কানযুল উম্মাল (উর্দু)

فضائل کا بیان

হাদীস নং: ৩২৪২৩
فضائل کا بیان
حضرت یوسف علیہ الصلوة والسلام
32411 ۔۔۔ پوچھا کہ اعرابی کے سوال اور نبی اسرائیل کی بڑھیا میں کتنی مدت کا فاصلہ ہے ؟ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو سمندر پار کرنے کا حکم ملا جب وہاں پہنچے تو ان کو جانوروں کے رخ پھرگئے اور واپس لوٹے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے رب اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو جواب ملا کہ تم یوسف (علیہ السلام) کی قبر کے پاس ہو ان کی ہڈیاں اپنے ساتھ اٹھا کرلے جاؤ قبر زمین کے برابر ہوچکی ہے اب موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم نہ ہوسکا قبرکہاں ہے ہمیں تو معلوم نہیں البتہ بنی فلاں کی فلاں بڑھیا کو معلوم ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے پاس قاصد بھیجا تو اس نے پوچھا کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ قاصدنے جواب دیا کہ تم نے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس لیے پوچھا کہ تمہیں کسی کو قبر کا علم ہے ؟ لوگوں نے بتایا ہے تمہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جانا ہے۔ جب آگئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہیں یوسف (علیہ السلام) کی قبر کا علم ہے ؟ تو اس نے جواب وہاں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہمیں بتلاؤ توبوڑھیا نے جواب دیا نہیں پہلے میری درخواست قبول کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تمہاری درخواست قبول ہے تو اس نے کہا کہ میں درخواست کرتی ہوں کہ جنت میں مجھے تمہارے برابر مقام ملے تو موسیٰ علیہ اسلام نے کہا جنت کا سوال کرا س نے کہا کہ نہیں واللہ جنت میں آپ کی معیب سے کم درجہ پر راضی نہیں ہوں موسیٰ (علیہ السلام) اس سے روکداح فرماتے رہے یہاں تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اس کی درخواست قبول کرلو تمہارا کچھ بھی نقصان نہ ہوگا تو اس کی درخواست قبول کرلی اس نے قبر کا پتہ بتلایا ان کی ہڈیاں نکایں گئیں پھر دریا پار ہوگئے ۔ (الخوائطی فی مکارم الاخلاق بروایت علی (رض))
32412- كم بين مسألة الأعرابي وعجوز بني إسرائيل! إن موسى لما أمر أن يقطع البحر فانتهى إليه صرفت وجوه الدواب فرجعت، فقال موسى: ما لي يا رب؟ قال: إنك عند قبر يوسف فاحمل عظامه معك وقد استوى القبر بالأرض، فجعل موسى لا يدري أين هو فسأل موسى: هل يدري أحد منكم أين هو؟ فقالوا: إن كان أحد يعلم أين هو فعجوز بني فلان تعلم بني فلان تعلم أين هو؟ فأرسل إليها الرسول قالت: ما لكم؟ قالوا: انطلقي إلى موسى، فلما أتته قال لها: تعلمين أين قبر يوسف؟ قالت: نعم، قال: فدلينا عليه، قالت: لا والله حتى تعطيني ما أسألك! قال لها: لك ذلك، قالت: فإني أسألك أن أكون معك في الدرجة التي تكون فيها في الجنة، قال: سلي الجنة، قالت: لا والله لا أرضى إلا أن أكون معك! فجعل موسى يرادها، فأوحى الله إليه أن أعطها ذلك فإنه لا ينقصك شيئا، فأعطاها ودلته على القبر فأخرجوا العظام وجاوزوا البحر. "الخرائطي في مكارم الأخلاق - عن علي".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
কানযুল উম্মাল (উর্দু) - হাদীস নং ৩২৪২৩ | মুসলিম বাংলা