আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب دیتوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৪ টি

হাদীস নং: ১৪৫১
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قصاص کا بیان
امام مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم نے معاویہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ ایک شخص نے نشے کی حالت میں ایک شخص کو مار ڈالا معاویہ نے جواب لکھا کہ تو بھی اس کو مار ڈال۔ کہا مالک نے میں نے اس کی تفسیر بہت اچھی سنی فرمایا اللہ تعالیٰ نے قتل کر آزاد کو آزاد کے بدلے میں اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور عورت کو عورت کے بدلے میں تو قصاص عورتوں میں آپس میں لیا جائے گا جیسا کہ مردوں میں لیا جاتا ہے اور مرد اور عورت میں بھی لیا جائے گا کیونکہ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے نفس بدلے نفس کے قتل کیا جائے گا تو عورت مرد کے بدلے میں قتل کی جائے گی اور مرد عورت کے بدلے میں مارا جائے گا اسی طرح ایک دوسرے کو اگر زخمی کرے گا تب بھی قصاص لیا جائے گا۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص ایک شخص کو پکڑ لے اور دوسرا اس کو آکر مار ڈالے اور معلوم ہوجائے کہ اس نے مار ڈالنے ہی کے واسطے پکڑا تھا تو دونوں شخص اس کے بدلے میں قتل کئے جائیں گے اگر اس نے اس نیت سے نہیں پکڑا تھا بلکہ اس کو یہ خیال تھا کہ دوسرا شخص یوں ہی اسے مارے گا تو پکڑنے والا قتل نہ کیا جائے گا لیکن اس کو سخت سزادی جائے گی۔ اور بعد سزا کے ایک برس تک قید کیا جائے گا۔ کہا مالک نے زید نے عمرو کو قتل کیا یا اس کی آنکھ پھوڑ ڈالی، قصداً اب قبل اس کے کہ زید سے قصاص لیا جائے اس کو بکر نے مار ڈالا یا زید کی آنکھ پھوڑ ڈالی تو اس پر دیت یا قصاص واجب نہ ہوگا کیونکہ عمرو کا حق زید کی جان میں تھا یا اس کی آنکھ میں اب زید ہی نہ رہا یا وہ آنکھ ہی نہ رہی۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ زید عمرو کو عمداً مار ڈالے گا پھر زید بھی مرجائے تو عمرو کے وارثوں کو اب کچھ نہ ملے گا کیونکہ قصاص قاتل پر ہوتا ہے جب وہ خود مرگیا تو نہ قصاص ہے نہ دیت۔ کہا مالک نے آزاد اور غلام میں قصاص نہیں ہے زخموں میں لیکن اگر غلام آزاد کو مار ڈالے گا تو غلام مارا جائے گا اور جو آزاد غلام کو مار ڈالے گا تو آزاد نہ مارا جائے گا یہ میں نے بہت اچھا سنا۔
بَاب الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلِ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ يَذْكُرُ أَنَّهُ أُتِيَ بِسَكْرَانَ قَدْ قَتَلَ رَجُلًا فَكَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنْ اقْتُلْهُ بِهِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي تَأْوِيلِ هَذِهِ الْآيَةِ قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ فَهَؤُلَاءِ الذُّكُورُ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى أَنَّ الْقِصَاصَ يَكُونُ بَيْنَ الْإِنَاثِ كَمَا يَكُونُ بَيْنَ الذُّكُورِ وَالْمَرْأَةُ الْحُرَّةُ تُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ كَمَا يُقْتَلُ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْأَمَةُ تُقْتَلُ بِالْأَمَةِ كَمَا يُقْتَلُ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْقِصَاصُ يَكُونُ بَيْنَ النِّسَاءِ كَمَا يَكُونُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالْقِصَاصُ أَيْضًا يَكُونُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَذَكَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ فَنَفْسُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ بِنَفْسِ الرَّجُلِ الْحُرِّ وَجُرْحُهَا بِجُرْحِهِ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُمْسِكُ الرَّجُلَ لِلرَّجُلِ فَيَضْرِبُهُ فَيَمُوتُ مَكَانَهُ أَنَّهُ إِنْ أَمْسَكَهُ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ يُرِيدُ قَتْلَهُ قُتِلَا بِهِ جَمِيعًا وَإِنْ أَمْسَكَهُ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ إِنَّمَا يُرِيدُ الضَّرْبَ مِمَّا يَضْرِبُ بِهِ النَّاسُ لَا يَرَى أَنَّهُ عَمَدَ لِقَتْلِهِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ الْقَاتِلُ وَيُعَاقَبُ الْمُمْسِكُ أَشَدَّ الْعُقُوبَةِ وَيُسْجَنُ سَنَةً لِأَنَّهُ أَمْسَكَهُ وَلَا يَكُونُ عَلَيْهِ الْقَتْلُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ عَمْدًا أَوْ يَفْقَأُ عَيْنَهُ عَمْدًا فَيُقْتَلُ الْقَاتِلُ أَوْ تُفْقَأُ عَيْنُ الْفَاقِئِ قَبْلَ أَنْ يُقْتَصَّ مِنْهُ أَنَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِ دِيَةٌ وَلَا قِصَاصٌ وَإِنَّمَا كَانَ حَقُّ الَّذِي قُتِلَ أَوْ فُقِئَتْ عَيْنُهُ فِي الشَّيْءِ بِالَّذِي ذَهَبَ وَإِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ عَمْدًا ثُمَّ يَمُوتُ الْقَاتِلُ فَلَا يَكُونُ لِصَاحِبِ الدَّمِ إِذَا مَاتَ الْقَاتِلُ شَيْءٌ دِيَةٌ وَلَا غَيْرُهَا وَذَلِكَ لِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ قَالَ مَالِك فَإِنَّمَا يَكُونُ لَهُ الْقِصَاصُ عَلَى صَاحِبِهِ الَّذِي قَتَلَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَاتِلُهُ الَّذِي قَتَلَهُ فَلَيْسَ لَهُ قِصَاصٌ وَلَا دِيَةٌ قَالَ مَالِك لَيْسَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ قَوَدٌ فِي شَيْءٍ مِنْ الْجِرَاحِ وَالْعَبْدُ يُقْتَلُ بِالْحُرِّ إِذَا قَتَلَهُ عَمْدًا وَلَا يُقْتَلُ الْحُرُّ بِالْعَبْدِ وَإِنْ قَتَلَهُ عَمْدًا وَهُوَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫২
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد میں عفو کرنے کا بیان
امام مالک نے کئی اچھے عالموں سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ جب مقتول مرتے وقت اپنے قاتل کو معاف کر دے تو درست ہے قتل عمد میں اس کو اپنے خون کا زیادہ اختیار ہے وارثوں سے۔ کہا مالک نے جو شخص قاتل کو عمداً معاف کردے تو قاتل پر دیت لازم نہ ہوگی مگر جب کہ قصاص عفو (معاف) کر کے دیت ٹھہرا لے۔ کہا مالک نے اگر قاتل کو مقتول معاف کردے تب بھی قاتل کو سو کوڑے لگائیں گے اور ایک سال تک قید کریں گے۔ کہا مالک نے جب کوئی شخص عمداً مارا گیا اور گواہوں سے قتل ثابت ہوا اور مقتول کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں بیٹوں نے تو معاف کردیا لیکن بیٹیوں نے معاف نہ کیا تو بیٹیوں کے معاف کرنے سے کچھ خلل واقع نہ ہوگا بلکہ خون معاف ہوجائے گا کیونکہ بیٹوں کے ہوتے ہوئے ان کو اختیار نہیں ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کسی کا ہاتھ یا پاؤں توڑ ڈالے تو اس سے قصاص لیا جائے گا دیت لازم نہ آئے گی۔ کہا مالک نے زخم کا قصاص نہ لیا جائے گا جب تک کہ وہ شخص اچھا نہ ہو لے جب وہ اچھا جائے گا تو قصاص لیں گے اب اگر جارح کا بھی زخم اچھا ہو کر مجروح کے مثل ہوگیا تو بہتر نہیں تو اگر جارح کا زخم بڑھ گیا اور جارح اسی کی وجہ سے مرگیا تو مجروح پر کچھ تاوان نہ ہوگا اگر جارح کا زخم بالکل اچھا ہوگیا اور مجروح کا ہاتھ شل ہوگیا یا اور کوئی نقص رہ گیا تو پھر جارح سے قصاص نہ لیا جائے گا لیکن بقدر نقصان کے دیت اس سے وصول کی جائے گی۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی عورت کی آنکھ پھوڑ دی یا اس کا ہاتھ توڑ ڈالا یا اس کی انگلی کاٹ ڈالی قصداً تو اس سے قصاص لیا جائے گا البتہ اگر اپنی عورت کو تنبیہاً رسی یا کوڑے سے مارے اور بلاقصد کسی مقام پر لگ کر زخم ہوجائے یا نقصان ہوجائے تو دیت لازم آئے گی قصاص نہ ہوگا۔ امام مالک کو پہنچا کہ ابوبکر بن حزم نے قصاص لیا ران توڑنے کا۔
بَاب الْعَفْوِ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ أَدْرَكَ مَنْ يَرْضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَوْصَى أَنْ يُعْفَى عَنْ قَاتِلِهِ إِذَا قَتَلَ عَمْدًا إِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ لَهُ وَأَنَّهُ أَوْلَى بِدَمِهِ مِنْ غَيْرِهِ مِنْ أَوْلِيَائِهِ مِنْ بَعْدِهِ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَعْفُو عَنْ قَتْلِ الْعَمْدِ بَعْدَ أَنْ يَسْتَحِقَّهُ وَيَجِبَ لَهُ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى الْقَاتِلِ عَقْلٌ يَلْزَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الَّذِي عَفَا عَنْهُ اشْتَرَطَ ذَلِكَ عِنْدَ الْعَفْوِ عَنْهُ قَالَ مَالِك فِي الْقَاتِلِ عَمْدًا إِذَا عُفِيَ عَنْهُ أَنَّهُ يُجْلَدُ مِائَةَ جَلْدَةٍ وَيُسْجَنُ سَنَةً قَالَ مَالِك وَإِذَا قَتَلَ الرَّجُلُ عَمْدًا وَقَامَتْ عَلَى ذَلِكَ الْبَيِّنَةُ وَلِلْمَقْتُولِ بَنُونَ وَبَنَاتٌ فَعَفَا الْبَنُونَ وَأَبَى الْبَنَاتُ أَنْ يَعْفُونَ فَعَفْوُ الْبَنِينَ جَائِزٌ عَلَى الْبَنَاتِ وَلَا أَمْرَ لِلْبَنَاتِ مَعَ الْبَنِينَ فِي الْقِيَامِ بِالدَّمِ وَالْعَفْوِ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৩
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ زخموں میں قصاص کا بیان
کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کسی کا ہاتھ یا پاؤں توڑ ڈالے تو اس سے قصال لیا جائے گا دیت لازم نہ آئے گی۔ کہا مالک نے زخم کا قصاص نہ لیا جائے گا جب تک کہ وہ شخص اچھا نہ ہولے جب وہ اچھا ہوجائے تو قصاص لیں گے اب اگر جارح کا بھی زخم اچھا ہو کر مجروح کے مثل ہوگیا تو بہتر نہیں تو اگر جارح کا زخم بڑھ گیا اور جارح اسی کی وجہ سے مرگیا تو مجروح پر کچھ تاوان نہ ہوگا اگر جارح کا زخم بالکل اچھا ہوگیا اور مجروح کا ہاتھ شل ہوگیا یا اور کوئی نقص رہ گیا تو پھر جارح سے قصاص نہ لیا جائے گا لیکن بقدر نقصان کے دیت اس سے وصول کی جائے گی۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنی عورت کی آنکھ پھوڑ دی یا اس کا ہاتھ توڑ ڈالا یا اس کی انگلی کاٹ ڈالی قصا تو اس سے قصاص لیا جائے گا البہ اگر اپنی عورت کو تنبیہا رسی یا کوڑے سے مارے اور بلا قصد کسی مقام پر لگ کر زخم ہوجائے یا نقصان ہوجائے تو دیت لازم آئے گی قصاص نہ ہوگا۔ حضرت امام مالک کو پہنچا کہ ابابکر بن حزم نے قصاص لیا ران توڑنے کا
بَاب الْقِصَاصِ فِي الْجِرَاحِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ كَسَرَ يَدًا أَوْ رِجْلًا عَمْدًا أَنَّهُ يُقَادُ مِنْهُ وَلَا يَعْقِلُ قَالَ مَالِك وَلَا يُقَادُ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى تَبْرَأَ جِرَاحُ صَاحِبِهِ فَيُقَادُ مِنْهُ فَإِنْ جَاءَ جُرْحُ الْمُسْتَقَادِ مِنْهُ مِثْلَ جُرْحِ الْأَوَّلِ حِينَ يَصِحُّ فَهُوَ الْقَوَدُ وَإِنْ زَادَ جُرْحُ الْمُسْتَقَادِ مِنْهُ أَوْ مَاتَ فَلَيْسَ عَلَى الْمَجْرُوحِ الْأَوَّلِ الْمُسْتَقِيدِ شَيْءٌ وَإِنْ بَرَأَ جُرْحُ الْمُسْتَقَادِ مِنْهُ وَشَلَّ الْمَجْرُوحُ الْأَوَّلُ أَوْ بَرَأَتْ جِرَاحُهُ وَبِهَا عَيْبٌ أَوْ نَقْصٌ أَوْ عَثَلٌ فَإِنَّ الْمُسْتَقَادَ مِنْهُ لَا يَكْسِرُ الثَّانِيَةَ وَلَا يُقَادُ بِجُرْحِهِ قَالَ وَلَكِنَّهُ يُعْقَلُ لَهُ بِقَدْرِ مَا نَقَصَ مِنْ يَدِ الْأَوَّلِ أَوْ فَسَدَ مِنْهَا وَالْجِرَاحُ فِي الْجَسَدِ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ قَالَ مَالِك وَإِذَا عَمَدَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَفَقَأَ عَيْنَهَا أَوْ كَسَرَ يَدَهَا أَوْ قَطَعَ إِصْبَعَهَا أَوْ شِبْهَ ذَلِكَ مُتَعَمِّدًا لِذَلِكَ فَإِنَّهَا تُقَادُ مِنْهُ وَأَمَّا الرَّجُلُ يَضْرِبُ امْرَأَتَهُ بِالْحَبْلِ أَوْ بِالسَّوْطِ فَيُصِيبُهَا مِنْ ضَرْبِهِ مَا لَمْ يُرِدْ وَلَمْ يَتَعَمَّدْ فَإِنَّهُ يَعْقِلُ مَا أَصَابَ مِنْهَا عَلَى هَذَا الْوَجْهِ وَلَا يُقَادُ مِنْهُ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَقَادَ مِنْ كَسْرِ الْفَخِذِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৪
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ سائبہ کی دیت وجنایت کا بیان
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ایک سائبہ نے جس کو کسی حاجی نے آزاد کردیا تھا ایک شخص کے بیٹے کو جو بنی عاذ میں تھا مار ڈالا مقتول کا باپ حضرت عمر (رض) کے پاس اپنے بیٹے کی دیت مانگنے آیا حضرت عمر (رض) نے کہا اس کے لئے دیت نہیں ہے وہ شخص بولا اگر میرا بیٹا سائبہ کو مار ڈالتا تو تم کیا حکم کرتے حضرت عمر (رض) نے کہا کہ اس وقت تم کو اس کی دیت ادا کرنی ہوتی وہ شخص بولا پھر تو سائبہ کیا ہے ایک چتلا سانپ ہے اگر چھوڑ دو تو ڈس لے اگر مارو تو بدلہ لے۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ سَائِبَةً أَعْتَقَهُ بَعْضُ الْحُجَّاجِ فَقَتَلَ ابْنَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَائِذٍ فَجَائَ الْعَائِذِيُّ أَبُو الْمَقْتُولِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَطْلُبُ دِيَةَ ابْنِهِ فَقَالَ عُمَرُ لَا دِيَةَ لَهُ فَقَالَ الْعَائِذِيُّ أَرَأَيْتَ لَوْ قَتَلَهُ ابْنِي فَقَالَ عُمَرُ إِذًا تُخْرِجُونَ دِيَتَهُ فَقَالَ هُوَ إِذًا کَالْأَرْقَمِ إِنْ يُتْرَکْ يَلْقَمْ وَإِنْ يُقْتَلْ يَنْقَمْ
tahqiq

তাহকীক: