আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب الصیام - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৫৮ টি

হাদীস নং: ৫৫৩
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضا اور کفارہ کے بیان میں
ابن شہاب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ (رض) نے اختلاف کیا رمضان کی قضا میں ایک نے کہا کہ رمضان کے روزوں کی قضا پے درپے رکھنے ضروری نہیں دوسرے نے کہا پے درپے رکھنا ضروری ہے لیکن مجھے معلوم نہیں کہ کس نے ان دونوں میں سے پے درپے رکھنے کو کہا اور کس نے یہ کہا کہ پے درپے رکھنا ضروری نہیں۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ اخْتَلَفَا فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا يُفَرِّقُ بَيْنَهُ وَقَالَ الْآخَرُ لَا يُفَرِّقُ بَيْنَهُ لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا قَالَ يُفَرِّقُ بَيْنَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৪
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضا اور کفارہ کے بیان میں
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص قصدا قے کرے روزے میں تو اس پر قضا واجب ہے اور جس کو خود قے آجائے تو اس پر قضا نہیں ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ اسْتَقَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَمَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৫
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضا اور کفارہ کے بیان میں
یحییٰ بن سعید نے سنا سعید بن مسیب سے پوچھا گیا ان سے رمضان کی قضا کے بارے میں تو کہا سعید نے میرے نزدیک یہ بات اچھی ہے کہ رمضان کی قضا پے درپے رکھے۔
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُسْأَلُ عَنْ قَضَاءِ رَمَضَانَ فَقَالَ سَعِيدٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ لَا يُفَرَّقَ قَضَاءُ رَمَضَانَ وَأَنْ يُوَاتَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৬
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضا اور کفارہ کے بیان میں
حمید بن قیس مکی سے روایت ہے کہ میں ساتھ تھا مجاہد کے اور طواف کر رہے تھے خانہ کعبہ کا اتنے میں ایک آدمی آیا اور پوچھا کہ قسم کے کفارے کے روزے پے درپے ہیں یا جدا جدا حمید نے کہا ہاں جدا جدا بھی رکھ سکتا ہے اگر چاہے مجاہد نے کہا نہیں کیونکہ ابی بن کعب کی قرأت میں ہے ثلثہ ایام متتابعات یعنی روزے تین دن کے پے درپے۔
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ مُجَاهِدٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَجَاءَهُ إِنْسَانٌ فَسَأَلَهُ عَنْ صِيَامِ أَيَّامِ الْكَفَّارَةِ أَمُتَتَابِعَاتٍ أَمْ يَقْطَعُهَا قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لَهُ نَعَمْ يَقْطَعُهَا إِنْ شَاءَ قَالَ مُجَاهِدٌ لَا يَقْطَعُهَا فَإِنَّهَا فِي قِرَاءَةِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ نفل روزے کی قضا کا بیان
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت ام المومنین عائشہ اور ام المومنین حفصہ صبح اٹھیں نفل روزہ رکھ کر پھر کھانے کا حصہ آیا تو انہوں نے روزہ کھول ڈالا اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے عائشہ فرماتی ہیں کہ حفصہ نے کہا شروع کردیا مجھے بولنے نہ دیا آخر اپنے باپ کی بیٹی تھیں یا رسول اللہ ﷺ میں اور عائشہ صبح کو اٹھیں نفل روزہ رکھ کر تو ہمارے پاس حصہ آیا کھانے کا ہم نے روزہ کھول ڈالا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے عوض میں ایک روزہ قضا کا رکھو۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ زَوْجَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَتَا صَائِمَتَيْنِ مُتَطَوِّعَتَيْنِ فَأُهْدِيَ لَهُمَا طَعَامٌ فَأَفْطَرَتَا عَلَيْهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَتْ حَفْصَةُ وَبَدَرَتْنِي بِالْكَلَامِ وَكَانَتْ بِنْتَ أَبِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصْبَحْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ صَائِمَتَيْنِ مُتَطَوِّعَتَيْنِ فَأُهْدِيَ إِلَيْنَا طَعَامٌ فَأَفْطَرْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْضِيَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ جو شخص رمضان میں روزے نہ رکھ سکے اس کے فدیہ کا بیان
امام مالک کو پہنچا انس بن مالک بوڑھے ہوگئے تھے یہاں تک کہ روزہ نہ رکھ سکتے تھے تو فدیہ دیتے تھے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ حاملہ عورت اگر خوف کرے اپنے حمل کا اور روزہ نہ رکھ سکے تو کہا انہوں نے روزہ نہ رکھے اور ہر روزے کے بدلے میں ایک مسکین کو ایک مد گیہوں دے رسول اللہ ﷺ کے مد سے۔
عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَبِرَ حَتَّى كَانَ لَا يَقْدِرُ عَلَى الصِّيَامِ فَكَانَ يَفْتَدِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ إِذَا خَافَتْ عَلَى وَلَدِهَا وَاشْتَدَّ عَلَيْهَا الصِّيَامُ قَالَ تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ بِمُدِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৯
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ جو شخص رمضان میں روزے نہ رکھ سکے اس کے فدیہ کا بیان
قاسم بن محمد سے روایت ہے وہ کہتے تھے جس شخص پر رمضان کی قضا لازم ہو پھر وہ قضا نہ کرے یہاں تک کہ دوسرا رمضان آجائے اور وہ قادر رہا ہو روزے پر تو ہر روزے کے بدلے میں ایک ایک مسکین کو ایک ایک مد گیہوں کا دے اور قضا بھی رکھے۔ امام مالک کو سعید بن جبیر سے بھی ایسا ہی پہنچا
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ كَانَ عَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقْضِهِ وَهُوَ قَوِيٌّ عَلَى صِيَامِهِ حَتَّى جَاءَ رَمَضَانُ آخَرُ فَإِنَّهُ يُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ وَعَلَيْهِ مَعَ ذَلِكَ الْقَضَاءُ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِثْلُ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬০
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ روزوں کی قضا کے بیان میں
ام المومنین عائشہ فرماتی ہیں میرے اوپر روزے ہوتے تھے رمضان کے اور میں قضا رکھ نہیں سکتی تھی یہاں تک کہ شعبان آجاتا
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصِّيَامُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَصُومُهُ حَتَّى يَأْتِيَ شَعْبَانُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬১
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ روزے کے مختلف مسائل کا بیان
ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے اب افطار نہ کریں گے اور پھر افطار کرتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے اب روزہ نہ رکھیں گے اور میں نے نہیں دیکھا رسول اللہ ﷺ کو کہ کسی مہینہ کے پورے روزہ رکھے ہوں سوائے رمضان کے اور کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہ رکھتے تھے۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬২
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ روزے کے مختلف مسائل کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ ڈھال ہے تو جب تم میں سے کوئی روزہ دار ہو تو چاہیے کہ بےہودہ نہ بکے اور جہالت نہ کرے اگر کوئی شخص اسے گالیاں بکے یا لڑے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں میں روزہ دار ہوں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ فَإِنْ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৩
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ روزے کے مختلف مسائل کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے البتہ روزہ دار کے منہ کی بو زیادہ پسند ہے مشک کی بو سے اللہ جل جلالہ کے نزدیک کیونکہ وہ چھوڑ دیتا ہے اپنی خواہشوں کو اور کھانے کو اور پانی کو میرے واسطے تو وہ روزہ میرے واسطے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا جو نیکی ہے اس کا ثواب دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک ملے گا مگر روزہ وہ میرے واسطے ہے اور اس کا ثواب بھی میں ہی دوں گا۔
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ إِنَّمَا يَذَرُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي فَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৪
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ روزے کے مختلف مسائل کا بیان
ابوہریرہ نے کہا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کئے جاتے ہیں اور شیطان باندھ دیئے جاتے ہیں
عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৫
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف کیا کرتے تھے رمضان کے درمیانی عشرے کا تو ایک سال اعتکاف کیا جب اکیسویں رات آئی جس کی صبح کو آپ ﷺ اعتکاف سے باہر آیا کرتے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے تو چاہیے اور دس دن تک اخیر میں اعتکاف کرے میں نے شب قدر کو معلوم کیا تھا پھر میں بھلا دیا گیا میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے دیکھا کہ میں شب قدر کی صبح کو سجدہ کرتا ہوں کیچڑ اور پانی میں پس ڈھونڈو تم اس کو اخیر دس میں سے ہر طاق رات میں ابوسعید خدری نے کہا کہ اسی رات پانی برسا اور مسجد کی چھت پتوں اور شاخوں کی تھی تو ٹپکی مسجد ابوسعید نے کہا میری دونوں آنکھوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے اور پیشانی اور ناک مبارک پر آپ ﷺ کے مٹی اور پانی کا نشان تھا۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْوُسُطَ مِنْ رَمَضَانَ فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ فِيهَا مِنْ صُبْحِهَا مِنْ اعْتِكَافِهِ قَالَ مَنْ اعْتَكَفَ مَعِيَ فَلْيَعْتَكِفْ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ مِنْ صُبْحِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأُمْطِرَتْ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صُبْحِ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৬
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ڈھونڈو تم شب قدر کو رمضان کی اخیر دس راتوں میں
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৭
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ڈھونڈو تم شب قدر کو رمضان کی آخر سات راتوں میں
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৮
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان
ابو النصر سے روایت ہے کہ عبداللہ بن انیس جہنی نے کہا رسول اللہ ﷺ سے یا رسول اللہ ﷺ میرا گھر دور ہے تو ایک رات مقرر کیجئے کہ اس رات میں اس مسجد میں رہوں اور عبادت کروں فرمایا آپ ﷺ نے تیسویں شب کو رمضان میں
عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَاسِعُ الدَّارِ فَمُرْنِي لَيْلَةً أَنْزِلُ لَهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৯
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان
انس بن مالک سے روایت ہے کہ آئے رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اور فرمایا کہ مجھے شب قدر معلوم ہوگئی تھی مگر دو آدمیوں نے غل مچایا تو میں بھول گیا پس ڈھونڈو اس کو اکیسویں تئیسویں اور پچیسویں شب میں یا انتیسویں اور ستائیسویں میں۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ إِنِّي أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي رَمَضَانَ حَتَّى تَلَاحَى رَجُلَانِ فَرُفِعَتْ فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭০
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ شب قدر کا بیان
امام مالک کو پہنچا کہ چند صحابہ نے شب قدر کو دیکھا خواب میں رمضان کی اخیر سات راتوں میں تو فرمایا رسول اللہ ﷺ نے میں دیکھتا ہوں کہ خواب تمہارا موافق ہوا میرے خواب کے رمضان کی اخیر سات راتوں میں سو جو کوئی تم میں سے شب قدر کو ڈھونڈنا چاہے تو ڈھونڈے اخیر کی سات راتوں میں۔ امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا ایک معتبر شخص سے اہل علم میں سے کہتے تھے رسول اللہ ﷺ کو اگلے لوگوں کی عمریں بتلائیں گئیں جتنا اللہ کو منظور تھا تو آپ ﷺ نے اپنی امت کی عمروں کو کم سمجھا اور خیال کیا کہ یہ لوگ ان کے برابر عمل نہ کرسکیں گے پس دی آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے شب قدر جو بہتر ہے ہزار مہینے سے۔ امام مالک کو پہنچا سعید بن مسیب کہتے تھے جو شخص حاضر ہو عشاء کی جماعت میں شب قدر کو تو اس نے ثواب شب قدر کا حاصل کرلیا
عَنْ مَالِك عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ و حَدَّثَنِي زِيَاد عَنْ مَالِك أَنَّهُ سَمِعَ مَنْ يَثِقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيَ أَعْمَارَ النَّاسِ قَبْلَهُ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ فَكَأَنَّهُ تَقَاصَرَ أَعْمَارَ أُمَّتِهِ أَنْ لَا يَبْلُغُوا مِنْ الْعَمَلِ مِثْلَ الَّذِي بَلَغَ غَيْرُهُمْ فِي طُولِ الْعُمْرِ فَأَعْطَاهُ اللَّهُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ زِيَاد عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ كَانَ يَقُولُ مَنْ شَهِدَ الْعِشَاءَ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَدْ أَخَذَ بِحَظِّهِ مِنْهَا
tahqiq

তাহকীক: