আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب الزکوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯ টি
হাদীস নং: ৫৯৮
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ زکوة چار پایوں کی
امام مالک نے پڑھا حضرت عمر بن خطاب کی کتاب صدقہ اور زکوٰۃ کے باب میں اس میں لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ کتاب ہے صدقہ کی چوبیس اونٹنیوں تک ہر پانچ میں ایک بکری لازم ہے جب چوبیس سے زیادہ ہوں پینتیس تک ایک برس کی اونٹنی ہے اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ہے اس سے زیادہ میں پنتالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں ساٹھ اونٹ تک تین برس کی اونٹنی ہے جو قابل ہو جفتی کے اس سے زیادہ میں پچھتر اونٹ تک چار برس کی اونٹنی ہے اس سے زیادہ میں نوے اونٹ تک دو اونٹنیاں ہیں دو دو برس کی اس سے زیادہ میں ایک سو بیس اونٹ تک تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو قابل ہوں جفتی کے اس سے زیادہ میں ہر چالیس اونٹ تک دو برس کی اونٹنی ہے اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی اونٹنی ہے بکریاں جو جنگل میں چرتی ہوں جب چالیس تک پہنچ جائیں ایک بکری زکوٰۃ کی لازم ہوگی اس سے زیادہ میں تین سو بکریوں تک تین بکریاں بعد اس کے ہر سینکڑے میں ایک بکری دینا ہوگی اور زکوٰۃ میں بکرا نہ لیا جائے گا اسی طرح بوڑھے اور عیب دار مگر جب زکوٰۃ لینے والے کی رائے میں مناسب ہو اور جد اجدا اموال ایک نہ کئے جائیں گے اسی طرح ایک مال جدا جدا نہ کیا جائے گا زکوٰۃ کے خوف سے اور جو دو آدمی شریک ہوں تو وہ آپس میں رجوع کرلیں برابر کا حصہ لگا کر اور چاندی میں جب پانچ اوقیہ ہو تو چالیسواں حصہ لازم آئے گا۔
عَنْ مَالِک أَنَّهُ قَرَأَ کِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الصَّدَقَةِ قَالَ فَوَجَدْتُ فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کِتَابُ الصَّدَقَةِ فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ الْإِبِلِ فَدُونَهَا الْغَنَمُ فِي کُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تَکُنِ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَکَرٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی سِتِّينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی خَمْسٍ وَسَبْعِينَ جَذَعَةٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی تِسْعِينَ ابْنَتَا لَبُونٍ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی عِشْرِينَ وَمِائَةٍ حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ فَمَا زَادَ عَلَی ذَلِکَ مِنْ الْإِبِلِ فَفِي کُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي کُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ إِلَی عِشْرِينَ وَمِائَةٍ شَاةٌ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی مِائَتَيْنِ شَاتَانِ وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی ثَلَاثِ مِائَةٍ ثَلَاثُ شِيَاهٍ فَمَا زَادَ عَلَی ذَلِکَ فَفِي کُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَلَا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ وَلَا هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ إِلَّا مَا شَائَ الْمُصَّدِّقُ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا کَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ وَفِي الرِّقَةِ إِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ أَوَاقٍ رُبُعُ الْعُشْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৯
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ گائے بیل کی زکوة کا بیان
طاؤس یمانی سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل نے تیس گایوں میں سے ایک گائے ایک برس کی لی اور چالیس گایوں میں دو برس کی ایک گائے لی اور اس سے کم میں کچھ نہ لیا اور کہا کہ نہیں سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں یہاں تک کہ پوچھوں گا آپ ﷺ سے پس وفات پائی رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل کے آنے سے پہلے۔
عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخَذَ مِنْ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا وَمِنْ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً وَأُتِيَ بِمَا دُونَ ذَلِکَ فَأَبَی أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا وَقَالَ لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا حَتَّی أَلْقَاهُ فَأَسْأَلَهُ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَقْدُمَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০০
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ جب دو سال کی زکوة کسی پر واجب ہوجائے اس کے طریقے کا بیان
سفیان بن عبداللہ کو عمر بن خطاب نے متصدق ( یعنی زکوٰۃ وصول کرنے والا) کرکے بھیجا تو وہ بکریوں میں بچوں کو بھی شمار کرتے تھے لوگوں نے کہا تم بچوں کو شمار کرتے ہیں لیکن بچہ لیتے نہیں ہو تو جب آئے وہ عمر بن خطاب کے پاس بیان کیا ان سے یہ امر تو کہا حضرت عمر نے ہاں ہم گنتے ہیں بچوں کو بلکہ اس بچے کو جس کو چرواہا اٹھا کر چلتا ہے لیکن نہیں لیتے اس کو نہ موٹی بکری کو جو کھانے کے واسطے موٹی کی جائے اور نہ اس بکری کو جو اپنے بچے کو پالتی ہو اور نہ حاملہ کو اور نہ نر کو اور لیتے ہیں ہم ایک سال یا دو سال کی بکری ہو جو متوسط ہے نہ بچہ ہے نہ بوڑھی ہے نہ بہت عمدہ ہے۔
عَنْ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ عَنْ جَدِّهِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا فَكَانَ يَعُدُّ عَلَى النَّاسِ بِالسَّخْلِ فَقَالُوا أَتَعُدُّ عَلَيْنَا بِالسَّخْلِ وَلَا تَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ نَعَمْ تَعُدُّ عَلَيْهِمْ بِالسَّخْلَةِ يَحْمِلُهَا الرَّاعِي وَلَا تَأْخُذُهَا وَلَا تَأْخُذُ الْأَكُولَةَ وَلَا الرُّبَّى وَلَا الْمَاخِضَ وَلَا فَحْلَ الْغَنَمِ وَتَأْخُذُ الْجَذَعَةَ وَالثَّنِيَّةَ وَذَلِكَ عَدْلٌ بَيْنَ غِذَاءِ الْغَنَمِ وَخِيَارِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০১
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ زکوة میں لوگوں کو تنگ کرنے کی ممانعت
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے پاس بکریاں آئیں زکوٰۃ کی اس میں ایک بکری دیکھی بہت دودھ والی تو پوچھا آپ نے یہ بکری کیسی ہے لوگوں نے کہا زکوٰۃ کی بکری ہے حضرت عمر نے فرمایا کہ اس کے مالک نے کبھی اس کو خوشی سے نہ دیا ہوگا لوگوں کو فتنے میں نہ ڈالو ان کے بہترین اموال نہ لو اور باز آؤ ان کا رزق چھین لینے سے۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مُرَّ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِغَنَمٍ مِنْ الصَّدَقَةِ فَرَأَی فِيهَا شَاةً حَافِلًا ذَاتَ ضَرْعٍ عَظِيمٍ فَقَالَ عُمَرُ مَا هَذِهِ الشَّاةُ فَقَالُوا شَاةٌ مِنْ الصَّدَقَةِ فَقَالَ عُمَرُ مَا أَعْطَی هَذِهِ أَهْلُهَا وَهُمْ طَائِعُونَ لَا تَفْتِنُوا النَّاسَ لَا تَأْخُذُوا حَزَرَاتِ الْمُسْلِمِينَ نَکِّبُوا عَنْ الطَّعَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০২
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ زکوة میں لوگوں کو تنگ کرنے کی ممانعت
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ خبر دی مجھ کو دو شخصوں نے قبیلہ اشجع سے کہ محمد بن مسلمہ انصاری آتے تھے زکوٰۃ لینے کو تو کہتے تھے صاحب مال سے لاؤ میرے پاس زکوٰۃ اپنے مال کی پھر وہ جو بکری لے کر آتا اگر وہ زکوٰۃ کے لائق ہوتی تو قبول کرلیتے۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيَّ کَانَ يَأْتِيهِمْ مُصَدِّقًا فَيَقُولُ لِرَبِّ الْمَالِ أَخْرِجْ إِلَيَّ صَدَقَةَ مَالِکَ فَلَا يَقُودُ إِلَيْهِ شَاةً فِيهَا وَفَائٌ مِنْ حَقِّهِ إِلَّا قَبِلَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৩
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ صدقہ لینا اور جن لوگوں کو لینا درست ہے ان کا بیان
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زکوٰۃ درست نہیں مالدار کی مگر پانچ آدمیوں کو درست ہے پہلے غازی جو جہاد کرتا ہو اللہ کی راہ میں دوسرے جو عامل ہو زکوٰۃ کا یعنی زکوٰۃ کو وصول اور تحصیل کرتا ہو تیسرے مدیون یعنی جو قرضدار ہو چوتھے جو زکوٰۃ کو خرید لے اپنے مال کے عوض میں پانچویں جو مسکین ہمسایہ کے پاس سے بطور ہدیہ کے آئے۔
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ لِغَارِمٍ أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ لِرَجُلٍ لَهُ جَارٌ مِسْکِينٌ فَتُصُدِّقَ عَلَی الْمِسْکِينِ فَأَهْدَی الْمِسْکِينُ لِلْغَنِيِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৪
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ زکوة نہ دینے والوں پر سختی کا بیان
امام مالک سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ اگر نہ دیں گے رسی بھی اونٹ باندھنے کی تو میں جہاد کروں گا ان پر۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৫
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ زکوة نہ دینے والوں پر سختی کا بیان
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے دودھ پیا تو بھلا معلوم ہوا پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا جو لایا تھا وہ بولا کہ میں ایک پانی پر گیا تھا اور اس کا نام بیان کیا وہاں پر جانور زکوٰۃ کے پانی پی رہے تھے لوگوں نے ان کا دودھ نچوڑ کر مجھے دیا میں نے اپنی مشک میں رکھ لیا وہ یہی دودھ تھا جو آپ نے پیا تو حضرت عمر نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈال کر قے کی۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک عامل نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا عمر نے جواب میں لکھا کہ چھوڑ دے اس کو اور مسلمانوں کے ساتھ اور زکوٰۃ نہ لیا کر اس سے۔ یہ خبر اس شخص کو پہنچی اس کو برا معلوم ہوا اور اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی بعد اس کے عامل نے حضرت عمر کو اطلاع دی انہوں نے جواب میں لکھا کہ لے لے زکوٰۃ کو اس شخص سے۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاهُ مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَی مَائٍ قَدْ سَمَّاهُ فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمْ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي فَهُوَ هَذَا فَأَدْخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَدَهُ فَاسْتَقَائَهُ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلًا مَنَعَ زَكَاةَ مَالِهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ دَعْهُ وَلَا تَأْخُذْ مِنْهُ زَكَاةً مَعَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَأَدَّى بَعْدَ ذَلِكَ زَكَاةَ مَالِهِ فَكَتَبَ عَامِلُ عُمَرَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ لَهُ ذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ خُذْهَا مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৬
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ پھلوں اور میووں کی زکوة کا بیان
سلیمان بن یسار اور بسر بن سعید سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بارانی اور زیر چشمہ یا تالاب کی زمین میں اور اس کھجور میں جس کو پانی کی حاجت نہ ہو دسواں حصہ زکوٰۃ ہے اور جو زمین پانی سینچ کر ترکی جائے اس میں بیسواں حصہ زکوٰۃ کا ہے۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيمَا سَقَتْ السَّمَائُ وَالْعُيُونُ وَالْبَعْلُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৭
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ پھلوں اور میووں کی زکوة کا بیان
ابن شہاب زہری نے کہا کہ کھجور کی زکوٰۃ میں جعرور (ایک قسم کی خراب کھجور ہے جو سوکھنے سے کوڑا ہوجاتی ہے) اور مصران الفارہ اور عذق بن حبیق (یہ بھی ردی کھجوروں کی قسم ہیں) نہ لی جائیں گی اور مثال ان کی بکریوں کی سی ہے کہ صاحب مال کے مال کے شمار میں سب قسم کی شمار کی جائیں گی لیکن لی نہ جائیں گی۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ لَا يُؤْخَذُ فِي صَدَقَةِ النَّخْلِ الْجُعْرُورُ وَلَا مُصْرَانُ الْفَارَةِ وَلَا عَذْقُ ابْنِ حُبَيْقٍ قَالَ وَهُوَ يُعَدُّ عَلَی صَاحِبِ الْمَالِ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي الصَّدَقَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৮
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ غلوں اور زیتوں کی زکوة کا بیان
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ زیتون میں کیا واجب ہے بولے دسواں حصہ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ الزَّيْتُونِ فَقَالَ فِيهِ الْعُشْرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০৯
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ غلام لونڈی اور گھوڑوں اور شہد کی زکوة کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں ہے مسلمان پر اپنے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ عَلَی الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১০
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ غلام لونڈی اور گھوڑوں اور شہد کی زکوة کا بیان
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ شام کے لوگوں نے ابوعبیدہ بن جراح سے کہا کہ ہمارے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ لیا کرو انہوں نے انکار کیا اور حضرت عمر بن خطاب کو لکھ بھیجا حضرت عمر نے بھی انکار کیا پھر لوگوں نے دوبارہ ابوعبیدہ سے کہا انہوں نے حضرت عمر کو لکھا حضرت عمر نے جواب میں لکھا کہ اگر وہ لوگ ان چیزوں کی زکوٰۃ دینا چاہیں تو اسے ان سے لے کر انہی کے فقیروں کو دے دے اور ان کے غلاموں اور لونڈیوں کی خوراک میں صرف کر۔
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ أَهْلَ الشَّامِ قَالُوا لِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ خُذْ مِنْ خَيْلِنَا وَرَقِيقِنَا صَدَقَةً فَأَبَی ثُمَّ کَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَبَی عُمَرُ ثُمَّ کَلَّمُوهُ أَيْضًا فَکَتَبَ إِلَی عُمَرَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ إِنْ أَحَبُّوا فَخُذْهَا مِنْهُمْ وَارْدُدْهَا عَلَيْهِمْ وَارْزُقْ رَقِيقَهُمْ قَالَ مَالِک مَعْنَی قَوْلِهِ رَحِمَهُ اللَّهُ وَارْدُدْهَا عَلَيْهِمْ يَقُولُ عَلَی فُقَرَائِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১১
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ غلام لونڈی اور گھوڑوں اور شہد کی زکوة کا بیان
عبداللہ بن ابی حزم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کا خط میرے باپ کے پاس آیا جب وہ منیٰ میں تھے کہ شہد اور گھوڑے کی زکوٰۃ کچھ نہ لے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَ کِتَابٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَی أَبِي وَهُوَ بِمِنًی أَنْ لَا يَأْخُذَ مِنْ الْعَسَلِ وَلَا مِنْ الْخَيْلِ صَدَقَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১২
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ غلام لونڈی اور گھوڑوں اور شہد کی زکوة کا بیان
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ پوچھا میں نے سعید بن مسیب سے کہ ترکی گھوڑوں میں زکوٰۃ کیا ہے انہوں نے جواب دیا کیا گھوڑوں میں بھی زکوٰۃ ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ صَدَقَةِ الْبَرَاذِينِ فَقَالَ وَهَلْ فِي الْخَيْلِ مِنْ صَدَقَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৩
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ یہود ونصاری اور مجوس کے جزیہ کا بیان
ابن شہاب سے روایت ہے کہ پہنچا مجھ کو کہ رسول اللہ ﷺ نے جزیہ لیا بحرین کے مجوس سے اور عمر بن خطاب نے جزیہ لیا فارس کے مجوس سے اور عثمان بن عفان نے جزیہ لیا بربر سے۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَيْنِ وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ فَارِسَ وَأَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَخَذَهَا مِنْ الْبَرْبَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৪
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ یہود ونصاری اور مجوس کے جزیہ کا بیان
امام محمد بن باقر سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ذکر کیا مجوس کا اور کہا کہ میں نہیں جانتا کیا کروں ان کے بارے میں تو کہا عبدالرحمن بن عوف نے گواہی دیتا ہوں میں کہ سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے آپ ﷺ ان سے وہ طریقہ برتو جو اہل کتاب سے برتتے ہو۔
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ذَکَرَ الْمَجُوسَ فَقَالَ مَا أَدْرِي کَيْفَ أَصْنَعُ فِي أَمْرِهِمْ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْکِتَابِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৫
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ یہود ونصاری اور مجوس کے جزیہ کا بیان
اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے مقرر کیا جزیہ کو سونے والوں پر ہر سال میں چار دینار اور چاندی والوں پر ہر سال میں چالیس درہم اور ساتھ اس کے یہ بھی تھا کہ بھوکے مسلمانوں کو کھانا کھلائیں اور جو کوئی مسلمان ان کے یہاں آکر اترے تو اس کی تین روز کی ضیافت کریں۔
عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ضَرَبَ الْجِزْيَةَ عَلَی أَهْلِ الذَّهَبِ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ وَعَلَی أَهْلِ الْوَرِقِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا مَعَ ذَلِکَ أَرْزَاقُ الْمُسْلِمِينَ وَضِيَافَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৬
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ یہود ونصاری اور مجوس کے جزیہ کا بیان
اسلم بن عدوی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا حضرت عمر بن خطاب سے کہ شتر خانے میں ایک اندھی اونٹنی ہے تو فرمایا حضرت عمر نے وہ اونٹنی کسی گھروالوں کو دے دے تاکہ وہ اس سے نفع اٹھائیں میں نے کہا وہ اندھی ہے حضرت عمر نے کہا اس کو اونٹوں کی قطار میں باندھ دیں گے میں نے کہا وہ چارہ کیسے کھائے گی حضرت عمر نے کہا وہ جزیے کے جانوروں میں سے ہے یا صدقہ کے میں نے کہا وہ جزیے کے حضرت عمر نے کہا واللہ تم لوگوں نے اس کے کھانے کا ارادہ کیا ہے میں نے کہا نہیں اس پر نشانی جزیہ کی موجود ہے تو حکم کیا حضرت عمر نے اور وہ نحر کی گئی اور حضرت عمر کے پاس نو پیالے تھے جو میوہ یا اچھی چیز آتی آپ ان میں رکھ کر آپ ﷺ کی بیبیوں کو بھیجا کرتے اور سب سے آخر میں اپنی بیٹی حفصہ کے پاس بھیجتے اگر وہ چیز کم ہوتی تو کمی حفصہ کے حصے میں ہوتی تو پہلے آپ نے گوشت کو پیالوں میں ڈال کر آپ ﷺ کی بیبیوں کو روانہ کیا بعد اس کے پکانے کا حکم کیا اور سب مہاجرین اور انصار کی دعوت کردی۔ امام مالک کو پہنچا کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھ بھیجا اپنے عاملوں کو جو لوگ جزیہ والوں میں سے مسلمان ہوں ان کا جزیہ معاف کریں۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ فِي الظَّهْرِ نَاقَةً عَمْيَائَ فَقَالَ عُمَرُ ادْفَعْهَا إِلَی أَهْلِ بَيْتٍ يَنْتَفِعُونَ بِهَا قَالَ فَقُلْتُ وَهِيَ عَمْيَائُ فَقَالَ عُمَرُ يَقْطُرُونَهَا بِالْإِبِلِ قَالَ فَقُلْتُ کَيْفَ تَأْکُلُ مِنْ الْأَرْضِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَمِنْ نَعَمْ الْجِزْيَةِ هِيَ أَمْ مِنْ نَعَمْ الصَّدَقَةِ فَقُلْتُ بَلْ مِنْ نَعَمْ الْجِزْيَةِ فَقَالَ عُمَرُ أَرَدْتُمْ وَاللَّهِ أَکْلَهَا فَقُلْتُ إِنَّ عَلَيْهَا وَسْمَ الْجِزْيَةِ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ فَنُحِرَتْ وَکَانَ عِنْدَهُ صِحَافٌ تِسْعٌ فَلَا تَکُونُ فَاکِهَةٌ وَلَا طُرَيْفَةٌ إِلَّا جَعَلَ مِنْهَا فِي تِلْکَ الصِّحَافِ فَبَعَثَ بِهَا إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَکُونُ الَّذِي يَبْعَثُ بِهِ إِلَی حَفْصَةَ ابْنَتِهِ مِنْ آخِرِ ذَلِکَ فَإِنْ کَانَ فِيهِ نُقْصَانٌ کَانَ فِي حَظِّ حَفْصَةَ قَالَ فَجَعَلَ فِي تِلْکَ الصِّحَافِ مِنْ لَحْمِ تِلْکَ الْجَزُورِ فَبَعَثَ بِهِ إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ تِلْکَ الْجَزُورِ فَصُنِعَ فَدَعَا عَلَيْهِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ يَضَعُوا الْجِزْيَةَ عَمَّنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الْجِزْيَةِ حِينَ يُسْلِمُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭
کتاب الزکوة
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے دسویں حصہ کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نبط کے کافروں سے گیہوں اور تیل کا بیسواں حصہ لیتے تھے تاکہ مدینہ میں اس کی آمدنی زیادہ ہو اور قطنیہ سے دسواں حصہ لیتے تھے۔
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَأْخُذُ مِنْ النَّبَطِ مِنْ الْحِنْطَةِ وَالزَّيْتِ نِصْفَ الْعُشْرِ يُرِيدُ بِذَلِکَ أَنْ يَکْثُرَ الْحَمْلُ إِلَی الْمَدِينَةِ وَيَأْخُذُ مِنْ الْقِطْنِيَّةِ الْعُشْرَ
তাহকীক: