কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
کتاب الا شربة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২০ টি
হাদীস নং: ৫৭০২
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز خمر (شراب) ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٣٩٧) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف وصح عنه مرفوعا صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5699
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৩
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے شراب حرام کی ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٠١٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5700
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ شَبِيبًا وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَرَّمَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৪
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، اور ہر نشہ آور چیز خمر (شراب) ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ لوگ ثقہ اور عادل ہیں اور روایت کی صحت میں مشہور ہیں۔ اور عبدالملک ان میں سے کسی ایک کے بھی برابر نہیں، گرچہ عبدالملک کی تائید اسی جیسے کچھ اور لوگ بھی کریں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٥٩٠ (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5701
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَؤُلَاءِ أَهْلُ الثَّبْتِ وَالْعَدَالَةِ مَشْهُورُونَ بِصِحَّةِ النَّقْلِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ لَا يَقُومُ مَقَامَ وَاحِدٍ مِنْهُمْ وَلَوْ عَاضَدَهُ مِنْ أَشْكَالِهِ جَمَاعَةٌ، وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৫
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
رقیہ بنت عمرو بن سعید کہتی ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کی پرورش میں تھی، ان کے لیے کشمش بھگوئی جاتی تھی، پھر وہ اسے صبح کو پیتے تھے، پھر کشمش لی جاتی اور اس میں کچھ اور کشمش ڈال دی جاتی اور اس میں پانی ملا دیا جاتا، پھر وہ اسے دوسرے دن پیتے اور تیسرے دن وہ اسے پھینک دیتے۔ واحتجوا بحديث أبي مسعود عقبة بن عمرو ان لوگوں نے ابومسعود عقبہ بن عمرو کی حدیث سے بھی دلیل پکڑی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٦٠٢) (ضعیف الإسناد ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5702
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ السَّعِيدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي رُقَيَّةُ بِنْتُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، قَالَتْ: كُنْتُ فِي حَجْرِ ابْنِ عُمَرَ، فَكَانَيُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ، فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ، ثُمَّ يُجَفَّفُ الزَّبِيبُ، وَيُلْقَى عَلَيْهِ زَبِيبٌ آخَرُ، وَيُجْعَلُ فِيهِ مَاءٌ فَيَشْرَبُهُ مِنَ الْغَدِ، حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ الْغَدِ طَرَحَهُ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৬
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
ابومسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کعبے کے پاس پیاسے ہوگئے، تو آپ نے پانی طلب کیا۔ آپ کے پاس مشکیزہ میں بنی ہوئی نبیذ لائی گئی۔ آپ نے اسے سونگھا اور منہ ٹیڑھا کیا (ناپسندیدگی کا اظہار کیا) فرمایا : میرے پاس زمزم کا ایک ڈول لاؤ ، آپ نے اس میں تھوڑا پانی ملایا پھر پیا، ایک شخص بولا : اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) یہ ضعیف ہے، اس لیے کہ یحییٰ بن یمان اس کی روایت میں اکیلے ہیں، سفیان کے دوسرے تلامذہ نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور یحییٰ بن یمان کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاسکتی اس لیے کہ ان کا حافظہ ٹھیک نہیں اور وہ غلطیاں بہت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٩٨٠) (ضعیف الإسناد) (مولف نے وجہ بیان کردی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5703
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: عَطِشَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ، فَاسْتَسْقَى، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ، فَشَمَّهُ فَقَطَّبَ، فَقَالَ: عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَفَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، قَالَ: لَا. وَهَذَا خَبَرٌ ضَعِيفٌ، لِأَنَّ يَحْيَى بْنَ يَمَانٍ انْفَرَدَ بِهِ دُونَ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَكَثْرَةِ خَطَئِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৭
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
خالد بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا : مجھے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ روزہ رکھے ہوئے ہیں ان دنوں میں جن میں رکھا کرتے تھے۔ تو میں نے ایک بار آپ کے روزہ افطار کرنے کے لیے کدو کی تو نبی میں نبیذ بنائی، جب شام ہوئی تو میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اس دن روزہ رکھتے ہیں تو میں آپ کے افطار کے لیے نبیذ لایا ہوں۔ آپ نے فرمایا : میرے قریب لاؤ ، چناچہ اسے میں نے آپ کی طرف بڑھائی تو وہ جوش مار رہی تھی۔ آپ نے فرمایا : اسے لے جاؤ اور دیوار سے مار دو اس لیے کہ یہ ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یوم آخرت پر ۔ ومما احتجوا به فعل عمر بن الخطاب رضى اللہ عنه ان کی ایک اور دلیل عمر بن خطاب (رض) کا عمل بھی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٦١٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5704
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حِصْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُأَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَ يَصُومُهَا، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْمَسَاءُ جِئْتُهُ أَحْمِلُهَا إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَصُومُ فِي هَذَا الْيَوْمِ، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَكَ بِهَذَا النَّبِيذِ، فَقَالَ: أَدْنِهِ مِنِّي يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَرَفَعْتُهُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ: خُذْ هَذِهِ فَاضْرِبْ بِهَا الْحَائِطَ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ. وَمِمَّا احْتَجُّوا بِهِ فِعْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৮
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
ابورافع سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے کہا : جب تمہیں نبیذ میں تیزی آجانے کا اندیشہ ہو، تو اسے پانی ملا کر ختم کر دو ، عبداللہ (راوی) کہتے ہیں : اس سے پہلے کہ اس میں تیزی آجائے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٦٦٠) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ابو حفص مجہول ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5705
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ إِمَامٌ لَنَا وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِذَا خَشِيتُمْ مِنْ نَبِيذٍ شِدَّتَهُ، فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مِنْ قَبْلِ أَنْ يَشْتَدَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৯
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ثقیف کے لوگوں نے عمر (رض) کے پاس ایک مشروب رکھا، انہوں نے منگایا اور جب اسے اپنے منہ سے قریب کیا تو اسے ناپسند کیا اور اسے منگا کر پانی سے اس کی تیزی ختم کی، اور کہا اسی طرح تم بھی کیا کرو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٤٥٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی سعید بن المسیب نے عمر رضی الله عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5706
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: تَلَقَّتْ ثَقِيفٌ عُمَرَ بِشَرَابٍ، فَدَعَا بِهِ، فَلَمَّا قَرَّبَهُ إِلَى فِيهِ كَرِهَهُ، فَدَعَا بِهِ فَكَسَرَهُ بِالْمَاءِ، فَقَالَ: هَكَذَا فَافْعَلُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১০
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
عتبہ بن فرقد کہتے ہیں کہ نبیذ جسے عمر بن خطاب (رض) پیا کرتے تھے، وہ سرکہ ہوتا تھا ١ ؎۔ اس کی صحت پر سائب کی یہ حدیث دلیل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٦٠٣) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : پچھلی روایات میں عمر (رض) کے بارے میں جو یہ آیا ہے کہ آپ نے اس مشروب کے پینے پر منہ بنایا تھا، پھر پانی کے ذریعہ اس کے نشہ کو ختم کر کے پی گئے، کیونکہ آپ نے تو نشہ نہ آنے پر بھی اپنے بیٹے عبیداللہ پر شراب پینے کی حد لگائی تو خود کیسے نشہ آور مشروب کا نشہ پانی سے ختم کر کے اس کو پی لیا ؟ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5707
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْإِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيذُ الَّذِي يَشْرَبُهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَدْ خُلِّلَ، وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ هَذَا حَدِيثُ السَّائِبِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১১
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے
سائب بن یزید سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) ان کی طرف نکلے اور بولے : مجھے فلاں سے کسی شراب کی بو آرہی ہے، اور وہ یہ کہتا ہے کہ یہ طلاء کا شراب ہے اور میں پوچھ رہا ہوں کہ اس نے کیا پیا ہے۔ اگر وہ کوئی نشہ لانے والی چیز ہے تو اسے کوڑے لگاؤں گا، چناچہ عمر بن خطاب (رض) نے اسے پوری پوری حد لگائی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ١٠٤٤٣) (صحیح الٕاسناد ) وضاحت : ١ ؎: عمر (رض) کا مقصد یہ تھا کہ اگرچہ عبیداللہ کو نشہ نہیں آیا ہے، لیکن اگر اس نے کوئی نشہ لانے والی چیز پی ہوگی تو میں اس پر بھی اس کو حد کے کوڑے لگواؤں گا، اس لیے طحاوی وغیرہ کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے کہ نشہ لانے والی مشروب کی وہ حد حرام ہے جو نشہ لائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5708
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرَابُ الطِّلَاءِ، وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ، فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا جَلَدْتُهُ، فَجَلَدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْحَدَّ تَامًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১২
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ اس ذلیل کردینے والے عذاب کا بیان جو کہ اللہ عزوجل نے شرابی کے لئے تیار کر رکھا ہے
جابر (رض) سے روایت ہے کہ جیشان کا ایک شخص (جیشان یمن کا ایک قبیلہ ہے) آیا اور رسول اللہ ﷺ سے مکئی کے بنے اس مشروب کے بارے میں پوچھا جسے وہ اپنے ملک میں پیتے تھے اور اسے مزر کہتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا : کیا وہ نشہ لاتا ہے ؟ وہ بولا : جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ طے کردیا ہے کہ جو نشہ لانے والی چیز پیئے گا تو اللہ تعالیٰ اسے طین ۃ الخبال پلائے گا ، لوگوں نے عرض کیا : یہ طین ۃ الخبال کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جہنمیوں کا پسینہ، یا فرمایا : جہنمیوں کا مواد ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٧ (٢٠٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٩١) ، مسند احمد (٣/٣٦١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5709
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ جَيْشَانَ، وَجَيْشَانُ مِنْ الْيَمَنِ قَدِمَ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ، يُقَالُ لَهُ: الْمِزْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمُسْكِرٌ هُوَ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَهِدَ لِمَنْ شَرِبَ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ ؟ قَالَ: عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ، أَوْ قَالَ: عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১৩
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جس شے میں شبہ ہو اس کو چھوڑ دینا
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : حلال واضح ہے، اور حرام (بھی) واضح ہے، ان کے درمیان شبہ والی کچھ چیزیں ہیں ١ ؎، میں تم سے ایک مثال بیان کرتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے ایک چراگاہ کی باڑھ لگائی ہے (اور اللہ کی چراگاہ محرمات ہیں) جو بھی اس باڑھ کے اردگرد چرائے گا، عین ممکن ہے کہ وہ چراگاہ میں بھی چرا ڈالے۔ (کبھی يوشك أن يخالط الحمى کے بجائے يوشك أن يرتع کہا) (معنی ایک ہے الفاظ کا فرق ہے) ، اسی طرح جو شبہ کا کام کرے گا ممکن ہے وہ آگے (حرام کام کرنے کی) جرات کر بیٹھے۔ ١ ؎: کبھی إن بين ذلك أمور مشتبهات کے بجائے یوں کہا : إن بين ذلك أمورا مشتبهة مفہوم ایک ہی ہے بس لفظ کے واحد و جمع ہونے کا فرق ہے، گویا دنیاوی چیزیں تین طرح کی ہیں : حلال، حرام اور مشتبہ، پس حلال چیزیں وہ ہیں جو کتاب و سنت میں بالکل واضح ہیں جیسے دودھ، شہد، میوہ، گائے اور بکری وغیرہ، اسی طرح حرام چیزیں بھی کتاب و سنت میں واضح ہیں، جیسے شراب، زنا، قتل اور جھوٹ وغیرہ، اور مشتبہ وہ ہے جو کسی حد تک حلال سے اور کسی حد تک حرام سے یعنی دونوں سے مشابہت رکھتی ہو، جیسے رسول اللہ ﷺ نے راستہ میں ایک کھجور پڑا ہوا دیکھا تو فرمایا کہ اگر اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کا ہوسکتا ہے تو میں اسے کھا لیتا۔ اس لیے مشتبہ امر سے اپنے آپ کو بچا لینا ضروری ہے۔ کیونکہ اسے اپنانے کی صورت میں حرام میں پڑنے کا خطرہ ہے، نیز شبہ والی چیز میں پڑتے پڑتے حرام میں پڑنے اور اسے اپنانے کی جسارت کرسکتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٤٥٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5710
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ، وَرُبَّمَا قَالَ: وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَةً، وَسَأَضْرِبُ فِي ذَلِكَ مَثَلًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَى حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى، وَرُبَّمَا قَالَ: يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ وَإِنَّ مَنْ خَالَطَ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১৪
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جس شے میں شبہ ہو اس کو چھوڑ دینا
ابوالحوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی (رض) سے کہا کہ آپ کو رسول اللہ ﷺ کی کون سی بات یاد ہے ؟ تو انہوں نے کہا : مجھے آپ کی یہ بات یاد ہے : جو شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور وہ کرو جس میں شک نہ ہو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/القیامة ٦٠ (٢٥١٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٠٥) ، مسند احمد (١/٢٠٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5711
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْديِّ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: مَا حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْهُ: دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১৫
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو شخص شراب تیار کرے اس کے ہاتھ انگور فروخت کرنا مکروہ ہے
طاؤس سے روایت ہے کہ وہ ناپسند کرتے تھے کہ انگور کسی ایسے کے ہاتھ بیچا جائے جو اس کی نبیذ بناتا ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٨٣٩) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: مراد نشے والی نبیذ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5712
أَخْبَرَنَا الْجَارُودُ بْنُ مُعَاذٍ هُوَ بَاوَرْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَبِيعَ الزَّبِيبَ لِمَنْ يَتَّخِذُهُ نَبِيذًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১৬
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ انگور کا شیرہ فروخت کرنا مکروہ ہے
مصعب بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ سعد کے انگور کے باغ تھے اور ان میں بہت انگور ہوتے تھے۔ اس (باغ) میں ان کی طرف سے ایک نگراں رہتا تھا، ایک مرتبہ باغ میں بکثرت انگور لگے، نگراں نے انہیں لکھا : مجھے انگوروں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں ان کا رس نکال لوں ؟ ، تو سعد (رض) نے اسے لکھا : جب میرا یہ خط تم تک پہنچے تو تم میرے اس ذریعہ معاش (باغ) کو چھوڑ دو ، اللہ کی قسم ! اس کے بعد تم پر کسی چیز کا اعتبار نہیں کروں گا، چناچہ انہوں نے اسے اپنے باغ سے ہٹا دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٩٤٢) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: نگراں کا مقصد تھا کہ رس نکال کر بیچ دوں، تو شاید اس وقت زیادہ تر خریدنے والے اس رس سے شراب بناتے ہوں گے، اس لیے سعد (رض) نے جوس نکال کر بیچنے کو ناپسند کیا، ورنہ صرف رس میں نشہ نہ ہو تو پیا جاسکتا ہے، اور اس کو خریدا اور بیچا جاسکتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5713
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: كَانَ لِسَعْدٍ كُرُومٌ وَأَعْنَابٌ كَثِيرَةٌ، وَكَانَ لَهُ فِيهَا أَمِينٌ فَحَمَلَتْ عِنَبًا كَثِيرًا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنِّي أَخَافُ عَلَى الْأَعْنَابِ الضَّيْعَةَ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ أَعْصُرَهُ عَصَرْتُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ: إِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَاعْتَزِلْ ضَيْعَتِي، فَوَاللَّهِ لَا أَئْتَمِنُكَ عَلَى شَيْءٍ بَعْدَهُ أَبَدًا، فَعَزَلَهُ عَنْ ضَيْعَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১৭
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ انگور کا شیرہ فروخت کرنا مکروہ ہے
ابن سیرین کہتے ہیں کہ رس اس کے ہاتھ بیچو جو اس کا طلاء بنائے اور شراب نہ بنائے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٣٠٥) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5714
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: بِعْهُ عَصِيرًا مِمَّنْ يَتَّخِذُهُ طِلَاءً، وَلَا يَتَّخِذُهُ خَمْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১৮
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے اپنے کسی عامل (گورنر) کو لکھا : مسلمانوں کو وہ طلاء پینے دو جس کے دو حصے جل گئے ہوں اور ایک حصہ باقی ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٤٦١) (حسن، صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: انگور کا رس دو تہائی جل گیا ہو اور ایک تہائی رہ جائے تو اس کو طلا کہتے ہیں، یہ حلال ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5715
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نُبَاتَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ: أَنِ ارْزُقْ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الطِّلَاءِ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১৯
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟
عامر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری کے نام عمر بن خطاب (رض) کا خط پڑھا : امابعد، میرے پاس شام کا ایک قافلہ آیا، ان کے پاس ایک مشروب تھا جو گاڑھا اور کالا تھا جیسے اونٹ کا طلاء۔ میں نے ان سے پوچھا : وہ اسے کتنا پکاتے ہیں ؟ انہوں نے مجھے بتایا : وہ اسے دو تہائی پکاتے ہیں۔ اس کے دو خراب حصے جل کر ختم ہوجاتے ہیں، ایک تہائی تو شرارت (نشہ) والا اور دوسرا تہائی اس کی بدبو والا۔ لہٰذا تم اپنے ملک کے لوگوں کو اس کے پینے کی اجازت دو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٤٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ پکانے پر انگور کے رس کی تین حالتیں ہیں : پہلی حالت یہ ہے کہ وہ نشہ لانے والا اور تیز ہوتا ہے، دوسری حالت یہ ہے کہ وہ بدبودار ہوتا ہے اور تیسری حالت یہ ہے کہ وہ عمدہ اور ذائقہ دار ہوتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5716
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهَا قَدِمَتْ عَلَيَّ عِيرٌ مِنْ الشَّامِ تَحْمِلُ شَرَابًا غَلِيظًا أَسْوَدَ كَطِلَاءِ الْإِبِلِ، وَإِنِّي سَأَلْتُهُمْ عَلَى كَمْ يَطْبُخُونَهُ ؟ فَأَخْبَرُونِي أَنَّهُمْ يَطْبُخُونَهُ عَلَى الثُّلُثَيْنِ، ذَهَبَ ثُلُثَاهُ الْأَخْبَثَانِ ثُلُثٌ بِبَغْيِهِ، وَثُلُثٌ بِرِيحِهِ، فَمُرْ مَنْ قِبَلَكَ يَشْرَبُونَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭২০
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟
عبداللہ بن یزید خطمی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے ہمیں لکھا : امابعد، اپنے مشروبات کو اس قدر پکاؤ کہ اس میں سے شیطانی حصہ نکل جائے ١ ؎، کیونکہ اس کے اس میں دو حصے ہیں اور تمہارا ایک۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٥٨٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: شیطانی حصہ سے روایت نمبر ٥٧٢٩ میں مذکور واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5717
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَاعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَّا بَعْدُ، فَاطْبُخُوا شَرَابَكُمْ حَتَّى يَذْهَبَ مِنْهُ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّ لَهُ اثْنَيْنِ وَلَكُمْ وَاحِدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭২১
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ کس قسم کا طلاء پینا درست ہے اور کو نسی قسم کا ناجائز؟
عامر شعبی کہتے ہیں کہ علی (رض) لوگوں کو اتنا گاڑھا طلاء پلاتے کہ اگر اس میں مکھی گرجائے تو وہ اس میں سے نکل نہ سکے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠١٥١) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5718
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُيَرْزُقُ النَّاسَ الطِّلَاءَ يَقَعُ فِيهِ الذُّبَابُ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ.
তাহকীক: