কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
کتاب الا شربة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২০ টি
হাদীস নং: ৫৬০২
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ ہر ایک نشہ لانے والی شراب حرام ہے
ابن سیرین کہتے ہیں کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٣٠٧) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5599
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هَارُونَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৩
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ ہر ایک نشہ لانے والی شراب حرام ہے
عبدالملک بن طفیل جزری کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہمیں لکھا : طلاء مت پیو، جب تک کہ اس کے دو حصے (جل کر) ختم نہ ہوجائیں اور ایک حصہ باقی رہ جائے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩١٥٢) ، ویأتي عند المؤلف : ٥٧٣٠) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” عبدالملک “ لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎: طلاء : وہ شراب ہے، جسے آگ پر رکھ کر جوش دیا جائے یہاں تک کہ وہ گاڑھی ہوجائے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5600
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْجَزَرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: لَا تَشْرَبُوا مِنَ الطِّلَاءِ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثَهُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৪
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ ہر ایک نشہ لانے والی شراب حرام ہے
عمر بن عبدالعزیز نے عدی بن ارطاۃ کو لکھا : ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (حسن الإسناد ) قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5601
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ الصَّعْقِ بْنِ حَزْنٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৫
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ ہر ایک نشہ لانے والی شراب حرام ہے
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٦٠٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5602
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৬
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ بتع اور مزر کو نسی شراب کو کہا جاتا ہے؟
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن بھیجا تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہاں مشروب بہت ہوتے ہیں، تو میں کیا پیوں اور کیا نہ پیوں ؟ آپ نے فرمایا : وہ کیا کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا : بتع اور مزر، آپ نے فرمایا : بتع اور مزر کیا ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کیا : بتع تو شہد کا نبیذ ہے اور مزر مکئی کا نبیذ ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی نشہ لانے والی چیز مت پیو، اس لیے کہ میں نے ہر نشہ لانے والی چیز حرام کردی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٩١٤٢) (حسن الإسناد ) قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5603
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ الْأَجْلَحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ، قَالَ: وَمَا هِيَ ؟قُلْتُ: الْبِتْعُ، وَالْمِزْرُ، قَالَ: وَمَا الْبِتْعُ، وَالْمِزْرُ ؟، قُلْتُ: أَمَّا الْبِتْعُ: فَنَبِيذُ الْعَسَلِ، وَأَمَّا الْمِزْرُ: فَنَبِيذُ الذُّرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَشْرَبْ مُسْكِرًا، فَإِنِّي حَرَّمْتُ كُلَّ مُسْكِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৭
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ بتع اور مزر کو نسی شراب کو کہا جاتا ہے؟
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن روانہ کیا تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہاں مشروبات بہت ہوتے ہیں جنہیں بتع اور مزر کہا جاتا ہے، آپ نے فرمایا : بتع کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : وہ شہد کا مشروب ہوتا ہے اور مزر جَو کا مشروب ہوتا ہے، آپ نے فرمایا : ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٦٠ (٤٣٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٩٠٩٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5604
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً، يُقَالُ لَهَا: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ، قَالَ: وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرِ ؟، قُلْتُ: شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الْعَسَلِ وَالْمِزْرُ يَكُونُ مِنَ الشَّعِيرِ، قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৮
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ بتع اور مزر کو نسی شراب کو کہا جاتا ہے؟
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا تو خمر (شراب) والی آیت کا ذکر کیا، ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول !مزر نامی مشروب کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا : مزر کیا ہوتا ہے ؟ وہ بولا : جَو کی شراب جو یمن میں بنائی جاتی ہے ، آپ نے فرمایا : کیا اس سے نشہ ہوتا ہے ؟ جی ہاں، آپ نے فرمایا : ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفردبہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧١٠٧) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5605
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ آيَةَ الْخَمْرِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الْمِزْرَ ؟، قَالَ: وَمَا الْمِزْرُ ؟، قَالَ: حَبَّةٌ تُصْنَعُ بِالْيَمَنِ، فَقَالَ: تُسْكِرُ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৯
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ بتع اور مزر کو نسی شراب کو کہا جاتا ہے؟
ابوجویریہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) کو سنا ان سے مسئلہ پوچھا گیا اور کہا گیا : ہمیں بادہ ١ ؎ کے بارے میں فتویٰ دیجئیے۔ تو انہوں نے کہا : محمد ﷺ کے زمانے میں بادہ نہیں تھا، (یا آپ نے اس کا حکم پہلے ہی فرما دیا ہے کہ) جو بھی چیز نشہ لانے والی ہو وہ حرام ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الٔبشربة ١٠(٥٥٩٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٤١٠) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٦٩٠ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: باذق فارسی کے لفظ بادہ کی تعریب ہے۔ اس کے معنی خمر اور شراب کے ہیں، شاعر کہتا ہے : ہیں رنگ جدا، دور نئے، کیف نرالے شیشہ وہی، بادہ وہی، پیمانہ وہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5606
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَسُئِلَ فَقِيلَ لَهُ: أَفْتِنَا فِي الْبَاذِقِ ؟ فَقَالَ: سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ، وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১০
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جس شراب کے بہت پینے سے نشہ ہو اس کا کچھ حصہ بھی حرام ہے
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس چیز کے زیادہ پینے سے نشہ آجائے تو اسے تھوڑا سا پینا بھی حرام ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الٔجشربة ١٠ (٣٣٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٦٠) ، مسند احمد (٢/١٦٧، ١٧٩) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5607
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ، فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১১
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جس شراب کے بہت پینے سے نشہ ہو اس کا کچھ حصہ بھی حرام ہے
سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تم لوگوں کو اس چیز کو تھوڑا سا پینے سے روکتا ہوں، جس کے زیادہ پی لینے سے نشہ آجائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف : ٣٨٧١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5608
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَنْهَاكُمْ عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১২
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جس شراب کے بہت پینے سے نشہ ہو اس کا کچھ حصہ بھی حرام ہے
سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس چیز کو تھوڑا سا پینے سے روکا جسے زیادہ پینے سے نشہ آجائے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5609
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১৩
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جس شراب کے بہت پینے سے نشہ ہو اس کا کچھ حصہ بھی حرام ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ ﷺ روزہ رکھ رہے ہیں، تو ایک دن میں نے نبیذ لے کر آپ کے افطار کرنے کے وقت کا انتظار کیا جسے میں نے آپ کے لیے کدو کی تو نبی میں تیار کی تھی، میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : میرے پاس لاؤ ، میں نے اسے آپ کے پاس بڑھا دی، وہ جوش مار رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے اس دیوار سے مار دو ، اس لیے کہ یہ ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : اس میں دلیل ہے کہ نشہ لانے والی چیز حرام ہے، خواہ وہ زیادہ ہو یا کم، اور معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ حیلہ کرنے والے اپنے لیے کہتے ہیں کہ ایسے مشروب کا آخری گھونٹ حرام ہوتا ہے اور وہ گھونٹ حلال ہوتے ہیں جو پہلے پیے جا چکے ہیں اور اس سے پہلے رگوں میں سرایت کرچکے ہیں، اس بات میں علماء کے درمیان اختلاف نہیں پایا جاتا کہ پورا نشہ ابتدائی گھونٹوں کے علاوہ صرف آخری گھونٹ سے پیدا نہیں ہوتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الٔيشربة ١٢ (٣٧١٦) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٥ (٣٤٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٩٧) ، ویأتي عند المؤلف : ٥٧٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی یہ کہنا کہ نشہ کا اثر صرف اخیر گھونٹ سے ہوتا ہے یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس اثر میں تو اس سے پہلے کے گھونٹ کا بھی دخل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5610
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنَ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ لَهُ فِي دُبَّاءٍ، فَجِئْتُهُ بِهِ، فَقَالَ: أَدْنِهِ، فَأَدْنَيْتُهُ مِنْهُ، فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ: اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى تَحْرِيمِ السَّكَرِ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ وَلَيْسَ كَمَا، يَقُولُ: الْمُخَادِعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ بِتَحْرِيمِهِمْ آخِرِ الشَّرْبَةِ، وَتَحْلِيلِهِمْ مَا تَقَدَّمَهَا الَّذِي يُشْرَبُ فِي الْفَرَقِ قَبْلَهَا، وَلَا خِلَافَ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ السُّكْرَ بِكُلِّيَّتِهِ لَا يَحْدُثُ عَلَى الشَّرْبَةِ الْآخِرَةِ دُونَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ بَعْدَهَا، وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১৪
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو کی شراب کی ممانعت سے متعلق
علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے سونے کے چھلے، ریشمی کپڑے، لال زین پوش اور جو کے مشروب سے منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥١٧١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5611
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ صُوحَانَ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ، قَالَ: نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ، وَالْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ، وَالْجِعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১৫
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ جو کی شراب کی ممانعت سے متعلق
مالک بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ صعصعہ نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے کہا : امیر المؤمنین ! آپ ہمیں ان باتوں سے منع کیجئیے، جن سے آپ کو رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کدو کی تو نبی اور سبز رنگ کے برتن کے استعمال سے روکا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥١٧١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5612
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ سُمَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ صَعْصَعَةُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ: انْهَنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا نَهَاكَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১৬
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واسطے کن برتنوں میں نبیذ تیار کی جاتی تھی؟
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے لیے پتھر کے کو نڈے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٨) ، سنن ابی داود/الأشربة ٧ (٣٧٠٢) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٢ (٣٤٠٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٩٥) ، مسند احمد (٣/٣٠٤، ٣٠٧، ٣٣٦، ٣٧٩، ٣٨٤) ، سنن الدارمی/الأشربة ١٢ (٢١٥٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5613
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১৭
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ ان برتنوں سے متعلق کہ جن میں نبیذ تیار کرنا ممنوع ہے۔ مٹی کے برتن (اس میں تیزی جلدی آتی ہے) میں نبیذ تیار کرنے کے ممنوع ہونے سے متعلق حدیث کا بیان
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر (رض) سے کہا : کیا رسول اللہ ﷺ نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں، طاؤس کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اسے میں نے ان سے (ابن عمر سے) سنا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الٔمشربة ٦ (١٩٩٧) ، سنن الترمذی/الٔلشربة ٤ (١٨٦٧) ، (تحفة الٔعشراف : ٧٠٩٨) ، مسند احمد (٢/٢٩، ٣٥، ٤٧، ٥٦، ١٠١، ١٠٦، ١١٥، ١٥٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے خطرہ رہتا ہے کہ فوراً نشہ پیدا ہوجائے اور آدمی کو پتہ نہ چلے اور نشہ لانے والی نبیذ پی بیٹھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5614
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ طَاوُسٌ: وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১৮
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ ان برتنوں سے متعلق کہ جن میں نبیذ تیار کرنا ممنوع ہے۔ مٹی کے برتن (اس میں تیزی جلدی آتی ہے) میں نبیذ تیار کرنے کے ممنوع ہونے سے متعلق حدیث کا بیان
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر (رض) کے پاس آ کر کہا : رسول اللہ ﷺ نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا ؟ انہوں نے کہا : ہاں، ابراہیم بن میسرہ نے اپنی حدیث میں والدباء مزید کہا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی کدو کی تو نبی سے بھی منع فرمایا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5615
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، قَالَا: سَمِعْنَا طَاوُسًا، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟، قَالَ: نَعَمْ، زَادَ إِبْرَاهِيمُ فِي حَدِيثِهِ: وَالدُّبَّاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১৯
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ ان برتنوں سے متعلق کہ جن میں نبیذ تیار کرنا ممنوع ہے۔ مٹی کے برتن (اس میں تیزی جلدی آتی ہے) میں نبیذ تیار کرنے کے ممنوع ہونے سے متعلق حدیث کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٨١٤) ، مسند احمد (١/٢٢٨، ٢٢٩) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5616
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬২০
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ ان برتنوں سے متعلق کہ جن میں نبیذ تیار کرنا ممنوع ہے۔ مٹی کے برتن (اس میں تیزی جلدی آتی ہے) میں نبیذ تیار کرنے کے ممنوع ہونے سے متعلق حدیث کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سبز رنگ کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : حنتم کیا ہوتا ہے ؟ کہا : مٹی کا برتن۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الِٔشربة ٦ (١٩٩٧) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٧٠) ، مسند احمد (٢/٢٧، ٤٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5617
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ، قُلْتُ: مَا الْحَنْتَمُ ؟، قَالَ: الْجَرُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬২১
کتاب الا شربة
পরিচ্ছেদঃ ان برتنوں سے متعلق کہ جن میں نبیذ تیار کرنا ممنوع ہے۔ مٹی کے برتن (اس میں تیزی جلدی آتی ہے) میں نبیذ تیار کرنے کے ممنوع ہونے سے متعلق حدیث کا بیان
عبدالعزیز بن اسید طاحی بصریٰ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر (رض) سے مٹی کے برتن کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا : ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٢٧٣) ، مسند احمد (٤/٣، ٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5618
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَسِيدٍ الطَّاحِيَّ بَصْرِيٌّ، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ؟ قَالَ: نَهَانَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক: