সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯২ টি

হাদীস নং: ১২৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سر اٹھانے کے بعد کتنی دیر ٹھہرتے تھے۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو آپ کا سجدہ اور رکوع دونوں ایک برابر ہوتے تھے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رُكُوعُهُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنْ السَّوَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سر اٹھانے کے بعد کتنی دیر ٹھہرتے تھے۔
حضرت براء بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا باقاعدہ جائزہ لیا آپ کا قیام آپ کا رکوع آپ کا سجدے میں جانا دونوں سجدوں میں جانا سجدے کے دوران بیٹھنا سب ایک جیسا ہی ہوتا تھا۔ حضرت امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند میں ہلال بن حمید سے مراد میرے خیال میں ابوحمید وزان ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ حُمَيْدٍ الْوَزَّانِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ وَرَكْعَتَهُ وَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ الرَّكْعَةِ فَسَجْدَتَهُ فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فَسَجْدَتَهُ فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنْ السَّوَاءِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد هِلَالُ بْنُ حُمَيْدٍ أُرَى أَبُو حُمَيْدٍ الْوَزَّانُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کی کچھ نماز باجماعت گزر چکی ہو اس کا مسنون طریقہ
حضرت مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے، حضرت مغیرہ بھی ان کے ساتھ تھے لوگ نماز باجماعت شروع کرچکے تھے۔ یہ فجر کی نماز تھی انھوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو نماز پڑھانے کے لیے آگے کردیا تھا وہ نبی اکرم کے تشریف لانے سے پہلے انھیں فجر کی نماز میں ایک رکعت پڑھاچکے تھے۔

پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو آپ حضرت عبدالرحمن کے پیچھے لوگوں کے ساتھ صف میں دوسری رکعت میں شامل ہوگئے جب حضرت عبدالرحمن نے سلام پھیر دیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ نے (پہلے رہ جانے والی رکعت) ادا کی۔ اس وجہ سے لوگ پریشان ہوگئے انھوں نے بکثرت تسبیح پڑھنا شروع کردی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نماز مکمل کرلینے کے بعد ان لوگوں سے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا (کہ نماز باجماعت ادا کرلی)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَحَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُمَا سَمِعَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ وَأَقْبَلَ مَعَهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ حَتَّى وَجَدُوا النَّاسَ قَدْ أَقَامُوا الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْفَجْرِ وَقَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِمْ فَصَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَفَزِعَ النَّاسُ لِذَلِكَ وَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ لِلنَّاسِ قَدْ أَصَبْتُمْ أَوْ قَدْ أَحْسَنْتُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کی کچھ نماز باجماعت گزر چکی ہو اس کا مسنون طریقہ
حمزہ بن مغیرہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ جوان کے والد ہیں ان کا بیان نقل کرتے ہیں۔ جب میں اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو وہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے حضرت عبدالرحمن بن عوف انھیں نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انھوں نے پیچھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو ہٹنے لگے لیکن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دست اقدس کے ذریعے انھیں حکم دیا کہ وہ نماز پڑھاتے رہیں حضرت عبدالرحمن نے انھیں نماز پڑھا لینے کے بعد سلام پھیرا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے اور میں بھی کھڑا ہوگیا اور ہم نے وہ رکعت ادا کی جو پہلے گزرچکی تھی تو نبی اکرم اور میں کھڑے ہوگئے اور پہلی رکعت ادا کی جو نہیں پڑھی تھی۔ امام محمد دارمی فرماتے ہیں میں اہل کوفہ کی طرح اس بات کا فتوی دیتاہوں کہ اگر کوئی رکعت گزرچکی ہو تو اس کو ادا کرلیا جائے۔
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَى إِلَيْهِ بِيَدِهِ فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ فَرَكَعْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقْنَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَقُولُ فِي الْقَضَاءِ بِقَوْلِ أَهْلِ الْكُوفَةِ أَنْ يَجْعَلَ مَا فَاتَهُ مِنْ الصَّلَاةِ قَضَاءً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گرمی اور سردی میں کپڑے پر سجدہ کرنے کی رخصت
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں شدید گرمی میں ہم نبی کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے اور جب ہم میں سے کوئی زمین پر پیشانی نہ رکھ سکتا تو وہ کپڑا بچھا کر اس پر نماز ادا کرلیتا۔
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا غَالِبٌ الْقَطَّانُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ مِنْ الْأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد میں اشارہ کرنا
حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد حضرت عبداللہ بن زبیر کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز میں اسی طرح دعا مانگتے ہوئے دیکھا ہے (اس حدیث کے راوی) ابن عیینہ نے انگلی کے ذریعے اشارہ کیا جبکہ ( دوسرے راوی) ابو ولید نے شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو هَكَذَا فِي الصَّلَاةِ وَأَشَارَ ابْنُ عُيَيْنَةَ بِأُصْبُعِهِ وَأَشَارَ أَبُو الْوَلِيدِ بِالسَّبَّاحَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد میں اشارہ کرنا
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے آخر میں قعدہ میں بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنی ایک انگلی کھڑی کرلیتے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَعَدَ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَنَصَبَ إِصْبَعَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ہم نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے یہ کہا اللہ کے بندوں سے پہلے اللہ کو سلام ہو۔ جبرائیل کو سلام ہو، میکائیل کو سلام ہو، اسرافیل کو سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو۔ حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ خود سلام ہے۔ جب تم نماز میں بیٹھو تو یہ پڑھو ہر طرح کی جسمانی مالی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ آپ نے فرمایا جب تم یہ کلمات پڑھ لو تو زمین آسمان میں موجود ہر نیک شخص تک سلام پہنچ جائے گا۔ پھر تم یہ پڑھو۔ میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر جو چاہو دعا مانگو انسان کو اختیار ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ السَّلَامُ عَلَى إِسْرَافِيلَ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا جَلَسْتُمْ فِي الصَّلَاةِ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمُوهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ مَا شَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کا بیان
حضرت علقمہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ کا ہاتھ پکڑ کر انھیں تشہد کے کلمات سکھائے تھے جو یہ ہیں۔ ہر طرح کی جسمانی مالی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں اے نبی آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو۔ اس حدیث کے راوی حضرت زہیر بیان کرتے ہیں میرا خیال ہے کہ حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں میں یہ گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اس راوی کو ان دو کلمات کے بارے میں بھی شک ہے جو یہ ہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تم ایسا کرو گے جب تم اسے پورا پڑھ لو گے تو تم نے اپنی نماز کو مکمل کرلیا اب اگر تم اٹھنا چاہو تو اٹھ جاؤ اور بیٹھنا چاہو تو بیٹھے رہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ حُرٍّ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ قَالَ أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخَذَ بِيَدِهِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ قَالَ زُهَيْرٌ أُرَاهُ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَيْضًا شَكَّ فِي هَاتَيْنِ الْكَلِمَتَيْنِ إِذَا فَعَلْتَ هَذَا أَوْ قَضَيْتَ فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجنا۔
ابن ابی لیلی بیان کرتے ہیں، حضرت کعب بن عجرہ مجھ سے ملے اور فرمایا میں تمہیں ایک تحفہ دوں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے عرض کی کہ آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہم سیکھ چکے ہیں آپ پر درود کیسے بھیجا جائے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم یوں پڑھو۔ اے اللہ تو حضرت محمد اور آل محمد پر درود نازل کر جیسے تو نے حضرت ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا بیشک تو لائق حمد و بزرگی کا مالک ہے اور حضرت محمد اور آل محمد پر برکتیں نازل کر جیسے تو نے حضرت ابراہیم کی آل پر برکت نازل کی ہے بیشک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى يَقُولُ لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا قَدْ عَلِمْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ فَكَيْفَ نُصَلِّي قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجنا۔
حضرت محمد بن عبداللہ بن زید انصاری یہ وہی صحابی ہیں جنہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں خواب میں اذان دینے کا طریقہ سکھایا گیا۔ حضرت ابن مسعود (رض) انصاری نے انھیں بتایا کہ نبی اکرم سعد بن عبادہ کی محفل میں ہمارے ساتھ تھے کہ حضرت بشر بن سعد نے آپ سے دریافت کیا کہ اللہ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے یا رسول اللہ ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں۔ راوی کہتے ہیں نبی اکرم خاموش ہوگئے یہاں تک کہ ہم نے خواہش کہ کاش بشیر نے آپ نے سوال نہ کیا ہوتا پھر آپ نے فرمایا تم یوں پڑھو۔ اے اللہ تو حضرت محمد اور آل محمد پر درود نازل کر جیسے تو نے حضرت ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا بیشک تو لائق حمد و بزرگی کا مالک ہے اور حضرت محمد اور آل محمد پر برکتیں نازل کر جیسے تو نے حضرت ابراہیم کی آل پر برکت نازل کی ہے بیشک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔ نبی کریم نے ارشاد فرمایا سلام کا طریقہ تم جانتے ہو۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ الَّذِي كَانَ أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ مَعَنَا فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ أَبُو النُّعْمَانِ بْنُ بَشِيرٍ أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد دعا مانگنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص تشہد پڑھ لے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کی آزمائش اور دجال کے شر سے پناہ مانگے۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنْ التَّشَهُّدِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَشَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام پھیرنا۔
حضرت عامر بن سعد اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص کا یہ بیان نقل کرتے ہیں) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائیں طرف سلام پھیرتے تھے کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آجاتی تھی پھر آپ بائیں طرف سلام پھیرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آتی تھی۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام پھیرنا۔
ابومعمر بیان کرتے ہیں میں نے مکہ میں ایک صاحب کے پیچھے نماز ادا کی انھوں نے دو طرف سلام پھیرا میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت عبداللہ سے کیا تو انھوں نے دریافت کیا کہ اسے اس بات کا کہاں سے پتا چلا کہ حکم بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا ہی کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْحَكَمِ وَمَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَجُلٍ بِمَكَّةَ فَسَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ أَنَّى عَلِقَهَا وَقَالَ الْحَكَمُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام پھیرنے کے بعد کیا پڑھا جائے۔
سیدہ عائشہ (رض) صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھنے کے بعد صرف اتنی دیر بیٹھتے تھے جتنی دیر میں یہ دعا پڑھتے تھے۔ اے اللہ تو سلام ہے اور تجھ سے ہی سلامتی حاصل ہوسکتی ہے تو برکت والا ہے اے جلال اور اکرام والی ذات۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَعْدَ الصَّلَاةِ إِلَّا قَدْرَ مَا يَقُولُ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام پھیرنے کے بعد کیا پڑھا جائے۔
حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز سے سلام پھیرتے تو آپ تین مرتبہ استغفار پڑھتے تھے پھر یہ دعا مانگتے تھے۔ اے اللہ تو سلام ہے اور تجھ سے ہی سلامتی حاصل ہوسکتی ہے تو برکت والا ہے اے جلال اور اکرام والی ذات۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلام پھیرنے کے بعد کیا پڑھا جائے۔
وراد جو حضرت مغیرہ بن شعبہ کے سیکرٹری تھے وہ بیان کرتے ہیں، حضرت مغیرہ نے حضرت معاویہ کے نام خط میں انھیں یہ بات املاء کروائی تھی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے کوئی اس کا شریک نہیں ہے اس کی بادشاہی ہے اور ہر طرح کی حمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ جسے تو عطا کردے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے روک دے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں ہے تیرے مقابلے میں کسی کی کوشش کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ أَمْلَى عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فِي كِتَابٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز پڑھنے کے بعد کون سی جانب اٹھا جائے۔
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کوئی بھی شخص اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ بنائے یعنی وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ نماز پڑھنے کے بعد دائیں جانب سے اٹھے کیونکہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بائیں طرف سے اٹھتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز پڑھنے کے بعد کون سی جانب اٹھا جائے۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دائیں طرف سے اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ السُّدِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز پڑھنے کے بعد کون سی جانب اٹھا جائے۔
حضرت انس (رض) بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائیں طرف سے اٹھا کرتے تھے یعنی نماز پڑھنے کے بعد۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ السُّدِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক: