আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب الصیام - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫৮ টি
হাদীস নং: ৫৩৩
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ سفر میں روزہ رکھنے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نکلے مکہ کو جس سال مکہ فتح ہوا رمضان میں تو روزہ رکھا یہاں تک کہ پہنچے کدید کو پھر افطار کیا تو لوگوں نے بھی افطار کیا اور صحابہ کا یہ قاعدہ تھا کہ نئے کام کو لیتے تھے پھر لیا اس نئے کو رسول اللہ ﷺ کے کاموں میں
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ ثُمَّ أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ وَكَانُوا يَأْخُذُونَ بِالْأَحْدَثِ فَالْأَحْدَثِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩৪
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ سفر میں روزہ رکھنے کا بیان
بعض صحابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا لوگوں کو سفر میں جس سال مکہ فتح ہوا ہے روزہ نہ رکھنے کا فرمایا آپ ﷺ نے تاکہ تم قوی رہو دشمن کے مقابلہ میں اور روزہ رکھا رسول اللہ ﷺ نے کہا ابوبکر بن عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا اس صحابی نے جس نے حدیث بیان کی مجھ سے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ کو عرج میں کہ پانی ڈالا جاتا تھا آپ ﷺ کے سر پر پیاس کی وجہ سے یا گرمی کی وجہ سے پھر کہا گیا رسول اللہ ﷺ سے کہ بعض لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہے آپ ﷺ کے روزہ رکھنے کے سبب سے تو جب پہنچے رسول اللہ ﷺ کدید میں ایک پیالہ پانی کا منگا یا اور پانی پیا تب لوگوں نے بھی روزہ کھول ڈالا۔
عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ وَقَالَ تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ وَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ الْعَطَشِ أَوْ مِنْ الْحَرِّ ثُمَّ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ طَائِفَةً مِنْ النَّاسِ قَدْ صَامُوا حِينَ صُمْتَ قَالَ فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَدِيدِ دَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩৫
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ سفر میں روزہ رکھنے کا بیان
انس بن مالک سے روایت ہے کہ ہم نے سفر کیا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان میں تو نہ عیب کیا روزہ دار نے روزہ کھولنے والے پر اور نہ بےروزہ دار نے روزہ دار پر۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩৬
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ سفر میں روزہ رکھنے کا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی نے کہا رسول اللہ ﷺ سے میں روزہ رکھا کرتا ہوں تو کیا روزہ رکھو سفر میں آپ ﷺ نے فرمایا تیرا جی چاہے تو روزہ رکھ چاہے نہ رکھ۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩৭
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ سفر میں روزہ رکھنے کا بیان
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر روزہ نہیں رکھتے تھے سفر میں۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يَصُومُ فِي السَّفَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩৮
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ سفر میں روزہ رکھنے کا بیان
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ عروہ بن زیبر سفر کرتے تھے رمضان میں اور ہم سفر کرتے تھے ساتھ ان کے تو روزہ رکھتے تھے اور ہم نہ رکھتے تھے سو ہم کو حکم نہیں کرتے تھے روزہ رکھنے کا۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ فِي رَمَضَانَ وَنُسَافِرُ مَعَهُ فَيَصُومُ عُرْوَةُ وَنُفْطِرُ نَحْنُ فَلَا يَأْمُرُنَا بِالصِّيَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩৯
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ جو شخص رمضان میں سفر سے آئے یا سفر کو جائے اس کا بیان
امام مالک سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جب رمضان میں سفر میں ہوتے پھر ان کو معلوم ہوتا کہ آج کے روز شہر میں داخل ہوں گے دوپہر سے اول تو روزہ رکھ کر داخل ہوتے
عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فِي رَمَضَانَ فَعَلِمَ أَنَّهُ دَاخِلٌ الْمَدِينَةَ مِنْ أَوَّلِ يَوْمِهِ دَخَلَ وَهُوَ صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ جو شخص رمضان کا روزہ قصدا توڑ ڈالے اس کے کفارہ کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ ڈالا رمضان میں تو حکم کیا اس کو رسول اللہ ﷺ نے ایک بردہ آزاد کرنے کا یا دو مہینہ روزے رکھنے کا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا سو اس نے کہا مجھ سے یہ کوئی کام نہیں ہوسکتا اتنے میں ایک ٹوکرا کھجور کا آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اس کو دیا اور کہا کہ اس کو صدقہ کر دے وہ شخص بولا یا رسول اللہ ﷺ مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں آپ ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی کچلیاں کھل گئیں پھر فرمایا آپ ﷺ نے تو ہی کھالے اس کو۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا فَقَالَ لَا أَجِدُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّي فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ كُلْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ جو شخص رمضان کا روزہ قصدا توڑ ڈالے اس کے کفارہ کا بیان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک اعرابی آیا رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنا سینہ کو ٹتا ہوا اور بال نوچتا ہوا اور کہتا تھا ہلاک ہوا وہ شخص جو دور ہے نیکیوں سے تو فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کیا ہوا بولا میں نے صحبت کی اپنی بی بی سے رمضان کے روزہ میں تو فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تو ایک بردہ آزاد کرسکتا ہے بولا نہیں فرمایا آپ ﷺ نے ایک اونٹ یا گائے ہدی کرسکتا ہے بولا نہیں اتنے میں ایک ٹوکرا کھجور کا آپ ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ نے فرمایا اس کو لے اور صدقہ کر وہ بولا مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا کھالے اس کو اور ایک روزہ رکھ لے اس دن کے بدلے میں جس دن تو نے یہ کام کیا ہے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُ نَحْرَهُ وَيَنْتِفُ شَعْرَهُ وَيَقُولُ هَلَكَ الْأَبْعَدُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاكَ فَقَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي وَأَنَا صَائِمٌ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً فَقَالَ لَا فَقَالَ هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُهْدِيَ بَدَنَةً قَالَ لَا قَالَ فَاجْلِسْ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ فَقَالَ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي فَقَالَ كُلْهُ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَ مَا أَصَبْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کے پچھنے لگانے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ پچھنے لگاتے تھے روزے میں پھر اس کو چھوڑ دیا پھر جب روزہ دار ہوتے پچھنے نہ لگواتے یہاں تک کہ روزہ افطار کرتے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ ثُمَّ تَرَكَ ذَلِكَ بَعْدُ فَكَانَ إِذَا صَامَ لَمْ يَحْتَجِمْ حَتَّى يُفْطِرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کے پچھنے لگانے کا بیان
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن عمر پچھنے لگواتے تھے روزے میں
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَا يَحْتَجِمَانِ وَهُمَا صَائِمَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کے پچھنے لگانے کا بیان
عروہ بن زبیر پچھنے لگاتے تھے روزے میں پھر افطار نہیں کرتے تھے کہا ہشام نے میں نے کبھی نہیں دیکھا عروہ کو پچھنے لگاتے ہوئے مگر وہ روزہ سے ہوتے تھے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ لَا يُفْطِرُ قَالَ وَمَا رَأَيْتُهُ احْتَجَمَ قَطُّ إِلَّا وَهُوَ صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৫
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے روزہ کا بیان
حضرت ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت ہے انہوں نے کہا عاشورہ کے دن لوگ روزہ رکھتے تھے جاہلیت میں اور حضرت رسول اللہ ﷺ بھی اس دن روزہ رکھتے تھے زمانہ جاہلیت میں پھر جب آئے رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تو روزہ رکھا آپ ﷺ نے اس دن اور لوگوں کو بھی حکم کیا اس دن روزہ رکھنے کا پھر جب فرض ہوا رمضان تو رمضان ہی کے روزے فرض رہ گئے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا سو جس کا جی چاہے اس دن روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةَ وَتُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৬
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے روزہ کا بیان
حمید بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے انہوں نے سنا معاویہ بن ابی سفیان سے کہتے تھے جس سال انہوں نے حج کیا اور وہ منبر پر تھے اے اہل مدینہ کہاں ہیں علماء تمہارے سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے اس دن کو یہ دن عاشورہ کا ہے اس دن روزہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے اور میں روزہ دار ہوں سو جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب نے کہلا بھیجا حارث بن ہشام کو کہ کل عاشورے کا روزہ ہے تو روزہ رکھ اور حکم کر اپنے گھر والوں کو وہ روزہ رکھیں۔
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ وَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْسَلَ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ غَدًا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُمْ وَأْمُرْ أَهْلَكَ أَنْ يَصُومُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৭
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے کا اور سدا روزہ رکھنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے دو دن روزے رکھنے سے ایک یوم الفطر دوسرے یوم الاضحی میں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৮
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ تہہ کے روزوں کی ممانعت کا بیان
عبداللہ بن عمر سے ورایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا تہہ کے روزے رکھنے سے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ رکھتے ہیں فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں کھلایا جاتا ہوں پلایا جاتا ہوں۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ فَقَالَ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৯
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ تہہ کے روزوں کی ممانعت کا بیان
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بچو تم تہہ کے روزے رکھنے سے لوگوں نے کہا آپ رکھتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ ، فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے رات کو میرا رب کھلا دیتا ہے اور پلا دیتا ہے۔ سعید بن مسیب سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے نذر کی ایک مہینہ روزے رکھنے کی اب اس کو نفل روزہ رکھنا درست ہے جواب دیا کہ پہلے نذر کے روزے رکھ لے پھر نفل رکھے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ صِيَامَ شَهْرٍ هَلْ لَهُ أَنْ يَتَطَوَّعَ فَقَالَ سَعِيدٌ لِيَبْدَأْ بِالنَّذْرِ قَبْلَ أَنْ يَتَطَوَّعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫০
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ روزہ نذز کا بیان اور میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان
امام مالک کو پہنچا ہے عبداللہ بن عمر سے پوچھتے کیا کوئی روزہ رکھے کسی کی طرف سے یا نماز پڑھے کسی کی طرف سے بولے نہ کوئی روزہ رکھے کسی کی طرف سے اور نہ کوئی نماز پڑھے کسی کی طرف سے۔
عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُسْأَلُ هَلْ يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ أَوْ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ فَيَقُولُ لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ وَلَا يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫১
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضا اور کفارہ کے بیان میں
خالد بن اسلم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے ایک روزہ افطار کیا رمضان میں اور اس دن ابر تھا ان کو یہ معلوم ہوا کہ شام ہوگئی اور آفتاب ڈوب گیا پس ایک شخص آیا اور بولا یا امیر المومنین آفتاب نکل آیا حضرت عمر نے فرمایا اس کا تدارک سہل ہے ہم نے اپنے ظن پر عمل کیا تھا۔
عَنْ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَفْطَرَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي رَمَضَانَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ وَرَأَى أَنَّهُ قَدْ أَمْسَى وَغَابَتْ الشَّمْسُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ عُمَرُ الْخَطْبُ يَسِيرٌ وَقَدْ اجْتَهَدْنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫২
کتاب الصیام
পরিচ্ছেদঃ رمضان کی قضا اور کفارہ کے بیان میں
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جس شخص کے رمضان کے روزے قضا ہوں بیماری سے یا سفر سے تو ان کی قضا لگاتار رکھے۔
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ يَصُومُ قَضَاءَ رَمَضَانَ مُتَتَابِعًا مَنْ أَفْطَرَهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ فِي سَفَرٍ
তাহকীক: