সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯২ টি
হাদীস নং: ১৪৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نوافل کا بیان۔
زرارہ بن اوفی بیان کرتے ہیں سعد بن ہشام نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی اور اپنی جائیداد فروخت کرنے کے لیے مدینہ منورہ آئے تاکہ اسے فروخت کر کے ہتھیار خرید سکیں ان کی ملاقات چند انصاری حضرات سے ہوئی تو ان حضرات نے بتایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں چھ حضرات نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اس بات سے منع کردیا تھا اور دریافت کیا تھا کہ کیا تم لوگوں کے لیے میرا اسوہ کافی نہیں ہے۔ زرارہ بیان کرتے ہیں یعنی سعد بن ہشام بصرہ آگئے اور انھوں نے ہمیں بتایا کہ ان کی ملاقات حضرت ابن عباس (رض) سے ہوئی اور انھوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے وتر کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر کی نماز کے بارے میں جسے سب سے زیادہ علم ہے میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں میں نے جواب دیا ہاں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے بتایا کہ ام المومنین حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہو۔ تم ان کی خدمت میں جاؤ ان سے یہ سوال کرنا اور پھر وہ جو جواب دیں واپس آ کر مجھے بھی بتا دینا۔
سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا آپ میرے ساتھ ام المومنین کی خدمت میں چلیں حکیم نے جواب دیا میں ان کی خدمت میں نہیں جاؤں گا کیونکہ میں نے انھیں ان دونوں گروہوں (یعنی حضرت علی کے موافقین اور مخالفین) کے معاملے میں دخل دینے سے منع کیا تھا تو انھوں نے میری بات نہیں مانی سعد کہتے ہیں میں بولا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ چلیں پھر ہم دونوں چل پڑے۔ سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر ہم نے سلام کیا انھوں نے حکیم کی آواز کو پہچان لیا اور دریافت کیا یہ کون ہے ؟ میں نے جواب دیا میں سعد بن ہشام ہوں انھوں نے دریافت کیا کون ہشام۔ میں نے جواب دیا ہشام بن عامر انھوں نے جواب دیا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ میں نے جواب دیا جی ہاں سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا وہی نبی اکرم کا اخلاق۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے یہ ارادہ کرلیا اب میں اٹھ جاتا ہوں اور مرتے دم تک کبھی کسی سے کوئی سوال نہیں کروں گا۔ لیکن پھر مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نوافل کا خیال آگیا تو میں نے سوال کیا کیا آپ ہمیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نوافل کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا۔ کیا تم نے سورت مزمل نہیں پڑھی میں نے جواب دیا جی ہاں پڑھی ہے حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اس سورت کے آغاز میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے رات کے نوافل کا حکم نازل ہوا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب نوافل ادا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں سوج گئے۔ چھ ماہ تک اس سورت کا آخری حصہ نازل نہیں ہوا پھر وہ حصہ نازل ہو تو رات کے نوافل کو نفل قرار دیا گیا۔ حالانکہ یہ پہلے فرض تھے۔ سعد بن ہشام نے کہا میں نے ارادہ کیا اب میں اٹھ جاتاہوں اور مرتے دم تک سوال نہیں کروں گا۔ لیکن مجھے وتر کا خیال آگیا تو میں نے عرض کیا آپ ہمیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کی نماز کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سونے لگتے تھے تو اپنی مسواک میرے پاس رکھ دیتے تھے پھر اللہ تعالیٰ کسی وقت انھیں بیدار کردیتا تھا تو آپ ٩ رکعات ادا کرتے تھے جن میں سے آپ ٨ رکعات کے بعد بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے۔ اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے۔ پھر نویں رکعات پڑھنے کے بعد بیٹھتے اور اللہ کی حمد بیان کرتے اور اپنے پروردگار سے دعا کرتے اور پھر بلند آواز سے سلام پھیر دیتے پھر آپ بیٹھ کردو رکعت نماز ادا کرتے یہ گیارہ رکعات ہوتی تھیں۔
پھر حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اے بیٹے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر زیادہ ہوگئی تو آپ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ ٧ رکعت ادا کیا کرتے تھے جن میں سے آپ ٦ رکعت نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھ جاتے تھے اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے رب سے دعا مانگتے تھے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے تھے اور ساتویں رکعت ادا کرنے کے بعد پھر بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیر دیتے تھے پھر آپ بیٹھ کردو رکعات ادا کرتے تھے یہ نو رکعات ہوتی تھیں۔ حضرت عائشہ (رض) اے بیٹے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نیند کا غلبہ ہوتا یا آپ بیمار ہوتے تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کوئی معمول اختیار کرتے تھے تو آپ کو یہ پسند تھا آپ اسے باقاعدگی کے ساتھ سر انجام دیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی بھی رات بھر نوافل ادا نہیں کئے۔ اور نہ ہی آپ نے کبھی ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہے اور رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینے میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور انھیں یہ حدیث سنائی تو انھوں نے فرمایا سیدہ عائشہ (رض) نے ٹھیک بیان کیا ہے اگر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوسکتا تو ان سے براہ راست یہ حدیث سن لیتا سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے کہا اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ آپ ان کے ہاں نہیں آتے جاتے ہیں تو میں آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔
سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا آپ میرے ساتھ ام المومنین کی خدمت میں چلیں حکیم نے جواب دیا میں ان کی خدمت میں نہیں جاؤں گا کیونکہ میں نے انھیں ان دونوں گروہوں (یعنی حضرت علی کے موافقین اور مخالفین) کے معاملے میں دخل دینے سے منع کیا تھا تو انھوں نے میری بات نہیں مانی سعد کہتے ہیں میں بولا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ چلیں پھر ہم دونوں چل پڑے۔ سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر ہم نے سلام کیا انھوں نے حکیم کی آواز کو پہچان لیا اور دریافت کیا یہ کون ہے ؟ میں نے جواب دیا میں سعد بن ہشام ہوں انھوں نے دریافت کیا کون ہشام۔ میں نے جواب دیا ہشام بن عامر انھوں نے جواب دیا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ میں نے جواب دیا جی ہاں سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا وہی نبی اکرم کا اخلاق۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے یہ ارادہ کرلیا اب میں اٹھ جاتا ہوں اور مرتے دم تک کبھی کسی سے کوئی سوال نہیں کروں گا۔ لیکن پھر مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نوافل کا خیال آگیا تو میں نے سوال کیا کیا آپ ہمیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نوافل کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا۔ کیا تم نے سورت مزمل نہیں پڑھی میں نے جواب دیا جی ہاں پڑھی ہے حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اس سورت کے آغاز میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے رات کے نوافل کا حکم نازل ہوا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب نوافل ادا کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں سوج گئے۔ چھ ماہ تک اس سورت کا آخری حصہ نازل نہیں ہوا پھر وہ حصہ نازل ہو تو رات کے نوافل کو نفل قرار دیا گیا۔ حالانکہ یہ پہلے فرض تھے۔ سعد بن ہشام نے کہا میں نے ارادہ کیا اب میں اٹھ جاتاہوں اور مرتے دم تک سوال نہیں کروں گا۔ لیکن مجھے وتر کا خیال آگیا تو میں نے عرض کیا آپ ہمیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وتر کی نماز کے بارے میں بتائیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سونے لگتے تھے تو اپنی مسواک میرے پاس رکھ دیتے تھے پھر اللہ تعالیٰ کسی وقت انھیں بیدار کردیتا تھا تو آپ ٩ رکعات ادا کرتے تھے جن میں سے آپ ٨ رکعات کے بعد بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے۔ اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے۔ پھر نویں رکعات پڑھنے کے بعد بیٹھتے اور اللہ کی حمد بیان کرتے اور اپنے پروردگار سے دعا کرتے اور پھر بلند آواز سے سلام پھیر دیتے پھر آپ بیٹھ کردو رکعت نماز ادا کرتے یہ گیارہ رکعات ہوتی تھیں۔
پھر حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اے بیٹے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر زیادہ ہوگئی تو آپ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ ٧ رکعت ادا کیا کرتے تھے جن میں سے آپ ٦ رکعت نماز ادا کرنے کے بعد بیٹھ جاتے تھے اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے رب سے دعا مانگتے تھے پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے تھے اور ساتویں رکعت ادا کرنے کے بعد پھر بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرتے تھے اپنے پروردگار سے دعا مانگتے پھر سلام پھیر دیتے تھے پھر آپ بیٹھ کردو رکعات ادا کرتے تھے یہ نو رکعات ہوتی تھیں۔ حضرت عائشہ (رض) اے بیٹے جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نیند کا غلبہ ہوتا یا آپ بیمار ہوتے تو آپ دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کوئی معمول اختیار کرتے تھے تو آپ کو یہ پسند تھا آپ اسے باقاعدگی کے ساتھ سر انجام دیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی بھی رات بھر نوافل ادا نہیں کئے۔ اور نہ ہی آپ نے کبھی ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہے اور رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینے میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور انھیں یہ حدیث سنائی تو انھوں نے فرمایا سیدہ عائشہ (رض) نے ٹھیک بیان کیا ہے اگر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوسکتا تو ان سے براہ راست یہ حدیث سن لیتا سعد بن ہشام کہتے ہیں میں نے کہا اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ آپ ان کے ہاں نہیں آتے جاتے ہیں تو میں آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَأَتَى الْمَدِينَةَ لِبَيْعِ عَقَارِهِ فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا أَرَادَ ذَلِكَ سِتَّةٌ مِنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُمْ وَقَالَ أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ ثُمَّ إِنَّهُ قَدِمَ الْبَصْرَةَ فَحَدَّثَنَا أَنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ الْوِتْرِ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِأَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَحَدِّثْنِي بِمَا تُحَدِّثُكَ فَأَتَيْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ فَقُلْتُ لَهُ انْطَلِقْ مَعِي إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ إِنِّي لَا آتِيهَا إِنِّي نَهَيْتُ عَنْ هَذِهِ الشِّيعَتَيْنِ فَأَبَتْ إِلَّا مُضِيًّا قُلْتُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَمَا انْطَلَقْتَ فَانْطَلَقْنَا فَسَلَّمْنَا فَعَرَفَتْ صَوْتَ حَكِيمٍ فَقَالَتْ مَنْ هَذَا قُلْتُ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْءُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ قُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّهُ خُلُقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ فَعَرَضَ لِي الْقِيَامُ فَقُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ فَإِنَّهَا كَانَتْ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ أُنْزِلَ أَوَّلُ السُّورَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ وَحُبِسَ آخِرُهَا فِي السَّمَاءِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ أُنْزِلَ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ أَنْ كَانَ فَرِيضَةً فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ فَعَرَضَ لِي الْوِتْرُ فَقُلْتُ أَخْبِرِينَا عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ وَضَعَ سِوَاكَهُ عِنْدِي فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ فَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي التَّاسِعَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي السَّابِعَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُو رَبَّهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ خُلُقًا أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ وَمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً حَتَّى يُصْبِحَ وَلَا قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ صَدَقَتْكَ أَمَا إِنِّي لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَشَافَهْتُهَا مُشَافَهَةً قَالَ فَقُلْتُ أَمَا إِنِّي لَوْ شَعَرْتُ أَنَّكَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی کون سی نماز افضل ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز وہ ہے جو نصف رات کے وقت ادا کی جائے۔
أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر انسان رات کے وظائف پڑھے بغیر سو جائے
حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر کوئی انسان رات کے وظائف یا ان کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے اور پھر انھیں اگلے دن فجر اور ظہر کے درمیان پڑھ لے تو انھیں اسی طرح نوٹ کیا جائے گا جیسے اس نے رات کے وقت پڑھے تھے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنْ اللَّيْلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا آسمان دنیا کی طرف نزول
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ روزانہ رات کے آخری نصف حصے میں یا رات کے آخری تہائی حصے میں اللہ آسمان دنیا کی طرف نزول یعنی توجہ کر کے ارشاد فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے تو میں اس کی دعا قبول کروں کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کروں کون ہے مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخش دوں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں صبح صادق تک رہتا ہے۔ راوی کو شک ہے اس وقت تک رہتا ہے جب آدمی فجر کی نماز پڑھ کر واپس آتا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ لِنِصْفِ اللَّيْلِ الْآخِرِ أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ فَيَقُولُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ أَوْ يَنْصَرِفَ الْقَارِئُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا آسمان دنیا کی طرف نزول
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہمارا پروردگار ہر رات کو جب رات کا ایک تہائی آخری حصہ باقی رہ جاتا ہے آسمان دنیا کی طرف خاص تو متوجہ ہو کر ارشاد فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے میں اس کی دعا قبول کروں گا کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے بخش دوں گا کون ہے جو مجھ سے کچھ مانگے میں اسے عطا کروں گا ایسا فجر تک ہوتا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ صَاحِبَا أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ حَتَّى الْفَجْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا آسمان دنیا کی طرف نزول
نافع بن زبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ہر رات میں آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرماتا ہے ہے کیا کوئی مانگنے والا ہے میں اسے عطا کروں گا کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں۔
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ اللَّهُ تَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا آسمان دنیا کی طرف نزول
حضرت رفاعہ بن عرابہ جہنی روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب رات کا نصف حصہ یا دوتہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر فرماتا ہے کہ میرے بندوں سے میرے علاوہ اور کوئی دریافت نہیں کرسکتا کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے عطا کروں کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے بخش دوں کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے میں اس کی دعا قبول کرلوں ؟ ایسا فجر تک ہوتا رہتا ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَضَى مِنْ اللَّيْلِ نِصْفُهُ أَوْ ثُلُثَاهُ هَبَطَ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَقُولُ لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي غَيْرِي مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رِفَاعَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا آسمان دنیا کی طرف نزول
حضرت علی (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب ایک تہائی رات ہوجاتی ہے یا نصف رات گزر جاتی ہے تو اس کے بعد حضرت علی (رض) نے اللہ کا نزول ذکر کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُخْتَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُ اللَّيْلِ فَذَكَرَ النُّزُولَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا آسمان دنیا کی طرف نزول
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا خیال نہ ہوتا تو میں انھیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز کو تہائی رات تک موخر کردیتا کیونکہ جب تہائی رات گزرجاتی ہے تو اللہ آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور صبح صادق ہونے تک اسی عالم میں رہتا ہے اور یہ فرماتا ہے کہ کیا کوئی مانگنے والا ہے جو اسے عطا کیا جائے کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اسے قبول کیا جائے کیا کوئی بیمار ہے جو شفا چاہتا ہو اسے شفا عطا کی جائے کیا کوئی گناہ گار ہے جو مغفرت طلب کرے اور اس کی مغفرت کردی جائے۔
عبیداللہ بن ابی رافع حضرت علی بن ابوطالب (رض) کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (امام دارمی فرماتے ہیں) یہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث کی مانند ہے۔
عبیداللہ بن ابی رافع حضرت علی بن ابوطالب (رض) کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (امام دارمی فرماتے ہیں) یہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث کی مانند ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَلَمْ يَزَلْ هُنَالِكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ يَقُولُ قَائِلٌ أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى أَلَا دَاعٍ يُجَابُ أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہجد کے وقت دعا مانگنا۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے وقت جب تہجد کی نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا مانگتے۔ اے اللہ ہر طرح کی حمد تیرے لیے ہے تو آسمانوں اور زمین میں موجود چیزوں کو نور عطا کرنے والا ہے ہر طرح کی حمد تیرے لیے ہے تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے ہر طرح کی حمد تیرے لیے تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا مالک ہے تو حق ہے تیرا فرمان حق ہے تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے جنت حق ہے جہنم حق ہے، دوبارہ زندہ ہونا حق ہے تمام نبی حضرت محمد حق ہیں اے اللہ میں تیرے لیے اسلام لاتا ہوں تجھ ہر ایمان رکھتا ہوں تجھ پر توکل رکھتا ہوں تیری طرف رجوع کرتا ہوں تیری مدد سے مقابلہ کرتا ہوں اور تیری طرف فیصلے کے لیے آتا ہوں تو میری مغفرت کردے ان سب کی جو گزر چکے ہیں اور جو بعد میں آئیں گے جو میں نے اعلانیہ کئے اور جو پوشیدہ طور پر کئے بیشک تو آگے لانے والا ہے اور تو ہی پیچھے لانے والا ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور تیری مدد کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ يَتَهَجَّدُ مِنْ اللَّيْلِ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالْبَعْثُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت بقرہ کی آخری دو آیات تلاوت کرنا۔
حضرت ابن مسعود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص رات کے وقت سورت بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے یہ دونوں آیات اس کے لیے کافی ہوں گی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ الْآخِرَتَيْنِ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوبصورت آواز میں قرآن پڑھنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ نے کسی بھی چیز کی اس طرح اجازت نہیں دی جیسے اس نے اپنی نبی کو اجازت دی ہے کہ وہ قرآن بلند آواز میں اچھی آواز میں پڑھے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ كَإِذْنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوبصورت آواز میں قرآن پڑھنا۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت موسیٰ اشعری کو قرأت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا اس شخص کو آل داؤد کی خوش آوازی میں سے حصہ دیا گیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ أُرَاهُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى وَهُوَ يَقْرَأُ فَقَالَ لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوبصورت آواز میں قرآن پڑھنا۔
حضرت سعد بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص اچھی آواز میں قرآن نہیں پڑھتا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ عَنْ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوبصورت آواز میں قرآن پڑھنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ نے کسی بھی چیز کے لیے اس طرح اجازت نہیں دی کہ جس طرح اس نے اپنے نبی کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ قرآن اچھی آواز میں پڑھے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس سے مراد استغناء ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يُرِيدُ بِهِ الِاسْتِغْنَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام القرآن (یعنی سورت فاتحہ) ہی سبع مثانی ہے۔
ابوسعید بن معلی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے اور دریافت کیا کہ کیا اللہ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا اے ایمان والو جب اللہ اور اس کا رسول تمہیں بلائے تو تم ان کو جواب دو پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس سورت کی تعلیم نہ دوں جو قرآن کی سب سے عظیم سورت ہے میں مسجد سے نکلنے سے پہلے ایسا کروں گا پھر جب آپ نے مسجد سے تشریف لے جانے کا ارادہ کیا تو فرمایا الحمدللہ رب العالمین۔ ہی وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو تمہیں عطا کیا گیا ہے۔
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَةً أَعْظَمَ سُورَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنے عرصے میں قرآن ختم کیا جائے۔
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص تین دن سے کم عرصے میں قرآن پورا پڑھ لیتا ہے اس نے اسے سمجھا نہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ شخص جسے یہ یاد نہ رہے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار رکعات ادا کی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے ہے اس کی ہوا خارج ہورہی ہوتی ہے اور وہ اتنی دور چلا جاتا ہے کہ اذان کی آواز نہیں آتی پھر جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو وہ واپس آجاتا ہے پھر جب اقامت کہی جاتی ہے تو پھر بھاگ جاتا ہے جب اقامت ختم ہوجاتی ہے تو وہ پھر آجاتا ہے اور آدمی کے ذہن میں خیالات پیدا کرنا شروع کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں چیز یاد کرو فلاں چیز یاد کرو آدمی اس کام میں لگ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو یہ بھی یاد نہیں رہتا اس نے کتنی نماز ادا کی تو جب کسی شخص کو یہ یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعت ادا کی ہیں یا چار رکعت ادا کی ہیں تو اسے چاہیے کہ جب قعدے کی حالت میں ہو تو وہ سجدہ کرلے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نُودِيَ بِالْأَذَانِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الْأَذَانَ فَإِذَا قُضِيَ الْأَذَانُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ أَدْبَرَ فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ فَيَقُولُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَعْنِي يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ شخص جسے یہ یاد نہ رہے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں یا چار رکعات ادا کی ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب کسی شخص کو یہ یاد نہ رہے کہ اس نے تین رکعت ادا کی ہیں یا چار تو اسے چاہیے کہ وہ ایک مزید رکعت ادا کرے پھر بعد میں دو سجدے کرلے کیونکہ اگر اس نے پانچ پڑھی ہوں گی تو اس میں سے دو نماز بن جائیں گی اور اگر اس نے چار پڑھی ہوئی ہوں گی تو یہ شیطان کے لیے رسوائی کا باعث ہوں گی امام دارمی فرماتے ہیں میں اس حدیث کے مطابق فتوی دیتا ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ أَثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً ثُمَّ يَسْجُدُ بَعْدَ ذَلِكَ سَجْدَتَيْنِ فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلَاتَهُ وَإِنْ كَانَ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد آخُذُ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں کسی اضافے کی وجہ سے سجدہ سہو کرنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب یا عشاء کی نماز میں کوئی نماز پڑھائی آپ نے دو رکعت ادا کرنے کے بعد سلام پھیر دیا پھر آپ مسجد میں چوڑائی کی سمت میں رکھی ہوئی لکڑی کے پاس کھڑے ہوئے آپ نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا۔ راوی بیان کرتے ہیں ہمارے استاد نے ایسا کر کے دکھایا پھر آپ نے دونوں ہاتھوں میں سے ایک دوسرے کی پشت پر رکھا اوپر والے ہاتھ کی انگلیوں کو نیچے والے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کردیا اور یوں کھڑے ہوئے جیسے آپ غصے کے عالم میں ہوں لوگوں میں سے جلد باز لوگ مسجد سے نکل گئے اور کہنے لگے کہ نماز مختصر ہوگئی ہے حاضرین میں سے حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر بھی موجود تھے ان حضرات نے کوئی بات نہیں کی حاضرین میں سے ایک صاحب جن کے ہاتھ لمبے تھے انھیں ہاتھوں والا کہا جاتا تھا انھوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ نماز میں بھول گئے ہیں یا وہ مختصر ہوگئی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز مختصر ہوگئی ہے پھر آپ نے دریافت کیا کہ ایسا ہی ہے لوگوں نے عرض کی جی ہاں راوی بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آئے آپ نے باقی نماز مکمل کی پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہہ طویل سجدہ کیا پھر اپنا سر مبارک اٹھایا اور تکبیر کہہ کر پہلے سجدے کی مانند سجدہ کیا پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور نماز ختم کی۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مُعْتَرِضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا قَالَ يَزِيدُ وَأَرَانَا ابْنُ عَوْنٍ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى ظَهْرِ الْأُخْرَى وَأَدْخَلَ أَصَابِعَهُ الْعُلْيَا فِي السُّفْلَى وَاضِعًا وَقَامَ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ قَالَ فَخَرَجَ السَّرَعَانُ مِنْ النَّاسِ وَجَعَلُوا يَقُولُونَ قُصِرَتْ الصَّلَاةُ قُصِرَتْ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلَمْ يَتَكَلَّمَا وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ طَوِيلُ الْيَدَيْنِ يُسَمَّى ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسِيتَ الصَّلَاةَ أَمْ قُصِرَتْ فَقَالَ مَا نَسِيتُ وَلَا قُصِرَتْ الصَّلَاةُ فَقَالَ أَوَ كَذَلِكَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ فَأَتَمَّ مَا بَقِيَ ثُمَّ سَلَّمَ وَكَبَّرَ فَسَجَدَ طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ مَا سَجَدَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَانْصَرَفَ
তাহকীক: