সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
اجازت لینے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭৫ টি
হাদীস নং: ২৫৩৫
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہیجڑوں جیسی صورت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں جیسی صورت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت ہوتی ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان مردوں پر لعنت کی ہے جو ہیجڑوں جیسی شکل اختیار کرتے ہیں اور ان خواتین پر لعنت کی ہے جو مردوں جیسی وضع قطع اختیار کرتی ہیں آپ نے ارشاد فرمایا انھیں اپنے گھر سے نکال دو ۔ حضرت ابن عباس (رض) نے بتایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فلاں کو اس طریقے سے نکال دیا تھا اور حضرت عمر نے فلاں مرد اور فلاں عورت کو نکال دیا تھا۔ امام دارمی فرماتے ہیں یہ شک مجھے ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ قَالَ فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا أَوْ فُلَانَةً قَالَ عَبْد اللَّهِ فَأَشُكُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৬
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ران چھپائی جائے۔
زرعہ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وہ اصحاب صفہ میں شامل تھے ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف فرما تھے میری ران سے کپڑا ہٹ گیا آپ نے ارشاد فرمایا اسے ڈھانپ لو کیا تمہیں پتہ نہیں ہے ران قابل پردہ ہے۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ قَالَ جَلَسَ عِنْدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَخِذِي مُنْكَشِفَةٌ فَقَالَ خَمِّرْ عَلَيْكَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৭
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاتون کا حمام میں داخل ہونا منع ہے۔
سالم بن ابوجعد بیان کرتے ہیں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حمص سے تعلق رکھنے والی چند خواتین آئیں تاکہ آپ سے کچھ مسائل دریافت کریں حضرت عائشہ (رض) نے دریافت کیا شاید تم ہی وہ خواتین ہو جو حمام میں داخل ہوتی ہو انھوں نے جواب دیا جی ہاں۔ حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو عورت اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کہیں اور اپنے کپڑے اتارے گی اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو پردہ موجود ہے وہ اسے پھاڑ دے گی۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ يَسْتَفْتِينَهَا فَقَالَتْ لَعَلَّكُنَّ مِنْ النِّسْوَةِ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ قُلْنَ نَعَمْ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ عَائِشَةَ هَذَا الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی بھی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے۔
حضرت ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کوئی بھی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھ جائے۔ بلکہ کشادگی اور وسعت کے ساتھ بیٹھے۔
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ يَعْنِي أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَقْعُدُ فِيهِ وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৯
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر واپس اپنی جگہ پر آئے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حق دار ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھے اور واپس وہاں آجائے تو وہ اپنی اسی جگہ کا زیادہ حق دار ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ أَوْ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪০
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستے میں بیٹھنے کی ممانعت۔
حضرت براء بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے وہ لوگ انصاری تھے اور بیٹھے ہوئے تھے آپ نے ارشاد فرمایا اگر تم نے ایساہی کرنا ہے تو راستے کی رہنمائی کرو سلام کو عام کرو اور مظلوم کی مدد کرو۔ شعبہ بیان کرتے ہیں اس حدیث کے راوی ابواسحاق نے یہ حدیث ابوبراء سے سنی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنَاسٍ جُلُوسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاهْدُوا السَّبِيلَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ أَبُو إِسْحَقَ مِنْ الْبَرَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪১
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھ لینا۔
عباد بن تمیم اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ وہ مسجد میں چت لیٹے ہوئے تھے اور آپ نے اپنی ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھا ہوا تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪২
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو افراد اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر خاموشی میں سرگوشی نہ کریں۔
حضرت عبداللہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تم تین لوگ موجود ہو تو کوئی دو افراد اپنے تیسرے ساتھ کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ بات تیسرے کے لیے غم کا باعث ہوگی۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪৩
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجلس کا کفارہ۔
حضرت ابوبرزہ اسلمی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر مبارک کے آخری حصے میں جب آپ کسی محفل میں تشریف فرما ہوتے اور جب اٹھنے لگتے تو یہ دعا پڑھتے۔ تو پاک ہے اے اللہ اور ہم تیرے ہی لیے ہیں اور میں یہ گواہی دیتاہوں کہ تیرے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ نے آج وہ بات کہہ دی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کہی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس محفل میں جو کچھ بھی ہوا یہ اس کا کفارہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ لَمَّا كَانَ بِأَخَرَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ فَأَرَادَ أَنْ يَقُومَ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتَقُولُ الْآنَ كَلَامًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا خَلَا فَقَالَ هَذَا كَفَّارَةٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجَالِسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪৪
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کسی شخص کو چھینک آئے تو وہ کیا پڑھے۔
حضرت ابوایوب انصاری نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل رکتے ہیں چھینکنے والا شخص یہ کہے کہ ہر حال میں ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے اور جو شخص اس کو جواب دے وہ یہ کہے اللہ تم پر رحم کرے تو پہلا شخص اسے یہ کہے کہ اللہ تمہیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور تمہارے تمام کام سنوار دے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَخِيهِ عِيسَى عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَاطِسُ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَيَقُولُ الَّذِي يُشَمِّتُهُ يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ وَيَرُدُّ عَلَيْهِ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪৫
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص الحمدللہ نہ پڑھے تو اسے جواب نہ دیا جائے۔
حضرت انس بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود افراد کو چھینک آئی ان میں سے ایک کو آپ نے جواب دیا اور دوسرے کو جواب نہیں دیا آپ کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہ آپ نے ان صاحب کو جواب دیا اور دوسرے کو نہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور اس دوسرے نے اللہ کی حمد بیان نہیں کی تھی۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث کے راوی سلیمان سے مراد تیمی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَوْ سَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتْ الْآخَرَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْ الْآخَرَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ قَالَ عَبْد اللَّهِ سُلَيْمَانُ هُوَ التَّيْمِيُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪৬
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی مرتبہ چھینک آنے پر جواب دیا جائے۔
ایاس بن سلمہ بیان کرتے ہیں میرے والد نے مجھے بتایا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ نے فرمایا اللہ تم پر رحم کرے انھیں دوبارہ چھینک آئی تو آپ نے فرمایا ان صاحب کو زکام ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ هُوَ ابْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى فَقَالَ الرَّجُلُ مَزْكُومٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪৭
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصاویر کی ممانعت۔
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں ہمارے پاس ایک کپڑا تھا جس پر تصاویر بنی ہوئی تھیں میں نے اسے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لگادیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے آپ نے مجھے منع کیا (راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ناپسند کیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں میں نے اس کپڑے کے تکیے بنالیے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ لَنَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ فَجَعَلْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَنَهَانِي أَوْ قَالَتْ فَكَرِهَهُ قَالَتْ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪৮
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں موجود ہوں۔
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا موجود ہو یا تصویریں موجود ہوں یا کوئی جنبی شخص موجود ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ الْعُكْلِيُّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَلَكَ لَا يَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ وَلَا جُنُبٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪৯
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل خانہ پر خرچ کرنا۔
حضرت ابومسعود بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جب کوئی شخص ثواب کے حصول کی نیت سے اپنے اہل خانہ پر خرچ کرے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوگی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمُسْلِمُ إِذَا أَنَفْقَ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا فَهِيَ لَهُ صَدَقَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫০
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک جانور پر تین آدمیوں کا سوار ہونا۔
حضرت عبداللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس تشریف لائے تو آپ کا سامنا مجھ سے اور حضرت حسن سے ہوا راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں حضرت حسین سے ہوا (راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ حضرت عبداللہ جعفر نے حضرت حسن کا نام لیا تھا) تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے آگے اور حسن کو پیچھے بٹھالیا یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں آگئے اور ہم اسی سواری پر سوار تھے جس پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ مُوَرِّقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ تُلُقِّيَ بِي وَبِالْحَسَنِ أَوْ بِالْحُسَيْنِ قَالَ وَأُرَاهُ قَالَ الْحَسَنَ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْحَسَنَ وَرَاءَهُ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ عَلَى الدَّابَّةِ الَّتِي عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫১
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری کا مالک آگے بیٹھنے کا زیادہ حق دار ہے۔
حضرت عبداللہ بن یزید خطمی بیان کرتے ہیں وہ کوفہ کے امیر تھے ایک مرتبہ حضرت قیس بن سعد بن عبادہ ہمارے ہاں تشریف لائے موذن نے نماز کے لیے اذان دی ہم نے حضرت قیس سے کہا آپ اٹھیں اور ہمیں نماز پڑھائیں انھوں نے فرمایا میں ایسے لوگوں کو نماز نہیں پڑھاؤں گا جن کا میں امیر نہیں ہوں اور ایک صاحب بولے جن کا نام حضرت عبداللہ بن حنظلہ تھا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا آدمی اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا اور اپنے بچھونے پر درمیان میں بیٹھنے کا اور اپنی رہائش گاہ پر امامت کرنے کا زیادہ حق دار ہے تو حضرت قیس نے اپنے ایک غلام سے کہا اے فلاں تم اٹھو اور ان لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ وَمَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ قَالَ أَتَيْنَا قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فِي بَيْتِهِ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنِ لِلصَّلَاةِ وَقُلْنَا لِقَيْسٍ قُمْ فَصَلِّ لَنَا فَقَالَ لَمْ أَكُنْ لِأُصَلِّيَ بِقَوْمٍ لَسْتُ عَلَيْهِمْ بِأَمِيرٍ فَقَالَ رَجُلٌ لَيْسَ بِدُونِهِ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْظَلَةَ بْنِ الْغَسِيلِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ وَصَدْرِ فِرَاشِهِ وَأَنْ يَؤُمَّ فِي رَحْلِهِ قَالَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عِنْدَ ذَاكَ يَا فُلَانُ لِمَوْلًى لَهُ قُمْ فَصَلِّ لَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫২
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ جو روایت میں موجود ہے کہ اونٹ کی ہر کوہان پر شیطان موجود ہوتا ہے۔
محمد بن حمزہ بیان کرتے ہیں ان کے والد کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے میں نے اپنے والد کو یہ روایت کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہر اونٹ کی کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے تو جب تم اونٹ پر سوار ہو تو اللہ کا نام لو اور اپنے کاموں میں کوئی کوتاہی نہ کرو۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ قَالَ وَقَدْ صَحِبَ أَبُوهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذِرْوَةِ كُلِّ بَعِيرٍ شَيْطَانٌ فَإِذَا رَكِبْتُمُوهَا فَسَمُّوا اللَّهَ وَلَا تُقَصِّرُوا عَنْ حَاجَاتِكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৩
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کو کرسی کے طور پر استعمال کرنے کی ممانعت۔
سہل بن معاذ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام میں شامل تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ان جانوروں پر صحیح طرح سواری کرو انھیں کرسی نہ بناؤ۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ تاہم اس میں کچھ اختلاف ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ تاہم اس میں کچھ اختلاف ہے۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ارْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ اللَّيْثِ إِلَّا أَنَّهُ يُخَالِفُ شَبَابَةَ فِي شَيْءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৪
اجازت لینے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو آدمی کو سونے کھانے اور پینے سے روک دیتا ہے جب کسی شخص کا کام ختم ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وہ جلدی واپس گھر کو چلا جائے۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنْ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ الرَّجْعَةَ إِلَى أَهْلِهِ
তাহকীক: