আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب القرآن - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৫ টি

হাদীস নং: ৪৩৯
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ ذکر الہی کی فضیلت کا بیان
ابوہریرہ نے کہا جو شخص ہر نماز کے بعد سبحان اللہ کہے تینتیس بار اور اللہ اکبر کہے تینتیس بار اور الحمد للہ کہے تینتیس بار اور ختم کرے سو کے عددلا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل چیز قدیر۔ پس بخش دیئے جائیں گے گناہ اس کے اگرچہ ہوں مثل سمندر کی جھاگ کے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ سَبَّحَ دُبُرَ کُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَکَبَّرَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمِدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَخَتَمَ الْمِائَةَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ وَلَوْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪০
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ ذکر الہی کی فضیلت کا بیان
سعید بن مسیب نے کہا باقیات صالحات یہ کلمے ہیں اللہ اکبر سبحان اللہ والحمدللہ لا الہ الا اللہ ولاحول ولا قوہ الا باللہ۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ إِنَّهَا قَوْلُ الْعَبْدِ اللَّهُ أَکْبَرُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪১
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ ذکر الہی کی فضیلت کا بیان
ابو الدردا نے کہا کیا تم کو نہ بتاؤں وہ کام جو تمہارے سب کاموں سے بہتر ہے تمہارے لئے اور درجہ میں سب سے زیادہ بلند ہے اور تمہارے مالک کے نزدیک سب کاموں سے زیادہ عمدہ ہے اور بہتر ہے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے اور بہتر ہے اس سے کہ تم اپنے دشمن سے لڑ کر اس کی گردن مارو اور وہ تمہاری گردن مارے کہا صحابہ نے ہاں بتاؤ کہا انہوں نے ذکر اللہ سبحانہ کا۔ معاذ بن جبل نے کہا آدمی نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو زیادہ نجات دینے والا ہو اس کو اللہ کے عذاب سے سوا ذکر الٰہی کے۔
قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِکُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِکُمْ وَأَزْکَاهَا عِنْدَ مَلِيکِکُمْ وَخَيْرٍ لَکُمْ مِنْ إِعْطَائِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَخَيْرٍ لَکُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّکُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَکُمْ قَالُوا بَلَی قَالَ ذِکْرُ اللَّهِ تَعَالَی عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪২
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ ذکر الہی کی فضیلت کا بیان
رفاعہ بن رافع سے روایت ہے کہ ہم ایک روز نماز پڑھ رہے تھے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تو جب سر اٹھایا آپ ﷺ نے رکوع سے اور کہا سمع اللہ لمن حمدہ ایک شخص بولا ربنا لک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ پس جب فارغ ہوئے رسول اللہ ﷺ نماز سے فرمایا کون شخص بولا تھا ابھی اس شخص نے کہا میں تھا یا رسول اللہ ﷺ تب فرمایا آپ ﷺ نے میں نے دیکھا کہ تیس سے زیادہ کچھ فرشتے جلدی کر رہے تھے کہ کون پہلے لکھے اس کو۔
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ قَالَ کُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَائَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ الرَّکْعَةِ وَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ رَجُلٌ وَرَائَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَکًا فِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ الْمُتَکَلِّمُ آنِفًا فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَکًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَکْتُبُهُنَّ أَوَّلا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کے بیان میں
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ہر نبی کے لئے ایک دعا مقرر ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس دعا کو اٹھا رکھوں اپنی امت کی شفاعت کے واسطے دن آخرت کے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فِي الْآخِرَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৪
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کے بیان میں
یحییٰ بن سعید کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ دعا مانگتے تھے پس فرماتے تھے اے اللہ پیدا کرنے والے صبح کو اور رات کو راحت بنانے والے اور سورج اور چاند کے حساب سے چلانے والے ادا کر تو قرض میرا اور غنی کر مجھ کو محتاجی سے اور فائدہ دے مجھ کو میرے کان اور آنکھ سے اور میری قوت سے اپنی راہ میں۔
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ اللَّهُمَّ فَالِقَ الْإِصْبَاحِ وَجَاعِلَ اللَّيْلِ سَكَنًا وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ حُسْبَانًا اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنْ الْفَقْرِ وَأَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي وَقُوَّتِي فِي سَبِيلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৫
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کے بیان میں
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی تم میں سے دعا کرے تو یوں نہ کہے یا اللہ بخش دے مجھ کو اگر چاہے تو اور رحم کر ہم پر اگر چاہے تو بلکہ یوں کہے بخش دے مجھ کو اس لئے کہ اللہ جل جلالہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُلْ أَحَدُکُمْ إِذَا دَعَا اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لَا مُکْرِهَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৬
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کے بیان میں
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دعا قبول ہوتی ہے جب تک دعا مانگنے والا جلدی نہ کرے اور یہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی سو دعا میری قبول نہ ہوئی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُسْتَجَابُ لِأَحَدِکُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کے بیان میں
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اترتا ہے رب ہمارا ہر رات کو آسمان دنیا تک جب تہائی رات باقی رہتی ہے سو فرماتا ہے کون شخص ہے جو دعا کرے مجھ سے اور قبول کروں میں دعا اس کی، کون شخص ہے مانگے مجھ سے پس دوں میں اس کو، کون شخص ہے جو بخشش چاہے مجھ سے سو بخش دوں اس کو۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالَی کُلَّ لَيْلَةٍ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَی ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৮
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کے بیان میں
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ ام المومنین نے کہا میں سو رہی تھی رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں سو نہ پایا میں نے ان کو پس چھوا میں نے آپ کو تو رکھا میں نے ہاتھ آپ ﷺ کے قدموں پر اور آپ ﷺ سجدہ میں تھے فرماتے تھے پناہ مانگتا ہوں ہو تیری رضامندی کی تیرے غصے سے اور تیری عفو کی تیرے عتاب سے اور تجھ سے میں تیری تعریف نہیں کرسکتا تو ایسا ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ کُنْتُ نَائِمَةً إِلَی جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَقَدْتُهُ مِنْ اللَّيْلِ فَلَمَسْتُهُ بِيَدِي فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَی قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ وَبِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِي ثَنَائً عَلَيْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَيْتَ عَلَی نَفْسِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کے بیان میں
طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افضل دعاؤں میں دعا عرفہ کے دن کی ہے اور افضل ان سب کلمات میں جو میں نے کہے ہیں اور اگلے پیغمبروں نے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے۔
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ کَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الدُّعَائِ دُعَائُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫০
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کے بیان میں
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سکھاتے تھے ان کو یہ دعا جیسے سکھاتے تھے ان کو ایک سورت قرآن کی فرماتے تھے اے اللہ پناہ مانگتا ہوں میں تیری جہنم کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں تیری دجال کے فتنہ سے اور پناہ مانگتا ہوں تیری زندگی اور موت کے فتنہ سے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَائَ کَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫১
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کے بیان میں
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کھڑے ہوتے نماز کو عین رات میں فرماتے یا اللہ سب تعریفیں تیرے لئے ہیں، تو نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں اور تو ہی قائم رکھنے والا ہے آسمانوں اور زمینوں کو اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں اور تو ہی پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان کا جو آسمان اور زمین کے بیچ میں ہیں تو حق ہے تیرا قول سچا ہے تیرا وعدہ برحق ہے تجھ سے ملنا حق ہے جنت و جہنم حق ہے قیامت حق ہے اے پروردگار تیرے حکم کا میں تابعدار ہوں اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف متوجہ ہوا اور تیری مدد سے میں لڑا کفار سے اور تجھ کو میں نے حاکم بنایا جب اختلاف ہوا سو بخش دے میرے اگلے اور پچھلے اور چھپے اور کھلے گناہ تو میرا معبود ہے تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَيْکَ تَوَکَّلْتُ وَإِلَيْکَ أَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫২
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کے بیان میں
عبداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ہمارے پاس آئے بنی معاویہ میں اور وہ ایک گاؤں ہے انصار کے گاؤں میں سے تو پوچھا مجھ سے تم کو معلوم ہے کس جگہ پر نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ نے میں نے کہا ہاں عبداللہ بن عمر نے کہا بتاؤ مجھ کو میں نے کہا دعا کی آپ ﷺ نے اس امر کی، کہ مسلمانوں پر کوئی دشمن ان کی غیر قوم کا یعنی کافروں میں سے مسلط نہ کرنا اور ان کو قحط سے ہلاک نہ کرنا تو یہ دونوں دعائیں قبول ہوگئیں تیسری دعا یہ ہے کہ مسلمانوں کی آپس میں خون اور جنگ نہ ہو تو یہ دعا قبول نہ ہوئی عبداللہ بن عمر نے کہا سچ کہا تو نے پھر کہا کہ اب قیامت تک فساد آپس میں چلتا جائے گا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيکٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ وَهِيَ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَی الْأَنْصَارِ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ أَيْنَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِکُمْ هَذَا فَقُلْتُ لَهُ نَعَمْ وَأَشَرْتُ لَهُ إِلَی نَاحِيَةٍ مِنْهُ فَقَالَ هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلَاثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَأَخْبِرْنِي بِهِنَّ فَقُلْتُ دَعَا بِأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ وَلَا يُهْلِکَهُمْ بِالسِّنِينَ فَأُعْطِيَهُمَا وَدَعَا بِأَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمُنِعَهَا قَالَ صَدَقْتَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَلَنْ يَزَالَ الْهَرْجُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৩
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کے بیان میں
زید بن اسلم سے روایت ہے وہ کہتے تھے جو شخص دعا کرتا ہے تو اس کی دعا تین حال سے خالی نہیں ہوتی یا قبول ہوجاتی ہے یا رکھ لی جاتی ہے قیامت کے دن پر یا گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَّا کَانَ بَيْنَ إِحْدَی ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ يُسْتَجَابَ لَهُ وَإِمَّا أَنْ يُدَّخَرَ لَهُ وَإِمَّا أَنْ يُکَفَّرَ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৪
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کی ترکیب
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ دیکھا مجھ کو عبداللہ بن عمر نے دعا کرتے ہوئے اور میں دو انگلیوں سے اشارہ کرتا تھا ہر ایک ہاتھ کی ایک ایک انگلی تھی سو منع کیا مجھ کو۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَدْعُو وَأُشِيرُ بِأُصْبُعَيْنِ صَبْعٍ مِنْ کُلِّ يَدٍ فَنَهَانِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৫
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کی ترکیب
سعید بن مسیب کہتے تھے بیشک آدمی کا درجہ بلند ہوجاتا ہے اس کے لڑکے کے دعا کرنے سے بعد اس کے مرجانے کے اور اشارہ کیا آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں سے آسمانوں کی طرف پھر اٹھایا ان کو۔
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ کَانَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُرْفَعُ بِدُعَائِ وَلَدِهِ مِنْ بَعْدِهِ وَقَالَ بِيَدَيْهِ نَحْوَ السَّمَائِ فَرَفَعَهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ دعا کی ترکیب
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ یہ آیت (وَلَا تَجْ هَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا) 17 ۔ الاسراء : 110) دعا میں اتری ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ دعا مانگتے تھے یا اللہ میں مانگتا ہوں تجھ سے نیک کام کرنا اور برے کاموں کو چھوڑنا اور محبت غریبوں کی اور جب تو کسی مصیبت کو لوگوں میں اتارنا چاہے تو مجھے اپنے پاس بلا لے اس مصیبت سے بچا کر۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہدایت کی طرف بلائے اس کو مثل اس کے ثواب ملے گا جو اس کی پیروی کرے کچھ کم نہ ہوگا اس کے ثواب سے اور جو شخص گمراہی کی طرف بلائے اس پر اتنا گناہ ہوگا جتنا پیروی کرنے والے پر ہوگا کچھ کم نہ ہوگا پیروی کرنے والے کے گناہ سے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے یا اللہ مجھ کو متقیوں کا پیشوا بنانا۔ امام مالک کو پہنچا ہے ابودرداء سے جب اٹھتے تھے رات کو کہتے تھے سو گئیں آنکھیں اور غائب ہوگئے تارے اور تو اے پروردگار زندہ ہے بیدار ہے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِکَ سَبِيلًا فِي الدُّعَائِ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ فِي النَّاسِ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْکَ غَيْرَ مَفْتُونٍ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ فِي النَّاسِ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى هُدًى إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ اتَّبَعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى ضَلَالَةٍ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَئِمَّةِ الْمُتَّقِينَ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ يَقُومُ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَيَقُولُ نَامَتْ الْعُيُونُ وَغَارَتْ النُّجُومُ وَأَنْتَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَئِمَّةِ الْمُتَّقِينَ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ يَقُومُ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَيَقُولُ نَامَتْ الْعُيُونُ وَغَارَتْ النُّجُومُ وَأَنْتَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ بعد صبح اور عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
عبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب آفتاب نکلتا ہے تو شیطان اس کے نزدیک ہوتا ہے اور جب بلند ہوجاتا ہے تو اس سے الگ ہوجاتا ہے پھر جب سر پر آجاتا ہے نزدیک ہوجاتا ہے پھر جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہوجاتا ہے پھر جب ڈوبنے لگتا ہے تو نزدیک ہوجاتا ہے پھر جب ڈوب جاتا ہے الگ ہوجاتا ہے اور منع کیا رسول اللہ ﷺ نے ان ساعتوں میں نماز پڑھنے سے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا وَنَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ فِي تِلْکَ السَّاعَاتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮
کتاب القرآن
পরিচ্ছেদঃ بعد صبح اور عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب کنارہ آفتاب کا نکلے تو نماز میں تو قف کرو یہاں تک کہ پورا آفتاب نکل آئے اور جب کنارہ آفتاب کا ڈوب جائے تو توقف کرو یہاں تک کہ پورا آفتاب ڈوب جائے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّی تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّی تَغِيبَ
tahqiq

তাহকীক: