আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب دیتوں کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৪ টি

হাদীস নং: ১৪৩১
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ زخموں کی دیت کا بیان
سعید بن مسیب نے کہا کہ جو زخم پار ہوجائے کسی عضو میں تو اس کی دیت دینی ہوگی۔ کہا مالک نے ابن شہاب کی یہ رائے نہ تھی۔
و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ كُلُّ نَافِذَةٍ فِي عُضْوٍ مِنْ الْأَعْضَاءِ فَفِيهَا ثُلُثُ عَقْلِ ذَلِكَ الْعُضْوِ حَدَّثَنِي مَالِك كَانَ ابْنُ شِهَابٍ لَا يَرَى ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩২
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ زخموں کی دیت کا بیان
عبداللہ بن زبیر (رض) نے قصاص لیا منقلہ کا
عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ أَقَادَ مِنْ الْمُنَقِّلَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৩
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کی دیت کا بیان
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا کہ عورت کی انگلی میں کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ دس اونٹ ہیں میں نے کہا دو انگلیوں میں تو انہوں نے کہا بیس اونٹ ہیں میں نے کہا تین انگلیوں میں تو انہوں نے کہا تیس اونٹ میں نے کہا چار انگلیوں میں تو انہوں نے کہا بیس اونٹ میں نے کہا کیا خوب جب زخم زیادہ ہوگیا اور نقصان زیادہ ہو تو دیت کم ہوگئی سعد نے کہا کیا تو عراقی ہے میں نے کہا نہیں بلکہ مجھے جس چیز کا علم ہے اس پر جما ہوا ہوں اور جو چیز نہیں جانتا اس کو پوچھتا ہوں سعید نے کہا کہ سنت میں ایسا ہی ہے اے میرے بھائی کے بیٹے کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے کہ جب پوری ایک ہتھیلی کی انگلیاں کاٹ ڈالی جائیں تو دیت لازم ہوگی اس حساب سے کہ ہر انگلی میں دس اونٹ تو پچاس اونٹ لازم ہوں گے اور ہتھیلی بھی اگر اس کی کاٹی جائے تو اس میں حاکم کی رائے کے موافق دینا ہوگا۔ دنانیر کے حساب سے ہر انگلی کے سو دینار اور ہر ایک پور کے تینتیس دینار ہوئے اور ہر ایک پور کے تین اونٹ اور ثلث اونٹ ہوئے۔
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ کَمْ فِي إِصْبَعِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ عَشْرٌ مِنْ الْإِبِلِ فَقُلْتُ کَمْ فِي إِصْبَعَيْنِ قَالَ عِشْرُونَ مِنْ الْإِبِلِ فَقُلْتُ کَمْ فِي ثَلَاثٍ فَقَالَ ثَلَاثُونَ مِنْ الْإِبِلِ فَقُلْتُ کَمْ فِي أَرْبَعٍ قَالَ عِشْرُونَ مِنْ الْإِبِلِ فَقُلْتُ حِينَ عَظُمَ جُرْحُهَا وَاشْتَدَّتْ مُصِيبَتُهَا نَقَصَ عَقْلُهَا فَقَالَ سَعِيدٌ أَعِرَاقِيٌّ أَنْتَ فَقُلْتُ بَلْ عَالِمٌ مُتَثَبِّتٌ أَوْ جَاهِلٌ مُتَعَلِّمٌ فَقَالَ سَعِيدٌ هِيَ السُّنَّةُ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ مَالِک الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي أَصَابِعِ الْکَفِّ إِذَا قُطِعَتْ فَقَدْ تَمَّ عَقْلُهَا وَذَلِکَ أَنَّ خَمْسَ الْأَصَابِعِ إِذَا قُطِعَتْ کَانَ عَقْلُهَا عَقْلَ الْکَفِّ خَمْسِينَ مِنْ الْإِبِلِ فِي کُلِّ إِصْبَعٍ عَشَرَةٌ مِنْ الْإِبِلِ قَالَ مَالِک وَحِسَابُ الْأَصَابِعِ ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ دِينَارًا وَثُلُثُ دِينَارٍ فِي کُلِّ أُنْمُلَةٍ وَهِيَ مِنْ الْإِبِلِ ثَلَاثُ فَرَائِضَ وَثُلُثُ فَرِيضَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৪
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دانتوں کی دیت کا بیان
حضرت عمر (رض) نے حکم کی ڈاڑھ میں ایک اونٹ کا اور ہنسلی کی ہڈی میں ایک اونٹ کا اور پہلو کی ہڈی میں ایک اونٹ کا۔
عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَی فِي الضِّرْسِ بِجَمَلٍ وَفِي التَّرْقُوَةِ بِجَمَلٍ وَفِي الضِّلَعِ بِجَمَلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৫
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دانتوں کی دیت کا بیان
سعید بن مسیب نے کہا حضرت عمر (رض) نے ہر ڈاڑھ میں ایک اونٹ کا حکم کیا اور معاویہ نے ہر ڈاڑھ میں پانچ اونٹ کا حکم کیا تو عمر (رض) نے دیت میں کمی کی اور معاویہ نے زیادتی کی اگر میں ہوتا تو ہر ڈاڑھ میں دو دو اونٹ دلاتا اس صورت میں دیت پوری ہوجاتی۔
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ قَضَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي الْأَضْرَاسِ بِبَعِيرٍ بَعِيرٍ وَقَضَی مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فِي الْأَضْرَاسِ بِخَمْسَةِ أَبْعِرَةٍ خَمْسَةِ أَبْعِرَةٍ قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَالدِّيَةُ تَنْقُصُ فِي قَضَائِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَتَزِيدُ فِي قَضَائِ مُعَاوِيَةَ فَلَوْ کُنْتُ أَنَا لَجَعَلْتُ فِي الْأَضْرَاسِ بَعِيرَيْنِ بَعِيرَيْنِ فَتِلْکَ الدِّيَةُ سَوَائٌ وَکُلُّ مُجْتَهِدٍ مَأْجُورٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৬
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دانتوں کی دیت کا بیان
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ جب دانت کو ضرب پہنچے اور وہ کالا ہوجائے تو اس کی پوری دیت لازم ہوگی اگر کالا ہو کر گرجائے تب بھی پوری دیت لازم ہوگی۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ إِذَا أُصِيبَتْ السِّنُّ فَاسْوَدَّتْ فَفِيهَا عَقْلُهَا تَامًّا فَإِنْ طُرِحَتْ بَعْدَ أَنْ اسْوَدَّتْ فَفِيهَا عَقْلُهَا أَيْضًا تَامًّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৭
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دانتوں کی دیت کا اور حال
ابی غطفان بن طریف سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے ان کو بھیجا عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس یہ پوچھنے کو کہ ڈاڑھ میں کیا دیت ہے ابن عباس نے کہا کہ پانچ اونٹ ہیں مروان نے پھر ان کو بھیجا اور کہلایا کہ کیا دانت سامنے کے اور ڈاڑھیں دیت میں برابر ہیں ابن عباس نے کہا کہ اگر تو دانتوں کو انگلیوں پر قیاس کرلیتا تو کافی تھا ہر ایک انگلی کی دیت ایک ہی ہے۔ اگر منفعت کسی سے کم ہے کسی سے زیادہ ایسا ہی دانت اور ڈاڑھ بھی سب یکساں ہیں۔
عَنْ أَبِي غَطَفَانَ بْنِ طَرِيفٍ الْمُرِّيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ بَعَثَهُ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا فِي الضِّرْسِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فِيهِ خَمْسٌ مِنْ الْإِبِلِ قَالَ فَرَدَّنِي مَرْوَانُ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَجْعَلُ مُقَدَّمَ الْفَمِ مِثْلَ الْأَضْرَاسِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ لَوْ لَمْ تَعْتَبِرْ ذَلِکَ إِلَّا بِالْأَصَابِعِ عَقْلُهَا سَوَائٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৮
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دانتوں کی دیت کا اور حال
عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ اگلے زمانے میں سب دانتوں کی دیت برابر تھی کوئی دوسرے پر زیادہ نہ تھی۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ دانت اور کچلیاں اور داڑھیں سب برابر ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہر دانت میں پانچ اونٹ کا حکم کیا داڑھ بھی ایک دانت ہے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَسْنَانِ فِي الْعَقْلِ وَلَا يُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ قَالَ مَالِک وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ مُقَدَّمَ الْفَمِ وَالْأَضْرَاسِ وَالْأَنْيَابِ عَقْلُهَا سَوَائٌ وَذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنْ الْإِبِلِ وَالضِّرْسُ سِنٌّ مِنْ الْأَسْنَانِ لَا يَفْضُلُ بَعْضُهَا عَلَی بَعْضٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৩৯
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غلام کے زخموں کی دیت کا بیان
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ غلام کے موضحہ میں اس کی قیمت کا بیسواں حصہ دینا ہوگا۔ مروان بن حکم فیصلہ کرتا تھا اس شخص پر جو زخمی کرے غلام کو کہ جس قدر اس زخم کی وجہ سے اس کی قیمت میں نقصان ہوا وہ ادا کرے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ غلام کے موضحہ میں اس کی قیمت کا بیسواں حصہ اور منقلہ میں دسواں حصہ اور بیسواں حصہ اور مامومہ اور جائفہ میں تیسرا حصہ دینا ہوگا سوائے ان کے اور طرح کے زخموں میں جس قدر قیمت میں نقصان ہوگیا دینا ہوگا جب وہ غلام اچھا ہوجائے تب دیکھیں گے کہ اس کی قیمت اس زخم سے پہلے کیا تھی اور اب کتنی ہے۔ جس قدر کمی ہوگی وہ دینی ہوگی۔ کہا مالک نے جب غلام کا ہاتھ یا پاؤں کوئی شخص توڑ ڈالے پھر وہ اچھا ہوجائے تو کچھ تاوان نہیں ہوگا البتہ اگر کسی قدر نقصان رہ جائے تو اس کا تاوان دینا ہوگا۔ کہا مالک نے غلاموں میں اور لونڈیوں میں قصاص کا حکم مثل آزادوں کے ہوگا اگر غلام لونڈی کو قصداً قتل کرے تو غلام بھی قتل کیا جائے گا اگر اس کو زخمی کرے وہ بھی زخمی کیا جائے گا ایک غلام نے دوسرے غلام کو عمداً مار ڈالا تو مقتول کے مولیٰ کو اختیار ہوگا چاہے قاتل کو قتل کرے چاہے دیت یعنی اپنے غلام کی قیمت لے لے۔ قاتل کے مولیٰ کو اختیار ہے چاہے مقتول کی قیمت ادا کرے اور قاتل کو اپنے پاس رہنے دے چاہے قاتل ہی کو حوالے کردے اس سے زیادہ اور کچھ لازم نہ آئے گا۔ اب جب مقتول کا مولیٰ دیت پر راضی ہو کر قاتل کو لے لے تو پھر اس کو قتل نہ کرے۔ اسی طرح اگر ایک غلام دوسرے غلام کا ہاتھ یا پاؤں کاٹے تو اس کے قصاص کا بھی یہی حکم ہے۔ کہا مالک نے اگر مسلمان غلام کسی یہودی یا نصرانی کو زخمی کرے تو غلام کے مولیٰ کو اختیار ہے چاہے دیت دے یا غلام کو حوالے کردے تو اس غلام کو بیچ کر اس کی دیت ادا کریں گے مگر وہ غلام یہودی یا نصرانی کے پاس رہ نہیں سکتا (کیونکہ مسلمان کو کافر کا محکوم کرنا درست نہیں ) ۔
بَاب مَا جَاءَ فِي دِيَةِ جِرَاحِ الْعَبْدِ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ كَانَا يَقُولَانِ فِي مُوضِحَةِ الْعَبْدِ نِصْفُ عُشْرِ ثَمَنِهِ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ كَانَ يَقْضِي فِي الْعَبْدِ يُصَابُ بِالْجِرَاحِ أَنَّ عَلَى مَنْ جَرَحَهُ قَدْرَ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ فِي مُوضِحَةِ الْعَبْدِ نِصْفَ عُشْرِ ثَمَنِهِ وَفِي مُنَقِّلَتِهِ الْعُشْرُ وَنِصْفُ الْعُشْرِ مِنْ ثَمَنِهِ وَفِي مَأْمُومَتِهِ وَجَائِفَتِهِ فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ثُلُثُ ثَمَنِهِ وَفِيمَا سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ الْأَرْبَعِ مِمَّا يُصَابُ بِهِ الْعَبْدُ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهِ يُنْظَرُ فِي ذَلِكَ بَعْدَ مَا يَصِحُّ الْعَبْدُ وَيَبْرَأُ كَمْ بَيْنَ قِيمَةِ الْعَبْدِ بَعْدَ أَنْ أَصَابَهُ الْجُرْحُ وَقِيمَتِهِ صَحِيحًا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهُ هَذَا ثُمَّ يَغْرَمُ الَّذِي أَصَابَهُ مَا بَيْنَ الْقِيمَتَيْنِ قَالَ مَالِك فِي الْعَبْدِ إِذَا كُسِرَتْ يَدُهُ أَوْ رِجْلُهُ ثُمَّ صَحَّ كَسْرُهُ فَلَيْسَ عَلَى مَنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ فَإِنْ أَصَابَ كَسْرَهُ ذَلِكَ نَقْصٌ أَوْ عَثَلٌ كَانَ عَلَى مَنْ أَصَابَهُ قَدْرُ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْقِصَاصِ بَيْنَ الْمَمَالِيكِ كَهَيْئَةِ قِصَاصِ الْأَحْرَارِ نَفْسُ الْأَمَةِ بِنَفْسِ الْعَبْدِ وَجُرْحُهَا بِجُرْحِهِ فَإِذَا قَتَلَ الْعَبْدُ عَبْدًا عَمْدًا خُيِّرَ سَيِّدُ الْعَبْدِ الْمَقْتُولِ فَإِنْ شَاءَ قَتَلَ وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الْعَقْلَ فَإِنْ أَخَذَ الْعَقْلَ أَخَذَ قِيمَةَ عَبْدِهِ وَإِنْ شَاءَ رَبُّ الْعَبْدِ الْقَاتِلِ أَنْ يُعْطِيَ ثَمَنَ الْعَبْدِ الْمَقْتُولِ فَعَلَ وَإِنْ شَاءَ أَسْلَمَ عَبْدَهُ فَإِذَا أَسْلَمَهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُ ذَلِكَ وَلَيْسَ لِرَبِّ الْعَبْدِ الْمَقْتُولِ إِذَا أَخَذَ الْعَبْدَ الْقَاتِلَ وَرَضِيَ بِهِ أَنْ يَقْتُلَهُ وَذَلِكَ فِي الْقِصَاصِ كُلِّهِ بَيْنَ الْعَبِيدِ فِي قَطْعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ بِمَنْزِلَتِهِ فِي الْقَتْلِ قَالَ مَالِك فِي الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ يَجْرَحُ الْيَهُودِيَّ أَوْ النَّصْرَانِيَّ إِنَّ سَيِّدَ الْعَبْدِ إِنْ شَاءَ أَنْ يَعْقِلَ عَنْهُ مَا قَدْ أَصَابَ فَعَلَ أَوْ أَسْلَمَهُ فَيُبَاعُ فَيُعْطِي الْيَهُودِيَّ أَوْ النَّصْرَانِيَّ مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ دِيَةَ جُرْحِهِ أَوْ ثَمَنَهُ كُلَّهُ إِنْ أَحَاطَ بِثَمَنِهِ وَلَا يُعْطِي الْيَهُودِيَّ وَلَا النَّصْرَانِيَّ عَبْدًا مُسْلِمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪০
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کافر ذمی کی دیت کا بیان
عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ یہودی یا نصرانی کی دیت آزاد مسلمان کی دیت سے نصف ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے گا مگر جب مسلمان فریب سے اس کو دھوکہ دے کر مار ڈالے تو قتل کیا جائے گا۔
بَاب مَا جَاءَ فِي دِيَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَضَى أَنَّ دِيَةَ الْيَهُودِيِّ أَوْ النَّصْرَانِيِّ إِذَا قُتِلَ أَحَدُهُمَا مِثْلُ نِصْفِ دِيَةِ الْحُرِّ الْمُسْلِمِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ إِلَّا أَنْ يَقْتُلَهُ مُسْلِمٌ قَتْلَ غِيلَةٍ فَيُقْتَلُ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪১
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ کافر ذمی کی دیت کا بیان
سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ مجوسی کی دیت آٹھ سو درہم ہے۔ کہا مالک نے یہودی یا نصرانی کے زخموں کی دیت اسی حساب سے ہے موضحہ میں بیسواں حصہ اور مامومہ اور جائفہ میں تیسرا حصہ وقس علی ہذا۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ کَانَ يَقُولُ دِيَةُ الْمَجُوسِيِّ ثَمَانِيَ مِائَةِ دِرْهَمٍ قَالَ مَالِك وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك وَجِرَاحُ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ وَالْمَجُوسِيِّ فِي دِيَاتِهِمْ عَلَى حِسَابِ جِرَاحِ الْمُسْلِمِينَ فِي دِيَاتِهِمْ الْمُوضِحَةُ نِصْفُ عُشْرِ دِيَتِهِ وَالْمَأْمُومَةُ ثُلُثُ دِيَتِهِ وَالْجَائِفَةُ ثُلُثُ دِيَتِهِ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ جِرَاحَاتُهُمْ كُلُّهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جن جنایات کی دیت خاص قاتل کو اپنے مال میں سے ادا کرنی پڑتی ہے یعنی عاقلہ سے نہیں لی جاتی ان کا بیان
عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ قتل عمد میں عاقلہ پر دیت نہیں ہے عاقلہ پر خطا کی دیت ہے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَيْسَ عَلَی الْعَاقِلَةِ عَقْلٌ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ إِنَّمَا عَلَيْهِمْ عَقْلُ قَتْلِ الْخَطَإِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جن جنایات کی دیت خاص قاتل کو اپنے مال میں سے ادا کرنی پڑتی ہے یعنی عاقلہ سے نہیں لی جاتی ان کا بیان
ابن شہاب نے کہا کہ عاقلہ پر عمداً خون کرنے کا بار نہیں ڈالا جاتا مگر خوشی سے دینا چاہیں۔ یحیی بن سعید نے بھی ایسا ہی کہا۔ کہا مالک نے ابن شہاب کہتے تھے سنت یوں ہی ہے کہ جب قتل عمد میں مقتول کے وارث قصاص کو عفو کر کے دیت پر راضی ہوجائیں تو وہ دیت قاتل کے مال سے لی جائے گی عاقلہ سے کچھ غرض نہیں مگر جب عاقلہ خود دینا چاہیں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ دیت عاقلہ پر لازم نہیں آتی جب ایک ثلث یا زیادہ نہ ہو اگر ثلث سے کم ہو تو جنایت کرنے والے کے مال سے لی جائے گی۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ قتل عمد یا اور جراحات میں جن میں قصاص لازم آتا ہے اگر دیت قبول کرلی جائے تو قاتل یا جارح کی ذات پر ہوگی عاقلہ پر نہ ہوگی اگر اس کے پاس مال ہو اور جو مال ہو تو اس پر قصاص رہے گا البتہ اگر عاقلہ خوشی سے دینا چاہیں تو اور بات ہے۔ کہا مالک نے اگر کوئی شخص اپنے تئیں آپ عمداً یا خطاءً زخمی کرے تو اس کی دیت عاقلہ پر نہ ہوگی اور میں نے کسی کو نہیں سنا جو عمد کی دیت عاقلہ سے دلائے اس وجہ سے کہ اللہ جل جلالہ نے قتل عمد میں فرمایا جس کا بھائی معاف کردے کچھ (یعنی قصاص چھوڑ دے) تو چاہیے کہ دستور کے موافق چلے اور دیت اچھی طرح ادا کرے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ عمد کی دیت قاتل کو ادا کرنی چاہیے ) کہا مالک نے جس لڑکے کے پاس کچھ مال نہ ہو یا جس عورت کے پاس مال نہ ہو اور وہ کوئی جنایت کرے جس میں ثلث سے کم دیت واجب ہوتی ہے تو دیت انہی کے مال میں سے دی جائے گی اگر مال نہ ہو تو ان پر قرض کے طور پر رہے گی عاقلہ پر یا لڑکے کے باپ پر کچھ لازم نہیں آئے گا۔ کہا مالک نے جب غلام قتل کیا جائے تو اس کی قیمت جو قتل کے روز ہے دینی ہوگی قاتل کے عاقلہ پر کچھ لازم نہ آئے گا بلکہ قاتل کے خاص مال میں سے لیا جائے گا اگرچہ اس غلام کی قیمت دیت سے زیادہ ہو۔
و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ مَضَتْ السُّنَّةُ أَنَّ الْعَاقِلَةَ لَا تَحْمِلُ شَيْئًا مِنْ دِيَةِ الْعَمْدِ إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا ذَلِكَ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ مَالِك إِنَّ ابْنَ شِهَابٍ قَالَ مَضَتْ السُّنَّةُ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ حِينَ يَعْفُو أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ أَنَّ الدِّيَةَ تَكُونُ عَلَى الْقَاتِلِ فِي مَالِهِ خَاصَّةً إِلَّا أَنْ تُعِينَهُ الْعَاقِلَةُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهَا قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الدِّيَةَ لَا تَجِبُ عَلَى الْعَاقِلَةِ حَتَّى تَبْلُغَ الثُّلُثَ فَصَاعِدًا فَمَا بَلَغَ الثُّلُثَ فَهُوَ عَلَى الْعَاقِلَةِ وَمَا كَانَ دُونَ الثُّلُثِ فَهُوَ فِي مَالِ الْجَارِحِ خَاصَّةً قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ قُبِلَتْ مِنْهُ الدِّيَةُ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ أَوْ فِي شَيْءٍ مِنْ الْجِرَاحِ الَّتِي فِيهَا الْقِصَاصُ أَنَّ عَقْلَ ذَلِكَ لَا يَكُونُ عَلَى الْعَاقِلَةِ إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا وَإِنَّمَا عَقْلُ ذَلِكَ فِي مَالِ الْقَاتِلِ أَوْ الْجَارِحِ خَاصَّةً إِنْ وُجِدَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ لَهُ مَالٌ كَانَ دَيْنًا عَلَيْهِ وَلَيْسَ عَلَى الْعَاقِلَةِ مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا قَالَ مَالِك وَلَا تَعْقِلُ الْعَاقِلَةُ أَحَدًا أَصَابَ نَفْسَهُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً بِشَيْءٍ وَعَلَى ذَلِكَ رَأْيُ أَهْلِ الْفِقْهِ عِنْدَنَا وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ أَحَدًا ضَمَّنَ الْعَاقِلَةَ مِنْ دِيَةِ الْعَمْدِ شَيْئًا وَمِمَّا يُعْرَفُ بِهِ ذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ فَتَفْسِيرُ ذَلِكَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ مِنْ الْعَقْلِ فَلْيَتْبَعْهُ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيُؤَدِّ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ قَالَ مَالِك فِي الصَّبِيِّ الَّذِي لَا مَالَ لَهُ وَالْمَرْأَةِ الَّتِي لَا مَالَ لَهَا إِذَا جَنَى أَحَدُهُمَا جِنَايَةً دُونَ الثُّلُثِ إِنَّهُ ضَامِنٌ عَلَى الصَّبِيِّ وَالْمَرْأَةِ فِي مَالِهِمَا خَاصَّةً إِنْ كَانَ لَهُمَا مَالٌ أُخِذَ مِنْهُ وَإِلَّا فَجِنَايَةُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا دَيْنٌ عَلَيْهِ لَيْسَ عَلَى الْعَاقِلَةِ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَا يُؤْخَذُ أَبُو الصَّبِيِّ بِعَقْلِ جِنَايَةِ الصَّبِيِّ وَلَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا قُتِلَ كَانَتْ فِيهِ الْقِيمَةُ يَوْمَ يُقْتَلُ وَلَا تَحْمِلُ عَاقِلَةُ قَاتِلِهِ مِنْ قِيمَةِ الْعَبْدِ شَيْئًا قَلَّ أَوْ كَثُرَ وَإِنَّمَا ذَلِكَ عَلَى الَّذِي أَصَابَهُ فِي مَالِهِ خَاصَّةً بَالِغًا مَا بَلَغَ وَإِنْ كَانَتْ قِيمَةُ الْعَبْدِ الدِّيَةَ أَوْ أَكْثَرَ فَذَلِكَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ وَذَلِكَ لِأَنَّ الْعَبْدَ سِلْعَةٌ مِنْ السِّلَعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دیت میں میراث کا بیان
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے بلایا لوگوں کو منیٰ میں اور کہا کہ جس شخص کو دیت کا مسئلہ معلوم ہو وہ بیان کرے مجھ سے، تو ضحاک بن سفیان کلابی کھڑے ہوئے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی عورت کو میراث دلاؤں اشیم کی دیت میں سے حضرت عمر (رض) نے کہا تو خیمے میں جا جب تک میں آؤں جب تک حضرت عمر (رض) آئے تو ضحاک نے یہی بیان کیا حضرت عمر (رض) نے اسی کا حکم کیا ابن شہاب نے کہ اشیم خطا سے مارا گیا تھا۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَشَدَ النَّاسَ بِمِنًی مَنْ کَانَ عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنْ الدِّيَةِ أَنْ يُخْبِرَنِي فَقَامَ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْيَانَ الْکِلَابِيُّ فَقَالَ کَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ادْخُلْ الْخِبَائَ حَتَّی آتِيَکَ فَلَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ الضَّحَّاکُ فَقَضَی بِذَلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَکَانَ قَتْلُ أَشْيَمَ خَطَأً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دیت میں میراث کا بیان
عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بنی مدلج میں سے جس کا نام قتادہ تھا اپنے لڑکے کو تلوار ماری وہ اس کے پنڈلی میں لگی خون بند نہ ہوا آخر مرگیا تو سراقہ بن جعشم حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا حضرت عمر (رض) نے کہا قدید کے پاس ایک سو بیس اونٹ تیار رکھ جب تک میں وہاں آؤں جب حضرت عمر (رض) وہاں آئے تو ان اونٹوں میں سے تین حقے اور بیس جزعے لئے اور چالیس حقے لئے پھر کہا کون ہے مقتول کا بھائی ؟ اس نے کہا کیوں میں موجود ہوں نا ! کہا تو یہ سب اونٹ لے لے اس واسطے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قاتل کو میراث نہیں ملتی سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ماہ حرام میں اگر کوئی قتل کرے تو دیت میں سختی کریں گے انہوں نے کہا نہیں بلکہ بڑھا دیں گے بوجہ ان مہینوں کی حرمت کے پھر سعید سے پوچھا کہ اگر کوئی زخمی کرے ان مہینوں میں تو اس کی بھی دیت بڑھا دیں گے جیسے قتل کی دیت بڑھا دیں گے سعید نے کہا ہاں۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يُقَالُ لَهُ قَتَادَةُ حَذَفَ ابْنَهُ بِالسَّيْفِ فَأَصَابَ سَاقَهُ فَنُزِيَ فِي جُرْحِهِ فَمَاتَ فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْدُدْ عَلَی مَائِ قُدَيْدٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ بَعِيرٍ حَتَّی أَقْدَمَ عَلَيْکَ فَلَمَّا قَدِمَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخَذَ مِنْ تِلْکَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً ثُمَّ قَالَ أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ قَالَ هَأَنَذَا قَالَ خُذْهَا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْئٌ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا أَتُغَلَّظُ الدِّيَةُ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَقَالَا لَا وَلَكِنْ يُزَادُ فِيهَا لِلْحُرْمَةِ فَقِيلَ لِسَعِيدٍ هَلْ يُزَادُ فِي الْجِرَاحِ كَمَا يُزَادُ فِي النَّفْسِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ مَالِك أُرَاهُمَا أَرَادَا مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عَقْلِ الْمُدْلِجِيِّ حِينَ أَصَابَ ابْنَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৬
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دیت میں میراث کا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ایک شخص انصار کا جس کا نام احیحہ بن جلاح تھا اس سے چھوٹا چچا تھا وہ اپنی ننہیال میں تھا اس کو احیحہ نے لے کر مار ڈالا اس کے ننہیال کے لوگوں نے کہا ہم نے پالا پرورش کیا جب جوان ہوا تو اس کا بھتیجا ہم پر غالب آیا اور اسی نے لے لیا عروہ نے کہا اس وجہ سے قاتل مقتول کا وارث نہیں ہوتا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ قتل عمد کرنے والا مقتول کی دیت کا وارث نہیں ہوتا نہ اس کے مال کا نہ وہ کسی وارث کو محروم کرسکتا ہے اور قتل خطا کرنے والادیت کا وارث نہیں ہوتا لیکن اور مال کا وارث ہوتا ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے میرے نزدیک اور مال کا وارث ہوگا۔
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أُحَيْحَةُ بْنُ الْجُلَاحِ کَانَ لَهُ عَمٌّ صَغِيرٌ هُوَ أَصْغَرُ مِنْ أُحَيْحَةَ وَکَانَ عِنْدَ أَخْوَالِهِ فَأَخَذَهُ أُحَيْحَةُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَخْوَالُهُ کُنَّا أَهْلَ ثُمِّهِ وَرُمِّهِ حَتَّی إِذَا اسْتَوَی عَلَی عُمَمِهِ غَلَبَنَا حَقُّ امْرِئٍ فِي عَمِّهِ قَالَ عُرْوَةُ فَلِذَلِکَ لَا يَرِثُ قَاتِلٌ مَنْ قَتَلَ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ قَاتِلَ الْعَمْدِ لَا يَرِثُ مِنْ دِيَةِ مَنْ قَتَلَ شَيْئًا وَلَا مِنْ مَالِهِ وَلَا يَحْجُبُ أَحَدًا وَقَعَ لَهُ مِيرَاثٌ وَأَنَّ الَّذِي يَقْتُلُ خَطَأً لَا يَرِثُ مِنْ الدِّيَةِ شَيْئًا وَقَدْ اخْتُلِفَ فِي أَنْ يَرِثَ مِنْ مَالِهِ لِأَنَّهُ لَا يُتَّهَمُ عَلَى أَنَّهُ قَتَلَهُ لِيَرِثَهُ وَلِيَأْخُذَ مَالَهُ فَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَا يَرِثُ مِنْ دِيَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৭
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دیت کے مختلف مسائل کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جانور کسی کو صدمہ پہنچائے تو اس کا بدلہ نہیں کنوئیں میں کوئی گر کر مرجائے تو اس کا بدلہ نہیں اور کان کھودنے میں کوئی مزدور مرجائے تو بدلہ نہیں (کافروں کے) گڑے خزانے میں پانچواں حصہ لیا جائے گا۔ کہا مالک نے جو شخص جانور کو آگے سے کھینچ رہا ہے یا پیچھے سے ہانک رہا ہے یا جو اس پر سوار ہے وہ جرمانہ دے گا اگر جانور کسی کو صدمہ پہنچائے لیکن خود بخود وہ لات سے کسی کو مار دے تو تاوان نہیں ہے۔ حضرت عمرنے حکم کیا دیت کا اس شخص پر جس نے اپنا گھوڑا دوڑا کر کسی کو کچل ڈالا تھا۔ کہا مالک نے جب دوڑانے والا ضامن ہوا تو کھینچنے والا اور ہانکنے والا اور سوار تو ضرور ضامن ہوگا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو کوئی راستے میں کنواں کھودے یا جانور باندھے یا مشابہ اس کے کوئی کام کرے تو راہ میں کرنا درست نہیں ہے اور اس کی وجہ سے کسی کو صدمہ پہنچے تو وہ ضامن ہوگا ثلث دیت تک اپنے مال میں سے دے گا جو ثلث سے زیادہ ہو تو اس کے عاقلہ سے وصول کی جائے گی اور اگر ایسا کام کرے جو درست ہے تو اس پر ضمان نہ ہوگا جیسے گڑھا کھودے یا بارش کے واسطے یا اپنے جانور پر سے کسی کام کو اترے اور راہ پر کھڑا کردے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص کنوئیں میں اترے پھر دوسرا شخص اترے اب نیچے والا اوپر والے کو کھینچے اور دونوں گر کر مرجائیں تو کھینچنے والے کے عاقلہ پر دیت لازم آئے گی۔ کہا مالک نے اگر کوئی شخص کسی بچے کو حکم کرے کنوئیں میں اترنے کا یا درخت پر چڑھنے کا اور وہ لڑکا ہلاک ہوجائے تو وہ شخص ضامن ہوگا اس کی دیت کا یا نقصان کا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ عاقلہ میں عورتیں اور بچے داخل نہ ہوں گے بلکہ بالغ مردوں سے دیت وصول کی جائے گی۔ کہا مالک نے مولیٰ کی دیت اس کے عاقلہ پر ہوگی اگرچہ وہ دفتر سرکار میں ماہوار یاب (ملازم) نہ ہوں جیسا رسول اللہ ﷺ کے اور ابوبکر صدیق (رض) کے وقت تھا کیونکہ دفتر حضرت عمر (رض) کے زمانے سے نکلا تو ہر ایک کی دیت اس کے موالی اور قوم ادا کریں گے کیونکہ ولاء بھی انہیں کو ملتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ولاء اسی کو ملے گی جو آزاد کرے۔ کہا مالک نے جو کوئی شخص کسی کے جانور کو نقصان پہنچائے تو جس قدر قیمت اس نقصان کی وجہ سے کم ہوجائے اس کا تاوان لازم ہوگا۔ کہا مالک نے ایک شخص قصاصاً قتل کے لائق ہو پھر وہ کوئی کام ایسا کرے جس سے حد لازم آئے (مثلا زنا کرے کوڑے ورجم لازم آئے یا چوری کرے ہاتھ کاٹنا لازم ہو) تو کسی حد کا مواخذہ نہ کیا جائے صرف قتل کافی ہے مگر حد قذف کا، اس میں کوڑے مار کر پھر اس کو قتل کریں اگر اس نے کسی کو زخمی کیا تو زخمی کا قصاص لینا ضروری نہیں۔ قتل کرنا کافی ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ اگر کوئی نعش کسی گاؤں وغیرہ میں ملے یا کسی کے دروازے پر تو یہ ضروری نہیں کہ جو لوگ اس کے قریب ہوں وہ پکڑے جائیں کیونکہ اکثر ہوتا ہے کہ لوگ مار کر کسی کے دروازے پر ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ پکڑا جائے۔ کہا مالک نے اگر چند آدمی مل کر لڑے اس کے بعد جب جدا ہوئے تو ایک شخص ان میں مقتول یا مجروح پایا گیا لیکن ہنگامے میں معلوم نہیں ہوسکا کہ کس نے مارا یا زخمی کیا تو فریق ثانی (یعنی جن کا مقتول نہیں ہے) کی قوم پر اس کی دیت واجب ہوگی اور اگر وہ شخص دونوں فریق میں سے نہ ہو تو دونوں فریق پر دیت واجب ہوگی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَرْحُ الْعَجْمَائِ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّکَازِ الْخُمُسُ و قَالَ مَالِك الْقَائِدُ وَالسَّائِقُ وَالرَّاكِبُ كُلُّهُمْ ضَامِنُونَ لِمَا أَصَابَتْ الدَّابَّةُ إِلَّا أَنْ تَرْمَحَ الدَّابَّةُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا شَيْءٌ تَرْمَحُ لَهُ وَقَدْ قَضَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي الَّذِي أَجْرَى فَرَسَهُ بِالْعَقْلِ قَالَ مَالِك فَالْقَائِدُ وَالرَّاكِبُ وَالسَّائِقُ أَحْرَى أَنْ يَغْرَمُوا مِنْ الَّذِي أَجْرَى فَرَسَهُ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الَّذِي يَحْفِرُ الْبِئْرَ عَلَى الطَّرِيقِ أَوْ يَرْبِطُ الدَّابَّةَ أَوْ يَصْنَعُ أَشْبَاهَ هَذَا عَلَى طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ أَنَّ مَا صَنَعَ مِنْ ذَلِكَ مِمَّا لَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَصْنَعَهُ عَلَى طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ ضَامِنٌ لِمَا أُصِيبَ فِي ذَلِكَ مِنْ جَرْحٍ أَوْ غَيْرِهِ فَمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ عَقْلُهُ دُونَ ثُلُثِ الدِّيَةِ فَهُوَ فِي مَالِهِ خَاصَّةً وَمَا بَلَغَ الثُّلُثَ فَصَاعِدًا فَهُوَ عَلَى الْعَاقِلَةِ وَمَا صَنَعَ مِنْ ذَلِكَ مِمَّا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَصْنَعَهُ عَلَى طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ فِيهِ وَلَا غُرْمَ وَمِنْ ذَلِكَ الْبِئْرُ يَحْفِرُهَا الرَّجُلُ لِلْمَطَرِ وَالدَّابَّةُ يَنْزِلُ عَنْهَا الرَّجُلُ لِلْحَاجَةِ فَيَقِفُهَا عَلَى الطَّرِيقِ فَلَيْسَ عَلَى أَحَدٍ فِي هَذَا غُرْمٌ و قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَنْزِلُ فِي الْبِئْرِ فَيُدْرِكُهُ رَجُلٌ آخَرُ فِي أَثَرِهِ فَيَجْبِذُ الْأَسْفَلُ الْأَعْلَى فَيَخِرَّانِ فِي الْبِئْرِ فَيَهْلِكَانِ جَمِيعًا أَنَّ عَلَى عَاقِلَةِ الَّذِي جَبَذَهُ الدِّيَةَ قَالَ مَالِك فِي الصَّبِيِّ يَأْمُرُهُ الرَّجُلُ يَنْزِلُ فِي الْبِئْرِ أَوْ يَرْقَى فِي النَّخْلَةِ فَيَهْلِكُ فِي ذَلِكَ أَنَّ الَّذِي أَمَرَهُ ضَامِنٌ لِمَا أَصَابَهُ مِنْ هَلَاكٍ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ عَقْلٌ يَجِبُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَعْقِلُوهُ مَعَ الْعَاقِلَةِ فِيمَا تَعْقِلُهُ الْعَاقِلَةُ مِنْ الدِّيَاتِ وَإِنَّمَا يَجِبُ الْعَقْلُ عَلَى مَنْ بَلَغَ الْحُلُمَ مِنْ الرِّجَالِ و قَالَ مَالِك فِي عَقْلِ الْمَوَالِي تُلْزَمُهُ الْعَاقِلَةُ إِنْ شَاءُوا وَإِنْ أَبَوْا كَانُوا أَهْلَ دِيوَانٍ أَوْ مُقْطَعِينَ وَقَدْ تَعَاقَلَ النَّاسُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي زَمَانِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ دِيوَانٌ وَإِنَّمَا كَانَ الدِّيوَانُ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَعْقِلَ عَنْهُ غَيْرُ قَوْمِهِ وَمَوَالِيهِ لِأَنَّ الْوَلَاءَ لَا يَنْتَقِلُ وَلِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ قَالَ مَالِك وَالْوَلَاءُ نَسَبٌ ثَابِتٌ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَا أُصِيبَ مِنْ الْبَهَائِمِ أَنَّ عَلَى مَنْ أَصَابَ مِنْهَا شَيْئًا قَدْرَ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَكُونُ عَلَيْهِ الْقَتْلُ فَيُصِيبُ حَدًّا مِنْ الْحُدُودِ أَنَّهُ لَا يُؤْخَذُ بِهِ وَذَلِكَ أَنَّ الْقَتْلَ يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ إِلَّا الْفِرْيَةَ فَإِنَّهَا تَثْبُتُ عَلَى مَنْ قِيلَتْ لَهُ يُقَالُ لَهُ مَا لَكَ لَمْ تَجْلِدْ مَنْ افْتَرَى عَلَيْكَ فَأَرَى أَنْ يُجْلَدَ الْمَقْتُولُ الْحَدَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْتَلَ ثُمَّ يُقْتَلَ وَلَا أَرَى أَنْ يُقَادَ مِنْهُ فِي شَيْءٍ مِنْ الْجِرَاحِ إِلَّا الْقَتْلَ لِأَنَّ الْقَتْلَ يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ و قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْقَتِيلَ إِذَا وُجِدَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ قَوْمٍ فِي قَرْيَةٍ أَوْ غَيْرِهَا لَمْ يُؤْخَذْ بِهِ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِ دَارًا وَلَا مَكَانًا وَذَلِكَ أَنَّهُ قَدْ يُقْتَلُ الْقَتِيلُ ثُمَّ يُلْقَى عَلَى بَابِ قَوْمٍ لِيُلَطَّخُوا بِهِ فَلَيْسَ يُؤَاخَذُ أَحَدٌ بِمِثْلِ ذَلِكَ قَالَ مَالِك فِي جَمَاعَةٍ مِنْ النَّاسِ اقْتَتَلُوا فَانْكَشَفُوا وَبَيْنَهُمْ قَتِيلٌ أَوْ جَرِيحٌ لَا يُدْرَى مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بِهِ إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي ذَلِكَ أَنَّ عَلَيْهِ الْعَقْلَ وَأَنَّ عَقْلَهُ عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ نَازَعُوهُ وَإِنْ كَانَ الْجَرِيحُ أَوْ الْقَتِيلُ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيقَيْنِ فَعَقْلُهُ عَلَى الْفَرِيقَيْنِ جَمِيعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৮
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مکرو فریب سے مارنے یا جادو سے مارنے کا بیان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے پانچ یا سات آدمیوں کو ایک شخص کے بدلے میں قتل کیا انہوں نے دھوکا دے کر اس کو مار ڈالا تھا پھر حضرت عمر (رض) نے کہا کہ اگر سارے صنعا والے اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرتا۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ قَتَلُوهُ قَتْلَ غِيلَةٍ وَقَالَ عُمَرُ لَوْ تَمَالَأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَائَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৯
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مکرو فریب سے مارنے یا جادو سے مارنے کا بیان
حضرت ام المومنین حفصہ نے ایک لونڈی کو قتل کیا جس نے ان پر جادو کیا تھا اور پہلے آپ اس کو مدبر کرچکی تھیں پھر حکم کیا اس کے قتل کا تو قتل کی گئیں۔ کہا مالک نے جو شخص جادو جانتا ہے اور اس کو کام میں لاتا ہے اس کا قتل کرنا مناسب ہے۔
عَنْ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَتْ جَارِيَةً لَهَا سَحَرَتْهَا وَقَدْ کَانَتْ دَبَّرَتْهَا فَأَمَرَتْ بِهَا فَقُتِلَتْ قَالَ مَالِک السَّاحِرُ الَّذِي يَعْمَلُ السِّحْرَ وَلَمْ يَعْمَلْ ذَلِکَ لَهُ غَيْرُهُ هُوَ مَثَلُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِي کِتَابِهِ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنْ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ فَأَرَی أَنْ يُقْتَلَ ذَلِکَ إِذَا عَمِلَ ذَلِکَ هُوَ نَفْسُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫০
کتاب دیتوں کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ قتل عمد کا بیان
کہا مالک نے ایک شخص نے دوسرے کو لکڑی سے مار ڈالا عبدالملک بن مروان نے قاتل کو ولی مقتول کے حوالے کیا اس نے بھی اس کو لکڑی سے مار ڈالا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو لکڑی یا پتھر سے قصداً مارے اور وہ ہلاک ہوجائے تو قصاص لیا جائے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک قتل عمد یہی ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو قصداً مارے یہاں تک کہ اس کا دم نکل جائے اور یہ بھی قتل عمد ہے کہ ایک شخص سے دشمنی ہو اس کو ایک ضرب لگا کر چلا آئے اس وقت وہ زندہ ہو بعد اس کے اسی ضرب سے مرجائے اس میں قسامت واجب ہوگی۔ کہا مالک نے قتل عمد میں ایک شخص آزاد کے عوض میں کئی شخص آزاد مارے جائیں گے کہ جب سب قتل میں شریک ہوں اسی طرح عورتوں اور غلاموں میں بھی حکم ہوگا۔
عَنْ مَالِک عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ أَقَادَ وَلِيَّ رَجُلٍ مِنْ رَجُلٍ قَتَلَهُ بِعَصًا فَقَتَلَهُ وَلِيُّهُ بِعَصًا قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا ضَرَبَ الرَّجُلَ بِعَصًا أَوْ رَمَاهُ بِحَجَرٍ أَوْ ضَرَبَهُ عَمْدًا فَمَاتَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ الْعَمْدُ وَفِيهِ الْقِصَاصُ قَالَ مَالِك فَقَتْلُ الْعَمْدِ عِنْدَنَا أَنْ يَعْمِدَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فَيَضْرِبَهُ حَتَّى تَفِيظَ نَفْسُهُ وَمِنْ الْعَمْدِ أَيْضًا أَنْ يَضْرِبَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي النَّائِرَةِ تَكُونُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ عَنْهُ وَهُوَ حَيٌّ فَيُنْزَى فِي ضَرْبِهِ فَيَمُوتُ فَتَكُونُ فِي ذَلِكَ الْقَسَامَةُ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ يُقْتَلُ فِي الْعَمْدِ الرِّجَالُ الْأَحْرَارُ بِالرَّجُلِ الْحُرِّ الْوَاحِدِ وَالنِّسَاءُ بِالْمَرْأَةِ كَذَلِكَ وَالْعَبِيدُ بِالْعَبْدِ كَذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক: