সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)

مسند الدارمي (سنن الدارمي)

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯২ টি

হাদীস নং: ১৪১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز کے مکروہ ہونے کے بارے میں روایات
عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر یا حضر میں کبھی بھی چاشت کی نماز ادا نہیں کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز کے مکروہ ہونے کے بارے میں روایات
عبدالرحمن بن ابوبکرہ بیان کرتے ہیں ان کے والد حضرت ابوبکرہ نے چند لوگوں کو چاشت کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا اور فرمایا یہ لوگ وہ نماز پڑھ رہے ہیں جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ادا نہیں کی اور آپ کے صحابہ نے بھی ادا نہیں کی۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَاهُ رَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ صَلَاةَ الضُّحَى فَقَالَ أَمَا إِنَّهُمْ لَيُصَلُّونَ صَلَاةً مَا صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَامَّةُ أَصْحَابِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اوابین کی نماز
حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اس وقت سورج طلوع ہوجانے کے بعد نماز ادا کررہے تھے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اوابین کی نماز کا وقت وہ ہے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتْ الْفِصَالُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دن اور رات کے نوافل دو دو کر کے پڑھے جائیں۔
حضرت ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا دن اور رات کے نوافل دو دو کر کے پڑھے جائیں۔ ایک اور روایت میں الفاظ کچھ مختلف ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَغُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى وَقَالَ أَحَدُهُمَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے نوافل۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رات کے نوافل کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا کہ انھیں دو دو کر کے پڑھاجائے۔ اور جب تمہیں صبح قریب ہونے کا اندازہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ کر انھیں طاق کرلو۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمْ الصُّبْحَ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ مَا قَدْ صَلَّى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے نوافل کی فضیلت
حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ کے استقبال کے لیے آئے اور بولے کہ اللہ کے رسول تشریف لائے ہیں اللہ کے رسول تشریف لائے ہیں حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ میں بھی نکلا جب میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ کسی جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ہے۔ میں نے سب سے پہلے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو سلام کو عام کرو۔ کھانا کھلاؤ رشتہ داری برقرار رکھو اور جب لوگ سو رہے ہوں اس وقت نوافل ادا کرو تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامَ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ فَقَالُوا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ فَلَمَّا رَأَيْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلُ مَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے کی فضیلت
احنف بن قیس بیان کرتے ہیں میں مسجد میں داخل ہوا وہاں ایک صاحب بکثرت رکوع و سجود کررہے تھے میں نے سوچا میں اس وقت تک مسجد سے باہر نہیں جاؤں گا جب تک اس بات کا جائزہ نہ لے لوں یہ صاحب طاق تعداد میں نماز ادا کرتے ہیں۔ یا جفت تعداد میں ادا کرتے ہیں ؟ جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو میں نے دریافت کیا اے اللہ کے بندے کیا آپ جانتے ہیں آپ نے طاق تعداد میں رکوع و سجود کئے ہیں یا جفت میں، انھوں نے جواب دیا مجھے پتہ نہیں چلا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے پھر انھوں نے جواب دیا میں نے اپنے خلیل حضرت ابوقاسم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا جو بندہ اللہ کی بارگاہ میں ایک سجدہ کرتا ہے اللہ اس کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور اس سجدے کے بدلے میں ایک گناہ معاف کردیتا ہے احنف بن قیس کہتے ہیں میں نے دریافت کیا اللہ آپ پر رحم کرے آپ کون ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا میں ابوذرغفاری (رض) ہوں۔ احنف بن قیس کہتے ہیں پھر مجھے اطمینان ہوگیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَإِذَا رَجُلٌ يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قُلْتُ لَا أَخْرُجُ حَتَّى أَنْظُرَ أَعَلَى شَفْعٍ يَدْرِي هَذَا يَنْصَرِفُ أَمْ عَلَى وِتْرٍ فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَعَلَى شَفْعٍ تَدْرِي انْصَرَفْتَ أَمْ عَلَى وِتْرٍ فَقَالَ إِنْ لَا أَدْرِي فَإِنَّ اللَّهَ يَدْرِي ثُمَّ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً قُلْتُ مَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ قَالَ أَنَا أَبُو ذَرٍّ قَالَ فَتَقَاصَرَتْ إِلَيَّ نَفْسِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کا بیان۔
شعثاء بیان کرتی ہیں میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ کو دو رکعت ادا کرتے ہوئے دیکھا بعد میں انھوں نے بتایا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاشت کے وقت دو رکعت ادا کی تھیں۔ جب غزوہ بدر کے موقع پر آپ کو فتح کی خوشخبری سنائی گئی یا شاید ابوجہل کے سر لانے کی خوش خبری سنائی گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَتْنَا شَعْثَاءُ قَالَتْ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ حِينَ بُشِّرَ بِالْفَتْحِ أَوْ بِرَأْسِ أَبِي جَهْلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کو سجدہ کرنا منع ہے۔
قیس بن سعد بیان کرتے ہیں میں حیرہ میں آیا میں نے وہاں کے لوگوں کو اپنے رئیس کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا پھر جب میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا تو عرض کی یا رسول اللہ ہم لوگ آپ کو سجدہ نہ کیا کریں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر میں کسی شخص کو یا کسی فرد کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو خواتین کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ نے ان خواتین پر ان کے شوہروں کے بہت سے حقوق مقرر کئے ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْأَزْرَقُ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانَ لَهُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْجُدُ لَكَ فَقَالَ لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْهِنَّ مِنْ حَقِّهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کو سجدہ کرنا منع ہے۔
ابن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک دیہاتی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ مجھے اجازت دیں میں آپ کو سجدہ کروں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر میں کسی شخص کو دوسرے کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْحِزَامِيُّ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ صَالِحِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فَلِأَسْجُدَ لَكَ قَالَ لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ تَسْجُدُ لِزَوْجِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت نجم میں سجدہ تلاوت
حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورت نجم کی تلاوت کی اور سجدہ تلاوت کیا تمام حاضرین نے بھی سجدہ کیا البتہ ایک شخص نے چند کنکریاں اٹھا کر اپنے ماتھے پر لگائیں اور بولا میرے لیے یہی کافی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ النَّجْمَ فَسَجَدَ فِيهَا وَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ إِلَّا سَجَدَ إِلَّا شَيْخٌ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت ص میں سجدہ تلاوت۔
حضرت ابوسعیدخدری (رض) بیان کرتے ہیں ایک دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے سورت ص کی تلاوت کی اور جب آپ آیت سجدہ تک پہنچے تو آپ منبر سے نیچے اترے اور آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ہمراہ ہم نے بھی سجدہ کیا پھر جب دوبارہ آپ نے اس سورت کو پڑھا اور آیت سجدہ تک پہنچے تو ہم سجدہ کرنے کے لیے تیار ہوئے جب آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا یہ تو ایک نبی کا توبہ کا واقعہ ہے لیکن میں دیکھ رہاہوں تم لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہو۔ آپ منبر سے نیچے اترے اور سجدہ کیا اور ہم نے بھی سجدہ کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَرَأَ ص فَلَمَّا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ وَقَرَأَهَا مَرَّةً أُخْرَى فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَيَسَّرْنَا لِلسُّجُودِ فَلَمَّا رَآنَا قَالَ إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَدْ اسْتَعْدَدْتُمْ لِلسُّجُودِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدْنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت ص میں سجدہ تلاوت۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں سورت ص میں سجدہ تلاوت ضروری نہیں ہے البتہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ فِي السُّجُودِ فِي ص لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت۔
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں میں نے ابوہریرہ (رض) کو سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ان سے کہا گیا آپ اس سورت میں سجدہ کر رہے ہیں جن میں سجدہ نہیں ہے تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے جواب دیا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَقِيلَ لَهُ تَسْجُدُ فِي سُورَةٍ مَا يُسْجَدُ فِيهَا فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت۔
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں میں نے ابوہریرہ (رض) کو سورت انشقاق میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو بولا اے حضرت ابوہریرہ (رض) میں آپ کو سورت انشقاق میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ (اس کی کیا وجہ ہے) ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے جواب دیا اگر میں نبی اکرم کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے نہ دیکھتا تو میں بھی سجدہ نہ کرتا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَرَاكَ تَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَقَالَ لَوْ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا لَمْ أَسْجُدْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت علق میں سجدہ تلاوت۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں ہم لوگوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ سورت انشقاق اور سورت علق میں سجدہ تلاوت کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آیات سجدہ سن کر سجدہ نہ کرنا۔
حضرت زید بن ثابت بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سورت نجم کی تلاوت کی لیکن آپ نے سجدہ نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَرَأْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نوافل کا بیان۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کی نماز سے لے کر فجر کی نماز تک کے درمیانی عرصہ میں ١١ رکعات ادا کرتے تھے جن میں سے ہر ایک دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر ادا کرتے تھے آپ ان نوافل کے دوران اتنا طویل سجدہ کرتے تھے کہ تم میں سے کوئی اس عرصہ کے درمیان پچاس آیات پڑھ سکتا تھا۔ پھر جب موذن فجر کی اذان دے کر فارغ ہوتا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو مختصر رکعات سنت ادا کرلیتے۔ پھر آپ لیٹ جاتے یہاں تک کہ موذن آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ اس کے ساتھ تشریف لے جاتے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ الْأَذَانِ الْأَوَّلِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَخْرُجَ مَعَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نوافل کا بیان۔
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رات کے نوافل کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ١٣ رکعات پڑھا کرتے تھے جن میں آٹھ رکعات ادا کرنے کے بعد وتر ایک رکعات پڑھ لیتے تھے پھر آپ دو رکعات بیٹھ کر ادا کرتے تھے پھر جب رکوع میں جانے لگتے تو کھڑے ہو کر رکوع میں جاتے پھر آپ فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعت سنت ادا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُوتِرُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
tahqiq

তাহকীক: