কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فضائل کا بیان
হাদীস নং: ৩৫৯৬৮
فضائل کا بیان
بیت المال سے خرچ لینے میں احتیاط
35959 ۔۔۔ (ایضا) حسن بصری (رض) سے روایت ہے کہ میں جامع مسجد بصرہ میں آیا وہ ان ایک مجمع تھا صحابہ کرام ریض اللہ عنہم کا وہ آپس میں ابوبکر صدیق اور عمر (رض) کے زھد کا تذکرہ کررہے تھے اور اللہ تعالیٰ کی وجہ سے کتنے فتوحالت عطاء فرمایا اور ان کے حسن سیرت کا تذکرہ چل رہا تھا میں ان کے قریب ہوا تو ان میں احنف بن قیس شیمی بھی ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہمیں عمربن خطاب (رض) نے عراق کی طرف ایک سریہ کے ساتگ بھیجا اللہ تعالیٰ نے عراق اور فارس کا ایک شہر ہم پر فتح فرمایا تو ہمیں اس میں فارس اور خراسان کی عمدہ کھالیں ملیں جن کو اپنے ساتھ لیا ان میں سے بعض کی چادریں بنالیں جب ہم عمررضی الغنہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے ہم سے اعراض کیا ہم سے بات نہیں کی ہمارے ستھیوں پر یہ معاملہ شاق گذرا ہم ان کے بیٹے عبداللہ کے پاس آئے وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہم نے ان سے شکایت کی امیر المومنین کے خفا ہونے کی تو عبداللہ نے بتایا امیر المومنین نے تمہارے جسم پر وہ لباس دیکھاجی سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنتے ہوئے نہیں دیکھاتھانہ ان کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ابوبکر (رض) کو توہم گھروں کو واپس آئے اور یہ لباس اتاردیا اور اس لباس میں حاضر ہوئے جو پہلے ہماری عادت تھی تو عمر (رض) نے کھڑے ہو کر ایک ایک آدمی کو سلام کیا اور ہر ایک سے معانقہ کیا ملے گویا یہ ہماری پہلی ملاقات تھی اس سے پہلے کبھی ملاقات ہوئی نہیں ہم نے مال غنیمت ان کے سامنے رکھا اس کو ہمارے درمیان برابر تقسیم فرمایا اور غنائم خیبص کی چند ٹکڑیاں بھی ان کو پیش کی گئیں زردا اور سرخ رنگ کی اس کو عمدہ خوشبو اور عمدہ ذائقہ کا پایاتو ہماری طرف متوجہ ہوا اور فرمایا واللہ اے مہاجرین اور انصار کی جماعت ہوسکتا ہے اس کھانے پر تم میں سے بیٹا باپ کو بھائی بھائی کو قتل رکدے پھر اس کے متعلق حکم دیا مہاجرین اور انصا نے وہ کھانا ن بچوں کھلایا جن کے ولدرسول اللہ کے زمانہ میں شہید ہوگئے پھر عمر (رض) ایسی کے لیے کھڑے ہوئے آپ کے ساتھ صحابہ کرام کی جماعت تھی تو انھوں نے کہا اے انصار اور مہاجرین کی جماعت تمہارا کیا خیال ہے اس شخص کے زھد اور حلیہ کے بارے میں ہمیں تو ہمارے نفس نے عاجز کردیا جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ قیصر اور کسری کا ملک فتح فرمایا مشرق ومغرب کے ممالک عرب وعجم کے وفود ان کی خدمت میں آئے ہیں وہ اس جبہ کو دیکھتے ہیں کہ اس پر بارہ پیوند لگے ہوئے ہیں اگر صحابہ کرام (رض) سے درخواست کرو کہ تم پڑے ہو رسول اللہ کے ساتھ غروات اور سفروحضر میں ساتھ رہے مہاجرین و انصار میں تمہیں سبقت حاصل ہے کہ عمر (رض) اس حبہ کے بدلہ میں کوئی نرم کپڑا زیب تن فرمائیں جس سے ان کا منظر ہیبت ناک لگے ان کے پاس صبح وشام کھانے کا پیالہ آئے اس میں سے خود بھی کھائیں اور مہاجرین و انصار میں سے حاضرین مجلس کو بھی کھلائیں تو پوری قوم نے کہا یہ بات تو علی بن ابی طالب ہی کرسکتا ہے کیونکہ عمر (رض) کے سامنے سب سے جری یہی ہیں اور یہ ان کے داماد بھی ہیں ان کے بیٹے حفصہ (رض) کے توسط سے جو کہ زواج مطہرات میں سے ہیں بھی سب سے اس جرات ہے کیونکہ ان کا رسول اللہ کے ہاں بڑا مقام تھا انھوں نے اس سلسلہ میں علی (رض) سے بات کی علی (رض) نے جواب دیا میں خود تو عمر (رض) سے بات نہیں کرسکتا البتہ تم لوگ ازواج مطہرات سے بات کرو چونکہ وہ مہات المومنین ہیں اس لیے وہ جرات کرلیتی ہیں احنف بن قیس نے کہا انھوں نے عائشہ وحفصہ (رض) سے درخواست کی دونوں اکٹھی تھیں تو عائشہ (رض) نے کہا میں امیر المومنین سے درخواست کروں گی حفصہ (رض) نے کہا میں نہیں سمجھتی کہ وہ بات مان لیں گے عنقریب تمہارے سامنے بات ظاہر ہوجائے گی اب دونوں ازواج مطہرات عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئیں ان کو قریب بٹھایا تو حضرت عائشہ (رض) نے کہا امیر المومنین اگر اجازت ہو تو کچھ گفتگو کروں تو فرمایا اے ام المومنین اجازت ہے تو کہا رسول اللہ اپنے راستہ پر چلتے ہوئے جنت پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ کی رضاء حاصل کی نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا کو طلب کیا نہ دنیا آپ کی طلب میں آئی اس طرح ابوبکر صدیق (رض) بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو زندہ کرنے بعد ان کے نقش قدم پرچلتے ہوئے دنیا سے تشریف لے گئے جھوٹے مدعیان نبوت کو قتل کیا مبطلین کی حجت کو باطل کیا رعایا میں انصاف قائم کیا ان میں مال کو مساوی طورپر تقسیم کیا اللہ تعالیٰ جو تمام مخلوق کا رب ہے ان کو راضی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت اور رضوان کی طرف بلالیا اور اپنے نبی کے ساتھ مراتب علیاپر فائز فرمایا نہ دنیا کا قصد کیا نہ دنیا نے ان کا قصد کیا اللہ تعالیٰ آپ (رض) کے ہاتھ پر قیصر اور کسری کے خزانوں کو ھولدیا اور ان کے علاقوں کو فتح کرایا اور ان خے بال آپ کے پاس پہنچا یا اور مشرق اور مغرب کے لوگ آپ کے تابعدار ہوئے اللہ تعالیٰ سے مزید کی امید رکھتے ہیں اور اسلام میں آپ کے تائید کی عجم کے قاصد ین اور عرب کے وفو ہ آپ کے پاس آئے ہیں اور آپ کے جسم پر یہ جبہ ہے جس پر بارہ پیوند لگے ہوئے ہیں اگر آپ اس کے بدلہ میں ایک نرم وملائم لباس زیب تن فرمائیں جس میں آپ کا منظر ہیبت ناک معلوم ہو اور صبح وشام آپ کے پاس عمدہ کھانوں کا پیالہ آئے جس آپ خود بھی کھائیں اور آپ کے آنے والے انصار و مہاجرین بھی کھائیں یہ باتیں سن کر عمر (رض) بہت زیادہ روئے پھر فرمایا میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کیا آپ جانتی ہیں کہ رسول اللہ نے گندم کی روٹی مسلسل دس دن پانچ باتیں دن کھائی ہو یا صبح وشام دونوں وقت کا کھانا کھایا ہو یہاں تک اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ گئے عرض کیا میرے علم میں نہیں اور پوچھا کیا آپ جانتی ہیں کہ کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھانے کا دسترخوان زمین سے ایک بالشت اونچھا جھپایا گیا ہو کھانے کے بارے میں حکم فرماتے زمین پر رکھ کر کھایا جائے منبر لواٹھا دیا جائے دونوں نے جواب دیا یا نکل ایسا ہی ہے فرمایا دونوں ازواج مطہرات میں سے ہیں اور امہات المومنین ہیں آپ دونوں کا مومنین پر حق ہے خاص طور پر مجھ پر حق ہے آپ دونوں میرے پاس آکر دنیا کی ترغیب دے رہی ہیں میرے علم میں ہے کہ رسول اللہ نے اولی جبہ استعمال فرمایا کرتے تھے بسا اوقات اس کی خشونت سے حال مبارک چھپ جاتی کیا آپ دونوں کو یہ باتیں معلوم ہیں ؟ فرمایا ہاں ضرور معلوم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ بستر کی ایک تہہ پر سوتے تھے ؟ اے عائشہ (رض) تمہارے گھر میں ایک موٹی چادر تھی دن بچھونا کا کام آتا اور رات کے وقت بستر کا ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کے جسم مبارک پر چٹائی کے نشانات دیکھے جاتے تھے سن لے اے حفصہ (رض) تم ہی نے بیان کیا تھا کہ تم نے ایک رات چادر کو دوتہہ کرکے بچھا دیا آپ نے اس کو نرم پایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر سوئے پھر صبح اذان بدل ہی پر بیدار ہوئے اور آپ نے پوچھا اے حفصہ ایساکیوں کیا ؟ میرے لیے بچھو نا رات کے وقت دہرا کردیا یہاں تک مجھے صبح تک سونا پڑا ؟ میرا دنیا کی لذت سے کیا واسطہ دنیا کو مجھ سے کیا واسطہ مجھے نرم بستر کے ذریعہ مشغول کردیا اے حفصہ کیا تم جانتی ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کردئیے گئے تھے ؟ بھوک کی حالت میں شام کی سجدہ کی حالت میں سوئے مسلسل رکوع کرتے رہتے مسلسل سجدہ میں رہتے رات اور دن کے اوقات میں روتے عاجزی انکساری سے کام لیتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض فرمائی اپنی رحمت اور رضوان میں جگہ نصیب فرمادی عمر نہ عمدہ غذا استعمال کرے گا نہ نرم لباس پہنچے گا وہ اپنے دونوں ساتھیوں کے نقش قدم پر چلے گا کبھی دوسالن کو جمع نہیں کیا سوائے نمک اور تیل کے اور گوشت نہیں کھاؤنگا مگر مہینہ میں ایک بار یہاں تک اجل پورا ہوجائے جس طرح لوگوں کا پورا ہوتا ہے ہم آپ کے پاس سے نکل آئیں اور صحابہ کرام کو اس کی خبر دی آپ (رض) اسی حالت میں رہے حتی کہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ (رواہ ابن عساکر)
35959- "أيضا" عن الحسن البصري قال: أتيت مجلسا في جامع البصرة فإذا أنا بنفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يتذاكرون زهد أبي بكر وعمر وما فتح الله عليهما من الإسلام وحسن سيرتهما، فدنوت من القوم فإذا فيهم الأحنف بن قيس التميمي جالس معهم، فسمعته يقول: أخرجنا عمر بن الخطاب في سرية إلى العراق ففتح الله علينا العراق وبلد فارس فأصبنا فيها من بياض فارس وخراسان فجعلناه معنا واكتسينا منها، فلما قدمنا على عمر أعرض عنا بوجهه وجعل لا يكلمنا، فاشتد ذلك على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتينا ابنه عبد الله بن عمر وهو جالس في المسجد، فشكونا إليه ما نزل بنا من الجفاء من أمير المؤمنين عمر بن الخطاب، فقال عبد الله: إن أمير المؤمنين رأى عليكم لباسا لم ير رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبسه ولا الخليفة من بعده أبو بكر الصديق، فأتينا منازلنا فنزعنا ما كان علينا وأتيناه في البزة التي كان يعهدنا فيها، فقام يسلم علينا على رجل رجل ويعانق منا رجلا رجلا حتى كأنه لم يرنا قبل ذلك، فقدمنا إليه
الغنائم فقسمها بيننا بالسوية، فعرض عليه في الغنائم سلال من أنواع الخبيص من أصفر وأحمر، فذاقه عمر فوجده طيب الطعم طيب الريح، فأقبل علينا بوجهه وقال: والله يا معشر المهاجرين والأنصار ليقتلن منكم الابن أباه والأخ أخاه على هذا الطعام! ثم أمر به فحمل إلى أولاد من قتلوا بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم من المهاجرين الأنصار، ثم إن عمر قام منصرفا فمشى وراء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في أثره، فقالوا: ما ترون يا معشر المهاجرين والأنصار إلى زهد هذا الرجل وإلى حليته؟ لقد تقاصرت إلينا أنفسنا مذ فتح الله على يديه ديار كسرى وقيصر وطرفي المشرق والمغرب، ووفود العرب والعجم يأتونه فيرون عليه هذه الجبة قد رقعها اثنتي عشرة رقعة فلو سألتم معاشر أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم وأنتم الكبراء من أهل المواقف والمشاهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم والسابقين من المهاجرين والأنصار أن يغير هذه الجبة بثوب لين يهاب فيه منظره ويغدى عليه جفنة من الطعام ويراح عليه جفنة يأكله ومن حضره من المهاجرين والأنصار، فقال القوم بأجمعهم: ليس لهذا القول إلا علي ابن أبي طالب فإنه أجرأ الناس عليه وصهره على ابنته أو ابنته حفصة فإنها زوجة رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو موجب لها لموضعها من رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلموا عليا فقال علي: لست بفاعل ذلك ولكن عليكم بأزواج رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنهن أمهات المؤمنين يجترئن عليه، قال الأحنف بن قيس: فسألوا عائشة وحفصة وكانتا مجتمعتين، فقالت عائشة: إني سائلة أمير المؤمنين ذلك، وقالت حفصة: ما أراه يفعل وسيبين لك ذلك، فدخلنا على أمير المؤمنين فقربهما وأدناهما، فقالت عائشة: يا أمير المؤمنين! أتأذن لي أن أكلمك؟ قال: تكلمي يا أم المؤمنين! قالت: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مضى لسبيله إلى جنته ورضوانه لم يرد الدنيا ولم ترده، وكذلك مضى أبو بكر على أثره لسبيله بعد إحياء سنن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقتل الكذابين وأدحض حجة المبطلين بعد عدله في الرعية وقسمه بالسوية وأرضى رب البرية، فقبضه الله إلى رحمته ورضوانه وألحقه بنبيه صلى الله عليه وسلم بالرفيع الأعلى، لم يرد الدنيا ولم ترده، وقد فتح الله على يديك كنوز كسرى وقيصر وديارهما وحمل إليك أموالهما، ودانت لك طرفا المشرق المغرب، ونرجو من الله المزيد وفي الإسلام التأييد، ورسل العجم يأتونك ووفود العرب يردون عليك وعليك هذه الجبة قد رقعتها اثنتي عشرة رقعة! فلو غيرتها بثوب لين يهاب فيه منظرك ويغدى عليك بجفنة من الطعام ويراح عليك بجفنة تأكل أنت ومن حضرك من المهاجرين والأنصار، فبكى عمر عند ذلك بكاء شديدا، ثم قال: سألتك بالله هل تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم شبع من خبز بر عشرة أيام أو خمسة أو ثلاثة أو جمع بين عشاء وغداء حتى لحق بالله؟ فقالت: لا، فأقبل على عائشة فقال: هل تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قرب إليه طعام على مائدة في ارتفاع شبر من الأرض؟ كان يأمر بالطعام فيوضع على الأرض ويأمر بالمائدة فترفع، قالتا: اللهم نعم، فقال لهما: أنتما زوجتا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمهات المؤمنين ولكما على المؤمنين حق وعلي خاصة ولكن أتيتماني وترغباني في الدنيا وإني لأعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لبس جبة من الصوف فربما رق جلده من خشونتها! أتعلمان ذلك؟ قالتا: اللهم نعم، قال: فهل تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرقد على عباءة على طاقة واحدة؟ وكان مسحا 1 في بيتك يا عائشة يكون بالنهار بساطا وبالليل فراشا فندخل عليه فنرى أثر الحصير على جنبه، ألا يا حفصة! أنت حدثتيني أنك ثنيت له ذات ليلة فوجد لينها فرقد عليه فلم يستيقظ إلا بأذان بلال فقال لك: يا حفصة! ماذا صنعت؟ أثنيت لي المهاد ليلتي حتى ذهب بي النوم إلى الصباح؟ مالي وللدنيا ومالي! شغلتموني لين الفراش! يا حفصة! أما تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان مغفورا له ما تقدم من ذنبه وما تأخر؟ أمسى جائعا ورقد ساجدا ولم يزل راكعا وساجدا وباكيا ومتضرعا في آناء الليل والنهار إلى أن قبضه الله إلى رحمته ورضوانه، لا أكل عمر طيبا ولا لبس لينا فله أسوة بصاحبيه، ولا جمع بين الأدمين إلا الملح والزيت، ولا أكل لحما إلا في كل شهر حتى ينقضي ما انقضى من القوم فخرجنا فخبرتا بذلك أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلم يزل كذلك حتى لحق بالله عز وجل. "كر".
الغنائم فقسمها بيننا بالسوية، فعرض عليه في الغنائم سلال من أنواع الخبيص من أصفر وأحمر، فذاقه عمر فوجده طيب الطعم طيب الريح، فأقبل علينا بوجهه وقال: والله يا معشر المهاجرين والأنصار ليقتلن منكم الابن أباه والأخ أخاه على هذا الطعام! ثم أمر به فحمل إلى أولاد من قتلوا بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم من المهاجرين الأنصار، ثم إن عمر قام منصرفا فمشى وراء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في أثره، فقالوا: ما ترون يا معشر المهاجرين والأنصار إلى زهد هذا الرجل وإلى حليته؟ لقد تقاصرت إلينا أنفسنا مذ فتح الله على يديه ديار كسرى وقيصر وطرفي المشرق والمغرب، ووفود العرب والعجم يأتونه فيرون عليه هذه الجبة قد رقعها اثنتي عشرة رقعة فلو سألتم معاشر أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم وأنتم الكبراء من أهل المواقف والمشاهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم والسابقين من المهاجرين والأنصار أن يغير هذه الجبة بثوب لين يهاب فيه منظره ويغدى عليه جفنة من الطعام ويراح عليه جفنة يأكله ومن حضره من المهاجرين والأنصار، فقال القوم بأجمعهم: ليس لهذا القول إلا علي ابن أبي طالب فإنه أجرأ الناس عليه وصهره على ابنته أو ابنته حفصة فإنها زوجة رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو موجب لها لموضعها من رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلموا عليا فقال علي: لست بفاعل ذلك ولكن عليكم بأزواج رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنهن أمهات المؤمنين يجترئن عليه، قال الأحنف بن قيس: فسألوا عائشة وحفصة وكانتا مجتمعتين، فقالت عائشة: إني سائلة أمير المؤمنين ذلك، وقالت حفصة: ما أراه يفعل وسيبين لك ذلك، فدخلنا على أمير المؤمنين فقربهما وأدناهما، فقالت عائشة: يا أمير المؤمنين! أتأذن لي أن أكلمك؟ قال: تكلمي يا أم المؤمنين! قالت: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مضى لسبيله إلى جنته ورضوانه لم يرد الدنيا ولم ترده، وكذلك مضى أبو بكر على أثره لسبيله بعد إحياء سنن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقتل الكذابين وأدحض حجة المبطلين بعد عدله في الرعية وقسمه بالسوية وأرضى رب البرية، فقبضه الله إلى رحمته ورضوانه وألحقه بنبيه صلى الله عليه وسلم بالرفيع الأعلى، لم يرد الدنيا ولم ترده، وقد فتح الله على يديك كنوز كسرى وقيصر وديارهما وحمل إليك أموالهما، ودانت لك طرفا المشرق المغرب، ونرجو من الله المزيد وفي الإسلام التأييد، ورسل العجم يأتونك ووفود العرب يردون عليك وعليك هذه الجبة قد رقعتها اثنتي عشرة رقعة! فلو غيرتها بثوب لين يهاب فيه منظرك ويغدى عليك بجفنة من الطعام ويراح عليك بجفنة تأكل أنت ومن حضرك من المهاجرين والأنصار، فبكى عمر عند ذلك بكاء شديدا، ثم قال: سألتك بالله هل تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم شبع من خبز بر عشرة أيام أو خمسة أو ثلاثة أو جمع بين عشاء وغداء حتى لحق بالله؟ فقالت: لا، فأقبل على عائشة فقال: هل تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قرب إليه طعام على مائدة في ارتفاع شبر من الأرض؟ كان يأمر بالطعام فيوضع على الأرض ويأمر بالمائدة فترفع، قالتا: اللهم نعم، فقال لهما: أنتما زوجتا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمهات المؤمنين ولكما على المؤمنين حق وعلي خاصة ولكن أتيتماني وترغباني في الدنيا وإني لأعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لبس جبة من الصوف فربما رق جلده من خشونتها! أتعلمان ذلك؟ قالتا: اللهم نعم، قال: فهل تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرقد على عباءة على طاقة واحدة؟ وكان مسحا 1 في بيتك يا عائشة يكون بالنهار بساطا وبالليل فراشا فندخل عليه فنرى أثر الحصير على جنبه، ألا يا حفصة! أنت حدثتيني أنك ثنيت له ذات ليلة فوجد لينها فرقد عليه فلم يستيقظ إلا بأذان بلال فقال لك: يا حفصة! ماذا صنعت؟ أثنيت لي المهاد ليلتي حتى ذهب بي النوم إلى الصباح؟ مالي وللدنيا ومالي! شغلتموني لين الفراش! يا حفصة! أما تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان مغفورا له ما تقدم من ذنبه وما تأخر؟ أمسى جائعا ورقد ساجدا ولم يزل راكعا وساجدا وباكيا ومتضرعا في آناء الليل والنهار إلى أن قبضه الله إلى رحمته ورضوانه، لا أكل عمر طيبا ولا لبس لينا فله أسوة بصاحبيه، ولا جمع بين الأدمين إلا الملح والزيت، ولا أكل لحما إلا في كل شهر حتى ينقضي ما انقضى من القوم فخرجنا فخبرتا بذلك أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلم يزل كذلك حتى لحق بالله عز وجل. "كر".