মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৭৯০৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٠٩) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کے دن جب واپس تشریف لائے تو بنی عبد الاشہل کی عورتیں اپنے مقتولین پر رو رہی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لیکن حمزہ پر کوئی رونے والی نہیں ہیں۔ تو انصار کی عورتیں، حضرت حمزہ پر رونے کے لیے آگئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوئے ہوئے تھے، جاگ اٹھے اور فرمایا : اے ہلاکت والیو ! یہ عورتیں ابھی تک یہاں ہیں، ان کو حکم دو کہ یہ واپس ہوجائیں اور آج کے بعد کسی ہلاک ہونے والے پر نہ روئیں۔
(۳۷۹۰۹) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : حدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : رَجَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ ، فَبَیْنَمَا نِسَائُ بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ یَبْکِینَ عَلَی ہَلْکَاہُنَّ ، فَقَالَ : لَکِنَّ حَمْزَۃَ لاَ بَوَاکِیَ لَہُ ، فَجِئْنَ نِسَائُ الأَنْصَارِ یَبْکِینَ عَلَی حَمْزَۃَ ، وَرَقَدَ فَاسْتَیْقَظَ ، فَقَالَ : یَا وَیْحَہُنَ إِنَّہُنَّ لَہَاہُنَا حَتَّی الآنَ ؟ مُرُوہُنَّ فَلْیَرْجِعْنَ ، وَلاَ یَبْکِینَ عَلَی ہَالِکٍ بَعْدَ الْیَوْمِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩١٠) حضرت خباب سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ہجرت کی اور ہم خدا تعالیٰ کی رضا کے متلاشی تھے۔ پس ہمارا اجر تو اللہ پر واجب ہوگیا۔ پھر ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں نے اپنے اجر میں سے کچھ نہیں کھایا۔ انہی میں سے مصعب بن عمیر ہیں جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے اور ان کو کفن دینے کے لیے بھی سوائے ایک چادر کے کچھ میسر نہ ہوا۔ جب صحابہ کرام یہ چادر ان کے سر پر ڈالتے تھے تو ان کے پاؤں کُھل جاتے تھے۔ اور جب اس کو پاؤں کی طرف کھینچتے تھے تو آپ کا سر مبارک کھل جاتا تھا اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ چادر اس کے سر کی طرف کردو اور اس کے پاؤں پر اذخر (بوٹی) ڈال دو ۔ اور ہم میں سے بعض وہ تھے جن کے لیے ان کے (اجر کے) پھل پک گئے سو وہ انھیں کاٹ رہے ہیں۔
(۳۷۹۱۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ : ہَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِی وَجْہَ اللہِ ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَی اللہِ ، فَمِنَّا مَنْ مَضَی لَمْ یَأْکُلْ مِنْ أَجْرِہِ شَیْئًا ، مِنْہُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ ، فَلَمْ یُوجَدْ لَہُ شَیْئٌ یُکَفَّنُ فِیہِ إِلاَّ نَمِرَۃٌ ، کَانُوا إِذَا وَضَعُوہَا عَلَی رَأْسِہِ خَرَجَتْ رِجْلاَہُ ، وَإِذَا وَضَعُوہَا عَلَی رِجْلَیْہِ خَرَجَ رَأْسُہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اجْعَلُوہَا مِمَّا یَلِی رَأْسَہُ ، وَاجْعَلُوا عَلَی رِجْلَیْہِ مِنَ الإِذْخِرِ ، وَمِنَّا مَنْ أَیْنَعَتْ لَہُ ثَمَرَتُہُ فَہُوَ یَہْدِبُہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩١١) حضرت ابی اسید سے روایت ہے۔ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ حضرت حمزہ کی قبر پر تھے۔ پس چادر حضرت حمزہ کے سر کی طرف کھینچی گئی تو آپ کے پاؤں کھل گئے۔ پھر چادر آپ کے پاؤں کی طرف کھینچی گئی تو آپ کا سر مبارک کھل گیا۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ چادر ان کے سر کی طرف کھینچ دو اور ان کے پاؤں پر حرمل کے پتے ڈال دو ۔
(۳۷۹۱۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ زَیْدٍ مَوْلَی أَبِی أُسَیْدَ الْبَدْرِیِّ ، عَنْ أَبِی أُسَیْدٍ ، قَالَ : إِنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی قَبْرِ حَمْزَۃَ ، فَمُدَّتِ النَّمِرَۃُ عَلَی رَأْسِہِ فَانْکَشَفَتْ رِجْلاَہُ ، فَجُذِبَتْ عَلَی رِجْلَیْہِ فَانْکَشَفَ رَأْسُہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مُدُّوہَا عَلَی رَأْسِہِ ، وَاجْعَلُوا عَلَی رِجْلَیْہِ شَجَرَ الْحَرْمَلِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩١٢) انصار کے کچھ شیوخ بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس عبداللہ بن عمرو بن حرام اور عمرو بن جموح کو مقتول حالت میں لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ ان دونوں کو ایک قبر میں دفن کردو اس لیے کہ یہ دنیا میں باہم مخلص تعلق رکھتے تھے۔
(۳۷۹۱۲) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَشْیَاخٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالُوا : أُتِیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ بِعَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ ، وَعَمْرِو بْنِ جَمُوحٍ قَتِیلَیْنِ ، فَقَالَ: ادْفِنُوہُمَا فِی قَبْرٍ وَاحِدٍ ، فَإِنَّہُمَا کَانَا مُتَصَافِیَیْنِ فِی الدُّنْیَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩١٣) بنو سلمہ کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت امیر معاویہ نے شہداء کی قبر کے پاس سے گزرنے والا چشمہ جاری فرمایا تو وہ چشمہ دو شہیدوں کی قبر پر سے گزرا تو ان کی قبر کھل گئی۔ پس لوگوں نے ان کے بارے میں فریاد کی تو ہم نے ان دونوں کو باہر نکالا ۔ وہ دونوں یوں لپٹے ہوئے تھے کہ گویا کل ہی مرے ہیں۔ ان پر دو چادریں تھیں۔ جن کے ذریعہ سے ان کے چہروں کو ڈھانپ دیا گیا تھا اور ان کے قدموں پر اذخر کی بوٹی پڑی ہوئی تھی۔
(۳۷۹۱۳) حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أَبِی ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ بَنِی سَلِمَۃَ، قَالُوا: لَمَّا صَرَفَ مُعَاوِیَۃُ عَیْنَہُ الَّتِی تَمُرُّ عَلَی قُبُورِ الشُّہَدَائِ ، جَرَتْ عَلَیْہِمَا ، فَبَرَزَ قَبْرُہُمَا ، فَاسْتُصْرِخَ عَلَیْہِمَا ، فَأَخْرَجْنَاہُمَا یَتَثَنَّیَانِ تَثَنِّیًا کَأَنَّمَا مَاتَا بِالأَمْسِ، عَلَیْہِمَا بُرْدَتَانِ قَدْ غُطِّیَ بِہِمَا عَلَی وُجُوہِہِمَا، وَعَلَی أَرْجُلِہِمَا مِنْ نَبَاتِ الإِذْخِرِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩١٤) حضرت جابر سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد عبداللہ نے کہا۔ اے میرے بیٹے ! اگر یہ چھوٹی بہنیں اور بیٹیاں، جنہیں میں پیچھے چھوڑ رہا ہوں، نہ ہوتی تو میں اس بات کو پسند کرتا کہ تجھے اپنے سے آگے کرتا۔ لیکن (اب) تم مدینہ میں میرے نظیر بن کر رہو ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جلد ہی میری پھوپھی ان دونوں کو ۔۔۔ ان کے والد اور چچا کو ۔۔۔ مقتول حالت میں لے آئی۔ ان دونوں کو اس نے اونٹ پر ڈالا ہوا تھا۔
(۳۷۹۱۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ نُبَیْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ لِی أَبِی عَبْدُ اللہِ : أَیْ بنِیَّ ، لَوْلاَ نُسَیَّاتٌ أُخَلِّفُہُنَّ مِنْ بَعْدِی مِنْ أَخَوَاتٍ وَبَنَاتٍ ، لأَحْبَبْتُ أَنْ أُقَدِّمَکَ أَمَامِی ، وَلَکِنْ کُنَّ فِی نِظَارِی الْمَدِینَۃِ ، قَالَ : فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ جَائَتْ بِہِمَا عَمَّتِی قَتِیلَیْنِ ، یَعْنِی أَبَاہُ وَعَمَّہُ ، قَدْ عَرَضَتْہُمَا عَلَی بَعِیرٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩١٥) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ احد کے دن مشرکین میں سے ایک آدمی قتل کردیا گیا تو مشرکین نے اس کی دیت دینے کا ارادہ کیا، ورثاء کی طرف سے انکار ہو تو انھوں نے دیت کے بقدر دینے کا فیصلہ کیا لیکن پھر بھی انکار ہوا۔
(۳۷۹۱۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قُتِلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ یَوْمَ أُحُدٍ ، فَأَرَادَ الْمُشْرِکُونَ أَنْ یَدُوہُ فَأَبَی ، فَأَعْطَوْہُ حَتَّی بَلَغَ الدِّیَۃَ فَأَبَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩١٦) بنی معاویہ کے ایک آزاد کردہ غلام فارسی سے روایت ہے کہ انھوں نے احد کے دن ایک آدمی کو مارا اور قتل کردیا ، اور کہا، اس کو پکڑ لو۔ میں تو فارسی غلام ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیں ن انصاری کہنے سے کس نے روکا۔ حالانکہ تم انہی میں سے ہو۔ قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم میں سے شمار ہوتا ہے۔
(۳۷۹۱۶) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ ، وَدَاوُد بْنُ الْحُصَیْنِ ، عَنْ الْفَارِسِیِّ مَوْلَی بَنِی مُعَاوِیَۃَ ؛ أَنَّہُ ضَرَبَ رَجُلاً یَوْمَ أُحُدٍ فَقَتَلَہُ ، وَقَالَ : خُذْہَا وَأَنَا الْغُلاَمُ الْفَارِسِیُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا مَنَعَک أَنْ تَقُولَ : الأَنْصَارِی وَأَنْتَ مِنْہُمْ ؟ إِنَّ مَوْلَی الْقَوْمِ مِنْہُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩١٧) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ان کے چچا ، بدر کی لڑائی میں غیر موجود تھے تو وہ فرماتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے ساتھ جو پہلی لڑائی لڑی ہے میں اس سے پیچھے رہ گیا ہوں۔ بخدا ! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے (اب) مشرکین کے ساتھ لڑائی دکھا دی تو میں بھی اللہ تعالیٰ کو اپنا طرز عمل دکھا دوں گا۔ پس جب احد کا دن تھا اور مسلمان چھٹ گئے تو انھوں نے کہا : اے اللہ ! ان لوگوں (مسلمان) نے جو کچھ کیا ہے میں اس پر آپ سے معذرت کرتا ہوں۔ اور یہ لوگ (مشرکین) جو کچھ لے کر آئے ہیں میں آپ کے سامنے اس سے برأت کرتا ہوں۔ اور (یہ کہہ کر) وہ آگے بڑھے۔ تو انھیں حضرت سعد ملے اور حضرت سعد نے کہا۔ میں (بھی) تمہارے ساتھ ہوں۔ حضرت سعد کہتے ہیں، جو انھوں نے کیا وہ میں نہ کرسکا۔ ان کے جسم پر تلواروں کی ضربیں، نیزوں کے وار اور تیروں کے نشانات اَسّی سے کچھ اوپر پائے گئے تھے۔ اور ہم کہا کرتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں ہی یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ { فَمِنْہُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ }۔
(۳۷۹۱۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؛ أَنَّ عَمَّہُ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِکِینَ ، وَاللَّہِ لَئِنْ أَرَانِی اللَّہُ قِتَالَ الْمُشْرِکِینَ ، لَیَرَیَنَّ اللَّہُ مَا أَصْنَعُ ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ انْکَشَفَ الْمُسْلِمُونَ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَعْتَذِرُ إِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ ہَؤُلاَئِ ، یَعْنِی الْمُسْلِمِینَ ، وَأَبْرَأُ إِلَیْکَ مِمَّا جَائَ بِہِ ہَؤُلاَئِ ، یَعْنِی الْمُشْرِکِینَ ، وَتَقَدَّمَ فَلَقِیَہُ سَعْدٌ بِأُخْرَاہَا مَا دُونَ أُحُدٍ ، فَقَالَ سَعْد : أَنَا مَعَکَ ، قَالَ سَعْدٌ : فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَصْنَعُ مَا صَنَعَ ، وَوُجِدَ بِہِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ ضَرْبَۃٍ بِسَیْفٍ ، وَطَعْنَۃٍ بِرُمْحٍ ، وَرَمْیَۃٍ بِسَہْمٍ ، فَکُنَّا نَقُولُ فِیہِ وَفِی أَصْحَابِہِ نَزَلَتْ : {فَمِنْہُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩١٨) حضرت حسن اور سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ احد کے مقتولین کو غسل دیا گیا تھا۔
(۳۷۹۱۸) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛ أَنَّ قَتْلَی أُحُدٍ غُسِّلُوا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩١٩) حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ میں نے طلحہ بن عبید اللہ کے ہاتھ کو شل دیکھا۔ اس ہاتھ کے ذریعہ سے انھوں نے احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کی اور بچاؤ کیا تھا۔
(۳۷۹۱۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ یَدَ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ شَلاَئَ ، وَقَی بِہَا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٢٠) حضرت شعبی سے منقول ہے کہ حمزہ بن عبد المطلب کو احد کے دن قتل کیا گیا اور حنظلہ ابن الراہب کو، جنہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا ۔۔۔ احد کے دن قتل کیا گیا۔
(۳۷۹۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ زَکَرِیَّا ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : قُتِلَ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَوْمَ أُحُدٍ، وَقُتِلَ حَنْظَلَۃُ بْنُ الرَّاہِبِ الَّذِی طَہَّرَتْہُ الْمَلاَئِکَۃُ یَوْمَ أُحُدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٢١) حضرت ابن عمر سے روایت ہے۔ مجھے احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ جبکہ میری عمر چودہ سال کی تھی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے چھوٹا سمجھا اور (پھر) مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر خندق کے دن پیش کیا گیا۔ جبکہ میری عمر پندرہ سال کی تھی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے (شرکتِ جہاد کی) اجازت مرحمت فرما دی۔ حضرت نافع کہتے ہیں۔ میں نے یہ حدیث حضرت عمر بن عبد العزیز کو بیان فرمائی تو انھوں نے کہا : یہ (مقدارِ عمر) چھوٹے، بڑے کے درمیان حد فاصل ہے۔ پھر انھوں نے اپنے عامل کو یہ تحریر لکھ کر بھیجی کہ پندرہ سال والے کے لیے مقاتلین میں اور چودہ سال والے کے لیے ذریۃ میں حصہ مقرر کریں۔
(۳۷۹۲۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : عُرِضْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ فَاسْتَصْغَرَنِی ، وَعُرِضْتُ عَلَیْہِ یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ فَأَجَازَنِی ، قَالَ نَافِعٌ : فَحَدَّثْتُ بِہِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَقَالَ : ہَذَا حَدٌّ بَیْنَ الصَّغِیرِ وَالْکَبِیرِ ، فَکَتَبَ إِلَی عُمَّالِہِ : أَنْ یَفْرِضُوا لاِبْنِ خَمْسَ عَشْرَۃَ فِی الْمُقَاتِلَۃِ ، وَلاِبْنِ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ فِی الذُّرِّیَّۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٢٢) حضرت سعد بن المنذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف نکلے ۔ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثنیۃ الوداع کو پار کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے پیچھے ایک سخت رو لشکر دکھائی دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا۔ عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے حمایتی یہودی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ کیا انھوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں ! بلکہ یہ اپنے دین پر ہی قائم ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھیں کہہ دو کہ واپس چلے جاؤ۔ اس لیے کہ ہم مشرکین کے خلاف مشرکین سے مدد طلب نہیں کرتے۔
(۳۷۹۲۲) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی أُحُدٍ ، فَلَمَّا خَلَّفَ ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ فَنَظَرَ خَلْفَہُ فَإِذَا کَتِیبَۃٌ خَشْنَائُ ، فَقَالَ : مَنْ ہَؤُلاَئِ؟ قَالُوا: عَبْدُ اللہِ بْنُ أُبَیِّ ابْنُ سَلُولَ وَمَوَالِیہِ مِنَ الْیَہُودِ ، قَالَ : أَقَدْ أَسْلَمُوا ؟ قَالُوا : لاَ ، بَلْ عَلَی دِینِہِمْ ، قَالَ : مُرُوہُمْ فَلْیَرْجِعُوا فَإِنَّا لاَ نَسْتَعِینُ بِالْمُشْرِکِینَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٢٣) حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت ہے کہ قتادہ بن نعمان کی آنکھ احد کے دن نکل کر ان کے رخسار پر گرگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو واپس رکھ دیا۔ تو یہ آنکھ (دوسری آنکھ سے) زیادہ حسین اور تیز نظر والی تھی۔
(۳۷۹۲۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ ؛ أَنَّ قَتَادَۃَ بْنَ النُّعْمَانِ سَقَطَتْ عَیْنُہُ عَلَی وَجْنَتِہِ یَوْمَ أُحُدٍ ، فَرَدَّہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَکَانَتْ أَحْسَنَ عَیْنٍ وَأَحَدَّہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٢٤) حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن کے مقتولین کے بارے میں حکم فرمایا : تو ان کو ان کے خون سمیت کپڑوں میں لپیٹ دیا گیا اور یہ بھی فرمایا کہ ان میں سے زیادہ قرآن والے کو مقدم کیا جائے اور دو آدمیوں کو ایک قبر میں داخل کیا جائے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس میں نے اپنے والد اور چچا کو ایک ہی قبر میں دفن کیا۔
(۳۷۹۲۴) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْقَتْلَی یَوْمَ أُحُدٍ فَزِمِّلُوا بِدِمَائِہِمْ ، وَأَنْ یُقَدَّمَ أَکْثَرُہُمْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ، وَأَنْ یُدْفَنَ اثْنَانِ فِی قَبْرٍ ، قَالَ : فَدَفَنْتُ أَبِی وَعَمِّی فِی قَبْرٍ۔ (ابن ماجہ ۱۵۱۴۔ عبدالرزاق ۶۶۳۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٢٥) حضرت محمد بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن ارشاد فرمایا : اے مصعب ! آگے بڑھو ! حضرت عبد الرحمن نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا مصعب قتل نہیں ہوگئے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں نہیں ؟ لیکن ان کی جگہ ایک فرشتہ کھڑا ہے اور وہ انہی کے نام سے مسمّٰی ہے۔
(۳۷۹۲۵) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ یَوْمَ أُحُدٍ : أَقْدِمْ مُصْعَبُ ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلَمْ یُقْتَلْ مُصْعَبٌ ؟ قَالَ : بَلَی ، وَلَکِنْ مَلَکٌ قَامَ مَکَانَہُ ، وَتَسَمَّی بِاسْمِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٢٦) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ احد کے دن (مسلمان) عورتیں، (کفار) زخمیوں کو مار رہی تھیں اور (مسلمانوں) کو پانی پلا رہی تھیں اور (مسلمان) زخمیوں کو دوائی دے رہی تھیں۔
(۳۷۹۲۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کُنَّ النِّسَائُ یَوْمَ أُحُدٍ یُجْہِزْنَ عَلَی الْجَرْحَی ، وَیَسْقِینَ الْمَائَ ، وَیُدَاوِینَ الْجَرْحَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٢٧) حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا۔ اس کو مجھ سے کون لے گا ؟ لوگوں نے ہاتھ آگے کئے۔ اور ہر آدمی کہنے لگا۔ میں، میں (لوں گا) ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ا تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلہ میں کون لے گا ؟ راوی کہتے ہیں۔ پھر لوگ رک گئے ۔ اور سماک ابو دجانہ نے کہا۔ میں اس تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلہ میں لیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پھر ابو دجانہ نے وہ تلوار پکڑ لی اور اس کے ذریعہ بہت سے مشرکین کی کھوپڑیاں پھاڑ ڈالیں۔
(۳۷۹۲۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَیْفًا یَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : مَنْ یَأْخُذُ مِنِّی ہَذَا ؟ فَبَسَطُوا أَیْدِیَہُمْ ، فَجَعَلَ کُلُّ إِنْسَانٍ مِنْہُمْ یَقُولُ : أَنَا أَنَا ، فَقَالَ : فَمَنْ یَأْخُذُہُ بِحَقِّہِ ؟ قَالَ : فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ سِمَاکٌ أَبُو دُجَانَۃَ : أَنَا آخُذُہُ بِحَقِّہِ ، قَالَ : فَأَخَذَہُ ، فَفَلَقَ بِہِ ہَامَ الْمُشْرِکِینَ۔ (مسلم ۱۹۱۷۔ احمد ۱۲۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٢٨) حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب احد کو دیکھتے تو ارشاد فرماتے۔ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
(۳۷۹۲۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَی أُحُدًا ، قَالَ : ہَذَا جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ۔ (مسلم ۹۹۳)
তাহকীক: