আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب الزکوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯ টি
হাদীস নং: ৬১৮
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے دسویں حصہ کا بیان
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ میں عامل تھا عبداللہ بن عتبہ کے ساتھ مدینہ منورہ کے بازار میں تو ہم لیتے تھے نبط کے کفار سے دسواں حصہ۔
عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ غُلَامًا عَامِلًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَلَی سُوقِ الْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَکُنَّا نَأْخُذُ مِنْ النَّبَطِ الْعُشْرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৯
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے دسویں حصہ کا بیان
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ حضرت عمر کفار نبط سے دسواں حصہ کیسے لیتے تھے تو ابن شہاب نے کہا کہ ایام جاہلیت میں ان لوگوں سے دسواں حصہ لیا جاتا تھا حضرت عمر نے وہی قائم رکھا ان پر۔
عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَلَی أَيِّ وَجْهٍ کَانَ يَأْخُذُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ النَّبَطِ الْعُشْرَ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ کَانَ ذَلِکَ يُؤْخَذُ مِنْهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَلْزَمَهُمْ ذَلِکَ عُمَرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২০
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ زکوة دیکر پھر اس کو خرید کرنے یا پھیرنے کا بیان
اسلم بن عددی سے روایت ہے کہ سنا میں نے عمر بن خطاب سے کہتے تھے میں نے ایک شخص کو عمدہ گھوڑا دے دیا اللہ کی راہ میں مگر اس شخص نے اس کو تباہ کیا تو میں نے قصد کیا کہ پھر اس سے خرید لوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ سستا بیچ ڈالے گا سو پوچھا میں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا مت خرید اس کو اگرچہ وہ ایک درہم کا تجھے دے دے اس لئے کہ صدقہ دے کر پھر اس کو لینے والا ایسا ہے جیسے کتا قے کر کے پھر اس کو کھالے۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَقُولُ حَمَلْتُ عَلَی فَرَسٍ عَتِيقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَکَانَ الرَّجُلُ الَّذِي هُوَ عِنْدَهُ قَدْ أَضَاعَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ مِنْهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَشْتَرِهِ وَإِنْ أَعْطَاکَهُ بِدِرْهَمٍ وَاحِدٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ کَالْکَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২১
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ زکوة دیکر پھر اس کو خرید کرنے یا پھیرنے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے ایک گھوڑا دیا اللہ کی راہ میں پھر قصد کیا اس کے خرید نے کا تو پوچھا رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا مت خرید اس کو اور نہ پھیر صدقہ کو۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَمَلَ عَلَی فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২২
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ جن لوگوں پر صدقہ فطر واجب ہے ان کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر نکالتے اپنے غلاموں کی طرف سے جو وادی قری اور خیبر میں تھے۔ کہا مالک نے جو بہتر سنا ہے اس باب میں وہ یہ ہے کہ آدمی اس شخص کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے جس کا نان ونفقہ اس پر واجب ہے اور اس پر خرچ کرنا ضروری ہے اور اپنے غلام اور مکاتب اور مدبر اور سب کی طرف سے صدقہ ادا کرے خواہ یہ غلام حاضر ہوں یا غائب شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان ہوں تجارت کے واسطے ہوں یا نہ ہوں اور جو ان میں مسلمان نہ ہو اس کی طرف سے صدقہ فطر نہ دے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُخْرِجُ زَکَاةَ الْفِطْرِ عَنْ غِلْمَانِهِ الَّذِينَ بِوَادِي الْقُرَی وَبِخَيْبَرَ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّ أَحْسَنَ مَا سَمِعْتُ فِيمَا يَجِبُ عَلَی الرَّجُلِ مِنْ زَکَاةِ الْفِطْرِ أَنَّ الرَّجُلَ يُؤَدِّي ذَلِکَ عَنْ کُلِّ مَنْ يَضْمَنُ نَفَقَتَهُ وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْ أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهِ وَالرَّجُلُ يُؤَدِّي عَنْ مُکَاتَبِهِ وَمُدَبَّرِهِ وَرَقِيقِهِ کُلِّهِمْ غَائِبِهِمْ وَشَاهِدِهِمْ مَنْ کَانَ مِنْهُمْ مُسْلِمًا وَمَنْ کَانَ مِنْهُمْ لِتِجَارَةٍ أَوْ لِغَيْرِ تِجَارَةٍ وَمَنْ لَمْ يَکُنْ مِنْهُمْ مُسْلِمًا فَلَا زَکَاةَ عَلَيْهِ فِيهِ قَالَ مَالِک فِي الْعَبْدِ الْآبِقِ إِنَّ سَيِّدَهُ إِنْ عَلِمَ مَکَانَهُ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ وَکَانَتْ غَيْبَتُهُ قَرِيبَةً وَهُوَ يَرْجُو حَيَاتَهُ وَرَجْعَتَهُ فَإِنِّي أَرَی أَنْ يُزَکِّيَ عَنْهُ وَإِنْ کَانَ إِبَاقُهُ قَدْ طَالَ وَيَئِسَ مِنْهُ فَلَا أَرَی أَنْ يُزَکِّيَ عَنْهُ قَالَ مَالِک تَجِبُ زَکَاةُ الْفِطْرِ عَلَی أَهْلِ الْبَادِيَةِ کَمَا تَجِبُ عَلَی أَهْلِ الْقُرَی وَذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَکَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَی النَّاسِ عَلَی کُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَی مِنْ الْمُسْلِمِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৩
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر مقرر کیا لوگوں پر ایک صاع کھجور کا اور ایک صاع جَو کا ہر آزاد اور ہر غلام پر مرد ہو یا عورت مسلمانوں میں سے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَکَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَی النَّاسِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَی کُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثَی مِنْ الْمُسْلِمِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৪
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
عیاض بن عبداللہ نے سنا ابوسعید خدری (رض) سے ہم نکالتے تھے صدقہ فطر ایک صاع گیہوں سے یا ایک صاع جَو سے یا ایک صاع کھجور سے یا ایک صاع پنیر سے یا ایک صاع انگور خشک سے نبی ﷺ کے صاع سے۔
عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ کُنَّا نُخْرِجُ زَکَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ وَذَلِکَ بِصَاعِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৫
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کی مقدار کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر میں ہمیشہ کھجور دیا کرتے تھے مگر ایک بار جو دئیے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ لَا يُخْرِجُ فِي زَکَاةِ الْفِطْرِ إِلَّا التَّمْرَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً فَإِنَّهُ أَخْرَجَ شَعِيرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৬
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر بھیجنے کا وقت
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر صدقہ فطر بھیج دیا کرتے تھے عید سے دو تین روز پہلے اس شخص کے پاس جہاں صدقہ فطر جمع ہوا کرتا تھا۔ کہا مالک نے میں نے دیکھا اہل علم کو وہ مستحب جانتے تھے صدقہ فطر کو نکالنا جب فجر ہو عید کی قبل نماز کے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَبْعَثُ بِزَکَاةِ الْفِطْرِ إِلَی الَّذِي تُجْمَعُ عِنْدَهُ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ رَأَی أَهْلَ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُخْرِجُوا زَکَاةَ الْفِطْرِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ مِنْ يَوْمِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوا إِلَی الْمُصَلَّی
তাহকীক: