কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
کتاب الا شربة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২০ টি
হাদীস নং: ৫৭৪২
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے رات کو کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی، وہ مشکیزے میں رکھی جاتی پھر آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور اس کے بعد کے (تیسرے) دن پیتے، جب تیسرے دن کا آخری وقت ہوتا تو آپ اسے (کسی کو) پلاتے یا خود پی لیتے اور صبح تک کچھ باقی رہ جاتی تو اسے بہا دیتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٧٤٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5739
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ نَبِيذُ الزَّبِيبِ مِنَ اللَّيْلِ فَيَجْعَلُهُ فِي سِقَاءٍ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ، وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ، فَإِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ الثَّالِثَةِ سَقَاهُ أَوْ شَرِبَهُ فَإِنْ أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ، أَهْرَاقَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৪৩
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ان کے لیے مشکیزے میں کشمش صبح کو بھگوئی جاتی، پھر وہ اسے رات کو پیتے اور شام کو بھگوئی جاتی تو صبح کو پیتے، اور وہ مشکیزے کو دھو لیتے تھے، اور معمولی سا تل چھٹ وغیرہ نہیں رہنے دیتے۔ نافع کہتے ہیں : ہم اسے شہد کی طرح پیتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٩٣٨) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5740
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ الزَّبِيبُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ وَيُنْبَذُ لَهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً، وَكَانَ يَغْسِلُ الْأَسْقِيَةَ وَلَا يَجْعَلُ فِيهَا دُرْدِيًّا وَلَا شَيْئًا، قَالَ نَافِعٌ: فَكُنَّا نَشْرَبُهُ مِثْلَ الْعَسَلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৪৪
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان
بسام کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے نبیذ کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا : علی بن حسین کے لیے رات کو نبیذ تیار کی جاتی تو وہ صبح کو پیتے، اور صبح کو تیار کی جاتی تو رات کو پیتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩١٣٥) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5741
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ بَسَّامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عَنِ النَّبِيذِ ؟ قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُيُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً وَيُنْبَذُ لَهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ مِنَ اللَّيْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৪৫
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان
عبداللہ بن المبارک کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے سنا : ان سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ انہوں نے کہا : شام کو بھگو دو اور صبح کو پیو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٧٧٣) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5742
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ سُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ ؟، قَالَ: انْتَبِذْ عَشِيًّا وَاشْرَبْهُ غُدْوَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৪৬
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان
ابوعثمان (جو ابوعثمان نہدی نہیں ہیں) سے روایت ہے کہ ام الفضل نے انس بن مالک (رض) سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں مسئلہ پوچھوایا۔ تو انہوں نے اپنے بیٹے نضر کے واسطہ سے ان کو بتایا کہ وہ گھڑے میں نبیذ تیار کرتے تھے، اور صبح کو نبیذ تیار کرتے اور شام کو پیتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٧٢٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” ابو عثمان “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5743
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ وَلَيْسَ بِالنَّهْدِيِّ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ أَرْسَلَتْ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟، فَحَدَّثَهَا، عَنْ النَّضْرِ ابْنِهِ: أَنَّهُ كَانَ يَنْبِذُ فِي جَرٍّ يُنْبَذُ غَدْوَةً وَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৪৭
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ وہ مکروہ سمجھتے تھے کہ نبیذ کے تل چھٹ کو نبیذ میں ملایا جائے تاکہ تل چھٹ کی وجہ سے اس میں تیزی آجائے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٧٢٤) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5744
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَجْعَلَ نَطْلَ النَّبِيذِ فِي النَّبِيذِ لِيَشْتَدَّ بِالنَّطْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৪৮
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیذ کے بارے میں کہا : نبیذ کی شراب اس کی تل چھٹ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٧٠٢) (صحیح الإسناد ) صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5745
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: فِي النَّبِيذِ خَمْرُهُ دُرْدِيُّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৪৯
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ حلال نبیذ اور حرام نبیذ کا بیان
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ خمر کا نام خمر اس لیے پڑا کہ وہ کچھ دیر رکھ چھوڑا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نتھر کر بالکل صاف ہوجاتا ہے، اور نیچے تل چھٹ بیٹھ جاتی ہے، اور وہ ہر اس نبیذ کو مکروہ سمجھتے تھے جس میں تل چھٹ ملا دی گئی ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٧٢٣) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5746
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْخَمْرُ لِأَنَّهَا تُرِكَتْ حَتَّى مَضَى صَفْوُهَا وَبَقِيَ كَدَرُهَا، وَكَانَ يَكْرَهُ كُلَّ شَيْءٍ يُنْبَذُ عَلَى عَكَرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৫০
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ نبیذ سے متعلق ابراہیم پر رواة کا اختلاف
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ جو شخص کوئی مشروب پیے اور اس سے نشہ آجائے تو اس کے لیے درست نہیں کہ وہ دوبارہ اسے پیے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٤٢٥) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5747
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ شَرِبَ شَرَابًا فَسَكِرَ مِنْهُ لَمْ يَصْلُحْ لَهُ أَنْ يَعُودَ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৫১
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ نبیذ سے متعلق ابراہیم پر رواة کا اختلاف
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ پختہ (پکا ہوا) شیرہ پینے میں کوئی حرج نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٤٢٦) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5748
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِنَبِيذِ الْبُخْتُجِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৫২
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ نبیذ سے متعلق ابراہیم پر رواة کا اختلاف
ابومسکین کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا : ہم لوگ خمر (شراب) یا طلاء کا تل چھٹ لیتے ہیں، پھر اسے صاف کر کے اس میں تین روز تک کشمش بھگوتے ہیں، پھر ہم اسے صاف کرتے ہیں، پھر اسے چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنی حد کو پہنچ جائے، پھر ہم اسے پیتے ہیں، انہوں نے کہا : وہ مکروہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٤٢٧) (حسن الإسناد ) قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5749
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مِسْكِينٍ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ، قُلْتُ: إِنَّا نَأْخُذُ دُرْدِيَّ الْخَمْرِ، أَوِ الطِّلَاءِ، فَنُنَظِّفُهُ ثُمَّ نَنْقَعُ فِيهِ الزَّبِيبَ ثَلَاثًا، ثُمَّ نُصَفِّيهِ ثُمَّ نَدَعُهُ حَتَّى يَبْلُغَ، فَنَشْرَبُهُ، قَالَ: يُكْرَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৫৩
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ نبیذ سے متعلق ابراہیم پر رواة کا اختلاف
ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابراہیم نخعی پر رحم کرے، لوگ نبیذ کے سلسلے میں سختی کرتے ہیں اور وہ اس کی اجازت دیتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٤٢٨) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5750
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ شَدَّدَ النَّاسُ فِي النَّبِيذِ وَرَخَّصَ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৫৪
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ نبیذ سے متعلق ابراہیم پر رواة کا اختلاف
ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو کہتے ہوئے سنا : میں نے کسی سے نشہ لانے والی چیز کی رخصت صحیح روایت کے ساتھ نہیں سنی سوائے ابراہیم نخعی کے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٤٢٩) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5751
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: مَا وَجَدْتُ الرُّخْصَةَ فِي الْمُسْكِرِ عَنْ أَحَدٍ صَحِيحًا إِلَّا عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৫৫
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ نبیذ سے متعلق ابراہیم پر رواة کا اختلاف
عبیداللہ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابواسامہ کو کہتے ہوئے سنا : میں نے کسی شخص کو عبداللہ بن مبارک سے زیادہ علم کا طالب شام، مصر، یمن اور حجاز میں نہیں دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٩٤١) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5752
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُسَامَةَ، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَطْلَبَ لِلْعِلْمِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، الشَّامَاتِ، وَمِصْرَ، وَالْيَمَنَ، وَالْحِجَازَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৫৬
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ کون سے مشروبات (پینا) درست ہے؟
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس لکڑی کا ایک پیالا تھا، جس کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ میں نے اس میں رسول اللہ ﷺ کو ہر قسم کا مشروب پلایا ہے : پانی، شہد، دودھ اور نبیذ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٣٢٧) صحیح مسلم/الٔشربة ٩(٢٠٠٨) ، سنن الترمذی/الشمائل ٢٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5753
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ قَدَحٌ مِنْ عَيْدَانٍ، فَقَالَتْ: سَقَيْتُ فِيهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ الشَّرَابِ: الْمَاءَ، وَالْعَسَلَ، وَاللَّبَنَ، وَالنَّبِيذَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৫৭
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ کون سے مشروبات (پینا) درست ہے؟
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب (رض) سے نبیذ کے بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے کہا : پانی پیو، شہد پیو، ستو اور دودھ پیو جس سے تم پلے بڑھے ہو۔ میں نے پھر پوچھا تو کہا : کیا تم شراب چاہتے ہو ؟ ، کیا تم شراب چاہتے ہو ؟۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ٥٨) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5754
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيذِ، فَقَالَ: اشْرَبْ الْمَاءَ، وَاشْرَبْ الْعَسَلَ، وَاشْرَبْ السَّوِيقَ، وَاشْرَبْ اللَّبَنَ الَّذِي نُجِعْتَ بِهِ، فَعَاوَدْتُهُ، فَقَالَ: الْخَمْرَ تُرِيدُ، الْخَمْرَ تُرِيدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৫৮
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ کون سے مشروبات (پینا) درست ہے؟
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں نے کئی مشروبات ایجاد کرلی ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ کیا کیا ہیں۔ لیکن میرا مشروب کوئی بیس سال (یا کہا : چالیس سال) سے سوائے پانی اور ستو کے کچھ نہیں اور نبیذ کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٤٠٨) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5755
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْمُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَحْدَثَ النَّاسُ أَشْرِبَةً مَا أَدْرِي مَا هِيَ، فَمَا لِي شَرَابٌ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً، أَوْ قَالَ: أَرْبَعِينَ سَنَةً إِلَّا الْمَاءُ وَالسَّوِيقُ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيذَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৫৯
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ کون سے مشروبات (پینا) درست ہے؟
عبیدہ سلمانی کہتے ہیں کہ لوگوں نے بہت سارے مشروبات ایجاد کرلیے، مجھے نہیں معلوم وہ کیا کیا ہیں، لیکن میرا تو بیس سال سے سوائے پانی، دودھ اور شہد کے کوئی مشروب نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٠٠٠) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5756
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، قَالَ: أَحْدَثَ النَّاسُ أَشْرِبَةً مَا أَدْرِي مَا هِيَ، وَمَا لِي شَرَابٌ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً إِلَّا الْمَاءُ وَاللَّبَنُ وَالْعَسَلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৬০
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ کون سے مشروبات (پینا) درست ہے؟
ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ طلحہ (رض) نے کوفہ والوں سے کہا : نبیذ میں فتنہ ہے اس میں چھوٹا بڑا ہوجاتا ہے اور بڑا بوڑھا ہوجاتا ہے، وہ (ابن شبرمہ) کہتے ہیں : اور جب کسی شادی کا ولیمہ ہوتا تو طلحہ اور زبیر (رض) دودھ اور شہد پلاتے۔ طلحہ (رض) سے کہا گیا : آپ نبیذ کیوں نہیں پلاتے ؟ وہ بولے : مجھے ناپسند ہے کہ میری وجہ سے کسی مسلمان کو نشہ آئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٨٤٩) (حسن الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5757
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، قَالَ: قَالَ طَلْحَةُ لِأَهْلِ الْكُوفَةِ: فِي النَّبِيذِ فِتْنَةٌ يَرْبُو فِيهَا الصَّغِيرُ، وَيَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا كَانَ فِيهِمْ عُرْسٌ، كَانَ طَلْحَةُ، وَزُبَيْر يَسْقِيَانِ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ، فَقِيلَ لِطَلْحَةَ: أَلَا تَسْقِيهِمُ النَّبِيذَ ؟ قَالَ: إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْكَرَ مُسْلِمٍ فِي سَبَبِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৬১
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ کون سے مشروبات (پینا) درست ہے؟
جریر بیان کرتے ہیں کہ ابن شبرمہ صرف پانی اور دودھ پیتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٩١) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5758
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، قَالَ: كَانَ ابْنُ شُبْرُمَةَ، لَا يَشْرَبُ إِلَّا الْمَاءَ وَاللَّبَنَ.
তাহকীক: