আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
نکاح کا بیان
হাদীস নং: ১৩৫৩৩
نکاح کا بیان
مرد اور عورتیں دونوں پردے اور اجنبیوں کی طرف دیکھنے میں برابر ہیں
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ }
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ }
(١٣٥٢٧) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) تشریف لائے اور میرے پاس بچیاں منیٰ والے دن گانا گا رہی تھیں اور دف بھی بجا رہی تھیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کپڑے میں لپیٹے بیٹھے تھے۔ ابوبکر (رض) نے ان کو منع کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا : اے ابوبکر ! ان کو چھوڑ دو : کیونکہ یہ خوشی کے دن ہیں اور منیٰ کے دن کی بات ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تھے۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اپنے کپڑے میں چھپاتے تھے اور میں حبشی لوگوں کی طرف دیکھتی جو مسجد میں کھیل رہے ہوتے تھے اور میں اس وقت بچی تھی۔
(۱۳۵۲۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَخَلَ عَلَیْہَا وَعِنْدَہَا جَارِیَتَانِ فِی أَیَّامِ مِنًی تُغَنِّیَانِ وَتُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُتَغَشًّی بِثَوْبِہِ فَانْتَہَرَہُنَّ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَشَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ وَجْہِہِ وَقَالَ: دَعْہُمَا یَا أَبَا بَکْرٍ فَإِنَّہَا أَیَّامُ عِیدٍ۔ وَتِلْکَ أَیَّامُ مِنًی وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْمَدِینَۃِ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَسْتُرُنِی بِثَوْبِہِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَی الْحَبَشَۃِ وَہُمْ یَلْعَبُونَ فِی الْمَسْجِدِ وَأَنَا جَارِیَۃٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ بِزِیَادَۃِ لَفْظٍ فِی آخِرِہِ وَنُقْصَانٍ آخَرَ۔ فَفِی قَوْلِہِ فِی ہَذِہِ الزِّیَادَۃِ : وَأَنَا جَارِیَۃٌ کَالدَّلِیلِ عَلَی أَنَّہَا کَانَتْ صَغِیرَۃً لَمْ تَبْلُغْ۔
وَمِمَّا یَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ أَیْضًا۔ [صحیح۔ مسلم ۸۹۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ بِزِیَادَۃِ لَفْظٍ فِی آخِرِہِ وَنُقْصَانٍ آخَرَ۔ فَفِی قَوْلِہِ فِی ہَذِہِ الزِّیَادَۃِ : وَأَنَا جَارِیَۃٌ کَالدَّلِیلِ عَلَی أَنَّہَا کَانَتْ صَغِیرَۃً لَمْ تَبْلُغْ۔
وَمِمَّا یَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ أَیْضًا۔ [صحیح۔ مسلم ۸۹۲]