সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯২ টি

হাদীস নং: ১৩১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز پڑھنے کے بعد کون سی جانب اٹھا جائے۔
ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں، حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ امیر لوگ تو اجرلے گئے کیونکہ وہ لوگ اسی طرح نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں اور اسی طرح روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس اضافی مال موجود ہے جسے وہ صدقہ کردیتے ہیں جبکہ ہمارے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جب تم انھیں پڑھ لو گے تو تم اس شخص تک پہنچ جاؤ گے جو تم سے آگے نکل چکا تھا لیکن تم تک وہ شخص نہیں پہنچ سکے گا جو تم سے پہلے ہیں ماسوائے اس شخص کے جو تمہارے عمل جیسا عمل کرے انھوں نے عرض کی جی ہاں یا رسول اللہ۔ آپ نے ارشاد فرمایا تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو اور اس کے آخر کے میں یہ دعا پڑھا کرو۔

" اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی کی بادشاہت ہے حمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا هِقْلٌ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا وَلَيْسَ لَنَا مَا نَتَصَدَّقُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُنَّ أَدْرَكْتَ مَنْ سَبَقَكَ وَلَمْ يَلْحَقْكَ مَنْ خَلَفَكَ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُسَبِّحُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَخْتِمُهَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز پڑھنے کے بعد کون سی جانب اٹھا جائے۔
حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں ہمیں ہدایت کی گئی تھی کہ ہم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کریں پھر ایک شخص آیا انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو خواب میں یہ بات بتائی گئی کہ اللہ کے رسول نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو اس نے جواب دیا جی ہاں تو خواب میں آنے والے شخص نے کہا تم اسے پچیس پچیس مرتبہ کرو اس کے ساتھ لاالہ اللہ بھی پڑھا کرو اس بات کی اطلاع نبی اکرم کو دی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا تم ایسا کرلو۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَأُتِيَ رَجُلٌ أَوْ أُرِيَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْمَنَامِ فَقِيلَ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدُوا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَاجْعَلُوا مَعَهَا التَّهْلِيلَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلُوهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن انسان سے سب سے پہلے کس کا حساب لیا جائے گا۔
حضرت تمیم داری روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے انسان سے نماز کے بارے میں حساب لیا جائے گا اگر اس کی نماز مکمل ہوئی تو مکمل لکھی جائے گی اور اگر کوئی کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا کہ اس بات کا جائز لو کہ میرے بندے کے کوئی نوافل ہیں اگر ہیں تو انھیں مکمل کردو جو اس کے فرض میں کمی ہے پھر زکوۃ کا جائزہ لیا جائے گا اور دیگر اعمال کا اسی طرح حساب لیا جائے۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں حماد کے علاوہ کوئی اور راوی سے یہ حدیث میرے علم کے مطابق منقول نہیں ہے۔ امام ابومحمد دارمی سے سوال کیا گیا کیا یہ حدیث صحیح ہے انھوں نے جواب دیا ہاں۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ فَإِنْ وَجَدَ صَلَاتَهُ كَامِلَةً كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً وَإِنْ كَانَ فِيهَا نُقْصَانٌ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَأَكْمِلُوا لَهُ مَا نَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ ثُمَّ الزَّكَاةُ ثُمَّ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ حَمَّادٍ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ صَحَّ هَذَا قَالَ إِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نماز کا طریقہ۔
حضرت ابوحمیدی ساعدی نے دس صحابہ کرام کی موجودگی میں جن میں سے ایک حضرت ابوقتادہ تھے یہ کہا کہ میں آپ سب کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نماز کے طریقے کے بارے میں جانتاہوں وہ حضرات بولے وہ کس طرح ؟ جبکہ آپ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کے حوالے سے ہم سے آگے نہیں ہیں اور ہمارے مقابلے میں زیادہ پرانے صحابی بھی نہیں ہیں۔ حضرت ابوقتادہ نے فرمایا ایسا ہی ہے وہ حضرات بولے بیان کیجیے۔ حضرت ابوقتادہ نے فرمایا جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کا آغاز کرتے تو دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے۔ یہاں تک کہ ہر ایک ہڈی اپنی جگہ پر آجاتی پھر آپ قرأت کرتے پھر تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع میں چلے جاتے آپ اپنی دونوں ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آجاتی آپ اپنے سر کو نہ اوپر کی طرف رکھتے اور نہ نیچے کی طرف رکھتے پھر آپ سر اٹھاتے اور سمع اللہ لمن حمدہ پڑھتے۔ پھر آپ دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے۔

ابوعاصم نامی راوی بیان کرتے ہیں میرے استاد نے شاید حدیث میں یہ الفاظ بھی بیان کئے تھے کہ ہر ایک ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر آجاتی تھی پھر آپ اللہ اکبر کہتے ہوئے زمین کی طرف جھک جاتے آپ اپنے دونوں بازو پہلو سے الگ رکھتے اور سجدہ کرتے پھر آپ سر اٹھاتے اور بایاں پاؤں بچھا کر اس کے سہارے بیٹھ جاتے۔ سجدے میں آپ اپنے پاؤں کی انگلیاں کشادہ رکھتے پھر آپ دوبارہ سجدہ کرتے پھر سر اٹھاتے ہوئے اللہ اکبر کہتے اور بایاں پاؤں بچھا کر اس کے کھڑے ہوتے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کرتے جب آپ دو رکعات کے بعد تشہد پڑھ لینے کے بعد کھڑے ہوتے تو اسی طرح کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے جیسے نماز کے آغاز میں اٹھاتے تھے۔ پھر آپ بقیہ نماز اسی طرح ادا کرتے یہاں تک کہ جب آخری قعدہ آتا جس میں سلام پھیرنا ہوتا تو آپ بائیں پاؤں کو ایک طرف نکال کر بائیں پہلو کے سہارے " تورک " کے طور پر بیٹھ جاتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لِمَ فَمَا كُنْتَ أَكْثَرَنَا لَهُ تَبَعَةً وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً قَالَ بَلَى قَالُوا فَاعْرِضْ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ حَتَّى يَقَرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ وَلَا يُصَوِّبُ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ يَظُنُّ أَبُو عَاصِمٍ أَنَّهُ قَالَ حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ ثُمَّ يَسْجُدُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ ثُمَّ يَعُودُ فَيَسْجُدُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا مُعْتَدِلًا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَإِذَا قَامَ مِنْ السَّجْدَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا فَعَلَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ ثُمَّ يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتْ السَّجْدَةُ أَوْ الْقَعْدَةُ الَّتِي يَكُونُ فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَجَلَسَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ قَالَ قَالُوا صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نماز کا طریقہ۔
حضرت وائل بن حجر بیان کرتے ہیں میں نے یہ سوچا کہ میں اچھی طرح اس بات کا جائزہ لوں گا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نماز پڑھنے کا طریقہ کیا ہے میں نے دیکھا آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانے کے بعد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھا۔ حضرت وائل بیان کرتے ہیں جب آپ رکوع میں جانے لگے تو اسی طرح رفع یدین کیا اور دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ دیئے پھر جب رکوع سے سر اٹھایا تو اسی طرح رفع یدین کیا پھر آپ سجدے میں گئے اور دونوں ہتھیلیاں کانوں کے برابر رکھیں جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا دیا اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر کے بائیں زانو اور پنڈلی کے سہارے بیٹھے آپ نے اپنی دائیں کہنی دائیں زانو پر رکھی اور پھر انگلیوں کا حلقہ بنا کر ان میں سے ایک انگلی کو اٹھایا میں نے دیکھا کہ آپ اسے حرکت دے رہے تھے اور اس کے ہمراہ دعا مانگ رہے تھے۔ حضرت وائل بیان کرتے ہیں اس کے بعد ایک مرتبہ سردی کے موسم میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے لوگوں کو دیکھا کہ انھوں نے چادریں لپیٹی ہوئی تھیں اور وہ چادروں کے نیچے سے ہی ہاتھوں کو حرکت دے رہے تھے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ قَالَ قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَامَ فَكَبَّرَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى قَالَ ثُمَّ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ قَبَضَ ثِنْتَيْنِ فَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا قَالَ ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ فَرَأَيْتُ عَلَى النَّاسِ جُلَّ الثِّيَابِ يُحَرِّكُونَ أَيْدِيَهُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نماز کا طریقہ۔
حطان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوموسی اشعری نے ہمیں نماز پڑھائی یہ مغرب یا شاید عشاء کی نماز تھی نمازیوں میں سے ایک صاحب بولے کہ نماز اور زکوۃ بڑے نیکی کے کام ہیں جب حضرت ابوموسی نے نماز ختم کی تو دریافت کیا کہ یہ جملہ کس نے کہا ہے سب لوگ خاموش رہے حضرت ابوموسی بولے اے حطان شاید یہ جملہ تم نے کہا ہے حطان کہتے ہیں میں نے کہا یہ جملہ میں نے نہیں کہا مجھے اندیشہ ہے کہ شاید آپ مجھ سے ناراض نہ ہوجائیں حاضرین میں سے ایک صاحب بولے میں نے یہ جملہ کہا ہے اور میرا مقصد صرف نیک تھا۔ حضرت ابوموسی نے فرمایا کیا تم لوگوں کو پتا نہیں ہے کہ تم لوگوں کو اپنی نماز میں کیا پڑھنا چاہیے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے نماز پڑھانے کا طریقہ سکھایا تھا اور اس کے آداب وضاحت کے ساتھ بیان کئے ہیں۔ آپنے فرمایا تھا کہ جب نماز پڑھی جانے لگے تو تم میں سے ایک شخص تم لوگوں کی امامت کرے گا جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ غیر المغضوب علیھم ولا لضالین کہے تو آمین کہو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول کرے گا۔ جب وہ تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے تو تم بھی تکبیر کہہ رکوع میں جاؤ۔ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے رکوع سے اٹھے گا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہوگا جب امام سمع اللہ کہے تو تم اللہم ربناالک الحمد کہو کیونکہ اللہ نے اپنے نبی کی زبانی یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ جس شخص نے اللہ کی حمد بیان کی اللہ نے اس کی حمد کو سن لیا۔ پھر جب امام تکبیر کہہ کر سجدے میں جائے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدے میں چلے جاؤ امام تم سے پہلے سجدے میں جائے گا اور تم سے پہلے سجدے سے اٹھے گا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہوگا کہ پھر جب تم قعدہ میں بیٹھو تو یہ پڑھو۔ ہر طرح کی مالی اور جسمانی عبادت اللہ کے لیے مخصوص ہے اے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام ہو اور آپ پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أُقِرَّتْ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا قَضَى أَبُو مُوسَى الصَّلَاةَ قَالَ أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ لَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا قَالَ مَا أَنَا قُلْتُهَا وَقَدْ خِفْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا قُلْتُهَا وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَوَ مَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا قَالَ أَحْسَبُهُ قَالَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمْ اللَّهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَوْ قَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ أَوْ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ أَوْ سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کوئی عمل کرنا
حضرت ابوقتادہ بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائے تو آپ کی گردن پر (راوی کو شک ہے یا شاید یہ فرمایا) اپنے کندھوں پر سیدہ زینب کی صاحبزادی سیدہ امامہ کو اٹھایا ہوا تھا پھر جب آپ رکوع میں گئے تو انھیں اتار دیا پھر جب کھڑے ہوئے تو انھیں اٹھا لیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ هُوَ النَّبِيلُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُصَلِّي وَقَدْ حَمَلَ عَلَى عُنُقِهِ أَوْ عَاتِقِهِ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کوئی عمل کرنا
حضرت ابوقتادہ انصاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے دوران حضرت زینب جو نبی اکرم کی صاحبزادی ہیں کی صاحبزادی حضرت امامہ کو اٹھایا ہوا تھا جب آپ سجدے میں جانے لگے تو انھیں اتار دیا اور جب کھڑے ہوئے تو انھیں پھر اٹھا لیا۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ حَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے دوران سلام کا جواب کیسے دیا جائے۔
حضرت صہیب بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے میں ایک مرتبہ گذرا تو آپ کو سلام کیا آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے آپ نے اشارے سے سلام کا جواب دیا۔ لیث فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ میرے استاد نے حدیث بیان کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ آپ نے اشارے کے ذریعے اپنی انگلی سے جواب دیا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِي بُكَيْرٌ هُوَ ابْنُ الْأَشَجِّ عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً قَالَ لَيْثٌ أَحْسَبُهُ قَالَ بِأُصْبُعِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے دوران سلام کا جواب کیسے دیا جائے۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو عمرو بن عوف کی مسجد میں داخل ہوئے کچھ لوگ بھی اس میں آئے اور آپ کو سلام کیا آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں میں نے حضرت صہیب سے دریافت کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کس طرح جواب دیا انھوں نے جواب دیا اس طرح اور اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَدَخَلَ النَّاسُ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا كَيْفَ كَانَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ هَكَذَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کو متوجہ کرنے کے لیے مرد سبحان اللہ کہیں گے اور خواتین تالی بجائیں گی۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا امام کو متوجہ کرنے کے لیے مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کو متوجہ کرنے کے لیے مرد سبحان اللہ کہیں گے اور خواتین تالی بجائیں گی۔
حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تمہیں نماز کے دوران (امام کو متوجہ کرنے کی ضرورت پیش آئے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور خواتین کو تالی بجانی چاہیے۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ وَلْتُصَفِّحْ النِّسَاءُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نوافل کہاں ادا کرنا افضل ہے۔
حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے تم گھر پر بھی نماز پڑھا کرو باجماعت نماز پڑھنے کے علاوہ انسان کی سب سے بہترین نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں ادا کرے۔
أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْجَمَاعَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر میں نماز پڑھ لینے کے بعد دوبارہ وہی نماز باجماعت ادا کرنا۔
حضرت جابر بن زید بن اسود اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں فجر کی نماز ادا کی جس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز ادا کررہے تھے اس وقت دو صاحبان مسجد کے کونے میں بیٹھے رہے انھوں نے نماز ادا نہیں کی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو بلایا وہ دونوں ڈرے سہمے ہوئے آئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تم لوگوں نے نماز کیوں نہیں پڑھی انھوں نے عرض کیا ہم نے پہلے نماز پڑھ لی تھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو اگر تم اپنے گھر میں نماز پڑھ لو پھر امام کو نماز پڑھتے ہوئے پاؤ تو تم بھی امام کی اقتداء میں نماز پڑھ لو یہ تمہارے لیے نفل نماز بن جائے گی۔ راوی کہتے ہیں لوگ اٹھے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک کو اپنے چہروں پر پھیرنا شروع کردیا راوی کہتے ہیں میں نے بھی آپ کا دست مبارک پکڑا اور اسے اپنے چہرے پر پھیرلیا وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ قَالَ فَإِذَا رَجُلَانِ حِينَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدَانِ فِي نَاحِيَةٍ لَمْ يُصَلِّيَا قَالَ فَدَعَا بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا قَالَ مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا قَالَا صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا قَالَ فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الْإِمَامَ فَصَلِّيَا فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ قَالَ فَقَامَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ بِيَدِهِ يَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ قَالَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَمَسَحْتُ بِهَا وَجْهِي فَإِذَا هِيَ أَبْرَدُ مِنْ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنْ الْمِسْكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس مسجد میں نماز پڑھی جا چکی ہو اس میں دوبارہ باجماعت نماز پڑھنا
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد نبوی میں ایک صاحب کو تنہا نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کیا کوئی شخص ان کے ساتھ بھلائی کرے گا یعنی وہ ان کے ساتھ نماز پڑھ لے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَسْوَدُ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي وَحْدَهُ فَقَالَ أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس مسجد میں نماز پڑھی جا چکی ہو اس میں دوبارہ باجماعت نماز پڑھنا
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں ایک آدمی نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوا مسجد میں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت نماز ادا کرچکے تھے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا کوئی شخص اس کے ساتھ بھلائی کرے گا یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں جو شخص پہلے نماز پڑھ چکا ہو وہ اس طرح کسی دوسرے شخص کے ساتھ عصر اور مغرب کی نماز ادا کرے مغرب میں مزید ایک رکعت ادا کرنی پڑی گی۔
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَسْوَدُ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ قَالَ عَبْد اللَّهِ يُصَلِّي صَلَاةَ الْعَصْرِ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَلَكِنْ يَشْفَعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک ہی کپڑا اوڑھ کر نماز پڑھنا
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ کیا کوئی شخص ایک ہی کپڑا اوڑھ کر نماز پڑھ سکتا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تم میں سے ہر شخص دو کپڑے پاتا ہے۔ کیا تم میں ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں ؟
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَالَ أَوَ كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ أَوْ لِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک ہی کپڑا اوڑھ کر نماز پڑھنا
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کوئی بھی شخص ایک کپڑا اس طرح اوڑھ کر استعمال نہ کرے کہ اس کے کندھے پر کپڑا نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اشتمال صماء کی ممانعت
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو طرح کے لباس سے منع کیا ہے کہ انسان کپڑے کو اس طرح اوڑھے کہ اس کی شرمگاہ اور آسمان کے درمیان کوئی چیز نہ ہو اور دوسرا یہودیوں کی طرح اشتمال صما کرنا۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ أَنْ يَحْتَبِيَ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ بَيْنَ فَرْجِهِ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ وَعَنْ الصَّمَّاءِ اشْتِمَالِ الْيَهُودِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جائے نماز پر نماز پڑھنا۔
حضرت سیدہ میمونہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جائے نماز پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ وَأَبُو الْوَلِيدِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ
tahqiq

তাহকীক: