কানযুল উম্মাল (উর্দু)

فضائل کا بیان

হাদীস নং: ৩৫৮৯৭
فضائل کا بیان
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا سلام
35888 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) ابن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ پھر قریش نے عمر (رض) تیارکرکے بھیجا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاش مے ں وہ اس وقت تک مشرک تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفاء پہاڑ کے دامن میں ایک گھر میں تھے نحام (رض) کی عمر سے ملاقات ہوئی وہ نعیم بن عبداللہ بن اسید بنی عدی بن کعب کے بھائی جو اس سے قبل مسلمان ہوچکے تھے اور عمر تلوار لٹکائے ہوئے تھے پوچھا اے عمر قصدواردہ ہے ؟ تو بتایا میں محمد کے پاس جارہا ہوں جنہوں نے قریش کو بیوقوف کہا اور ان کے معبودوں کو بیوقوف بتلایا اور جماعت کی مخالف کی نحام نے ان سے کہا اے عمر تم تو بہت بڑا رداہ لے کر نکلے ہو تم ہی نے عدی بن کعب کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرلیا کیا تم بنی ہاشم اور نبی زہر ہ سے بچ جاؤگے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرکے دونوں نے گفتگو یہاں تک کی کہ دونوں کی آواز بلند ہوگئی تو عم (رض) نے کہا میرے خیال میں تم بھی صابی ہوچکے ہو اگر مجھے اس کا علم ہوجائے تو تم ہی سے شروع کرتا ہوں جب نحام نے دیکھا عمر اپنے ارادہ سے باز آنے والا نہیں ہے تو کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تمہارے گھر والے مسلمان ہوچکے ہیں اور تمہارا بہنوئی بھی مسلمان ہوچکا اور تمہیں اپنی گمراہی پر چھوڑ دیا جب عمر (رض) نے یہ بات سنی تو پوچھا کون کون تو بتایا تمہارے بہنوئی چچازاد بھائی اور تمہاری ہمشیرہ تو عمر (رض) اپنی بہن کے پاس پہنچا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب صحابہ کرام (رض) میں سے کوئی حاجت مند آتا تو کسی مالدار کو دیکھ فرماتے کہ فلاں کو اپنے مہمان بلان لو اسی پر اتفاق کیا عمر کے چازاد بھاءی اور ان کے بہنوئی سعد بن زید بن عمر وابن نفیل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خباب بن ارت مولی ثابت ابی ام انمارزھرہ کے حلیف ان کا حوالہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی (طہ ما انزلنا علیک القرآن لتشقی لاتذکرہ لمن یخشی ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمعرات کی رات کو دعا کی اللھم اعزالاسلام بمعمر بن الخطاب اوبابی الحکم بن ہشام تو عمر (رض) کے چچازاد بھائی اور بہن نے کہا ہمیں امید ہے کہ رسول اللہ کی دعاقبول ہوئی ہوگی وہ دعا قبول ہوئے روای نے کہا عمر (رض) آئے بہن کے گھر کے دروازے پر تاکہ ان پر حملہ کرے ان کے سلام قبول کرنے کی خبر کی وجہ تو دیکھاخباب بن ارت عمر (رض) کی بہن کے پاس ان پڑھا رہے تھے (طہ) اور وہ پڑھ رہی اذا الشمس کورت مشرکین دس کو ہمیشہ کہا کرتے تھے جب عمرداخل ہوئے تو بہن ان کے چہرے پر برے ارادہ کو بھانپ گئی اس لئی صحیفہ کو چھپادیا اور خبا (رض) بھی سرک گئے عمر گھر میں داخل ہوا اور بہن سے پوچھا یہ کس چیز کے پڑھنے کی آواز تھی تمہارے گھر میں ؟ بہن نے کہا ہم آپس میں باتیں کررہے تھیں اس کو ڈانٹا اور قسم کھالی جب تک حالت نہیں بتاوگی گھر سے نہیں جاؤ گا اس کے شویر سعید بن زیدبن عمروبن نفیل نے کہا تم لوگوں کو اپنی خواہش پر جمع نہیں کرسکتے اگرچہ حق اس کے خلاف میں ہو اس بات پر عمرکو غصہ آگیا ان کو پکڑلیا خوب اچھی طرح پٹائی کردی انتہائی غصہ میں تھے شوہر کو چھڑانے کے لیے بہن کھڑی ہوئی تو عمر نے اس کو بھی ایک طمانچہ رسید کیا جس سے چہر زخمی ہوگیا جب خون دیکھاتوکہا تو بہن نے کہا تمہیں جو خبریں پہنچی ہیں کہ میں نے تمہارے معبودوں کو چھوڑ دیا لات وعزی کی عبادت سے انکار کردیا یہ حق ہے اشھد ان لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ وان محمد عبدہ ورسولہ اپنی بارے میں سوچ لے اور جو فیصلہ کرنا چاہو کرلو جب عمر نے یہ حالت دیکھی تو اپنے فعل پر نادم ہوا اور بہن سے کہا کیا تم جو پڑھ رہی تھی وہ مجھے دوگی میں تمہیں اللہ کا اعتماد دلاتا ہوں میں اس کو پھاڑ ونگا نہیں بلکہ پڑھ کر واپس کردوں گا۔ جب بہن نے اس کو دیکھا اور قرآن پڑھنے کی حرص کو دیکھا اس کو امید ہوگئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا عمر کے حق میں قبول ہوگئی ہے کہنے لگے تو نجس ہے قرآن کو ناپاک ہاتھ نہیں لگاسکتا ہے اور مجھے تجھ پر کوئی زیادہ اطمینان نہیں تم غسل کرلو جس طرح جنابت سے غسل کیا جاتا ہے اور مجھے کوئی ایسا اعتماد دلاؤ جس سے میرا دل مطمئن ہوجائے تو عمرنے ایسا ہی کیا تو ان کو صحیفہ دیدیا عمر کتاب پڑھنا جانتا تھا تو انھوں نے (طلحہ) کی سورة پڑھی یہاں تک جب اس پر آیت پر پہنچا ان الساعة انبیہ اکادا خفیھا لتجزی کل نفس بماتسعی فتردی تک اور پڑھا اذا الشمس کورت یہاں تک جب علمت نفس مااحضرت پڑھا اس وقت عمر مسلمان ہوگئے بہن اور بہنوئی سے کہا اسلام کیسامذہب ہے تو دونوں نے بتایا تشھدان لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ وان محمد اعبدہ ورسولہ اور یہ کہ تمام معبودوں کو چھوڑ دو لات وعزی کا انکار کرو عمر نے ایسا کیا خباب (رض) نکل آیا جو گھر کے اندر چھپا ہوا تھا اور اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور کہا اے عمر تمہیں بشارت ہوا اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری عزت و تکریم ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ اسلام کو عزت بخشے تو عمر (رض) نے کہا وہ گھر بتائیں جس میں اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں تو خباب بن ارت نے کہا میں آپ کو بتلاتا ہوں کہ اس گھر میں جو صفا کے دامن میں ہے عم (رض) اس طرف متوجہ ہوئے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کے بہت زیادہ حریص تھے ادھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبرملی کہ عمر آپ کو قتل کرنے کے لیے تلاش میں ہیں لیکن اسلام کی خبر نہیں ملی عمر اس گھر تک پہنچا اور دروازہ کھلوایا صحابہ ٔکرام (رض) نے جب عمر کو تلوار لٹکا کر آتے دیکھا خوف زدہ ہوگئے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ صحابہ کرام (رض) خوف زدہ ہیں تو آپ نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اگر اللہ تعالیٰ نے عمر کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمایا ہو تو وہ اسلام کی پیری کرے گا اور رسول کی تصدیق کرے گا اگر اس کے علاوہ کوئی بات ہو تو اس کو قتل کرنا ہمارے لیے آسان ہے کچھ صحابہ کرام (رض) دوڑ پڑے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر کے اندر ہی تشریف فرما تھے آپ پر وحی نازل ہورہی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے جب عمر (رض) کی آواز سنی آپ کے جسم پر چادر نہیں تھی آپ نے عمر (رض) کی قمیص کا گریبان اور چادر پکڑ لیا اور کہا اے عمر میں نہیں سمجھتا کہ آپ اس حد تک پہنچ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ پر بھی ایسا ہی عذاب نازل فرمائے۔ جیسے ولید بن مغیرہ پر۔ پھر فرمایا اے اللہ عمر کو ہدایت دے عمر (رض) ہنس پڑے اے اللہ کے نبی اشھد ان لاالہ الا اللہ واشھد ان محمد ا عبدہ ورسولہ مسلمانوں نے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا جس کو دیوار کے باہر بھی لوگوں نے سنا مسلمان اس زمانہ میں چالیس سے کچھ اوپر مرد تھے اور گیارہ عورتیں۔ (رواہ ابن عساکر)
35888- "مسند عمر" عن ابن إسحاق قال: ثم إن قريشا بعثت عمر بن الخطاب وهو يومئذ مشرك في طلب رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم في دار في أصل الصفا ولقيه النحام وهو نعيم بن عبد الله بن أسيد أخو بني عدي بن كعب قد أسلم قبل ذلك وعمر متقلد سيفه فقال: يا عمر! أين تراك تعمد؟ فقال: أعمد إلى محمد هذا الذي سفه أحلام قريش وسفه آلهتها وخالف جماعتها فقال له النحام: لبئس الممشى مشيت يا عمر! ولقد فرطت وأردت هلكة بني عدي بن كعب أو تراك سلمت من بني هاشم وبني زهرة وقد قتلت محمدا صلى الله عليه وسلم فتحاورا حتى ارتفعت أصواتهما، فقال له عمر: إني لأظنك صبؤت ولو أعلم ذلك لبدأت بك، فلما رأى النحام أنه غير منته قال: فإني أخبرك أن أهلك وأهل ختنك قد أسلموا وتركوك وما أنت عليه من ضلالتك، فلما سمع عمر تلك المقالة يقولها قال: وأيهم؟ قال: ختنك وابن عمك وأختك، فانطلق عمر حتى أتى أخته، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتته الطائفة من أصحابه من ذوي الحاجة نظر إلى أولي السعة فيقول: عندك فلان! فوافق عليه ابن عم عمر وختنه زوج أخته سعيد بن زيد بن عمرو ابن نفيل، فدفع إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم خباب بن الأرت مولى ثابت ابن أم أنمار حليف بني زهرة وقد أنزل الله عز وجل {طه مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى إِلَّا تَذْكِرَةً لِمَنْ يَخْشَى} وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا ليلة الخميس فقال: "اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب أو بأبي الحكم بن هشام "! فقال ابن عم عمر وأخته: نرجو أن تكون دعوة رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمر، فكانت.

قال: فأقبل عمر حتى انتهى إلى باب أخته ليغير عليها ما بلغه من إسلامها فإذا خباب بن الأرت عند أخت عمر يدرس عليها {طه} وتدرس عليه {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ} وكان المشركون يدعون الدراسة الهينمة فدخل عمر، فلما أبصرته أخته عرفت الشر في وجهه فخبأت الصحيفة، وراغ خباب فدخل البيت. فقال عمر لأخته: ما هذه الهينمة في بيتك؟ قالت: ما عدا حديثا نتحدث به بيننا، فعذلها وحلف أن لا يخرج حتى تبين شأنها، فقال له زوجها سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل: إنك لا تستطيع أن تجمع الناس على هواك يا عمر وإن كان الحق سواه فبطش به عمر فوطئه وطأ شديدا وهو غضبان، فقامت إليه أخته تحجزه عن زوجها؛ فنفحها عمر بيده فشجها، فلما رأت الدم قالت: هل تسمع يا عمر أرأيت كل شيء بلغك عني مما تذكره من تركي آلهتك وكفري باللات والعزى فهو حق؛ أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، فائتمر أمرك واقض ما أنت قاض، فلما رأى ذلك عمر سقط في يديه، فقال عمر لأخته: أرأيت ما كنت تدرسين أعطيك موثقا من الله لا أمحوها حتى أردها إليك ولا أريبك فيها، فلما رأت ذلك أخته ورأت حرصه على الكتاب رجت أن تكون دعوة رسول الله صلى الله عليه وسلم له قد لحقته فقالت: إنك نجس ولا يمسه إلا المطهرون ولست آمنك على ذلك، فاغتسل غسلك من الجنابة وأعطني موثقا تطمئن إليه نفسي، ففعل عمر، فدفعت إليه الصحيفة، وكان عمر يقرأ الكتاب فقرأ: {طه - حتى بلغ: إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى - إلى قوله: فَتَرْدَى} . وقرأ: {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ - حتى إذا بلغ: عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا أَحْضَرَتْ} . فأسلم عند ذلك عمر، فقال لأخته وختنه: كيف الإسلام؟ قالا: تشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، وتخلع الأنداد وتكفر باللات والعزى، ففعل ذلك عمر، فخرج خباب وكان في البيت داخلا، فكبر خباب وقال: أبشر يا عمر بكرامة الله! فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد دعا لك أن يعز الله الإسلام بك، فقال عمر: دلوني على المنزل الذي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال له خباب بن الأرت: أنا أخبرك، فأخبر أنه في الدار التي في أصل الصفا: فأقبل عمر وهو حريص على أن يلقى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم أن عمر يطلبه ليقتله ولم يبلغه إسلامه، فلما انتهى عمر إلى الدار استفتح، فلما رأى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عمر متقلدا بالسيف أشفقوا منه، فلما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم وجل القوم فقال: "افتحوا له، فإن كان الله يريد بعمر خيرا اتبع الإسلام وصدق الرسول، وإن كان يريد غير ذلك يكن قتله علينا هينا"، فابتدره رجال من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم داخل البيت يوحي إليه، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حين سمع صوت عمر وليس عليه رداء حتى أخذ بمجمع قميص عمر وردائه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما أراك منتهيا يا عمر حتى ينزل الله بك من الرجز ما أنزل بالوليد بن المغيرة"! ثم قال: "اللهم اهد عمر"! فضحك عمر فقال: يا نبي الله! أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، فكبر أهل الإسلام تكبيرة واحدة سمعها من وراء الدار، والمسلمون يومئذ بضعة وأربعون رجلا وإحدى عشرة امرأة. "كر".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান