কানযুল উম্মাল (উর্দু)

طلاق کا بیان

হাদীস নং: ২৭৯৫৯
طلاق کا بیان
طلاق یافتہ عورت کے نان نفقہ اور رہائش کا بیان :
27959 ۔۔۔ ’ مسند فاطمہ بنت قیس “ ابن جریج کہتے ہیں مجھے عطاء (رح) نے خبر دی ہے کہ عبدالرحمن بن عاصم بن ثابت (رح) کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس جو کہ ضحاک بن قیس کی بہن ہے اور وہ بنی مخزوم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی وہ کہتی ہیں کہ ان کے خاوند نے انھیں تین طلاقیں دے دیں پھر وہ جہاد میں چلا گیا اور اپنے وکیل کو کہہ گیا کہ مطلقہ کو کچھ نان نفقہ دیتا رہے ، چنانچہ فاطمہ (رض) نے اسے کم سمجھا ، چنانچہ فاطمہ بنت قیس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک بیوی کے پاس آگئی تھوڑی دیر بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جبکہ فاطمہ بنت قیس (رض) آپ کی ایک بیوی کے پا اس بیٹھی تھی بیوی نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فاطمہ بنت قیس ہے اسے فلاں شخص نے طلاق دے دی ہے اس شخص نے کچھ نفقہ بھیجا تھا جو اس نے واپس کردیا ہے حالانکہ وہ شخص اسے کافی سمجھتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سچ کہا پھر آپ نے فاطمہ سے فرمایا : ام مکتوم (رض) کے پاس چلی جاؤ اور اس کے ہاں عدت پوری کرو ، پھر فرمایا : البتہ ام مکتوم (رض) کے پاس کثرت سے لوگ آتے جاتے ہیں لیکن تم عبداللہ بن ام مکتوم (رض) کے پاس چلی جاؤ وہ نابینا ہے چنانچہ فاطمہ بنت قیس (رض) عبداللہ بن ام مکتوم (رض) کے پاس چلی گئی اور ان کے ہاں عدت گزارنے لگی حتی کہ وہیں عدت پوری کردی پھر حضرت ابو جہم (رض) اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے فاطمہ بنت قیس (رض) کو پیغام نکاح بھیجا وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ لینے آگئیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہی بات ابو جہم کی مجھے ڈر ہے کہ وہ ڈنڈے سے بہت مارتا ہے رہی بات معاویہ کی وہ تنگدست ہے۔ چنانچہ بعد میں فاطمہ بنت قیس (رض) نے حضرت اسامہ بن زید (رض) سے شادی کرلی ۔۔ (رواہ عبدالرزاق)
27959- "مسند فاطمة بنت قيس" عن ابن جريج قال: أخبرني عطاء قال عبد الرحمن بن عاصم بن ثابت: إن فاطمة بنت قيس أخت الضحاك فصل في العدة والتحليل والاستبراء والرجعة
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
কানযুল উম্মাল (উর্দু) - হাদীস নং ২৭৯৫৯ | মুসলিম বাংলা