আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
جنازوں کا بیان
হাদীস নং: ৭০২০
جنازوں کا بیان
تدفین کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان
(٧٠١٩) ابو امامہ سہل بن حنیف انصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمارو مسکین مسلمانوں کی اور کمزوروں کی عیادت کرتے تھے اور ان کے جنازوں کے ساتھ جاتے ۔ آپ کے سوا کوئی جنازہ نہ پڑھتا۔ ایک مسکین عورت جو مدینہ کے اطراف میں رہتی تھی اس کی بیماری لمبی ہوگئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بارے میں اس سے پوچھتیجو کوئی اس کے ہمسائے سے آتا اور آپ فرماتے : اگر وہ فوت ہوجائے تو مجھے بتائے بغیر دفن نہ کریں، تاکہ اس کا جنازہ پڑھیں۔ رات میں یہ عورت فوت ہوگئی تو انھوں نے اسے اٹھایا اور جنازے کو ساتھ لائے یا جنازے کی جگہ آئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد کے پاس لائے تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا جنازہ پڑھیں جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا تھا ۔ انھوں نے پایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشا کی نماز کے بعد سو چکے ہیں تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بےدار کرنا پسند نہ کیا اور جنازہ پڑھا دیا اور چل دیئے ۔ جب صبح ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے ان سے پوچھا جو ان کے پڑوسی آئے تو انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر دی اور بتایا کہ آپ کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے ایسے کیوں کیا ؟ چلو میرے ساتھ تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل دیے حتیٰ کہ اس کی قبر پر کھڑے ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے صف بنائی جیسے نمازِ جنازہ کے لیے صف بندی کی جاتی تھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنازہ پڑھا اور چار تکبیرات کہیں جیسے جنازے پر تکبیرات کہتے تھے۔
(۷۰۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ أَخْبَرَنِی ابْنُ شِہَابٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ الأَنْصَارِیِّ أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَعُودُ مَرْضَی مَسَاکِینِ الْمُسْلِمِینَ وَضُعَفَائِہِمْ وَیَتْبَعُ جَنَائِزَہُمْ وَلاَ یُصَلِّی عَلَیْہِمْ أَحَدٌ غَیْرُہُ ، وَأَنَّ امْرَأَۃً مِسْکِینَۃً مِنْ أَہْلِ الْعَوَالِی طَالَ سَقَمُہَا فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسْأَلُ عَنْہَا مَنْ حَضَرَہَا مِنْ جِیرَانِہَا وَأَمَرَہُمْ أَنْ لاَ یَدْفِنُوہَا إِنْ حَدَثَ بِہَا حَدَثٌ فَیُصَلِّی عَلَیْہَا فَتُوُفِّیَتْ تِلْکَ الْمَرْأَۃُ لَیْلاً ، فَاحْتَمَلُوہَا فَأَتَوْا بِہَا مَعَ الْجَنَائِزِ أَوْ قَالَ مَوْضِعَ الْجَنَائِزِ عِنْدَ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لِیُصَلِّیَ عَلَیْہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- کَمَا أَمْرَہُمْ۔ فَوَجَدُوہُ قَدْ نَامَ بَعْدَ صَلاَۃِ الْعِشَائِ فَکَرِہُوا أَنْ یُہَجِّدُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ نَوْمِہِ فَصَلَّوْا عَلَیْہَا ، ثُمَّ انْطَلَقُوا بِہَا۔ فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سَأَلَ عَنْہَا مَنْ حَضَرَہُ مِنْ جِیرَانِہَا فَأَخْبَرُوہُ خَبَرَہَا وَأَنَّہُمْ کَرِہُوا أَنْ یُہَجِّدُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَہَا فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَلِمَ فَعَلْتُمُ؟ انْطَلِقُوا))۔ فَانْطَلَقُوا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی قَامُوا عَلَی قَبْرِہَا فَصَفُّوا وَرَائَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَمَا یُصَفُّ لِلصَّلاَۃِ عَلَی الْجَنَائِزِ فَصَلَّی عَلَیْہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَکَبَّرَ أَرْبَعًا کَمَا یُکَبِّرُ عَلَی الْجَنَائِزِ۔
[صحیح۔ نسائی]
[صحیح۔ نسائی]