আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
کتاب القرآن - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৫ টি
হাদীস নং: ৪৫৯
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ بعد صبح اور عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
علاء بن عبدالرحمن (رض) روایت ہے کہ ہم گئے انس بن مالک کے پاس بعد ظہر کے تو کھڑے ہوئے وہ نماز عصر کے واسطے پس جب فارغ ہوئے نماز سے بیان کیا ہم نے یا انہوں نے نماز جلد پڑھنے کا حال تو کہا انس نے سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھے رہتا ہیں جب آفتاب زرد ہوجاتا ہے یا اس کے اوپر ہوتا ہے تو کھڑے ہو کر چار ٹھونگے لگا لیتا ہے اس میں، نہیں یاد کرتا اللہ کو مگر تھوڑا۔
عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ذَکَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَکَرَهَا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تِلْکَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ تِلْکَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ تِلْکَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّی إِذَا اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ وَکَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَی قَرْنِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْکُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬০
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ بعد صبح اور عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی تم میں سے قصد کر کے نماز نہ پڑھے آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَحَرَّ أَحَدُکُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬১
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ بعد صبح اور عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا نماز سے بعد عصر کے یہاں تک کہ ڈوب جائے آفتاب اور بعد صبح کے یہاں تک کہ نکل آئے آفتاب۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬২
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ بعد صبح اور عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب فرماتے تھے قصد نہ کرو نماز کا آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت کیونکہ شیطان کے دو جانب سر کے ساتھ نکلتے ہیں آفتاب کے اور ساتھ ہی ڈوبتے ہیں اور عمر مارتے تھے لوگوں کو اس وقت نماز پڑھنے پر۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَقُولُ لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِکُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَطْلُعُ قَرْنَاهُ مَعَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَيَغْرُبَانِ مَعَ غُرُوبِهَا وَکَانَ يَضْرِبُ النَّاسَ عَلَی تِلْکَ الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ بعد صبح اور عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
سائب بن یزید نے دیکھا حضرت عمر نے مارا منکدر کو اس لئے کہ انہوں نے نماز پڑھی تھی بعد عصر کے۔
عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ رَأَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَضْرِبُ الْمُنْکَدِرَ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِکِتَاب الْجَنَائِزِ
তাহকীক: