কানযুল উম্মাল (উর্দু)
حج اور عمرۃ کا بیان
হাদীস নং: ১২৫৩০
حج اور عمرۃ کا بیان
رمل۔۔۔یعنی پہلے تین چکر اکڑ اکڑ کر کاٹے جائیں اور پھر اپنی حالت پر
12530 حضرت اسلم (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اب رمل کس لیے اور مونڈھے کھولنے کی کیا ضرورت ! حالانکہ اللہ نے اسلام کو قوت بخش دی ہے اور کفر اور اہل کفر کو (مکہ سے) نکال دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم کوئی ایسا طریقہ نہیں چھوڑتے جو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں کیا کرتے تھے۔
مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، مسند ابی یعلی، الطحاوی، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور ابن خزیمہ نے اس روایت کو ابن عمر (رض) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، مسند ابی یعلی، الطحاوی، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور ابن خزیمہ نے اس روایت کو ابن عمر (رض) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
12530- عن أسلم قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: فيم الرملان الآن والكشف عن المناكب وقد أطأ الله الإسلام ونفى الكفر وأهله ومع ذلك لا ندع شيئا كنا نفعله على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ "حم د هـ ع والطحاوي ك هق ص" ورواه ابن خزيمة من طريق ابن عمر.