আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৮৫৭
سیر کا بیان
جس پر جہاد فرض نہیں اس کا جہاد پر جانا
(١٧٨٥١) حضرت نجدہ نے ابن عباس (رض) کو لکھا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کے ساتھ مل کر لڑائی کی ہے ؟ اور کیا ان کو حصہ دیا ہے ؟ ابن عباس (رض) نے جواب دیا : عورتیں آپ کے لشکر کے ساتھ ہوتی تھیں اور وہ زخمیوں کا علاج معالجہ کرتی تھیں، لیکن ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ نہیں ہوتا تھا جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو عطیۃً کچھ دے دیتے تھے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : درست بات یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لڑائی میں بچے بھی ہوتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو غنیمت سے عطیۃً دیتے تھے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : درست بات یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لڑائی میں بچے بھی ہوتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو غنیمت سے عطیۃً دیتے تھے۔
(١٧٨٥١) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ : أَنَّ نَجْدَۃَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِالنِّسَائِ وَہَلْ کَانَ یَضْرِبُ لَہُنَّ بِسَہْمٍ ؟ فَقَالَ : قَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِالنِّسَائِ فَیُدَاوِینَ الْجَرْحَی وَلَمْ یَکُنْ یَضْرِبْ لَہُنَّ بِسَہْمٍ وَلَکِنْ یُحْذَیْنَ مِنَ الْغَنِیمَۃِ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَمَحْفُوظٌ أَنَّہُ شَہِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْقِتَالَ الْعَبِیدُ وَالصِّبْیَانُ وَأَحْذَاہُمْ مِنَ الْغَنِیمَۃِ ۔
[صحیح۔ مسلم ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَمَحْفُوظٌ أَنَّہُ شَہِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْقِتَالَ الْعَبِیدُ وَالصِّبْیَانُ وَأَحْذَاہُمْ مِنَ الْغَنِیمَۃِ ۔
[صحیح۔ مسلم ]