মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১২২৩ টি
হাদীস নং: ৩৭৮৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٨٩) حضرت ابراہیم سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عربی (آقا) کا فدیہ، یوم بدر کو چالیس اوقیہ اور غلام کا فدیہ بیس اوقیہ مقرر فرمایا تھا۔ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔
(۳۷۸۸۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، قَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِدَائَ الْعَرَبِیِّ یَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعِینَ أُوقِیَّۃً ، وَجَعَلَ فِدَائَ الْمَوْلَی عِشْرِینَ أُوقِیَّۃً ، الأُوقِیَّۃُ أَرْبَعُونَ دِرْہَمًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٩٠) حضرت ابو الزناد سے منقول ہے کہ بدر کے دن عاص بن منبہ بن حجاج کی تلوار صفی (وہ مقدار جو حاکم تقسیم غنیمت سے قبل اپنے لیے مقرر کرے) بنی تھی۔
(۳۷۸۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ، قَالَ : کَانَ الصَّفِیُّ یَوْمَ بَدْرٍ سَیْفَ عَاصِمِ بْنِ مُنَبِّہِ بْنِ الْحَجَّاجِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٩١) حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اہل بدر کے فدیہ میں حاضر ہو اتھا۔
(۳۷۸۹۱) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : قدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی فِدَائِ أَہْلِ بَدْرٍ۔ (بخاری ۳۰۵۰۔ احمد ۸۴)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٩٢) حضرت ابو العالیہ سے روایت ہے کہ ہم باہم یہ گفتگو کرتے تھے کہ { یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرَی } سے مراد بدر کا دن ہے اور دھواں جا چکا ہے۔
(۳۷۸۹۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ ، قَالَ : کُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ قَوْلَہُ : {یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرَی} یَوْمَ بَدْرٍ ، وَالدُّخَانُ قَدْ مَضَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٩٣) حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ بدر کے دن ہم تینوں، عمار، سعد اور میں حاصل ہونے والی غنیمت میں مشترک ہوگئے۔ میں اور عمار تو کچھ بھی نہ لائے جبکہ حضرت سعد دو قیدی بنا کر لائے۔
(۳۷۸۹۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : اشْتَرَکْنَا یَوْمَ بَدْرٍ أَنَا ، وَعَمَّارٌ ، وَسَعْدٌ فِیمَا أَصَبْنَا یَوْمَ بَدْرٍ ، فَأَمَّا أَنَا ، وَعَمَّارٌ فَلَمْ نَجِئْ بِشَیْئٍ ، وَجَائَ سَعْدٌ بِأَسِیرَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٩٤) حضرت عطاء سے روایت ہے کہ سہیل بن عمرو ایک ایسا آدمی تھا جس کا نچلا ہونٹ پھٹا ہوا تھا۔ جب وہ بدر کے دن قید کر کے لایا گیا تو حضرت عمر بن خطاب نے عر ض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کے سامنے والے نچلے دو دانت اکھیڑ دیجئے تاکہ اس کی زبان باہر نکل آئے اور یہ آپ کی مخالفت میں کسی بھی جگہ بات نہ کرسکے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں مثلہ نہیں کرتا کہ (بدلہ میں) اللہ تعالیٰ میرا مثلہ فرمائے۔
(۳۷۸۹۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : کَانَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو رَجُلاً أَعْلَمَ مِنْ شَفَتِہِ السُّفْلَی ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُسِرَ بِبَدْرٍ : یَا رَسُولَ اللہِ ، اِنْزَعْ ثَنِیَّتَیْہِ السُّفْلَیَیْنِ فَیُدْلَعَ لِسَانُہُ ، فَلاَ یَقُومَ عَلَیْک خَطِیبًا بِمَوْطِنٍ أَبَدًا ، فَقَالَ : لاَ أُمَثِّلُ ، فَیُمَثِّلَ اللَّہُ بِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٩٥) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم سے پہلے سیاہ رنگ سروں والوں کے لیے غنیمتیں حلال نہیں تھیں۔ آسمان سے آگ اترتی تھی اور غنائم کو کھا لیتی تھی۔ پھر جب بدر کا دن آیا تو لوگوں نے غنائم مں جلد بازی شروع کی۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ { لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ ، فَکُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَیِّبًا }۔
(۳۷۸۹۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ سُودِ الرُّؤُوسِ قَبْلَکُمْ ، کَانَتْ نَارٌ تَنْزِلُ مِنَ السَّمَائِ فَتَأْکُلُہَا ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ أَسْرَعَ النَّاسُ فِی الْغَنَائِمِ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ ، فَکُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَیِّبًا}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑا غزوہ بدر، اور جو کچھ ہوا ، اور غزوہ بدر کے واقعات۔
(٣٧٨٩٦) حضرت قاسم بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ بدر کے دن اہل اسلام میں سب سے پہلے شہید ہونے والے حضرت مہجع تھے۔
(۳۷۸۹۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنِ اُسْتُشْہِدَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یَوْمَ بَدْرٍ مِہْجَعٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٨٩٧) حضرت شعبی سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن مشرکین کے ساتھ چال چلی تھی۔ اور یہ پہلا دن تھا جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ چال چلی تھی۔
(۳۷۸۹۷) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : مَکَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمُشْرِکِینَ یَوْمَ أُحُدٍ ، وَکَانَ أَوَّلَ یَوْمٍ مَکَرَ فِیہِ بِہِمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٨٩٨) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب احد کا دن تھا، مشرکین کو شکست ہوئی تو شیطان نے آواز لگائی : اے بندگانِ خدا اپنے پیچھے والوں کو دیکھو۔ آگے کے لوگ پیچھے گئے تو پیچھے والوں کے ساتھ مل گئے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس دوران حضرت حذیفہ نے دیکھا کہ وہ اپنے والد کے مقابل تھے تو انھوں نے کہا۔ اے بندگانِ خدا ! میرے والد۔ میرے والد۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں۔ بخدا ! صحابہ کرام نہ رکے یہاں تک کہ صحابہ نے انھیں قتل کردیا۔ تو حضرت حذیفہ نے کہا۔ اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ کہتے ہیں۔ بخدا ! حضرت حذیفہ میں خیر باقی رہی یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
(۳۷۸۹۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ ہُزِمَ الْمُشْرِکُونَ وَصَاحَ إِبْلِیسُ : أَیْ عِبَادَ اللہِ ، أُخْرَاکُمْ ، قَالَ : فَرَجَعَتْ أُولاَہُمْ فَاجْتَلَدَتْ ہِیَ وَأُخْرَاہُمْ ، قَالَ : فَنَظَرَ حُذَیْفَۃُ فَإِذَا ہُوَ بِأَبِیہِ الْیَمَانِ ، فَقَالَ : عِبَادَ اللہِ ، أَبِی أَبِی ، قَالَتْ : فَوَاللہِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّی قَتَلُوہُ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : غَفَرَ اللَّہُ لَکُمْ ، قَالَ عُرْوَۃُ : فَوَاللہِ مَا زَالَتْ فِی حُذَیْفَۃَ بَقِیَّۃُ خَیْرٍ حَتَّی لَحِقَ بِاللہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٨٩٩) حضرت شعبی کہتے ہیں کہ جب احد کا دن تھا اور مشرکین واپس ہوگئے تھے تو مسلمانوں نے اپنے بھائیوں کو بدترین مثلہ کی حالت میں دیکھا۔ مشرکین نے مسلمانوں کے کانوں اور ناکوں کو کاٹا تھا اور ان کے پیٹ چاک کیے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان پر دسترس دی تو ضرور بالضرور ہم بھی ان کے ساتھ (یہی رویہ) اختیار کریں گے۔ اور یہی رویہ اختیار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ { وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِہِ ، وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَہُوَ خَیْرٌ لِلصَّابِرِینَ } آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ ہم صبر کریں گے۔
(۳۷۸۹۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ وَانْصَرَفَ الْمُشْرِکُونَ ، فَرَأَی الْمُسْلِمُونَ بِإِخْوَانِہِمْ مُثْلَۃً سَیِّئَۃً ، جَعَلُوا یَقْطَعُونَ آذَانَہُمْ وَآنَافَہُمْ ، وَیَشُقُّونَ بُطُونَہُمْ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَئِنْ أَنَالَنَا اللَّہُ مِنْہُمْ لَنَفْعَلَنَّ وَلَنَفْعَلَنَّ ، فَأَنْزَلَ اللَّہُ : {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِہِ ، وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَہُوَ خَیْرٌ لِلصَّابِرِینَ} فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : بَلْ نَصْبِرُ۔ (ابن جریر ۱۹۵۔ احمد ۱۳۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٠٠) حضرت سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ احد کی جنگ میں مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ لڑائی لڑنے والے حضرت سعد تھے۔
(۳۷۹۰۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ ہَاشِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : کَانَ سَعْدٌ أَشَدَّ الْمُسْلِمِینَ بَأْسًا یَوْمَ أُحُدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٠١) حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے۔ جنگ احد میں لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دور رہ گئے تھے اور حضرت سعد بن مالک تیر اندازی کر رہے تھے۔ اور ایک جوان انھیں تیر اندازی کے لیے تیر پکڑا رہا تھا۔ پس جونہی ایک تیر چلتا تو وہ دوسرا تیر حضرت سعد کے حوالے کردیتے۔ پھر اس نے کہا۔ اے ابو اسحاق ! اس پر تیر پھینکو۔ پھر بعد میں لوگوں نے اس (تیر پکڑانے والے) جوان کو تلاش کیا ۔ لیکن لوگوں کو اس جوان پر قدرت نہ ہوئی (یعنی نہیں ملا) ۔
(۳۷۹۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ؛ أَنَّ النَّاسَ انْجَفَلُوا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِکٍ یَرْمِی ، وَفَتًی یَنبِّلُ لَہُ ، فَکُلَّمَا فَنِیَتْ نَبْلُہُ ، دَفَعَ إِلَیْہِ نَبْلَہُ ، ثُمَّ قَالَ : اِرْمِہِ أَبَا إِسْحَاقَ ، فَلَمَّا کَانَ بَعْدُ طَلَبُوا الْفَتَی فَلَمْ یَقْدِرُوا عَلَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٠٢) حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ میں نے سعد کے علاوہ کسی آدمی کے لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے والدین کے فدا کہنے کو نہیں سُنا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو احد کے دن سُنا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے۔ اے سعد ! تیر پھینکو، میرے ماں ، باپ تم پر قربان ہوں۔
(۳۷۹۰۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ، قَالَ : مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُفَدِّی أَحَدًا بِأَبَوَیْہِ إِلاَّ سَعْدًا ، فَإِنِّی سَمِعْتُہُ یَقُولُ یَوْمَ أُحُدٍ : ارْمِ سَعْدُ ، فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٠٣) حضرت سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن میرے لیے اپنے ماں ، باپ کو جمع (کر کے قربان ہونے کا) فرمایا۔
(۳۷۹۰۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، یَقُولُ : جَمَعَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَبَوَیْہِ یَوْمَ أُحُدٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٠٤) حضرت سعد کہتے ہیں میں نے احد کے روز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں جانب اور بائیں جانب دو آدمیوں کو دیکھا جن پر سفدں رنگ کے کپڑے تھے۔ میں نے ان کو اس سے پہلے اور اس کے بعد (کبھی) نہیں دیکھا۔
(۳۷۹۰۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِیہِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ عَنْ یَمِینِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَنْ شِمَالِہِ یَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَیْنِ ، عَلَیْہِمَا ثِیَابٌ بَیَاضٌ ، لَمْ أَرَہُمَا قَبْلُ ، وَلاَ بَعْدُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٠٥) حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ ، احد کی جنگ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے دو تلوار کے ساتھ قتال کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ میں خدا کا شیر ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت حمزہ ، آگے، پیچھے آ جا رہے تھے کہ آپ کو ٹھوکر لگی اور آپ اپنی گردن کے بَل چت گرگئے اور دور ہوگئے اور حضرت حمزہ کے پیٹ پر سے زرہ کھل گئی۔ تو آپ کو ایک حبشی غلام نے دیکھ لیا اور اس نے آپ کو ایک تیر یا نیزہ مارا جو آپ کے پار گزر گیا۔
(۳۷۹۰۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : کَانَ حَمْزَۃُ یُقَاتِلُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ أُحُدٍ بِسَیْفَیْنِ ، وَیَقُولُ : أَنَا أَسَدُ اللہِ ، قَالَ : فَجَعَلَ یُقْبِلُ وَیُدْبِرُ ، فَعَثَرَ ، فَوَقَعَ عَلَی قَفَاہُ مُسْتَلْقِیًا وَانْکَشَطَ ، وَانْکَشَفَتِ الدِّرْعُ عَنْ بَطْنِہِ ، فَأَبْصَرَہُ الْعَبْدُ الْحَبَشِیُّ فَزَرَّقَہُ بِرُمْحٍ ، أَوْ حَرْبَۃٍ فَنَفَذَہُ بِہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٠٦) حضرت سعید بن جبیر، { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا ، بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ } کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں۔ جب احد کے دن حضرت حمزہ بن عبد المطلب اور مصعب بن عمیر شہید ہوگئے تو انھوں نے کہا۔ ہم جس خیر کو پاچکے ہیں۔ کاش ! اس کی خبر ہمارے بھائیوں کو ہوجائے تاکہ وہ مزید رغبت کریں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ میں یہ بات تمہاری طرف سے (ان کو) پہنچا دوں گا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا } سے لے کر { الْمُؤْمِنِینَ } تک ۔
(۳۷۹۰۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ؛ {وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا ، بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ} قَالَ : لَمَّا أُصِیبَ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ یَوْمَ أُحُدٍ ، قَالُوا : لَیْتَ إِخْوَانَنَا یَعْلَمُونَ مَا أَصَبْنَا مِنَ الْخَیْرِ کَیْ یَزْدَادُوا رَغْبَۃً ، فَقَالَ اللَّہُ : أَنَا أُبَلِّغُ عَنْکُمْ ، فَنَزَلَتْ : {وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللہِ أَمْوَاتًا}) إِلَی قَوْلِہِ : {الْمُؤْمِنِینَ}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٠٧) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حمزہ کے پاس سے گزرے۔ درآنحالیکہ انھیں مثلہ کیا گیا تھا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس کھڑے ہوگئے اور فرمایا۔ اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ حضرت صفیہ اپنے دل میں یہ بات رکھ لیں گی تو میں حمزہ کو (یونہی) چھوڑ دیتا تاکہ اس کو چرند پرند اور مویشی کھا جائیں پھر یہ قیامت کو ان کے پیٹ سے اکٹھے ہو کر زندہ ہوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سفید و سیاہ دھاریوں والا کمبل منگوایا۔ وہ کمبل جب حمزہ کے سر مبارک پر ڈالا جاتا تو آپ کے پاؤں کھل جاتے اور جب اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں کی طرف کھینچا جاتا تو آپ کا سر کھل جاتا۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ یہ کمبل ان کے سر کی طرف کھینچ لو اور ان کے پاؤں پر اسپند بوٹی ڈال دو ۔ کپڑے کم پڑگئے اور مقتولین زیادہ ہوگئے۔ پس ایک ، دو اور تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفن دیا گیا۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھتے تھے۔ ان میں زیادہ قرآن والا (حافظ) کون ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو مقدم فرماتے۔
(۳۷۹۰۷) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَمْزَۃَ یَوْمَ أُحُدٍ وَقَدْ مُثِّلَ بِہِ ، فَوَقَفَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ : لَوْلاَ أَنِّی أَخْشَی أَنْ تَجِدَ صَفِیَّۃُ فِی نَفْسِہَا ؛ لَتَرَکْتُہُ حَتَّی تَأْکُلَہُ الْعَافِیَۃُ ، فَیُحْشَرَ مِنْ بُطُونِہَا ، ثُمَّ دَعَا بِنَمِرَۃٍ ، فَکَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَی رَأْسِہِ بَدَتْ رِجْلاَہُ ، وَإِذَا مُدَّتْ عَلَی رِجْلَیْہِ بَدَا رَأْسُہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مُدُّوہَا عَلَی رَأْسِہِ ، وَاجْعَلُوا عَلَی رِجْلَیْہِ الْحَرْمَلَ ، وَقَلَّتِ الثِّیَابُ ، وَکَثُرَتِ الْقَتْلَی ، فَکَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلاَنِ وَالثَّلاَثَۃُ یُکَفَّنُونَ فِی الثَّوْبِ ، وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْأَلُ أَیُّہُمْ أَکْثَرُ قُرْآنًا ، فَیُقَدِّمُہُ۔
(ابوداؤد ۳۱۲۸۔ احمد ۱۲۸)
(ابوداؤد ۳۱۲۸۔ احمد ۱۲۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ احد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
(٣٧٩٠٨) حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے تھے ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھتے۔ ان میں سے قرآن مجید کو زیادہ جاننے والا کون ہے ؟ پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو قبر میں پہلے اتارتے اور فرماتے۔ میں ان لوگوں پر قیامت کے دن گواہ ہوں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقتولین کو ان کے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر جنازہ بھی نہیں پڑھایا اور انھیں غسل بھی نہیں دیا گیا۔
(۳۷۹۰۸) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللہِ أَخْبَرَہُ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَجْمَعُ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ مِنْ قَتْلَی أُحُدٍ فِی الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، ثُمَّ یَقُولُ : أَیُّہُمْ أَکْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ؟ فَإِذَا أُشِیرَ لَہُ إِلَی أَحَدِہِمَا ، قَدَّمَہُ فِی اللَّحْدِ ، وَقَالَ : أَنَا شَہِیدٌ عَلَی ہَؤُلاَئِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، وَأَمَرَ بِدَفْنِہِمْ بِدِمَائِہِمْ ، وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِمْ وَلَمْ یُغَسَّلُوا۔
তাহকীক: