কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فضائل کا بیان
হাদীস নং: ৩৫৮৯৮
فضائل کا بیان
وفاتہ عام الرمادة
35889 ۔۔۔ (مسندہ) اسلم روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے عام الرمادہ عمروبن العاص کے پاس خط لکھا کہ اللہ کا بندہ عمر امیر المومنین کی طرف سے عاصی بن عاصی کی طرف میری زندگی کی قسم کہ جب تو خود اور تیری طرف کے لوگ موٹا ہوجائیں کہ میں اور میری طرف کے لوگ بھوکے کمزور ہوجائیں تو تمہیں اس کی کوئی پروا نہیں یاللمددتو عمرو نے جواب لکھا السلام حمد وصلوة کے بعد لبیک لبیک لبیک غلوں سے لدا ہوا اتنا بڑا قافلہ ہوگا کہ اس کا پہلا اونٹ آپ کے پاس اور آخری اونٹ میرے پاس اس کے ساتھ اس کوشش میں بھی ہوں کہ بحری رستہ سے سال بھینے کی بھی کوئی صورت بن جانے جب قافلہ کا پہلا حصہ پہنچا تو زبیر (رض) کو بلا کر کہا نکل کر اس کا استقبال کرو اور اہل نجد میں سے ہر گھر میں خوراک پہنچاؤ جن تک خود نہیں پہنچا سکتے ان کے لیے حکم دو کہ ہر گھر کے لیے ایک مع اس کے سازوسامان کے اور حکم دو کہ ہر شخص دودوچادر پہنیں اور اونٹ ذبح کریں چربی کو پگھلائیں گوشت کے ثرید بنائیں اور کھالوں کا پالابنائیں پھر ایک کہہ گوشت ایک کہہ چربی اور ایک مٹی آٹا ڈال کر اس کو پکائیں اور اس کو کھائیں یہاں تک اللہ تعالیٰ رزق کا انتظام فرمادیں زبیر (رض) نے نکلنے سے انکار کیا تو فرمایا کہ اللہ کی قسم اس جیسا تمہیں نہیں ملے گا یہاں تک تمہیں موت آجائے پھر دوسرے کو بلایا میرے خیال میں طلحہ ہوگا تو انکار کردیا پھر ابوعبیدہ بن جراح کو بلایا تو وہ اس کام کے لیے نکلا جب واپس آیا ان کے پاس ہزار دینار بھیجا تو ابوعبیدہ نے کہا اے ابن الخطاب میں نے تمہاری خاطر کام نہیں کیا میں نے یہ کام محض اللہ کے لیے کیا ہے اس لیے اس پر کوئی اجرت نہیں لوں گا تو فرمایا ہمیں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے امور پر مامور فرمایا ہم نے اس پر کچھ لینے سے انکار کیا تو آپ نے زبردستی قبول کرایا لہٰذا اس کو قبول کرلو اور اس سے دین اور دنیا کے امور میں مدد حاصل کرو تو ابوعبیدہ نے قبول کرلیا۔ (ابن خزعہ حاکم بیہقی)
35889- "مسنده" عن أسلم قال: كتب عمر بن الخطاب في عام الرمادة إلى عمرو بن العاص: من عبد الله عمر أمير المؤمنين إلى العاصي بن العاصي، إنك لعمري ما تبالي إذا سمنت ومن قبلك أن أعجف أنا ومن قبلي، فيا غوثاه! فكتب عمرو: السلام أما بعد لبيك لبيك لبيك! عير أولها عندك وآخرها عندي مع أني أرجو أن أجد سبيلا أن أحمل في البحر، فلما قدم أول عير دعا الزبير فقال: اخرج في أول هذه العير فاستقبل بها نجدا فاحمل إلي أهل كل بيت قدرت أن تحملهم إلي، ومن لم تستطع حمله فمره لكل أهل بيت ببعير بما عليه، ومرهم فليلبسوا كساءين ولينحروا البعير فليجملوا شحمه وليقددوا لحمه وليجلدوا جلده ثم ليأخذوا كبة من قديد وكبة من شحم وحفنة من دقيق فيطبخوا ويأكلوا حتى يأتيهم الله برزق، فأبى الزبير أن يخرج، فقال: أما والله لا تجد مثلها حتى تخرج من الدنيا، ثم دعا آخر - أظنه طلحة - فأبى، ثم دعا أبا عبيدة بن الجراح فخرج في ذلك، فلما رجع بعث إليه بألف دينار، فقال أبو عبيدة: إني لم أعمل لك يا ابن الخطاب! إنما عملت لله ولست آخذ في ذلك شيئا، فقال عمر: قد أعطانا رسول الله صلى الله عليه وسلم في أشياء بعثنا لها فكرهنا ذلك، فأبى علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاقبلها أيها الرجل واستعن بها على دينك ودنياك، فقبلها أبو عبيدة. "ابن خزيمة، ك، ق".