সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯২ টি
হাদীস নং: ১২৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کا طریقہ کیا ہے
عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر اور عصر کی ابتدائی دو رکعت میں سورت فاتحہ اور اس کے ہمراہ دو سورتیں پڑھا کرتے تھے اور بعض اوقات آپ ایک آیت بلند آواز سے بھی پڑھتے تھے اور آپ پہلی رکعت لمبی ادا کیا کرتے تھے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِسُورَتَيْنِ مَعَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کا طریقہ کیا ہے
عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی ابتدائی دو رکعت میں سورت فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے جن میں سے ایک آیت بلند آواز میں پڑھتے تھے آپ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلی رکعت کو دوسری رکعت سے لمبی ادا کرتے تھے عصر کی اور فجر کی نماز بھی آپ اسی طرح سے ادا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَبِسُورَتَيْنِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَكَانَ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مَا لَا يُطِيلُ فِي الثَّانِيَةِ وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ وَهَكَذَا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز میں قرأت کی مقدار
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں سیدہ ام الفضل فرماتی ہیں انھوں نے مغرب کی نماز میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سورت مرسلات کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلَاتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز میں قرأت کی مقدار
محمد بن زبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مغرب کی نماز میں سورت طور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشاء کی نماز میں قرأت کی مقدار
حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں حضرت معاذ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کے بعد اپنے محلے میں آجاتے تھے اور وہاں کے لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے ایک رات وہ آئے اور عشاء کی نماز پڑھانا شروع کی۔ انھوں نے سورت بقرہ کی تلاوت شروع کردی۔ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اور تنہا نماز پڑھ کر چلا گیا بعد میں پتہ چلا کہ حضرت معاذ کو اس بات سے افسوس ہوا ہے اس شخص نے اس بات کی شکایت کی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی تو انھوں نے حضرت معاذ کو فرمایا کہ (تم) فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو۔ فتنے میں مبتلا کرنے والے ہو (راوی کو شک ہے اس حدیث میں فاتن کی بجائے فتان کے الفاظ ہیں) پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو وسط مفصل سے تعلق رکھنے والی کوئی سی دو سورتیں تلاوت کرنے کی ہدایت کی تھی۔
امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں کہ ہم اسی کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔
امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں کہ ہم اسی کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُعَاذًا كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ فَيُصَلِّي بِهِمْ فَجَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى الْعَتَمَةَ وَقَرَأَ الْبَقَرَةَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّى ثُمَّ ذَهَبَ فَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا يَنَالُ مِنْهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذٍ فَاتِنًا فَاتِنًا فَاتِنًا أَوْ فَتَّانًا فَتَّانًا فَتَّانًا ثُمَّ أَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد نَأْخُذُ بِهَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں قرأت کی مقدار
زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں میں نے اپنے چچا سے یہ بیان سنا ہے انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کی تھی آپ نے فجر کی نماز میں دونوں میں سے کسی ایک رکعت میں یہ آیت تلاوت کی تھی۔ والنخل باسقات۔
شعبہ کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے دوبارہ یہ سوال کیا تو انھوں نے بتایا کہ میں نے اپنے چچا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے (کہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی) سورت ق کی تلاوت سنی تھی۔
شعبہ کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے دوبارہ یہ سوال کیا تو انھوں نے بتایا کہ میں نے اپنے چچا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے (کہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی) سورت ق کی تلاوت سنی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَمِّي يَقُولُ إِنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ يَقْرَأُ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ مِنْ الصُّبْحِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ قَالَ شُعْبَةُ وَسَأَلْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى قَالَ سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ بْ ق
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں قرأت کی مقدار
قطبہ بن مالک بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فجر کی نماز میں پہلی رکعت میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ والنخل باسقات لھا طلع نضید
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں قرأت کی مقدار
حضرت عمرو بن حریث بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فجر کی نماز میں سورت تکویر کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی واللیل اذا عسعس تو میں نے دل میں سوچا اس کا مطلب کیا ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ جَعَلْتُ أَقُولُ فِي نَفْسِي مَا اللَّيْلُ إِذَا عَسْعَسَ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ الْوَلِيدِ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ بِنَحْوِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی نماز میں قرأت کی مقدار
حضرت سیار بن سلامہ بیان کرتے ہیں میں اپنے والد کے ہمراہ حضرت ابوبرزہ اسلمی کے پاس گیا وہ ایک بالا خانے میں مقیم تھے میرے والد نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کی نماز جسے تم لوگ ظہر کی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا جب آپ عصر کی نماز ادا کرلیتے تو ہم میں سے ایک شخص مدینہ منورہ کے دور دراز گوشوں میں سے ایک میں موجود اپنے گھر چلا جاتا اور دھوپ ابھی باقی ہوتی تھی۔ راوی کہتے ہیں مغرب کی نماز کے بارے میں جو بات انھوں نے کہی تھی وہ میں بھول گیا ہوں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ عشاء کی نماز جسے تم عتمہ کہتے ہو تاخیر سے ادا کرنا پسند کرتے تھے اور جب آپ فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو آدمی اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص کو پہچان لیتا تھا آپ اس نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک تلاوت کر تھے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ وَهُوَ عَلَى عِلْوٍ مِنْ قَصَبٍ فَسَأَلَهُ أَبِي عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَ الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتْ الشَّمْسُ وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى أَهْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ قَالَ وَنَسِيتُ مَا ذَكَرَ فِي الْمَغْرِبِ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الَّتِي تَدْعُونَ الْعَتَمَةَ وَكَانَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالرَّجُلُ يَعْرِفُ جَلِيسَهُ وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مِنْ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے دوران آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا مکروہ ہے
حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لائے کچھ لوگ نماز کے دوران آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھ رہے تھے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یا تو یہ لوگ (اس حرکت سے) باز آجائینگے یا ان کی بصارت واپس نہیں آئے گی۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ رَفَعُوا أَبْصَارَهُمْ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْكُمْ أَبْصَارُكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے دوران آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا مکروہ ہے
حضرت انس (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں لوگ نماز کے دوران آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر کیوں دیکھتے ہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو بہت شدت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ یا تو لوگ اس حرکت سے باز آجائیں گے یا اللہ تعالیٰ ان کی بینائی واپس لے گا۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَتَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَيَخْطَفَنَّ اللَّهُ أَبْصَارَكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع کرنے کا طریقہ
مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود کے صاحبزادے جب رکوع میں جاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے زانوں کے درمیان رکھ لیتے تھے ایک مرتبہ میں حضرت سعد کے پہلو میں نماز پڑھ رہا تھا تو میں نے بھی ایسا ہی کیا تو انھوں نے میرے ہاتھوں پر مارا اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا اے بیٹے اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھا کرو ایک بار پھر میں ان کے پہلو میں نماز پڑھ رہا تھا میں نے پھر ایسا ہی کیا تو انھوں نے نماز سے فارغ ہو کر کہا کہ پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے لیکن پھر ہمیں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا گیا۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ كَانَ بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ إِذَا رَكَعُوا جَعَلُوا أَيْدِيَهُمْ بَيْنَ أَفْخَاذِهِمْ فَصَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ سَعْدٍ فَصَنَعْتُهُ فَضَرَبَ يَدِي فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا بُنَيَّ اضْرِبْ بِيَدَيْكَ رُكْبَتَيْكَ ثُمَّ فَعَلْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ فَصَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَضَرَبَ يَدِي فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالْأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ مُصْعَبٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع کرنے کا طریقہ
حضرت ابومسعود انصاری بیان کرتے ہیں کیا میں تم لوگوں کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے کے مطابق نماز پڑھ کر دکھاؤں (راوی کہتے ہیں) پھر انھوں نے تکبیر کہی رکوع میں چلے گئے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھا یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک حصہ اپنی جگہ پر آگیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ قَالَ وَكَانَ أَوْثَقَ عِنْدِي مِنْ نَفْسِي قَالَ قَالَ لَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَبَّرَ وَرَكَعَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں کیا پڑھا جائے
حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی " اپنے عظیم پروردگار کے اسم کی تسبیح پڑھو۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہدایت کی یہ تم رکوع میں پڑھا کرو۔ جب یہ آیت نازل ہوئی اپنے اعلی پروردگار کے اسم کی تسبیح کرو۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہدایت کی ہم اسے سجدے میں پڑھا کریں۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ فَلَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَالَ اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں کیا پڑھا جائے
حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑھا اور سجدے میں سبحان ربی الاعلی پڑھا۔ نماز میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحمت کے مضمون والی کوئی آیت پڑھتے تو ٹھہر جاتے اور رحمت کا سوال کرتے اور جب عذاب والی آیت پڑھتے تو اس سے پناہ مانگتے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ عَذَابٍ إِلَّا تَعَوَّذَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع میں (کہنیوں کو پہلو سے) الگ رکھنا۔
حضرت عباس بن سہل بیان کرتے ہیں حضرت محمد بن مسلمہ حضرت ابواسید اور ابوحمید اور حضرت سہل بن سعد ایک جگہ اکٹھے ہوئے ان لوگوں نے حضرت محمد کے نماز کے طریقے کا ذکر چھیڑ دیا تو حضرت حمید نے کہا میں آپ سب کے مقابلے میں حضرت محمد کے نماز کے طریقے سے بہتر طور پر واقف ہوں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر تکبیر کہتے تھے پھر رکوع میں جاتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے تھے یوں جیسے آپ نے انھیں پکڑا ہوا ہو آپ اپنے دونوں بازوؤں کو پہلووں سے الگ رکھتے تھے سر کو جھکاتے نہیں تھے اور نہ ہی زیادہ اٹھاتے تھے۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ قَالَ اجْتَمَعَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَأَبُو حُمَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ ثُمَّ رَكَعَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا وَوَتَرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ وَلَمْ يُصَوِّبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کیا پڑھا جائے۔
سالم اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر (رض) عنہیہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کا آغاز کرتے تو دونوں ہاتھ کندھوں تک لے کر جاتے تھے پھر جب رکوع میں جاتے تو پھر بھی ایسا ہی کرتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے تھے اور یہ پڑھتے تھے۔ سمع اللہ لمن حمدہ ربنا و لک الحمد۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔
حضرت ابن عمر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے یہی نقل کرتے ہیں البتہ اس میں ربنا لک الحمد کے الفاظ میں یعنی اللھم منقول نہیں ہے۔
حضرت ابن عمر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے یہی نقل کرتے ہیں البتہ اس میں ربنا لک الحمد کے الفاظ میں یعنی اللھم منقول نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ فَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کیا پڑھا جائے۔
حضرت انس (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد پڑھو۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَإِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کیا پڑھا جائے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ تم اس کی پیروی کرو جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ سجدے میں جائے تو تم بھی سجدے میں جاؤ جب وہ سمع اللہ کہتے تو تم ربنا لک الحمد کہو جب وہ کھڑا ہوجائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کیا پڑھا جائے۔
حضرت ابوموسی اشعری بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ہمیں نماز کا طریقہ سکھایا تھا اور ہمیں اس کے آداب کے بارے میں بتایا تھا آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا جب نماز قائم کی جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص تمہاری امامت کروائے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ غیر المغضوب علیھم و لا الضالین کہے تو تم آمین کہو اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا جب وہ تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں جائے تو تم بھی تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں جاؤ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا وہ تم سے پہلے رکوع سے اٹھے گا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی ارشاد فرمایا یہ اسی طرح ہوگا کہ جب امام سمع اللہ لمن حمدہ پڑھے گا تو تم اللھم ربنا و لک الحمد پڑھو گے۔ راوی کو شک ہے کہ الفاظ یہ ہیں ربنا و لک الحمد۔ کیونکہ اللہ نے اپنے نبی کی زبانی یہ بات بیان کی ہے جس نے اس کی حمد بیان کی اللہ نے اسے سن لیا۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا وَسَنَّ لَنَا سُنَّتَنَا قَالَ أَحْسَبُهُ قَالَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمْ اللَّهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَوْ قَالَ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ
তাহকীক: