সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯২ টি
হাদীস নং: ১৩৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز کے بعد دو رکعت ادا کرنا
سیدہ عائشہ (رض) صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کے بعد کی دو رکعت کو کبھی ترک نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَطُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی نماز کے بعد دو رکعت ادا کرنا
حضرت کریب جو حضرت ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس حضرت عبدالرحمن بن ازہر اور حضرت مسوربن مخرمہ نے انھیں کریب کو حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں بھیجا اور یہ ہدایت کی ان کو ہم سب کی طرف سے سلام کہنا اور ان کے عصر کے بعد والی دو رکعت کے بارے میں سوال کرنا۔ اور یہ کہنا کہ ہمیں یہ پتہ چلا کہ آپ یہ دو رکعت ادا کرتی ہیں جب کہ ہم تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دو رکعت کو پڑھنے سے منع کیا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عمر کے ساتھ مل کر ان دو رکعت ادا کرنے والوں کو مارا پیٹا تھا۔ کریب بیان کرتے ہیں میں سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور جس سوال کے ہمراہ مجھے ان حضرات نے بھیجا تھا وہ انھیں بتایا سیدہ عائشہ (رض) نے ہدایت کی تم سیدہ ام سلمہ (رض) سے سوال کرو، میں واپس ان حضرات کے پاس آیا اور انھیں سیدہ عائشہ (رض) کے جواب کے بارے میں بتایا ان حضرات نے مجھے اسی سوال کے ہمراہ جو عائشہ (رض) کو بھیجا تھا سیدہ ام سلمہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ ام سلمہ نے جواب دیا میں نے بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان دو رکعت ادا کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے لیکن پھر ایک مرتبہ میں نے آپ کو دو رکعت ادا کرتے ہوئے دیکھا آپ نے یہ دو رکعت اس وقت ادا کی تھیں جب آپ عصر کی نماز پڑھ لینے کے بعد میرے ہاں تشریف لائے اس وقت انصار کے قبیلہ بنوحرام سے تعلق رکھنی والی چند خواتین میرے پاس موجود تھیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دو رکعت ادا کی۔ میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور یہ ہدایت کی تم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں کھڑی ہوجانا اور یہ کہنا ام سلمہ کہہ رہی ہیں یا رسول اللہ میں نے تو آپ کو ان دو رکعت کو ادا کرنے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ خود یہ رکعت ادا کررہے ہیں ؟ اگر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کریں تو تم پیچھے ہو کر کھڑی ہوجانا۔ ام سلمہ بیان کرتی ہیں اس لڑکی نے ایساہی کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا۔ وہ لڑکی پیچھے ہٹ گئی جب آپ نے نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا اے ابوامیہ کی صاحبزادی تم نے عصر کے بعد دو رکعت کے بارے میں دریافت کیا ہے میرے پاس عبدالقیس قبیلے کے چند لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے آئے تھے ان کی وجہ سے میں ظہر کے بعد والی دو رکعت ادا نہ کرسکا یہ وہی والی دو رکعت تھی۔ امام ابومحمد دارمی سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا میں حضرت عمر کے حوالے سے منقول نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث کے مطابق فتوی دیتاہوں کہ عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہوجانے تک کوئی نماز ادا نہیں کی جاسکتی اور فجر کے بعد سورج طلوع ہوجانے تک کوئی نماز ادا نہیں کی جاسکتی۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهِمَا قَالَ كُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي أُمُّ سَلَمَةَ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ أَسْمَعْكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ قَالَتْ فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا ابْنَةَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ سُئِلَ أَبُو مُحَمَّد عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ أَنَا أَقُولُ بِحَدِيثِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت نماز
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر سے پہلے دو رکعت اور ظہر کے بعد دو رکعت ادا کیا کرتے تھے۔ آپ مغرب کے بعد دو رکعت ادا کیا کرتے تھے اور عشاء کے بعد بھی دو رکعت ادا کیا کرتے تھے جمعہ کے بعد آپ دو رکعت اپنے گھر میں ادا کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت نماز
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو مسلمان بندہ روزانہ ١٢ نوافل ادا کرے گا جو فرض کے علاوہ ہوں گے اس کو جنت میں گھر ملے گا (راوی کو شک ہے یا یہ الفاظ ہیں) اس کے لیے جنت میں گھر بنادیا جائے گا۔ سیدہ ام حبیبہ بیان کرتی ہیں اس کے بعد میں باقاعدگی سے یہ رکعت ادا کرتی ہوں۔ اس حدیث کے راوی (عمرو بن نعمان نے بھی یہی بات بیان کی ہے کہ ہم باقاعدگی سے نوافل ادا کرتے ہیں)
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ الثَّقَفِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ الْفَرِيضَةِ إِلَّا لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ أَوْ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ مَا بَرِحْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ وَقَالَ عَمْرٌو مِثْلَهُ وَقَالَ النُّعْمَانُ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت نماز
سیدہ عائشہ (رض) صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر سے پہلے کی چار رکعت اور فجر سے پہلے کی دو رکعت کبھی ترک نہیں کی تھیں۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت ادا کرنا
حضرت عبداللہ بن مغفل روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے دونوں اذانوں (یعنی اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہوتی ہے دونوں اذانوں (یعنی اذان اور اقامت) کے درمیان جو شخص چاہے نماز پڑھ سکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت ادا کرنا
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں موذن مغرب کی نماز کے لیے اذان دے دیتا تھا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند اصحاب تیزی سے ستون کی طرف بڑھ جاتے تھے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تشریف لانے تک وہ حضرات وہی (نماز نفل ادا کرتے رہتے تھے) راوی کہتے ہیں یہ وقت بہت مختصر ہوتا تھا۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ كَانَ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُومُ لُبَابُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ قَالَ وَقَلَّ مَا كَانَ يَلْبَثُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی دو رکعات میں قرأت کرنا
سیدہ عائشہ (رض) صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی ان دو (سنتوں) میں مختصر قرأت کیا کرتے تھے سیدہ عائشہ (رض) نے یہ بھی بیان کیا آپ ان رکعت میں سورت الکافرون اور سورت اخلاص پڑھا کرتے تھے۔ (اس حدیث کے راوی) سعید بیان کرتے ہیں یہاں دو رکعت سے مراد فجر کی دو سنتیں ہیں۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْفِي مَا يَقْرَأُ فِيهِمَا وَذَكَرَتْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ سَعِيدٌ فِي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی دو رکعات میں قرأت کرنا
سیدہ حفصہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح صادق ہوجانے کے بعد دو رکعت (سنت) ادا کرتے تھے اس وقت میں آپ کے پاس نہیں جایا کرتی تھی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَعْدَ مَا يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَكَانَتْ سَاعَةً لَا أَدْخُلُ فِيهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی دو رکعات میں قرأت کرنا
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ سیدہ حفصہ بیان کرتی ہیں جب موذن فجر کی اذان دے لیتا اور صبح صادق ہوجاتی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جماعت کھڑی ہونے سے پہلے دو مختصر رکعت (سنت) ادا کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ أَذَانِ الصُّبْحِ وَبَدَا الصُّبْحُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلَاةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی دو رکعات میں قرأت کرنا
سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کی نماز کے بعد دو رکعت ادا کیا کرتے تھے۔ سیدہ حفصہ نے انھیں (حضرت ابن عمر (رض) کو بتایا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح ہوجانے کے بعد دو رکعت (سنت) ادا کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ وَأَخْبَرَتْهُ حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي إِذَا أَضَاءَ الصُّبْحُ رَكْعَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی دو سنتوں کے بعد بات چیت کرنا۔
سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز سے پہلے دو سنتیں ادا کرلیتے اس کے بعد اگر آپ کو ضرورت ہوتی تو مجھ سے کوئی بات کرلیتے ورنہ نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے جاتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ كَلَّمَنِي بِهَا وَإِلَّا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فجر کی دو سنتیں ادا کرنے کے بعد لیٹ جانا
سیدہ عائشہ (رض) صدیقہ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء اور فجر کے درمیان ١١ رکعت ادا کرتے تھے جن میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے پھر ایک رکعت ادا کر کے انھیں طاق کرلیتے تھے جب موذن (فجر کی) اذان دے لیتا تو آپ دو مختصر رکعات ادا کرلیتے۔ اور پھر لیٹ جاتے یہاں تک کہ آپ کی خدمت میں موذن آتا تو آپ اس کے ہمراہ تشریف لے جاتے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ الْأَذَانِ الْأَوَّلِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَخْرُجُ مَعَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو اس وقت صرف فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جب نماز کھڑی ہوجائے تو اس وقت صرف فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ وَرْقَاءَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو اس وقت صرف فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے
حضرت ابن بحینہ بیان کرتے ہیں نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دو رکعت ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ آپ کے اردگرد بیٹھ گئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی شخص سے فرمایا کیا تم نے فجر کی نماز میں چار رکعات ادا کی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ لَاثَ بِهِ النَّاسُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو اس وقت صرف فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو صرف فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ امام محمد دارمی فرماتے ہیں جب انسان گھر میں موجود ہو تو اس بات کی گنجائش ہے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد إِذَا كَانَ فِي بَيْتِهِ فَالْبَيْتُ أَهْوَنُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دن کے آغاز میں چار رکعات ادا کرنا۔
نعیم بن ہمار عطفانی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم دن کے آغاز میں میرے لیے چار رکعات ادا کر میں اس کے آخر تک تیرے لیے کافی ہوں گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ بُرْدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ابْنَ آدَمَ صَلِّ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں مجھے کسی نے یہ بتایا نہیں کہ اس نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چاشت کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے صرف سیدہ ام ہانی نے یہ بات بتائی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدہ ام ہانی کے ہاں غسل کیا پھر آٹھ رکعت ادا کی تھیں۔ ام ہانی بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے زیادہ مختصر نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ تاہم آپ نے رکوع و سجود مکمل ادا کئے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى يَقُولُ مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّهُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا ثُمَّ صَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ قَالَتْ وَلَمْ أَرَهُ صَلَّى صَلَاةً أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز
ابومرہ جو جناب عقیل بن ابوطالب کے آزاد کردہ غلام ہیں بیان کرتے ہیں انھوں نے ام ہانی بنت ابوطالب کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا کہ فتح مکہ کے دن میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا آپ کی بیٹی فاطمہ نے ایک کپڑے کے ذریعے پردہ تان رکھا تھا۔ ام ہانی بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ کو سلام کیا یہ چاشت کا وقت تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کون ہے ؟ میں نے جواب دیا ام ہانی ہوں۔ ام ہانی بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل سے فارغ ہوگئے تو آپ نے ایک کپڑا لپیٹ کر آٹھ رکعت ادا کیں جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں جائے حضرت علی (رض) ایک شخص کو قتل کرنا چاہتے ہیں جسے میں نے پناہ دی ہے وہ ہبیرہ کا بیٹا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ام ہانی جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ تُحَدِّثُ أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدَتْهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ بِنْتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ قَالَتْ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَذَلِكَ ضُحًى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِئٍ قَالَتْ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانَ بْنَ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میرے خلیل نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی انھیں میں مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا سونے سے پہلے وتر ادا کرنے کی، ہر مہینے تین روزے رکھنے کی اور چاشت کی دو رکعت ادا کرنے کی۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ الْوِتْرِ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَمِنْ الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ
তাহকীক: