ اور مسلمانوں سے قتال کیا پھر اس کو شرمندگی ہوئی اور وہ مکہ لوٹ گیا اور اپنے بھائی جُلاس بن سوید کو خط لکھا۔ اے میرے بھائی ! جو کچھ مجھ سے سرزد ہوا ہے میں اس پر نادم ہوں پس میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں اور اسلام کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ تم یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کرو اور اگر تمہیں میری توبہ (کی قبولیت) کے بارے میں امید ہو تو مجھے خط لکھ دو ۔ جلاس نے یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { کَیْفَ یَہْدِی اللَّہُ قَوْمًا کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ } تو اس پر اس کے سابقہ ساتھیوں میں سے کچھ لوگ کہنے لگے ہمارے خلاف اپنی قوم کی معاونت کرتا ہے پھر اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : {إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ ، ثُمَّ ازْدَادُوا کُفْرًا ، لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُہُمْ وَأُولَئِکَ ہُمُ الضَّالُّونَ }
(۳۷۹۳۳) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللہِ بْنُ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ مَوْلَی أُمِّ ہَانِئٍ ؛ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ سُوَیْدٌ بَایَعَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَآمَنَ بِہِ ، ثُمَّ لَحِقَ بِأَہْلِ مَکَّۃَ وَشَہِدَ أُحُدًا فَقَاتَلَ الْمُسْلِمِینَ ، ثُمَّ أُسْقِطَ فِی یَدِہِ فَرَجَعَ إِلَی مَکَّۃَ ، فَکَتَبَ إِلَی أَخِیہِ جُلاَسِ بْنِ سُوَیْدٍ : یَا أَخِی ، إِنِّی قَدْ نَدِمْتُ عَلَی مَا کَانَ مِنِّی ، فَأَتُوبُ إِلَی اللہِ ، وَأَرْجِعُ إِلَی الإِسْلاَمِ ، فَاذْکُرْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ طَمِعْتَ لِی فِی تَوْبَۃٍ فَاکْتُبْ إِلَی ، فَذَکَرَہُ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {کَیْفَ یَہْدِی اللَّہُ قَوْمًا کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ} قَالَ : فَقَالَ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِہِ مِمَّنْ کَانَ عَلَیْہِ : یَتَمَنَّعُ ، ثُمَّ یُرَاجَعُ إِلَی الإِسْلاَمِ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ ، ثُمَّ ازْدَادُوا کُفْرًا، لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُہُمْ وَأُولَئِکَ ہُمُ الضَّالُّونَ}۔ (نسائی ۳۵۳۱۔ احمد ۲۴۷)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٣٤) حضرت محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی احد کے دن حضرت فاطمہ سے ملے اور فرمایا : تلوار پکڑو۔ اس حال میں کہ اس کی مذمت نہیں کی گئی۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! اگر آج کے دن ۔۔۔ احد کے دن ۔۔۔ تم نے بہترین لڑائی کی ہے تو تحقیق ابو دجانہ، مصعب بن عمیر اور حارث بن صمہ اور سہل بن حنیف نے بھی بہترین لڑائی کی ہے۔ (یعنی) تین انصاریوں نے اور ایک قریشی آدمی نے۔
(۳۷۹۳۴) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ کَعْبٍ الْقُرَظِیُّ ؛ أَنَّ عَلِیًّا لَقِیَ فَاطِمَۃَ یَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : خُذِی السَّیْفَ غَیْرَ مَذْمُومٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا عَلِیُّ، إِنْ کُنْتَ أَحْسَنْتَ الْقِتَالَ الْیَوْمَ ، فَقَدْ أَحْسَنَہُ أَبُو دُجَانَۃَ ، وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّۃِ، وَسَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ ؛ ثَلاَثَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، وَرَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٣٥) حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت علی اپنی تلوار لے کر تشریف لائے اور فرمایا : (فاطمہ) تعریف کی ہوئی تلوار پکڑ لو۔ (اس پر) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے آج کے دن بہترین لڑائی لڑی ہے تو تحقیق سہل بن حنیف، عاصم بن ثابت اور حارث بن صمَّہ اور ابو دجانہ نے بھی بہترین لڑائی لڑی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلے میں کون لے گا ؟ حضرت ابو دجانہ نے کہا۔ میں (لوں گا) اور پھر انھوں نے تلوار پکڑی اور اس کو چلایا یہاں تک کہ جب ابو دجانہ وہ تلوار لے کر (واپس) آئے تو انھوں نے اس کو موڑ ڈالا تھا۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نے تلوار کو اس کا حق دے دیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : جی ہاں !
(۳۷۹۳۵) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : جَائَ عَلِیٌّ بِسَیْفِہِ ، فَقَالَ : خُذِیہِ حَمِیدًا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنْ کُنْتَ أَحْسَنْتَ الْقِتَالَ الْیَوْمَ ، فَقَدْ أَحْسَنَہُ سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ ، وَعَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّۃِ ، وَأَبُو دُجَانَۃَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ یَأْخُذُ ہَذَا السَّیْفَ بِحَقِّہِ ؟ فَقَالَ أَبُو دُجَانَۃَ : أَنَا ، وَأَخَذَ السَّیْفَ فَضَرَبَ بِہِ حَتَّی جَائَ بِہِ قَدْ حَنَاہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَعْطَیْتَہُ حَقَّہُ ؟ قَالَ : نَعَمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٣٦) حضرت عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک مشرک تلوار سونتے ہوئے چل رہا تھا۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی چلتے ہوئے اس کے سامنے تشریف لے گئے اور فرمایا؛ میں جھوٹا نبی نہیں ہوں۔ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔

راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ضرب لگائی اور اس کو قتل کردیا۔
(۳۷۹۳۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَہُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ یَوْمَ أُحُدٍ مُصْلِتًا یَمْشِی ، فَاسْتَقْبَلَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمْشِی ، فَقَالَ :

أَنَا النَّبِیُّ غَیْر الْکَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ

قَالَ : فَضَرَبَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَتَلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٣٧) حضرت شعبی سے منقول ہے کہ ایک عورت نے احد کے دن اپنے بیٹے کو تلوار دی تو وہ لڑکا تلوار اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ۔ پس اس عورت نے تلوار اس لڑکے کے بازو رپر رسی کے ذریعہ سے باندھ دی پھر وہ عورت اس لڑکے کو لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ میرا بیٹا ہے اور یہ آپ کی طرف سے قتال کرے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا : اے بیٹے ! اس طرف حملہ کرو۔ اے بیٹے ! اس طرف حملہ کرو۔ پھر اس لڑکے کو زخم لگ گیا اور وہ گرگیا ۔ پھر اس لڑکے کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا۔ اے بیٹے ! شاید کہ تم ڈر گئے ہو ؟ اس نے عرض کیا۔ نہیں۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) !
(۳۷۹۳۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّ امْرَأَۃً دَفَعَتْ إِلَی ابْنِہَا یَوْمَ أُحُدٍ السَّیْفَ ، فَلَمْ یُطِقْ حَمْلَہُ ، فَشَدَّتْہُ عَلَی سَاعِدِہِ بِنِسْعَۃٍ ، ثُمَّ أَتَتْ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، ہَذَا ابْنِی یُقَاتِلُ عَنْکَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیْ بُنَیَّ احْمِلْ ہَاہُنَا ، أَیْ بُنَیَّ احْمِلْ ہَاہُنَا ، فَأَصَابَتْہُ جِرَاحَۃٌ ، فَصُرِعَ ، فَأُتِیَ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَیْ بُنَیَّ ، لَعَلَّک جَزِعْتَ ؟ قَالَ : لاَ یَا رَسُولَ اللہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٣٨) حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ احد کے دن مسلمانوں کے پیچھے عورتیں تھیں جو مشرکین کے زخمیوں کو مار رہی تھیں۔ پس اگر میں اس دن قسم کھاتا تو میں حانث نہ ہوتا کہ : ہم میں سے کوئی ایک بھی دنیا کا ارادہ نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الآخِرَۃَ ، ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ }

٢۔ پھر جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے اختلاف کیا اور حکم کے برخلاف عمل کیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نو (٩) افراد کے درمیان۔۔۔ جن میں سے سات انصاری اور دو قریشی تھے ۔۔۔ خالی چھوڑ دیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان افراد میں دسویں تھے۔ پھر جب مشرکین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھانپ لیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے جو انھیں ہم سے دور کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انھوں نے کچھ دیر قتال کیا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگئے پھر مشرکین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھانپ لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے جو انہں ی (مشرکین کو) ہم سے دور کر دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بات مسلسل کہتے رہے یہاں تک کہ سات افراد قتل ہوگئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دو ساتھیوں سے فرمایا : ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔

٣۔ پھر ابو سفیان آیا اور اس نے کہا۔ ہُبل بلند ہو ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم (صحابہ ) کہو۔ اللہ تعالیٰ بلند ہے اور بزرگی والا ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا۔ ہمارے لیے عُزّی ہے اور تمہارے لیے کوئی عُزّی نہیں ہے۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (صحابہ سے) فرمایا : تم کہو : اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا۔ (یہ) دن بدر کے دن کے بدلہ میں ہے۔

ایک دن ہمارے حق میں اور ایک دن ہمارے خلاف ہے

ایک دن ہمارے ساتھ بُرا ہوتا ہے اور ایک دن ہمیں خوش کردیا جاتا ہے۔

حنظلہ کا قتل حنظلہ کے بدلہ میں ہے اور فلاں، فلاں کے بدلہ میں۔ اور فلاں، فلاں کے بدلہ میں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (جواباً ) ارشاد فرمایا : یہ برابری نہیں ہے۔ بہرصورت ہمارے جو مقتولین ہیں۔ وہ تو زندہ ہیں اور انھیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے مقتولین جہنم میں عذاب دیئے جا رہے ہیں۔

٤۔ پھر ابو سفیان نے کہا۔ لوگوں میں مثلہ کا عمل (پایا گیا) ہے اگرچہ یہ مجھ سے مشورہ کئے بغیر ہوا ہے۔ نہ میں نے حکم دیا ہے اور نہ میں نے منع کیا ہے۔ نہ میں نے (اس کو) پسند کیا ہے اور نہ میں نے ناپسند کیا ہے۔ اور یہ چیز نہ تو مجھے بُری محسوس ہوئی ہے اور نہ ہی اچھی محسوس ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے دیکھا کہ حضرت حمزۃ کا پیٹ چاک کردیا گیا ہے اور ہندہ نے آپ کا کلیجہ لیا اور اس کو چبایا۔ لیکن وہ کلیجہ نہ کھا سکی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ ہندہ نے کلیجہ میں سے کچھ کھایا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حمزہ کی کسی چیز کو جہنم میں داخل کرنا نہیں چاہا۔

٥۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حمزہ (کی میت) کو رکھا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور پھر ایک انصاری صاحب (مقتول صحابی ) کو لایا گیا اور انھیں حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز جنازہ پڑھی پھر انصاری کی میت اٹھا دی گئی اور حضرت حمزہ کی میت رہنے دی گئی اور پھر ایک اور میت لائی گئی اور اس کو حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھ دیا گیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میت پر نماز جنازہ پڑھی۔ پھر دوسری میت اٹھا دی گئی اور حضرت حمزہ کی رہنے دی گئی پھر ایک اور میت لائی گئی اور اس کو حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر نماز جنازہ پڑھی پھر یہ میت اٹھا لی گئی اور حضرت حمزہ کو رہنے دیا گیا۔ یہاں تک کہ اس دن حضرت حمزہ پر ستر مرتبہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔
(۳۷۹۳۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ؛ أَنَّ النِّسَائَ کُنَّ یَوْمَ أُحُدٍ خَلْفَ الْمُسْلِمِینَ ، یُجْہِزْنَ عَلَی جَرْحَی الْمُشْرِکِینَ ، فَلَوْ حَلَفْتُ یَوْمَئِذٍ لَرَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ ، أَنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنَّا یُرِیدُ الدُّنْیَا حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہُ : {مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الآخِرَۃَ ، ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ}۔

فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَصَوْا مَا أُمِرُوا بِہِ ، أُفْرِدَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی تِسْعَۃٍ ، سَبْعَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَرَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ ، وَہُوَ عَاشِرُہُمْ ، فَلَمَّا رَہِقُوہُ، قَالَ : رَحِمَ اللَّہُ رَجُلاً رَدَّہُمْ عَنَّا ، قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَاتَلَ سَاعَۃً حَتَّی قُتِلَ ، فَلَمَّا رَہِقُوہُ أَیْضًا ، قَالَ : یَرْحَمُ اللَّہُ رَجُلاً رَدَّہُمْ عَنَّا ، فَلَمْ یَزَلْ یَقُولُ حَتَّی قُتِلَ السَّبْعَۃُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَیْہِ : مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا۔

فَجَائَ أَبُو سُفْیَانَ ، فَقَالَ : اُعْلُ ہُبَلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قُولُوا : اللَّہُ أَعْلَی وَأَجَلُّ ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : لَنَا عُزَّی ، وَلاَ عُزَّی لَکُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : قُولُوا : اللَّہُ مَوْلاَنَا ، وَالْکَافِرُونَ لاَ مَوْلَی لَہُمْ ،

فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ۔

یَوْمٌ لَنَا وَیَوْمٌ عَلَیْنَا وَیَوْمٌ نُسَائُ وَیَوْمٌ نُسَر

ُحَنْظَلَۃُ بِحَنْظَلَۃَ ، وَفُلاَنٌ بِفُلاَنٍ ، وَفُلاَنٌ بِفُلاَنٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ سَوَائً ، أَمَّا قَتْلاَنَا فَأَحْیَائٌ یُرْزَقُونَ ، وَقَتْلاَکُمْ فِی النَّارِ یُعَذَّبُونَ ، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : قَدْ کَانَ فِی الْقَوْمِ مُثْلَۃٌ ، وَإِنْ کَانَتْ بِغَیْرِ مَلأٍ مِنِّی ، مَا أَمَرْتُ وَلاَ نَہَیْتُ ، وَلاَ أَحْبَبْتُ وَلاَ کَرِہْتُ ، وَلاَ سَائَنِی وَلاَ سَرَّنِی ، قَالَ : فَنَظَرُوا فَإِذَا حَمْزَۃُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُہُ ، وَأَخَذَتْ ہِنْدُ کَبِدَہُ فَلاَکَتْہَا ، فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْکُلَہَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَکَلَتْ مِنْہُ شَیْئًا ؟ قَالُوا : لاَ ، قَالَ : مَا کَانَ اللَّہُ لِیُدْخِلَ شَیْئًا مِنْ حَمْزَۃَ النَّارَ۔

فَوَضَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ ، وَجِیئَ بِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَوُضِعَ إِلَی جَنْبِہِ فَصَلَّی عَلَیْہِ ، فَرُفِعَ الأَنْصَارِیُّ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ ، ثُمَّ جِیئَ بِآخَرَ فَوَضَعَہُ إِلَی جَنْبِ حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ ، ثُمَّ رُفِعَ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ ، ثُمَّ جِیئَ بِآخَرَ فَوَضَعَہُ إِلَی جَنْبِ حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ ، ثُمَّ رُفِعَ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ ، حَتَّی صَلَّی عَلَیْہِ یَوْمَئِذٍ سَبْعِینَ صَلاَۃً۔ (احمد ۴۶۳۔ ابن سعد ۱۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٣٩) حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ احد کے دن، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک میں زخم آگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے والے چار دانت مبارک شہید ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیاس کی وجہ سے لبِ دم ہوگئے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھٹنوں کے بل جھکنے لگے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علیحدہ ہوگئے۔ تو ابی بن خلف، اپنے بھائی امیہ بن خلف کے خون کا مطالبہ کرتا ہوا آیا اور کہنے لگا۔ کہاں ہے وہ آدمی ! جو گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے۔ میرے ساتھ مبارزت کرے۔ پس اگر وہ نبی ہوا تو وہ مجھے قتل کر دے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے نیزہ دے دو ۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ میں حرکت ہے ؟ (یعنی آپ تو پیاسے ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ۔ بلاشبہ میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کے خون کے ذریعہ سے سیرابی طلب کی ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نیزہ پکڑا اور اس کی طرف چل دیئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو نیزہ مارا اور اس کو اس کی سواری سے گرا دیا۔ اُبی بن خلف کے ساتھیوں نے اس کو اٹھا لیا اور اس کو بچا کرلے گے اور انھوں نے اس کو کہا۔ ہمارے خیال میں تو تمہیں کچھ بھی نہیں ہوا ؟ اس نے جواب دیا۔ بلاشبہ انھوں (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) نے اللہ تعالیٰ سے میرے خون کے ذریعہ سیرابی مانگی ہے۔ پس میں وہ تکلیف محسوس کررہا ہوں کہ اگر وہ قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر کے لیے ہوتی تو ان کو بھی کفایت کر جاتی۔
(۳۷۹۳۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : شُجَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی وَجْہِہِ یَوْمَ أُحُدٍ ، وَکُسِرَتْ رَبَاعِیَتُہُ ، وَذُلِقَ مِنَ الْعَطَشِ ، حَتَّی جَعَلَ یَقَعُ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، وَتَرَکَہُ أَصْحَابُہُ ، فَجَائَ أُبَیُّ بْنُ خَلَفٍ یَطْلُبُہُ بِدَمِ أَخِیہِ أُمَیَّۃَ بْنِ خَلَفٍ ، فَقَالَ : أَیْنَ ہَذَا الَّذِی یَزْعُمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ ، فَلْیَبْرُزْ لِی ، فَإِنَّہُ إِنْ کَانَ نَبِیًّا قَتَلَنِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَعْطُونِی الْحَرْبَۃَ ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَبِکَ حَرَاکٌ ؟ فَقَالَ : إِنِّی قَدَ اسْتَسْقَیْتُ اللَّہَ دَمَہُ ، فَأَخَذَ الْحَرْبَۃَ ، ثُمَّ مَشَی إِلَیْہِ فَطَعَنَہُ فَصَرَعَہُ عَنْ دَابَّتِہِ ، وَحَمَلَہُ أَصْحَابُہُ فَاسْتَنْقَذُوہُ ، فَقَالُوا لَہُ : مَا نَرَی بِکَ بَأْسًا ، قَالَ : إِنَّہُ قَدَ اسْتَسْقَی اللَّہَ دَمِی ، إِنِّی لأَجِدُ لَہَا مَا لَوْ کَانَتْ عَلَی رَبِیعَۃَ وَمُضَرَ لَوَسِعَتْہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৩৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٤٠) حضرت زبیر سے بھی اس کے مثل روایت منقول ہے۔
(۳۷۹۴۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الزُّبَیْرِ ، مِثْلَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٤١) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب احد کے دن حضرت حمزہ قتل ہوگئے تو حضرت صفیہ انھیں تلاش کرنے کو آئیں۔ انھیں خبر نہیں تھی کہ کیا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں : ان کی ملاقات حضرت علی اور زبیر سے ہوئی۔ حضرت علی نے حضرت زبیر سے کہا۔ اپنی والدہ کو حضرت حمزہ کے بارے میں بتاؤ۔ حضرت زبیر نے کہا۔ نہیں ! بلکہ آپ انھیں اپنے چچا کے بارے میں بتاؤ۔ حضرت صفیہ کہنے لگی۔ حمزہ نے کیا کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ان دونوں (علی ، زبیر ) نے اسے یہ ظاہر کیا کہ انھیں خبر نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : مجھے اس کی عقل پر خوف ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک ان کے سینہ پر رکھا اور ان کے لیے دُعا کی۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت صفیہ نے اناللہ پڑھا اور رو پڑیں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور حضرت حمزہ کے پاس کھڑے ہوئے۔ درآنحالیکہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا۔ اور فرمایا : اگر عورتوں کا رونا دھونا نہ ہوتا تو میں ان (حمزہ) کو یونہی چھوڑ دیتا تاکہ یہ میدان محشر میں پرندوں کے پوٹوں اور درندوں کے پیٹوں سے جمع ہو کر آتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء کے بارے میں حکم دیا : اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر نماز جنازہ پڑھنی شروع کی۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نو افراد کو اور ساتھ حضرت حمزہ کو رکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر سات تکبیرات میں جنازہ پڑھا۔ پھر باقی میتیں اٹھا دی گئیں اور حمزہ کو چھوڑ دیا گیا پھر نو افراد کو لایا گیا اور ان پر سات تکبیرات کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنازہ پڑھا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے فارغ ہوگئے۔
(۳۷۹۴۱) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ، عَنْ یَزِیدَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا قُتِلَ حَمْزَۃُ یَوْمَ أُحُدٍ ، أَقْبَلَتْ صَفِیَّۃُ تَطْلُبُہُ ، لاَ تَدْرِی مَا صَنَعَ ، قَالَ : فَلَقِیَتْ عَلِیًّا ، وَالزُّبَیْرَ ، فَقَالَ عَلِیٌّ لِلزُّبَیْرِ : اُذْکُرْہُ لأُمِّکَ ، وَقَالَ الزُّبَیْرُ : لاَ ، بَلَ اُذْکُرْہُ أَنْتَ لِعَمَّتِکَ ، قَالَتْ : مَا فَعَلَ حَمْزَۃُ ؟ قَالَ : فَأَرَیَاہَا أَنَّہُمَا لاَ یَدْرِیَانِ ، قَالَ : فَجَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّی لأَخَافُ عَلَی عَقْلِہَا ، قَالَ : فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَی صَدْرِہَا ، وَدَعَا لَہَا ، قَالَ : فَاسْتَرْجَعَتْ وَبَکَتْ ، قَالَ : ثُمَّ جَائَ فَقَامَ عَلَیْہِ ، وَقَدْ مُثِّلَ بِہِ ، فَقَالَ : لَوْلاَ جَزَعُ النِّسَائِ لَتَرَکْتُہُ حَتَّی یُحْشَرَ مِنْ حَوَاصِلِ الطَّیْرِ وَبُطُونِ السِّبَاعِ ، قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ بِالْقَتْلَی فَجَعَلَ یُصَلِّی عَلَیْہِمْ ، قَالَ : فَیَضَعُ تِسْعَۃً وَحَمْزَۃَ ، فَیُکَبِّرُ عَلَیْہِمْ سَبْعَ تَکْبِیرَاتٍ ، ثُمَّ یُرْفَعُونَ وَیُتْرَکُ حَمْزَۃُ ، ثُمَّ یُجَائُ بِتِسْعَۃٍ ، فَیُکَبِّرُ عَلَیْہِمْ سَبْعًا حَتَّی فَرَغَ مِنْہُمْ۔ (ابن ماجہ ۱۵۱۳۔ طبرانی ۲۹۳۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٤٢) حضرت عبد الرحمن بن کعب بن مالک، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن ارشاد فرمایا : حمزہ کا مقتل کس نے دیکھا ہے ؟ ایک نہتے شخص نے کہا۔ میں نے حمزہ کا مقتل دیکھا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ چلو اور ہمیں ان کا مقتل دکھاؤ۔ پس وہ شخص نکلا یہاں تک کہ وہ حضرت حمزہ کی لاش پر آ کر کھڑا ہوا اور اس نے حمزہ کو دیکھا کہ ان کے پیٹ کو پھاڑا گیا ہے اور ان کا مثلہ بنایا گیا ہے۔ تو اس آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بخدا ! ان کا تو مثلہ کیا گیا ہے۔ پس نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حمزہ کی طرف دیکھنے کو ناپسند کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقتولین کے درمیان کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں بذات خود ان لوگوں پر گواہ ہوں ۔ انھیں ان کے خون سمیت لپیٹ دو ۔ کیونکہ (ان میں سے) کوئی بھی مجروح، جس کو زخمی کیا گیا ہے۔ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم خون برسا رہا ہوگا۔ اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی۔ ان لوگوں میں سے زیادہ قرآن والے کو مقدم کرو اور اس کو (پہلے) لحد میں داخل کرو۔
(۳۷۹۴۲) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ أُحُدٍ : مَنْ رَأَی مَقْتَلَ حَمْزَۃَ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ أَعْزَلُ : أَنَا رَأَیْتُ مَقْتَلَہُ ، قَالَ : فَانْطَلِقْ فَأَرِنَاہُ ، فَخَرَجَ حَتَّی وَقَفَ عَلَی حَمْزَۃَ ، فَرَآہُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُہُ ، وَقَدْ مُثِّلَ بِہِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مُثِّلَ بِہِ وَاللہِ ، فَکَرِہَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَنْظُرَ إِلَیْہِ ، وَوَقَفَ بَیْنَ ظَہْرَانَیِ الْقَتْلَی ، فَقَالَ : أَنَا شَہِیدٌ عَلَی ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ ، لُفُّوہُمْ فِی دِمَائِہِمْ ، فَإِنَّہُ لَیْسَ جَرِیحٌ یُجْرَحُ ، إِلاَّ جُرْحُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَدْمَی ، لَوْنُہُ لَوْنُ الدَّمِ ، وَرِیحُہُ رِیحُ الْمِسْک ، قَدِّمُوا أَکْثَرَ الْقَوْمِ قُرْآنًا ، فَاجْعَلُوہُ فِی اللَّحْدِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٤٣) حضرت سعید بن ہشام ، اپنے والد سے روایت کرے ہیں کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مقتولین کی کثرت کا کہا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قبریں کھودو اور کھلی کھودو اور بہترین بناؤ۔ اور ایک قبر میں، دو یا تین افراد کو دفن کردو۔ مُردوں میں سے زیادہ قرآن والے کو مقدم کرو۔ پس لوگوں نے میرے والد کو دو آدمیوں سے مقدم کیا۔
(۳۷۹۴۳) حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : اشْتُکِیَ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شِدَّۃَ الْجِرَاحِ یَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : احْفِرُوا ، وَأَوْسِعُوا ، وَأَحْسِنُوا ، وَادْفِنُوا فِی الْقَبْرِ الاِثْنَیْنِ وَالثَّلاَثَۃَ ، وَقَدِّمُوا أَکْثَرَہُمْ قُرْآنًا ، فَقَدَّمُوا أَبِی بَیْنَ یَدَیْ رَجُلَیْنِ۔ (ابوداؤد ۳۲۰۷۔ احمد ۱۹)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٤٤) حضرت زید بن ثاب سے روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف نکلے تو کچھ (منافق) لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے پھر واپس آگئے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ، ایسے لوگوں کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک جماعت نے کہا۔ ہم ان سے قتال کریں گے ۔ اور دوسری جماعت نے کہا۔ ہم ان سے قتال نہیں کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : { فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللَّہُ أَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوا }

راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ طیبہ ہے اور یہ خباثت کو یوں ختم کردیتا ہے۔ جیسا کہ آگ چاندی کی گندگی کو ختم کردیتی ہے۔
(۳۷۹۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیدَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی أُحُدٍ ، خَرَجَ مَعَہُ نَاسٌ ، فَرَجَعُوا ، قَالَ : فَکَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِمْ فِرْقَتَیْنِ ؛ قَالَتْ فِرْقَۃٌ : نَقْتُلُہُمْ ، وَفِرْقَۃٌ قَالَتْ : لاَ نَقْتُلُہُمْ ، فَنَزَلَتْ : {فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنَافِقِینَ فِئَتَیْنِ وَاللَّہُ أَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوا} قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہَا طَیْبَۃُ ، وَإِنَّہَا تَنْفِی الْخَبَثَ ، کَمَا تَنْفِی النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٤٥) حضرت جابر سے روایت ہے کہ جب حضرت معاویہ نے چشمہ جاری فرمایا تو ہمارے احد کے شہداء بارے میں فریاد ہوئی پس ہم نے انھیں چالیس سال (کا عرصہ گزرنے) کے بعد نکالا۔ ان کے جسم ان اعضاء کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے۔
(۳۷۹۴۵) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ، قَالَ: حدَّثَنَا ہِشَامُ الدَّسْتَوَائِیُّ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: صُرِخَ إِلَی قَتْلاَنَا یَوْمَ أُحُدٍ ، إِذْ أَجْرَی مُعَاوِیَۃُ الْعَیْنَ ، فَاسْتَخْرَجْنَاہُمْ بَعْدَ أَرْبَعِینَ سَنَۃً لَیِّنَۃً أَجْسَادُہُمْ ، تَتَثَنَّی أَطْرَافُہُمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٤٦) حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے کہ میں نے احد کے دن سر اوپر کر کے دیکھنا شروع کیا۔ تو مجھے صحابہ میں سے کوئی ایک بھی نظر نہ آیا مگر یہ کہ وہ اونگھ کی وجہ سے اپنی ڈھال کے نیچے جھٹکے کھا رہا تھا۔
(۳۷۹۴۶) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ ، قَالَ : رَفَعْتُ رَأْسِی یَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ ، فَمَا أَرَی أَحَدًا مِنَ الْقَوْمِ إِلاَّ یَمِیدُ تَحْتَ حَجَفَتِہِ مِنَ النُّعَاسِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٤٧) حضرت ابن ابزی سے روایت ہے کہ احد کے دن حضرت علی نے بنی شیبہ میں سے طلحہ اور مسافع کے ساتھ مبارزت کی۔ راوی کہتے ہیں : ایک اور آدمی کا نام بھی (استاد) نے لیا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت علی نے جو عام لوگوں (کفار) کو قتل کیا تھا ان کے سوا ان تینوں کو بھی قتل کردیا۔ پھر جب آپ واپس تشریف لائے تو حضرت فاطمہ سے کہا۔ بغیر مذمت کے تلوار کو پکڑو۔ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے عمدگی سے قتال کیا ہے تو فلاں انصاری نے بھی اور فلاں انصاری نے بھی اور فلاں انصاری نے بھی بہترین قتال کیا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی جان ختم کردی یا جان ختم کرنے کے قریب ہوگئے۔
(۳۷۹۴۷) حَدَّثَنَا مَالِکٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی الْمُغِیرَۃِ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَی ، قَالَ : بَارَزَ عَلِیٌّ یَوْمَ أُحُدٍ مِنْ بَنِی شَیْبَۃَ طَلْحَۃَ وَمُسَافِعًا ، قَالَ : وَسَمَّی إِنْسَانًا آخَرَ ، قَالَ : فَقَتَلَہُمْ سِوَی مَنْ قَتَلَ مِنَ النَّاسِ ، فَقَالَ لِفَاطِمَۃَ حَیْثُ نَزَلَ : خُذِی السَّیْفَ غَیْرَ ذَمِیمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَئِنْ کُنْتَ أَبْلَیْتَ ، فَقَدْ أَبْلَی فُلاَنٌ الأَنْصَارِیُّ ، وَفُلاَنٌ الأَنْصَارِیُّ ، وَفُلاَنٌ الأَنْصَارِیُّ حَتَّی انْقَطَعَ نَفَسُہُ ، أَوْ کَادَ یَنْقَطِعُ نَفَسُہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٤٨) حضرت حکم سے روایت ہے کہ جب احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے والے چار دندان مبارک شہید ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین لوگوں پر اللہ کا غضب شدید ہے۔ اس آدمی پر جو خود کو بادشاہوں کا بادشاہ گمان کرتا ہے۔ اور اس آدمی پر بھی اللہ کا غضب شدید ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دندان کو شہید کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ کو زخمی کیا۔ اور خدا کا غضب اس آدمی پر بھی شدید ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ خدا کا بیٹا ہے۔
(۳۷۹۴۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی غَنِیَّۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : لَمَّا کُسِرَتْ رَبَاعِیَۃُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اشْتَدَّ غَضَبُ اللہِ عَلَی ثَلاَثَۃٍ ؛ عَلَی مَنْ زَعَمَ أَنَّہُ مَلِکُ الأَمْلاَک ، وَاشْتَدَّ غَضَبُ اللہِ عَلَی مَنْ کَسَرَ رَبَاعِیَۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَثَّرَ فِی وَجْہِہِ ، وَاشْتَدَّ غَضَبُ اللہِ عَلَی مَنْ زَعَمَ أَنَّ لِلَّہِ وَلَدًا۔
tahqiq

তাহকীক: