কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فضائل کا بیان
হাদীস নং: ৩৫৯৬৭
فضائل کا بیان
بیت المال سے خرچ لینے میں احتیاط
35958 ۔۔۔ (مسندعمر (رض)) سالم بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ جب عمر (رض) کو خلافت ملی تو بیت المال سے جو وظیفہ ابوبکر (رض) کے لیے مقرر کیا گیا تھا وہ عمر (رض) بھی لیتے رہے پھر عمر (رض) کی حاجت بڑھ گئی تو مہاجربن صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی تھی ان میں عثمان علی طلحہ زبیر (رض) تھے تو زبیر (رض) نے کہا کہ ہم عمر (رض) کو مشورہ دیتے ہیں کہ ان کے وظیفہ میں اضافہ کردیا جائے علی (رض) نے کہا ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ وہ ایسا کریں ہمارے ساتھ چلیں تو عثمان (رض) نے کہا وہ تو عمر (رض) ہیں پہلے باہر باہر سے ان کی رائے معلوم کریں ہم حفصہ (رض) کے پاس جاکر بات کرتے ہیں اپنے نام چھپائیں گے ان کے پاس پہنچے اور ان سے بات کی کہ عمر (رض) کو ہماری رائے سے مطلع کریں اور ہمارا نام ظاہر نہ کریں الایہ کہ وہ خود پوچھیں وہ ان سے بات کرکے نکلے حفصہ (رض) کی عمر (رض) سے ملاقات ہوئی تو عمر (رض) کے چہرے پر غصہ کے آثار ظاہر تھے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ تو عرض کیا نام تو نہیں بتاؤں گی پہلے آپ کی رائے معلوم ہوجائے تو عمر (رض) نے کہا اگر مجھے معلوم ہوجائے وہ کون ہیں مارمار کے ان کے چہرہ سیا کردوں گا تم میرے اور ان کے درمیان ہو میں تجھے قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کے گھر میں سب سے اچھا لباس کو نسا استعمال فرمایا تو بتایا منقش چادر مہمانوں کے استقبال کے لیے استعمال فرماتے تھے انہی میں جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تھے سب سے عمدہ کھانا کونسا تناول فرمایا بتایا ہماری روٹی جو کی ہوتی وہ گرم ہوتی اس کے ساتھ کھجور کی جبر بنالیتے روٹی کھاتے تلذذ کے لیے حلوہ کھالیتے پوچھا سب سے عمدہ بستر کونسا استعمال فرمایا جو سب سے نرم ہو ؟ بتایا ہماری ایک موٹی چادر تھی گرمی کے زمانہ میں نیچے بچھا لیتے تھے اور سردی کے زمانہ میں آدھا اوپر بچھاتے اور آدھانیچے تو فرمایا اے حفصہ وظیفہ اضافہ کرنے والوں کو بتادیں کہ رسول اللہ نے اندازہ لگایا اور زائدکو اپنی جگہ لگایا اور اپنے خرچہ اور گھروالوں کے خرچہ میں کفایت شعاری سے کام لیتے تھے میں نے بھی اندازہ لگالیا ہے زائدہ کو اس کی جگہ خرچ کروں گا اور کفایت شعاری سے کام چلاؤں گا میرے اور میرے ساتھیوں کی مثال ایسی ہے تین آدمی سفر میں ایک راستہ پر چل رہے تھے پہلا چلے گئے انھوں نے اتنا توشتہ لیا تھا کہ منزل تک تک پہنچ گئے دوسرا بھی ان کے راستہ پر چل پڑا وہاں تک پہنچ گیا پھر تیسرے نے ان کا راستہ اختیار کیا اگر ان کے طریقہ کو اپنایا اور ان کے برابر زادراہ پر راضی رہا ان سے مل جائے گا اور ان کے ساتھ ہوگا اگر ان کے راستہ کو چھوڑ دیاتو کبھی ان کے ساتھ اکٹھانہ ہوسکے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
35958- "مسند عمر" عن سالم بن عبد الله قال: لما ولي عمر قعد على رزق أبي بكر الذي كانوا فرضوا له فكان بذلك فاشتدت حاجته، واجتمع نفر من المهاجرين فيهم عثمان وعلي وطلحة والزبير فقال الزبير: لو قلنا لعمر في زيادة نزيدها إياه في رزقه! فقال علي: وددنا أنه فعل ذلك فانطلقوا بنا، فقال عثمان: إنه عمر! فهلموا فلنستشر ما عنده من وراء وراء، نأتي حفصة فنكلمها ونستكتمها أسماءنا، فدخلوا عليها وسألوها أن تخبر بالخبر عن نفر ولا تسمي أحدا له إلا أن يقبل، وخرجوا من عندها، فلقيت عمر في ذلك فعرفت الغضب في وجهه، فقال: من هؤلاء؟ قالت: لا سبيل إلى علمهم حتى أعلم ما رأيك، فقال: لو علمت من هم لسودت وجوههم، أنت بيني وبينهم أناشدك الله ما أفضل ما اقتنى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتك من الملبس؟ قالت: ثوبين ممشقين كان يلبسهما للوفد ويخطب فيهما للجمع، فقال: فأي طعام ناله عندك أرفع؟ قالت: خبزنا خبز شعير يصب عليها وهي حارة أسفل عكة لنا فجعلنا حيسة دسماء حلوة نأكل منها ونطعم منها استطابة، قال: فأي مبسط كان يبسطه عندك كان أوطأ؟ قالت: كساء لنا ثخين كنا يرفعه في الصيف فنجعله تحتنا، فإذا كان الشتاء انبسطنا نصفه وتدثرنا نصفه، قال: يا حفصة! فأبلغيهم عني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدر فوضع الفضول مواضعها وتبلغ بالتوجية وإني قدرت فوالله لأضعن الفضول مواضعها ولأتبلغن بالتوجية، وإنما مثلي ومثل صاحبي كثلاثة نفر سلكوا طريقا، فمضى الأول وقد تزود زادا فبلغ، ثم اتبعه الآخر فسلك طريقه فأفضى إليه، ثم اتبعهما الثالث فإن لزم طريقهما ورضي بزادهما لحق بهما وكان معهما، وإن سلك غير طريقهما لم يجامعهما أبدا. "كر".