কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৪ টি
হাদীস নং: ৪৯৭৪
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : امانت میں خیانت کرنے والے، علانیہ لوٹ کرلے جانے اور اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ١ ؎۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) اسے سفیان نے ابو الزبیر سے نہیں سنا۔ (اس کی دلیل اگلی سند ہے ) تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٧٦١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: خیانت، اچک لینے اور چھین لینے میں اسی لیے ہاتھ کاٹنا نہیں ہے کہ ان سب کے اندر یہ ممکن ہے کہ ان کو انجام دینے والوں پر آسانی سے اور جلد قابو پایا جاسکتا ہے اور گواہی قائم کی جاسکتی ہے، برخلاف چوری کے، اس لیے کہ چوری کا جرم زیادہ سنگین ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لم يسمعه سفيان من أبي الزبير صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4971
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ مَخْلَدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ، لَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৭৫
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : امانت میں خیانت کرنے والے، لوٹ لے جانے اور اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں :) اسے ابن جریج نے بھی ابو الزبیر سے نہیں سنا، (اس کے متعلق مؤلف کی وضاحت آگے آرہی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٣ (٤٣٩١) ، سنن الترمذی/الحدود ١٨ (١٤٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٦ (٢٥٩١) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٠) مسند احمد (٣/٣٨٠) ، سنن الدارمی/الحدود ٨ (٢٣٥٦) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٩٧٦، ٤٩٧٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح ولم يسمعه أيضا ابن جريج من أبي الزبير صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4972
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ أَيْضًا ابْنُ جُرَيْجٍ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৭৬
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اچک کرلے جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٧٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4973
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى الْمُخْتَلِسِ قَطْعٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৭৭
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟
جابر (رض) کہتے ہیں کہ کسی خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : اس حدیث کو ابن جریج سے : عیسیٰ بن یونس، فضل بن موسیٰ ، ابن وہب، محمد بن ربیعہ، مخلد بن یزید اور سلمہ بن سعید، یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، نے روایت کیا ہے۔ ابن ابی صفوان کہتے ہیں - اور یہ سب اپنے زمانے کے سب سے بہتر آدمی تھے : ان میں سے کسی نے حدثنی ابوالزبیر یعنی مجھ سے ابوالزبیر نے بیان کیا نہیں کہا۔ اور میرا خیال ہے ان میں سے کسی نے ابوالزبیر سے اسے سنا بھی نہیں ہے، واللہ اعلم ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٩٧٥ (ضعیف) (اس کے مقابل صحیح مرفوع حدیث ہے) ۔ وضاحت : ١ ؎: لیکن اگلی سند کے مغیرہ بن مسلم کا ابوالزبیر سے سماع ثابت ہے، نیز اس حدیث کے دیگر صحیح شواہد بھی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف والصحيح مرفوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4974
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: قَال جَابِرٌ: لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ: عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، وَابْنُ وَهْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَمَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، وَسَلَمَةُ بْنُ سَعِيدٍ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ، قَالَ ابْنُ أَبِي صَفْوَانَ: وَكَانَ خَيْرَ أَهْلِ زَمَانِهِ، فَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، وَلَا أَحْسَبُهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৭৮
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ تو اچک کرلے جانے والے کا، نہ کسی لوٹنے والے کا، اور نہ ہی کسی خائن کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٩٦٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4975
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ رَوْحٍ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَاشَبَابَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى مُخْتَلِسٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا خَائِنٍ قَطْعٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৭৯
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ جن اشیاء کے چوری کرنے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا؟
جابر (رض) کہتے ہیں کہ کسی خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : اشعث بن سوار ضعیف ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٢٦٦٣) (ضعیف) (اس کے راوی ” اشعث “ ضعیف ہیں، لیکن پچھلی سند سے مرفوعاً یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف والصحيح مرفوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4976
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ قَطْعٌ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ضَعِيفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৮০
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ ہاتھ کاٹنے کے بعد چور کا پاؤں کاٹنا کیسا ہے؟
حارث بن حاطب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا تو آپ نے فرمایا : اسے قتل کر دو ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے تو چوری کی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اسے قتل کر دو ۔ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے تو چوری کی ہے، آپ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ اس نے پھر چوری کی تو اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا، پھر اس نے ابوبکر (رض) کے عہد میں چوری کی یہاں تک کہ چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے، اس نے پھر پانچویں بار چوری کی تو ابوبکر (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ ہی اسے اچھی طرح جانتے تھے کہ انہوں نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پھر انہوں نے اسے قریش کے چند نوجوانوں کے حوالے کردیا تاکہ وہ اسے قتل کردیں۔ ان میں عبداللہ بن زبیر (رض) بھی تھے، وہ سرداری چاہتے تھے، انہوں نے کہا : مجھے اپنا امیر بنا لو، تو ان لوگوں نے انہیں اپنا امیر بنا لیا، چناچہ جب چور کو انہوں نے مارا تو سبھوں نے مارا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٢٧٦) (صحیح الإسناد) (یہ حکم منسوخ ہے ) وضاحت : ١ ؎: ابوہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی اس طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن کسی بھی امام کے نزدیک اس پر عمل نہیں ہے، وجہ اس کا منسوخ ہوجانا ہے جیسا کہ امام شافعی نے کہا ہے۔ قال الشيخ الألباني : منكر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4977
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْمَصَاحِفِيُّ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُوسُفُ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: اقْطَعُوا يَدَهُ، قَالَ: ثُمَّ سَرَقَ، فَقُطِعَتْ رِجْلُهُ، ثُمَّ سَرَقَ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَتَّى قُطِعَتْ قَوَائِمُهُ كُلُّهَا، ثُمَّ سَرَقَ أَيْضًا الْخَامِسَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَ بِهَذَا حِينَ، قَالَ: اقْتُلُوهُ، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ لِيَقْتُلُوهُ، مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَكَانَ يُحِبُّ الْإِمَارَةَ، فَقَالَ: أَمِّرُونِي عَلَيْكُمْ فَأَمَّرُوهُ عَلَيْهِمْ فَكَانَ إِذَا ضَرَبَ ضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৮১
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ چور کے دونوں ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک چور رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ نے فرمایا : اسے مار ڈالو ، لوگوں نے کہا : اس نے صرف چوری کی ہے ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : (اس کا دایاں ہاتھ) کاٹ دو ، تو کاٹ دیا گیا، پھر وہ دوسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا : اسے مار ڈالو ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے ؟ آپ نے فرمایا : (اس کا بایاں پاؤں) کاٹ دو ، چناچہ کاٹ دیا گیا، پھر وہ تیسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا : اسے مار ڈالو ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ نے فرمایا : (اس کا دایاں پاؤں) کاٹ دو ، پھر وہ چوتھی بار لایا گیا۔ آپ نے فرمایا : اسے مار ڈالو ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ نے فرمایا : (اس کا بایاں پاؤں) کاٹ دو ، وہ پھر پانچویں بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا : اسے مار ڈالو ، جابر (رض) کہتے ہیں : تو ہم اسے مربد نعم (جانور باندھنے کی جگہ) کی جانب لے کر چلے اور اسے لادا، تو وہ چت ہو کر لیٹ گیا پھر وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے بل بھاگا تو اونٹ بدک گئے، لوگوں نے اسے دوبارہ لادا اس نے پھر ایسا ہی کیا پھر تیسری بار لادا پھر ہم نے اسے پتھر مارے اور اسے قتل کردیا، اور ایک کنویں میں ڈال دیا پھر اوپر سے اس پر پتھر مارے۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے، مصعب بن ثابت حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ٢٠ (٤٤١٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٨٢) (حسن) (اس کے راوی ” مصعب “ ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، لیکن یہ حکم منسوخ ہے ) وضاحت : ١ ؎: لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، لیکن منسوخ ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4978
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جِيءَ بِسَارِقٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: اقْطَعُوهُفَقُطِعَ، ثُمَّ جِيءَ بِهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: اقْطَعُوهُفَقُطِعَ، فَأُتِيَ بِهِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ: اقْطَعُوهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: اقْطَعُوهُ، فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَةَ، قَالَ: اقْتُلُوهُ، قَالَ جَابِرٌ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى مِرْبَد النَّعَمِ وَحَمَلْنَاهُ فَاسْتَلْقَى عَلَى ظَهْرِهِ ثُمَّ كَشَّرَ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَانْصَدَعَتِ الْإِبِلُ، ثُمَّ حَمَلُوا عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ حَمَلُوا عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْحِجَارَةِ فَقَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَلْقَيْنَاهُ فِي بِئْرٍ، ثُمَّ رَمَيْنَا عَلَيْهِ بِالْحِجَارَةِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، وَمُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৮২
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ سفر میں ہاتھ کاٹنے سے متعلق
بسر بن ابی ارطاۃ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : سفر میں (چور کے) ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ١٨ (٤٤٠٨) ، سنن الترمذی/الحدود ٢٠ (١٤٥٠) ، (تحفة الأشراف : ٢٠١٥) ، مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ترمذی اور مسند احمد میں السفر کی جگہ الغزو ( یعنی : غزوہ ) ہے، لہٰذا اس حدیث میں بھی سفر سے مراد غزو ہوگا، اور غزو مراد لینے کی وجہ سے اس میں اور عبادہ بن صامت (رض) کی مرفوع روایت أقیموا الحدود فی السفر والحضر میں کوئی تعارض باقی نہیں رہے گا۔ یعنی عبادہ (رض) میں وارد لفظ سفر سے عام سفر مراد ہے ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4979
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَبِي أَرْطَاةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي السَّفَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৮৩
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ سفر میں ہاتھ کاٹنے سے متعلق
ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو چاہے اس کی قیمت آدھا درہم ہی کیوں نہ ہو ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : عمر بن ابی سلمہ حدیث میں قوی نہیں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ٢٢ (٤٤١٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٥ (٢٥٨٩) ، تحفة الأشراف : ١٤٩٧٩) ، مسند احمد (٢/٣٣٦، ٣٣٧، ٣٥٦، ٣٨٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” عمر بن ابی سلمہ “ حافظہ کے کمزور ہیں ) وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث نہ تو صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی ظاہری مناسبت ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4980
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ فَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৮৪
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ مرد کے بالغ ہونے کی عمر اور مرد و عورت پر کس عمر میں حد لگائی جائے؟
عطیہ قرظی (رض) کہتے ہیں کہ میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں تھا، وہ لوگ دیکھتے جس کے زیر ناف کے بال اگ آئے ہوتے، اسے قتل کردیا جاتا، اور جس کے بال نہ اگے ہوتے، اسے چھوڑ دیا جاتا اور قتل نہ کیا جاتا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٤٦٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4981
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، قَالَ: كُنْتُ فِي سَبْيِ قُرَيْظَةَ، وَكَانَ يُنْظَرُ فَمَنْ خَرَجَ شِعْرَتُهُ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ تَخْرُجْ اسْتُحْيِيَ وَلَمْ يُقْتَلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৮৫
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا
ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید (رض) سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ سنت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا اور اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ٢١ (٤٤١١) ، سنن الترمذی/الحدود ١٧ (١٤٤٧) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٣(٢٥٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٢٩) مسند احمد (٦/١٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” حجاج بن ارطاة “ ضعیف اور ” عبدالرحمن بن محیریز “ مجہول ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4982
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، عَنْ تَعْلِيقِ يَدِ السَّارِقِ فِي عُنُقِهِ، قَالَ: سُنَّةٌ،قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ سَارِقٍ وَعَلَّقَ يَدَهُ فِي عُنُقِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৮৬
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید (رض) سے کہا : کیا چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹا اور اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہیں، ان کی حدیث لائق حجت نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4983
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ: أَرَأَيْتَ تَعْلِيقَ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ مِنَ السُّنَّةِ هُوَ ؟ قَالَ: نَعَمْ،أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ، وَعَلَّقَهُ فِي عُنُقِهِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ضَعِيفٌ وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৮৭
چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ
পরিচ্ছেদঃ چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا
عبدالرحمٰن بن عوف (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب حد قائم ہوجائے تو چوری کرنے والے پر تاوان لازم نہ ہوگا ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : یہ مرسل (یعنی منقطع) ہے اور صحیح نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩٧٢٥) (ضعیف) (اس کی سند میں مسور اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان انقطاع ہے ۔ ) وضاحت : ١ ؎: امام ابوحنیفہ کا قول اسی حدیث کے مطابق ہے، لیکن یہ حدیث منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، جمہور کے نزدیک حد قائم ہونے کے باوجود مسروقہ مال کا تاوان لیا جائے گا کیونکہ ایک مسلم کا مال دوسرے مسلم پر بغیر جائز اسباب کے حرام ہے ( جائز اسباب یعنی : خرید، ہدیہ و ہبہ، وراثت، مشاہرہ وغیرہ ) اس لیے چور سے لے کر چوری کا مال صاحب مال کو واپس کرنا ضروری ہے، اگر موجود ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ تاوان لیا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4984
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُغَرَّمُ صَاحِبُ سَرِقَةٍ إِذَا أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا مُرْسَلٌ وَلَيْسَ بِثَابِتٍ.
তাহকীক: